جو
پنجتن سے غفلت کی بھول کرے
خدا نہ عبادت قبول کرے
کرتا رہے ہزار سجدے محمود
سب دکھا وا ہے سب فضول کرے
جب
قمرِ محرم کا مہینہ آتا ہے
قربِ ابنِ علی کا قرینہ آتا ہے
نورِ قلب ہوتا ہے انہیں میسر محمود
جن کو بھی غمِ حسین میں جینا آتا ہے
جو
آل و اصحاب سے پیار کرتا ہے
وہ تو نبوت کا اقرار کرتا ہے
ہو دو میں سے کسی کا منکر محمود
وہ خود مسلمانی کو خوار کرتا ہے
تیرے
دربار کا الگ اصول دیکھا
یہاں پر تو ہر کانٹے کو پھول دیکھا
یہ تیری نظر تھی قلندر شہباز
عاجز نے خود کو ہوتے قبول دیکھا
اے
چہرئہ خوش رنگ نہ دیکھ ادھر تو
میرے پاس نہیں کچھ سوائے اللہ ھُو
مانا کہ تیرا حسن معروف زمانہ
ہوں کشتہ جس کا اسکی ہے جستجو
مانا
کہ میری آہ میں اتنا اثر نہیں
مگر تجھے بھی کوئی میری خبر نہیں
سو بار میں نے دل تیری خاطر ہے سجایا
تیری نگاہ اے ظالم پھر بھی اِدھر نہیں
میری
روح تب سے تیری شیدائی ہے
جب سے تو نے اک جھلک دکھائی ہے
میں نے دیکھیں لذتیں زمانے میں
تیرے حسن سے لذت عجیب پائی ہے
بیماری
دا رولا پونا نئیں چاہی دا
فقیر دی گل اے گھبراونا نئیں چاہی دا
ہوندی اے کرم نوازی بیماری وچ
درداں دا قصّہ سنانا نئیں چاہی دا
<<
پیچھے ::
فہرست
عنوانات
:: آگے
>>