بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
آذانِ قلندر
متفرق اشعار

روحِ کل جن و انس ملائک کا چین
محمد و علی فاطمہ حسن و حسین

چمنِ مصطفےٰ کی ہے ہر اک کلی
صدیق و عمر ، عثمان و علی

شکوہ ہے اپنی نظر سے الزام کسی پہ کیوں ہو
آگ جو لگی ہے دل میں اسے کو ن بجھا نے آئے

ملاقات جب ہوتی ہے تو دیکھ کر ادھر
بس ترچھی نظر سے مسکرا دیتے ہیں وہ


اتنا تو یقین ہے مجھ کو کہ دیکھ کر جمال حسن
صنم تیرے ہاتھ سے آئینہ گر گیا ہوگا

تیری نگائہ ظالم ، تیرا حسن لا جواب
تیری مسکراہٹ کا وہ لمحہ لمحہ یاد ہے

کس کو سناؤں شعر کہ رکھتے نہیں ہیں درد
سمجھنا ہو قلندر تو دل مانگو خدا سے

تمہارا نقش ہے میر ے دل میں تم ہو میری تقدیر میں
یہ جنو ںہے یا حقیقت کبھی بولتے ہو تصویر میں


خوشبو اُن کے پیار کی مستیء حیات ہے
یہ ایک کرشمہ ہے خود وہ کیسے ہوں گے

خوشبوئے حسنِ یار نے ہونٹوں کو معطّر ہے کیا
کرتا ہوں جب بیان ترا تو آتی ہے خوشبو تیری

عقل کرتی ہے تلقین کہ ضبط کرو خود پہ
حالِ دل کم عقل کی عقل میں کیسے آئے

ہے عقل بھی بڑی چیز قریب عقل منداں
افسوس یہ ہے کہ دل مانگتے رہے خدا سے


جس سے بکھر جائے زندگی کسی دیوانے کی
ہمنشیں ایسے پر خطر کھیل کھیلا نہیں کرتے

بھول جاتے ہیں تمہیں اس شرط پہ جاناں
دیکھوں اگر پھول تو تم یاد نہ آؤ

ہم آس لگائے بیٹھے ہیںوہ وعدہ کر کے بھول گئے
یا سامنے ساجن آجاؤ یا کہہ دو تم سے پیار نہیں

کوشش بہت کی لکھوں نامۂ محبت
بیتابیء عشق نے مجھ سے الفاظ چھین لیے


تنہائی میں بیٹھ کر یاد کرتے رہے اکثر
یہ اور بات کہ توجہ تمہاری ادھر نہیں

جب بھی اٹھاتا ہوں قلم کہ کچھ لکھوں
تو سامنے آتا ہے سراپا تیرا

بچپن سے تجھے چاہا تھا اے روح جاں
ملے ہو خواب میں لیکن پردہ کئے ہوئے

انہیں دیکھ کر کچھ ایسا دیکھتا ہوں میں
کہ ہیں وہی سامنے دوسرے شاید نہیں


جب آتی ہے یاد تیری تھام لیتا ہوں جگر
جب سے بچھڑے ہو تم حسرت جاں باقی نہیں

ذرا غور کر میری نادانیوں پر اے رشکِ دل
کہ بکھر بکھر کے کتنا ہی نکھر گیا ہوں میں

سپنے میں دیکھ کر دولت دل ملی اِس طرح
کہ جیسے پائی ہو آج نئی زندگی میں نے

تھا عجیب لمحہ جب آئے وہ گھر ہمارے
دیکھا جو مکھڑا یار کا ہم ہوگئے بس یار کے


بِناں دیکھے یار کے اگر ملتا دل کو سکوں
تو کوئی بھی دیدِ یار کی رکھتا نہ آرزو

آج ملے جی بھر کے پیاس مگر باقی ہے
یا رب ایک موقع اور تجھ سے مانگتا ہوں میں

دل کرتا ہے دیکھوں ہر لمحہ تجھ کو
کاش کرتا خدا نصیب ایسی قربتیں مجھے

وہ اس انداز سے گویا ہوئے کہ
دل کی گہرائیاں بھی چونک پڑیں


میں دیکھتا ہوں چاند اکثر رات کو
دیکھا جو ایک رات تو سامنے تھے آپ

ہو جائے اگر کوئی کسی روپ میں ظاہر
پاگل جان کر تم کیوں اس کا دل جلاتے ہو

بلبل کو ہو پھول مبارک پیارے
ہم کو بس کافی ہے خوشبو تیری

کیا معلوم کسی کو دردِ عشق کیا ہے
رازِ محبت جانتے ہیں نازک مزاج والے

<< پیچھے :: فہرست عنوانات :: آگے >>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.