بِسْمِ
اللہ الّرَحْمٰنِ الَّرحِیْم
حرفِ لامکاں
سب تعریفیں اس مالکِ بے نیاز کے لئے ہیں جو زبردست حکمت والا
اور غالب ہے۔ پُر نور ہے،موجود ہے،دائم ہے،قائم ہے اور جس کی
ذات کو یہ شرف حاصل ہے کہ اوّل بھی ہے اور آخر بھی ہے،حئی القّیوم
ہے، زبردست عطا کرنے والا ہے۔بے حد و حساب خزانوں کا مالک بے
شمار سخاوت سے عطا کرتا ہے اور اپنے بندوں کو اپنی تجّلی کا
مرکز بنا دیتا ہے اورپھر اس تجّلی کے دیدار کی خاطر، اس کی دیگر
مخلوقات کشاں کشاں کھنچی چلی آتی ہیں اور یہ سلسلہ رواں دواں
رہتا ہے۔اشرف المخلوقات بے حد و حساب و بے شمار برکات کو سمیٹتے،سینوں
کو انوار سے منوّر کرتے اور قلوب کو ذاتِ پاک کی خوشبوسے مزیّن
کرتے ہیں۔
اَن گنت اور لاتعداد درود و سلام ہوں اُس ذات پر کہ جس پر ایسی
خصوصیات کی حامل ذاتِکاملہ فریفتہ و فدا ہے اور محبوب پر اتنی
خوش ہے،جتنا کہ محبوب کا حق ہُوا کرتا ہے۔اپنا سب کچھ اپنی توجہ
کے اس مرکز کو عطا کر کے ہر چیز کا مولا بنا دیا۔اب کوئی بھی
اس مولائے کُل کی رضا کے بغیر کچھ حاصل نہیں کر سکتا اور اس
کے بغیر اگر کسی کا دعویٰ ہے تو وہ شیطانِ لعین ہے کیونکہ یہ
طالب و مطلوب کا معاملہ ہے۔اس میں دخلِ دینا سوائے گمراہی، تباہی
اور ذلالت کے کچھ نہیں!
قارئینِ کرام ! یہ جو کتاب آپ کے سامنے ہے،اس میں درسِ روحانیت
اور طریقت کے اصول بیان کئے گئے ہیں۔جو کوئی عقلِ بیدار کے ساتھ
اس کا مطالعہ کرے گا تو انشاء اللہ اس کے ضمیر کو ضرور روشنی
حاصل ہو گی اور نفس و دل کے امراض کا علاج اس میں مُضمر ہے کہ
فقیر کا کاسہ تو جامِ جہاں نما ہوتا ہے جو اس خرابات میں مئے
مست لٹاتا ہے اور ہر ایک بہ اندازۂ جام پیتا ہے۔
ناچیز قلندر مخدوم پور شریف میں پیدا ہوا جو کہ موضع مرید ضلع
چکوال میں شامل ہے۔ابتدائی تعلیم مرید گاؤں سے ہی مڈل تک حاصل
کی۔کیونکہ اس زمانے میں گاؤں میں مڈل تک ہی مدرسے تھے۔ بعد ازاں
درسِ نظامی کِیا۔پھر پرائیویٹ میٹرک کِیا ۔بعدازاں گورنمنٹ ڈگری
کالج چکوال سے بی۔اے۔ تک تعلیم حاصل کی۔پھر اچانک والدِ محترم
پِیر سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وصال ہو گیا اور
ناچیز قلندر کو سلسلہ کی تمام ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں۔پھر
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد، حضور غوثِ اعظم رضی
اللہ عنہ کی نظر سے اور آباء و اجداد کی دعا سے ناچیز قلندر
نے سابقہ سلسلے کو بھی سنبھالا اور اپنے سلسلے کا بھی آغاز کِیا۔اللہ
و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل وکرم سے یہ سلسلہ اب جاری
و ساری ہے اور تشنگانِ باطن راغب بہ فیض ہیں۔اک مشن کا آغاز
ہے جو انشاء اللہ تعا لیٰ اپنی منزل تک ضرور پہنچے گا۔
اِس کتاب کی تصنیف و تالیف کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہُوا کہ مغرب
کے بعد کا وقت تھا۔ٹی وی پر قوالی لگی ہوئی تھی،جس کے بول یہ
تھے :’’مَنْ کُنْتُ مَولاہ‘‘۔قوال حضرات بڑے زور و شور اور پُر
تپاک انداز میں جناب علی کرم اللہ وجہ کی شان میں لب کُشا تھے۔ناچیز
نے جب یہ بول سنے تو عجیب قِسم کی کیفیتِ رقّت و وَجد ،دلِ حزیں
پر طاری ہو گئی۔دوبارہ جب ہوش آیا تو سب سے پہلے جناب علی کرم
اللہ وجہ کی شان میں پہلی رباعی لکھی۔اس کے بعد یہ سلسلہ جاری
رہا۔زیادہ تر مغرب کے بعد لکھا کرتا۔اور تو کچھ نہیں ،بس اتنا
کہ جو کچھ اللہ نے دل میں ڈالا ،وہ صورتِ اشعار کہہ دیا کہ:
اُن کو مِلیں الفاظ تو لکھتے ہیں
ہم کو آئے آواز تو لکھتے ہیں
لفاظی و تخےّل اُنہیں درکار
ہم ھُو کا بجے ساز تو لکھتے ہیں
قارئینِ کرام! زیرِ نظر کتاب میں مدح و منقبت اور نعت کی صنف
شاملِ اشاعت کی گئی ہے۔یہ بات طے ہے کہ وہ شاعری جو آورد کا
رنگ لئے ہو اس منزل تک نہیں پہنچ پاتی جو آمد کی ہے۔اگرچہ چند
ایک استثنائی صورتیں موجود ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو
شاعری کو ذریعۂ ابلاغ بناتے ہیں اور ما فی الضمیر کو بادہ و
ساغر میں ڈھالتے ہیں ،ہئیت کے تجربات بھی کر ڈالتے ہیں۔ویسے
تو اُردو زبان کا دامن ہئیت کے نوع بنوع تجربات سے معمور ہے
اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔جدیددور میں مجید امجد بحیثیتِنظم
گواس سلسلہ میں مقامِ بلند پر فائز ہیںلیکن جب شاعر مردِ حق
اور بندئہ آزاد بھی ہو تو یہ کیفیت مزید دگرگوںہوجاتی ہے ایسی
ہی ایک مثال قطعات وغزلیات کے حوالے سے آپ کے ہاتھوں میں زیرِ
مطالعہ ہے۔
بار ہا ایسا ہُوا کہ خیالات اور عروض کا دامن الجھ گیا ۔چنانچہ
ایک روز جناب علامہ حضرت صوفی وارثی میرؔٹھی کی کتاب ’’شعر و
قافیہ‘‘ نظر سے گزری، جس میں رباعی کے مقررہ اوزان کے ساتھ یہ
وضاحت بھی تھی:
’’ایک رباعی کے چاروں مصرعے چار مختلف بحروں میں لکھے جا سکتے
ہیں۔رباعی کی بحریں اگر بنانا چاہیں تو اور بہت سی بن سکتی ہیں‘‘۔(ص78)
ایک عرصہ تک لفظ وتخّیل جس کشمکش میں مبتلا تھے،اس کا حل مل
گیا۔ قطع نظر اسکے کہ اوزان وبحور کیا ہیں؟ ردیف و قافیہ کی
بندش کیا ہے ؟
مقصود یہ تھاکہ وہ سب روحانی وقلبی وارداتیںاور پیغامات عوام
الناس تک پہنچا دئیے جائیں جو ان کی ظاہری وباطنی زندگی میں
مشعلِ راہ کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ حمد ونعت ہوں یا قطعات و
غزلیات یا کوئی اور صنفِ سخن بات مشاہدئہ حق کی گفتگو کرنے کی
ہے جو بادئہ و ساغر کہے بغیر بنتی ہی نہیں چنانچہ اہمیت بادئہ
و ساغر کی نہیں بلکہ مئے خوش رنگ اور دل پذیر کی ہے اوروہ جو
مستِ الست ہے وہ خود اپنے بادئہ و ساغر کی تخلیق کرتا ہے جس
میں کسی دوسرے کی مجال نہیں ۔اک ادنیٰ سی کاوشِ ناتمام آپ کے
سامنے ہے۔اُمیدِ واثق ہے کہ جس مقصد و منشاء کے لئے کتاب لکھی
گئی ہے ، وہ اہلِ نظر اور اہلِ باطن پر واگذار ہو گا کہ:
لکھنے کا ہُنر ناداں کوئی سکھا جاتا ہے
خود میں نہیں لکھتا ، بس کوئی لکھا جاتا ہے
یہ اُس کا اندازِ کرم قلندر پہ محمود
خود آتا نہیں سمجھ دل میں سما جاتا ہے
<<
پیچھے ::
فہرست
عنوانات
:: آگے
>>