بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
آذانِ قلندر

حصۂ نعت

احساس یہ ہوتا ہے کہ جاتا میں مدینے
کاش آئیں میری قسمت میں وہ پاک مہینے
ساری عمر گزاری ہے بس رو رو کے میں نے
خدا اب تو دکھا دے وہ انمول نگینے
یہ عرض ہے میرے دلِ نالاں کی خدایا
دیکھوں تو کبھی جا کے میں اُن کے خزینے
مل جاؤ کبھی خواب میں آکر میرے ساجن
جب سے میں ہوا تیرا ، جلائے ہیں سفینے
جو اہلِ نظر ہے اسے تو ہے یہ معلوم
دل والوں کی باتوں کو کیا جانیں کمینے
ہے کتنی انوکھی میری پُرنم کہانی
محمود وہ جب چاہیں بلاتے ہیں مدینے

٭٭٭٭٭

ہم نے درِ حبیب کو قبلہ بنا دیا
دنیا میں کفر و شرک کا جھگڑا مٹا دیا
دن رات سوچ سوچ کر ہم تھک گئے مگر
قدرت نے خود ہی یہ نکتہ سکھا دیا
ہم ڈھونڈتے رہے ہیں ساجن کو جابجا
مرشد نے اک نظر میں دل جگمگا دیا
پوچھا کہ برقِ نور چمکتی ہے کس طرح
پردہ اٹھا کے یار نے مکھڑا دکھا دیا
دیوانگی میں کب سے تُو بے تاب تھا محمود
بس اِک جھلک نے کیا سے کیا کیا بنا دیا

٭٭٭٭٭

نبی کی یاد سے ہم مسکرائے جارہے ہیں
کرم ان کا دیکھو نظر آئے جارہے ہیں
دکھا کر وہ اپنی صورت پیاری پیاری
ہمیں مست و بے خود پھر بنائے جارہے ہیں
یہ سب اس لجپال کی ذرہ نوازی ہے دوستو
کہ اس ناچیز کی دنیا سجائے جارہے ہیں
اپنے عاشقوں کا خیال رکھتے ہیں وہ اس طرح
کہ اس جہاں میں مژدئہ سنائے جا رہے ہیں
مقامِ محمد سمجھنا ہے بڑا مشکل
رحمتِ عالم ہیں سب بخشوائے جارہے ہیں
میرا جو کچھ ہے سب ہے ان کی عطا سے محمود
یہ پیار ہے نکمے سے نبھائے جارہے ہیں

٭٭٭٭٭

میں بن کے پھروں دیوانہ تیری رضا کیلئے
کاش کر لے تُو قبول یہ دعا خدا کیلئے
ملے تم کو رہائی گر نفس کی قید سے تو دیکھو
سجے ہیں سارے جہاں حبیبِ کبریا کیلئے
ان کی صحبت سے ہے ملی ایسی عطا مجھ کو
کہ اٹھتے نہیں ہیں اب ہاتھ پھر دعا کیلئے
آتی ہے مجھے اب بھی خوشبو تمہارے پیار کی
اک بار بلا لو آقا اس شہر کی ہوا کیلئے
تمہارا نام ہی پکارا کرتا ہوں صبح و شام
یہی اک وظیفہ ہے میری بقا کیلئے
کائنات کو سجانے کا کوئی مقصد تھا محمود
میں تو کہتا ہوں سب سجا ہے دلربا کیلئے

٭٭٭٭٭

کیا اندازہ ہو سکے ان کے کمال کا
شیدائی ہے کل جہاں جن کے جمال کا
حق کا نظام لائے باطل مٹا دیا
یہ تو اک کرشمہ تھا ان کے جلال کا
ملی راحتِ قلب ایسی ان کے پیار سے
کہ اب غم نہیں مجھے کسی بھی ملال کا
دنیا میں گزرے ہیں عاشق کئی کئی
کوئی نہیں ہے ثانی محمد کے لال کا
میرا نصیب تب سے ہے جگمگا گیا
جب سے انہیں خیال ہے عاجز کے حال کا
ہم تم جو پھر رہے ہیں زندگی لیے ہوئے
محمود یہ کرم ہے پیارے کی آل کا

٭٭٭٭٭

جانا ہے آقا ہم نے اک روز در تمہارے
اور جائیں ہم کدھر بس تم ہی ہو ہمارے
دید کا جام دو تم ، نکمّوں کو تھام لو تم
آپ کی ہی خاطر چھوڑے ہیں سب سہارے
شکرِ خدا ہے دوستو ، شکرِ حبیب دوستو
ورنہ کہاں جاتے یہ لوگ غم کے مارے
دیتے ہیں تم کو واسطہ پیارے حسین کا
لِلّٰہ اب لگا دو ہم کو کسی کنارے
تم رحمتِ دو عالم شاہِ دو جہاں ہو
تمہارا ملا ہے آسرا یہ بخت ہیں ہمارے
صدقۂ پنجتن ہو صدقۂ غوث اعظم
محمود پہ نظر ہو دامن میں ہو تمہارے

٭٭٭٭٭

تیری بھی آقا کیا شان کیا جلالت دیکھی
تیرے منکرین کی میں نے ہر دم ذلالت دیکھی
حسینِ جہاں مانگیں تیرے در سے خیراتِ حسن
اللہ اللہ کیا تیرے حسن کی قیامت دیکھی
ڈوب گیئں کشتیاں بڑے بڑے ناخداؤں کی
تیرے نام کی کشتی کنارے پہ سلامت دیکھی
خدا خدا کرتے رہے مگر تجھے بھول گئے
ایسے کم بختوں پہ سدا میں نے ملامت دیکھی
تیرا نظامِ حیات بے شک نظامِ جہاں ہے
پورے عالم میں انوکھی تیری نظامت دیکھی
تیری خیرات کو ترستے ہیں لاکھوں حاتم طائی
پورے عالم سے بڑھ کے ہے تیری سخاوت دیکھی
عطا کرتی ہے یہ قربِ خدا بندے کو محمود
اِس بے نیاز عشق کی ایسی پرکیف حلاوت دیکھی

٭٭٭٭٭

تیرے در پہ آگئے ہیں تجھے یاد کرتے کرتے
بڑی دیر ہوگئی تھی فریاد کرتے کرتے
کر دے عطا ہم کو لطفِ نظارہ اب تو
اک عمر ہے گزاری تیری خاطر مرتے مرتے
میں ہوں فقیر تیرا میں ہوں تیرا قلندر
تو نے ایسا رنگ دیا ہے اے آقا رنگتے رنگتے
اب تو آجا سامنے ذرا چین ملے اِس دل کو
کہ یہ کب سے منتظر ہے تیری راہ تکتے تکتے
کچھ باقی رہا نہیں ہے اب تو محمود اپنا
سب کچھ ہی جل گیا ہے اے یار جلتے جلتے

٭٭٭٭٭

زہے نصیب میرا گر اُنکی گلی میں گھر ہو
رہوں زیر نظر اُنکا پھر کس چیز کا ڈر ہو
ہو میسر قربِ نورِ مجسم پھر مجھ کو
اے رحمتِ دو عالم رحمت کی اک نظر ہو
کھو کر تیرے حسیں جلووں میں اے جانِ جاناں
پھر مجھے میرے آقا نہ کچھ میری خبر ہو
نہیں پھر کوئی تمنا مجھے کسی در کی
ادھر ہو میرا قبلہ میری سرکار جدھر ہو
آہ جو نکلے کبھی من سے میرے ربِ ستار
سرِ عرش تب میں دیکھوں کہ اس کا بھی اثر ہو
تن من سارا جلا کے آقا کے عشق میں محمود
پھر میں یہ چاہوں گا کہ بس اک اُن کی نظر ہو

٭٭٭٭٭

حالِ دل سن کے یقینا پریشان ہوا
جو آئے پاس مرے تو میں قربان ہوا
جن کی عظمت کو مانا ہے دو عالم نے
ان کی قسمت کو دیکھا تو حیران ہوا
جس کو مل گیا آسرا مدینے میں
اس کی بخشش کا یقینا سامان ہوا
کرتے ہیں اب بھی رشک ملائکہ اس پر
جو میرے آقا کا یارو مہمان ہوا
جس پہ پڑ گئی نظر شاہِ مدینہ کی
درحقیقت وہی کامل انسان ہوا
ان کے عشق میں ہوا جو بھی فنا محمود
واللہ ! زمانے کا وہ تو سلطان ہوا

٭٭٭٭٭

جو آقا کی محبت میں بکھر جاتے ہیں
ان کے پھر سارے انداز نکھر جاتے ہیں
ہم تو سنتے ہیں صرف تذکرہ ان کا
رنگ نہ ہو جہاں یوں ہی گزر جاتے ہیں
لاکھ ہی الجھے ہوں میرے نصیب کے چکر
اُن کی اک نگاہ سے سب سنور جاتے ہیں
تُوکیا جانے ان کی عظمت کو واعظ
اس در پہ تو خورشید و قمر جاتے ہیں
اُن کی جدائی میں نہ ہو تُو اداس محمود
اپنے عاشق کے سنا ہے وہ گھر جاتے ہیں

٭٭٭٭٭

آپ تو سب کے مشکل کشا ہیں
ہو کرم ہم پہ ہم بھی گدا ہیں

آپ کو تو ہے قربِ ربِ باری
آپ کا رتبہ ہے تو سب سے عالی
ہم پہ رحمت پیارے محمد
ہم اس جہاں میں بے آسرا ہیں

کوئی نہیں جہاں میں اب اپنا
بس دیکھا ہے اک تمہارا سپنا
التجا سن لو آقا ہماری
آپ محبوبِ ربِ عُلیٰ ہیں

ہم نے اس آس پہ عمر ہے گزاری
شاید گزرے ادھر سے ذاتِ عالی
للّہ اب تو نظارہ کرا دو
کہ آپ تو سیدِ ماہ لقا ہیں

میں رہوں گا یوں ہی کب تک مایوس
سن لے میری دعا ربِ قدوس
اُن کے در کا بنا دے بھکاری
وہ جو ہر اک کے حاجت روا ہیں

ایک دن تو آئے گی تیری باری
ہوگی محمود تیری بھی تیاری
خواب میں آ کے جب سے وہ ملے ہیں
یوں لگا بس یہی دلربا ہیں

<< پیچھے :: فہرست عنوانات :: آگے >>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.