غزلیات
دعا
دیتا ہوں میں
تیری دعاؤں
کو
بھلا نہ سکوں
گا تیری اداؤں
کو
بھول بھول
کر تو میں نے
ہے یہ مقام
پایا
اب داد دیتا
ہوں میں اپنی
خطاؤں کو
امتحان میں
فتح کی جو نوید
بنی
میں اب سلام
کرتا ہوں اُن
سزاؤں کو
تڑپ رہے ہیں
تیری یاد میں
شب و روز
دید کی بھیک
ملے اُن سب
ہمنواؤں کو
لے آئیں اس
محبوب کی پیاری
خوشبو
یہ پیغام دے
دو اس سمت کی
ہواؤں کو
اب تو آہ میں
بھی نکلتا
ہے نام تیرا
کیوں بُھلا
پاؤں گا ایسی
آہوں کو
کاش میں اسکو
پالیتا اِس
جہاں میں
کون دیکھے
گا وہاں تیری
جزاؤں کو
جب سے قرب تیرا
پایا محمود
مستوار نے
چھوڑ دیا قلندر
نے سب پارساؤں
کو
٭٭٭٭٭
تیری فرقت
میں کتنا گھبرا
جاتا ہوں میں
خود کو مٹا
کے پھر تجھ
کو پا جاتا
ہوں میں
کسی طرف اٹھے
نگاہ یہ نہیں
جرات
تیرے پیار
سے تجھ میں
سما جاتا ہوں
میں
تیرے ہوتے
روشن ہیں میرے
لئے جہاں
تیرے فراق
میں سب کچھ
بھلا جاتا
ہوں میں
تیرا انداز
حسیں تیرا
مقام ہے عظیم
تیری یاد سے
ہر دل کو سجا
جاتا ہوں میں
دیوانگیء شوق
میں جہاں سے
گزروں اے یار
اک دیا تیرے
نام کا جلا
جاتا ہو ں میں
کچھ لوگوں
کو دیدار اُس
کی کرتا ہے
بے خود
دیکھ کر اسے
محمود ہوش
میں آ جاتا
ہوں میں
٭٭٭٭٭
ہو کے ہر طرف
عیاں پھر بھی
عیاں ہوتا
نہیں
یہ وہ معمّہ
ہے جو کبھی
آساں ہوتا
نہیں
خود تو بلا
لیا فوراً
محبوب کو یوں
اپنے پاس
کوئی کتنی
کرے کوشش یہ
ساماں ہوتا
نہیں
ہر گھر میں
ہے تیرا گھر
تو روشنی کی
طرح
نہ ہو تو جس
دل میں وہ ہرگز
مکاں ہوتا
نہیں
ہے حُکمِ خدا
پیار کرو پیارے
نبی سے
بغیر حُبِ
مصطفےٰ کامل
ایماں ہوتا
نہیں
کیوں کر اہلِ
عقل تجھ کو
سمجھ سکیں
محمود
لاکھ بار تجھے
لکھا مگر تو
بیاں ہوتا
نہیں
٭٭٭٭٭
کیوں ڈھونڈتے
ہو تم ایسے
دیوانے کو
زمانے میں
پہلے ہی بدنام
بہت ہے
جانا نہ تم
نے کبھی عاشقِ
زار کو
یوں تو اس کا
چرچا سرعام
بہت ہے
نالہ بس اتنا
کافی ہے ان
کے لیے
درد بھرا ورنہ
میرا پیغام
بہت ہے
مئے نہیں پیتا
کسی میخانے
سے
نظروں سے پینے
کا بس الزام
بہت ہے
بس کر چھوڑ
لفظوں کی اب
تکرار تو محمود
ویسے تو تیرا
ازلی کلام
بہت ہے
٭٭٭٭٭
چراتے رہے
ہیں ہم بھی
اک رات مسلسل
ہوتی رہی ہے
پھر اک بات
سے بات مسلسل
دیکھنا ان
کا کہیں قیامت
سے کم نہیں
آرزو ہے ملتی
رہے یہ سوغات
مسلسل
کبھی جو بھولے
سے آبیٹھے
میرے دل میں
اس دن سے تو
ہوتی ہے اب
برسات مسلسل
نگاہ نے ان
کی بدل ڈالا
میرے دل کو
بس وہ ایسے
ہی کرتے ہیں
کرمات مسلسل
اپنے کو بھول
کہ جو اس ذات
میں ہے گم ہوا
نظر آتی ہے
پھر ہر سُو
وہ ذات مسلسل
کراکے نظارہ
رُوئے تاباں
کا محمود
بدل دیتے ہیں
فقیر کے حالات
مسلسل
٭٭٭٭٭
وفاؤں کے راستے
پر تم چلنا
سیکھو
حسد میں نہ
جلو کسی پہ
مرنا سیکھو
پڑھو نہ تم
ہرگز غیروں
کے قصیدے
اک یار کی محبت
میں دم بھرنا
سیکھو
اپنی بقا کو
بھول جاؤ تم
اس طرح
مثلِ پروانہ
شمع پہ جلنا
سیکھو
لگا کے دل بچاتے
ہو دامن اپنا
بنو منصور
اور جاں سے
گزرنا سیکھو
شیدائی تو
یار کے تب کہلاو
گے تم
تصَّورِ یار
میں پہلے ڈھلنا
سیکھو
جہاں کو تم
یقینا بدل
ڈالو گے
پہلے پیارے
خود کو بدلنا
سیکھو
دعویٰ کرتے
ہو تم اس عشق
کا جب محمود
مثلِ حسین
نیزے پہ تو
چڑھنا سیکھو
٭٭٭٭٭
کیا لکھوں
میں لکھنے
کی کوئی حاجت
نہیں
چوُر چوُر
تو ہے بدن اور
عضَوْ کوئی
ثابت نہیں
ویسے تو میں
بھی بھول جاتا
انکے زخم لیکن
افسوس کہ مجھے
تو بھول جانے
کی عادت نہیں
احساس تو ہو
جاتا مجھے
اپنے دل کا
لیکن
کیا کروں میں
اک لمحہ بھی
تو فرقت نہیں
فنا تو ہو جائیں
ضرور چاہت
میں تری ہم
رضا یہ تیری
ہے کہ تو دیتا
ہمت نہیں
محشر تو پھر
لوگوں کا روزِ
قیامت ہوگا
بچھڑنا ان
سے مرا تو کم
قیامت نہیں
جام صبر کا
پی لیتا ہوں
ہر روز صبح
و شام میں
شور مچانا
محمود تو کوئی
شجاعت نہیں
٭٭٭٭٭
جو بے وفا ہے
کیوں اُس سے
دل لگاتے ہو
داناؤں نے
اِس کو چھوڑا
اور تم اپناتے
ہو
لاکھوں کو
اِس نے پالا
اور نِگل گئی
ہے پھر
اِس ناگن کو
کیوں پھر تم
اپنا بناتے
ہو
جو ہے فانی
پھر ناداں
اس کی حقیقت
ہے کیا
کچے رنگوں
کو کیوں اپنے
پہ سجاتے ہو
ہے جس کا دل
تنگ ہر تمہاری
مخالفت میں
پھر اپنے دل
میں کیونکر
تم اس کو بساتے
ہو
خود کو گنوا
کے ملتا ہے
مقامِ سربلند
ناداں یہ طریقہ
پھر کیوں تم
بھلاتے ہو
اپنے آپ کے
خول سے اک بار
تو نکلو تم
محمود
من اپنے میں
جلو کیوں غیر
کے گن گاتے
ہو
٭٭٭٭٭
اللہ نے کیسی
قسمت بنائی
فقیر کی
کرتا ہے دن
رات یہ گدائی
فقیر کی
ہوتی ہیں محفلیں
ہر وقت سجی
ہوئی
قدرت نے یہ
دنیا بنائی
فقیر کی
ایسے بھی ہوتی
ہے دنیا یہ
دل کی صاف
آتی ہے جب بھی
دل میں سچائی
فقیر کی
لنگر ہے چل
رہا یہاں ہر
دم جہاں میں
کھاتا ہے کل
جہاں کمائی
فقیر کی
ہوتا ہے وہ
جہاں میں بے
مثل و نامور
بے شک ہے جس
کے دل میں بڑائی
فقیر کی
محمود رنج
و غم سے وہ آزاد
ہو گیا
تصویر دل میں
جس نے سجائی
فقیر کی
<<
پیچھے ::
فہرست
عنوانات
:: آگے
>>