بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
آذانِ قلندر

قطعات

الٰہی دل میں نور ہو اور نفس پہ کمند ہو
کیا نصیب کہ دل میں نہ تّجلی بند ہو
یومِ محشر گرمی ہو جب عروج پہ محمود
سر پہ سایہ ، لبوں پہ نام محمد ہو

کچھ غم نہیں گر مشکل سر پہ آ پڑی ہے
خوش نصیب ہوں میںکہ آنکھ ان سے جو لڑی ہے
الآ انّ اولیآ کو دیکھ لو قرآن میں
یہ آیت محمود رب نے موتی کی مثل جڑی ہے

اپنے تو تھے اپنے غیروں سے نبھاتے تھے رسول
مئے رحمت ہر اک کو بھر بھر کے پلاتے تھے رسول
عزت تو ملی سب کو اُس در سے بیشک محمود
ادبِ زہرا میں مگر کھڑے ہو جاتے تھے رسول

خوش نصیبوں کو تو مدینے کی طرف موڑ دیا جاتا ہے
گستاخوں کو جہنم کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے
صدیق و عمر عثما ن و حیدر بنے ہیں عشق سے محمود
جو منہ ساجن سے پھرے یقیناً وہ توڑ دیا جاتا ہے


سرکار کی نظر کرم ہر اک پہ مثالی ہے
جانتے ہیں سب عاشقوں کو کیسا رتبہ عالی ہے
نہیں ہے جس کے دل میں طلبِ مصطفٰے محمود
اسے ولی کیوں کہوں اُس کا اندر خالی ہے

میرے گرد تو کسی کا حصار رہتا ہے
کسی کے عشق میں یہ دل فِگار رہتا ہے
مولا دل میں تب آتا ہے نظر محمود
جب دل میں مصطفےٰ کا پیار رہتا ہے

دل میں جو عشقِ نبی آباد کرتے ہیں
لب خاموش رکھتے ہیں دل میں یاد کرتے ہیں
یہ نعمت ہر اک کو نہیں حاصل محمود
بہت کم ہیں جو خود کو آزاد کرتے ہیں

جو اپنے دل میں حضور رکھتے ہیں
وہ کب انہیں خود سے دور رکھتے ہیں
دے کر وہ عذابِ فرقت محمود
قربِ خاص میں تو ضرور رکھتے ہیں

جتنے بھی فقیر جہاں میں تمام ہیں
سب سیدِ عالم کے ادنیٰ غلام ہیں
قلندر کسی اور شے کا نہیں نام
سب مولائے کل کے پیارے نام ہیں

جس جگہ پہ ذکرِ رسول ہوتا ہے
ہر ذکر وہاں کا پھر قبول ہوتا ہے
بن حبِ نبی جو کرے ذکر اُس کا
محمود سب یہ دھندہ فضول ہوتا ہے

جھوٹ اور حسد سے انکار کرو
کبر و غرور سے دل کو بیزار کرو
اپنا کے طرز رسولِ ہاشمی
فضلِ رب کا انتظار کرو

جن کے سینے میں مدینے کا ارمان ہوتا ہے
انہی کے طیبہ میں جانے کا سامان ہوتا ہے
تڑپتا رہتا ہے جو فرقت میں دن رات محمود
اک نہ اک روز تو وہ سرکار کا مہمان ہوتا ہے

میری نظر میں ہر وقت وہ پاک نگینہ ہے
بِناں ان کے نہیں ممکن اب مرا جینا ہے
لوگوں کی خواہشیں تو ہیں ہزاروں محمود
میری تو بس اک ہی آرزوئے مدینہ ہے

سرکارِ مدینہ کا جو میلاد مناتے ہیں
انہیں مئے کوثر وہ توجہّ سے پلاتے ہیں
سردار کی سجائے محفل یہ ہے کس کی مجال
محمود وہ تو خود محفل کو اپنی سجاتے ہیں

مومنو سب مل کر سجاؤ رنگیں محفلِ میلاد کو
بے شک وہ پہنچیں گے تمہارے مقصدِ فریاد کو
فَاتّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ واضح ہے قرآن میں
رب کے بندے ہو تو پھر مانو رب کے اس ارشاد کو

دل میں میرے جو نظر انوار آئے ہیں
محسوس یہ ہوتا ہے کہ سرکار آئے ہیں
روح کو ملی تسکین جان کو سرور ملا
یکایک دل پکارا دلدار آئے ہیں

حبیب کی جانب وہ اس طرح پرواز کرتے تھے
کہ اس بے نیاز سے وہ راز و نیاز کرتے تھے
ان کے لطف و عطا کی کوئی حد نہیں محمود
جو تیر انداز کرتا تھا نظر انداز کرتے تھے
یہ آخری فقرہ دوبارہ لکھا جائے گا


میں جو کچھ لکھتا ہوں ان کے نام لکھتا ہوں
اُن کے قصیدے اُنہیں سلام لکھتا ہوں
شایانِ شان ملتے نہیں الفاظ محمود
اُن سے ہو کے ہمکلام ، کلام لکھتا ہوں

میں اس تاجدارِ مدینہ کی رحمت پہ
خلوصِ دل سے اعتبار رکھتا ہوں
جہنم کی نہیں جرات جلائے محمود
محمد و آل محمد سے پیار رکھتا ہوں

ہمنشینِ فقیر ہے نویدِ فتحِ مبین بن
محبتِ دیں دل میں رکھ ایسا ماہِ جبین بن
دین سے ہو لگن تیرا دل ہو مریضِ مصطفٰی
سکھا ئے پھر اوروں کو فقر ، ایسا قابل ترین بن

کسی سے کیوں مانگو ں محبوبِ پرور دگار دیتے ہیں
سا ئل ہوں آ لِ رسول کا مجھے تو خود سرکا ر دیتے ہیں
میری ابتداء میری انتہا غلامیء حسین ہے
جب سے زیر نظر ہوا محمود ، حیدرِ کرّار دیتے ہیں

مجھ کو اپنے آقا سے نسبت ہوگئی ہے
مالک دو جہاں سے قربت ہوگئی ہے
پایا ہے سکونِ قلب اُن کے نور سے محمود
دنیا و زمانے سے نفرت ہوگئی ہے

علی کی شان کو ہے زمانے میں بتایا جاتا
دکھانی تھی شان ، کیوں کربل کو سجایا جاتا
بنے ہزاروں کی طرح ہزاروں ولی محمود
مگر علی کا ثانی نہیں بنایا جاتا

جس کو ملی قوتِ جہاں ، وہ شیر جبار ہے
منافقت کی موت ہے وہ ولیء ربِ غفار ہے
جو شہنشاہِ سلطنتِ معرفت ہے محمود
وہ تو اخیء رسول ہے اور حیدرِ کرّار ہے

علی مولا مدد کو آؤ سخت مشکل میں پڑا ہوں
کس کو کس منہ سے پکاروں قلندر جو تیرا ہوں
تجھ کو ہی تو چاہا تھا مانگا تھا خدا سے محمود
تیرا کرم بُو تراب کبھی نہ تجھ سے جدا ہوں

گلشنِ مصطفےٰ کی ہے خوشبو علی
اخلاقیات کا مظہر ہے خوبرو علی
علم و معرفت کا ہے سمندر بوتراب
اس لئے محمود کی ہے جستجو علی

جو علی کو مشکل کشا نہیں سمجھتا
خدا اس پہ کرم روا نہیں سمجھتا
جو پکارتا ہے ہر دم علی علی کو محمود
علی اس کو خود سے جدا نہیں سمجھتا

ان کا کرم مجھ پر یہ عطائے جناب ہے
توجہ سے ان کی میرے عدّو پہ عذاب ہے
خبردار نہ چھیڑے کوئی قلندر کو محمود
نظرِ حیدر سے میری مستی کو شباب ہے

کسی کو یہ بری لگے یا بھلی ہو
دعا ہے قبر میں تیری تصویر لگی ہو
پوچھیں گر مجھ سے وہاں نکیرین محمود
ہر سوال کے جواب میں نعرئہ علی ہو

لوگوں کو تو کچھ پینے میں مزہ آتا ہے
مجھے تیرے سنگ جینے میں مزہ آتا ہے
اپنا اپنا یہ ظرف ہوا کرتا ہے اے دوست
مجھے پنجتن کے سفینے میں مزہ آتا ہے

محمد و علی کے درمیان فاصلہ ہے اتنا
اللہ و محمد کے درمیان واسطہ ہے جتنا
جنابِ شاہِ جیلاں کے بنو دیوانے محمود
پھر آئے گا سمجھ میں تمہاری راستہ ہے کتنا

کعبہ میں ولادت ہے مسجد میں شہادت ہے
دیکھنا علی کے چہرے کو یہ عین عبادت ہے
جس دلِ مسلم میں نہ ہو حبِ علی محمود
وہ دل مت سمجھو کوئی بوسیدہ عمارت ہے

ہوں جن کی بیٹیاں نور کیا وہ خود نور نہیں
یہ تیری بدنصیبی ہے تیرا قصور نہیں
جن کے گھر سے محمود بنے عثمان ذوالنورین
وہ سراپا نور ہیں مگر اسے شعور نہیں

سُن کے شانِ اہلِ بیت جو جل جاتے ہیں
سمجھو ایسے لوگ دین سے نکل جاتے ہیں
نہ شعور دے گر خدا کیا گِلہ کس سے
غمِ حسین میں پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

شہنشاہِ حسین پاک عالی جناب ہے
اس حُسن کا کیا ہو بیان وہ لاجواب ہے
حکمِ رسول سے بھی جو نہ سمجھ سکے
محمود جان لے تُو اُس کی قسمت خراب ہے

غوثِ اعظم میری جان کے قریب ہیں
ولیء ربّ ہیں ولیوں کے حبیب ہیں
سہارا میرا شاہِ جیلاں محمود
وہ ہوگئے جن کے وہ خوش نصیب ہیں


میں تب سے بڑا ہی بے باک ہو گیا
ّّّجب سے عاشقِ غوثِ پاک ہو گیا
بڑا کرم ہے ان کا مجھ پہ محمود
میں فقیرِ شہِ لولاک ہوگیا

یہاں جھکتا ہر زمانے کا سکندر ہے
یہ وہ نورِ معرفتِ حق کا سمندر ہے
کسی کی سمجھ میں کیسے آسکے محمود
یہ تو یارِ علی ہے شہباز قلندر ہے

تیرے دربار میں پہنچے تو سب غم بھول گئے
تجھے سامنے پایا تو خود کو ہم بھول گئے
تیری توجۂ قلندرانہ سے محمود
نشئہ قلب ملا تو سب ستم بھول گئے

امامِ بَحر و بَر امام بری ہے
نسب میں حسینی تصویرِ علی ہے
ہر سمت سے جو خوشبو سی آتی ہے محمود
یہ گلشنِ پنجتن کی وہ پاک کلی ہے


داتا کو یوں ہم نے کرم لٹاتے دیکھا
وہاں سے خیرات ہر ولی کو پاتے دیکھا
کیا منظر ہو بیاں پیارے داتا پیا کا
اُن کے منکر کو محمود وہیں کھاتے دیکھا

جس کی نظر سے میرے جسم میں جاں باقی ہے
وہ شہنشاہِ کشمیر ہے ، وہ میرا ساقی ہے
جس نے منّور کر دیا لاکھ دلوں کو محمود
وہ میرا جدِامجد ہے داؤد شاہ خاکی ہے


دیکھ کر جس کو ہو گیا یہ دل نمازی ہے
سمندر کنارے وہ عبداللہ شاہ غازی ہے
ان کے درِ پاک پہ چل کہ یہ دیکھا محمود
زمانے کا خاص و عام وہاں فریادی ہے

دیکھ کر مجھے کچھ لوگ تو حیران ہوتے ہیں
گر ہو حیاتِ قلب تو وجدان ہوتے ہیں
دل والے قلندر کو جانتے ہیں محمود
ظاہربین دیکھ کر تو پریشان ہوتے ہیں


اے گلِ دِلکش مانا کہ بہت خوبرو ہے تُو
دیکھے گر میرا صنم کرے اس کی جستجو
کہاں سے لاؤں اُس کے حسن کا ثانی محمود
ظاہر میں وہ بشر باطن میں سّرِ ذات اللہ ھُو

اللہ والوں کے لبوں پہ استغفار رہتا ہے
دیدِ نبی کے لیے من بیقرار رہتا ہے
تکتے رہتے ہیں راستے مدینے کے یہ محمود
کہیں سے آئے بلاوا انتظار رہتا ہے


جب قلندر پڑھائی کرتے ہیں
کل دنیا سے جدائی کرتے ہیں
لوگ تو سمجھتے ہیں سامنے محمود
وہ خدا تک رسائی کرتے ہیں

ضیاء جس نے بھی دل کی پائی نہیں ہے
اسے قلندر کی سمجھ آئی نہیں ہے
روزِ روشن کی طرح ہے روشن محمود
افسوس اُسے قوتِ بینائی نہیں ہے


دنیا قلندر کی مستی کا مزہ چکھنے لگی
اب تو یار کی آنکھوں سے مستی ٹپکنے لگی
سب یہ انداز ہیں حُسنِ مطلق کے نیارے محمود
جب سے دیکھا ہے انہیں دل کی گھنٹی بجنے لگی

جب تُو کسی پہ کبھی آشکار ہوتا ہے
پھر دل میں فقط تیرا پیار ہوتا ہے
تیری راہوں کو تکنا طلب میں رہنا
قلندر کا یہی کاروبار ہوتا ہے


حالات کی گردش سے قلندر نہیں ڈرتا
پی کے مئے توحید ، ہے شیطان سے لڑتا
موج میں جب آئے تو نکھار آئے دہر میں
گر بگڑے قلندر تو زمانہ ہے بگڑتا

نامِ قلندر سے جو غمگین ہوتے ہیں
حقیقت میں لوگ کم ترین ہوتے ہیں
دن رات سجی رہتی ہے محفل سرکار کی
قلندر اس طرح جانشین ہوتے ہیں


اِیںْ جہان در باطن ، جہانِ قلندر اَستْ
خدا نور دہر و اُو شانِ قلندر اَستْ
عرشِ بریں مکانِ خدائے برتر اَستْ
و لامکانِ خاص ، مکانِ قلندر اَستْ

زیرِ دستِ قلندر جہان ہوتا ہے
درِ قلندر سے دور شیطان ہوتا ہے
منکرو سن لو حدیثِ دلِ محمود
سامنے مست کے منافق پریشان ہوتا ہے


ذکر اُس کا اُس کے سامنے جا کے کرتے ہیں
غور سے دیکھو دل میں بٹھا کے کرتے ہیں
کیف و سرور وجدان سب ذکرمیں ہیں مضمر
قلندر ہیں ، پی کے پلا کے کرتے ہیں

تُو ہوتا ہے میرے پاس کیا یہ کم ہوتا ہے
تُو نہ ہو میرے قریب تیرا غم ہوتا ہے
اگر ہو جاؤں میں کبھی محوِ دل محمود
غور سے پھر دیکھوں تو تُو صنم ہوتا ہے


اُس رازِ خاص کو کب یہ ذلیل مانتے ہیں
ہیں یہ دل والے جو بے دلیل مانتے ہیں
یہ بد بخت مانیں یا نہ مانیں اے محمود
وہ ہیں دل میں ہم خلیل مانتے ہیں

جو بھی اُس درِ نور سے فیض یاب ہوئے
جہاں میں فقط وہ لوگ کامیاب ہوئے
ان کی نظرِ کریمانہ سے محمود
ہزار مریضِ دل شفایاب ہوئے


کچھ اس طرح دل میں سما جاتے ہیں وہ
کہ دل کو اپنا گھر بنا جاتے ہیں وہ
اک عرصے سے محمود تماشہ ہے میرے ساتھ
جب آنکھ بند کروں سامنے آجاتے ہیں وہ

جس میں نہیں قدر انساں وہ کیا انسان ہے
بظاہر انسانوں میں ہے دراصل حیوان ہے
نہ ہو جس شخص میں خُلقِ محمدی محمود
وہ فقیر نہیں ہے ہرگز ، بڑا شیطان ہے


نکتہ چینی دوسروں پہ ، خود کو پاتے ہی نہیں
بات کرتے ہیں علم کی باطن میں جاتے ہی نہیں
جب کوئی حقائق سے اٹھاتا ہے پردہ محمود
پھر یہ اہلِ باطن ہیں سمجھ میں آتے ہی نہیں

اہلِ دل پہ طعن کرتے ہیں یہ لوگ کمینے
اسلاف کے فیض سے خالی ہیں اِن سب کے سینے
گمراہ کر رہے ہیں سادہ لوگوں کو محمود
خود تو ڈوبے اوروں کے ڈبوئیں گے سفینے


اجڑ نہ جائے چمن یار بچائے رکھنا
آئے کبھی جو یاد ، دل میں دبائے رکھنا
اگر تم سے ایسا کچھ نہ ہو سکے محمود
میرا تذکرہ سرعام نہ سنائے رکھنا

ہر زمانے کا دَم ، دَما دَم سے ہے
یہ دَما دَم تو اُسی ہمدم سے ہے
کسی کےَدم کو تُو کیا سمجھے محمود
دَما دَم کا تعلق بے دَم سے ہے


تو ہے قلندر پی لے مئے عرفان کو
ہو جا اُسی میں گم چھوڑ دے اس جہان کو
مستی میں رہ دیکھ ہر سُو اُسے تُو محمود
سیرِ لامکاں کر ، بھول فانی مکان کو

عقل کو ہر گز کبھی عقل آتی نہیں ہے
ہر پھول میں تو خوشبو سماتی نہیں ہے
دل کی دنیا آباد کر لو عقل کے مارو
زندہ ہے گر دل پھر عقل جاتی نہیں ہے


مرتد و مردود یقینا وہ ہو گیا
مرشَد کی جو نکتہ چینی میں کھو گیا
لکھی ہے اس کی قسمت میں ذلت محمود
اپنی کشتی ناسمجھ خود ہی ڈبو گیا

زلف و جُبّہ و دستار یہ فقط پہچان ہے
دل کی دنیا چھوڑ کر چہرے پہ دھیان ہے
محمود ان کا تذکرہ کرنا ہے عبث
بس اونچی دکان ہے اور پھیکا پکوان ہے


جن کو بس رضائے یار کا گر آتا ہے
جہاں کی سلطانی کا ہنر آتا ہے
عشقِ یار میں جو فنا ہو گئے محمود
وہ جدھر دیکھیں ، یار ہی نظر آتا ہے

دنیا زمانے کے رنگ جدا دیکھے ہیں
دل والے سبھی یہاں رُسوا دیکھے ہیں
جن کی نہیں رسائی اس ذات تک محمود
سفینۂ فقر کے ناخدا دیکھے ہیں


خود پڑھو تو سب کو ملا کے پڑھو
مقصد یہ کہ دل کو جگا کے پڑھو
طالب کو نہیں ہے اور پڑھنا مقصود
اس کا نام خود کو بھی گَنوا کے پڑھو

خبردار اے دل کہیں تم نہ بدل جانا
کہ بدلتے چکر میں ماہ و سال دیکھے ہیں
جو یار سے لگے تو فلاح پاگئے محمود
ورنہ یاں بدلتے لوگ باکمال دیکھے ہیں


چِھٹری ہے دُھن میرے دل کی آواز کی
ہو بیاں کیا حالت عشق کے اعجاز کی
اس میں ہیں پھول گر تو کانٹے بھی ساتھ ساتھ
محمود سب قدرت ہے اس بے نیاز کی

مزہ تب ہے اے ربْ کہ دمِ آخر
روح نکلے لبوں پہ نامِ صنم ہو
جب ہو برپا میدانِ محشر محمود
ذکر تیرا دل میں ، زبان پہ دَمادَم ہو


کچھ اس قسم کا عذاب دیتے ہیں
مانگتا ہوں زہر تو شراب دیتے ہیں
ان کی مستی میری روح میں ہے محمود
رہ کے دل میں سب جواب دیتے ہیں

رنگ لائے گا کبھی تو صبر میرا
اک دن ہوگا اُن کی گلی میں گھر میرا
یہ تمناء لیے پھرتا ہوں محمود
کاش ہوتا مدینے کو سفر میرا


دیکھو ذرا یارو یہ کون آتا ہے
جس کے آنے سے چین چلا جاتا ہے
ان کے آنے کا بھی ہے انداز عجب
دیکھ کر چہرہ ، دل ان میں کھو جاتا ہے

زندگی پھر اُن کی بے شک عذاب ہوتی ہے
پلائی جنکو انہوں نے شراب ہوتی ہے
کبھی کبھی عقل والو تم پیا کرو
محمود اس ہاتھ سے پینا ثواب ہوتی ہے


اُن کی روح مجھے جس رات ملتی ہے
میرے مُردہ جسم کو حیات ملتی ہے
مرا چلنا پھرنا انہی کے دم سے ہے
محمود بیان سے باہر سوغات ملتی ہے

دل میں آتے ہیں وہ جان میں آتے ہیں
کسی کسی کے دھیان میں آتے ہیں
نہ ہو جس دل میں اُن کا عشق محمود
اس کے وہم میں نہ گمان میں آتے ہیں


نور سینے میں نہ ہو تو منّور کیسا
یار ہو جب سامنے تو پھر تصّور کیسا
دیکھنا یار کو عینِ طریقت ہے محمود
یار میں وہ آئے نظر تو کفر کیسا

اسکا کرم اے دوستو ہر اک پہ عام ہے
امیدوارِ کرم میں میرا بھی نام ہے
رگ رگ میں میری بس گیا ہے وہ محمود
میرے تن میں ، دل میں اُسی کا مقام ہے


دل میں ہے محفل سجائی تیرے نام کی
گر نہ ہو تو روح میں پھر زندگی کس کام کی
دنیا میں سخن ور ہیں اچھے بہت لیکن
محمود نہ جانیں منزل تیرے کلام کی

رب کے وہی بندہ قریب ہوتا ہے
اُس کا ہی ذکر جسے نصیب ہوتا ہے
دوستی کر لو کسی فقیر سے محمود
جس پر نگاہ نہیں وہ غریب ہوتا ہے


ظاہر میں بڑے ہی دیندار نظر آتے ہیں
اندر سے پرانے غدار نظر آتے ہیں
مطلب پرست ملاؤں کا کیا کہنا محمود
پاک لباس میں بڑے فنکار نظر آتے ہیں

وہ مجھے عرصہ سے جانا پہچانا لگتا ہے
کبھی وہ اپنا ہے کبھی بیگانہ لگتا ہے
محمود اسکو دیکھتا ہوں میں اکثراپنے آس پاس
جو ہے تو حقیقت ، مگر فسانہ لگتا ہے


تجھ سے ملتا ہوں کبھی بچھڑ جاتا ہوں
نہ تُو ہو من میں یار تو سکڑ جاتا ہوں
اپنے دامن میں لپیٹے رکھنا محمود
دور ہو کے تجھ سے تو میں بگڑ جاتا ہوں

تجھ سے ملنے کی ہر وقت دعا کرتے ہیں
اب تو مل جاؤ یار کب دغا کرتے ہیں
بھر جائیں گے اک دن زخم میرے محمود
طبیبِ مدینہ سے دوا کرتے ہیں


جب بھی تیری حمد و ثناء کی میں نے
بھٹکے ہوئے دل کو پناہ دی میں نے
تیرے حسن کی تاب کہاں مجھے محمود
تیرے کتوں میں رہوں ، دعا کی میں نے

خواہش ہے میرے دل میں خواہشیں نہ رہیں
بس رہے تُو دل میں آلائشیں نہ رہیں
بن کے تیرا فقیر پھِروں بیابانوں میں
عالم ہو مستی کا نمائشیں نہ رہیں


میری طرف بن کر پیکرِ کرم آئے ہیں
دیکھے فیض رساں مگر ایسے کم آئے ہیں
لکھتا رہتا ہوں اُن کے قصے سدا محمود
بس اسی کام کے لیے شائد ہم آئے ہیں

لکھنے کا ہنر ناداں کوئی سکھا جاتا ہے
خود میں نہیں لکھتا بس کوئی لکھا جاتا ہے
یہ اُس کا انداز کرم قلندر پہ محمود
خود آتا نہیں سمجھ دل میں سما جاتا ہے


دل میں نہیں جگہ تو اُس کی آرزو کیسی
نہیں خیال اُس کا پھر اپنی آبرو کیسی
جس تقریر و خطاب میں نہ ہو ذکر اُس کا
وہ سب عبث ہے محمود وہ گفتگو کیسی

ہر طرف پھرتی ہے نگاہ کہ اُسے دیکھے
وہ تو ہے خود قریب چھپا کہ اُسے دیکھے
قربِ شیخِ کامل سے ملتا ہے یہ پتا
فِیْ اَنْفُسِکُمْ ہے گواہ کہ اُسے دیکھے


یہ دستور ہے کہ حکمِ خدا ہے
میں تو کہتا ہوں یار کی رضا ہے
حقیقت پانا ہے مشکل محمود
راز کسی پہ ہرگز نہ کھلا ہے

جو سنگ کا ساتھی نہیں سنگ کی نہ بات کرے
جسکا اپنا نہیں رنگ ، رنگ کی نہ بات کرے
پروانہ ہی مرمٹتا ہے شمع پہ محمود
ناواقفِ پروانہ پتنگ کی نہ بات کرے


کسی کی کیا جاگیر ہوتی ہے
سب اپنی اپنی تقدیر ہوتی ہے
اوروں سے کیا مطلب ہے محمود
ترے سامنے اک تصویر ہوتی ہے

جس کو چاہیں دیوانہ بنا دیتے ہیں
جہاں چاہیں محفل سجا دیتے ہیں
ان کے کرم کا پھر کیا کہنا محمود
گالیاں دیتا ہو کوئی تو دعا دیتے ہیں


شہرِ عشق کا بھی انوکھا نظام ہوتا ہے
دن کو بے تابی رات کو جاگنا عام ہوتا ہے
بھوک ہو یا پیاس ہو یا پھر ہو شدتِ غم
ہر مشکل میں لب پہ یار کا نام ہوتا ہے

بندہ جب اُس کی آنکھ کا اک نشانہ بنتا ہے
آنکھ پیمانہ بنتی ہے دل میخانہ بنتا ہے
ویسے تو کوئی نہیں کسی کا بنتا محمود
جو اُس کا بن گیا اُس کا زمانہ بنتا ہے


دل کو سرور و ترنم ملا ہے
یہ تب ملا جب اُن کا غم ملا ہے
شب و روز یاد تو دامن گیر رہتی ہے
صد شکر محمود اتنا کرم ملا ہے

سینے میں بجائے دل کے تیرا نام رکھا ہے
میری تقدیر میں کچھ نہیں اک تُو ہی لکھا ہے
تیرا حسنِ سراپا ہے نشہ میرا محمود
ازل سے تو میری رگ رگ لُوں لُوں میں رچا ہے


خود پھرتا ہے کعبہ میں دل پھرتا ہے اغیار میں
یوں نہیں ہر گز قرب اُس کا تیرے اختیار میں
لاکھ سجدے بھی کےئے اور طواف بھی کےئے محمود
پر کسی قلندر کو شک ہے تیرے پیار میں

لکھنے والے قسمت میں کچھ ایسا لکھ دے
ہو ان کی گدائی اور وہ کاسہ لکھ دے
تڑپ رہی ہیں جو مدت سے دیدِ یار کو
دکھی آنکھوں کو دیدار ذرا سا لکھ دے


جوفنا ہوئے جھنڈے لہرا ئیں کیو ں نہیں
ہر سمت سے لوگ پھر اُن کے در جائیں کیو ں نہیں
اُن کے نغمے اُن کے گیت گاتے پھرتے ہیں سبھی
سب قلندروں کے دل جگمگائیں کیوں نہیں

گر واقفِ اسرار و نہیں تو قلندر نہیں
کتابوں میں ہوا غرق اس کے کچھ اندر نہیں
لباسِ فقر میں پھرتے ہیں ہزاروں محمود
ظاہر میں چمک ہے با طن میں تونگر نہیں


کنارہ پا نہیں سکتا حقیقت سمندر کی
عقل والا کیا جانے حالت کسی کے اندر کی
بدلتے ہیں اندازِ زمانہ جن سے محمود
وہ مظہر جمالِ ذات ہے صورت قلندر کی

جو کبھی نہ ایک در کے ہوئے
سمجھو وہ دربدر کے ہوئے
منزل چھپی ہے ایک نقطے میں
ہٹ کے یار سے نہ گھر کے ہوئے


جو دل و جان سے یار پہ قربان ہوتا ہے
پاتا ہے روشنی کامل انسان ہوتا ہے
رکھتا نہیں طلبِ زمانہ وہ محمود
دراصل وہ زمانے کا سلطان ہوتا ہے

میری بے وفائیوں کو درگزر کرتے رہے
میں گناہ کرتا رہا اور وہ نظر کرتے رہے
جبکہ زمینِ دل تھی بہت شوریدہ محمود
پھر بھی عاجز کے دل میں وہ اپنا گھر کرتے رہے


بلا کی تڑپ کسی رشکِ قمر میں ہے
کہ اسکی آہ کا اثر دیکھا جگر میں ہے
کر دے بپا حشر زمانے میں وہ محمود
کہ پورے دہر کی طاقت اسکی نظر میں ہے

کسی نے جو پوچھا پیار کے متعلق
سوچتا رہا تیرے اقرار کے متعلق
لکھی ہو جس کے مقدر میں خزاں محمود
وہ دل کیا جانے بہار کے متعلق


تیرا پیار تیرے وہ سہارے یاد آتے ہیں
تیری وہ ادائیں ، وہ نظارے یاد آتے ہیں
تجھے تو شاید نہ یاد ہوں وہ یارانے محمود
مجھے وہ مسکرانا وہ اشارے یاد آتے ہیں

کوئی نہ ہمدرد ، نہ مونس و غمخوار دیکھا
جھوٹی محبت دیکھی جھوٹا پیار دیکھا
ساتھ نبھانے کا دعویٰ تو ہر کسی کا تھا
مگر برسرِ میدان سب کو غدار دیکھا


اک آہ کچھ اندر سے نکلی ہے ایسے
کہ دل میں بجلی سی کڑکی ہو جیسے
آگ تو سرد ہوتی ہے پانی سے محمود
مگر یہ آتشِ دل اب بجھے کیسے

جس کو اک مرشدِ دلدار ملتا ہے
اُسے مصطفےٰ کا پیار ملتا ہے
جسے مل گیا عشقِ نبی محمود
اُسے عشقِ پروردگار ملتا ہے


علم انسان کو تکبر کی ہوا دیتا ہے
گھر کا چراغ کبھی گھر کو جلا دیتا ہے
تم تو واقفِ تماشئہ دیدار نہیں
سنو! نفس انسان کو شیطان بنا دیتا ہے

دل سوچ کر لگانا اس زمانے میں
بکھر نہ جاؤ کہیں انجانے میں
انہیں دیکھیں تو ملے حیاتِ نو
آتا ہے انہیں مزہ ستانے میں


کرم کی برسات ہوتی رہے گی
جب تک اُن کی بات ہوتی رہے گی
بنا لو دل میں اُن کا گھر محمود
پھر ہر وقت ملاقات ہوتی رہے گی

یاد کرتا ہوں جن کو میں وہ یاد آتے نہیں
ناحق ستاتے ہیں وہ خواب میں آتے نہیں
بے تاب منتظر ہوں ازل سے جن کا محمود
بات کرتے ہیں قرب کی وہ قرب میں آتے نہیں


من کی دنیا میں تب بہار ہوتی ہے
روح جب اُن قدموں پہ نثار ہوتی ہے
ادب والوں پہ رشک کرتی ہے جنت
رحمتِ خدا ہر ہر بار ہوتی ہے

خوش رہو ہمیشہ بہار چمن تمہیں نصیب
میرے گلشن میں شاید ابھی بہار نہیں
رہے گا تیرا انتظار تو سدا محمود
تیرے دیدار کے بناں کہیں قرار نہیں


جس نے بھی اُن کی قربت پائی ہے
کل جہاں پھر اُس کا شیدائی ہے
ہوں اُن کو پکارنے والا ہر دم
شکرِ مولا کیا قسمت بنائی ہے

فقیر زندہ ہو تو یہ مزار ڈھونڈتے ہیں
کیسے لو گ ہیں یہ گلوں میں خار ڈھونڈتے ہیں
اپنا اپنا یہ نصیب ہوا کرتا ہے
محمود ہم تو خزاں میں بہار ڈھونڈتے ہیں


تجھ سے لگن میری اس لئے گلہ کرتا ہوں
اوروں سے نہیں ملتا ، تجھ سے ملا کرتا ہوں
مشکل کشا ہر حال میں تو ہی تو ہے اے مولا
اسی لیے ہر وقت میں تجھ کو صدا کرتا ہوں

جو ہمنشینِ فقیر ہیں پاتے ہیں خلعتیں
کرتی ہے رشک ان پہ دنیا پا تے ہیں جنتیں
ذکرِ خدا ، ذکرِ رسول ملتا ہے فقیر سے
اُس کا کرمِ خاص ہے اسی کی سب ہیں رحمتیں


جو اپنے مرشد کو ملا نہیں کرتا
اُس کا کوئی بھی تذکرہ نہیں کرتا
نہ بن سکے جو کسی فقیر کا محمود
کسی سے وہ کبھی وفا نہیں کرتا

ملا کر تجلیات کو یہ رمضان بنا دیا
حصولِ برکات کے لیے پھر انسان بنا دیا
دیکھ سکے کوئی تو دیکھے اس مہینے میں محمود
قلبِ مومن کو رب نے اپنا مکان بنا دیا


نبی کا صدقہ ہے کرم کا نزول ہے
یہ اِس پاک مہینے کا اپنا معمول ہے
اگر ہے دل میں عشق محمد محمود
پھر یہ بات سمجھ لو عبادت قبول ہے

جب اپنے گناہوں کا شمار ہوتا ہے
بے شک یہ دل سینے میں بیمار ہوتا ہے
سوچ کر بار بار یہ سنبھل جاتا ہوں محمود
نہیں فکر جب محمد سے پیار ہوتا ہے


بندئہ بو تراب حق کا ولی ہوتا ہے
وہی قوت کا مظہرِ جلی ہوتا ہے
تاثیر و طاقت کا جو ہے سمندر محمود
بس وہ قلندر تصویرِ علی ہوتا ہے

اندر سے گر ہو تو جتنا بھی رنجیدہ
ظاہر میں بہر طور بناؤ سنگار رکھ
ہوں بے شک خِرد میں تیرے لاکھوں افکار بھی
مگر دل میں اے دوست ہمیشہ بہار رکھ


اک خوشبو سی سانسوں میں بسی ہو جیسے
دل نے چپکے سے کوئی بات کہی ہو جیسے
آتی ہے آواز مسلسل مست ادا کی
من کے اندر ان کی محفل سجی ہو جیسے

میرے مالک میں ایسا اثر چاہتا ہوں
تیرے بنا جو تڑپے جگر چاہتا ہوں
نہیں کوئی آرزو بجز اِس کے محمود
بس اپنے اس دل میں تیرا گھر چاہتا ہوں


کرم کچھ اس طرح رسول کرتے رہے
دعا میری ہر وقت قبول کرتے رہے
میرا ظرف گرچہ ناقابل تھا اُس کے
رحمتوں کا پھر بھی نزول کرتے رہے

دل کے بغیر کوئی تونگر نہیں ہوتا
گر نہ ہو سلطنت سکندر نہیں ہوتا
یوں تو لاکھوں بندے لکھتے رہتے ہیں محمود
لکھنے سے پر کوئی قلندر نہیں ہوتا


الٰہی آقا کا واسطہ ہے تجھے
اور کیا مانگوں میں بس بخش دے مجھے
کرم کر یہ ، انتہائے کرم نہ ہو
آئینہ ء دل میں آقا رہیں بسے

جس کو اپنے مُرشَد کا خیال رہتا ہے
اس کا بے شک ہر دم اچھا حال رہتا ہے
جس کو نہیں ہے تصورِ شیخ محمود
اس کے سر پہ ہمیشہ وبال رہتا ہے


ان کے قرب سے مجھے ایسے رنگ ملے ہیں
کہ زندگی کے مجھیص سارے ڈھنگ ملے ہیں
نہیں رہی خواہش کسی اور کی محمود
ہم ایسے دلربا کے جا سنگ ملے ہیں

ان کو ملیں الفاظ تو لکھتے ہیں
ہم کو آئے آواز تو لکھتے ہیں
لفاظی و تخےّل انہیں درکار
ہم ھُو کا بجے ساز تو لکھتے ہیں


چھوڑ جاسن اِک دن سبَسکھیاں یارو
بند ہوسن جدوں ایہہ اکھیاں یارو
وچ محشر دے کسے نئیں کم اونڑاں
پاک محمد تے آساں رکھیاں یارو

سب توں اُچّا تے پیارے محمد دا ناں ایں
چمکی جِدے نور نال ایہہ ساری تھاں ایں
جیہڑا اُس در توں ردیا گیا محمود
اوہدا فیر کدرے نئیں پوندا نیاں ایں


ہر ہر تھاں تے روشنی سب اُس نور دی اے
اِیہہ میں نئیں ساری خدائی دسدی اے
جے تیری نئیں اپنی نظر کملیا
جا ویکھ لے روضے تے رحمت وسدی اے

کملی والے جیا تینوں پیارا نئیں لبھنا
اُس سوہنڑے ماہی بغیر کنارہ نئیں لبھنا
انہاں نفلاں نمازاں تینوں نئیں کم اونٹراں
وچ محشر دے محمود فیر سہارا نئیں لبھنا


سامڑیں اپنے کر کے مار داپیاں ایںچنڈاں یارا
شک نئیں میں چائیاں گناہ دیاںپنڈاں یارا
لئی پھر دا ہاں وسیلہ میں نبی دی ذات دا
جدے مٹھے بول نے مینوں وانگ کھنڈاں یارا

عشقِ آقا دا ہر ویلے کردا ہاں وپار یارا
جد ملن پروانے ہو جانداں آںخریدار یارا
انہاں دل دے انھیاں نوں کی کی سمجھاواں میں محمود
میں نئیں خرید سکدا خرید دے نے خود سرکار یارا


نبی پاک دے پیارے نوں آباد ویکھ کے
منکر دے دل وچ پیا اُٹھ دا ہے ساڑ اے
ازل توں ہی در بدر پئے سب نے پھردے
بے شک بے ادباں نوں ہر وقت ربّ دی مار اے

میں کملا ہاں میرا غوث پاک بڑا لجپال یارا
اینج نبھائی اس نے کر گیا مالا مال یارا
دولتِ باطن ملی سچے دے کولوں محمود
چمک پیا دل میرا اس دا کمال یارا

اللہ والیاں دے چمکدے مزارن
تے نال سوہنی پئی سجدی مسیت اے
گستاخاں دی کی پچھداں توں اخیر اے
انہاں دی تے ہوندی مٹی پلیت اے

اصل لوگ سچے وفا دار ہوندے
ایہہ سچ زمانے دے اندر یارا
کم اصل لوگ کدی نہ یار بن دے
پیا کہندا ایہہ گل قلندر یارا


لکھیا پڑھیا بھل جا ندا جدو ں ما ہی نظر ملا جاوے
ایہہ کتابا ں نیئں کم اوندیا ں جدوں ماہی سا منے آجا وے
ہر فقیر اللہ سوہنے دے ایہہ ای دسیا سانوں محمود
اوہ د ل نہ برباد ھوندا جتھے ماہی جھلک د کھاجاوے

ہووے حکیم قابل وڈا اتے تاں یارو
کسے بیمار دی بیماری دا پتہ چلدا
جے یاری لائی ہووے گر کسے یار دے نال
ہووے یار اصل تے یاری دا پتہ چلدا


دنیا دے وچ بدعقیدہ توں ودھ کے
میں تے ویکھیا ہور کھٹا بھی کوئی نیئں
عاشقاں دی قبر تے روضے نے بن دے
منافقاں دی قبر تے وٹا بھی کوئی نئیں

اسیں تے بھاویں گندے آں
مگر فیر تیرے بندے آں
اسیں نئیں رکھدے ذاتی رنگ
سجن دے رنگ وچ رنگے آں


ان پڑھاں تے بے گُریاں نوں آپے گُرسکھا دیندے
اپنے آپ لکھن نئیں ہوندا جو سمجھنلکھا دیندے
لکھ ہزار کتاباں ساریاں بے شک پڑھ لے توں محمود
نظر کرن اک پل وچ چودھاں طبق پڑھا دیندے

تہانوں مار رب دی تہاڈے اندر ولی کوئی نئیں
کرم سرکار دا ہے ساڈے اندر تے کمی کوئی نئیں
چائی پھردے نے بسترے در در تے کملے محمود
نظر اوندے نیک یارو دل اندر نمی کوئی نئیں


در در دی گدائی گدائی نئیں ہوندی
ہر جاء متھا ٹیکنا سچائی نئیں ہوندی
بناں فنا سچی ذات دے محمود
سچے رب تک کدیں رسائی نئیں ہوندی

مورکھ نال کدی نہ تو رکھیں صحبت
کوئی گُر والا نہ دسے دلیل سنگیا
پہلی عمر تینوں نئیں سمجھ اونڑی
پچھے چل کے فیر ہوسیں ذلیل سنگیا


گل نال گل ہوندی بے گل نہ گل لا بویں
دل غیر دی جا نئیں کسی نو ں نہ دے جا بویں
گلاں یار دیاں من اندر پاکے محمود
نفس پلید نوں تُو بے شک کر تباہ بویں

اسیں دیوانے اک شمع دے
سانوں طلب نئیں کوئی ہور سنگیا
ساڈے دل وچ دلبر وسیا اے
ساڈی جگ توں وکھری ٹور سنگیا


شیر دی تھاں تے پتر شیر بٹیھدا
جد چھڈے جگہ تے فیر بٹیھدا
اج تک میں نئیں سنڑیا اے محمود
کہ شاہین دے گھر بٹیر بٹیھدا

میرے سچ دی کڑواہٹ کولوں
کئی لوگ نِکمّے گبھرا جاندے
جو پیار کردے قلندر نال
سچ اے حقیقت نوں پا جاندے


اہ راہ نیئں ہر جوگی اس دی طرز عجیب اے
اتھے نئیں تکیا جاندا امیر یا غریب اے
سمجھیں یار نوں سب توں اُتّے توں محمود
اپنے آپ نوں مارئیے تد ہوندا یار نصیب اے

اوہ نظر کرن ہوندے نے ویرانے آباد یا را
جے دل نال یاد کریں نہ ہوویں گا تُو برباد یارا
اوہ دل سدا خوش رہندے جتھے پَیر انہاں دا ہووے
جے اندروں ماری کوک ہووے سن دے نے فریادیارا


رضا سب توں مقدم خدا دی ہے
اس اگے کوئی نہ چلے تدبیر یارو
کوئی بولی بولن تے نئیں جی کردا
مینوں اینج جیا ڈنگیا اے اس تقدیر یارو

چپ رہویں نہ کھولیں زبان اپنی
متاں بول کے کھو دیویں شان اپنی
منصور بولی بول کے تے چپ ہویا
فیر بولی بولی اے جہان اپنی


نئیںرکھدے جیہڑے روزے اوہ رحمت توںدور رہندے
کدی نہ پوری پوے بڑے اوہ مجبور رہندے
جنہاں منیا اے حکم پیارے خدا دا محمود
انھاں دلاں دے اندر نے خود حضور رہندے

اس ماہِ مبارک اندر رحمت ٹھاٹھاں مار دی نے
شیاطین سارے قید ہوئے اگ انہاں نوں ساڑدی نے
مومناں واسطے تے ہے رب دا ایہہ انعام وڈا محمود
ملیا رمضان سانوں اے رحمت ربِ ستّار دی نے


بناوٹی پھلّاں دے اندر سنگیا
اے تجربے دی گل اے رس نیئں ڈِٹھی
پیو دادے والے نبھاندے سنگتاں
کمینے دی سنگت اچ چس نئیں ڈِٹھی

<< پیچھے :: فہرست عنوانات :: آگے >>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.