بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
آذانِ قلندر

رباعیات


جو یار کے سوا اور کو سیلیکٹ کرتے ہیں
وہ پیدا اپنے اندر ڈیفکٹ کرتے ہیں
مرمٹے ہیں جو بھی قدم یار پہ محمود
بے شک یہاں سے وہ بات ڈائریکٹ کرتے ہیں

قلندر کے راستے میں کیا غار دیکھی ہم نے
سخت گرمی میں ٹھنڈک کی بہار دیکھی ہم نے
آتی تھی وہاں ٹھنڈی ہوا ایسے محمود
جیسے جنت کی میٹھی گلزار دیکھی ہم نے


ہر علاقے میں خدا نے کمال رکھا ہے
زمینِ سندھ نے گرمی کو ہی پال رکھا ہے
ہماری فطرت میں تلخی تھی بہت محمود
جب ہی مولا نے ہمارا خیال رکھا ہے

بہر صورت عذاب ہے ہر اک سفر یارو
اسی وجہ سے دین میں نماز قصر یارو
درویش طلبگارِ سفر رہتے ہیں اکثر
کوئی سفر ہے وسیلۂ ظفر یارو


لکھتے جاؤ شاہد لکھائے جارہا ہوں
دبے لفظوں میں غم سنائے جارہا ہوں
سب کچھ دیکھ کر یہ پھر بھی نہیں دیکھتے محمود
ہے ظرف کہ حالِ دل بتائے جارہا ہوں

ہے دوستوں کا دوست غلام ربانی
رہتا ہے زیرِ نگاہِ جیلانی
خدا اس کو رکھے یوں خوش محمود
یہ کرتا ہے دل سے نگہبانی


ہماری تہذیب لے گئے انگریز یارو
ہم اُنکی وراثت سے ہیں لبریز یارو
چھوڑ کر طرز حیاتِ مسلماں کو ہم
گوروں کی نقل میں ہوئے ہیں تیز یارو

جو بھی بیسٹ فرینڈ کرتے ہیں
وہ زندگی کا اینڈ کرتے ہیں
خود سے نہیں وہ بولتے کچھ
یار انہیں لفظ سینڈ کرتے ہیں


جسیے قلندر کا کارڈ ملتا ہے
اُسے زندگی کا ایوارڈ ملتا ہے
بندوں کی چاہت نہیں رہتی محمود
اُسے تو چاہت میں گاڈ ملتا ہے

اپنے پرستاروں کو اس انداز سے وہ
انوکھا زمانے سے یوں گفٹ کرتے ہیں
دور کرتے ہیں بلاؤں کو سر سے محمود
زحمت کے بدلے رحمت وہ شفٹ کرتے ہیں


سادہ دل عوام تو ریلیف چاہتے ہیں
درد مند حکمران دینا گریف چاہتے ہیں
پبلک تو ترستی ہے دال سبزی کو
باشعور لیڈر مٹن بیف چاہتے ہیں

<< پیچھے :: فہرست عنوانات :: آگے >>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.