٭
باتوں میں
سے کوئی بات
،’’بات ‘‘بنادیتی
ہے ۔
٭ ایک حسین
رات زندگی
کی سب راتوں
پہ غالب آجاتی
ہے ۔
٭ دعا اور دوا
،بغیر اِذنِ
ربی کچھ نہیں
۔
٭ عقل کے لیئے
علم
لازمی نہیں
، علم کے لیئے
عقل لازمی
ہے ۔
٭ تصوف کو سمجھنے
کے لیئے علم
اور عقل لازمی
ہے ۔
٭ بڑی خوش بختی
، اہلِ دل ہونا
ہے ۔
٭ اہلِ دل کو
علم اور عقل
خودبخود نصیب
ہو جاتا ہے
۔
٭ اللہ کا عاشق
کوئی درجہ
قبول نہیں
کرتا ۔
٭ فقیر کو جوملے
۔قبول کرتا
ہے ۔
٭ اچھا یا برا
، فقیر کے لئے
ایک ہے ۔
٭ جو اللہ کی
رضاپالے ،
لوگ اسکی رضا
کے تابع ہو
جاتے ہیں ۔
٭ جسے خدا اپنا
بنالے ، تمام
مخلوق اسے
رہنما مانتی
ہے ۔
٭ عزت کا مقام
دِل میں ہے
اور ہر اہلِ
دل کی عزت ہوا
کرتی ہے ۔
٭ لوگ عزت کے
لئے سب کچھ
کرتے ہیں ،
مگر اللہ اللہ
نہیں کرتے
۔
٭ جب انسان
۔ ’’اللہ اللہ
‘‘ کرتا ہے
تو اللہ، ’’میرے
بندے ، میرے
بندے ‘‘کرتا
ہے ۔ اس وقت
دونوں ایک
دوسرے کے ذاکر
ہوتے ہیں ۔
٭ جب عاشق ،
محبوب کو یاد
کر رہا ہو اور
محبوب عاشق
کو تو وہ لمحات
پیار کے سرتاج
ہوتے ہیں ۔
٭ یاد میں وصال
ہے ، غفلت میں
فِراق ۔
٭ فِراق اور
وصال ، قربِ
محبوب کا نام
ہے ۔
٭ انسان ہمیشہ
دوچیزوں کی
بنا پہ پیار
کرتا ہے ۔
(1) حُسن (2) عادات
٭ قلندر جب
لکھتا ہے تو
رحمت کے پھولوں
کو لفظوں میں
بکھیر دیتا
ہے ۔
٭ قلندر کی
ایک نشانی
یہ بھی ہے کہ
وہ حلقۂ عشاّق
رکھتا ہے ۔
٭ نیک خوشخص
گلدستہ کی
مانند ہے . بد
خوشخص گندگی
کا ڈھیر ہے
۔
٭ قلندر سے
بہت لوگ پیار
کرتے ہیں . اُن
سب کا پیار
کم ہے قلندر
کے پیار سے
۔
٭ یہ سچ ہے کہ
مجھے یاد نہیں
رھتی ، مگر
یار کے سِوا
۔
٭ سوائے یار
، دنیا بیکار
٭ دل اگر زرخیز
زمین کی مانند
ہو اور اُ س
میں پھول اُگیں
تو دُنیا میں
تباہ کاریاں
ختم ہو جائیں
۔
٭ محبوب دو
دلوں سے کھیلتا
ہے ۔ ایک عاشق
کے اور ایک
اِسکا اپنا
دِل ۔
٭ تین چیزیں
ایک جان ہوتی
ہیں ۔
(1) عاشق (2)محبوب
(3)دِل
٭ انسان کے
چلنے سے دو
چیزیں ظاہر
ہوتی ہیں ۔
ایک طرف سے
اُسکا فاصلہ
منزل سے کم
ہوتا جاتاہے
. ایک طرف سے
زیادہ ۔
٭ منزل پر پہنچ
کر راستے کی
تکالیف بُھول
جاتی ہیں ۔
٭ کئی لوگ منزل
کی جستجو کرتے
ہیں ۔ کئی لوگوں
کے لئے منزل
جستجو کرتی
ہے۔
٭ منزل اُمید
میں ہے اُور
اُمید دِل
میں اُور دِل
دلدار کے پاس
۔
٭ بدبخت ہے
وہ شخص جو اللہ
کی دوستی کا
اِرادہ کرے
اُور دوستوں
میں گم ہو جائے
۔
٭ میرا محبوب
چاند کی مانند
نہیں ۔ وہ تو
چاند ہے ۔
٭ تین چیزیں
اِنسان کے
ذہن پر غالب
آجاتی ہیں
۔
(1) دولت (2) عورت
(3) ہیبت
٭ حُسن جادُو
ہے ۔ حُسن والے
جادُوگر ہیں
۔
٭ درخت پتوں
کے بغیر سایہ
نہیں دیتا
، عبادت محبت
کے بغیر حشر
میں سایہ نہ
دے گی ۔
٭ زبان کی کوئی
کوئی آواز
تاثیر رکھتی
ہے ، دِل کی
ہربات تاثیر
رکھتی ہے ۔
٭ عشق شحصیت
اور ذات کا
قائل نہیں
۔
٭ حُسن بے مثال
بھی ہوتا ہے
، لاجواب بھی
ہوتا ہے مگر
اِنتہائے حُسن
کا اللہ ہی
سزاوار ہے
۔
٭ جسے اچھی
سوچ ملتی ہے
، اُسے ولی
بنا دیا جاتا
ہے ۔
٭ تعمیری سوچ
والا ہیرے
کی مانند ہے
، تخریبی سوچ
والا گندے
انڈے کی مانند
ہے ۔
٭ نظر پیار
کی کسوٹی ہے
۔
٭ کوئی کوئی
نظر دِل چیر
دیتی ہے ۔
٭ کسی کی نظر
لگ جائے تو
بندہ تباہ
ہو جاتا ہے
۔ اور کسی کی
نظر لگنے سے
بندہ صاحبِ
نظر ہو جاتا
ہے ۔
٭ محبوب کو
نظر میں رکھو
کہ جدہر دیکھو
یار ہی یار
ہو ۔
٭ دُعا سے تقدیر
بدلتی ہے ،
نظر سے اِنسان
بدلتا ہے ۔
٭ جس بندے کی
نظر دُور تک
دیکھتی ہے
، وہ کبھی پریشان
نہیں ہوتا
۔
٭ نظر سے نظر
ملے تو دِل
کی نظر کھل
جاتی ہے ۔
٭ نظر کو صاف
رکھو ، دِل
صاف رہے گا
۔
٭ اگر دِل کی
نظر ہو تو ساری
دنیا ، حُسن
یار نظر آتی
ہے ۔
٭ سارے عقل
مانند اکٹھے
ہو کر بھی باطن
کی گرہ نہیں
کھول سکے ۔
٭ جنون کی ایک
ضرب کام کر
جاتی ہے ۔
٭ جب عقل انتہا
کو پہنچتی
ہے، تو اِنسان
پاگل ہوجاتا
ہے ۔
٭ کِسی کے لئے
پاگل ہونے
سے بہتر ہے
کہ اس کا مستانہ
بن جائے ۔
٭ مستی محبوب
کے دِل سے نکل
کر عاشِق کے
دِل کو پکڑ
لیتی ہے ۔
٭ مستوار کی
ہستی ، مستی
میں ہے اور
نیستی ہوش
میں ۔
٭ تمام نشوں
کا سردار نشۂ
عشق ہے ۔
٭ تمام علموں
کا سردار علمِ
عشق ہے ۔
٭ تمام کلاموں
کا سردار کلام
عشق ہے جو صورت
قرآنی موجود
ہے ۔
٭ تمام ملاقاتوں
کا سردار ملاقاتِ
عشق ہے جو عرش
پہ ہوئی ۔
٭ تمام حُسنوں
کا سردار حُسنِ
اللہ ہے جو
عرش پہ محبوب
صلی اللہ علیہ
وسلم کو دکھایا
گیا ۔
٭ تمام دِنوں
کا سردار جمعہ
ہے ، تمام زخموں
کا سردار دِل
کا زخم ہے ۔
٭ عاشِق کو
لیلیٰ مجنوں
،ہیررانجھا
، سوھنی مہینوال
، شیریں فرھاد
، یوسف زلیخٰا
، اِن تمام
عشاق کی طرف
سے فیض مِلتا
ہے اور اس فیض
کا پیغام یہ
ہوتا ہے کہ’’
یار ‘‘ میں
ختم ہو جائے
۔
٭ کسی دانشمند
کی بات مان
لو ، اِس سے
پہلے کہ خود
تجربہ کر کے
مانو ۔
٭ منافق کی
بات میٹھی
اور نتیجہ
کڑوا ہوتا
ہے ۔
٭ فقیر بات
علم سے نہیں
، عطاء سے کرتا
ہے ۔
٭ وفا کا معنی
تلاش کیاتولفظ
فقیر نکلا
۔
٭ نفسانی مُلا
سب سے بڑا شیطان
ہے ۔
٭ گفتگو میں
سے کوئی کوئی
گفتگو ضرب
المثل بن جاتی
ہے ۔
٭ مُرشد سے
حاصل کرنا
چاہتے ہو تو
اُس کا خول
پہن لو ۔
٭ تصورِ شیخ
طریقت کی روح
ہے ۔
٭ اِنسان ذائقہ
تین طرح سے
محسوس کرتا
ہے ۔ زبان سے
چکھ کر ، کان
سے سُن کر ،
آنکھ سے دیکھ
کر ۔
٭ فقیر کی منطق
، منطقوں کی
ماں ہے ۔
٭ اصولوں پر
چلنے والا
اصول وضع کرتا
ہے ۔
٭ محبت میں
راحت بھی ہے
، فنا بھی ۔
٭ کپڑے اِنسان
کے جسم کو ڈھانپتے
ہیں اور گفتگو
اُسکی شخصیت
کو ۔
٭ فتح شکستگی
میں ہے اور
شکست غرور
میں ۔
٭ جب دِل منور
ہوتا ہے تو
اُسکی کرنیں
دماغ پر پڑتی
ہیں ۔
٭ آنکھیں کیفیات
ظاہر کرتی
ہے ۔
٭ قیمت مال
کے اعتبار
سے ہوتی ہے
اور عزت عقل
کے اعتبار
سے۔
٭ ہر ایماندار
کو حُسن مِل
جاتا ہے لیکن
ہر حُسن والے
کو ایمان نہیں
ملتا ۔
٭ چمگاڈر کو
روشنی میں
نہیں اندھیرے
میں نظر آتا
ہے مگر وہ فقیر
نہیں ہے ۔
٭ صحبتِآتش
سے تو چیز گرم
ہو جائے مگرصحبتِدرویش
سے اثر نہ ہو
، یہ ممکن نہیں
ہے ۔
٭ کامل ہونے
کے بعد ہی تمام
مقامات ہوتے
ہیں ۔
٭ جس طرح سُرمہ
آنکھ کو زینت
دیتا ہے ، اسی
طرح فقیر کی
بات دِل کو
زینت دیتی
ہے ۔
٭ ذِکر سے روح
اِسطرح خوش
ہوتا ہے جیسے
کسی محبوب
کے مسکرانے
سے اُس کا چہرہ
اور زیادہ
خوشنما ہو
جاتا ہے کیونکہ
رُوح کا مُحبوب
ذِکرہے ۔
٭ موسم بھی
اگر پیار والا
ہو ، عاشقانہ
موسم ہو ، لیکن
دِل میں پیار
نہ ہو تو وہ
موسم عاشقانہ
نہیں لگتا
۔
٭ ایک چیز کو
پکڑے سے تمام
چیزیں حاصل
ہوتی ہیں جیسا
کہ زندگی ایک
چیز ہے ، اس
سے بے شمار
چیزیں حاصل
ہوتی ہیں ۔
٭ لوہا آگ میں
جائے اور آگ
جیسا ہو جائے
، اور ایک عالم
دین ، دین میں
جائے مگر دین
جیسا نہ ہو
سکے ، یہ ایک
حیران کُن
بات ہے ۔
٭ جسمانی بیماری
کا علاج طبیب
کے پاس اور
رُوحانی بیماری
کا علاج طبیب
القوب کے پاس
ہے ۔
٭ اولیاء کی
کتب کا مطالعہ
باطنی گرہ
کھولتا ہے
۔
٭ شیخ کی زیارت
ایمان کی خوراک
ہے ۔
٭ نفس کو مارنا
اور دِل پہ
محنت کرنا
، انسان کو
ولایت کے مقام
پر پہنچا دیتا
ہے۔
٭ انسان پر
زندگی میں
کئی رنگ چڑھتے
ہیں ۔
٭ عام طور پر
رنگ انسان
کو کھینچتا
ہے مگر کوئی
انسان رنگ
کو کھینچ کر
اپنے اوپر
چڑھالیتا ہے
۔
٭ رنگ اللہ
کا نور ہے اور
نور اللہ کا
رنگ ہے ۔
٭ قرآن بیچنے
والے بڑے ہیں
، پڑھنے والے
کوئی کوئی
!
٭ عشق باطن
کی زینت کا
نام ہے ۔
٭ فقیر تن نہیں
’من‘ دیکھتا
ہے۔
٭ رسوائی کڑوی
اور لذت دار
ہوتی ہے ۔
٭ کرامت فقیر
کی خواہش نہیں
، اللہ کی رضا
ہوتی ہے ۔
٭ جو اللہ کی
رضا کے لیے
جیتا ہے ، وہ
مرکے بھی جیتا
ہے ۔
٭ اللہ کے ولی
اللہ کی سدا
بہار نشانیاں
ہیں ۔
٭ نام اور شان
کھو کر ہی نام
زندہ ہوتا
ہے اور شان
دوبالا ہوتی
ہے ۔
٭ عاشق فنا
پاتا ہے ، بقا
چاھتا ہے ۔
٭ اعلیٰ ظرف
، عجز سے اعلیٰ
ہو جاتا ہے
اور کم ظرف
اکڑ سے سُکڑ
جاتا ہے ۔
٭ طالب مانند
پتنگ ہوتا
ہے جسکی ڈور
شیخ کے ہاتھ
میں ہوتی ہے
۔
٭ اندر کے چور
کو پکڑ لو ،
اللہ کی مُراد
بن جاؤ گے۔
٭ پیار، اندازِگفتگو
کو بدل دیتا
ہے۔
٭ محبت ایک
سے ہوتی ہے
مگر وہ ’ایک‘
’’ہر‘‘ ’’ہر‘‘
میں ہوتا ہے۔
٭ حُسن و جمال
کی کشش ہی یار
کی دلیل ہے۔
٭ بناوٹ سے
سجاوٹ نہیں
ہوتی۔
٭ بناوٹی پھول
حَسین تو ہوتا
ہے مگر خوشبودار
نہیں ہوتا۔
٭ فقیر اپنی
دنیا، اپنی
قوتِ باطن
سے سجاتا ہے۔
٭ اپنے پاس
گُن ہوتو اسلاف
کا فیض بھی
اثر کرتا ہے۔
٭ پیار تکبر
کو کھا جاتاہے۔
٭ مقصد کو بھول
کر دنیا و آخرت
دونوں جاتے
ہیں۔
٭ اصل اور کم
اصل کی پہچان
وفا ہے۔
٭ حلالی شخص
احسان یاد
رکھتاہے۔
٭ یار کی ادامیں
نشہ بند ہوتا
ہے۔
٭ یار کی ادا
عاشق کے لئے
تلوار ہے۔
٭ یار کی کوئی
ادا،زندگی
کی قضا ہوتی
ہے۔
٭ حُسن کے جوبن
کا نام ’ادا‘
ہے۔
٭ بعض ادائیں
قاتل اور بعض
جان بخش ہوتی
ہیں۔
٭ جاہلوں میں
دانا پریشان
ہوتا ہے۔
٭ ہیرے کی قیمت
جوہری کے پاس
اور بندے کی
قیمت فقیر
کے پاس!
٭ کوئی کوئی
طالب مطلوب
بھی بن جاتا
ہے۔
٭ اخلاق انسان
کا زیور ہے۔
٭ بغیر اخلاق
کے ،انسان
حیوان سے بدتر
ہے۔
٭ اعلیٰ اخلاق
کانام شریعت
ہے۔
٭ ہر اچھائی
اسلام ہے۔
٭ اسلام کو
ظاہری لباس
سے نہیں ، اندرکی
حالت سے غرض
ہے۔
٭ عاشق نشے
کا محتاج نہیں۔
٭ فقیر کے پاس
نام بدلا جاتاہے،پھر
کھال بدلی
جاتی ہے ،پھر
اندر بدلا
جاتاہے۔
٭ رمضان میں
لوگ روزے تورکھتے
ہیں مگر یار
نہیں رکھتے۔
٭ بدبخت کو
ہزار بار سمجھایا
مگر جاہل پایا
۔
٭ فقیر کے پاس
رہنے والے
کثرتِ شفقت
کے باعث بے
ادب رہ جاتے
ہیں ۔
٭ انسان سونا
تب بناتا ہے
، جب مٹی ہو
جائے ۔
٭ لفظ کاغذ
پہ کم ، دِل
میں زیادہ
جگہ گھیرتے
ہیں ۔
٭ دانش مندی
علم سے ہی نہیں
، حالات سے
بھی آتی ہے
۔
٭ دِل کی بات
اہل عقل سے
کرنا کم عقلی
کی دلیل ہے
۔
٭ پیار کا لطف
درد میں چھپا
ہوتا ہے ۔
٭ قوتِ سماعت
، قوتِ قلبی
پہ اثر انداز
ہوتی ہے ۔
٭ اللہ کی نظر
انسان کے دِل
پہ ہے اور انسان
کی اپنے نفس
پہ ہے ۔
٭ اہل دُنیا
من سے نہیں
مراد سے غرض
رکھتے ہیں
۔
٭ ہر چیز کا
برعکس دلچسپ
نہیں ہوتا
۔
٭ کشش کئی طرف
سے ہوتی ہے
پیار ایک طرف
سے ہوتا ہے
۔
٭ تخیّل اشعار
کی زینت ہے
اور تصور پیار
کی زینت ہے
۔
٭ پیار انسان
کے بھیس کو
بدل دیتا ہے
۔
٭ عشق حرارت
بھی دیتا ہے
، جسارت بھی
۔
٭ عشق آتش ہے
مگر انسان
کو قائم النار
بنا دیتا ہے
۔
٭ عشق ، مُشک
اور حُسن چھپ
کے نہیں رہتے
۔
٭ جس کی گفتار
میں اثر نہ
ہو اسکا کردار
صحیح نہیں
۔
٭ مُلاں سٹیج
پہ صحیح اور
نیچے اُتر
کر خراب نظر
آتا ہے ۔
٭ عاشق کی خوراک
مطلوب کو یاد
کرنے میں ہے
۔
٭ عشرت کی زندگی
بسر کرنے والوں
کو عُسرت کا
سامنا کرنا
پڑتا ہے ۔
٭ جادُو برباد
کرتا ہے مگر
شکستہ دِل
کی آہ جلا کے
رکھ دیتی ہے
۔
٭ آرزو کا ٹوٹنا
منزل میں ناکامی
کی دلیل ہے
۔
٭ عاشق صادق
، اُمید وصال
رکھتا ہے ،
اور کبھی شکست
آرزو نہیں
ہوتا ۔
٭ آرزو شیوئہ
انسان ہے ،
نا اُمید تو
بس شیطان ہے
۔
٭ کسی کے لئے
تڑپنا ، آرزو
کو پانے کی
دلیل ہے ۔
٭ پیار والے
کا دِل آنکھوں
کی زبان میں
بات کرتا ہے۔
٭ مجھے سلسلہ
سے نہیں ، صلہ
سے غرض ہے اور
وہ میں اللہ
سے چاہتا ہوں
۔
٭ مجھے بندوں
سے کوئی سروکار
نہیں سوائے
ایک کے کہ وہ
اپنے دِل کو
تلاش کر لیں
۔
٭ جو رحمت کی
قدر نہ کرے
، وہ زخمتوں
کو شمار کرتا
ہے ۔
٭ کسی سے میل
جول مت رکھو
، جب تک اس کے
خیر خواہ نہیں
بنتے ۔
٭ ملنے سے غم
غلط ہوتے ہیں
اور درد صحیح
ہوتے ہیں ۔
٭ اُن کا دیکھنا
قیامت ہے مگر
رحمت سے بھرپور
!
٭ آنکھ کا رونا
بہتر ہے مگر
دِل کا رونا
حجابات اُٹھا
دیتا ہے ۔
٭ کسی کی اصلیت
اسکی تقریر
سے نہیں ، تدبیر
سے پہچانی
جاتی ہے ۔
٭ جو دِلوں
کو نچاکے رکھ
دے ، وہ قلند
رہوتا ہے ۔
٭ دن اور دِل
کا راقب قلندر
ہے ۔
٭ قلندر کی
نظر مستی دیتی
ہے اور قلندر
کا اثر ہوش
دیتا ہے ۔
٭ اُن کے حضور
حاظر ہونے
کا سوچتا رہا
، ایک دِن وہ
حاظر ہوئے
، میں غیر حاظر
تھا ۔
٭ میرے لفظوں
کی حقیقت ،
حقیقت والوں
کا مقدر بن
چکی ہے ۔
٭ اِس قافلۂ
عشق سے دُور
رہ کر پچھتا
وہ ہی نہیں
، تباہی مقدر
بنتی ہے ۔
٭ مستوار سے
دُوری ، شیطان
کا قرب ہے ۔
٭ مستوار غلط
بات نہیں کرتا
، کیونکہ وہ
پوچھ کے کرتا
ہے ۔
٭ میری بات
کو اہل عقل
کم ، اہل مستی
زیادہ سمجھیں
گے ۔
٭ مستوار کو
مستی شرابِ
اَلست سے ملی
ہے ۔
٭ پیار والوں
کو مستوار
مستی دیتا
ہے ، اِنکار
والوں کو لنگر
!
٭ یار کے پاس
بولنا منع
ہے ، دیکھنامنع
ہے ۔
٭ دعا رزق حلال
مانگتی ، آذان
عشقِ بلال
رضی اللہ عنہ
مانگتی ہے
۔
٭ کاش مُلاں
چاہت کی چائے
عشق کی آگ پہ
پکا کر محبت
کے کٹورے میں
ڈال کر کبھی
پی لیتا۔
٭ کئی لوگ حضوری
میں جاتے ہیں
، کئی لوگوں
کے دِلوں حضور
رسول کریم
صلی اللہ علیہ
وسلم ہوتے
ہیں۔
٭ فقیر کے ساتھ
غداری دِل
کو اندھا کر
دیتی ہے ۔
٭ فقیر دِل
کے اندھیروں
میں چراغ جلا
دیتا ہے۔
٭ تسکین پیار
میں ہے اور
پیار کا مجموعہ
قلندر ہے ۔
٭ شیخ کی عطا
، طالب کا ظرف
دیکھتی ہے
۔
٭ میں حضوری
سے بہتر حضو
ر صلی اللہ
علیہ وسلم
کو سمجھتا
ہوں ۔
٭ قلندر ہر
سوال کا جواب
محبت کی کتاب
سے دیتا ہے
۔
٭ انسان کو
کچھ لوگ یاد
رہتے ہیں اور
کچھ لوگوں
کو یاد کرنا
پڑتا ہے ۔
نوٹ
: حضور مستوار
قلندر کے متعلق
آپ تفصیل سے
کتاب "مہرِ
منور شاہِ
قلندر"میں
پڑھ سکتے ہیں۔