بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
اقوالِ قلندر

٭ باتوں میں سے کوئی بات ،’’بات ‘‘بنادیتی ہے ۔
٭ ایک حسین رات زندگی کی سب راتوں پہ غالب آجاتی ہے ۔
٭ دعا اور دوا ،بغیر اِذنِ ربی کچھ نہیں ۔
٭ عقل کے لیئے
علم لازمی نہیں ، علم کے لیئے عقل لازمی ہے ۔
٭ تصوف کو سمجھنے کے لیئے علم اور عقل لازمی ہے ۔
٭ بڑی خوش بختی ، اہلِ دل ہونا ہے ۔
٭ اہلِ دل کو علم اور عقل خودبخود نصیب ہو جاتا ہے ۔
٭ اللہ کا عاشق کوئی درجہ قبول نہیں کرتا ۔
٭ فقیر کو جوملے ۔قبول کرتا ہے ۔
٭ اچھا یا برا ، فقیر کے لئے ایک ہے ۔
٭ جو اللہ کی رضاپالے ، لوگ اسکی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں ۔
٭ جسے خدا اپنا بنالے ، تمام مخلوق اسے رہنما مانتی ہے ۔
٭ عزت کا مقام دِل میں ہے اور ہر اہلِ دل کی عزت ہوا کرتی ہے ۔
٭ لوگ عزت کے لئے سب کچھ کرتے ہیں ، مگر اللہ اللہ نہیں کرتے ۔
٭ جب انسان ۔ ’’اللہ اللہ ‘‘ کرتا ہے تو اللہ، ’’میرے بندے ، میرے بندے ‘‘کرتا ہے ۔ اس وقت دونوں ایک دوسرے کے ذاکر ہوتے ہیں ۔
٭ جب عاشق ، محبوب کو یاد کر رہا ہو اور محبوب عاشق کو تو وہ لمحات پیار کے سرتاج ہوتے ہیں ۔
٭ یاد میں وصال ہے ، غفلت میں فِراق ۔
٭ فِراق اور وصال ، قربِ محبوب کا نام ہے ۔
٭ انسان ہمیشہ دوچیزوں کی بنا پہ پیار کرتا ہے ۔
(1) حُسن (2) عادات
٭ قلندر جب لکھتا ہے تو رحمت کے پھولوں کو لفظوں میں بکھیر دیتا ہے ۔
٭ قلندر کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ حلقۂ عشاّق رکھتا ہے ۔
٭ نیک خوشخص گلدستہ کی مانند ہے . بد خوشخص گندگی کا ڈھیر ہے ۔
٭ قلندر سے بہت لوگ پیار کرتے ہیں . اُن سب کا پیار کم ہے قلندر کے پیار سے ۔
٭ یہ سچ ہے کہ مجھے یاد نہیں رھتی ، مگر یار کے سِوا ۔
٭ سوائے یار ، دنیا بیکار
٭ دل اگر زرخیز زمین کی مانند ہو اور اُ س میں پھول اُگیں تو دُنیا میں تباہ کاریاں ختم ہو جائیں ۔
٭ محبوب دو دلوں سے کھیلتا ہے ۔ ایک عاشق کے اور ایک اِسکا اپنا دِل ۔
٭ تین چیزیں ایک جان ہوتی ہیں ۔
(1) عاشق (2)محبوب (3)دِل
٭ انسان کے چلنے سے دو چیزیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ ایک طرف سے اُسکا فاصلہ منزل سے کم ہوتا جاتاہے . ایک طرف سے زیادہ ۔
٭ منزل پر پہنچ کر راستے کی تکالیف بُھول جاتی ہیں ۔
٭ کئی لوگ منزل کی جستجو کرتے ہیں ۔ کئی لوگوں کے لئے منزل جستجو کرتی ہے۔
٭ منزل اُمید میں ہے اُور اُمید دِل میں اُور دِل دلدار کے پاس ۔
٭ بدبخت ہے وہ شخص جو اللہ کی دوستی کا اِرادہ کرے اُور دوستوں میں گم ہو جائے ۔
٭ میرا محبوب چاند کی مانند نہیں ۔ وہ تو چاند ہے ۔
٭ تین چیزیں اِنسان کے ذہن پر غالب آجاتی ہیں ۔
(1) دولت (2) عورت (3) ہیبت
٭ حُسن جادُو ہے ۔ حُسن والے جادُوگر ہیں ۔
٭ درخت پتوں کے بغیر سایہ نہیں دیتا ، عبادت محبت کے بغیر حشر میں سایہ نہ دے گی ۔
٭ زبان کی کوئی کوئی آواز تاثیر رکھتی ہے ، دِل کی ہربات تاثیر رکھتی ہے ۔
٭ عشق شحصیت اور ذات کا قائل نہیں ۔
٭ حُسن بے مثال بھی ہوتا ہے ، لاجواب بھی ہوتا ہے مگر اِنتہائے حُسن کا اللہ ہی سزاوار ہے ۔
٭ جسے اچھی سوچ ملتی ہے ، اُسے ولی بنا دیا جاتا ہے ۔
٭ تعمیری سوچ والا ہیرے کی مانند ہے ، تخریبی سوچ والا گندے انڈے کی مانند ہے ۔
٭ نظر پیار کی کسوٹی ہے ۔
٭ کوئی کوئی نظر دِل چیر دیتی ہے ۔
٭ کسی کی نظر لگ جائے تو بندہ تباہ ہو جاتا ہے ۔ اور کسی کی نظر لگنے سے بندہ صاحبِ نظر ہو جاتا ہے ۔
٭ محبوب کو نظر میں رکھو کہ جدہر دیکھو یار ہی یار ہو ۔
٭ دُعا سے تقدیر بدلتی ہے ، نظر سے اِنسان بدلتا ہے ۔
٭ جس بندے کی نظر دُور تک دیکھتی ہے ، وہ کبھی پریشان نہیں ہوتا ۔
٭ نظر سے نظر ملے تو دِل کی نظر کھل جاتی ہے ۔
٭ نظر کو صاف رکھو ، دِل صاف رہے گا ۔
٭ اگر دِل کی نظر ہو تو ساری دنیا ، حُسن یار نظر آتی ہے ۔
٭ سارے عقل مانند اکٹھے ہو کر بھی باطن کی گرہ نہیں کھول سکے ۔
٭ جنون کی ایک ضرب کام کر جاتی ہے ۔
٭ جب عقل انتہا کو پہنچتی ہے، تو اِنسان پاگل ہوجاتا ہے ۔
٭ کِسی کے لئے پاگل ہونے سے بہتر ہے کہ اس کا مستانہ بن جائے ۔
٭ مستی محبوب کے دِل سے نکل کر عاشِق کے دِل کو پکڑ لیتی ہے ۔
٭ مستوار کی ہستی ، مستی میں ہے اور نیستی ہوش میں ۔
٭ تمام نشوں کا سردار نشۂ عشق ہے ۔
٭ تمام علموں کا سردار علمِ عشق ہے ۔
٭ تمام کلاموں کا سردار کلام عشق ہے جو صورت قرآنی موجود ہے ۔
٭ تمام ملاقاتوں کا سردار ملاقاتِ عشق ہے جو عرش پہ ہوئی ۔
٭ تمام حُسنوں کا سردار حُسنِ اللہ ہے جو عرش پہ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا ۔
٭ تمام دِنوں کا سردار جمعہ ہے ، تمام زخموں کا سردار دِل کا زخم ہے ۔
٭ عاشِق کو لیلیٰ مجنوں ،ہیررانجھا ، سوھنی مہینوال ، شیریں فرھاد ، یوسف زلیخٰا ، اِن تمام عشاق کی طرف سے فیض مِلتا ہے اور اس فیض کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ’’ یار ‘‘ میں ختم ہو جائے ۔
٭ کسی دانشمند کی بات مان لو ، اِس سے پہلے کہ خود تجربہ کر کے مانو ۔
٭ منافق کی بات میٹھی اور نتیجہ کڑوا ہوتا ہے ۔
٭ فقیر بات علم سے نہیں ، عطاء سے کرتا ہے ۔
٭ وفا کا معنی تلاش کیاتولفظ فقیر نکلا ۔
٭ نفسانی مُلا سب سے بڑا شیطان ہے ۔
٭ گفتگو میں سے کوئی کوئی گفتگو ضرب المثل بن جاتی ہے ۔
٭ مُرشد سے حاصل کرنا چاہتے ہو تو اُس کا خول پہن لو ۔
٭ تصورِ شیخ طریقت کی روح ہے ۔
٭ اِنسان ذائقہ تین طرح سے محسوس کرتا ہے ۔ زبان سے چکھ کر ، کان سے سُن کر ، آنکھ سے دیکھ کر ۔
٭ فقیر کی منطق ، منطقوں کی ماں ہے ۔
٭ اصولوں پر چلنے والا اصول وضع کرتا ہے ۔
٭ محبت میں راحت بھی ہے ، فنا بھی ۔
٭ کپڑے اِنسان کے جسم کو ڈھانپتے ہیں اور گفتگو اُسکی شخصیت کو ۔
٭ فتح شکستگی میں ہے اور شکست غرور میں ۔
٭ جب دِل منور ہوتا ہے تو اُسکی کرنیں دماغ پر پڑتی ہیں ۔
٭ آنکھیں کیفیات ظاہر کرتی ہے ۔
٭ قیمت مال کے اعتبار سے ہوتی ہے اور عزت عقل کے اعتبار سے۔
٭ ہر ایماندار کو حُسن مِل جاتا ہے لیکن ہر حُسن والے کو ایمان نہیں ملتا ۔
٭ چمگاڈر کو روشنی میں نہیں اندھیرے میں نظر آتا ہے مگر وہ فقیر نہیں ہے ۔
٭ صحبتِآتش سے تو چیز گرم ہو جائے مگرصحبتِدرویش سے اثر نہ ہو ، یہ ممکن نہیں ہے ۔
٭ کامل ہونے کے بعد ہی تمام مقامات ہوتے ہیں ۔
٭ جس طرح سُرمہ آنکھ کو زینت دیتا ہے ، اسی طرح فقیر کی بات دِل کو زینت دیتی ہے ۔
٭ ذِکر سے روح اِسطرح خوش ہوتا ہے جیسے کسی محبوب کے مسکرانے سے اُس کا چہرہ اور زیادہ خوشنما ہو جاتا ہے کیونکہ رُوح کا مُحبوب ذِکرہے ۔
٭ موسم بھی اگر پیار والا ہو ، عاشقانہ موسم ہو ، لیکن دِل میں پیار نہ ہو تو وہ موسم عاشقانہ نہیں لگتا ۔
٭ ایک چیز کو پکڑے سے تمام چیزیں حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ زندگی ایک چیز ہے ، اس سے بے شمار چیزیں حاصل ہوتی ہیں ۔
٭ لوہا آگ میں جائے اور آگ جیسا ہو جائے ، اور ایک عالم دین ، دین میں جائے مگر دین جیسا نہ ہو سکے ، یہ ایک حیران کُن بات ہے ۔
٭ جسمانی بیماری کا علاج طبیب کے پاس اور رُوحانی بیماری کا علاج طبیب القوب کے پاس ہے ۔
٭ اولیاء کی کتب کا مطالعہ باطنی گرہ کھولتا ہے ۔
٭ شیخ کی زیارت ایمان کی خوراک ہے ۔
٭ نفس کو مارنا اور دِل پہ محنت کرنا ، انسان کو ولایت کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔
٭ انسان پر زندگی میں کئی رنگ چڑھتے ہیں ۔
٭ عام طور پر رنگ انسان کو کھینچتا ہے مگر کوئی انسان رنگ کو کھینچ کر اپنے اوپر چڑھالیتا ہے ۔
٭ رنگ اللہ کا نور ہے اور نور اللہ کا رنگ ہے ۔
٭ قرآن بیچنے والے بڑے ہیں ، پڑھنے والے کوئی کوئی !
٭ عشق باطن کی زینت کا نام ہے ۔
٭ فقیر تن نہیں ’من‘ دیکھتا ہے۔
٭ رسوائی کڑوی اور لذت دار ہوتی ہے ۔
٭ کرامت فقیر کی خواہش نہیں ، اللہ کی رضا ہوتی ہے ۔
٭ جو اللہ کی رضا کے لیے جیتا ہے ، وہ مرکے بھی جیتا ہے ۔
٭ اللہ کے ولی اللہ کی سدا بہار نشانیاں ہیں ۔
٭ نام اور شان کھو کر ہی نام زندہ ہوتا ہے اور شان دوبالا ہوتی ہے ۔
٭ عاشق فنا پاتا ہے ، بقا چاھتا ہے ۔
٭ اعلیٰ ظرف ، عجز سے اعلیٰ ہو جاتا ہے اور کم ظرف اکڑ سے سُکڑ جاتا ہے ۔
٭ طالب مانند پتنگ ہوتا ہے جسکی ڈور شیخ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
٭ اندر کے چور کو پکڑ لو ، اللہ کی مُراد بن جاؤ گے۔
٭ پیار، اندازِگفتگو کو بدل دیتا ہے۔
٭ محبت ایک سے ہوتی ہے مگر وہ ’ایک‘ ’’ہر‘‘ ’’ہر‘‘ میں ہوتا ہے۔
٭ حُسن و جمال کی کشش ہی یار کی دلیل ہے۔
٭ بناوٹ سے سجاوٹ نہیں ہوتی۔
٭ بناوٹی پھول حَسین تو ہوتا ہے مگر خوشبودار نہیں ہوتا۔
٭ فقیر اپنی دنیا، اپنی قوتِ باطن سے سجاتا ہے۔
٭ اپنے پاس گُن ہوتو اسلاف کا فیض بھی اثر کرتا ہے۔
٭ پیار تکبر کو کھا جاتاہے۔
٭ مقصد کو بھول کر دنیا و آخرت دونوں جاتے ہیں۔
٭ اصل اور کم اصل کی پہچان وفا ہے۔
٭ حلالی شخص احسان یاد رکھتاہے۔
٭ یار کی ادامیں نشہ بند ہوتا ہے۔
٭ یار کی ادا عاشق کے لئے تلوار ہے۔
٭ یار کی کوئی ادا،زندگی کی قضا ہوتی ہے۔
٭ حُسن کے جوبن کا نام ’ادا‘ ہے۔
٭ بعض ادائیں قاتل اور بعض جان بخش ہوتی ہیں۔
٭ جاہلوں میں دانا پریشان ہوتا ہے۔
٭ ہیرے کی قیمت جوہری کے پاس اور بندے کی قیمت فقیر کے پاس!
٭ کوئی کوئی طالب مطلوب بھی بن جاتا ہے۔
٭ اخلاق انسان کا زیور ہے۔
٭ بغیر اخلاق کے ،انسان حیوان سے بدتر ہے۔
٭ اعلیٰ اخلاق کانام شریعت ہے۔
٭ ہر اچھائی اسلام ہے۔
٭ اسلام کو ظاہری لباس سے نہیں ، اندرکی حالت سے غرض ہے۔
٭ عاشق نشے کا محتاج نہیں۔
٭ فقیر کے پاس نام بدلا جاتاہے،پھر کھال بدلی جاتی ہے ،پھر اندر بدلا جاتاہے۔
٭ رمضان میں لوگ روزے تورکھتے ہیں مگر یار نہیں رکھتے۔
٭ بدبخت کو ہزار بار سمجھایا مگر جاہل پایا ۔
٭ فقیر کے پاس رہنے والے کثرتِ شفقت کے باعث بے ادب رہ جاتے ہیں ۔
٭ انسان سونا تب بناتا ہے ، جب مٹی ہو جائے ۔
٭ لفظ کاغذ پہ کم ، دِل میں زیادہ جگہ گھیرتے ہیں ۔
٭ دانش مندی علم سے ہی نہیں ، حالات سے بھی آتی ہے ۔
٭ دِل کی بات اہل عقل سے کرنا کم عقلی کی دلیل ہے ۔
٭ پیار کا لطف درد میں چھپا ہوتا ہے ۔
٭ قوتِ سماعت ، قوتِ قلبی پہ اثر انداز ہوتی ہے ۔
٭ اللہ کی نظر انسان کے دِل پہ ہے اور انسان کی اپنے نفس پہ ہے ۔
٭ اہل دُنیا من سے نہیں مراد سے غرض رکھتے ہیں ۔
٭ ہر چیز کا برعکس دلچسپ نہیں ہوتا ۔
٭ کشش کئی طرف سے ہوتی ہے پیار ایک طرف سے ہوتا ہے ۔
٭ تخیّل اشعار کی زینت ہے اور تصور پیار کی زینت ہے ۔
٭ پیار انسان کے بھیس کو بدل دیتا ہے ۔
٭ عشق حرارت بھی دیتا ہے ، جسارت بھی ۔
٭ عشق آتش ہے مگر انسان کو قائم النار بنا دیتا ہے ۔
٭ عشق ، مُشک اور حُسن چھپ کے نہیں رہتے ۔
٭ جس کی گفتار میں اثر نہ ہو اسکا کردار صحیح نہیں ۔
٭ مُلاں سٹیج پہ صحیح اور نیچے اُتر کر خراب نظر آتا ہے ۔
٭ عاشق کی خوراک مطلوب کو یاد کرنے میں ہے ۔
٭ عشرت کی زندگی بسر کرنے والوں کو عُسرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
٭ جادُو برباد کرتا ہے مگر شکستہ دِل کی آہ جلا کے رکھ دیتی ہے ۔
٭ آرزو کا ٹوٹنا منزل میں ناکامی کی دلیل ہے ۔
٭ عاشق صادق ، اُمید وصال رکھتا ہے ، اور کبھی شکست آرزو نہیں ہوتا ۔
٭ آرزو شیوئہ انسان ہے ، نا اُمید تو بس شیطان ہے ۔
٭ کسی کے لئے تڑپنا ، آرزو کو پانے کی دلیل ہے ۔
٭ پیار والے کا دِل آنکھوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔
٭ مجھے سلسلہ سے نہیں ، صلہ سے غرض ہے اور وہ میں اللہ سے چاہتا ہوں ۔
٭ مجھے بندوں سے کوئی سروکار نہیں سوائے ایک کے کہ وہ اپنے دِل کو تلاش کر لیں ۔
٭ جو رحمت کی قدر نہ کرے ، وہ زخمتوں کو شمار کرتا ہے ۔
٭ کسی سے میل جول مت رکھو ، جب تک اس کے خیر خواہ نہیں بنتے ۔
٭ ملنے سے غم غلط ہوتے ہیں اور درد صحیح ہوتے ہیں ۔
٭ اُن کا دیکھنا قیامت ہے مگر رحمت سے بھرپور !
٭ آنکھ کا رونا بہتر ہے مگر دِل کا رونا حجابات اُٹھا دیتا ہے ۔
٭ کسی کی اصلیت اسکی تقریر سے نہیں ، تدبیر سے پہچانی جاتی ہے ۔
٭ جو دِلوں کو نچاکے رکھ دے ، وہ قلند رہوتا ہے ۔
٭ دن اور دِل کا راقب قلندر ہے ۔
٭ قلندر کی نظر مستی دیتی ہے اور قلندر کا اثر ہوش دیتا ہے ۔
٭ اُن کے حضور حاظر ہونے کا سوچتا رہا ، ایک دِن وہ حاظر ہوئے ، میں غیر حاظر تھا ۔
٭ میرے لفظوں کی حقیقت ، حقیقت والوں کا مقدر بن چکی ہے ۔
٭ اِس قافلۂ عشق سے دُور رہ کر پچھتا وہ ہی نہیں ، تباہی مقدر بنتی ہے ۔
٭ مستوار سے دُوری ، شیطان کا قرب ہے ۔
٭ مستوار غلط بات نہیں کرتا ، کیونکہ وہ پوچھ کے کرتا ہے ۔
٭ میری بات کو اہل عقل کم ، اہل مستی زیادہ سمجھیں گے ۔
٭ مستوار کو مستی شرابِ اَلست سے ملی ہے ۔
٭ پیار والوں کو مستوار مستی دیتا ہے ، اِنکار والوں کو لنگر !
٭ یار کے پاس بولنا منع ہے ، دیکھنامنع ہے ۔
٭ دعا رزق حلال مانگتی ، آذان عشقِ بلال رضی اللہ عنہ مانگتی ہے ۔
٭ کاش مُلا
ں چاہت کی چائے عشق کی آگ پہ پکا کر محبت کے کٹورے میں ڈال کر کبھی پی لیتا۔
٭ کئی لوگ حضوری میں جاتے ہیں ، کئی لوگوں کے دِلوں حضور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں۔
٭ فقیر کے ساتھ غداری دِل کو اندھا کر دیتی ہے ۔
٭ فقیر دِل کے اندھیروں میں چراغ جلا دیتا ہے۔
٭ تسکین پیار میں ہے اور پیار کا مجموعہ قلندر ہے ۔
٭ شیخ کی عطا ، طالب کا ظرف دیکھتی ہے ۔
٭ میں حضوری سے بہتر حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھتا ہوں ۔
٭ قلندر ہر سوال کا جواب محبت کی کتاب سے دیتا ہے ۔
٭ انسان کو کچھ لوگ یاد رہتے ہیں اور کچھ لوگوں کو یاد کرنا پڑتا ہے ۔

نوٹ : حضور مستوار قلندر کے متعلق آپ تفصیل سے کتاب "مہرِ منور شاہِ قلندر"میں پڑھ سکتے ہیں۔

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.