ان
ھٰذہ تذکرۃ
فمن شاء اتّخذ
الی ربہ سبیلا‘‘
طالبانِ حق
کے لئے مرشد
کتاب
مہر منور شاہ
قلندر
پیر سید محمود
الحسن شاہ
خاکی مستوار
قلندر
مسز امتیاز
جاوید
حمد
یا رب تو اپنی
ذات کا جلوہ
دکھا مجھے
قابل نہیں
ہوں میں اگر
قابل بنا مجھے
میری سمجھ
سے دور ہیں
تیری یہ قدرتیں
بس تو کرم سے
یا رب ان کو
سکھا مجھے
ہر وقت میں
رہوں تیرے
عشق میں فنا
اب تو محبتیں
وہی کر دے عطا
مجھے
کھل جائے دل
کی نظر، ہو
لطف دید کا
کوئی ایسی
دُھن عشق کی
بھی سنا مجھے
کتنا گیا ہوں
میں بکھر محمود
ہجر میں
اب آ نظر کے
سامنے اپنا
بنا مجھے
آذانِ قلندر
نعت
میں فقیرِ
مصطفیٰ ہوں
مجھے کوئی
غم نہیں
اک بار ان کا
دیکھنا رحمت
سے کم نہیں
ان کو دئیے
خدا نے رتبے
بڑے بڑے
لکھے ثنا تو
کوئی ایسا
قلم نہیں
ابدال ہو قطب
ہو یا کوئی
غوث ہو
ایسا مجھے
بتا دو جس پر
کرم نہیں
جس دل میں چھاگئی
ہو ہر سمت ہی
خزاں
سمجھو کہ اس
دل پہ ان کا
قدم نہیں
سب سے حسیں
دیکھا ہے محمود
نے انہیں
ان جیسا تو
جہاں میں کوئی
صنم نہیں
آذانِ قلندر
منقبت
لفظ مستوار
کے چھ حروف
ہیں
اس منقبت کے
ہر شعر کا پہلا
مصرع بالترتیب
شاہِ قلندر
کے اس
نام کے حروف
سے شروع ہوتا
ہے ۔
مستوار: م ۔
س ۔ ت ۔ و ۔ ا ۔
ر
م
مرشد جو ہے
میرا میرے
دل کا قرار
ہے
چاہت سے جس
کی میرے چمن
میں بہار ہے
ہر اِک پہ جس
کے جام کا پیہم
خمار ہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
س
سائے میں ان
کے رہتے ہیں
بے خوف و خطر
مشکل ہو اس
کا یہاں سے
نہیں گزر
حامی ہے جو
ہمارا بڑا
غمگسار ہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
ت
تقدیر اپنی
ان کے کرم سے
سنبھل گئی
تقدیر کیا
اپنی تو دنیا
بدل گئی
جو کچھ بھی
ہے ہماراوہ
جس پر نثا رہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
و
واللہ ! ان کی
شان ، یہ شوکت
تو دیکھئے
محبوبِ رب
کی ان پہ عنایت
تو دیکھئے
عرفانیت کی
دنیا میں جو
تاجدار ہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
ا
ان کا یہ فیض
دیکھئے ، یہ
فیض عام ہے
بھرنا ہر ایک
درونِ دل ان
کا کام ہے
جس سے بہت ہی
آلِ محمد yes">
کو پیا رہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
ر
رہتی تھی آرزو
یہی کوثر کی
، کچھ کہوں
اِک ایسی منقبت
کہ جو بے مثل
ہو لکھوں
جس کی یہ منقبت
ہے لکھی ، شاہ
کار ہے
وہ مستوار
! مستوار ! مستوار
ہے !
کوثر بریلوی
حرفِ عکسِ
دل
بسم اللہ الرحمٰن
الرحیم
صلی اللّٰہ
علی حبیبہ
محمد و آلہ
وسلم
میرے علم سے
بڑھ کے ، میرے
احساسات سے
بڑھ کے ، میرے
جذبات سے بڑھ
کے ، میرے ذہن
کی رفتار سے
بڑھ کے اور
آج تک میرے
بولے ہوئے
الفاظ سے بڑھ
کے میری ہر
سانس میں اربوں
کھربوں کی
مقدار سے بڑھ
کے اور میرے
پہ کی گئی ان
رحمتوں ، برکتوں
کے شمار سے
بڑھ کے تعریف
اور شکر ہے
اس سب سے اعلیٰ
، سب سے حسیں
، سب سے قریب
، سب سے حبیب
اور میرے نصیب
کا جو اس وقت
موجود تھا
جب کوئی نہ
تھا ۔ اس وقت
تک ہے کہ جس
وقت وہ اور
اس کا محبوب
yes"> ایک دوسرے
کے حسن میں
محو رہیں گے
۔
اس وحدہ ‘ لا
شریک محبوبِ
حقیقی ، معبودِ
حقیقی اور
سب سے بڑھ کر
پیار کرنے
والے کے لئے
سب سے بڑھ کے
حمد و ثنا اور
وہ جو سب سے
حسیں اور ہر
حسیں کے قرین
اور ہر حسن
میں افشا اور
محبت کا جہاں
ہے ۔وہ حقیقت
میں اپنے محبوب
کے جلووں میں
محو و سرگرداں
ہے ۔ وہ اپنے
محبوب کی زباں
سے ہر وقت بیاں
ہے اور محبوب
کی جو جان ہے
اس کے جلووں
کا جہان ہے
۔ محبوب کی
نظر جس جس مشتاقِ
الٰہی پر پڑی
ہے اس نظرِ
رحمت میں پیکرِ
رحمت بن کر
بلا شک و شبہ
وہ خود ذات
کار فرما ہے
۔
اور میرے اک
اک سانس میں
جس کی فضا مہک
رہی ہے اور
جو میری روح
کی میرے دل
کی محبتوں
سے واقف کہ
کس طرح مستوار
کا دل اور روح
اس کی محبت
میں دیوانہ
وار مست و بے
خود ہو کر اس
کے حریمِ ناز
میں رقص کرتے
ہیں ۔
اور وہ محبوب
جس کا عکس ناچیز
کے دل میں دلدار
بن گیا ہے اور
روح جس کی ذرا
سی جدائی سے
تڑپتی ہی نہیں
بلکہ دیکھنے
والے کو تڑپا
دیتی ہے ۔
بے حد، لا تعداد
، وہم و گمان
سے باہر ، عقل
کے جہاں سے
باہر ، باطن
و عیاں سے باہر
، پوشیدہ و
افشا سے باہر
، اور ہر عقلِ
انسان سے باہر
اس کی ذات ہے۔
بیشک اس کے
محبوب کا سینہ
پر از صفات
ہے ۔
اور میری ہر
سانس میں اربوں
کھربوں درود
و سلام ہو ںمحبوبِ
اقدس کی ذات
پر ۔ آپ کی آل
پر اور آپ کے
اصحاب پر ۔
جب اللہ تبار
ک و تعالیٰ
اکیلا تھا
اس نے اپنا
نظارہ کرنا
چاہا تو اپنے
ہی نور سے ایک
نور پیدا کیا
اور اس کو سامنے
رکھ لیا ۔ اس
پر مشتاق ہواتھا
اور وہ نور
اس پر مشتاق
ہوا ۔ ایک نور
لا الٰہ اّلا
اللّٰہ کہتا
اور دوسرا
محمد الرّسول
اللّٰہ کہتا
اور دونوں
ایک دوسرے
کے گرد گھومتے
تھے ۔ تو اتنی
عظیم ہستی
پر کیوں نہ
درود و سلام
کی بارشیں
ہوں کہ خود
اللہ پاک بھی
ہر وقت درود
و سلام پڑھ
رہا ہے اور
اس کے فرشتے
بھی ۔ جب اللہ
پاک درود و
سلام پڑھتا
ہے تو گویا
وہ متوجہ ہے
اپنے محبوب
کے چہرے کی
طرف اس چہرے
کی عظمت ورفعت
کیا ہوگی کہ
جس چہرے کی
طرف چہرۂ ربِ
ذوالجلال متوجہ
ہے۔
دکھی دلوں
کو چین بخشنے
والے اور باطن
سے دور آنکھوں
کو وحدت کی
روشنی سے جگمگانے
والے زنگ آلود
دلوں کو اللہ
کی یاد میں
مست کرنے والے
وہ اللہ کے
نور کا مظہر
، وہ اگر نظرِ
رحمت سے دیکھیں
تو اللہ کی
تجلی وجد میں
آ جائے ۔ وہ
اگر نوازنے
پہ آئیں تو
(اللہ کے سب
خزانوں کے
قاسم) اس قدر
نوازیں کہ
منگتا شاہانِ
وقت کو حقیر
سمجھنے لگ
پڑے ۔ وہ علم
کا شہر اگر
کسی تشنگانِ
علم کو اپنے
رموز کی ایک
کرن عطا کر
دیں تو وہ اہلِ
علم میں مہتاب
بن کر چمک اٹھے
اوراگر اس
در پر ان پڑھ
جائے تو واپس
گھر آ کے اسرارو
رموزِ باطنیہ
بیان کرنے
لگے ۔وہاں
اگر مفلس جائے
تو اس کا گھر
خیرات کرنے
والوں میں
سب سے آگے ہو
۔ وہاں اگر
علم والا جائے
تو حقیقتِ
علم سے شناسائی
پائے ۔ وہاں
اگر عارف جائے
تو بحرِ معرفت
کا غوّاص بن
کر حقیقت کا
سمندر بن جائے
۔ وہ ایسا در
ہے جس کی گدائی
کو دنیا کا
اعلیٰ ترین
انسان بھی
ترستا ہے اور
اس در کے فقیر
پر ملائکہ
بھی رشک کرتے
ہیں ۔ جس کو
اس در سے عشق
ہوا اور پھر
جو فنا فی الرسول
ہوا وہ مظہرِ
خدا بن گیا
۔ اس کو فنائیتِ
رسولنے ایک
ایسا گوہرِ
نایاب بنا
دیا جس کی ایک
چمک سے لاکھوں
دل منوّر ہوتے
گئے۔
اس در کی محبت
سے مردہ دلوں
کو حیاتِ دوام
ملتی ہے ،زندگی
کے رہنما اصول
ملتے ہیں،
بے جان کو جان
ملتی ہے ، روح
کو تسکین ملتی
ہے ، جگر کو
چین ملتا ہے
، بدن کو آرام
ملتا ہے ،دماغ
کو طمانیت
نصیب ہوتی
ہے ،انسان
کو انسان ملتا
ہے ، اور مسلمان
کو ایمان ملتا
ہے ۔
یارانِ طریقت
!
یہ جو کتاب
آپ کے سامنے
ہے یہ پر از
اسرارو رموزباطنیہ
ہے۔ اس کو جس
نے غور سے پڑھا
اس کو معرفت
کی مٹھاس ضرور
نصیب ہو گی
اور اگر طالبِ
صادق نے پڑھا
تو مرشدِ کامل
کا کام دے گی
۔ اگر عارف
نے پڑھا تو
اس کو خودی
کے مقام سے
آگاہ کر دے
گی ۔ یہ شریعت
، طریقت اور
حقیقت کا مجموعہ
ہے اور میرے
باطن کے نغمات
کا گلدستہ
ہے۔ اگر کوئی
اہلِ محبت
اس کو محبت
سے مسلسل مطالعے
میں رکھے گا
اور اس کو اپنا
ورد بنا لے
گا ۔ تو اس اہلِ
محبت کو انشاء
اللہ ضرور
بالضرور محبت
کی معراج نصیب
ہوگی اور وہ
وادیِ عشق
کا مسافر ہو
جائے گا۔ وہ
عشق کے بحرِ
بیکراں میں
غوطہ زن ہو
کر اپنے مقصد
کے سب سے قیمتی
ہیرے کو پا
لے گا۔ دعا
ہے کہ پیارا
اللہ ہم سب
کو اپنی محبت
کی شناسائی
عطا کرے ۔ آمین۔
یارانِ محبت
!
قلندر نے جب
سلسلے کا منصب
سنبھالا تو
اس وقت دو اہم
کام ہمارے
سامنے تھے
۔ایک یہ کہ
والدِ بزرگوار
سید رسول شاہ
خاکی کے سلسلے
کو سنبھالنا
اور دوسرا
اپنے سلسلے
کا آغاز کرنا
جو کہ سیدی
غوثِ پاک کی
جانب سے سونپا
گیا تھا ۔ اللہ
اور رسولِ
پاک کی مدد
سے اور سیدی
غوثِ پاک کی
نظر سے اور
اپنے آباؤ
اجداد کی دعا
سے اس ناچیز
نے سابقہ سلسلے
کو سنبھالا
اور اپنے سلسلے
کا آغاز کیا
اور باقاعدہ
محبت مشن کا
قیام کیا جو
کہ چند سالوں
میں پھیل کر
بین الاقوامی
سطح پر اب کام
کر رہا ہے ۔
یارانِ محبت
!
ہمارے محبت
مشن کا مقصد
تمام بنی نوع
انسان میں
آپس کی محبت
پیدا کرنا
اور مزید برآں
تمام مسلمانوں
میں آپس کی
محبت پیدا
کرنا اور یہ
کہ تمام وہ
لوگ جو اس سلسلہ
اور محبت مشن
سے منسلک ہیں
، ساتھ شامل
ہیں ،ان میں
آپس کی محبت
پیدا کرنا
اور پھر رہنما
کی محبت میں
چل کر ، محبتِ
مصطفی حاصل
کرنا اور محبتِ
مصطفی کے کرم
سے محبتِ اللہ
پاک حاصل کرنا
ہے۔
یارانِ محبت
! حقیقتِ زندگی
فقراء کے علاوہ
کسی کو میسر
نہیں ۔ اس بھید
کو
پانے کے لئے
صحبتِ فقیر
ضروری ہے ۔
کیونکہ فقیر
کو پالینے
کے بعد فقیر
کی سمجھ آتی
ہے جبکہ ہر
کام کو پانے
کے لئے پہلے
اس کو سمجھنا
ضروری ہوتا
ہے ۔اس کے برعکس
فقیر کو پہلے
حاصل کرنا
ہو گا پھر فقیر
سمجھ میں آئے
گا۔ لیکن دور
افتادہ بستیوں
اور گاؤں کے
لوگ صحبت سے
محروم رہتے
ہیں ۔ ایسی
جگہوں پر بسنے
والے طالبانِ
حق کے لئے یہ
کتاب انشاء
اللہ رہنما
ثابت ہو گی
اور ان کو صحبت
کے تمام مزوں
اور نشوں سے
لطف اندوز
کرے گی۔باقی
فقیر کے پاس
جو دل لے کے
آتا ہے وہ فقیر
کا دل لے کر
جاتا ہے ۔جو
صاف نیت لے
کر آئے گا وہ
فقیر کی انجمن
میں کیف ،مستی
، سرور ، انعامات
اور کرامات
کی دنیا پائے
گا اور جس کی
نیت میں خرابی
ہو گی وہ ہزار
سال بھی فقیر
کے پاس رہ کر
بیگانہ ہی
رہتا ہے ۔ اس
لئے طالبانِ
حق کو چاہئیے
کہ ہمہ وقت
اپنی نیت پر
دھیان رکھیں
اور اسے صاف
رکھیں کہ یہ
ایسا برتن
ہے کہ اگر گندگی
سے صاف ہو گا
تو اس برتن
میں ضرور خیراتِ
دلِ قلندر
ملے گی ۔
مجھے امید
واثق ہے کل
جہانوں کے
پالنے والے
سے کہ جو اس
کتاب کو خلوصِ
نیت سے پڑھے
گا ، پیار سے
پڑھے گا ، اس
کی نیت بھی
ہمیشہ کے لئے
درست ہو جائے
گی ، اسے پیار
بھی ہمیشہ
ملتا رہے گا
اور اس کی مرشد
کی طرح رہنمائی
بھی ہوتی رہے
گی ۔
اللہ ہمارے
دلوں پر نظرِ
رحمت کرے اور
اپنے محبوب
کا صدقہ ہمارے
دلوں کو لذتِ
عشق چکھا کر
اپنی مستی
میں مستوار
بنا دے ۔آمین۔
پیر سید محمود
الحسن شاہ
خاکی مستوار
قلندر
پیش لفظ
اللہ کے پیارے
محبوب، قرب
یافتہ بندوں
کا ذکر اسی
اللہ لم یزل
کی سنت ہے ۔
قرآن مجید
جہاں ایک مکمل
ضابطۂ حیات
اور نظامِ
زندگی ہے (عبادات،
معاملات ،
اوامرو نواہی
، زندگی کے
معاشرتی ،
معاشی ، سیاسی،
اخلاقی غرض
یہ کہ ہر شعبہ
ہائے زندگی
کے بارے میں
رشد و ہدایت
کا منبع ہے
)وہاں وہی کلامِ
الہی اپنے
بارے میں یہ
اعلان بھی
کر رہا ہے کہ
ان ھذہ تذکرۃ
فمن شاء اتحذالی
ربہ سبیلا
(المزمل 19)
ترجمہ: ’’بے شک
یہ قرآن تذکرہ
ہے جو چاہے
اس راستے سے
اپنے رب کو
پالے۔‘‘
یہ کسی کا ایسا
تذکرہ ہے جو
بندے کو رب
سے ملا دیتا
ہے ۔ ایسی کون
سی ہستی ہے
؟ فرمایا اپنے
محبوب سے , وانہ
لذکرلک ولقومک
ترجمہ: ’’بے شک
اے محبوب یہ
تیرا ذکر ہے
اور تیرے غلاموں،
تیرے پیاروں
تیرے نام لیواؤں،
تیری قوم کا
ذکر ہے۔‘‘
گویا محبوب
خدا، سیدالمرسلین،
راحت العاشقین
علیہ الصلوٰۃ
والسلام کا
ذکر پاک ایسا
ہے جو کرتے
کرتے انسان
رب تک رسائی
حاصل کر لیتا
ہے۔
امام االانبیاء
احمد مجتبیٰ،
رسولِ خدا
کے سر پر ختم
نبوت کا تاج
سجا ہے ۔ انقطاعِ
نبوت کے بعد
سرکار دو عالم
کے نائب وہ
صوفیاء ، فقراء
، قلندر ہیں
جو امتِ مسلمہ
کا رشتہ اللہ
اور اس کے پیارے
نورٌ علی نور
رحمتِ عالم
علیہ الصلوٰۃ
والسلام سے
جوڑ رہے ہیں۔
جو دنیا کی
محبت سے رشتہ
توڑ کر فقط
اللہ لم یزل
کی یاد میں
مست الست ہیں۔
یہ نفوسِ قدسیہ
جو سراپا اتباعِ
رسول ،پیکرِ
اطاعت وبندگی
ہوتے ہیں اور
ہمیشہ انابت
و اجابت کی
راہوں پر گامزن
رہتے ہیں۔
مردہ دلوں
، بیمار روحوں
کو حیات بخشنے
والے، اپنے
فیضانِ نظر
سے حالِ دل
بدل دینے والے
لوگ ہمیشہ
سے قابل ذکر
رہے ہیں۔ ان
کے اخلاق و
کر دار ، اقوال
وخطبات، کیفیات
و مشاہدات
، مجاہد ے اور
ریاضتیں، ان
کی خلوتیں
اور جلوتیں،
ان کے حالات
و واقعات اہل
ایمان کے لئے
ہمیشہ مشعلِ
راہ ثابت ہوتے
ہیں۔ اہلِ
محبت ان اولیاء
کرام، فقراء
اور عار فین
کے تذکرے ہر
دور ہر زمانے
میں کرتے رہے
ہیں اور کرتے
رہیں گے۔ راہِ
حق کے مسافروں
کے لئے یہ تذکرے
راحتِ جاں
بھی ہوتے ہیںاور
زادِ سفر بھی
بنتے ہیں۔
مولانا روم
فرماتے ہیں۔
چوں شوی دور
از حضور اولیاء
در حقیقت گشتہ
دور ا ز خدا
عام می خواہند
ہر دم نام پاک
ایں اثر نکند
چوں نبود عشق
پاک
مہرِ پاک درمیاں
جاں نشاں
دل مدہ الابمہر
دل خوشاں
ترجمہ: اے انسان
اگر تو اللہ
کے ان دوستوں
کی محبت اور
رفاقت سے دور
ہوگیا تو درحقیقت
تو اللہ پاک
سے دور ہوگیا
کہ عام لوگوں
میں اور ان
اللہ والوں
میں بہت فرق
ہے ۔ عام لوگ
بھی اللہ کا
نام لیتے ہیں
مگر تاثیر
و برکت وہ نور
ان اللہ والوں
کے پاس اسلئے
ہوتا ہے کہ
ان کا دل عشقِ
الہٰی کی آگ
میں جل رہا
ہوتا ہے ۔ اس
لئے ان لوگوں
کی محبت اپنے
دل و جاں میں
راسخ کرلو
اپنا دل ان
لوگوں کے حوالے
کر دو جن کے
دل محبوب حقیقی
سے پیار کی
وجہ سے خوبصورت
اور پیارے
ہیں۔
::
فہرست
:: آگے>>