مجاہدہ
۱۔ مجاہدہ
روح کو بالیدگی
بخشتا ہے ۔
۲۔ مجاہدے
سے انسان کی
تکمیل ہوتی
ہے ۔
۳۔ مجاہدہ
وہ ہتھیار
ہے جس سے معرفت
کے عقدے حل
کئے جاتے ہیں۔
۴۔ مجاہدہ
طالب کو سدھار
دیتا ہے ۔
۵۔ مجاہدہ
روح کے ساتھ
ساتھ تن کو
بھی راحت دیتا
ہے ۔
۶۔ مجاہدہ
روح کی بیماریوں
کا علاج ہے
۔
۷۔ مجاہدے
سے مراد نفس
کے خلاف چلنا
۔ خواہشات
، لذات کو چھوڑ
دینا، تمام
آرزوؤں تمناؤں
کو ترک کرنا،
کم سونا، کم
کھانا کم بولنا
، روزے رکھنا،
ریاضت کرنا
ہے ۔
۸۔ اختلاطِ
خلق سے گریز
یہ بھی مجاہدے
میں شامل اور
وصفِ اولیاء
اللہ ہے ۔
۹۔ مجاہدے
میں محبت کو
اخلاص ملتا
ہے ۔
۰۔ مجاہدہ
طالب کی جرا
ءت کو اس قدر
بلند کر دیتا
ہے کہ جب وہ
حقیقت آشنا
ہو تو رؤیت
نور کا متحمل
ہوجاتا ہے
۔
۱۔ مجاہدہ
محبت کا وہ
راز ہے جو طالب
کو واصل کر
دیتا ہے ۔
مشاہدہ
۱۔ مجاہدے
کا نتیجہ مشاہدہ
ہے ۔
۲۔ مشاہدہ
تمنائے دردِ
دلِ طالب ہے
۔
۳۔ مشاہدے
سے سابقہ علوم
بے معنی ہوجاتے
ہیں اور دیدار
کا نور نصیب
ہوتا ہے ۔
۴۔ مشاہدہ
دیدار عطا
کرتا ہے اور
صاحب مشاہدہ
کو قابل دیدار
بنا دیتا ہے
۔
۵۔ صاحب مشاہدہ
سے دیدار کی
خوشبو آتی
ہے ۔
۶۔ صاحب مشاہدہ
علم سے نہیں
عمل سے ہدایت
کرتا ہے ۔
۷۔ صاحب مشاہدہ
کی تقلید باعث
علم و رموزِ
حقیقت ہے ۔
۸۔ مشاہدہ
مُنتظِر اور
طالب مُنتظَر
ہوتا ہے ۔
۹۔ مشاہدہ
علم اور عمل
سے حاصل نہیں
ہوتا ۔ بلکہ
محبت کے امتحانات
پاس کر لینے
سے ہوتا ہے۔
۰ ۔ مشاہدہ
کتابِ دل کا
عالم بنا دیتا
ہے۔
۱۔ مشاہدہ
قوتِ قلب کی
سیر ہے ۔
۲۔ مشاہدہ
چودہ طبق کا
عالِم بنادیتا
ہے ۔
ورع
۱۔ شریعت پر
مکمل عمل کرنا
ورع ہے ۔
۲۔ ورع سے انسان
کا کر دار درست
ہوتا ہے ۔ اور
اچھے اعمال
کرنے کے قابل
ہوتا ہے ۔
۳۔ نفس کی خواہشات
کے الٹ چلنا
ورع ہے ۔
۴۔ جب ہر ایک
چیز کی آرزو
ختم ہوجائے
اور اللہ کی
آرزو رہ جائے
یہ ورع ہے ۔
۵۔ ورع سے انسان
کی گفتگو میں
تاثیر پیدا
ہوتی ہے ۔
۶۔ ورع خوفِ
خدا ہے اور
خوفِ خدا دانائی
کی بنیاد ہے
۔
۷۔ فقراء میں
سے کوئی فقیر
ایسا نہیں
جس نے ورع اختیار
نہ کی ہو۔
۸۔ ورع خاصۂ
خاصانِ خدا
ہے ۔
۹۔ ورع اختیار
کرنے والے
سے شیطان خائف
رہتا ہے ۔
۰۔ ورع بھی
مجاھدے کا
ایک حصہ ہے
۔
۱۔ ورع طریقۂ
مصطفےٰ کے
تابع کر دیتی
ہے ۔
ایثار
۱۔ آج تک جس
نے جو کچھ پایا
ہے ایثار سے
پایا ہے ۔
۲۔ محبت ایثار
مانگتی ہے
۔
۳۔ ایثار عاشق
کا طریقہ ہے
۔
۴۔ ایثار مشاہدے
کا پیش خیمہ
ہے ۔
۵۔ ایثار طالب
کو ایسا حال
عطا کر تا ہے
کہ جس سے وہ
صاحبِ و صال
ہوجاتا ہے
۔
۶۔ قربِ محبوب
کا راز ایثار
ہے ۔
۷۔ عاشق عزت
، مال اور آخر
جان تک نثار
کر کے مقامِ
ایثار پر فائز
ہو کر حسنِ
یار کا دیدار
پاتا ہے ۔
۸۔ ایمان کی
کسوٹی ایثار
ہے ۔
۹۔ ایثار سے
طالب صاحب
ظاہرو باطن
بن جاتا ہے
۔
۰۔ ایثار مر
دان خدا کا
زیور ہے جس
سے آراستہ
ہو کر وہ تمام
عالم میں منفرد
بن جاتا ہے
۔
یکسوئی
۱۔ یکسوئی
طالب کے لئے
اتنی ضروری
ہے کہ جتنی
محبوب کے لئے
محبت ۔
۲۔ یکسوئی
ان ہونی کو
ہونے میں تبدیل
کر دیتی ہے
۔
۳۔ یکسوئی
سلطنت فقر
میں جانے کی
سواری ہے ۔
۴۔ یکسوئی
معرفت کا راز
ہے ۔
۵۔ طالب کی
یکسوئی اگر
مرشد کی طرف
ہوتو اس کو
مرشد میں ضم
کر دیتی ہے
۔
۶۔ مرشد کی
یکسوئی اگر
طالب کی طرف
ہو تو اس کے
دل کو روشن
کر دیتی ہے
۔
۷۔ جو یکسو
ہو گیا وہ ہر
سو ہو گیا۔
۸۔ یکسوئی
کے بغیر کوئی
آج تک عارف
نہ بنا۔
۹۔ یکسوئی
مرید کو طالب
اور طالب کو
محبوب بنا
دیتی ہے ۔
۰۔ یکسوئی
بندے کو خداتک
لے جاتی ہے
۔
طریقت
۱۔ طریقت کا
معنی طریقہ
ہے ۔طالبِ
حق شریعت کے
بعد طریقت
میں قدم رکھتا
ہے ۔
۲۔ صاحبِ طریقت
کو چاہیے کہ
قدم طریقت
پر ہو اور نظر
شریعت پر ہو۔
۳۔ طریقت میں
قدم رکھنے
والے نفس پہ
قبضہ کرتے
ہیں اور دل
پہ محنت کرتے
ہیں۔
۴۔ صاحبِ طریقت
مجاھدات سے
گزر کر مشاہدہ
کا مزہ چکھتے
ہیں۔
۵۔ طریقت سفرِ
محبت ہے ۔
۶۔ طریقت کی
انتہامعرفت
کی ابتداء
ہے ۔
۷۔ طریقت کا
کل انحصار
شیخ کا مل کی
توجہ پر ہے
۔
۸۔ طریقت میں
جس نے صبر کیا
اس کو صبر کا
میٹھا پھل
بطور معرفت
نصیب ہوا۔
۹۔ طریقت کا
جہاں طالبِ
حق پر سخت مگر
معرفت کا ثمر
دیتا ہے ۔
۰۔ طریقت معرفت
کا زینہ ہے
۔
معرفت
۱۔ معرفت ‘ شریعت
و طریقت کے
بعد کا مقام
ہے ۔
۲۔ معرفت ہی
حقیقت ہے ۔
۳۔ معرفت میں
سارے مقام
حذف ہوجاتے
ہیں۔ لذتِ
آشائی کا سرور
غالب رہتا
ہے ۔
۴۔ عارف کواللہ
پاک اپنے اسرار
ورموز سے نواز
کر دیگر لوگوں
کے لئے شمعِ
محبت بنا دیتا
ہے۔
۵۔ صاحبِ معرفت
کو ہر ذرے میں
یار کا جلوہ
مثلِ نور چمکتا
دکھائی دیتا
ہے ۔
۶۔ معرفت محبت
کو معراج ہے
۔
۷۔ معرفت میں
عارف مے عرفان
پی کر تشنگانِ
عشقِ الٰہی
کو سیراب کرتاہے۔
۸۔ صاحبِ معرفت
کو تمام علو
م پر دسترس
حاصل ہوتی
ہے ۔ وہ قرآن
اور حدیث کی
روح کو سمجھ
جاتا ہے ۔
۹۔ صاحبِ معرفت
کو معرفتِ
محمدی عطا
ہوتی ہے ۔
۰۔ عارف ہی
ساز سوز اور
درد کو جان
سکتا ہے ۔ عارف
کو محبتوں
کا پیامبر
بنا دیا جاتا
ہے ۔
فنا و بقا
۱۔ فنا ہر چیز
کو لازم ہے
گر محبت میں
ہو تو کیا ہی
کمال ہے ۔
۲۔ نفس کی فنا
روح کو بقا
دیتی ہے ۔
۳۔ فنا بقا
کا زینہ ہے
۔
۴۔ فنا علم
اور ہوش کو
جلا دیتی ہے
۔
۵۔ فنا میں
تڑپ نہیں یکسوئی
ہے ۔
۶۔ فنا میں
محبت اور محب
دونوں ختم
ہوجاتے ہیں
محبوب بن جاتا
ہے ۔
۷۔ بقاء کی
لذّتیں فنا
کی منزل میں
چھپی ہوتی
ہیں۔
۸۔ فنا کی منزل
کا سرور گذشتہ
تمام تکالیف
کو بھلا دیتا
ہے ۔
۹۔ فنا رضائے
محبوب کی مرضی
سے ہے ۔
۰۔ کلمہ طیبہ
فنا و بقا کا
پیکر ہے لا
الٰہ میں فنا
ہے اور الاّ
اللّٰہ محمّد
رسول اللّٰہ
میں بقاہے
۔
۱۔ اذ اتمّ
الفقر فھو
اللّٰہ ۔ جب
فقر مکمل ہوتووہی
اللہ ہے ۔
۲۔ فقر کے مکمل
ہونے سے وجود
ظاہری نیست
ہوتا ہے اور
وجود باطنی
ہست ہوتا ہے
اور وجود باطنی
ہی بقا ہے ۔
مقامِ رضا
۱۔ خاصانِ
خدا کو اللہ
طلب دیتا ہے
اور طلب والوں
کو محبت اور
محبت والوں
کو عشق اور
عاشق مقامِ
رضا پر فائز
ہوتا ہے ۔
۲۔ رضا فنا
و بقا پر فائز
کرتی ہے ۔
۳۔ جس نے اپنی
رضا کو رضائے
یار پر فدا
کیا وہ رضائے
یار کا مظہر
بن گیا۔
۴۔ رضا محبت
کا نچوڑ ہے۔
۵۔ جو راضی
بر ضا ہے اس
کو سکونِ قلب
اور استقامت
کی دولت نصیب
ہوتی ہے ۔
۶۔ مقامِ رضا
کی منزل میں
تین ہتھیار
کام آتے ہیں
صبر ، توکل
اور تسلیم۔
۷۔ جو اپنی
نفی کرے گا
رضا اس کو اثبات
کی شکل میں
حاصل ہوجائے
گی۔
۸۔ تلاشِ رضا
مین علم و حسن
گم ہوجاتا
ہے ۔
۹۔ عشق کا چراغ
جل کر روشنی
رضا سے لیتا
ہے
۰۔ رضا محبوب
کے دل کی آواز
کا نام ہے ۔
توکل
۱۔ عام کا توکل
اسباب کو بروئے
کار لا کر خدا
پرچھوڑ نا
ہے ۔ خاص کا
توکل اسباب
پر سے نظر ہٹا
کریار پر ٹکا
دینا ہے اور
خاص الخاص
کا توکل اپنے
آپ کو مٹا کر
یار کو سمجھنا
ہے ۔
۲۔ صاحب توکل
کو رزق کا نہیں
رازق کا خیال
ہوتا ہے ۔
۳۔ صاحب توکل
کو اللہ کی
بارگاہ سے
سرفراز کیا
جاتا ہے ۔
۴۔ صاحب توکل
مقامِ توکل
پر فائز ہو
کر گرویدہ
خدا بن جاتا
ہے ۔
۵۔ صاحب توکل
کے نفس پر عذاب
ہوتا ہے اور
دل پر بہار
۔
۶۔ توکل یکسوئی
دیتا ہے اور
اغیار سے جان
چھڑا دیتا
ہے ۔
۷۔ توکل سفرِعشق
کا صحرا ہے
۔
۸۔ توکل میں
رضا کی خوشبو
چھپی ہوتی
ہے ۔
۹۔ متوکل کی
نسبت باعث
حصولِ نعمتِ
باری تعالیٰ
ہوتی ہے ۔
۰۔ توکل ایمان
کی کسوٹی ہے
۔
رسوائی
۱۔ رسوائی
میں خدائی
ہے ۔
۲۔ رسوائی
محبت کی نشانی
ہے ۔
۳۔ جو رسوا
نہ ہوا وہ مقصد
سے خالی ہوا۔
۴۔ رسوائی
میں عاجزی
حاصل ہوتی
ہے اور عاجزی
میں بڑائی
۔
۵۔ عاشق رسوا
ہوکر جستجو
میں اور مگن
ہوجاتا ہے
۔
۶۔ رسوائی
صرف عاشق کا
انعام ہے ۔
۷۔ رسوائی
بدنام تو کرتی
ہے مگر ناکام
نہیں کر تی
۔
۸۔ رسوائی
میں رضا ہے
اور رضا میں
محبوب
۹۔ رسوائی
تکبر کو مٹاتی
ہے ۔نفس کو
مارتی ہے اور
طلب کو زندہ
کر دیتی ہے
۔
۰۔ محبت کی
رسوائی عشق
پر فائز کرتی
ہے اور عشق
کی رسوائی
مقامِ فنا
پر ۔
مقامِ حیرت
۱۔ طالب طلبِ
حق میں سر گرداں
رہتا ہے اور
حصول کے بعد
متحیر ہوجاتا
ہے۔
۲۔ ایک کام
اسی اصول سے
ٹھیک ایک کام
اسی اصول سے
غلط ہوجاتا
ہے ۔ یہ بات
طالب کو حیرت
میں ڈال دیتی
ہے۔
۳۔ حیرت پیاس
ہے اور عشق
اس کا مداوا
۔
۴۔ حیرت امتحان
نہیں ممتحن
ہے۔
۵۔ حیرت حصول
نہیں امر ہے
۔
۶۔ عارف حیرت
میں رہ کر بھی
عارف ہی رہتا
ہے ۔
۷۔ مقامِ حیرت
میں حیرت کو
توجۂ شیخ سر
کردیتی ہے
۔
۸۔ مقامِ حیرت
پر عارف مشاہدہ
، مظاہر باری
تعالیٰ کرتا
ہے ۔
۹۔ قلندر بھی
مقامِ حیرت
سے آشنا تو
ہوتا ہے مگر
مقیم نہیں
ہوتا ۔
۰۔ عارف اگر
مقامِ حیرت
میں نہ جائے
تو یہ حیرت
ہے ۔
خود شناسی
۱۔ خود شناسی
شیوۂ عشاقِ
رسول ہے ۔
۲۔ جس نے اللہ
کو شہ رگ سے
قریب جانا
وہ خود شناس
ہوگیا۔
۳۔ خود شناس
کو اللہ کا
قرب نہیں وجود
عطاہوتا ہے
۔
۴۔ خود شناسی
ایک ایسی تار
ہے جس کا تعلق
کرتا ر سے ہے۔
۵۔ اہلِ محبت
محبوب کی طلب
میں خود شناس
ہو جاتے ہیں۔
۶۔ خود شناسی
سے کر دار بھی
ٹھیک ہو جاتا
ہے اور پیار
بھی ٹھیک ٹھا
ک ہوجاتا ہے
۔
۷۔ خود شناسی
میں زبان بند
بھی ہوتی ہے
اور لمبی بھی
ہوتی ہے ۔
۸۔ خود شناسی
ھمہ ازا وست
میں داخل کر
کے ہمہ ا وست
تک پہنچا دیتی
ہے ۔
۹۔ خود شناس
کو ظاہر وباطن
دونوں کے راز
مل جاتے ہیں۔
۰۔ خود شناس
کو ملکیت کلّی
کا مشاہدہ
کرایا جاتا
ہے ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>