صبر
۱۔ عطا اور
رضا کو سمجھنا
صبر ہے۔
۲۔ صبر عطا
کا زینہ ہے
یہ درِ عطا
کو کھولنے
میں معاون
ہوتا ہے۔
۳۔ صبر سے وفا
افشاء ہوتی
ہے۔
۴۔ صاحبِ صبر
صاحبِ مراد
ہوتا ہے۔
۵۔ صبر انبیاء
اور اولیاء
کا ہتھیار
ہے۔
۶۔ انسان کسی
کے لئے بے چین
ہو اور وہ نایاب
ہو اُس کو یاد
کر کے خاموش
رہنا صبر ہے۔
۷۔ صبر اور
سچ کڑوا ہوتا
ہے۔
۸۔ اللہ پاک
جب دیکھتا
ہے کہ چاہنے
والا اُس کا
انتظار کرتا
ہے۔ طلب میں
شرک نہیں کیا۔
ظاہریت میں
کسی چیز کی
طلب نہیں کی
۔ ایسے صابر
شخص کو وہ ضرور
نوازتا ہے۔
۹۔ صبر محبوب
اور محب دونوں
کے لئے خوشی
کا سبب بنتا
ہے۔
۱۔ صبر کے
بے شمار مقامات
ہیں۔ سو فیصد
صابر صرف سرکار
دو عالم صلی
اللہ علیہ
وسلم اور پھر
نواسۂ رسول
صلی اللہ علیہ
وسلم ہیں۔
۱۔ کوئی جتنا
دلیر اتنا
ہی صابر ہوتا
ہے۔
۱۔ اللہ کے
لئے صبر اور
اللہ پر صبر،
صبر کے دو مقام
ہیں۔
وفا
۱۔ وفا عشق
کی کسوٹی ہے
۔
۲۔ وفا میں
عاشق کی منزل
ہے ۔
۳۔ وفا صادق
کے ماتھے کا
جھومر ہے ۔
۴۔ جس نے کی
وفا اس پایا
خدا۔
۵۔ وفا مرد
کا شاہکار
ہے ۔
۶۔ وفا سے زمانہ
اور صاحبِ
زمانہ دونوں
مل جاتے ہیں
۔
۷۔ وفا ہی سے
بحرِ عشق میں
جوش ہے ۔
۸۔ وفا اللہ
اور اس کے محبوب
کا حق ہے ۔
۹۔ وفا صداقتِ
ولایت کی علامت
ہے ۔
۱۔ وفا کے
حصول میں عاشق
معشوق بن چکاہوتا
ہے ۔
۱۔ وفا حسینیت
کا شعاراور
بے وفائی یزیدیت
کاشعار ہے
۔
۱۔ وفا سے امام
عالی مقام
حضرت حسین
رضی اللہ تعالیٰ
عنہ آج بھی
زندہ اور بے
وفائی سے یزید
مردہ ہے ۔
۱۔ وفا میں
تاجِ سرداری
اور بے وفائی
میں در در کی
خواری ہے ۔
تقویٰ
۱۔ تقویٰ شریعت
کا مغز ہے ۔
۲۔ شریعت جب
مکمل تن پہ
سج جائے تو
تقویٰ کی برکات
ظاہر ہونا
شروع ہو جاتی
ہیں ۔
۳۔ شریعت مقامِ
فقر میں سے
پہلا مقام
اور تقویٰ
دوسرا مقام
ہے ۔
۴۔ تقویٰ کے
معنی ہر ایک
چیز سے دامن
بچا کر محبوب
کے لئے چھوڑ
دینا ہے۔
۵۔ تقویٰ میں
یکسوئی کا
راز ہے ۔
۶۔ تقویٰ میں
عبادت کا مزہ
کئی گناہ بڑھ
جاتا ہے ۔
۷۔ تقویٰ فقیر
کا زیور ہے
۔
۸۔ متقین کا
چہرہ باطن
میں مثلِ آفتاب
چمکتا ہے ۔
۹۔ صاحبِ محبت
دراصل صاحبِ
تقویٰ ہی ہوتاہے
۔
۱۔ تقویٰ
علمِ باطن
کا دروازہ
ہے ۔
تزکیۂ نفس
، تصفیۂ قلب
۱۔ کوئی فقیر
ایسا نہیں
گزرا جس نے
نفس اور دل
پہ محنت نہ
کی ہو ۔
۲۔ تزکیۂ نفس
اور تصفیۂ
قلب کے بغیر
نظریۂ وحدت
کا اطلاق ناممکن
ہے ۔
۳۔ بحرِ عرفان
میں غوطہ زن
ہونے کے لئے
نفس کو ہاتھ
میں لے لو ۔
۴۔ ضبطِ نفس
میں حضوری
مطلوب ہے ۔
۵۔ تزکیہ ء
نفس سے نفس
نفسِ یار بنتا
ہے اور تصفیۂ
قلب سے دل یار
کا مسکن بن
جاتا ہے ۔
۶۔ تزکیہ ء
نفس اور تصفیۂ
قلب روحانیت
کے دو بڑے اصول
ہیں جن کے حصول
کے بغیر آج
تک کوئی ولی
نہ بن سکا ۔
۷۔ تزکیہ ء
نفس میں نفسِ
امارہ کی جگہ
نفسِ مطمئنہ
لے لیتا ہے
تو طمانیت
اسی وجہ سے
ہوتی ہے کہ
نفس کو گوہرِ
مقصود حاصل
ہو چکا ہوتا
ہے اور تصفیۂ
قلب کے باعث
قلب اس کی تصدیق
کر دیتا ہے
۔
۸۔ اگر طالب
تزکےۂ نفس
اور تصفیۂ
قلب ان دو اصولوں
کو ہی صرف اپنا
لے تو ایک دن
منزل خود چل
کے اس گھر پہ
دستک دے گی
۔
۹۔ تزکےۂ نفس
اور تصفیۂ
قلب سے باطن
کی تمام میل
اتر جاتی ہے
اور باطن مثلِ
آفتاب چمکنے
لگتا ہے ۔
۱ ۔ تزکےۂ
نفس اور تصفیۂ
قلب انسان
کی تمام باطنی
بیماریوں کا
علاج ہے ۔
۱۔ تزکیہ اور
تصفیہ ہو جائے
تو یہ اللہ
کا نور ہے ۔
اخلاص
۱۔ اخلاص اخلاق
کی زینت ہے
۔
۲۔ اخلاص کے
بغیر عمل نقش
در آب ہیں ۔
۳۔ اخلاص ولی
کی پہچان ہے
۔
۴۔ اخلاص روشن
دل کی نشانی
ہے ۔
۵۔ نبی کریم
نے اخلاص کی
طاقت سے پوری
کائنات کو
تسخیر کیا
۔
۶۔ اخلاص نبی
پاک کے عطا
کردہ تحفوں
میں سے ایک
تحفہ ہے ۔
۷۔ جس محبت
میں اخلاص
نہیں وہ محبت
بالغرض ہے
۔
۸۔ اخلاص کے
لئے عالم اور
جاہل برابر
ہیں۔
۹۔ کامل انسان
کے لئے مخلص
خون کے رشتوں
سے قریب اور
عزیز ہوتا
ہے۔
۱۔ طالبِ
صادق کو اخلاص
محبوب کے دل
میں بٹھا دیتا
ہے ۔
عشق
۱۔ عشق دل کی
اتھاہ گہرائیوں
سے اٹھنے والا
جذبہ ہے ۔
۲۔ عشق کی ابتداء
محبت اور انتہا
عشق ہے ۔
۳۔ عشق احساسِ
دروں کو عیاں
کر دیتا ہے
۔
۴۔ ہر ایک چیز
کی منزل ہوتی
ہے۔عشق کی
منزل عشق ہے
۔
۵۔ عشق گرچہ
خاموش ہے مگر
آواز اس کی
بلند ہے ۔
۶۔ عاشق عشق
کو محسوس کرتا
ہے اور دیکھنے
والے محظوظ
ہوتے ہیں ۔
۷۔ مرض انسان
کو اندر سے
کھوکھلا کرتا
ہے مگر عشق
کا مرض باہر
سے کھوکھلا
کرتا ہے۔
۸۔ عشق دکھوں
اور آہوں کا
گلدستہ ہے
۔
۹۔ کائنات
کی ابتدا کا
مؤجب عشق ہے
۔
۱۔ اللہ اور
اس کے محبوب
کے درمیان
واسطہ عشق
ہے ۔
۱۔ عشق عاشق
کو معشوق کا
مظہر بنا دیتا
ہے ۔
۱۔ عشق انسان
کو غلط کر کے
صحیح کر نے
والا بنا دیتا
ہے ۔
۱۔ عشق کے ’’ ع
‘‘ سے مراد ہے
عاشق معشوق
کے تصور میں
’’ عین ‘‘ ہو جاتا
ہے ۔ اور عشق
کا ’’ ش‘‘ بتا رہا
ہے کہ جب عاشق
معشوق کے عین
ہو جاتا ہے
تو اس کا ’’ شک
‘‘ جل جاتا ہے
۔ عشق کا ’’ ق ‘‘
یہ بتا رہا
ہے کہ عاشق
معشوق کا عین
بن کر شک کو
جلا دیتا ہے
تو پھر اپنی
ذات معشوق
کی ذات پر ’’ قربان
‘‘ کر دیتا ہے
۔
خلوت نشینی
۱۔ فقیر کے
قریب خلوت
نشینی مُوجبِ
وصالِ یا رہے۔
۲۔ خلوت دوری
کے تمام حجابات
کو ہٹا کر طالب
کو قربتوں
کا ہم جلیس
بنا دیتی ہے
۔
۳۔ طالب خلوت
میں جا کر جلوت
سے سرفراز
ہو جاتا ہے
۔
۴۔ عاشق کے
لئے خلوت خوشبو
ئے محبوب ہے
۔
۵۔ عشق غالب
آ جائے تو بھری
محفل میں خلوت
دے دیتا ہے
۔
۶۔ فقیر کے
لئے اختلاطِ
خلق میں کڑواہٹ
اور خلوت میں
حلاوت ہے ۔
۷۔ خلوت قوتِ
تصور کو پختہ
کرتی ہے ۔
۸۔ خلوت صابر
، شاکر اور
واصل بنا دیتی
ہے ۔
۹۔ خلوتوں
میں سے بعض
خلوتیں معراج
بن جاتی ہیں
۔
۱ ۔ طالبِ
صادق جب محبوب
حقیقی سے ملتا
ہے اس وقت خلوت
خانہ جلوہ
خانہ بن جاتا
ہے ۔
دیدارِ یار
۱۔ طالب اپنی
ہی ذات میں
گُم ہوکر دیدارِ
یار سے مشرف
ہوتا ہے ۔
۲۔ پیار قاصدِ
دیدارِ یار
ہے ۔
۳۔ دیدارِ
یار سے طالبِ
صادق کا دل
اپنے مدار
پر استقامت
پکڑ جاتا ہے
۔
۴۔ دیدارِ
یار قرار دے
کر بے قراری
کے تپتے ہوئے
صحرا میں پھینک
دیتا ہے۔
۵۔ طالبِ صادق
کو ایسی خوشی
کبھی نصیب
نہیں ہوتی
جیسی اسے دیدارِ
یار کی مستی
عطا کرتی ہے۔
۶۔ فراق میں
عاشق کے دل
کی کلی بند
ہو جاتی ہے
جس سے وہ تڑپتا
ہے لیکن دیدارِ
یار کی پہلی
کرن ہی دل کی
اس کلی کو کھلا
دیتی ہے ۔
۷۔ عاشقِ صادق
جب محوِ دیدارِ
یار ہوتا ہے
تو اس کا انگ
انگ خوشبوئے
یار سے مہک
جاتا ہے ۔
۸۔ طالبِ صادق
کی طلب کو کوئی
چیز سیراب
نہیں کر سکتی
۔دیدارِ یار
ہی اس کی اصل
خوراک ہے ۔
۹۔ تشنگانِ
عشق دیدارِ
یار سے پیاس
بجھا تے ہیں
۔
۱۔ دیدارِ
یار میں عاشق
کو محبوب کی
آنکھیں شراب
کے جام بخشتی
ہیں ۔
۱۔ محوِ دیدار
کو سجدہ کب
درکار ہے ۔
استغراق
۱۔ جب طالب
مراقبہ کرتا
ہے اور مراقبے
کے اندر مشاہدات
کی دنیا میں
چلا جاتا ہے
تو اس مشاہدے
کے اندر بعض
اوقات حسنِ
یار کی تجلی
میں غرق ہوجاتا
ہے، ڈوب جاتا
ہے جسے استغراق
کہتے ہیں ۔
اس کا دورانیہ
زیادہ بھی
ہو سکتا ہے
اور کم بھی
ہوتا ہے ۔
۲۔ طالب دیدارِ
حسنِ یار میں
اس طرح مست
ہو جاتاہے
کہ اسے دنیا
و مافیہا کی
خبر نہیں رہتی
اور اس کا دورانیہ
کم و بیش ہو
سکتا ہے ۔
۳۔ استغراق
کا مُوجب غلبۂ
عشق ہے ۔
۴۔ استغراق
کے معنی حلاوتِ
حسنِ یار میں
غرق ہونا ہے
۔
۵۔ استغراق
اللہ کے ہر
ولی کو حاصل
ہوتا ہے ۔
۶۔ استغراق
میں فقیر کے
درجات بڑھتے
ہیں ۔
۷۔ استغراق
دنیا و عقبیٰ
اور ان میں
جو کچھ ہے اس
سے بے خبر کرتا
ہے اور یار
سے باخبر کردیتا
ہے ۔
۸۔ استغراق
وہ مے ہے جو
محبوب کے دل
سے کشید ہو
کر طالب کے
دل کو
پلائی جاتی
ہے ۔
۹۔ استغراق
بھی فنائیت
کا ہی ایک مقام
ہے ۔
۱۔ استغراق
طالب کو مطلوب
بنا دیتا ہے
۔
نظر
۱۔ نظر سے مراد
مرشد کی وہ
نظر ہے جو دل
کی دنیا بدل
دے اس کو توجہ
کہتے ہیں ۔
۲۔ قلندرانہ
نظر وہ نظر
ہے کہ اہلِ
نظر کی نظروں
کو نظارہ کرا
دیتی ہے ۔
۳۔ کامل کی
ایک نظر سے
بھٹکے ہوئے
دل اپنی منزل
کے راستے کو
پالیتے ہیں۔
۴۔ قلندرانہ
نظر سے بکھرا
ہوا دل سمٹ
کر تصویرِ
یار بن جاتا
ہے ۔
۵۔ اللہ کا
کرم فقیر کی
نظر میں مضمر
ہوتا ہے ۔
۶۔ نظر دل پہ
زخم کرتی ہے
اور وہ زخم
عاشق کے لئے
آبِحیات ہوتا
ہے ۔
۷۔ محبوب کا
دلکش نظر سے
دیکھنا عاشق
کے دل میں حشر
بپا کر دیتا
ہے ۔
۸۔ نظر سے نام
بھی بنتا ہے
اور کام بھی
بنتا ہے ۔
۹۔ نظر سے پینے
والے سرِ عرش
جیا کرتے ہیں۔
۱۔ فقیر کی
ایک نظر لاکھوں
دلوں کی روشنی
کا مُوجب بن
سکتی ہے۔
۱۔ قلندر کی
نظر سے عقل
اپنے مقام
کو پاتی ہے
‘ دل مستی کو
پاتا ہے اور
روح رقص کرتی
ہے ۔
بے نیازی
۱۔ جب دوستی
بے نیاز سے
ہو گی تو اثراتِ
یار ضرور مرتب
ہوں گے ۔
۲۔ بے نیاز
سے سنگت ہر
ایک سے بری
کر کے شانِ
بے نیازی عطا
کرتی ہے ۔
۳۔ دوست میں
محویت کا عالم
ہی ایسا ہوتا
ہے کہ فقیر
کسی اور سے
خبر نہیں رکھتا
۔
۴۔ خواہشات
و لذات کو چھوڑنا
مشکل ہے مگر
بے نیاز کی
الفت سے ۔
۵۔ وہ بے نیاز
ہے مگر طالب
کی طرف دیکھتا
نگاہِ ناز
سے ہے اور وہ
نگاہ طالب
کو دیگر مخلوق
سے بے نیاز
کر دیتی ہے
۔
۶۔ دنیادار
امراء کا دلدادہ
بننا چاہتا
ہے اور فقیر
کا یہ عالم
ہوتا ہے کہ
دعوت کے باوجود
ناپسند کرتا
ہے ۔
۷۔ جب دل میں
یار ہو تو پھر
کیوں نہ مخلوق
سے دل بیزار
ہو ۔
۸۔ حسنِ یار
کی شان ہی ایسی
ہے کہ ہر حسن
اس کے آگے ماند
ہے ۔
۹۔ جو نگاہِ
یار کو پسند
ہو وہ کیونکر
کسی کو محبوب
رکھ سکتے ہیں
۔
۱۔ فقیر بے
نیاز سے محبت
رکھ کے بے نیاز
ہو جاتا ہے
۔ مگر ہر طالب
صادق
کے دل میں رہتا
ہے ۔
تکبّر
۱۔ تکبر وہ
زہر ہے جو فقیر
کو اعلیٰ مقام
سے ہٹا کر پستیوں
کی نیند سلا
دیتا ہے ۔
۲۔ تکبر سے
جو بچتا ہے
وہ محبوب کے
جلووں میں
بستا ہے ۔.
۳۔ تکبر فقر
کا متضاد ہے
۔
۴۔ تکبر نے
شیطان کو قرب
سے کرب میں
ڈال دیا ۔
۵۔ تکبر کی
انتہا ذلت
ہے ۔
۶۔ تکبر کا
تاج ذلت کے
پانی سے دھویا
جاتا ہے ۔
۷۔ جو طالب
باطنی مقامات
دیکھ کر تکبر
سے بچ گیا ،
گوہرِ مقصود
اس کے ہاتھ
میں ہوتا ہے
۔
۸۔ علم تکبر
میں ڈال کر
منزل سے گرا
دیتا ہے یعنی
گھر کا چراغ
گھر کو جلا
دیتا ہے ۔
۹۔ فقیر کا
تکبر دنیا
دار کے سامنے
مُوجبِ نصیحت
ہوتا ہے نہ
کہ اپنی بڑائی
کو ظاہر کرنا
۔
۱۔ تکبر اللہ
کو سزاوار
ہے اور بندے
کے لئے مُوجبِ
سزا ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>