باب
چہارم
القا ئے قلندر
ربِّ رحمٰن
و رحیم نے فرمایا:
واعبد ربک
حتی یاتیک
الیقین
ترجمہ: ’’ اور
اپنے رب کی
عبادت کرتے
رہیں یہاں
تک
کہ آپ کو (آپ
کی شان کے لائق
) مقامِ یقیں
مل جائے۔‘‘
(الحجر : 99 )
عبادت اس رنگ
سے ہو کہ انسان
یقین و عرفان
کی بلندیوں
کو چھو لے ۔
اللہ پاک نے
اپنے پیارے
محبوب جانِ
کائنات کے
بار ے میں فرمایا
:
انّا اعطینٰک
الکوثر
کوثر کے تفسیری
معارف پر غور
کریں تو اس
سے ایک مراد
آپ کو دنیوی
و اخروی تمام
نعمتوں کا
مالک بنا دینا
ہے ۔یعنی آپ
جسے چاہیں
، جب چاہیں
، جس قدر چاہیں
، عطا فرما
دیں ۔دینِ
مبین ایک ایسا
نظامِ حیات
ہے جو صرف ظاہری
رکوع و سجود
، قیام و قعود
، بے روح بھوک
پیاس کا نام
نہیں۔ بلکہ
یقین و عرفان
، سوز و گداز
، پیار و عشق
، خشوع و خضوع
، شرم و حیا
، زہد و استغناء
سے مزین ایسے
افراد کی تیاری
کا نظامِ زندگی
ہے ۔ جو علم
و عمل ، فہم
و بصیرت ، تقویٰ
و طہارت میں
اپنے وقت کے
غزالی و رومی
ہوں ۔ جو اپنی
نورانی قوتِ
باطنیہ سے
عوام الناس
کے قلوب و نفوس
کی مردہ کھیتیوں
کو زندہ کر
سکیں ۔ جن کے
فیوض و برکات
سے کشتِ قلب
و باطن مہک
اٹھے ۔جن کے
اثرات ہماری
ذاتی و اجتماعی
زندگی میں
دور رس تبدیلیاں
لا سکیں۔
حضور پیر سید
محمود الحسن
شاہ ‘ پیرانِ
پیر دستگیر
حضور غوث الاعظم
کے منظورِ
نظر ، لاکھوں
مردہ دلوں
کو زندگی بخشنے
والے ، شعور
ایمانی کی
بقا و حفاظت
کے لئے شب و
روز وقف کر
دینے والے
اور اعلیٰ
حضرت امام
احمد رضا خان
بریلوی کے
رنگ لئے ایسے
ولیِ کامل
شاہِ قلندر
پیر مستوار
ہیں جن کی ہر
سانس عشقِ
جانِ عالم
سے معطر و منزہ
رہتی ہے ۔جن
کی ہر بات اہلِ
نظر پر دنیائے
تصوف کا ایک
نیا در کھولتی
ہے ، عرفانِ
الٰہی کا نیا
رنگ بخشتی
ہے ، عشقِ مصطفی
کا نور عطا
کرتی ہے ۔
آج جب کہ انسان
خلاؤں کو تسخیر
کر چکا ہے ۔
اپنی تباہی
و بربادی کے
ساز و سامان
خود ہی بڑی
تندہی سے تیار
کرنے میں مصروف
ہے ۔ کفر و الحاد
کی آندھیاں
خرمنِ ایمان
کو جلا رہی
ہیں ۔ امتِ
مسلمہ پریشان
حالی اور درماندگی
کے اندھے کنویں
میں گرنے کو
ہے ۔ ایسے میں
یقین و عرفان
کے چراغوں
کی ضرورت ہے
۔ اللہ پاک
اور جانِ عالم
کے عشق و معرفت
کے نور کی ضرورت
ہے ۔ ظلمتوں
، تاریکیوں
، اندھیروں
، آلائشوں
میں مردِ درویش
کی ضرورت ہے
۔تنِ مردہ
میں جان ڈالنے
والے آبِ حیات
کی ضرورت ہے
۔مردہ دلوں
میں حیاتِ
نو ڈالنے کی
ضرورت ہے۔خاک
کے ڈھیر میں
روح پھونکنے
کی ضرورت ہے
۔
عارف ، قلندر
کے دل پر جو
خدا کی جانب
سے علم غیب
وارد ہوتا
ہے ۔ اسے اِلقا
کہتے ہیں اور
یہ سچ ہوتا
ہے ۔ اِلقائِ
قلندر یقین
و عرفان کے
وہ موتی ہیں
جو مقصودِ
عبادت ہے ۔
القائے قلندر
ساقیِ کوثر
کے عطا کردہ
حکمت و معرفت
کے جواہر ہیں
۔ اِلقائِ
قلندر آبِ
حیات کے چند
قطرے ہیں ۔
اِلقائِ قلندر
علمِ لدنی
کے خزانوں
سے چنے گئے
ہیرے جواہرات
ہیں ۔ طالبِ
صادق ، عاشقِ
حقیقی کی کشتِ
ایمان و ایقان
کو مہکا دینے
والے پھول
ہیں ۔ اِلقائِ
قلندر اہلِ
نظر کے لئے
سفرِ روحانیت
میں زادِ راہ
ہیں ۔ بقول
شاہِ قلندر
یہ میں نے بتائے
اسرارِ ربّانی
ہیں
کتابوں سے
نہیں لئے یاد
زبانی ہیں
جو طالبِ حق
ہیں پھرتے
ہیں سرگرداں
وہ اِن کو سمجھ
لیں یہ حق کی
کہانی ہیں
اِلقائِ قلندر
قبلہ و کعبہ
، محبوبنا
و مرشدنا شاہِ
قلندر پیر
مستوار کے
بتائے گئے
وہ رازِ حقیقت
ہیں جو قیل
و قال میں نہیں
، علم کے بے
معنی فلسفوں
میں نہیں فقط
اہل اللہ کے
پاس ہوتے ہیں
۔ بعض لوگ حق
کی باتیں کرتے
ہیں اور ہمارے
پیر و مرشد
کی زبان سے
حق گویا ہوتا
ہے ۔
پیار و مستی
، خلوتِ محبوب
کے مشاہدے
میں گم ہو کر
پیر و مرشد
نے طالبانِ
حق کے لئے یہ
راز معرفت
عطا کئے ہیں
۔جنہیں نبیل
عرفان صاحب
نے من و عن مرشد
پاک کے الفاظ
میں لکھا ۔اور
مرشدِ پاک
کی اجازت سے
اس کتاب میں
’’ اِلقائِ قلندر
‘‘ کے نام سے شامل
کئے گئے ہیں
۔
امتیاز جاوید
فقیر کا کردار
فقیر کا کردار
جو حقیقت میں
تھا یا موجودہ
وقت میں روحانیت
کا جو سلسلہ
ہے ، بامرِ
الٰہی بہت
کم اور خال
خال ہے لیکن
اصلیت میں
کردار جو فقیر
کا ہونا چاہئیے
، وہ اقامتِ
دین کے لئے
کام کرنا اور
ہمہ وقت کوشاں
رہنا اور ہمیشہ
اسی فکر میں
رہنا کہ غلبۂ
دینِ مصطفٰی
ہو ، یہ پہلا
کام ہے اس کا
، اور جب فقیر
دینِ مصطفی
پہ اپنے طالب
کو پکا کر لیتا
ہے ، چلا لیتا
ہے ، تو اس کے
بعد پھر طریقت
کی راہ پہ ڈالتا
ہے پھر طریقت
کے تمام اصولوں
پہ چلا کے معرفت
کی منزل پہ
لے جاتا ہے
۔اور جب معرفت
کی منزل نصیب
ہو جاتی ہے
تو اس کے بعد
حقیقت طالب
پہ آشکار کر
دیتا ہے۔
یہ بات اظہر
من الشمس ہے
کہ جو بھی اللہ
کے فقیر گزرے
ہیں ، انہوں
نے اپنے طالبوں
کو شریعت ،
طریقت ، معرفت
اور حقیقت
کی اسی راہ
پہ چلایا ہے۔
جو ان چاروں
میں سے ایک
کا بھی علم
نہیں رکھتا
اور ان چاروں
مقامات کا
واقف نہیں
، وہ ہرگز فقیر
نہیں ، نہ ہی
اس کی بیعت
ہے اور نہ ہی
اس کا سلسلہ
ہے ۔وہ نام
نہاد فقیر
ہو سکتا ہے
۔جیسا کہ آج
کل عام رواج
ہے ۔دعا ہے
کہ اللہ تبارک
و تعالیٰ صحیح
راہ اور صحیح
مسلک اور صحیح
مرشد اختیار
کرنے کی توفیق
عطا فرمائے
۔(آمین)
تغیر
کسی چیز کا
فیصلہ ذہن
کو ایک نقطہ
پر رکھ کر کیا
جاتا ہے ۔مگر
فقیر کا عجیب
حال ہوتا ہے
کہ تغیر و تبدل
میں ہمہ وقت
مصروف رہتا
ہے اور تمام
باتیں فیصلہ
کن ہوتی ہیں
۔اس کی وجہ
یہ ہے کہ بندہ
روحانیت کے
آغاز میں جب
تلاشِ حقیقت
میں نکلتا
ہے تو سب سے
پہلے اسے بھی
ایک نقطہ پرمرکوز
ہونا پڑتا
ہے ، وہ نقطہ
شیخ ہے۔اس
نقطہ سے نسبتِ
رسولِ پاک
نصیب ہوتی
ہے اور اس نسبتِ
پاک سے نسبتِ
وحدہ‘ لا شریک
نصیب ہو جاتی
ہے ۔چونکہ
جب اس کی نسبت
ملتی ہے تو
پھر صحبت اپنا
رنگ دیتی ہے
۔تو اللہ پاک
یہ چیز اپنی
شان سے عطا
کرتا ہے کہ
جب وہ ایک جگہ
پر متعین نہیں
ہے تو اس کی
صحبت والا
بھی کسی ایک
چیز پر مقرر
نہیں ہے ۔ توجہ
اس کے زیرِ
حکم ہے، اسی
طرح وہ یہ شان
اپنے بندے
کو عطا کرتا
ہے ۔ اہل اللہ
تغیرات کی
دنیا میں ہمہ
وقت محوِ سفر
نظر آتے ہیں
۔ اور ان کی
توجہ اسی طرح
ان کے زیرِ
حکم رہتی ہے
۔جبکہ ماسوائے
فقراء ، عام
انسان ، عالم،
فاضل ، دانشمند
، دانشور ،
فلسفی اس چیز
سے قاصر ہیں
۔اس بات کا
حصول ان کے
لئے ناممکن
ہے یہ ان کی
سوچ سے بھی
بالاتر ہے
کیونکہ حرکت
والی چیز کو
اسی لئے حرکت
والی کہتے
ہیں کہ وہ حرکت
میں ہوتی ہے
، ایک جگہ پر
نہیں ہوتی
۔ تو اس لئے
یہ تغیر جو
ان کے لئے تبدیلی
ہوتی ہے ، اسے
سمجھنے سے
وہ قاصر ہیں
۔ اور اس کا
نتیجہ اول
الذکر سطور
میں آ چکا ہے
۔
یہ بات حقیقت
ہے کہ انسان
چار چیزوں
کا مرکب ہے
، آگ ، ہوا،
مٹی ، پانی
۔ اب ان چاروں
اجزاء کے اثرات
انسان پر مرتب
ہوتے ہیں ۔
جب ہر جزو اپنا
اثر کرتا ہے
تو انسان میں
تغیر پیدا
ہوتا ہے ۔ تو
وہ تغیر یا
تو بیماری
کی شکل یا اس
کے مزاج کے
بدلنے کی صورت
میں نمودار
ہوتا ہے ۔اس
میں بھی اللہ
پاک نے بے شمار
راز رکھے
ہیں ۔ جنہیں
طب نے ظاہر
بھی کیا ہے
اور طبیب ان
چاروں اجزائے
ترکیبی کو
مدِ نظر رکھ
کر تشخیص بھی
کرتے ہیں اور
اس کے مطابق
دوا بھی دیتے
ہیں ۔یہ تجزیہ
ایک عام انسان
کی حالت کے
مطابق ہے کہ
ایک عام انسان
میں تغیر چاہے
بیماری کی
شکل میں ہو
، چاہے مزاج
کے بگڑنے کی
شکل میں ہو
، وہ ان چاروں
چیزوں کے اثرات
سے ہوتا ہے
۔ لیکن جب ایک
جستجوئے حق
کرنے والا
پا لیتا ہے
اس کو جس کی
وہ جستجو کرتا
رہا تھا تو
اس کی کیفیات
اور مزاج بدلنے
کے محرکات
اور ہو جاتے
ہیں ۔چونکہ
وہ اس مادی
جسم سے نکل
چکا ہوتا ہے
اور ترکِ وجود
اس کا اصل نقطہ
ہوتا ہے ، اس
وجہ سے وجودی
مرکبات اس
پر اثر انداز
نہیں ہوتے۔
اس میں تغیر
کا سبب ، کیفیاتِ
روح ہیں کیونکہ
اس کی روح اس
قدر پاک اور
لطیف بن چکی
ہوتی ہے کہ
وہ روحانی
دنیا کی سیر
میں اکثر مصروف
رہتی ہے ۔ اور
ایک واصل باللہ
شخص کی روح
صحبتِ مصطفی
کریم سے مستفیض
ہوتی ہے اور
دیگر انبیاء
و رسل کی ارواح
سے ملاقات
کرتی ہے ۔ملائِ
اعلیٰ کی طرف
سیر کرتی ہے
۔ عرش و کرسی
کی سیر کرتی
ہے اور اس سچے
عاشق کی روح
دیدارِ باری
تعالیٰ سے
مشرف ہوتی
ہے اور اس کے
بعد چونکہ
اس کی ڈیوٹی
زمین پر زمین
والوں کے لئے
لگا دی جاتی
ہے اور وہ رات
دن لوگوں کی
اصلاح کی خاطر
مصروفِ عمل
رہتا ہے اور
لوگوں کی اصلاحِ
احوال اس کا
مشن بن جاتا
ہے ۔اب وہ لوگوں
میں رہتا بھی
ہے اور ان کی
اصلاح بھی
کرتا ہے لیکن
اس کی روحانی
سیر اور روحانی
مشاغل بدستور
جاری رہتے
ہیں ۔تو اس
عمل کے باعث
اس میں روحانی
تغیر وقتاً
فوقتاً رونما
ہوتا رہتا
ہے ۔کبھی کبھی
کیفیت گھڑی
ماشہ ، گھڑی
تولہ کی سی
ہوتی ہے ۔ بقول
شیخ سعدی کے
وہ کہتے ہیں
:
’’ میں نے ایک
فقیر کو دیکھا
کہ وہ دریا
کے اوپر چل
رہا تھا اور
ایک وقت میں
وہ ایک چھوٹے
سے نالے میں
گر پڑا تھا
۔ ‘‘
تو اس طرح شیخ
سعدی بھی کہتے
ہیں کہ فقیر
پہ وہ حال وارد
ہوتا ہے اور
کبھی یہ حال
وارد ہوتا
ہے ۔
تو عام انسان
کا تغیر آگ
، ہوا، پانی
، مٹی کے اثرات
کی بدولت ہے
اور ایک روحانی
آدمی کا تغیر
اس کے روحانی
حال کی بدولت
ہے ۔
یہ باتیں ان
لوگوں کی ہیں
جو صاحبِ حقیقت
ہیں اور یہ
میری باتیں
متلاشیِ حقیقت
کے لئے زادِ
سفر ہیں ۔اور
انشا ءاللہ
جب کوئی عارف
ان باتوں کا
مطالعہ کرے
گا تو اپنی
معرفت میں
نشہ محسوس
کرے گا اور
جب کوئی طالبِ
معرفت مطالعہ
کرے گا تو اپنے
دل کے اندر
معرفت کو چمکتا
ہوا پائے گا
۔یہ باتیں
لعل و جواھرات
سے بھی بیش
قیمت ہیں کہ
یہ جوہری سے
نہیں ملتیں
۔ بڑے سے بڑے
بادشاہ کے
خزانوں میں
نہیں پائی
جاتیں بلکہ
جوہری اور
بادشاہ ان
باتوں کے محتاج
پائے گئے ہیں
۔جو اہلِ عقل
ہو گا ، ان باتوں
کا مطالعہ
کر کے اہلِ
دل بن جائے
گا ۔ اور اگر
ان باتوں کا
اہلِ دل مطالعہ
کرے گا تو وہ
دل والوں کا
رہنما بن جائے
گا۔خدا تعالیٰ
اگر توفیق
دے تو یہ بہت
بڑا گنج ہے
، بہت بڑا خزانہ
ہے اگر اسے
پڑھ کر سمجھ
سکیںتودنیا
اور آخرت خاص
کر باطن سورج
کی طرح چمکدار
بن جائے گا۔
نفس
کسی بزرگ کا
قول ہے کہ شیطان
نفس کا وزیر
ہے یعنی نفس
کو وہ مختلف
انواع و اقسام
کے مشورے دیتا
ہے ۔ اور اتنے
زیادہ مشوروں
سے کہیں نہ
کہیں نفس مرعوب
ہو جاتا ہے
۔لہٰذا جب
نفس مرعوب
ہو جاتا ہے
تو مکمل طور
پر شیطان کا
پیرو کار بن
جاتا ہے ۔پھر
وہ قدم قدم
پہ انسان کو
دھوکہ دیتا
ہے اور حکمتِ
عملی ایسی
ہوتی ہے کہ
بروقت انسان
اُسے پرکھ
نہیں سکتا
۔بعد میں افسوس
کرتا ہے اور
محض آہ و بکا
کے کچھ ہاتھ
نہیں آتا لیکن
اگر درویش
اپنے نفس پر
نظر رکھے اور
ہر فعل میں
سمجھنے کی
کوشش کرے کہ
حتیٰ کہ خیال
تک ذہن آئے
اس پہ غور کرے
کہ یہ کوئی
نفسانی تقاضا
تو نہیں ہے
۔ پس اگر سمجھے
کہ نفسانی
تقاضا ہے تو
اس کے الٹ عمل
کرے ۔
تو اس سوچ سے
اگر درویش
نفس کے الٹ
چلتا ہے تو
وہ دل کے فیصلوں
کے قریب ہو
جاتا ہے اور
دل میں یقینا
طالب کو شیخ
کی طرف سے القا
کر دیا جاتا
ہے۔ لہٰذا
دل کے فیصلے
درست ہوتے
ہیں ، بشرطیکہ
دل کو شیخ کی
جانب سے ذکر
بھی عطا کر
دیا گیا ہو
اور تصورِ
شیخ مکمل طور
پر وارد ہو
چکا ہو ۔ ایسا
طالب کبھی
شیطان کے جال
میں نہ پھنسے
گا اور نفس
کی قید سے ہر
وقت آزاد رہے
گا ۔
بیعت کی حقیقت
بیعت لفظ ’’ بیع
‘‘ سے ہے ، جس کا
معنی ہے فروخت
ہو جانا ، بک
جانا۔ جیسا
کہ حدیث میں
ہے :
مُوتُوا قَبْلَ
اَنْتَ مُوْتُوا
’’ مر جاؤ مرنے
سے پہلے ۔‘‘
تو بیعت ہونے
کا مفہوم میرے
نزدیک یہی
ہے کہ
’’مر جاؤ مرنے
سے پہلے ۔‘‘
وہ مرنا یہی
ہے کہ جب انسان
انتہائی تلاش
کے بعد مرشد
کو حاصل کر
لیتا ہے تو
پھراسے چاہئیے
کہ اس محبت
میں فنا ہو
جائے ۔یہ ایک
موت ہوئی تو
جو آنے والی
موت ہے ، جس
موت سے یہ عالم
ختم ہوتا ہے
اور عالمِ
برزخ شروع
ہوتا ہے ، وہ
دوسری موت
ہے جو حقیقی
اور اٹل ہے
اور سب کو آئے
گی ۔
تو اس دوسری
موت سے ہر کوئی
ڈرتا ہے اور
بچنے کی تدبیر
کرتا ہے ۔ خواہ
ہزار سال ہو
یا جتنی ہو
اور اسے پتہ
بھی ہے مگر
بچنے کی تدابیر
اختیار کرتا
رہتا ہے۔ لیکن
اس مرنے سے
پہلے جو یہ
موت مر گیا
( جس کی وضاحت
اوپر ہو چکی
ہے ) پھر یہ موت
اس موت کی پرواہ
نہیں ہونے
دیتی ۔ تو مرنے
سے پہلے مرنے
کا جو تصور
حدیث میں ملتا
ہے ، وہ یہ ہے
۔
فنا فی الشیخ
ہونے کے ساتھ
ہی نفس فنا
ہو جاتا ہے
۔ تو یہ ثابت
ہوا کہ نفس
کا مرنا فنا
فی الشیخ کا
مرہونِ منت
ہے یعنی محبتِ
شیخ میں مرنے
کے برابر ہے
۔ فنا فی الشیخ
جو ہوااس کے
نفس کی موت
واقع ہوئی
۔ مرنے سے پہلے
مرنے کا مفہوم
یہی ہے ۔ فنا
فی الشیخ کا
نفس خود مرتا
ہے اور جس کا
نفس مر جاتا
ہے اسے حقیقی
موت کی پرواہ
نہیں
رہتی ۔اس سے
بیعت کا ثابت
ہونا اس حدیث
سے ثابت ہے
۔ پہلا مرنا
یعنی مرنے
سے پہلے مرنا
نفس کی موت
ہے ۔ یہ موت
واقع نہیں
ہو سکتی جب
تک کہ رہنمائی
و رہنما میسر
نہ ہو اور ان
سب کے لئے مرشد
کا ہونا ضروری
ہے ۔ مرشد کو
پکڑ لیا تو
اس کی مطابقت
ضروری ہے اور
یہ بغیر محبت
کے کبھی نہیں
ہو سکتی ۔تو
نتیجہ یہ ہے
کہ جو محبتِ
شیخ میں فنا
ہو جاتا ہے
۔ اس طرح اس
کا نفس فنا
ہو گیا اور
وہ فنا فی الشیخ
پر پہنچ گیا
۔ اس طرح بیعت
کی حقیقت فقط
اتنی ہے ۔
ہر کام کے لئے
استاد کا ہونا
ضروری ہے ۔
اسی طرح حقیقت
کی راہ کے لئے
بھی رہنما
کا ہونا ضروری
ہے ۔ حضور کی
نسبت میں جو
بیٹھے اس نسبت
نے انہیں صحابہ
بنا دیا اور
ان میں تمام
کردارِ محمد
موجود تھا
اور صحابہ
نے سرکار کی
بیعت کی تو
ان میں وہ کردار
آ گیا اور اللہ
کے تمام احکامات
صحابہ تک آگئے۔
اسی طرح بیعت
در بیعت یہ
سلسلہ جاری
رہا اور صحابہ
کا کردار ان
کے جانشین
تک آگیا۔اس
طرح وہ وصفِ
رسول آپسے
لے کر صحابہ
تک نمونہ بنتا
ہے ۔ تو بیعت
ضروری ہے اس
لئے کہ طریقۂ
اسلام کا تمام
طریقہ شیخ
سے لے اورنسبت
در نسبت جو
سلسلہ بنتا
ہے اللہ اور
رسول تک پہنچتا
ہے اور جو کچھ
اسے ملتا ہے
وہ اللہ اور
رسول سے اس
کے مرشد تک
پہنچتا ہے
اور طالب کو
اپنا حصہ ملتا
ہے ۔ میں سمجھتا
ہوں اس کے علاوہ
بیعت کا مفہوم
اور کچھ نہیں
ہے ۔
دلِ زندہ
کی شناخت
دل وہ ہے جو
ہمہ وقت اپنے
یار کی یاد
سے آباد رہے
اور ماسوائے
محبوب دوسرا
تصور دل میں
نہ آئے ۔بقول
مولانا رومی
دل بدست آور
کہ حجِ اکبر
است
از ہزاراں
کعبہ یک دل
بہتر است
کعبہ بہ نگاہِ
خلیل آذر است
دل گزرگاہِ
جلیلِ اکبر
است
کہ ہزار کعبوں
سے ایک دل بہتر
ہے ۔مراد وہ
دل ہے جس میں
تصورِ محبوب
پختہ ہو جاتا
ہے اور جس میں
یہ ہے وہی گزرگاہِ
جلیلِ اکبر
ہے ۔تو جو دل
جلیلِ اکبر
ہوا کرتا ہے
، اس دل سے آواز
بھی جلیلِ
اکبر کی ہی
نکلا کرتی
ہے ۔ کہ اس کی
ہر دھڑکن اس
جلیلِ اکبر
کے نام کو الاپتی
رہتی ہے ۔ یہی
پہچان ہے دلِ
زندہ کی ۔دل
زندہ ہونے
سے پہلے ممکن
ہے تم نفس کی
مان رہے ہو
، یعنی بغیر
دلِ زندہ کے
انسان کو یہ
معلوم نہیں
ہوتا کہ وہ
دل کی مان رہا
ہے یا نفس کی
۔طالب کو چاہئیے
کہ ہمہ وقت
تصورِ شیخ
میں رہ کے ذکرِ
خفی میں رہے
۔اور اسمِ
ذات کا تصور
اس قدر پختہ
ہو جائے کہ
وہ اس کی آنکھوں
، دماغ ، دل
میں ، دونوں
ہاتھوں ، دونوں
ٹانگوں میں
، پورے بدن
میں سما جائے
اور واضح نظر
آئے ۔پھربیشک
اس کا بولنا
، اللہ کا بولنا
، اس کا دیکھنا
اللہ کا دیکھنا
اور اس کا سننا
اللہ کا سننا
ہے جیسا کہ
حدیث شریف
میں عبارت
ہے:
’’ اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے،
جو میرا ہو
جاتا ہے ، میں
اس کاہو جاتاہوں
، میں اس کی
آنکھیں ، ہاتھ
،پاؤں ،دل
، دماغ بن جاتا
ہوں ، پھراس
کا دیکھنا
میرا دیکھنا
ہے ، اس کا بولنا
میرا بولنا
ہے ، اس کا سننا
میرا سنناہے
، اس کا چلنا
میرا چلنا
ہے ۔‘‘
اصل بات ’’ دل
کی زندگی ‘‘ کی
ہے ۔ اگر اللہ
پاک یہ زندگی
عطا کر دے تو
پھر کوئی علم
انسان کی دسترس
سے باہر نہیں
رہتا اور کوئی
ایسی چیز نہیں
بچتی جو اُس
کی تسخیر سے
باہر ہو ۔ جس
کے دل میں اللہ
کا نام آباد
ہو جاتا ہے
‘ تمام جہان
پھر اُس کے
زیرِ امر آجاتا
ہے ۔ یہ روحانیت
کی اصل ہے ‘ جو
کچھ بھی ہے
اللہ کے ذکر
میں ہے اور
وہ ذکر شیخِ
کامل بتاتا
ہے اور شیخِ
کامل سے طالبِ
صادق ہی لیتا
ہے ۔ طالب صادق
ہو اور شیخ
کامل ہو تو
پھر سنگت کا
مزہ آتا ہے
۔
چار راز
اسمِ اعظم
، لیلۃ القدر
، جمعہ کی پوشیدہ
ساعت ، فقیر
، یہ چاروں
راز ہیں ۔ ان
کی حقیقت تب
واضح ہو گی
جب انسان مرشدِ
کامل کے زیرِ
درس رہ کر طالبِ
صادق بنے اور
مکمل محبتِ
شیخ میں فنا
ہو جائے ۔اس
کے بعد اس کو
ان چار چیزوں
کے راز سے آگاہی
ہو گی ۔بنا
توجۂ شیخ یہ
بہت محال اور
ناممکن ہے
۔
جب صحیح اور
اصل معنوں
میں محبتِ
شیخ دل میں
جاگزیں ہو
جاتی ہے تو
اپنے اثرِ
بے مثال سے
اور طاقتِ
لازوال سے
اغیار کی محبت
کو تباہ کر
دیتی ہے اور
جس محبت کا
یہ جزو ہے یعنی
محبتِ محمدی
، اس تک پہنچا
دیتی ہے اور
وہ محبتِ محمدی
جس محبت کا
جزو ہے یعنی
محبت اللہ
، اس تک پہنچا
دیتی ہے ۔ یوں
طالب فنا کا
مقام حاصل
کر کے بقا کے
مقام پر فائز
ہو جاتا ہے
۔ پھر اس خوشبوئے
ذات کو تمام
جہانوں میں
بکھیر دیتا
ہے اور لاکھوں
کروڑوں طالبانِ
حق اس سے مستفیض
ہو کر اپنے
دلوں کو جگمگاتے
ہیں ۔
عشق میں امتحان
عشق میں امتحان
کیوں ضروری
ہے ؟
عشق ایک مرتبے
کا نام ہے ۔
عشق وہ مرتبہ
عطا کرتا ہے
کہ ظاہری کوئی
مرتبہ اس مرتبے
کے شایانِ
شان نہیں ہو
سکتا ۔ اور
تمام ظاہری
مرتبوں کو
یہ فنا کر دیتا
ہے ۔ تو جب کسی
ظاہری مرتبے
کو حاصل کیا
جاتا ہے ، مثلاً
پہلی جماعت
سے دوسری جماعت
کا مرتبہ حاصل
کیا جاتا ہے
تو امتحان
پہلی جماعت
کا ہوتا ہے
اور مرتبہ
دوسری جماعت
کا ملتا ہے
۔ اسی طرح دوسری
سے تیسری اور
اسی طرح سے
پرائمری کے
مرتبے کا امتحان
ہو گا تو پرائمری
کا مرتبہ پائے
گا ۔ اور جب
مڈل کے مرتبے
کا ہوگا تو
ہائی اور پھر
اسی طرح ہائی
سے اگلی جماعتوں
میں پہنچے
گا ۔تو ہر جماعت
کا امتحان
اس درجے کی
نوعیت کے مطابق
ہوا کرتا ہے
۔
تو چونکہ یہ
تو ظاہری درجات
جو ہیں ،یہ
اس کا سلسلہ
ہے اور عشق
کا درجہ ان
سے اعلیٰ ہے
اور تمام ظاہری
درجوں کو فنا
کر دینے والا
ہے اور اس وجہ
سے اس کا امتحان
سب سے سخت اور
سب سے بڑا ہو
گا اور تب جا
کے عشق کے درجے
پر کوئی شخص
فائز ہو گا۔
سوال یہ تھا
کہ عشق کا امتحان
کیوں ضروری
ہے ؟ تو جب ان
چھوٹے درجات
کو پانے کے
لئے امتحان
ضروری ہے ،
جن کی وقعت
عشق کے آگے
کچھ بھی نہیں
ہے تو اتنے
بڑے درجے کو
حاصل کرنے
کے لئے کیا
امتحان ضروری
نہیں ہے ؟
درجۂ عشق ،
مقامِ عشق
فقط وہیں تک
محدود نہیں
رکھتا ، بلکہ
مقامِ رضا
پہ فائز کر
کے محبوبِ
حقیقی تک جا
ملاتا ہے ۔
تو وصالِ یار
کیلئے آتشِ
عشق کا ہونا
لازم ہے ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>