بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین

علم کا معنی ہے جاننا ۔ یقین کا معنی ہے کسی ایک نقطہ پر جم جانا مکمل یکسوئی کے ساتھ ۔ اس (علم ) کی مثال یوں ہے کہ ایک گھڑا ہے ، دور پڑا ہے ۔ فقط یہ علم ہے کہ اس میں پانی ہے ۔ اس کو آنکھوں سے پاس جا کر نہیں دیکھا ۔ فقط علم کی حد تک ہے ۔ اس میں کوئی اور چیز ہو سکتی ہے ۔تو فقط جاننے کی حد تک معلوم ہونا ، یہ علم الیقین ہے کہ اس میں پانی ہے ۔اور جب نزدیک جا کراس کو آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس میں پانی ہے تو یہ عین الیقین بن گیا۔لیکن مکمل بات اب بھی نہیں کہ دیگر مائعات پانی سے مماثلت رکھتی ہیں کہ وہ پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر دیکھنے سے یہ پتہ چلا کہ کوئی مائع ہے اور پانی بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن جب اس کو چکھ لیا ، پھر مکمل یقین ہو گیا کہ یہ واقعتا پانی ہے ۔ اسے حق الیقین کہتے ہیں کہ یقین تو پہلے بھی تھا ، جاننے کی حد تک ۔ دیکھ کر بھی مکمل نہ ہوا ۔ مگر جب اس کو چکھ لیا ، ذائقہ محسوس ہو گیا ، جاننے کا حق ادا ہوا تو حق الیقین بن گیا ۔
جب مرشد کے متعلق طالب کے ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے تو یہ علم الیقین ہوا ۔ بارگاہِ مرشد میں حاضری سے عین الیقین ملتا ہے اور مطابقت کر کے اس کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے تو جس کی محبت میں فنا ہو جائے تو اس ذات میں گم ہو کر اس کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ حق الیقین ہوا ۔
اسی طرح احادیث اور سیرۃ الرسول سے آپ کے متعلق علم الیقین حاصل ہوتا ہے اور پھر توجۂ شیخ سے زیارت النبی ہوتی ہے تو عین الیقین بن جاتا ہے ۔ عین الیقین اُس پر بنتا ہے جو پڑھا اور دیکھا ہو ۔ پھر مثلِ سابق جیسا کہ پہلے وہ فنا فی الشیخ ہوا تھا ، اسی طرح وہ فنا فی الرسول ہو جاتا ہے اور پھر اس ذاتِ عالی کا فیضِ خاص اسے نصیب ہوتا ہے تو اس فیض کا مزہ چکھتا ہے تو اسے حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے ۔ یعنی پڑھا ، دیکھا اور فیض نصیب ہوا ، وہ بھی ٹھیک ۔
اللہ کے متعلق جیسا کہ رسول نے فرمایا ، سن کر علم کی حد تک یقین ہوتا ہے ۔پھر جب طالب پہلی دونوں منازل طے کر کے مرشد و رسول میں فنا ہوجاتا ہے تو اس کو دیدارِ تعالیٰ بھی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ عین الیقین بن جاتا ہے اور پھر جب فنا فی اللہ ہوتا ہے ، اپنی ذات کو ختم کر دیتا ہے اور اس کی ذات کا وجود اس پر وارد ہو جاتا ہے ، غالب ہو جاتا ہے تو اس طرح وہ اس کی محبت کا مزہ چکھتا ہے ، تو اس طرح اس کو حق الیقین نصیب ہوتا ہے اور وہ بقا کی منزل پا کر سب سے اعلیٰ منزل پر فائز ہو جاتا ہے ۔

فوق البشر

اللہ نے قرآن میں فرمایا :
تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض (البقرۃ : 253 )
ترجمہ: ’’ یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے ) ہم نے ان میں
سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔‘‘
یعنی : ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے مگر سب پر فوقیت آقا کو نصیب ہوئی ۔ آپ سے جن لوگوں کو نسبت ہوئی ، اہلِ بیت و صحابہ تھے ۔ ان کو دیگر بشروں پہ فوقیت حاصل ہوئی۔ پھر آپ کی امت کے اولیائے کرام کو دیگر بشروں پہ فوقیت حاصل ہوئی ۔ جو شخص اپنے نفس کو مٹا دیتا ہے ، اپنی ذات کو مٹا دیتا ہے ، وہ لباسِ بشر میں تو رہتا ہے مگر تمام بشریت پہ اللہ اس کو فوقیت عطا کرتا ہے ۔ تو جس نے نفس کو ختم کیا ، تقویٰ اختیار کیا ، اللہ کی معرفت کو پا لیا ۔ اللہ پاک کی طرف سے اس کو فوقیتِ بشر عطا ہوجاتی ہے ۔ جب انسان نفس پہ کنٹرول کرتا ہے ، اس کی روح و دل زندہ ہوجاتے ہیں ۔ دل کی آنکھیں کھلتی ہیں ، روح زندہ ہوتی ہے ، اس کی باطنی طاقتیں اجاگر ہوتی ہیں ۔ اس کا چلنا ، پھرنا ، بولنا کچھ اور معنی رکھتا ہے ، یہ سب فطرت کے تمام تقاضوں سے ہٹ کے ہوتا ہے ۔ انسانی فہم و ادراک اس کو نہیں پہنچ سکتا ۔ آنے والے حالات اس کے قلب پر منکشف ہوتے ہیں ۔ وہ صاحبِ کشف ہو جاتا ہے ۔دیگر انسانوں کے راز اس پہ کھل جاتے ہیں ۔ جس طرف توجہ کرے وہ حقیقت سمجھ لیتا ہے اور اس کو ایک خاص باطنی قوت نصیب ہوتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جب کسی مردِ قلندر نے اپنے نفس کو چھوڑ کر تقویٰ اختیار کر کے اللہ کی معرفت حاصل کی اور جب اس کو تمام لوگوں پہ فوقیت عطا کر دی گئی تو اگر وہ کسی دشوار گزار مقام ،جنگل میں بھی بیٹھ گیا تو لوگ جوق در جوق فقط اس کی زیارت کو پہنچتے ہیں ۔وہ یقینا کوئی مافوق الفطرت شے بن گیا کہ یہ فطرت میں تو ایسا ممکن نہیں کہ انسان کسی خطرناک مقام پر ، دشوار راستے سے جائے ۔ لیکن لوگ آج تک ایسی شخصیات کے پاس جاتے ہیں ۔ ایسی شخصیات ہی فوق البشر اور مافوق الفطرت ہیں ۔
’’ الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من میرے وچ لائی ھُو ‘‘ ۔ میں تین چیزیں ہیں ۔ فنا فی الشیخ ، فنا فی الرسول ، اور فنا فی اللہ ۔ طالب ذکرِ اللّٰہ ھُو کرتا رہے ، نقش دل پر کرتا رہے تو پھر خوشبو آنے لگتی ہے ۔ اور وہ ہے چنبے دی بوٹی ۔ چنبے کے پھول میں پانچ پتیاں ہوتی ہیں ۔اللہ اس سے بنتا ہے ، پانچوں کلیوں سے اور یہی پنج تن کی خوشبو ہے ۔بقول شاہِ قلندر
ایہہ راہ نئیں ہر جوگی اِس دی طرز عجیب اے
ایتھے کجھ نئیں تکیا جاندا امیر اے یا غریب اے
سمجھیں یار نوں سب توں اُتے تو محمود
اپنے آپ نوں مارئیے تَد ہوندا یار نصیب اے
یہ لا الٰہ کی تفسیر ہے ۔ ۔ ۔ اپنے آپ کو ختم کیا ، تمام موجودات کو ختم کیا ۔ الاّ اللّٰہ ۔ ۔ ۔ تو پھر خود میں اور تمام موجودات میں اللہ کا نور اُتر آیا ۔ محمّد الرّسول اللّٰہ ۔ ۔ ۔ حضور سے رحمت نصیب ہو گئی ۔ گویا کچھ نہیں۔ ۔ ۔ اللہ ہے اور اُس کے محبوب کی رحمتِ پاک ہے۔ اِس تصور کے ساتھ کلمہ پڑھنا عین فقر ہے ۔

بندگی کی حقیقت

پہلے انسان خدا کا بندہ ہوتا ہے ۔ پھراس کو اپنے محبوب بندے کے بندوں میں شامل کیا ۔ جب وہ محبوب بندوں سے مل جاتا ہے تو اس کو بھی شانِ محبوبیت عطا کردیتاہے یوں بندگی کے برتاؤ سے محبوبیت کا برتاؤ شروع ہو جاتا ہے ۔ محبوبیت میں صاحبِ راز ہو جاتا ہے ۔ادھر بندگی میں یہ ہے کہ بندہ ہوں ، بندہ ہوں اور ادھر یہ ہے کہ میں ہی ہوں ، میں ہی ہوں ۔
الّذی علّم بالقلم o علّم الانسان مالم یعلم o
(العلق : 4،5 )
لکھنے کو کیا کیا نہیں ہے ۔ ہر چیز کو لکھنا ، یہ لکھنے والے کا کام ہے ، ہر کوئی کام اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ہے اور اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا کہ نہیں ہے انسان کے لئے مگر سوائے جتنی اس نے کوشش کی ۔ یعنی ہماری کوشش کے تابع ہمارے کام رکھ دئیے گئے ہیں ۔ جتنی کوشش کرتے ہیں ، تقریباً اتنا ہی پا لیتے ہیں ۔ مگر کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے ۔ کیونکہ قادر اللہ کی ذات ہے اور ہر چیز اس کے تابع ہے ۔انسان ذات سے مل کے کچھ قدرت کا نور حاصل کرتا ہے ، کچھ صفات سے نسبت کر کے قدرت کا نور حاصل کرتا ہے ۔تو چونکہ لکھنے والا کیا کیا نہیں لکھ سکتا مگر ہر لکھنے والا شاید مرضی کے مطابق نہ لکھ سکے مگر مندرجہ بالا طریقہ جو میں نے بیان کیا ،اس سے لکھنے میں بہت سی چیزیں آ سکتی ہیں ۔
اب بات یہ ہے کہ جو کچھ ایک انسان لکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دراصل خود سے نہیں لکھ رہا ہوتا، لکھے میں سے لکھ رہا ہوتا ہے ۔ چونکہ پہلے قدرت نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ ہر چیز کے علم کے مطابق لکھ دیا ہے ۔ تو چونکہ جو کچھ ہونا ہے یا لکھنا ہے تو یہ تو پہلے ہی لکھا جا چکا ہے ۔اب لکھنے والا جو کچھ لکھتا ہے ، سابقہ تحریر سے لکھتا ہے ۔اسی وجہ سے جب ایک لکھنے والا کسی مضمون کو پیش کرتا ہے تو وہ بہت سے لوگوں کے لئے نئی چیز کا لکھنا ہو تا ہے ۔ تو اس طرح مختلف قسم کے لکھنے والوں سے بہت سے نئے مضمون اور علوم سامنے آتے ہیں جو ہمارے لئے تو نئے ہیں ۔ چونکہ وہ علم تو پہلے سے موجود ہے اور اسے ظاہر ہونا ہوتا ہے ۔اب لکھنے والا لکھتا ہے تو وہ علوم ظاہر ہوتاہے اورآشکار ہوتا ہے اور یقینا جو طلب رکھتے ہیں آشکار بھی انہی پہ ہوتا ہے۔
ایک لکھنے والے سے بہت سارے لوگوں کو بہت سی مقدار میں علوم حاصل ہو گئے حالانکہ اس نے لکھے سے لکھا تھا ۔ تو جس نے سب کچھ لکھا ہے اور اس سب کچھ لکھے کی دلیل قرآنِ کریم ہے ۔ اس کے ساتھ دوستی کتنی زیادہ دل کو سکون دیتی ہو گی اور کتنے علوم کا مالک بنا دیتی ہو گی ۔ کتنی قدرتیں ایسے شخص کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہوں گی اور اس سے کتنے لوگوں کو نفع ہو گا ۔ اس کی مثال وہ اللہ کے ساتھ دوستی کرنے والے بندے ہیں ، جن کو حیاتِ ظاہری سے گزرے ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے ہیں ، آج بھی ان کے مزار روشن ، چمکدار ہیں اور حیاتِ باطنی کے ساتھ یہ لوگ زندہ ہیں اور لوگوں کی قسمت کے فیصلے اچھے انداز میں لکھ رہے ہیں ۔ اور یہ اس کی قدرتِ کاملہ ہے جو سب کی تقدیر کا لکھنے والا ہے ۔ اس کی دوستی سے اس کا دوست سب کے لئے اچھا لکھنے کا حامل بن جاتا ہے ۔
یہ بارہا میں نے دیکھا ہے کہ لکھے سے تنگ لوگ ایسے اللہ کے دوستوں کے پاس آکر اپنا لکھا درست کرواتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس پہ قادر ہے کہ وہ لکھے کو اچھا لکھ سکے۔ ویسے تو اس کی ہر لکھی ہوئی چیز اچھی ہے ، کیونکہ محبوب پہ گلہ نہیں ہوتا ۔ لیکن بعض لوگوں کی لکھت میں سختیاں اور عذاب ہوتے ہیں ۔ تو اللہ کا بندہ ، اللہ کے بندوں کے یہ احوال دیکھ کر پریشان ہوتا ہے اور ان کے لئے دعا کرتا ہے کہ یہ بندے تو اللہ ہی کے ہیں پھر ان پر تنگی کیوں ہے ۔ حالانکہ وہ تنگی ان کو منجانب رب العزت ہی ہوتی ہے ۔ اس اللہ کے بندے پر جو انعامات ہوتے ہیں اور جو اس کو کیفیات میسر ہوتی ہیں ، ان باطنی توجہات سے وہ ایسے مصیبت زدہ لوگوں کے احوال کو بدل دیتا ہے ۔ یہ اللہ ہی کی مدد ہوتی ہے جو وہ اپنے بندے سے دیگر بندوں کے لئے ظاہر کرتا ہے ۔
رب کی لکھت کا ایک اور منظر کہ میں نے دیکھا کہ ایک بیج کی قسمت میں کیا لکھا ہے کہ میں اس کو دیکھتا ہوں ، ایک بے جان لکڑی ، پتھر یا دھات کی طرح یعنی بے جان سا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے ۔ جب اس کو بو دیا جاتا ہے تو اس سے ایک پودا نکلتا ہے ۔ اب اس بیج کی قسمت میں یہ لکھا تھا کہ بے جان لکڑی ، پتھر کی طرح ہے ۔ جب کسی مرد کے ہاتھ لگا ، اس نے بو دیا ۔ وہ پودے کی شکل میں زمین سے نمودار ہوا۔ یعنی جب اس نے آنکھ کھولی تووہ ننھا منا چھوٹا سا پودا تھا ۔ اب اس کی آبیاری اسی مرد کے زیرِ نگرانی ہوتی رہی ۔اب جو بڑا ہوا تو کانٹ چھانٹ ہوئی ۔ اب اس کی قسمت میں کانٹ چھانٹ لکھی تھی ۔ اگلے قدم پہ قدرت نے یہ لکھا تھا ۔ اب وہ اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ سایہ دے گا تو قدرت نے لکھا تھا کہ وہ سایہ دے گا اور اس کے نیچے بندے بیٹھ کے راحت و سکون محسوس کرتے ہیں ۔ اب ان بندوں کی قسمت میںرب نے یہ راحت و سکون لکھا تھا لیکن اس درخت کے نیچے بیٹھ کے لکھا تھا اور کہیں نہیں مل سکتا تھا ۔
تو اگر سوچا جائے تو سکون دینے والی تو اس کی ذاتِ پاک ہے ۔ اب اس ذاتِ پاک نے دو کام لکھے ۔ ایک یہ کہ ان بندوں کی قسمت میں سکون لکھادوسرا یہ کہ اس درخت کے وسیلے سے لکھا کہ ان کو سکون تو میسر ہو گامگر اس درخت کے سائے میں آکر ہو گا ۔ تو اسی طرح وہ جس کے لئے وہ اپنی شناسائی لکھتا ہے تو اسی کے لئے ایک ایسے مردِ کامل کا سایہ بھی لکھ دیا کہ وہ شخص اس کی شناسائی حاصل
کرنے کے لئے اس مردِ کامل کے سائے تلے آتا اور اسے شناسائی حاصل ہوتی ۔ اور اسے تب جا کر سکون و قرار نصیب ہوتا ہے کیونکہ اس کا قرار تو حق تعالیٰ نے شناسائی میں لکھا تھا اور حق تعالیٰ کی شناسائی اس مردِ کامل کے سائے میں لکھی تھی اور مردِ کامل کا سایہ اس مرد کی قسمت میں لکھا تھا ۔ تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ وہ لکھے کا دیتا تو ہے مگر اس لکھے کو اپنے اپنے انداز میں لکھ کے دیتا ہے ۔
فقیر نے آج تک کسی سے زیادتی نہیں کی ۔ جو یہ سمجھتا ہے میرے ساتھ زیادتی ہے وہ دراصل زیادتی نہیں دراصل اس کی اپنی کم نسلی ہے ۔ محبتِ الٰہی کی طرف بلانے والے ہی اصل محبت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اس وجہ سے اصل محبت جو ہے وہ اعلیٰ چیز ہے ۔ اس میں کھوٹ نہیں ہوتا اور اس میں کسی قسم کی غلاظت نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں سے خرابی کی کیسے توقع ہو سکتی ہے ۔محبتِ الٰہی کو تقسیم کرنے والے اصل ہوتے ہیں اور نایاب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ عام انسان کا ظرف اتنا نہیں ہے کہ ان کو پہچان سکے ۔اور یہی فقیر کا ظرف ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ ظرف ہو کر کم ظرف سے پیار کرتا ہے ، کیونکہ کم ظرف کی اعلیٰ ظرف کے ساتھ کوئی نسبت نہیں ہوتی ۔ اور اس طرح وہ بے وفائی کرتا ہے ۔ اور ان کم ظرفوں میں بعض ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ حالانکہ بات یہی ہوتی ہے کہ وہ فقیر جیسا ظرف خود ہی نہیں رکھتے اور ان کی اپنی کم ظرفی ان کے اوپر غالب آجاتی ہے۔ وہ فقیر کی بے وفائی نہیں ، دراصل ان کی اپنی کم ظرفی ہوتی ہے ۔

حقیقی حُب
طلب ، حاصل ، محبت ، عشق ، فنا ، بقا ،انا ، محبوب

ہر ایک کو اپنے محبوب پہ ناز ہوتا ہے ۔ حسنِ محبوب کا طالب ہر عشق والا ہوتا ہے ۔اور رخِ محبوب کو دیکھ کر دل کی اتھاہ گہرائیوں میں ہر عاشق سکون محسوس کرتا ہے ۔ نظرِ محبوب کا متلاشی ہونا ہرعاشق کا شیوہ ہے ۔ الغرض ہر ایک عاشق اپنی جسارت کے مطابق اپنے محبوب کا خواستگار ہوتا ہے اور اس چاہت کو دل میں لئے پھرتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے خوش ہو جائے اور الفتِ محبوب کو پانا ہر عاشق کا آخری اور سب سے بڑا مدعا ہے۔ لیکن مزہ تب ہے کہ جب محبوب معبود ہو ۔ پھر قلندر نے دیکھا ہے کہ رات دن عجیب کیفیاتِ باطن منکشف ہوتی رہتی ہیں ۔پھر اس سے بھی بڑھ کے ایک بات یہ ہے کہ محبوب معبود اور طالب محمود ہو تو پھر بات کچھ اور دیکھی ہے ۔
حقیقی حُب بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے ۔ حقیقی حُب کی ایک مثال یوں بھی ہے کہ ایک عاشق کو سنگسار کیا جا رہاتھا ۔ اسے کوئی فکر نہ تھی ۔ تو اگر اصل حُب ہے، محبت ہے تو اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ فکر کو دور کرتی ہے اور ایک فکر میں بند کر دیتی ہے ۔کیونکہ وہ ایسی فکر ہوتی ہے کہ اس فکر میں عاشق کو راحت و مسرت نصیب ہوتی ہے اور وہ خوشی باطنی ہوتی ہے ۔ اس خوشی کے ظاہری اثرات فکر کا سا انداز لئے ہوتے ہیں ۔ جب اس عاشق کو سنگ سار کیا جارہا تھا ، تو اسے جوں جوں پتھر لگ رہے تھے ، خون بہہ رہا تھا ، وہ شدید زخمی ہو رہا تھا اور اس کے جسم کے ٹکڑے اڑ رہے تھے لیکن وہ ٹَس سے مس نہ ہوا ۔ بہت سارے لوگ
حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ ایک خلافِ عادت بات ہے کہ انسان کو تکلیف ہو
اور اس میں کوئی آثار غم و غصے کے پیدا نہ ہوں اور وہ بدستور مطمئن نظر آئے ۔اس سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہے کہ تجھ پہ اثر نہیں کسی چیز کا ؟ اس نے کہا کہ میرا یار میرے سامنے ہے ۔ میری توجہ اس میں ہے ۔ اس وجہ سے مجھے کسی اور چیز کا اثر نہیں تو اس واقعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جس وقت طالب مطلوب میں ضم ہو جائے تو مطلوب کا مکمل اثر لیتا ہے ۔ دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں رہتی اور کسی تکلیف کا اثر نہیں ہوتا اور کوئی درد اس پہ حاوی نہیں ہوتا اور کوئی بھی ظاہری اثر اسے پریشان نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ وہ اپنے یار میں اس قدر محو ہے کہ اس کی کیفیات اپنے وجود میں دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
تو وہ لڑکا جو سنگ سار ہو رہا تھا ، اس کا محبوب اس کے سامنے کھڑا تھا ۔وہ اس قدر اس میں غرق ہو گیا تھا کہ اسے لگنے والے پتھروں کا اثر نہ تھا کیونکہ اس کا محبوب اس پہ واردِ وجود تھا ۔ تو چونکہ اس نے اپنے وجود کی نفی کی ہوئی تھی اور وجودِ یار کو غالب کر لیا تھا ۔ تو اس کا یار سامنے کھڑا سلامت تھا تو اس وجہ سے اسے کوئی تکلیف نہ تھی کیونکہ اس کے یار کا وجود اس پر غالب آگیا تھا ۔ اب اس کے جسم کو کاٹو، ٹکڑے ٹکڑے کرو ، جلاؤ ، تب بھی اسے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی اپنے وجود کی نفی کر چکا ہے اور وجودِ یار کو پا گیا ہے ۔
یہی صورتِ حال حقیقت کی زندگی میں ہے کہ فقیرِ کامل مجاہدے کے بعد مشاہدے میں پڑتا ہے تو یار اس کا اس کے لئے عیاں ہو جاتا ہے اور یہ اس کو بھی عشقِ کامل کے باعث یہ منزل نصیب ہوتی ہے ۔اور فقیر بھی اپنی ذات کی نفی کرتا ہے اور ذاتِ وحدہ‘ لا شریک کو اپنے تن اور من پہ وارد کرتا ہے اب فقیر کے ساتھ بھی چاہے جو کچھ ہو ، یہ ایک سچا عاشق ہوتا ہے یہ بھی پرواہ نہیں جانتا ۔ اُس پر بھی عکسِ جمالِ یار ہوتا ہے ۔یار کی خاطر قربان ہونا عشق میں سب سے بڑا مقام ہے ۔ اور فقیر کے لئے یہ عام بات ہے ۔ عاشقِ مولا کے لئے بڑی بات ہمہ وقت محویت ہے چاہے وہ اس جہان میں ہو ، چاہے اُس جہان میں ہو ۔ قلندر کے لئے دونوں جہان یکساںہیں اور قلندر کی اعلیٰ منزل ہمہ وقت استغراقِ یار ہے ۔

دل

حضور کا ارشاد ہے کہ
قلب المؤمن عرش اللہ تعالیٰ
ترجمہ: ’’مؤمن کادل اللہ کا عرش ہے ۔‘‘
اب خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر اسے پمپنگ مشین کہتے ہیں کہ یہ خون شریانوں سے رگوں میں اور رگوں سے شریانوں میں پمپ کرتا ہے ۔ اب یہ عرش کیسے ہے ؟ ایک انسان اور اس کے اندر مٹھی بھر گوشت کا لوتھڑا ، تو یہ دنیا کا ہر ڈاکٹر کہے گا کہ جب یہ پمپنگ مشین بند ہو جائے تو انسان مر جائے گا۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس کے بند ہونے سے انسانی جسم کا ایک بہت بڑا حصہ بند ہو جاتا ہے ۔ اس کی پوری مشینری کا کام بند ہو جاتا ہے ۔ اس لئے ڈاکٹروں کے مطابق انسان مر جاتا ہے ۔تو جب جدید طب کے مطابق دل ایک پمپنگ مشین ہے تو اس دل کے پمپنگ کرنے سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے ۔ جسے ہم دھڑکن کہتے ہیں ۔تو وہ آواز بند ہونے سے دوسرے لفظوں میں انسان مر جاتا ہے ۔پتہ یہ چلا کہ وہ آواز ہی انسان کی حیات ہے ۔ حیات کیا ہے؟ حیات کے جانے سے روح چلا جاتا ہے ۔تو پتہ یہ چلا کہ حیات اور روح ایک چیز ہیں ۔اب روح کیا ہے ؟ جو انسان کو حیات بخش رہا ہے ۔ روح کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ روح میرا امر ہے ۔ اب امر کیا ہے ؟ اللہ کے منہ سے نکلی ہوئی آواز کا نام ہے امر ۔ پتہ یہ چلا کہ حیات گئی ، روح گئی ، اللہ کی آواز گئی اُس بندے سے تو باقی بندہ مردہ رہ گیا ۔
تو ثابت یہ ہوا کہ انسان کے دل کی آواز جانے سے حیات گئی ، روح گئی ، اور ایک اللہ کا امر اس بندے سے نکل گیا ۔جو آوازکی شکل میں تھا ۔تو اس سے ہمیں یہ حتمی نتیجہ حاصل ہو گیا کہ اللہ کی ذات انسانی دل میں دل کی دھڑکن کے ساتھ ملی ہوئی ہے ۔ چونکہ روح اس کا امر ہے اور امر کا معنی ہے اللہ کی آواز تو وہ آواز انسان کے دل کی دھڑکن کی آواز کی پکار ہے ۔تو جب وہ دل کی آواز بند ہوئی تو وہ تب ہی بند ہوئی جب وہ اللہ کی آواز جو روح کی شکل میں موجود تھی ، اس سے جدا ہو گئی ۔ تو اسی وجہ سے کہ اللہ کا عرش دل کو کہا گیا ہے ، جہاں اللہ کی آواز موجود ہے ، وہی تو عرش ہے ۔

درویش اور فقیر

درویش دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ’’ دُ ر ‘‘ جس کا معنی ہے موتی اور ’’ ویش‘‘ جس کا معنی ہے بکھیرنا ۔ ایسی بات لکھنے والا ، بتانے والا جس سے معرفت کے سُچے موتی بکھر جائیں اور جہاں بکھریں ، وہاں صرف وہ معرفت ہی نہیں ، معرفت کا گلستان آباد ہو جائے ۔ اسے درویش کہتے ہیں ۔ بقول سلطان باہو ،
’’ دُرویش بن ، دَرپیش نہ بَن ۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ درویش کا کام ہے کہ معرفت کے موتی کو یعنی جو اس نے بکھیرنا ہے ، طالب کے دل میں مانندِ گلزار نچھاور کردے ۔
درویشی ، فقیری یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور ان دونوں لفظوں میں سارے جہاں پوشیدہ ہیں ۔ یعنی جو درویش ہوتا ہے ، درویشی حاصل کرنے کے بعد اس کی منزل فقیری ہوتی ہے ۔ اور آگے فقراء کے بہت سارے مقامات ہیں ۔ جو صوفیائے کرام میں درجہ بندی ہے ۔
’’ فضلنا بعضھم علیٰ بعض ‘‘
کے مطابق بعض فقیر ان مقامات سے بری ہوتے ہیں ۔ یعنی عاشق فقیر کا مرتبہ سب سے اونچا ہے ۔ بقول سلطان باھو :
’’ غوث قطب رہن اُریرے ، عاشق جان اگیرے ۔ ۔ ۔ ھُو ۔‘‘
میرے ذہن میں ایک ایسی کتاب ہے جو مافوق الفطرت ( Super Natural ) ہو اور فقیر کا کلام واقعی مافوق الفطرت ہوتا ہے ۔اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ فقیر کو فقیر ہی سمجھتا اور جانتا ہے ۔ سمجھنا آسان ، جاننا مشکل ہے۔سمجھنا فقط ذہن کی حد تک اور جاننا دل سے نہیں بلکہ نفس، قلب ، روح ، سِرّ ، خفی ، اور اخفیٰ روح اور سِرّ، نفس ، خفی اور اخفیٰ تک ہوتا ہے ۔ تو فقیر کو فقیر اس لئے سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ فقیر نفس، قلب ، روح ، سِرّ ، خفی ، اور اخفیٰ روح اور سِرّ، نفس ، خفی اور اخفیٰ سے جب تک واقف نہ ہو جائے ، تب تک وہ فقیر نہیں ہوتا ۔ اور وہی بات کہ درویش نہیں ہوتا ، دَرپیش ہوتا ہے جو در در کتّے کی مانند سرگرداں رہتا ہے ۔
بس فقراء کو پہلے مجاہدہ اس کے بعد مشاہدہ ، پھر حضوری نصیب ہوتی ہے جو کسی شیخِ کامل کی نظرِ خاص اور توجۂ خاص کے بغیر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.