بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

کتابِ دل

جب دل کی کتاب کھلتی ہے تو اس کی ایک ایک سطر میں ہزاروں دل کے جہاں نظر آتے ہیں اور اس کے ایک ایک لفظ پر ہزاروں اہلِ دل رقص کرتے ہیں ان کے اس ایک رقص میں ہزاروں وجدان مضمر ہوتے ہیں اور ان کے اس ایک وجد میں ہزاروں قربتیں چھپی ہوتی ہیں اور ان کی اس ایک قربت میں ہزاروں پیار کے سمندر چھپے ہوتے ہیں اور جب کوئی صاحبِ باطن اس ایک سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے تو ہزاروں جواہرات کو دیکھتا ہے ۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس ایک کرشمۂ قدرت میں ایسا فنا ہوتا ہے کہ ملاقات نصیب ہوجاتی ہے اور اس ملاقات سے کروڑھا سکون پاتا ہے اور اس سکون کی صرف ایک کیفیت اُسے عرش سے لے کر تحت الثریٰ تک تمام اشیاء کو سکون بخشنے والا بنا دیا جاتا ہے ۔یہ رحمت کی ایک شان ہے اور یہ اس رحمت اللعالمین سے ہے ۔ آگے انسان خود سوچ لے کہ جو بے شمار جہانوں کے لئے رحمت بنا دیا گیا ہو۔اس کی اور رحمتوں کا اندازہ کیا ہو سکتا ہے؟اور کون کر سکتا ہے ؟ لیکن یہ اُس وقت ممکن ہے ، جب کسی نظرِ با اثر کا اثر ہو جائے اور اس سے پھر دل کی کتاب کھل جائے ۔

ایک چاند

چاند کئی طرح کے نمودار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔کوئی چاند رمضان کاہے تو کوئی چاند حج کا نمودار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی چاند چھوٹی عید کی خوشخبری لاتا ہے توکوئی بڑی عید کی۔اسی طرح سال میں کئی اور چاند بھی نمودار ہوتے ہیں ۔ کسی کے لئے کوئی چاند خوشی لاتا ہے کسی کے لیے کوئی چاند غمی لاتاہے ۔ پھر ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہر عاشق اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہہ دیتا ہے ۔ کوئی محبوب بطور استعارہ چاند استعمال کرتا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ چاند پر چھائیاں ہیں اور میرے محبوب کا چہرہ صاف ہے ۔ بہرحال چاند کو محبت میںبڑا اہم کردار حاصل ہے ۔
اسی طرح ایک عاشق نے ہم سے کہا ، شاید کل رمضان ہو جائے ۔پھر کہا کہ کل رمضان ہو نہ ہو ، ہمیں آج آپ کی شکل میں چاند نظر آ گیا ہے ، ہمارا تو رمضان شروع ہو گیا ہے ۔یہ ان کا پیار بول رہا تھا کیونکہ کبھی کبھی پیار انسان کے دل میں ظاہر ہوتا ہے ، کبھی اس کے ذہن میں ظاہر ہوتا ہے ، کبھی زبان پر ظاہر ہوتا ہے ، کبھی آنکھوں میں ظاہر ہوتا ہے ،کبھی چہرے پر ظاہر ہوتا ہے ۔ بہر حال یہ اس بندے کے پیار کی علامت تھی کہ اس نے یہ فقرہ کہا کہ چاند نظر آگیا ہے ، کل سے ہمارا رمضان شروع ہو گیا ہے ۔ میں نے کہا جو اس چاند کو دیکھتا ہے ، اس کو پھر ایک ماہ نہیں ، ایک سال نہیں بلکہ عمر بھر کا روزہ رکھنا ہوتا ہے ۔اور وہ جب ساری عمر کا روزہ رکھ لیتا ہے ، اور اس طرح اس کی عمر تمام ہوتی ہے ، اس کے بعد اس کی عید شروع ہو جاتی ہے ۔ پھر وہ اگلی ساری عمر عید ہی کرتا رہتا ہے ۔
بہر حال یہ اُن کا اندازتھا اپنے پیار کو ظاہر کرنے کا اور ہمارا ایک انداز تھا اپنے پیار کو ظاہر کرنے کا ۔ اور ہمار ا پیار ایک دن ، مہینہ ، سال نہیں بلکہ اس میں عمریں لگانی پڑتی ہیں ۔ اور روزے سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کا روزہ رکھنا پڑتا ہے ۔کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ جب پیار ہو ، جس سے پیار ہو ، اسی میں انسان ختم ہو جائے ۔ روزے سے مراد یہی ہے کہ ہر طرح کا روزہ رکھے ۔ہر بات کا روزہ رکھے ، ہر کام کا روزہ رکھے ، دیگر ہر محبت کا روزہ رکھے، ہر چاہت کا روزہ رکھے ، ہر خواہش کا روزہ رکھے ، ہر لذت کا ، ہر سکون کا روزہ رکھے ۔ہر تمنا کا روزہ رکھے اور یہ سلسلہ ساری عمر یار کی خاطر قائم رکھے تو اسی طرح جب اس کی عمر بیت جائے گی تو وہ عید اس طرح کرے گا کہ وصالِ یار اس کو نصیب ہو گا اور پھر یار کے یار کا وصال ہو گا ۔ اس طرح تمام ابدی زندگی اس کی ایک نہیں ہزاروں عیدیں ہوتی رہیں گی ۔ اس طرح سے وہ مقصدِ حیات بھی پائے گا اور مقصدِ حیات بعد از ممات بھی پائے گا اور عشق کے سرور کی انتہا کے لمحات بھی پائے گا ۔

بھُول

بھول کیا ہے ؟ یہ نقطہ میرے ذہن میں گونجتا رہا ۔ ایک دن بھولے سے بھول کی بھول نکل گئی ۔
دراصل جب تک انسان اپنے آپ سے بھولا رہتا ہے ، پھر ہمیشہ بھول بھلیوں کا شکار رہتا ہے ۔جب اپنی بھول کو بھول جاتا ہے، اس دن وہ جان جاتا ہے کہ میں آج تک بہت بڑی بھول کا شکار رہا ہوں ۔
ایک خاص نقطہ یہ ہے کہ حقیقت میں انسان اور بھول کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان کی آفرینش جس انسان سے ہوئی ، وہ انسان بھی ایک بھول کا شکار ہوا ۔ حالانکہ اس درجہ کے انسانوں کو بھول سے دور رکھا جاتا ہے ۔ مگر اس انسان کو بھلانا اللہ پاک کا خاص راز تھا ۔اس بھول کو میں بھول نہیں کہتا ، ایک راز کہتا ہوں۔شاید بھول میں بھی راز رکھ دیا تھا اللہ نے اور اس دن سے آج تک یہ بھول انسان کا مقدر بن گئی ہے ۔جب تک یہ بھولا رہتا ہے ، تب تک عام انسان رہتا ہے۔جب یہ بھول کو بھول جاتا ہے تو پھر خاص انسانوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے ۔ پہلے انسان کی بھول چونکہ رازِ خدا تھی اور اس بھول میں اللہ نے جو راز رکھا تھا وہ اس کی اپنی حقیقت ہی کا راز تھا۔ وہ حقیقت ایک نور کے پیکر میں بند کر کے اس سے پہلے انسان کی پشت میں رکھ دیاتھا ۔ پھر اُس عظیم انسان نے اِس امانت کو محفوظ رکھا اور پھر اُسے آنے والی نسلِ انسانی میں منتقل کر دیا۔ الغرض اس طرح سے یہ بات اور رُخ اختیار کر جائے گی میں ’’ بھول ‘‘ کی طرف آتاہوں۔
تو پتہ یہ چلا کہ بھول ایک راز ہے جو آج کے انسان کی بھول میں بھی مضمر ہے کہ وہ جب تک خود کو بھول کے دنیا میں مبتلا ہے ، تب تک وہ سراسر بھول ہی بھول ہے ۔ اور جب وہ دنیا کو بھول جاتا ہے تو پھر یہ سمجھئیے کہ صبح کا بھولا ہوا اگر شام کو گھر آجائے تو اس کو بھولا ہوا نہیں کہتے ۔ یہ تو اس کی وقتی اور عارضی بھول تھی ۔آج کے انسان کی بھول کا راز بھی رازِ رب العالمین ہے کہ جونہی انسان نے بھول کا دامن چھوڑا ، حقیقت بن گیا ۔تو اس کو اپنا جسم بھول نظر آیا اور جسم کو حرکت دینے والا ’راز‘ نظر آیا۔ رب فرماتا ہے کہ’’ کوئی چیز نہیں حرکت کرتی ، ذرہّ بھی حرکت نہیں کرتا میرے اذن کے بغیر ۔‘‘ جب اس انسان نے جسم کو بھول پایا ، باقی راز کو پا گیا کہ جو راز اس کو حرکت دے رہا ہے تو حرکت اس محرکِ حقیقی ہی کی طرف سے ہے ۔
تو اسے پتہ چلا کہ میں بھول میں رہا اور محرکِ حقیقی کو بھولا رہا اور جب بھول کو بھول گیا تو حقیقت کو پا گیا ۔ تو بھول اور اس کا راز ایک ساتھ چلتے ہیں ۔ جب کسی قلندر کی صحبت نصیب ہو جائے تو بھول ختم ہو جاتی ہے اور بھول کا راز عیاں ہوجاتا ہے ۔
بھول بھول کر میں نے یہ مقام پایا
کہ اب داد دیتا ہوں میں اپنی خطاؤں کو
شاہِ قلندر

شجرِ نور

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر چیز کے دو وجود رکھے ہیں ۔ ایک ظاہری ، ایک باطنی ۔ اپنی حقیقت کو باطن میں چھپا کے اس نے رکھا ہے ۔ جب کوئی صاحبِ باطن بنتا ہے تو حقیقت کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ پھر اس راہ میں وہ خود ہی چراغ بنتا ہے اور وہ خود ہی منزل بنتا ہے ۔ یوں وہ اپنے طالب کو اپنی حقیقت سے آشنا کر دیتا ہے ۔ اس میں تمام تر رہنمائی شیخِ کامل کی طرف سے ہوتی ہے ۔ یوں سمجھیں کہ اللہ کا نور بصورتِ شیخ راستے میں روشنی کا مُوجب بنتا ہے ، اور منزل پر پہنچانے کا سبب۔
اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شجر ہے اُس پہ بہت سارے پتے ہوتے ہیں۔ اب وہ شجر زمین سے دور دور تک اپنی جڑوں کے ذریعے پانی اور دیگر نمکیات کو کھینچتا ہے اور جذب کرتا ہے اور پھر وہ اپنے اوپر لگے ہوئے پتوں میں تقسیم کر دیتا ہے ۔ جس سے سابقہ پتوں پہ حسن آتا ہے اور مزید نئے پتے جنم لیتے ہیں اور اسی طرح وہ شجر پروان چڑھتا رہتا ہے ۔اور بتدریج وہ پورا ایک درخت بننے کے باوجود اپنی ترقی میں مشغول رہتا ہے ۔
اِسی طرح شیخِ کامل کی مثال ہے کہ وہ ایک حقیقتِ مولا کا شجر ہے اور اس کے پتے اس کے طالب اور مریدین ہیں ۔ اب یہ شیخِ کامل اپنے شیخ ، اجداد اور اسلاف سے باطنی فیض جذب کرتا ہے اور باطنی خوراک جذب کرتا ہے اور آگے اپنے طالبوں اور مریدوں میں تقسیم کر دیتا ہے بالکل شجر کی مانند ۔ اور پھر اس طرح ان پتوں کی مثل وہ طالب اور مریدین باطنی نشوونما پاتے ہوئے پرورش پا جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اسی شجرِ نور یعنی شیخِ کامل کے ساتھ نئے طالبوں اور مریدوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ جیسے اس شجر سے نئی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں ۔

مغزِ حقیقت

عرفِ عام میں مشہور ہے اور تقریباً یہ فقرہ میں بچپن سے لے کر آج تک سنتا آ رہا ہوں کہ محبت کی نہیں جاتی ، ہو جاتی ہے ۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ اس بات سے واقف صرف اہلِ محبت ہی ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ جس نے جو کوئی چیز دیکھی ہو ، وہ اسے ٹھیک طرح سے بیان کر سکتا ہے اور دوسری بات یہ اظہر من الشمس ہے کہ اہلِ محبت ہی دراصل اہلِ دل ہوتے ہیں ۔ اور اہلِ دل وہ ہوتا ہے ، جسے اللہ پاک دلوں کا اختیار عطا کر دے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا محبت کسی ایک دل کا دوسرے دل پہ آجانے کا نام ہے ۔ اگر یہ واقعی ایسا ہے تو پھرہر اہلِ دل کسی بھی دل کے ساتھ تعلق رکھنے پر قادر ہے ۔پھر آگے یہ بھی ہے کہ محبت ایک سے ہوتی ہے ۔ تو جب کسی اہلِ دل کی بے شمار دلوں پہ دسترس ہے ، وہ محبت کا ہی تعلق ہے تو پھر جب ایک سے محبت ہوتی ہے تو اتنے ساروں کے ساتھ کیا ہے ؟
تو اس مقام پر میں یوں کہوں گا کہ سب کا وجود، وجودِ عنصری ہے ۔ چار عناصر سے بنا ہے ۔ آگ ، مٹی ، ہوا ، پانی ،۔ ہوا ہوا کے ساتھ مل جائے گی ، پانی پانی کے ساتھ ، آگ آگ کے ساتھ اور مٹی مٹی کے ساتھ ۔ باقی جو بچے گا وہ اصل ہے ، اسے روح کہتے ہیں ۔اور روح کو موت نہیں ہے ۔ اور روح سب میں ایک ہی ہے۔تو اس طرح سے اہلِ دل کا سب کے ساتھ پیار ہونا دراصل ایک سے پیار ہونا ہے ۔اور وہ ایک ’ روح ‘ ہے ۔ اور روح کی تعریف خود اللہ نے یوں بیان فرمائی ہے ، اس کا مفہوم یہ ہے کہ قل الروح من امر ربی روح اللہ کا امر ہے اور امر سے مراد ہے وہ آواز جو آواز صاحبِ امر کے پُر قوت ارادے کو ظاہر کرے اور ارادہ بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ، اس کا تعلق صاحبِ ارادہ سے ہوتا ہے ۔اب یہ چیز واضح ہے کہ ارادہ ، صاحبِ ارادہ سے بعید نہیں ۔ اب جہاں ارادہ ہے ، وہاں صاحبِ ارادہ موجود ہے ۔ تو پتہ یہ چلا کہ وجودِ عنصری کے ختم ہونے کے بعد امر اور صاحبِ امر موجود ہے ۔یوں ہر ایک میں اس کی ذات کا ظہور روشن اور سامنے ہے ۔
تو اس طرح سے اہلِ دل کی محبت سب سے ہوتی ہے ۔ مگر وہ سب کسی ایک چیز کا ہی نام ہے ۔اس طرح محبت واقعی ہزاروں سے نہیں ، ایک سے ہوتی ہے اور یہ نہ کی جاتی ہے ، نہ ہو جاتی ہے ، یہ فقط عطا ہوتی ہے ۔ اسی لئے اہلِ محبت عطا کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یہ سب شان اللہ کی ہے کہ اس نے انسان کو بنا کر اپنے آپ کو ظاہرکر دیا ۔
میری یہ تحریر ہر کسی کو شاید سمجھ نہ آئے ۔ ہر چند کہ میں نے آسان طریقے سے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی اس تحریر کو سمجھ گیا تو اس کے لئے حقیقت تک پہنچنا بعید نہیں ہے اور یقینا مندرجہ بالا رموز طالبِ حقیقت کے لئے ایک مرشد کا کام کرے گا۔

فیض

فیض کیا ہے ؟
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
اقبال کے اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیض کسی نظر کے کمال کو کہتے ہیں کیونکہ اقبال نے فیضانِ نظر کا لفظ استعمال کیا اور فیضانِ نظر سے مراد ایک فیض نہیں بلکہ یک لخت ہزاروں فیض نصیب ہوجاتے ہیں ۔
اقبال کا قلندریہ سلسلے سے تعلق تھا یہ بات عام لوگوں کو معلوم نہیں اس میں اقبال کا قصور نہیں کیونکہ اقبال نے خود کہا تھا کہ’’ اقبال لیٹ(late) آتا ہے ۔‘‘
تو میرے خیال میں اقبال اس قوم کو بہت لیٹ (late)سمجھ آیا ہے ۔ اس قوم پہ بہت افسوس ہے کہ اس قوم کو کسی کی یاد اس کے جانے کے بعد آتی ہے ۔ باقی قومیں ماضی سے سبق ، حال پہ نظر اور اس کے نتیجے میں مستقبل کو بہتر بناتی ہیں ۔ ہماری قوم ماضی کو بھول کے حال پہ روتی ہے اور مستقبل نام سے نا واقف ہے ۔
ہاں اقبال کی بات ہو رہی تھی تو اقبال کا تعلق سلسلہ قلندریہ سے تھا وہ ظاہر اور باطن کے اسرار و رموز کو بخوبی جانتے تھے اور اگر ان کی کتب کا بغور مطالعہ کیا جائے تو انسان اس چیز سے بخوبی آگاہ ہو سکتا ہے کہ واقعی اقبال ظاہر و باطن کے رموز کو ضرور سمجھتا تھا ۔ تو اس نے یہ بات یوں ہی نہیں کہہ دی کہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی ۔
اس سے یہ چیز ظاہر ہوتی ہے کہ فیض کا تعلق نظر سے ہے اور نظر بھی عام انسان کی نظر نہیں ’’ خاص‘‘ انسان کی نظر ہے اور وہ نظر اس وقت تک کسی طالبِ نظر کونظر نہ آسکے گی جب تک وہ اپنا سب کچھ نذر نہ کردے بس جان کو نذر کرنے کے بعد کوئی بھی طالبِ حقیقت فیضِ نظر حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ ایک فیض کا نقطہ تھا جو قلندر نے بیان کیا صرف اس کو بھی جو سمجھے گا وہ ضرور کسی صاحبِ فیض شخص کی نظرِ فیض کا طالب ضرور بنے گا اور اس طرح وہ اپنے پیدا ہونے کا مقصد حاصل کرے گا ۔
دوسرا نقطہ فیض کا ’’ صحبت ‘‘ ہے کہ انسان جب دنیا جہان کی صحبتیں چھوڑ دیتا ہے کسی ایک صحبت میں بیٹھ جاتا ہے تو اس پہ پھر صحبت کا رنگ چڑھتا ہے اس رنگ کا نام بھی فیض ہے ۔ کیونکہ جب اس پہ اس صحبت کا رنگ چڑھتا ہے تو وہ صحبت کا رنگ نہیں صحبت والے کا رنگ ہوتا ہے وہ اس کے سارے سابقہ رنگ اتار دیتا ہے اور اس کو اپنے رنگ سے سنوار دیتا ہے اور اس رنگ میں اس کو رنگ نظر آتے ہیں وہ مشتاق ہوتا ہے مولا کے رنگ کا پھر اسی رنگ میں وہ خود کو رنگ لیتاہے ۔یہ بھی دراصل کسی صحبت سے اس کو رنگ نصیب ہوتاہے ۔ اور یہ رنگ بھی ایک فیض ہے اور یہ فیض صحبت سے تعلق رکھتا ہے ۔ عاشق کو لیلیٰ مجنوں ، ہیر رانجھا ، سوھنی مہیوال ، شیریں فرہاد، یوسف زلیخا ، ان تمام عشاق کی طرف سے فیض ملتاہے اور اس فیض کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ ’’ یار ‘‘ میں ختم ہو جاؤ ۔


باب پنجم

اقوالِ قلندر
پیر سید محمود الحسن شاہ خاکی مستوار قلندر

٭۔ ہر طالب کو مرشدِ کامل کی تلاش ہوتی ہے ۔ لیکن مرشد کو بھی کیسی طالبِ صادق کی تلاش ہوتی ہے ۔
٭۔ یار بننا سیکھو ، جو یار بنتا ہے ۔ پھر اس کا زمانہ بنتا ہے ۔
٭۔ ایک چاہنے والا اپنے محبوب سے کسی اچھے انداز میں مل لے یہ معراج ہے۔
٭۔ حق تعالیٰ سے ملاقات کا وسیلۂ اول نماز ہے ۔
٭۔ صرف نماز ہی منزل گاہِ عزت کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے ۔
٭۔ نماز ایک راز ہے ، اور راز کہنے کے لئے کسی کا قرب چاہئیے ہوتا ہے ، اور قرب وہی پاتا ہے جو قابل ہو ، اور جو قابل ہوتا ہے وہ راز پا جاتا ہے ، اور جو راز پا جاتا ہے وہ خود سراپا راز بن جاتا ہے ۔
٭۔ جب کوئی پیار کرتا ہے کسی پیار والے سے تو اسے پیار ملتا ہے ۔ اور پھر اس پیار والے سے اور پیار والے پیارلینے آتے ہیں ۔
٭۔ عشق کی کوئی حد نہیں ایک سے بڑھ کر ایک عاشق موجود ہے ۔
٭۔ جو تسلیم و رضا اور عشق کے خنجر سے قتل ہو گئے ان پر ایک نئی نئی جان آتی ہے ۔
٭۔ اسلام محبت کا نام ہے ۔
٭۔ محبت کی واضح نشانی ہے ، یہ جب بھی آتی ہے دل کو نرم کر دیتی ہے ۔
٭۔ جس نے اصل راہ کو چھوڑ دیا اس کا نام بھی نہیں رہا ۔
٭۔ مرید کو چاہئیے کہ مرشد کے فرمان سے ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہ ہو ۔
٭۔ جو شخص خدا کا فرض بجا نہیں لاتا ، وہ خدا کی پناہ میں نہیں رہتا۔
٭۔ پیار بے دلیل ہوتا ہے ۔
٭۔ جس سے سرکار کی سنّت ترک ہو جائے ، اسے ڈرنا چاہئیے کہ کل قیامت کے دن یار کو کیسے منہ دکھائے گا ۔
٭۔ عارف ایسے شخص کو کہتے ہیں ، جس پر روزانہ خدا کی طرف سے ایک لاکھ تجلی نازل کی جاتی ہو ۔
٭۔ اللہ پاک کی قدرت کا اظہار اس کے بندے کی زبان سے ہوتا ہے ۔
٭۔ بغیر شریعت کے معرفت نہیں ہے ۔
٭۔ معرفت اللہ کی پہچان ہے ۔
٭۔ راہ اور رہبردونوں نصیب ہوں ، تو معرفت مولیٰ پھر نصیب ہوتی ہے ۔
٭۔ حسیں اللہ کی بارگاہ میں وہی ہے ، جو حسیں طریقے سے جا کر اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہو جائے ۔
٭۔ اسلام میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے رازِ محبت ظاہر نہ ہو ۔
٭۔ عارف کی ایک نشانی یہ ہے ، کہ وہ ہر وقت متبسّم رہتا ہے ۔
٭۔ عارف ہر وقت ولولہِ عشق میں ہوتا ہے ، اور اس پر عالمِ حیرت وارد ہوتا ہے ۔
٭۔ عارف ہر وقت کائنات کے متعلق غوطہ زن رہتا ہے ، کہ یہ کیا ہے ۔
٭۔ عرفان بھی معرفت کا ایک محل ہے ۔
٭۔ پاکوں کے لئے پاک محفلیں اور پاک محفل کے لئے پاک ہونا ضروری ہے ۔
٭۔ جو رُخ ‘ رُخِ مصطفی کی طرف ہوتا ہے وہ قابلِ دید چہرہ بن جاتا ہے ۔
٭۔ کائنات کی اصل مصطفی ہیں ۔ اسی وجہ سے کائنات کی ہر چیز کی بنیاد محبت ہے ۔
٭۔ خشک علم رہنما اور رہبر بنا ہے ، نہ بنے گا ۔
٭۔ اگر علم سیکھنا چاہتے ہو تو نفس کو آگ لگانی پڑے گی ۔
٭۔ احسان وہ ہوتا ہے جو کر کے بھلا دیا جائے جو نہ بھولے وہ احسان نہیں ہوتا۔
٭۔ آؤ رحمتِ مصطفی کے دائرے میں آجاؤ زندگی حسیں ہو جائے گی۔
٭۔ اللہ کی سنت کی مخالفت کرنے والا مسلمان نہیں ، لعین ہے ۔ (فضیلت درود و سلام )
٭۔ راہِ عشق میں مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ۔
٭۔ اللہ پاک کے دیوانے عشق میں پھرتے رہتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جلوہ تمام کائنات میں بکھرا ہے ۔
٭۔ قرآن و حدیث کے بعد جب تک صوفیاء کا تذکرہ نہ ہو قرآن و حدیث کی روح کو سمجھا نہیں جا سکتا ۔
٭۔ اللہ تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے ، پھر سارے جہان کو اس کا تابعدار بنا دیتا ہے ۔
٭۔ اگر تو کسی کا ارادہ نہ کرے تو وہ بھی تیرا ارادہ نہ کرے گا ۔
٭۔ تجھے چاہئیے کہ درویشوں کی خدمت کر ، تاکہ تو بھی اللہ کا نیک بندہ بن جائے ۔
٭۔ اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہے ، کہ تو اللہ کی بارگاہ میں نماز کو باشرائط ادا نہ کرے ۔
٭۔ لفظِ قسم کو چھوڑ دو ، اپنا کردار ایسا بناؤ کہ قسم کی ضرورت نہ پڑے سچ سچ ہے اور جھوٹ جھوٹ ۔
٭۔ کسی عاشق کے لئے محبوب کے دیدار سے بڑھ کر کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی ۔
٭۔ ظاہری عبادات کی بجائے تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
٭۔ اگر نیت صاف ہو تو طالبِ قلندر کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکتی۔
٭۔ اگر عاجز بنو گے تو اللہ کو اپنے دل میں لے کر پھرو گے ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.