بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

٭۔ اللہ پاک کے قریب ہر اسم کا جسم ہوتا ہے۔
٭۔ الگ والی باتیں جگ کو نہیں پتا ، یہ تب سمجھ آتی ہیں ، جب بندہ جگ سے الگ ہو جائے ۔
٭۔ جو مل کر ذکر کرتے ہیں ، اور اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں ، وہ کامیاب لوگ ہیں ۔
٭۔ عاشق کو طلب سے کیا کام وہ تو رضائے یار پر فدا ہوتا ہے ۔
٭۔ جو بد نےّت ہے ، وہ زندہ نہیں مےّت ہے ۔
٭۔ جو بھی اللہ کی راہ میں چلا ہے کامیاب ہوا ہے ، ناکام کوئی نہیں ہوا۔
٭۔ ایک مرشد کی رضا میں خوش رہنا چاہئیے ، طالب کو سوال و جواب سے کام نہیں ہونا چاہئیے ۔
٭۔ جب میں ختم ہو جاتی ہے تو عاشق معشوق اور عشق سب ایک ہی نظر آتا ہے۔
٭۔ مقامِ قُرب کے حصول کے لئے عبادت و زہد کے ساتھ نفس کی مار ضروری ہے ۔
٭۔ عارف کا کم ترین درجہ یہ ہے کہ صفاتِ خدا اس میں پائی جائیں ۔
٭۔ یہ سوچ کہ تو جو عبادت کر رہا ہے ، یہ طاقت کہاں سے آر ہی ہے ۔
٭۔ جب آپ کی سوچ بدلے گی تب آپ کے اعمال بدلیں گے ۔
٭۔ تمام قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی طرف Love Letter (محبت نامہ ) لکھا ہے ۔
٭۔ جس نے عاجزی کو پسند کیا مراد یہ کہ پھر اللہ پاک نے بھی اس کو پسند کیا۔
٭۔ عارف جب خاموش ہوتا ہے تو اللہ پاک سے محوِ گفتگو ہوتا ہے ۔
٭۔ اپنے اندر سے برائی کو نکال کر پھینک دے پھر تجھے پتا چلے گا ، تو کس کا آئینہ ہے ۔
٭۔ گناہ اتنا ذلت و رسوائی نہیں پہنچاتا جتنا لوگوں کی بے حرمتی اور بے عزتی نقصان دیتی ہے ۔
٭۔ جب ندی کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو ندی نہیں رہتا سمندر ہو جاتا ہے۔
٭۔ ہمیں سیاست سے نہیں ریاست سے غرض ہے ۔ اور ہمارا مقصد روحانی انقلاب ہے ۔
٭۔ جہاں تک دنیا قائم ہے وہاں تک محبت قائم ہے ۔
٭۔ مرشد کی نظر میں چھوٹا بڑا سب برابر ہوتے ہیں ، کیونکہ یہاں پر محمود و ایاز اکھٹے بیٹھتے ہیں ۔
٭۔ اگر طالب کی ذات درست نہیں ہو گی تو مرشد پر حرف آئے گا ۔
٭۔ ایک کے ہو جاؤ ، دنیا کے دھندوں اور گند سے جان چھوٹ جائے گی۔
٭۔ خود یار کا آئینہ بن جاؤ ، لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر خودبخود مائل ہو جائیں گے ۔
٭۔ جو طالب ایک دن فنا فی الشیخ ہو گا ، وہ دوسرے دن فنا فی الرّسول ہو گا۔
٭۔ اک طالب کے لئے اس کا شیخ سب کچھ ہوتا ہے ۔
٭۔ جن کے پاس محبت نہیں ہے ان کی زندگی شک میں گزرتی ہے ۔
٭۔ عاشق کا کام ہے ، محبوب کو پیغامِ محبت بھیجتے رہنا ، اسے جواب سے غرض نہیں ہوتی کیونکہ اسے پتا ہوتاہے کہ اس کی طلب سچی ہے ۔
٭۔ جو بھی پیار والا ہے وہ اپنے آپ کو شریعت والا سمجھے مگر شرط یہ ہے ،کہ پیار دیسی ہو بناسپتی نہ ہو ۔
٭۔ عورت جب تک پردے میں رہتی ہے ، اس کی قدر ہوتی ہے ۔ جب پردے سے باہر نکل جاتی ہے سب کی نظر میں اپنی قدر کھو دیتی ہے ۔
٭۔ میری نظر میں سب طالب برابر ہیں ۔جو طالب نہیں ہیں ان سے بھی میرا بڑا پیار ہے ۔ اللہ ان کو بھی طالب بنائے ۔
٭۔ اپنی نیتوں کو درست کر لو اللہ کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیتا جو مقدر میں ہے ضرور ملے گا ، کیونکہ اللہ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔
٭۔ محبت اس کائنات سے بھی پہلے کی ہے ، اور آخر تک رہے گی ۔
٭۔ پیار والوں کو صاحبِ پیار سے محبت ہوتی ہے اس سے آگے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی ۔
٭۔ جن کو وہ اپنا بناتا ہے پھر کسی کو انہیں چھیڑنے نہیں دیتا ۔
٭۔ نیت پلید ہو تو تمہارا رہنما شیطان بنتا ہے ۔
٭۔ جس کا کوئی مرشد نہ ہو اس کو شیطان پکڑ لیتا ہے ۔
٭۔ دل کو روشن کرو ان چراغوں سے جو اللہ نے جلا رکھے ہیں ۔
٭۔ جہاں تک خدائی ہے وہاں تک رسالت ہے اور جہاں تک رسالت ہے وہاں تک ولایتِ علی المرتضیٰ ہے ۔
٭۔ حضرت علی امام الاولیاء ہیں ۔
٭۔ ہر قسم کا ذکر کسی جاندار کا ہوتا ہے ۔ اور ہر جان اللہ ہی کی ہے ۔
٭۔ اللہ پاک جس کو جانتا ہے پھر اس کا نام عام ہوتا ہے ۔
٭۔ اللہ کا کرم وسیع ہے ، مگر جب حضور کی بارگاہ میں پہنچتا ہے تو اور زیادہ وسیع ہو جاتا ہے ۔
٭۔ محبت کرنے والوں کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت ہر لمحہ یار کے خیال میں رہتے ہیں ۔
٭۔ اسی کو دائمی نماز کہتے ہیں کہ دل ہر وقت اس کی یاد میں دھڑکتا رہے ۔
٭۔ جو نماز حضورِ قلب سے نہیں ہے وہ باعثِ عذاب ہے ۔
٭۔ سجدے تو ہزاروں کرتے ہیں مگر نماز اسی کی ہے جسے پنج وقتی سے ہمہ وقتی نماز نصیب ہو جائے ۔
٭۔ مقامِ قرب کی تمام مستیاں اکٹھی ہو جائیں تو پھر قلندر بنتا ہے ۔
٭۔ جس کی آنکھ تیار ہے ، وہ خدا کے جلوؤں کو دیکھنے کا حقدار ہے ۔
٭۔ اپنی ذات کو ختم کرو ، پھر ایک ذات تو ہے جو تمہاری ہے ۔
٭۔ دعوتِ رسول ہی اصل میں دعوت الی اللہ ہے ۔
٭۔ اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال کو بہتر بناؤ مستقبل خود بخود سنور جائے گا۔
٭۔ لا یرید ہو کر آنے والے مرید ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئے ہیں۔
٭۔ بغیر ارادتِ شیخ کے نفس نہیں مرتا ۔
٭۔ جو حضور سے محبت نہیں رکھتا اس کی تمام عبادتیں فضول ہیں ۔
٭۔ عشقِ مصطفی کی انتہا قابَ قوسینِ اَو ادنیٰ ہے ۔
٭۔ جو اتباعِ مصطفی میں کامل ہے وہ خدا کا محبوب ترین ہے ۔
٭۔ نمازِ محبت میں دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات چھپی ہوئی ہے ۔
٭۔ طالبِ شیخ جو ہو ، اپنے شیخ کا نمونہ بن جاتا ہے ۔
٭۔ روشنی کے راستے پہ چل کر اپنے گوہر مراد کو پالینا صراطِ مستقیم ہے ۔
٭۔ باتوں میں سے کوئی بات ، ’’ بات ‘‘ بنا دیتی ہے ۔
٭۔ ایک حسین رات زندگی کی سب راتوں پر غالب آ جاتی ہے ۔
٭۔ دعا اور دوا ، بغیر اذنِ ربی کچھ نہیں ۔
٭۔ عقل کے لئے علم لازمی نہیں ، علم کے لئے عقل لازمی ہے ۔
٭۔ تصوف کو سمجھنے کے لئے علم اور عقل لازمی ہے ۔
٭۔ بڑی خوش بختی ، اہلِ دل ہونا ہے ۔
٭۔ اہلِ دل کو علم اور عقل خودبخود نصیب ہو جاتا ہے ۔
٭۔ اللہ کا عاشق کوئی درجہ قبول نہیں کرتا ۔
٭۔ فقیر کو جو ملے ۔ قبول کرتا ہے ۔
٭۔ اچھا یا برا، فقیر کے لئے ایک ہے ۔
٭۔ جو اللہ کی رضا پالے ، لوگ اس کی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں ۔
٭۔ جسے خدا اپنا بنا لے ، تمام مخلوق اسے رہنما مانتی ہے ۔
٭۔ عزت کا مقام دل میں ہے اور ہر اہلِ دل کی عزت ہوا کرتی ہے ۔
٭۔ لوگ عزت کے لئے سب کچھ کرتے ہیں ، مگر اللہ اللہ نہیں کرتے ۔
٭۔ جب انسان ’’ اللہ اللہ ‘‘ کرتا ہے تو اللہ ، ’’ میرے بندے میرے بندے ‘‘ کرتا ہے ۔ اس وقت دونوں ایک دوسرے ٭کے ذاکر ہوا کرتے ہیں۔
٭۔ جب عاشق ، محبوب کو یاد کر رہا ہو اور محبوب عاشق کو تو وہ لمحات پیار کے سرتاج ہوتے ہیں ۔
٭۔ یاد میں وصال ہے ، غفلت میں فراق۔
٭۔ فِراق اور وصال ، قربِ محبوب کا نام ہے ۔
٭۔ انسان ہمیشہ دو چیزوں کی بنا پہ پیار کرتا ہے۔
() حسن () عادات
٭۔ قلندر جب لکھتا ہے تو رحمت کے پھولوں کو لفظوں میں بکھیر دیتا ہے ۔
٭۔ قلندر کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ حلقۂ عشّاق رکھتا ہے ۔
٭۔ نیک خو شخص گلدستہ کی مانند ہے ، بد خو شخص گندگی کا ڈھیر ہے ۔
٭۔ قلندر سے بہت لوگ پیار کرتے ہیں ، ان سب کا پیار کم ہے قلندر کے پیار سے ۔
٭۔ یہ سچ ہے کہ مجھے یاد نہیں رہتی ، مگر یار کے سوا۔
٭۔ سوائے یار ، دنیا بیکار ۔
٭۔ دل اگر زرخیز زمیں کی مانند ہو اور اس میں پھول اُگیں تو دنیا میں تباہ کاریاں ختم ہو جائیں ۔
٭۔ محبوب دو دلوں سے کھیلتا ہے ۔ ایک عاشق کے اور ایک اس کا اپنا دل۔
٭۔ تین چیزیں ایک جان ہوتی ہیں ۔
() عاشق () محبوب () دل
٭۔ انسان کے چلنے سے دو چیزیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ ایک طرف سے اس کا فاصلہ منزل سے کم ہوتا جاتا ہے اور ایک طرف سے زیادہ ۔
٭۔ منزل پر پہنچ کر راستے کی تکالیف بھول جاتی ہیں ۔
٭۔ کئی لوگ منزل کی جستجو کرتے ہیں ۔ کئی لوگوں کے لئے منزل جستجو کرتی ہے ۔
٭۔ منزل امید میں ہے اور امید دل میں اور دل دلدار کے پاس ۔
٭۔ بدبخت ہے وہ شخص جو اللہ کی دوستی کا ارادہ کرے اور دوستوں میں گم ہو جائے ۔
٭۔ میرا محبوب چاند کی مانند نہیں ۔ وہ تو چاند ہے ۔
٭۔ تین چیزیں انسان کے ذہن پر غالب آ جاتی ہیں ۔
() دولت () عورت () ہیبت
٭۔ حُسن جادو ہے ۔ حُسن والے جادوگر ہیں ۔
٭۔ درخت پتوں کے بغیر سایہ نہیں دیتا ، عبادت محبت کے بغیر حشر میں سایہ نہ دے گی ۔
٭۔ زبان کی کوئی کوئی آواز تاثیر رکھتی ہے ، دل کی ہر بات تاثیر رکھتی ہے۔
٭۔ عشق شخصیت اور ذات کا قائل نہیں ۔
٭۔ حُسن بے مثال بھی ہوتا ہے ، لاجواب بھی ہوتا ہے مگر انتہائے حُسن کا اللہ ہی سزاوار ہے ۔
٭۔ جسے اچھی سوچ ملتی ہے ، اُسے ولی بنا دیا جاتا ہے ۔
٭۔ تعمیری سوچ والا ہیرے کی مانند ہے ، تخریبی سوچ والا گندے انڈے کی مانند ہے ۔
٭۔ نظر پیار کی کسوٹی ہے ۔
٭۔ کوئی کوئی نظر دل چیر دیتی ہے ۔
٭۔ کسی کی نظر لگ جائے تو بندہ تباہ ہو جاتا ہے ۔ اور کسی کی نظر لگنے سے بندہ صاحبِ نظر ہو جاتا ہے ۔
٭۔ دُعا سے تقدیر بدلتی ہے ، نظر سے انسان بدلتا ہے ۔
٭۔ جس بندے کی نظر دور تک دیکھتی ہے ، وہ کبھی پریشان نہیں ہوتا ۔
٭۔ نظر سے نظر ملے تو دل کی نظر کھل جاتی ہے ۔
٭۔ نظر کو صاف رکھو ، دل صاف رہے گا ۔
٭۔ اگر دل کی نظر ہو تو ساری دنیا ، حسنِ یار نظر آتی ہے ۔
٭۔ سارے عقل مند اکٹھے ہو کر بھی باطن کی گرہ نہیں کھول سکے ۔
٭۔ جنون کی ایک ضرب کام کر جاتی ہے ۔
٭۔ جب عقل انتہا کو پہنچتی ہے ، تو انسان پاگل ہو جاتا ہے ۔
٭۔ کسی کے لئے پاگل ہونے سے بہتر ہے کہ اس کا مستانہ بن جائے ۔
٭۔ مستی محبوب کے دل سے نکل کر عاشق کے دل کو پکڑ لیتی ہے ۔
٭۔ مستوار کی ہستی ، مستی میں ہے اور نیستی ہوش میں ۔
٭۔ تمام نشوں کا سردار نشۂ عشق ہے ۔
٭۔ تمام علموں کا سردار علمِ عشق ہے ۔
٭۔ تمام کلاموں کا سردار کلامِ عشق ہے جو صورتِ قرآنی موجود ہے ۔
٭۔ تمام ملاقاتوں کا سردار ملاقاتِ عشق ہے جو عرش پہ ہوئی ۔
٭۔ تمام حسنوں کا سردار حُسنِ اللہ ہے جوعرش پہ محبوب yes">  کو دکھایا گیا ۔
٭۔ تمام دنوں کا سردار جمعہ ہے ، تمام زخموں کا سردار دل کا زخم ہے ۔
٭۔ عاشق کو لیلیٰ مجنوں ، ہیر رانجھا ، سوہنی مہیوال ، شیریں فرہاد ، یوسف زلیخا، ان تمام عشاق کی طرف سے فیض ملتا ہے اور اس فیض کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ ’’ یار ‘‘ میں ختم ہو جائے ۔
٭۔ کسی دانشمند کی بات مان لو، اس سے پہلے کہ خود تجربہ کر کے مانو۔
٭۔ منافق کی بات میٹھی اور نتیجہ کڑوا ہوتا ہے ۔
٭۔ فقیر علم سے نہیں ، عطا سے بات کرتا ہے ۔
٭۔ وفا کا معنی تلاش کیا تو لفظ فقیر نکلا ۔
٭۔ نفسانی مُلّا سب سے بڑا شیطان ہے ۔
٭۔ گفتگو میں سے کوئی کوئی گفتگو ضرب المثل بن جاتی ہے ۔
٭۔ مرشد سے حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا خول پہن لو ۔
٭۔ تصورِ شیخ طریقت کی روح ہے ۔
٭۔ انسان ذائقہ تین طرح سے محسوس کرتا ہے ۔ زبان سے چکھ کر ، کان سے سن کر ، آنکھ سے دیکھ کر ۔
٭۔ فقیر کی منطق ، منطقوں کی ماں ہے ۔
٭۔ اصولوں پر چلنے والا اصول وضع کرتا ہے ۔
٭۔ محبت میں راحت بھی ہے ، فنا بھی ۔
٭۔ کپڑے انسان کے جسم کو ڈھانپتے ہیں اور گفتگو اس کی شخصیت کو۔
٭۔ فتح شکستگی میں ہے اورشکست غرور میں ۔
٭۔ جب دل منور ہوتا ہے تو اس کی کرنیں دماغ پر پڑتی ہیں ۔
٭۔ آنکھیں کیفیات ظاہر کرتی ہیں ۔
٭۔ قیمت مال کے اعتبار سے ہوتی ہے اور عزت عقل کے اعتبار سے ۔
٭۔ ہر ایماندار کو حُسن مل جاتا ہے لیکن ہر حُسن والے کو ایمان نہیں ملتا۔
٭۔ چمگادڑ کو روشنی میں نہیں اندھیرے میں نظر آتا ہے مگر وہ فقیر نہیں ہے ۔
٭۔ صحبتِ آتش سے تو چیز گرم ہو جائے مگر صحبتِ درویش سے اثر نہ ہو، یہ ممکن نہیں ہے ۔
٭۔ کامل ہونے کے بعد ہی تمام واقعات ہوتے ہیں ۔
٭۔ جس طرح سُرمہ آنکھ کو زینت دیتا ہے ،اسی طرح فقیر کی بات دل کو زینت دیتی ہے ۔
٭۔ ذکر سے روح اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے کسی محبوب کے مسکرانے سے اس کا چہرہ اور زیادہ خوشنما ہو جاتا ہے کیونکہ روح محبوب کا ذکر ہے ۔
٭۔ موسم بھی اگر پیار والا ہو، عاشقانہ موسم ہو، لیکن دل میں پیار نہ ہو تو وہ موسم عاشقانہ نہیں لگتا ۔
٭۔ ایک چیز کو پکڑنے سے تمام چیزیں حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ زندگی ایک چیز ہے ، اس سے بے شمار چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔
٭۔ لوہا آگ میں جائے اور آگ جیسا ہو جائے ، اور ایک عالمِ دین ، دین میں جائے مگر دین جیسا نہ ہو سکے ، یہ ایک حیران کن بات ہے ۔
٭۔ جسمانی بیماری کا علاج طبیب کے پاس اور روحانی بیماری کا علاج طبیب القلوب کے پاس ہے ۔
٭۔ اولیاء کی کتب کا مطالعہ باطنی گرہ کھولتا ہے۔
٭۔ شیخ کی زیارت ایمان کی خوراک ہے ۔
٭۔ نفس کو مارنا اور دل پہ محنت کرنا ، انسان کو ولایت کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.