٭۔
انسان پر زندگی
میں کئی رنگ
چڑھتے ہیں
۔
٭۔ عام طور
پر رنگ انسان
کو کھینچتا
ہے مگر کوئی
انسان رنگ
کو کھینچ کر
اپنے اوپر
چڑھا لیتا
ہے ۔
٭۔ رنگ اللہ
کا نور ہے اور
نور اللہ کا
رنگ ہے ۔
٭۔ قرآن بیچنے
والے بڑے ہیں
، پڑھنے والے
کوئی کوئی
!
٭۔ عشق باطن
کی زینت کا
نام ہے۔
٭۔ فقیر تن
نہیں ’من ‘ دیکھتا
ہے ۔
٭۔ رسوائی
کڑوی اور لذت
دار ہوتی ہے
۔
٭۔ کرامت فقیر
کی خواہش نہیں
، اللہ کی رضا
ہوتی ہے ۔
٭۔ جو اللہ
کی رضا کے لئے
جیتا ہے ، وہ
مر کے بھی جیتا
ہے ۔
٭۔ اللہ کے
ولی اللہ کی
سدا بہار نشانیاں
ہیں ۔
٭۔ نام اور
شان کھو کر
ہی نام زندہ
ہوتا ہے اور
شان دوبالا
ہو تی ہے ۔
٭۔ عاشق فنا
پاتا ہے ، بقا
چاہتا ہے ۔
٭۔ اعلیٰ ظرف
، عجز سے اعلیٰ
ہو جاتا ہے
اور کم ظرف
اکڑ سے سُکڑ
جاتا ہے ۔
٭۔ طالب مانند
پتنگ ہوتا
ہے جس کی ڈور
شیخ کے ہاتھ
میں ہوتی ہے
۔
٭۔ اندر کے
چور کو پکڑ
لو ، اللہ کی
مراد بن جاؤ
گے ۔
٭۔ پیار ، اندازِ
گفتگو کو بدل
دیتا ہے ۔
٭۔ محبت ایک
سے ہوتی ہے
مگر وہ ’ایک
‘ ’’ ہر ‘‘ ۔ ’’ہر‘‘ میں
ہوتا ہے ۔
٭۔ حُسن و جمال
کی کشش ہی یار
کی دلیل ہے
۔
٭ ۔ بناوٹ سے
سجاوٹ نہیں
ہوتی ۔
٭۔ بناوٹی
پھول حسین
تو ہوتا ہے
مگر خوشبودار
نہیں ہوتا
۔
٭۔ فقیر اپنی
دنیا ، اپنی
قوتِ باطن
سے سجاتا ہے
۔
٭۔ اپنے پاس
گُن ہو تو اسلاف
کا فیض بھی
اثر کرتا ہے
۔
٭۔ پیار تکبر
کو کھا جاتا
ہے ۔
٭۔ مقصد کو
بھول کر دنیا
و آخرت دونوں
جاتے ہیں ۔
٭۔ اصل اور
کم اصل کی پہچان
وفا ہے ۔
٭۔ حلالی شخص
احسان یاد
رکھتا ہے ۔
٭۔ یار کی ادا
میں نشہ بند
ہوتا ہے ۔
٭۔ یار کی ادا
عاشق کے لئے
تلوار ہے ۔
٭۔ یار کی کوئی
ادا ، زندگی
کی قضا ہوتی
ہے ۔
٭۔ حُسن کے
جوبن کا نام
’ادا‘ ہے ۔
٭۔ بعض ادائیں
قاتل اور بعض
جان بخش ہوتی
ہیں ۔
٭۔ جاہلوں
میں دانا پریشان
ہوتا ہے ۔
٭۔ ہیرے کی
قیمت جوہری
کے پاس اور
بندے کی قیمت
فقیر کے پاس
!
٭۔ کوئی کوئی
طالب مطلوب
بھی بن جاتاہے
۔
٭ ۔ اخلاق انسان
کا زیور ہے
۔
٭۔ بغیر اخلاق
کے ، انسان
حیوان سے بدتر
ہے ۔
٭۔ اعلیٰ اخلاق
کا نام شریعت
ہے ۔
٭۔ ہر اچھائی
اسلام ہے ۔
٭۔ اسلام کو
ظاہری لباس
سے نہیں ، اندر
کی حالت سے
غرض ہے ۔
٭۔ عاشق نشے
کا محتاج نہیں
۔
٭۔ فقیر کے
پاس نام بدلا
جاتا ہے ، پھر
کھال بدلی
جاتی ہے ، پھر
اندر بدلا
جاتا ہے ۔
٭۔ رمضان میں
لوگ روزے تو
رکھتے ہیں
مگر یار نہیں
رکھتے ۔
٭۔ بدبخت کو
ہزار بار سمجھایا
مگر جاہل پایا۔
٭۔ فقیر کے
پاس رہنے والے
کثرتِ شفقت
کے باعث بے
ادب رہ جاتے
ہیں ۔
٭۔ انسان سونا
تب بنتا ہے
، جب مٹی ہو
جائے ۔
٭۔ لفظ کاغذ
پہ کم ، دل میں
زیادہ جگہ
گھیرتے ہیں
۔
٭۔ دانش مندی
علم سے ہی نہیں
، حالات سے
بھی آتی ہے
۔
٭۔ دل کی بات
اہلِ عقل سے
کرنا کم عقلی
کی دلیل ہے
۔
٭۔ پیار کا
لطف درد میں
چھپا ہوتا
ہے ۔
٭۔ قوتِ سماعت
، قوتِ قلبی
پہ اثر اندار
ہوتی ہے ۔
٭۔ اللہ کی
نظر انسان
کے دل پہ ہے
اور انسان
کی اپنے نفس
پہ ہے ۔
٭۔ اہلِ دنیا
من سے نہیں
مراد سے غرض
رکھتے ہیں
۔
٭۔ ہر چیز کا
برعکس دلچسپ
نہیں ہوتا
۔
٭۔ کشش کئی
طرف سے ہوتی
ہے پیار ایک
طرف سے ہوتا
ہے ۔
٭۔ تخےّل اشعار
کی زینت ہے
اور تصور پیار
کی زینت ہے
۔
٭۔ پیار انسان
کے بھیس کو
بدل دیتا ہے
۔
٭۔ عشق حرارت
بھی دیتا ہے
، جسارت بھی
۔
٭۔ عشق آتش
ہے مگر انسان
کو قائم النار
بنا دیتا ہے
۔
٭۔ عشق، مُشک
اور حُسن چھپ
کے نہیں رہتے
۔
٭۔ جس کی گفتار
میں اثر نہ
ہو اس کا کردار
صحیح نہیں
۔
٭۔ مُلا اسٹیج
پہ صحیح اور
نیچے اُتر
کر خراب نظر
آتا ہے ۔
٭۔ عاشق کی
خواراک مطلوب
کو یاد کرنے
میں ہے ۔
٭۔ عشرت کی
زندگی بسر
کرنے والوں
کو عُسرت کا
سامنا کرنا
پڑتا ہے ۔
٭۔ جادو برباد
کرتا ہے مگر
شکستہ دل کی
آہ جلا کے رکھ
دیتی ہے ۔
٭۔ آرزو کا
ٹوٹنا منزل
میں ناکامی
کی دلیل ہے۔
٭۔ عاشق صادق
، اُمید وصال
رکھتا ہے ،
اور کبھی شکست
آرزو نہیں
ہوتا ۔
٭۔ آرزو شیوۂ
انسان ہے ،
نا امید تو
بس شیطان ہے
۔
٭۔ کسی کے لئے
تڑپنا ، آرزو
کو پانے کی
دلیل ہے ۔
٭۔ پیار والے
کا دل آنکھوں
کی زبان میں
بات کرتا ہے
۔
٭۔ مجھے سلسلہ
سے نہیں ، صلہ
سے غرض ہے اور
وہ میں اللہ
سے چاہتا ہوں۔
٭۔ مجھے بندوں
سے کوئی سروکار
نہیں سوائے
ایک کے کہ وہ
اپنے دل کو
تلاش کر لیں
۔
٭ ۔ جو رحمت
کی قدر نہ کرے
، وہ زحمتوں
کو شمار کرتا
ہے ۔
٭۔ کسی سے میل
جول مت رکھو
،جب تک اس کے
خیر خواہ نہیں
بنتے ۔
٭۔ ملنے سے
غم غلط ہوتے
ہیں اور درد
صحیح ہوتے
ہیں ۔
٭۔ ان کا دیکھنا
قیامت ہے مگر
رحمت سے بھرپور
!
٭۔ آنکھ کا
رونا بہتر
ہے مگر دل کا
رونا حجابات
اٹھا دیتا
ہے ۔
٭۔ کسی کی اصلیت
اس کی تقریر
سے نہیں ، تدبیر
سے پہچانی
جاتی ہے ۔
٭۔ جو دلوں
کو نچا کے رکھ
دے ، وہ قلندر
ہوتا ہے ۔
٭۔ دن اور دل
کا راقب قلندر
ہے ۔
٭۔ قلندر کی
نظر مستی دیتی
ہے اور قلندر
کا اثر ہوش
دیتا ہے ۔
٭۔ ان کے حضور
حاضر ہونے
کا سوچتا رہا،
ایک دن وہ حاضر
ہوئے ، میں
غیر حاضر تھا
۔
٭۔ میرے لفظوں
کی حقیقت ،
حقیقت والوں
کا مقدر بن
چکی ہے ۔
٭۔ اس قافلۂ
عشق سے دور
رہ کر پچھتاوہ
ہی نہیں ، تباہی
مقدر بنتی
ہے ۔
٭۔ مستوار
سے دوری ، شیطان
کا قرب ہے ۔
٭ ۔ مستوار
غلط بات نہیں
کرتا ، کیونکہ
وہ پوچھ کے
کرتا ہے ۔
٭۔ میری بات
کو اہلِ عقل
کم ، اہلِ مستی
زیادہ سمجھیں
گے ۔
٭۔ مستوار
کو مستی شرابِ
الست سے ملی
ہے ۔
٭۔ پیار والوں
کو مستوار
مستی دیتا
ہے ، انکار
والوں کو لنگر
!
٭۔ یار کے پاس
بولنا منع
ہے ، دیکھنا
منع ہے ، مظہر
ہونا جائز
ہے۔
٭۔ دعا رزقِ
حلال مانگتی
، آذان عشقِ
بلال مانگتی
ہے ۔
٭۔ کاش مُلّا
چاہت کی چائے
عشق کی آگ پہ
پکا کر محبت
کے کٹورے میں
ڈال کر کبھی
پی لیتا۔
٭۔ کئی لوگ
حضوری میں
جاتے ہیں کئی
لوگوں کے دلوں
میں حضور ہوتے
ہیں ۔
٭۔ فقیر کے
ساتھ غداری
دل کو اندھا
کر دیتی ہے
۔
٭۔ فقیر دل
کے اندھیروں
میں چراغ جلا
دیتا ہے ۔
٭۔ تسکین پیار
میں ہے اور
پیار کا مجموعہ
قلندر ہے ۔
٭۔ شیخ کی عطا
، طالب کا ظرف
دیکھتی ہے
۔
٭۔ میں حضوری
سے بہتر حضور
کو سمجھتا
ہوں ۔
٭۔ قلندر ہر
سوال کا جواب
محبت کی کتاب
سے دیتا ہے
۔
٭۔ انسان کو
کچھ لوگ یاد
رہتے ہیں اور
کچھ لوگوں
کو یاد کرنا
پڑتا ہے ۔
٭۔ انبیاء
اور اولیاء
کی گستاخی
کفار کا شیوہ
تھی۔
٭۔ کتاب لکھنے
والے اور کتاب
پڑھنے والے
سے بہتر کتاب
پر عمل کرنے
والا ہے۔
باب ششم
محاسنِ اخلاق
اللہ پاک نے
نبی کریم کے
بارے میں ارشاد
فرمایا :
وانک لعلی
خلقٍ عظیم
’’ اور بے شک آپ
کے اخلاق عظیم
ہیں۔‘‘
(القلم ۔ 68:4)
آپ کی دو صفات
کے بارے میں
رب سبحانہ‘
وتعالیٰ نے
لفظ عظیم لگایا
۔ ایک آپ کا
علم اور دوسرا
آپ کا اخلاق
۔
ام المؤمنین
حضرت عائشہ
صدیقہ سے کسی
نے آپ کے اخلاق
کے بارے میں
پوچھا ۔ ام
المؤمنین نے
جواب دیا ۔
’’ کیا تم نے قرآن
نہیں پڑھا
۔‘‘
فان خلق نبی
اللّٰہ کان
القرآن
’’ بے شک آپ کا
اخلاق قرآن
کریم ہے ۔‘‘
خود رسول اللہ
فرماتے ہیں
:
بعثت الیکم
لاتمم مکارم
الاخلاق
’’ میں اس لئے
بھیجا گیا
ہوں کہ شریفانہ
اخلاق کی تکمیل
کروں ۔‘‘
آپ کو اخلاقِ
الٰہیہ سے
مزین کیا گیا
۔ آپ کے قلبِ
اطہر کو پاک
اور مطہر کیا
گیا پھر اسے
انوارِ الٰہیہ
سے بھر دیا
گیا ۔ شبِ معراج
آپ کو اسماء
الٰہیہ ، افعالِ
الٰہیہ ، صفاتِ
الٰہیہ اور
ذاتِ خدا کے
رنگوں میں
رنگ دیا گیا
۔
حضرت موسیٰ
علیہ السلام
نے اللہ پاک
کو دیکھنے
کی خواہش اور
دعا کی تھی
۔ اس دن انہیں
راستے میں
کھڑا کر دیا
گیا کہ جمالِ
مصطفی کا نظارا
جمالِ خدا
کا نظارا ہے۔آپ
کے اخلاق اخلاقِ
الٰہیہ ہیں
۔آپ قرآن پاک
کی عملی تفسیر
ہیں۔کلام متکلم
کی صفات ہوتا
ہے ۔قرآن اللہ
پاک کا کلام
ہے اور حضرت
عائشہ صدیقہ
کا یہ فرمان
ہے کہ بے شک
آپ کا اخلاق
قرآن کریم
ہے یہ بتلا
رہا ہے کہ صفاتِ
الٰہیہ اور
صفاتِ محمدی
ایک ہی ہیں
۔
آپ سے محبت
کرنے والے
، آپ کے عاشق
، آپ کے پیارے
، آپ پر جان
قربان کرنے
والے صوفیاء
، ا ولیاء اور
صالحین میں
آپ کے اخلاق
کا رنگ نظر
آتا ہے ۔
اللہ تبارک
و تعالیٰ نے
چاہا کہ میں
جانا جاؤں
، پہچانا جاؤں
تو رب نے نورٌ
علیٰ نور اپنے
محبوب کو تخلیق
کیا ۔سورج
کو اپنی آب
و تاب کی شدت
کے باعث براہِ
راست دیکھنا
اور برداشت
کرنا مشکل
ہے ۔ مگر ایک
خاص زاویے
پر آئینہ رکھ
دیں تو وہی
سورج آئینہ
میں سمٹ آتا
ہے ۔ رب تعالیٰ
نے اپنے حسنِ
بے مثال کا
آئینہ آقا
علیہ الصلوٰۃ
والسلام کو
بنایا ۔ اب
آئینہ مصطفی
کے سامنے زاویے
درست کر کے
آئینہ پر آئینہ
رکھتے چلے
جائیں ہر آئینہ
میں جمالِ
مصطفی کریم
نظر آئے گا
۔ جمالِ مصطفی
ہی جمالِ خدا
ہے اور یہ سلسلہ
قیامت تک رہے
گا ۔ جو کوئی
دل کے آئینہ
کو مادی آلائشوں
سے پاک صاف
کر لے گا اس
کا زاویہ درست
کر دے گا بے
شک اس میں ذاتِ
مصطفی نظر
آئے گی ۔ کوئی
بغداد میں
ہے ، کوئی اجمیر
میں ہے ، کوئی
لاہور میں
ہے ،کوئی مخدوم
پور میں ہے،
کوئی باہمی
ملاقات بھی
نہیں ۔ ایک
دوسرے سے ملے
نہیں ، سینکڑوں
سالوں کا فرق
مگر۔ ۔ ۔ !
بات ایک ، اخلاق
ایک ، اعمال
ایک ، سوچ ایک
، فکر ایک ۔
کیوں ؟ کیونکہ
ہر ایک میں
اصل تو وہی
ہے ۔قلندر
کی کوئی بات
، کوئی کام
خالی از حکمت
نہیں ہوتا
۔ حدیثِ مبارکہ
ہے کہ
فعل الحکیم
لا یخلو عن
الحکمۃ
ترجمہ: ’’ حکیم
کا کوئی بھی
کام حکمت سے
خالی نہیں
ہوتا ۔‘‘
افراد کی دلجوئی
اور ایک اللہ
کے پیار کی
مے لوگوں کو
پلاتے رہنا
یہی ان کی زندگی
کا مرکز و محور
رہتا ہے۔شاہِ
قلندر پیر
مستوار کی
عاداتِ کریمانہ
کو الفاظ اور
جملوں میں
سمیٹنا اور
ڈھالنا آسان
نہیں ۔ ہر قدم
پر ایک نیا
انداز ، ہر
کام میں ایک
نئی حکمت اور
قلندرانہ شان
کے ساتھ ، سادگی
اور وقار کا
حسین امتزاج
ہر کام میں
دکھائی دیتا
ہے ۔
آج کے مادی
عقلی دور میں
خوگر پیکر
محسوس ہر بات
کو سائینٹفک
طرزِ فکر سے
دیکھتا ہے
۔ہر بات کی
دلیل اس کا
تجزیہ ، مشاہدہ
اور تجربہ
وقت کی ضرورت
ہے۔ اس باب
میں جناب سرکار
شاہِ قلندر
پیر مستوار
کی شخصیت ،
آپ کی عاداتِ
کریمانہ ،
آپ کے تصرفات
، کرامات کی
جھلک ، آپ سے
بیعت ہونے
کے اسباب اور
اس کے اثرات
پر روشنی ڈالی
گئی ہے اور
اس کی بنیاد
ناچیز نے اپنے
مشاہدے اور
تجربے پر رکھی
ہے۔ اس کے بعد
خلفاء ، ناظمین
اور ان خاص
لوگوں کی آراء
جمع کی ہیں
جو پیر صاحب
کی صحبت سے
مستفیض ہو
رہے ہیں ، آپ
سے محبت کرتے
ہیں اور اس
کے ساتھ ساتھ
معاشرے کے
عاقل ، بالغ،
باعمل ، باعزت
، مفید اور
صالح افراد
ہیں ۔ ان کے
ذریعے جو واقعات
اور باتیں
ملیں وہ ایک
باب میں نہیں
آ سکتی تھیں
۔ ان کے لئے
علیحدہ ایک
کتاب مرتب
کرنی پڑتی
۔ یہاں چند
واقعات کا
انتخاب کیا
۔ اس سارے عمل
میں خلیفہ
بابا بھائی
جان اور سیف
الرحمٰن محمودوی
صاحب کا بہت
تعاون رہا
ورنہ یہ مرحلہ
طے کرنا بہت
مشکل تھا ۔کچھ
واقعات ، کچھ
باتیں ، اہلِ
علم ، اہلِ
عقل کے سوچ
و فکر کے لئے
راستے ضرور
کھولیں گی
کہ بے شک یہ
اللہ والے
ہی ہیں جو بندے
کو اللہ سے
ملا دیتے ہیں
۔
امتیاز جاوید
سچے عاشقِ
رسول
ہمارے ایمانیات
کا مرکز و محور
سرکار کریم
کی ذات مبارکہ
ہے ۔ ہماری
عبادات سنت
رؤف الرّحیم
ہیں ۔ آپ سے
حُبّی و عشقی
تعلق کو تعلیماتی
تعلق پر فوقیت
حاصل ہے ۔ یہی
عشقِ محبوبِ
خدا انسان
کو مظہرِ خدا
بناتا ہے ۔
شاہِ قلندر
عشق و مستی
میں فرماتے
ہیں ۔
ہم نے درِ حبیب
کو قبلہ بنا
دیا
دنیا میں کفر
و شرک کا جھگڑا
مٹا دیا
پوچھا کہ برقِ
نور چمکتی
ہے کس طرح
پردہ اٹھا
کے یار نے مکھڑا
دکھا دیا
(آذانِ قلندر
)
شاہِ قلندر
پیر مستوار
کی ہر دھڑکن
، ہر سانس ،
رواں رواں
عشقِ نبی پاک
سے معطر و منور
، پاکیزہ و
منزہ ہے ۔ آپ
جناب کا سینہ
عشق نبی کریم
کا ٹھاٹھیں
مارتا ہوا
سمندر ہے ۔
آپ کا نعتیہ
کلام با ذوق
، اہلِ محبت
لوگوں کے دلوں
میں حبِّ رسولِ
پاک کو فزوں
تر کرتا ہے
۔
کھو کر تیر
ے حسین جلووں
میں اے جانِ
جاناں
پھر مجھے میرے
آقا نہ کچھ
میری خبر ہو
نہیں پھر کوئی
تمنا مجھے
کسی در کی
اد ھر ہو میرا
قبلہ میری
سرکار جدھر
ہو
(آذانِ قلندر
)
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>