بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

جانِ کائنات سرکارِ دو عالم کے رُخِ انور کی بات ہو ۔ آپ کے خم کھاتے خوبصورت گیسوئے عنبرین کا ذکر ہو یا آپ کے معمولاتِ روز و شب پر گفتگو ہو جناب پیر و مرشد کا لہجہ پیار اور مٹھاس سے بھر جاتا ہے ۔مدینہ پاک کا ذکر چھڑ جائے تو محفل کا رنگ ہی اور ہوتا ہے ۔آپ جناب عمرے پر تشریف لے گئے ۔ سرکار دو عالم کا درِ اقدس ہے رمضان کا مہینہ ہے دنوں کا سردار جمعہ ہے ستون حنانہ ہے اور شاہِ قلندر کس طرح بارگاہِ شہنشاہِ کونین میں حاضر ہیں ۔ اس کی وضاحت آپ کے لکھے اس قطعے سے ہوتی ہے ۔
اُن کی سرکار میں بھیڑ تھی مگر کرم بھی تھا
محوِ التجا لوگ تھے ، میں تھا ، حرم بھی تھا
لکھتے جاتے تھے سب کا مقدر محمود
جانِ عالم کے پاس لوح بھی تھی قلم بھی تھا
آپ جب عشق و مستی کے رنگ میں ہوں تو کبھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا رنگ نظر آتا ہے اور کبھی امام بوصیری کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور کبھی سب سے جدا اپنی ہر ہر ادا ، ہر ہر عمل سے اس عشق و مستی کی مے پیار والوں کو پلاتے چلے جاتے ہیں ۔
ذکرِ اہلِ بیتِ اطہار بہت محبت سے کرتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کی بات ہے۔ ان کے فضائل و مناقب بیان کریں تو وقت بیتنے کی خبر نہیں رہتی ۔ آپ جناب کی شاعری کا بڑا حصہ اہلِ بیت کے ذکر پر مشتمل ہے ۔
میں کسی سے کیوں مانگوںمجھے محبوبِ پروردگار دیتے ہیں
سائل ہوں آلِ رسول کا مجھے تو خود سرکار دیتے ہیں
میری ابتدا میری انتہا غلامیِ حسین ہے
جب سے زیرِ نظر ہو ا محمو د حیدرِ کرّار دیتے ہیں
گجرات سے خلیفہ محمدیونس صدیقی لکھتے ہیں :
’’ پیر مستوار قلندر کی زندگی کا سب سے زیادہ ممتاز محبوب اور قابل قدر
و صف جذبۂ عشقِ رسول ہے ۔ذاتِ رسالت مآب کے ساتھ
انہیں جو والہانہ عقیدت ہے اس کا اظہار ان کی چشم نم ناک اوردیدۂ تر
سے ہوتا ہے ۔ عشقِ رسول آپ کا مشرب ،مشربِ محبت ہے ۔
پیرو شاہ کے قریب موضع بھو آ میں خالد نامی ایک شخص
رہتا ہے جو پہلے کہیں اور بیعت تھا ۔ جناب پیر صاحب کا جلوہ
دیکھ کر وہ آپ سے بیعت ہو گیا ۔ اس کے اہلِ خانہ اولیاء اللہ
کے قائل نہیں تھے ۔ وہ ان کی باتوں میں آ کر کشمکش کا شکار ہو گیا ۔
دو تین سال وہ دربار شریف پر نہ گیا ۔ جب پیر مستوار قلندر
کو معلوم ہوا تو جناب نے فرمایا بلانے والے اسے بلا لیں گے ۔
ایک دن خواب میں اس نے رسول اللہ کی زیارت کی
اور دیکھا کہ لوگ قطار بنائے سرکار مدینہ سے مصافحہ
فرما رہے ہیں ۔ کہتا ہے میں بھی قطار میں کھڑا ہوگیا جب میری
باری آئی تو رسول اللہ نے اپنا رُخِ انورپھیر لیا میری چیخیں
نکل گئیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے کیا غلطی سر زد
ہو گئی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تو نے میرے محمود مستوار کو ناراض
کیا ہے پہلے اسے راضی کر پھر میں تم سے ملوں گا۔
صبح اٹھ کر وہ مخدوم پور شریف پہنچا اور دست مستوار پر توبہ
کی ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :
جے توں رب نوں منانا پہلے یار نوں منا
رب من جاندا یار نوں منانا اوکھا اے ‘‘

تقویٰ و طہارت

تقویٰ کیا ہے ؟ نفس کو ہر طرح کی آلائشوں سے پاک صاف کر کے دل کو انوار و تجلیات سے بھر لینا ، جسم و جاں کو احکامِ شریعت کا پابند بنا لینا کہ غیر ارادی طور پر بھی ہر لمحے نیکیوں کا صدور ہو رہا ہو ۔ جناب پیر و مرشد تقویٰ و طہارت میں باکمال ہیں ۔
میں خود عرصۂ دراز سے فقہ ، تفسیر ، نماز ، وضو ، طہارت کے مسائل وغیرہ بتا رہی ہوں ۔فرائض ، سنتیں ہی پڑھاتے پڑھاتے عمر کا بیشتر حصہ گزرا ۔ مگر جب مرشدِ پاک کو وضو کرتے دیکھا ، ہر عضو کی طہارت کا اتنی شدت سے اہتمام کرتے ہوئے کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں خود طفلِ مکتب ہوں ۔ جس نے وضو ابھی ابھی کسی استاد سے سیکھا ہے ۔ پیر و مرشد نہ صرف شرعی احکام کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں بلکہ پابندِ شریعت علماء کی بہت قدر و عزت فرماتے ہیں ۔جہاں آپ مریدین کے تزکےۂ نفس اور اصلاحِ باطن کے لئے فکر مند ہوتے اور رہنمائی فرماتے ہیں وہاں اسلام کی دعوت و تبلیغ اس کی بقاء و حفاظت کے لئے خصوصی حکم اور تاکید فرماتے ہیں :
لا ہور سے چیف ناظم سیف الرحمٰن محمودوی بیان کرتے ہیں :
’’میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے سفر و حضر میں مرشدِ پاک کی صحبت
ملی ۔میں نے آپ جیسی متقی ، صالح ، پرہیزگار شخصیت نہیں
دیکھی ۔ بہت انہماک سے آپ کا نماز ادا کرنا ، وظائف اور ذکر
میں ہمہ وقت مصروف رہنا ، صفائی و طہارت میں حد درجہ احتیاط
کو ملحوظِ خاطر رکھنا آپ ہی کا خاصہ ہے ۔کپڑے پر ہلکا سا داغ بھی
آپ کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔ یہاں تک کہ جوتا بھی انتہائی
صاف ستھرا ستعمال کرتے ہیں ۔ ہاتھوں کو دھوتے وقت بہت وقت
لگا تے ہوئے مسلتے ہیں ۔ صابن لگاتے ہیں اور پھربار بار دھوتے
ہیں ۔ اذان کبھی بسترپر لیٹ کر نہیں سنی ۔ ہمیشہ اہتمام سے شرعی
جواب دیتے ہیں ۔ آپ کا ایک ایک لمحہ امرِ الٰہی کے عین مطابق
ہوتا ہے ۔ امر ہوتا ہے تو کام کرتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ۔‘‘
آپ شبِ زندہ دار ہیں ، رات رات بھر عشقِ الٰہی میں مست ہو کر طالبانِ حق کو اس کی مے بلاناغہ پلاتے رہنا آپ ہی کا کام ہے ۔اور اکثر فجر کی اذان تک بالکل ہشاش بشاش ہوتے ہیں ۔ سفر پر اگر صبح سویرے جانا ہو تو سب سے پہلے بستر چھوڑنے والے آپ جناب ہوتے ہیں ۔خواہ بستر پر لیٹے ہوئے ابھی گھنٹہ بھر بھی نہ گزرا ہو ۔
بیماری ہو یا صحت مندی ، خلوت ہو یا جلوت ، گرمی ہو یا سردی ، آپ کا ہر کام مداومت ، وقتِ مقررہ اور یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ اپنی ذمہ داریوں ، فرائضِ منصبی کو ہر صورت ادا کرنا اور خیال رکھنا آپ ہی کا کمال ہے ۔

افراد کی اصلاح و تربیت

آج کل خانقاہی نظام اتنا بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے کہ عوام الناس کے نزدیک ایک پیر کا کام تعویذ دینا اور دم کرنا رہ گیا ہے اور وہ جو اصل کام تھا فقراء ، صوفیاء کا کہ افراد کی اصلاح اور تربیت کریں ۔ وہ نکات ، وہ اللہ کے راز کی باتیں جو کتابوں سے نہیں ، علم کے دیوان چاٹ لینے سے نہیں ، اور بقول شمس تبریز کے
ایں آں است کہ تو نمی دانی
جسے اہلِ علم ، اہلِ عقل نہ جان پائے جو صرف اللہ والوں ، پیار و مستی والوں کی صحبتوں سے ملیں ۔ انہیں لوگوں میں بانٹا جاتا ۔ ایسے میخانے بہت کم رہ گئے ہیں اور شاہِ قلندر پیر مستوار جیسے ساقی تو ملتے ہی نہیں ۔آپ جناب کی ہر بات ہی کسی راز کی کنجی ہوتی ہے ۔آپ کے شب و روز تشنگانِ حق کی تعلیم و تربیت ، ارواحِ بنی نوع انسان کی پیاس بجھانے میں صرف ہوتے ہیں ۔ رات رات بھر معرفت کے موتی ، ہیرے جواہر بانٹتے رہنا ہی آپ کا خاصہ ہے ۔اپنے آرام اور کھانے پینے کی پرواہ کئے بغیر ہر لمحہ مصروفِ عمل ہیں ۔
ایک مرتبہ عرس کے بعد بہت ایکٹو (Active) لوگوں میں سے دو افراد کے درمیان کسی معاملے پر تنازعہ اٹھا ۔آپ جناب پیر و مرشد نے دونوں سے معاملہ کی تفصیل دریافت کی ۔ دونوں کو پاس بٹھایا اور اس طرح معاملے کو حل فرمایا کہ غلط سوچ رکھنے والے کی اصلاح بھی ہو جائے اور اسے شرمندگی بھی نہ اٹھانی پڑے ۔ کسی بھی لمحے کسی فرد کی تربیت کو پسِ پشت نہیں ڈالتے ۔ ہر طرح سے اصلاح اور بہتری کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہر فرد کو عزت دیتے ہوئے اسے اپنے اپنے مقام پر رکھتے ہیں ۔ شکستہ دل ہوں تو جوڑ دیتے ہیں ، نفس تکبر میں ہو تو اس کا سر کچل دیتے ہیں ۔ کئی افراد کی غلط باتوں کو بھی برداشت کرتے ہیں ۔
ایک دن فرماتے ہیں کہ جناب مولا علی yes">  کی یہ شان تھی کہ وہ جب کسی سے ملتے تو جو غلطی پر ہوتا اسے پسینہ آ جاتا تھا اور مولا علی سے یہ فیض ہمارے پیر و مرشد کو بھی عطا ہوا ہے کہ آپ غلط کو ، جھوٹ کو پہچان کر اس کی تربیت فرماتے ہیں ۔
کراچی سے محترمہ ذکیہ ابڑو لکھتی ہیں ۔
’’ سرکار شاہِ قلندر پیر مستوار ظاہراً باطناً صاحبِ شریعت ہیں ۔ میں نے
پیر و مرشد کو عین نبی پاک کی سیرت پاک پرپایا ۔ اور آپ نے
اس انداز سے میری تربیت فرمائی کہ میں دنیا دار تھی مجھے جیسے ہر
چیز کی طلب ، ہر چیز کی محبت سے بے نیازکر دیا ۔ میں کمزور ،
ڈرپوک ، حساس تھی ۔ مجھے دلیر ، بے باک اور بے خوف بنا دیا ۔
حق گو بنا دیا ۔ ہر چیز کے اصل معنی سے روشناس کرایا ۔ میں جاہل
تھی مجھے لفظوں کا ادراک ، سوجھ بوجھ ، معاملہ فہمی عطا کی ۔
مجھے اس قابل بنایا کہ میں مضبوطی کے ساتھ معاشرے
کا مقابلہ کر سکوں ۔‘‘
یہ صرف ذکیہ ابڑو کی ہی نہیں ہر حقیقی مرید کی یہی رائے اور تجزیہ ہے کہ سرکار پیر و مرشد ہر برائی کو بتدریج دور کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اور اس انداز سے تربیت اور اصلاح فرماتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا سفر رکنے نہیں پاتا ۔

رعب و جلال اور پیار و محبت

جناب سرکار پیر و مرشد کی شخصیت میں رعب ، دبدبہ اور جلال کا رنگ پایا جاتا ہے ۔ آپ کو دیکھتے ہی دل ادب و تعظیم سے بھر جاتا ہے ۔ خشیت کا رنگ ہر سو غالب آ جاتا ہے ۔ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے بھی آپ کی عظمت دل میں یوں رہتی ہے کہ
تو کجا من کجا ۔ تو کجا من کجا
خیال رہتا ہے کہ یہ عرش کی نسبت والے ہمارے ساتھ فرش پر آ بیٹھے ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ بہت اعلیٰ ہے ۔ اور اس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر آپ کا سب مریدین کے لئے پیار اور محبت کا انداز عجب امتزاج دیتا ہے ۔ آپ جب خوبصورت تبسم کے ساتھ نرمی سے گفتگو فرماتے ہیں تو اس پیار کی لذت
رعب و دبدبے کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت کیفیت سے دل کر بھر دیتی ہے ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے بارے میں آتا ہے کہ سرکار دو جہاں آقا و مولیٰ کی بارگاہ میں جاتے تو فرطِ ادب سے ساکن بیٹھتے۔ کاشانۂ نبوت پر حاضر ہوتے تو ادب سے ناخنوں سے دروازہ بجاتے ۔ آوازیں پست ہو جاتی تھیں۔
لے سانس بھی آہستہ کہ خلافِ ادب نہ ہو
نازک ہے آئینے سے طبیعت حضور کی
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بات پوچھنے کے لئے کئی برس لگا دئیے ۔ پوچھنے کے لئے جاتا تو رعب اور دبدبے کی بناء پر بات پوچھ نہ پاتا ۔
وہ رعب اور دبدبے کا فیض شاہِ قلندر کو بھی عطا ہوا ہے کہ بارہا میں نے خود کئی سوال پوچھنے چاہے مگر ہمت نہیں ہو پاتی ۔اوّل تو آپ جناب کے پاس جاتے ہی سارے سوالات ذہن سے مٹ جاتے ہیں ۔ اگر بہت کوشش سے یاد کر لیں ، یا لکھ کر لے جائیں تو پوچھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔ حالانکہ آپ جناب بہت حوصلہ افزائی فرماتے ہیں ۔ بولنے کا موقع دیتے ہیں اور سوال پوچھو تو غور اور توجہ سے سنتے ہیں ۔ خواہ بے معنی بات ہی کیوں نہ ہو ۔ مگر اس کے باوجود آپ کی عظمت آپ کا رعب دل میں سمایا رہتا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔نہ پوچھے گئے سوالو ں کے جواب بھی مل جاتے ہیں اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ گویا فرشتے آپ کے دائیں اور بائیں ہر لمحے آپ جناب کو پروٹوکول دے رہے ہیں کہ کسی کو گستاخی کی جرا ءت نہ ہو ۔
پیار محبت کے سفیرکی حیثیت سے تو آپ بے مثل ہیں ۔آج کے اس دور پر فتن میں اپنے بھی اپنے نہیں لگتے ، پیار اور محبت تو بالکل گھروں اور خاندانوں میں نہیں رہا۔مگر آپ جناب اپنے تو کیا غیروں کو بھی پیار اور محبت سے نوازتے ہیں ۔
بعض لوگ تو ایسے بھی آتے ہیں جن کی بے سروپا باتوں کو برداشت کرنا ہم جیسوں کے لئے بہت مشکل کام ہے اور میں نے دیکھا کہ پیر و مرشد گھنٹوں نہ صرف ان کو برداشت کرتے ہیں بلکہ پیار سے نوازتے ہیں ۔
اگر کبھی غلطی ہو جائے تو آپ کی ذانٹ ڈپٹ بھی اپنائیت اور پیار کا احساس لئے ہوتی ہے ۔ جی چاہتا ہے کہ مرشدِ پاک کی صحبت اور معیت ہمیشہ ملتی رہے ۔ اس سے کبھی محروم نہ ہوں۔

انگریزی و جدید تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنے والے

جناب سرکار شاہِ قلندر پیر مستوار جدید تعلیم کے حصول کے لئے ترغیب دیتے اور حوصلہ افزائی فرماتے ہیں ۔ خود بھی حاضرین کے ذوق کے مطابق انگریزی زبان استعمال کرتے ہیں۔
عشق پر بات چلی تو فرماتے ہیں ۔
’’ عشق سے ٹینشن ریلیز (Tension release) نہیں اِنکریز (increase) ہوتی ہے ۔‘‘
اب tension، release اور increase کا بہت خوبصورت استعمال اور ساتھ لفظی معنوی رنگ بھی نمایاں ہے ۔ ہنسی مذاق کے موڈ میں ایک مرتبہ محفل کے ذوق کو یہ فرماتے ہوئے دوبالا کر دیا ۔
فقیر تو کم اور رئیر (rare) ہوتا ہے
باہر سے ہو جیسا اندر سے کلئیر (clear) ہوتا ہے
خدا کا جب بن جاتا ہے پیارا محمود
پھر ساری پبلک (public) کا ڈئیر (dear) ہوتا ہے

اس قطعے میں rare ، clear ، public ، اور dear کو فی البدیہہ مزاح کے رنگ میں استعمال کرتے ہوئے پیار بھرا پیغامِ حقیقت بھی دے ڈالا ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔
بعض اوقات مریدین آ کر اپنی کامیابیوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے متعلق بتاتے ہیں تو سرکار پیر و مرشد بہت دلچسپی سے ان کے شعبہ جات سے متعلق گفتگو فرماتے ہیں اور ان سے گفتگو کے دوران قرآن و سنت سے ان موضوعات کے حوالے سے پائی جانے والی معلومات کا اضافہ فرماتے ہیں ۔
کائنات ، علم طِب، علم نجوم ، سولر انرجی (solar energy) ، جدید اسلحہ ، ایٹم بم کی تیاری کے مراحل اور اسی طرح کے بے شمار موضوعات پر سیر حاصل گفتگو فرماتے ہیں کہ اس وقت امتِ مسلمہ کٹھن دور سے گزر رہی ہے ۔ اس میں ضروری ہے کہ ہر فرد عشقِ الٰہی کی آگ دل میں جلا کر جدید عصری علوم حاصل کرے۔ بقول شاہِ قلندر :
جو یارکے سوا اور کو سیلیکٹ (select) کرتے ہیں
وہ پیدا اپنے اندر ڈیفیکٹ (defect)کرتے ہیں
مرمٹے ہیں جو قدمِ یار پر محمود
بیشک یہاں سے بات ڈائریکٹ (direct) کرتے ہیں
یعنی یار کے ہو جاؤ ‘ رابطہ براہِ راست قائم کرو اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھو ۔

سخاوت و فیاضی
ارشادِ الٰہی ہے
ویؤثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ
ترجمہ : ’’ انہیں خواہ اپنی حاجت کیوں نہ ہو دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں ۔‘‘
بے شک فقراء اور صوفیاء اپنی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کا خیال رکھتے ہیں ۔ محبت و پیار کا تعلق مسکراہٹ ، سلام ، مل کر کھانے پینے ، ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کے جذبات ، دعاؤں اور خوبصور ت پیار بھرے تحفوں کے تبادلے سے بڑھتا ہے ۔ شاہِ قلندر پیر مستوار ان سب چیزوں کو بدرجۂ اتم لوگوں میں سارا دن فیاضی سے تقسیم کرتے ہیں ۔ حدیث مبارکہ ہے ۔
تھا دو ا تّحابوا
’’ آپس میں ایک دوسرے کو ہدیے دیا کرو اس سے باہمی محبت بڑھے گی۔‘‘
شاہِ قلندر نے ہمیشہ اپنے لئے اس اصول کو مدِ نظر رکھا ہے ۔
لا طمع لا منع لا جمع ’’ طمع نہیں منع نہیں جمع نہیں ۔‘‘

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.