بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

عجب بے نیازی کا رنگ ہے کہ کبھی پرواہ نہیں کی کوئی کیا لا تا ہے ۔ اہلِ محبت ، طالبانِ حق جب شاہِ قلندر سے ملنے آتے ہیں تو محبت سے تحائف لے کر آتے ہیں اور مرشدِ پاک اس سے کہیں زیادہ فیاضی سے آنے والوں کی دلجوئی ، خصوصی علم و فضل رکھنے والے با صلاحیت لوگوں ، غریب لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ خود کہیں جائیں تو واپسی پر خصوصی لوگوں کے لئے تحائف لاتے ہیں ۔ کپڑے ، رقوم ، کتابیں ، خوشبوئیں ، تسبیحات ، سرمے ، ڈیکوریشن پیسز ، اور یہی نہیں موبائل ، ٹیبلٹ پی۔ سی (Tablet PC) اور بے شمار چیزیں اپنے مریدین کو حسبِ موقع فیاضی سے دیتے ہیں حتیٰ کہ تعلق والوں کو شادی بیاہ پر خصوصی تحائف بھی عطا کرتے ہیں ۔
شاہِ قلندر پیر مستوار نے مادی اور روحانی دونوں حوالوں سے درِسخاوت وا رکھا ہے ۔دونوں خزانوں سے عطا فرماتے ہیں ۔ سینکڑوں لوگوں کا ہر روز آنا اور ہر فرد کو انفرادی طور پر عطا فرمانا کہ اہلِ دل آتے ہیں تو گزری ساعتوں میں محروم ر ہ جانے کا افسوس ہوتا ہے ۔ کہ آئے تو بڑی دیر سے ۔ اور میں نے تو دیکھا ہے کہ تقریباً ہر روز دور دراز سے آنے والوں کے لئے چائے کھانے پینے کا سلسلہ دن بھر ہی نہیں رات بھر چلتا رہتا ہے اور آپ جناب کی تو کیا بات آپ کے اہلِ خانہ اور خادمین بھی خندہ پیشانی سے آنے والوں کی تواضع کرتے ہیں ۔

افراد کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو

وجۂ تخلیقِ کائنات سرکار دو عالم آقا و مولیٰ رسول پاک نے فرمایا:
کلموا النّاس علی قدر عقولھم
’’ لوگوں سے ان کی سمجھ کے موافق بات چیت کرو ۔‘‘
ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
یسّروا ولا تعسّروا
’’ آسانی پیدا کرو اور تنگ نہ کرو ۔‘‘
شاہِ قلندر کے پاس آنے والے لوگ ہر طرح کے ہوتے ہیں ۔ ہر ایک کی استعداد ، ذہنی سطح ،شوق مشغلے جدا ہوتے ہیں ۔سرکار پیر و مرشد ہر ایک سے اس کی ذہنی سطح اور اس کے میلانات کے مطابق بات کرتے ہیں ۔ افراد کی ذہنی سطح اور ان کے مشاغل کے مطابق موضوعات بدل لیتے ہیں ۔ لوگوں کے لئے آسانیاں فراہم کرتے ہیں ۔
علماء سے گفتگو کے موضوعات اور ہوتے ہیں ۔ نوجوانوں سے ان کی ذہنی سطح کے مطابق ، سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں سے معاشرے کی صورتِ حال ، موسیقی کا شوق رکھنے والوں سے مختلف سازینوں ، دھنوں اور گیتوں پہ مباحث ،
شاعری کا لطیف ذوق رکھنے والوں سے اشعار سننے اور سنانے ۔ غزلیات اور گانوں کے چند جملوں میں محبوبِ حقیقی کی جانب نسبت دے دینا ، ان میں صوفیانہ رنگ نکال لینا جناب کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
بچوں میں اگر خصوصی صلاحیتیں ہوں تو ان کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے ہیں ۔ ان کی کارکردگی پر خصوصی انعام بھی دیتے ہیں ۔ اور توجہ سے بھی نوازتے ہیں۔
ایک مرتبہ ایک ہی نشست میں مختلف افراد سے گفتگو ہوتی رہی اور چند گھنٹوں میں دس مختلف موضوعات پر بحث مباحثہ ہوتا رہا ۔ہر شعبے سے متعلق مرشدِ پاک کی معلومات حیران کن ہوتی ہیں ۔ اور آپ ہر ایک سے گفتگو اس انداز سے کرتے ہیں ۔ گویا سب سے زیادہ دلچسپی آپ جناب کو اسی شخص کے پسندیدہ شعبے سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو نیک نیتی سے آتا ہے ۔ وہ درِ مرشد سے ایسا لگ جاتا ہے کہ کہیں اور جا ہی نہیں سکتا ۔

فہم و فراست

سید المرسلین ، خاتم النبےین ، محبوبِ خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ۔
اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ‘ ینظرُ بِنُورِاللّٰہ
’’ مؤمن کی فراست سے ڈرو بیشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔‘‘
رحمتِ یزداں ، نےّرِ تاباں شاہِ قلندر پیر مستوار بلاشبہ اس فرمان کا عملی مظاہرہ کئی مرتبہ فرما چکے ہیں ۔ آپ جناب اپنی فہم و فراست کے باعث دقیق مسائل کو بھی بڑے احسن طریقے سے حل فرمالیتے ہیں۔ جن مسائل کے ظاہراً حل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہوتی۔ مثال کے طور پر یہ ایک دو واقعات یہاں لکھ رہی ہوں۔
میاں چنوں میں دو بھائیوں میں تنازعہ ہوا ۔ مادیت زدہ معاشرے میں گھروں میں ناچاقیاں اور دلوں میں دوری کا سبب یہی مادی ساز و سامان بن جاتے ہیں ۔ پیر و مرشد حتی الامکان افراد کو جوڑنے کی کوشش فرماتے ہیں ۔ دونوں بھائیوں میں شیشوں کی دکان پر جھگڑا ہوا ۔ بڑ ے بڑے چوہدری لوگ بیٹھے مگر کسی سے تصفیہ نہ ہو سکا ۔ ایک بھائی پیر صاحب کے پاس آیا اور ساری بات سنائی ۔ پیر و مرشد نے ناظم مقرر کیا مگر ان سے معاملہ حل نہ ہوا ۔ اور ناظم صاحب کو اس کے علاوہ کوئی حل نہ
سوجھا کہ دونوں بھائیوں کو لے کر پیر و مرشد کے پاس حاضر ہو جاؤں ۔ جناب سرکار شاہِ قلندر خاموشی سے دونوں بھائیوں کی باتیں صبر و تحمل کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک سماعت کرتے رہے ۔ آپ کے پاس آ جانے کے بعد مسائل باعثِ پریشانی نہیں رہتے ۔ اور یہ بھی آپ جناب کا ہی حوصلہ ہے کہ باتوں کی تکرار اور طوالت کو برداشت کرتے رہنا ۔ عام افراد کے بس کی تو یہ بات ہی نہیں ۔ آخر میں آپ نے فیصلہ سنا دیا ۔ چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ پچاس ہزار روپے بڑے بھائی کو ادا کرے ۔ انتہائی کراماتی انداز سے آپ نے من وجہ البصیرت ایک بہت دقیق مسئلے کو خوبصورتی سے حل فرما دیا ۔
اسی طرح ایک مرتبہ کلر کہار کی کے تین بھائیوں کی جائیداد کا مسئلہ تھا جو لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کا سبب بن گیا تھا اور ظاہری طور پر اتنا متنازعہ ہوا کہ اس کے حل کی کوئی صورت سجھائی نہ دیتی تھی ۔فریقین غصے میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہے جاتے اور دیگر چھوٹی چھوٹی باتیں لڑائی جھگڑے کو طول دئیے جارہی تھیں۔اکیس مرلے کی جگہ تھی ۔ ایک بھائی وفات پا گیا اس کی بیوہ موجود تھی۔ ایک بھائی نے دو شادیاں کیں اور اس کی دونوں بیویاں الگ الگ مکان میں رہتی تھیں ۔ جگہ کی تقسیم کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہو چکا تھا کہ حل کرنے کی کوئی شکل دکھائی نہ
دے رہی تھی ۔ پہلے آزمائشی طور پر پیر و مرشد نے فیصلہ سنایا کہ بیوہ خاتون جس بھائی کے ساتھ رہے گی وفات شدہ بھائی کا مکان اس کے پاس رہے گا ۔ مگر یہ فیصلہ فریقین قبول نہ کرسکے ۔ اس پر پیرو مرشد نے تعمیر میں ردو بدل کا حکم صادر فرمایا کہ ہر فریق مطمئن اور خوش ہو گیا ۔ درست فیصلہ بھی ہو گیا ۔اور گھروں میں اطمینان و سکون کی فضا بھی بحال ہو گئی ۔
یہ مرشدِ پاک کا کمال ہے کہ دل فیصلوں پر اطمینان و سکون میں آجاتے ہیں ۔ جو سچے پیار والے ہوتے ہیں انہیں ان فیصلوں میں بہت سے مادی اور روحانی فوائد و ثمرات ملتے ہیں اور جو دل کی تنگی محسوس کرتے ہیں وہ خود کو محروم کر دیتے ہیں ۔ آج کے اس مادہ پرست معاشرے میں انسان پوری جائیداد پر بھی قبضہ کر کے قناعت نہیں کرتا اور حرص و ہوس کے اندھے کنوئیں میں گرا رہتا ہے ۔ مگر شاہِ قلندر اپنے مریدین کی تربیت و اصلاح اس انداز میں فرماتے ہیں کہ یہ دنیاوی ساز و سامان روحانی سفر میں رکاوٹ نہ بنے اور جس حد تک ممکن ہو افراد ان مسائل کے حل کو پا کر اپنی یکسوئی برقرار رکھ سکیں اور ان پریشانیوں میں الجھ کر پستی و ذلت میں نہ گریں ۔

خلقِ خدا سے محبت

آقا و مولیٰ رسول اللہ نے فرمایا :
الخلق عیال اللہ فاحبّ الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ
ترجمہ : ’’ خلق خدا کے لئے ایسی ہے جیسے آدمی کے لئے کنبہ تو خدا کو
سب سے زیادہ پیارا وہ بندہ ہے جو کنبہ کے ساتھ بھلائی کرے ۔‘‘
شاہِ قلندر پیر مستوار ہر گھڑی ہر ایک کی مدد اور دلجوئی کے لئے آمادہ رہتے ہیں ۔ غریبوں ، بوڑھوں ، کمزوروں ، محروموں کی ہر طرح سے داد رسی فرماتے ہیں ۔ ان کے دکھوں ، تکلیفوں کو دور کرنے کی ہر ممکن سعی کرتے ہیں ۔ تقاضائے بشریت تو ہے کہ دولت کے انبار اکٹھے کرو ۔ مگر شاہِ قلندر نے دنیا کو ہمیشہ بہت حقیر جانا ۔ کبھی لالچ نہ کیا ۔ فقط اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں ۔ ہر ایک کو محبت اور پیار سے نوازتے ہیں ۔ ہر ایک کی ہر طرح کے معاملے میں مدد فرماتے ہیں ۔
کراچی سے عفیفہ اعظم قادری قلندری بتاتی ہیں :
’’ میں 2002 ء سے کنزالایمان کے سافٹ وئیر پر کام کر رہی تھی ۔ اختلافی
اور مادی مسائل کی صورت میںبہت سی مشکلات کا سامنا تھا ۔
2004 ء میںشاہِ قلندر سے بیعت ہوئی تو آپ سے درخواستِ دعا
کی میرے لجپال سرکار نے دعا اور توجہ فرمائی تو ایک مہینے کے
اندر کنزالایمان کا ترجمہ مکمل ہو گیا ۔ اور بعد ازاں ادارۂ تحقیقات
امام احمد رضا انٹرنیشنل نے خرید بھی لیا ۔ وہ کام جو دو سال میں
مکمل نہ ہو پایا ۔ مرشدِ کریم کی توجہ سے ایک ماہ میں مکمل ہو گیا ۔
دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات اس ویب سائٹ کا وزٹ
کر سکتے ہیں ۔www.kanzuliman.com ۔‘‘
چکوال سے نبیل عرفان صاحب لکھتے ہیں:
’’ ہمارے ہمسائے میں ایک فاحشہ عورت تھی ۔ جس نے اہلِ محلہ کے
ناک میں دم کیا ہوا تھا ۔ شریف لوگوں کو تنگ کرتی ۔جھوٹے الزام لگاتی
اور پھر پیسے بٹورتی ۔ اس عورت نے مجھے اور میرے گھر والوں کو
بھی پریشان کیا ۔ یہاں تک کہ نوبت تھانے کچہری تک جا پہنچی ۔
سرکار پیر و مرشد نے جب دیکھا کہ خلقِ خدا اس عورت کی وجہ سے
پریشان ہے تو آپ نے دعا فرمائی ۔ اس دعا کی برکت سے اہلِ محلہ
نے سکون کا سانس لیا۔ وہ عورت شہر چھوڑ کر چلی گئی ۔ہمارا
مسئلہ بھی حل ہو گیا اور دیگر افراد بھی مطمئن ہو گئے ۔‘‘
آپ کے دربار عالیہ میں پریشان حال غریبوں ، کمزوروں کی اکثریت اپنے مسائل سے پریشان حال آتے ہیں اور واپسی پر شاداں و فرحاں جاتے ہیں ۔ ان کی ساری پریشانیاں سارے دکھ شاہِ قلندر اس طرح دور کر دیتے ہیں کہ گویا تھے ہی نہیں ۔

کشف

کشف کے معنی ظاہر ہونا ، انکشاف ، غیب کی باتوں کا اظہار، الہام ، القاء ہے ۔ صوفیاء کی اصطلاح میں کسی حقیقت کے ادراک کو ’’ مکاشفہ ‘‘ کہتے ہیں ۔ قلندر ، فقراء اپنی قلبی توجہ سے عرش و کرسی ، لوحِ محفوظ الغرض کسی بھی قسم کا حال معلوم کر لیتے ہیں اور مشاہدۂ حق ، اپنے نورِ بصیرت سے حق کو بھی عین حق میں دیکھتے ہیں ۔ یہ مقام مجاہدات و مراقبات کے بعد حضوری دل حاصل ہونے سے ملتا ہے ۔ چونکہ مشاہدۂ حق تو صرف ایسے مقامات پر فائز اولیاء اللہ ہی کرتے ہیں ۔ مگر ان کی قوتِ مکاشفہ یا ’ کشف‘ کا اظہار عام افراد کے سامنے عام دنیاوی معاملات میں بھی ہوتا ہے ۔ جو عام افراد سے کسی صورت ممکن نہیں ۔
ناظمہ آمنہ لطیف راولپنڈی سے بیان کرتی ہیں ۔
’’ بیعت کے چند دن بعد کالج کے ایک مسئلے پر میں نے پہلی مرتبہ اپنے
پیر و مرشد کا موبائل نمبر ملایا ۔ کافی دیر بعد نمبر ملا اور جب پیر و مرشد
شاہِ قلندر کی پرجلال آواز آئی ’’ ہیلو‘‘ تو میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی
اور وارفتگی ء شوق اور احترام میں کھڑی ہوگئی ۔ سلام کیا اور مسئلہ بتایا ۔
پیر صاحب فرمانے لگے ۔ ’’ وعلیکم السلام بیٹھ جاؤ ۔‘‘ یہ سن کر میرے
چودہ طبق روشن ہو گئے وہ جو کتابوں میں پڑھاتھا آج اس کی
تصدیق ہو گئی ۔‘‘
آمنہ راولپنڈی میں اپنے گھر میں ہے اور مرشدِ پاک اپنے دربار عالیہ میں ۔ آپ کا یہ فرمان کہ بیٹھ جاؤ گویا آپ براہِ راست اپنے دربار سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔
کامرہ کینٹ سے وزیر حسین بیان کرتے ہیں۔
’’ ہمارا ایک دوست مظہر نظامی تونسہ شریف بیعت ہے ۔ ایک دفعہ
اس کی ملاقات پیر صاحب سے ہوئی ۔ میں نے تعارف کرایاتو
پیر صاحب نے فرمایا ان سے ہماری ملاقات ہے ۔ ہم حیران ہوئے
کیونکہ وہ پہلی دفعہ ملا تھا ۔ بعد میں جب اس سے پوچھا تواس نے
بتایا کہ میری خواب میں پیر صاحب سے ملاقات ہوئی ہے ۔ کچھ عرصے
کے بعد ایک محفل میں پھر پیر صاحب سے اس کی ملاقات ہوئی تو
حضور پیر صاحب نے فرمایا ۔ ’ تو وہی ہے جو خواب میں بھی
پیچھا نہیں چھوڑتا ‘ ۔ ۔ ۔ ‘‘
کوئی کیا خواب دیکھتا ہے ؟ کسی کو علم نہیں ہوتا ۔ دیکھنے والے کوہی پتہ ہوتا
ہے ۔ اور اس کا تعلق خاص اس فرد کے اپنے محسوسات سے ہوتا ہے ۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جناب سرکار کی خواب میں ملاقات بھی گویا عین اصل ملاقات کے مثل تھی ۔
رانا طارق ایڈووکیٹ لکھتے ہیں ۔
’’ محرم کے عرس پر میرے والد صاحب میرے ساتھ گئے ۔ محفل کے
اختتام پر لائن میں لگ کے مصافحہ کیا ۔ میں نے عرض کی سرکار میرے
والد ہیں ۔ عرصے بعد گھر میں آسیب کا مسئلہ ہوا ۔ میں نے والد صاحب
سے کہا آپ دربار شریف جائیں ۔ والدصاحب پریشان تھے کہ وہ
پہچانیں گے نہیں اور مشکل ہو جائے گی ۔ میں نے اصرار کیا تو بہت
سے سوالات دل میں لئے دربار شریف آئے ۔ سرکار پیر و مرشد
دربار شریف اپنی مسند پر رونق افروز تھے ۔ والد محترم نے سلام
عرض کیا اور کچھ متذبذب بیٹھ گئے ۔ مرشدِ پاک نے حاضرین سے
فرمایا : ’یہ طارق کے والد ہیں ۔ جھنگ سے آئے ہیں اور ان کے
گھر میں آسیب کا مسئلہ ہے ۔ والد صاحب حیران و ششدر رہ گئے ۔
سوالات بھول گئے اور بیعت ہو کر واپس آ گئے ۔‘‘
اس واقعہ پر غور کریں کہ طارق صاحب کے والد محترم کا پریشان ہونا ، متذبذب ہونااس سے آپ جناب نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ آپ نے شفقت و کرم سے اس کا اظہار کر کے ان کو اس پریشانی اور فکر سے بھی باہر نکالا ۔ انہیں عزت و احترام بھی دیا اور آسیب کا مسئلہ بھی حل فرمایا ۔

دعا کی برکات

شاہِ قلندر پیر مستوار فرماتے ہیں :
’’ دعا اور دوا بغیر اذنِ ربی کچھ نہیں ۔‘‘
ایک اور موقعہ پر آپ جناب نے فرمایا :
’’ دعا سے تقدیر بدلتی ہے ۔ نظر سے انسان بدلتا ہے ۔‘‘
وہ لوگ جن کے دل عشقِ الٰہی سے معمور ہوتے ہیں ۔ جو ذکرِ الٰہی میں فنا ہو چکے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ جب اللہ کے حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیں تو اللہ پاک ان کی دعاؤں کی قبولیت کو خود پہ لازم کر لیتا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
لھم ما یشاء ون عند ربھم
’’ وہ لوگ جو چاہتے ہیں ۔ ان کا رب انہیں وہ عطا فرماد یتا ہے ۔‘‘
یہاں ’’ یطلبون ‘‘ یا ’’ یدعون‘‘ کے الفاظ نہیں استعمال کئے گئے بلکہ ان سے بڑھ کر ’’ یشاء ون ‘‘ کا لفظ بتا رہا ہے کہ دعا کیلئے تو ہاتھ اور زبان حرکت میں آتے ہیں یہ لوگ تو صرف دل میں خواہش کرتے ہیں اور اللہ پاک اسے پوری کر دیتا ہے ۔ جناب پیر و مرشد کی دعا سے برکات و ثمرات لوگ دن راتوصول کر رہے ہیں ۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔
شیخ ریاض احمد خاکوی لکھتے ہیں ۔
’’ میری بڑی ہمشیرہ کو فالج کا اٹیک ہوا ۔ دایاں حصہ مفلوج ہو گیا ۔
علاج شروع ہوا ۔ لیکن پریشانی ختم نہ ہوئی نہ ہی صحت مندی
کے کوئی آثار تھے ۔ مرشدِ پاک سے درخواستِ دعا کی ۔ رات کو
حضور پیر مستوار خواب میں تشریف لائے ۔ ہمشیرہ کہتی ہیں۔
’’ رات پیر صاحب سچ مچ تشریف لائے تھے ۔ کیونکہ جب آپ
پھونک مارتے تھے تو پھونک سے دوپٹہ سر سے اتر جاتا تھااور
میری آنکھ کھل جاتی تھی ۔ پہلی دفعہ خواب سمجھا اور سو گئی ۔ جیسے
ہی آنکھ لگی پھر پھونک کا احساس ہوا اور دوپٹہ سر سے سرک گیا پھر
آنکھ کھل گئی اور تیسری دفعہ غیر معمولی بات یہ ہوئی کہ فالج زدہ حصے
میں جان آگئی ۔ خوشی سے میں پکار اٹھی: ’’ میرے پیر صاحب میری
مدد کو آگئے ۔ ‘‘ الحمد للہ آج میری ہمشیرہ اپنے کام اپنے ہاتھوں سے
کر رہی ہیں ۔ پیر و مرشد نے انہیں بسترِمرگ سے اپنے پاؤں
پر کھڑا کردیا ۔‘‘
خلیفہ صوفی عبد الخالق صاحب پیر و مرشد کے کمالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
’’ 22 صفر کو گوپال نگر میں ختمِ پاک کی محفل تھی ۔ گرمی بہت شدید تھی ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.