میں
نے حضور پیر
مستوار سے
عرض کی ۔ سرکار
نظرِ کرم فرمائیے
۔
گرمی بہت ہے
آپ نے سر اٹھا
یا اور پھر
نیچے کیا ۔
تھوڑی
ہی دیر میں
بادل آگئے
اور بارش ہونے
لگی ۔ اب جب
بارش سے محفل
متاثر ہوئی
میری طرف دیکھ
کر تبسم فرمایا
۔
پھرسر اٹھایا
اور نیچے کر
لیا ۔ بادل
یوں گئے گویا
تھے ہی نہیں۔
موسم بھی بدل
گیا اور محفل
بھی خوشگوار
ماحول میں
جاری رہی ۔‘‘
واہ کینٹ کے
طارق محمود
صاحب لکھتے
ہیں :
’’ جو بھی مجھے
دیکھتا ہے
تیرا ہی نام
لیتا ہے
میں تو خاموش
ہوں مگر نسبت
تیری خاموش
نہیں
پیر و مرشد
کا لطف و کرم
ہمیشہ رہا
۔ میری اولاد
نہ تھی ۔ گھر
والے
دوسری شادی
کرانا چاہتے
تھے ۔ میرا
دل پریشان
تھا ۔ میری
پریشانی حضور
محمود جی سرکار
نے بھانپ لی
اور فرمایا
۔
’’ جا اللہ پُتر
دے سی ۔‘‘ پیر
صاحب کی زبان
سے ایسے نکلا
جیسے
’’ کن فیکون ‘‘ اللہ
پاک نے پیر
و مرشد کی دعا
سے مجھے بیٹے
سے نوازا ۔‘‘
یہ مشاہدات
مردوں کے ہی
نہیں بلکہ
خواتین کے
بھی ہیں ۔ طوالت
کے پیشِ نظر
صرف چند ایک
منتخب شدہ
دئیے گئے ہیں
۔
فرحت بتول
کوٹ چوہدریاں
سے لکھتی ہیں
۔
’’ میری کزن کے
شوہر کو بجلی
کا کرنٹ لگا
۔ وہ جگہ پہلے
تین چار افراد
کو
لقمۂ اجل بنا
چکی تھی ۔ ان
کے بچنے کی
بھی کوئی امید
نہیں تھی۔
پیر صاحب کے
پاس آئے ۔ آپ
نے فرمایا
کیا چاہئیے
۔ عرض کی
صرف ان کی زندگی
چاہئیے۔ پیر
صاحب نے دعا
فرمائی تو
گویا
ان میں دوبارہ
جان آ گئی ۔‘‘
کوٹ لکھپت
سے غلام نبی
صاحب پیر و
مرشد کی دعا
کی برکات لکھتے
ہیں۔
’’ میرے بیٹے
کی پیدائش
سے پہلے سرکار
نے نہ صرف مجھے
خوش خبری
سنائی بلکہ
بیٹے کا نام
بھی پہلے ہی
تجویز کر دیا
۔ ڈاکٹرزنے
آپریشن کا
بتایا
مگر سرکار
پیر صاحب کی
دعا سے بیٹا
نارمل ہوا
۔ تو سرکار
نے فرمایا
:
’’ یہ بچہ بشارتی
ہے ۔‘‘ سرکار
کی دعا سے گھر
میں رزق میں
کشادگی
ہوئی اور اطمینان
و سکون آپ کے
طفیل ملا ۔‘‘
دعا ، دم اور
تعویذات عین
سنتِ نبوی
ہے ۔ سینہ بہ
سینہ باقی
علوم کے ساتھ
ساتھ یہ علم
بھی منتقل
ہوتا چلا آرہا
ہے ۔بعد میں
اہل اللہ ،
صوفیاء اور
فقراء نے مجاہدات
و مشاہدات
کے بعد قرآنی
آیات ، ان کے
اثرات اور
ان کا استعمال
کیا ۔
بخاری اور
مسلم شریف
میں حضرت عائشہ
صدیقہ سے روایت
ہے :
’’ نبی پاک نے
ہمیں حکم دیا
کہ ہم نظرِ
بد سے بچنے
کے لئے دعا
،
تعویذ کرائیں
۔‘‘
(بخاری شریف
۔ جلد سوم ۔
کتاب الطب
۔ صفحہ: 289)
عروہ بن زبیر
نے حضرت عائشہ
صدیقہ سے روایت
کی ہے :
’’ نبی پاک معوذات
پڑھ کر اپنے
اوپر دم کیا
کرتے تھے ۔
جب آپ کی تکلیف
بڑھ گئی تو
میں انہیں
پڑھ کر آپ پر
دم کیا
کرتی تھیں
اور آپ کے دستِ
اقدس کو آپ
جسمِ اطہر
پر پھیرا کرتی
۔‘‘
حضرت عائشہ
سے ہی ایک اور
روایت ہے :
’’ رسول اللہ
نے حکم فرمایا
کہ نظر لگنے
کا دم کیا کرو
۔‘‘
صحیح بخاری
شریف میں ہے
کہ صحابہ کرام
نے کچھ بکریوں
کے بدلے سورۃ
فاتحہ پڑھ
کر دم کیا ۔رسول
اللہ نے فرمایا
:
’’ جن باتوں کی
تم مزدوری
لیتے ہو ان
میں اللہ کی
کتاب سب سے
زیادہ
اجرت کی مستحق
ہے ۔‘‘
چکوال سے ناصرہ
ناہید صاحبہ
بتاتی ہیں
کہ ایک بار
وہ سخت بیمار
ہوئیں اور
محسوس ہوتا
تھا جیسے قریب
المرگ ہیں
پھر شاہِ قلندر
پیر مستوار
سے دعا کے بعد
وہ بالکل صحتیاب
ہو گئیں ۔
گویا دم اور
تعویذات اور
ان کی مزدوری
یہ سب چیزیں
سنتِ نبوی
کے عین مطابق
ہیں اور ایسا
عمل نہیں جس
پر کوئی معترض
ہو سکے ۔ یہ
صرف شاہِ قلندر
پیر مستوار
ہی نہیں بلکہ
اسلاف اولیائے
کرام بھی دم
، دعا ، تعویذات
کے ذریعے لوگوں
کے مادی و روحانی
مسائل اور
پریشانیاں
دور کرتے رہے
ہیں۔ جناب
شاہِ قلندر
پیر مستوار
بھی ہر روز
دربارِ عالیہ
میں آنے والے
سینکڑوں لوگوں
کو ان کے ذریعے
مستفیض فرما
رہے ہیں ۔
مہمان نوازی
مہمان نوازی
عین سنتِ نبوی
ہے ۔ سرکارِ
دو عالم نے
ایک مرتبہ
ایک کافر مہمان
کے لئے گھر
میںموجود ساری
بکریوں کا
دودھ خود اپنے
دستِ اقدس
سے دوہ کر اسے
دیا ۔ اور وہ
آپ کی مہمان
نوازی سے متاثر
ہو کر مسلمان
ہو گیا ۔ یہ
خوبی بھی شاہِ
قلندر پیر
مستوار میں
بدرجۂ اتم
موجود ہے ۔
نبیل عرفان
صاحب پیر صاحب
کی مہمان نوازی
کا حال سناتے
ہوئے کہتے
ہیں ۔
’’ ابھی چند دن
پہلے میں رات
کو دربارِ
عالیہ میں
حاضر ہوا ۔
سارا دن میں
نے کچھ کھایا
نہ تھا ۔ میری
طبیعت خراب
ہو رہی تھی
۔ سرکار پیر
و مرشد نے
گرم دودھ میں
پھیونیاں ڈلواکر
خصوصی طور
پر میرے لئے
تیار کروائیں
۔
اور پھر دوا
بھی دی ۔ نہ
صرف طبیعت
ٹھیک ہو گئی
بلکہ ظاہرو
باطن میں
تازگی و تشکر
نے مجھے مالامال
کر دیا ۔‘‘
سیف الرحمٰن
محمودوی صاحب
بہت محبت کی
مٹھاس سے پیر
و مرشد کی مہمان
نوازی کا ذکر
کرتے ہیں ۔
’’ میرے پیر و
مرشد نے خود
میری شادی
کروائی۔ قاری
اصغر صاحب
کو فون کیا
اور فرمایا
۔ ’’ یہ ہمارا
بیٹا ہے ۔سمجھ
لیں ہمیں بیٹے
کے لئے
رشتہ چاہئیے
۔‘‘ آپ کے یہ الفاظ
میرے لئے اعزاز
و اکرام ہے۔
نہ صرف یہ بلکہ
ہماری شادی
پہ پہلی دعوت
پیر صاحب نے
خود کی ۔
ہمارے لئے
پر تکلف کھانا
پکوایا ۔ ہمیں
خاص مہمانوں
کی طرح
ٹریٹ کیا ۔
منہ دکھائی
بھی دی ۔ میرے
لجپال مرشد
با کمال ہیں
۔
ان جیسا مہمان
نواز میںنے
کوئی نہیں
دیکھا ۔‘‘
شاہِ قلندر
پیر مستوار
خود فرماتے
ہیں کہ جتنی
محبت ایک مرشد
اپنے مریدین
سے کرتا ہے
اگر مریدین
اتنی بھی محبت
کریں تو معجزات
اور کرامتیں
رونما ہونے
لگ جائیں ۔
آپ وقتاً فوقتاً
ہر مرید سے
اس محبت کا
اظہار شفقت
و کرم اور کبھی
خوبصورت جملوں
میں فرماتے
ہیں ۔ سیف بھائی
کو اپنا بیٹا
کہہ کر متعارف
کرانا آپ کی
محبت کا اظہار
ہے ۔ پھر مہمان
نوازی اور
اس انداز سے
کہ اپنوں سے
بڑھ کر پیار
لٹانا۔
بیماریوں سے
شفا
ایلوپیتھک
، ہومیوپیتھک
اور بے شمار
جدید طریقہ
ہائے علاج
بھی بہت سی
بیماریوں کے
لئے ناکام
ثابت ہو رہے
ہیں ۔ یہ عجب
معاملہ ہے
کہ شاہِ قلندر
ہر روز دربارِ
عالیہ میں
صبح اور شام
باقاعدگی سے
تشریف فرما
ہیں اور آنے
والوں کا تانتا
بندھا رہتا
ہے ۔ وہ لوگ
جو سالہا سال
علاج سے ٹھیک
نہیں ہوتے
وہ جناب سرکار
کے فیوضات
و برکات کی
بدولت روحانی
و مادی شفا
پا لیتے ہیں
۔
حسین بی بی
خادمہ اہلِ
خانہ بیان
کرتی ہیں ۔
’’ چند سال قبل
مجھے ٹائیفائیڈ
ہوا اور میری
حالت اتنی
خراب ہو گئی
کہ بستر سے
لگ گئی ۔ ٹانگیں
کام نہیں کرتی
تھیں ۔ چار
ماہ تک یہی
حال رہا ۔ ہوش
نہیں رہتا
تھا ۔ کوما
میں رہی ۔ دماغی
بیماری بھی
رہتی تھی ۔
پیر و مرشد
نے نگاہِ کرم
کی ۔ ساری جسمانی
و دماغی
بیماریاں دور
ہو گئیں ۔ میں
بس ’ یا قلندر
‘ کا نعرہ لگاتی
رہی اور
میرے مرشد
کریم نے مجھے
موت کے منہ
سے نکال لیا
۔‘‘
نواب صاحب
راولپنڈی سے
لکھتے ہیں
۔
’’ میری خوش قسمتی
ہے کہ پیر صاحب
کراچی جانے
سے پہلے ہمارے
گھر میں تھوڑی
دیر قیام فرماتے
ہیں ۔ 2004 ء میں
میری بیوی
بیمار تھی
۔
ڈیلیوری ہونے
والی تھی جڑواں
بچیاں تھیں
۔ ڈاکٹر نے
آپریشن کا
بتایا ۔ پیر
صاحب نے دعا
فرمائی ۔ دونوں
بچیاں بغیر
آپریشن کے
ہوئیں ۔ 2005 ء میں
آپ جناب کراچی
میں تھے ۔ یہ
بچیاں ایک
سال کی تھیں
۔ایک بچی صحن
میں کھیلتے
کھیلتے سیڑھیوں
کی طرف آئی
۔
پانی سے بھری
بالٹی پڑی
تھی ۔ اس نے
پانی سے کھیلنے
کی کوشش کی
اور بالٹی
میں گر گئی
۔ مسکین نامی
مستری نے ارشد
بھائی کے گھر
سے
دیکھا اور
شور مچایا
۔ خیر ڈاکٹر
کے پاس لے گئے
۔تو ڈاکٹر
نے کہا
کہ مردے کو
اٹھا کر لے
آئے ہو ۔ زندگی
کے کوئی آثار
نہ تھے ۔
ارشد بھائی
نے حضور پیر
صاحب کا نمبرملایا
۔ پیر صاحب
نے دعا
فرمائی ۔ ’’ ہن
کجھ نہیں ہوندا
خیر ہو سی ۔
اللہ خیر کرے
گا ۔
پٹھانی نوںآکھو
بچیاں دا خیال
رکھیا کرے
۔‘‘ شاہِ قلندر
کی دعا
سے بچی نے رونا
شروع کر دیا
گویا جان لوٹ
آئی ۔‘‘
تصورِ شیخ
کی برکات
روحانی نظام
کا مرکزی نقطہ
اپنے مرشد
کا تصور ہے
۔ جو فقط ولیِ
کامل ہی دے
سکتا ہے اور
جو لوگ اس تصور
کو پختہ کر
لیتے ہیں ۔
وہ ہر لمحے
صحبتِ شیخ
کا فیض کسی
حد تک اٹھاتے
ہیں اور مادی
و روحانی مسائل
کا حل بھی پا
لیتے ہیں ۔
اس تصور کے
حیرت انگیر
کرشمے ہیں
۔
قاضی عبد الرؤف
صاحب کراچی
سے لکھتے ہیں
:
’’ میں عرس کے
موقع پر چکوال
گیا اور وہاں
سے پشاور چلا
گیا۔ کراچی
واپس آنے کے
لئے نو شہرہ
سے ٹکٹ لیا
۔ چونکہ سیٹ
اور برتھ کا
مسئلہ
تھا ۔ میں نے
ضروری ادائیگی
تو کر دی ۔ مگر
نہ برتھ نمبر
الاٹ ہوا نہ
سیٹ ۔
ٹرین میں آیا
تو بہت پریشان
۔ ریلوے کے
ملازم نے کنٹریکٹر
گارڈ
سے ملوایا
اور اسے برتھ
کے لئے کہا
۔ برتھ نہ مل
سکی ۔ میں بہت
پریشان
ہوا ۔ایک جگہ
بیٹھ کر مرشدِ
پاک کا تصور
کیا ۔ یکسوئی
کے ساتھ ۔
اور عرض کی
سرکار دو دن
کا سفر بغیر
سیٹ اور برتھ
کے بہت مشکل
ہے ۔
مجھے برتھ
چاہئیے ۔ میں
نے آنکھیں
کھولیں ۔ آواز
آئی ۔ آ پ کو
برتھ
چاہئیے۔ آئیے
میرے ساتھ
۔ مجھ سے ٹکٹ
لے کر اس پر
سیٹ نمبر
اور برتھ نمبر
لکھا ۔ اس ڈبے
میں گیا ۔ تو
ایک پٹھان
نے کہا :
یہ چھ برتھیں
خالی ہیں ۔مسافر
پشاور رہ گئے
ہیں ۔ جس پر
چاہیں
بیٹھ جائیں
۔ کہاں تو اتنی
تگ و دو کے بعد
بھی ایک برتھ
بھی نہیں مل
رہی تھی اور
تصورِ شیخ
کی برکت سے
برتھوں کی
بارش ہی ہو
گئی ۔‘‘
شاہِ قلندر
کے تصرفات
و کمالات
انسان دو چیزوں
کا مجموعہ
ہے ۔ ایک جسم
اور ایک روح
۔ جسم کو عالمِ
خلق سے اور
روح کو عالمِ
امر سے نسبت
ہے ۔ اب ایک
عاقل بالغ
انسان اپنی
جسمانی قوتوں
کو استعمال
کرتے ہوئے
محےّر العقل
کارنامے سر
انجام دے رہا
ہے ۔ جدید مشینیں
بنانے والا،سائنس
اور ٹیکنالوجی
کا استعمال
کرنے والا
، خلاؤں کی
تسخیر ، بحر
و بر کو تہہ
و بالا کرنے
والا انسان
عالم خلق سے
تعلق رکھتا
ہے ۔
انبیاء تو
انبیاء ہیں
۔ روحانی قوتوں
کو حاصل کر
کے عام انسان
کے تصرفات
اور کمالات
کہاں سے کہاں
تک جا پہنچتے
ہیں ۔ یہ ماورائے
عقل ہے ۔ کیونکہ
روح کو تو براہِ
راست اللہ
پاک سے نسبت
ہے ۔صاحبِ
امر سے تعلق
ہے ۔
کراچی سے خلیفہ
بابابھائی
جان اعجازِ
شاہِ قلندر
کا تذکرہ کرتے
ہوئے کہتے
ہیں :
’’ ہمارے مرشدِ
کریم حضرت
پیر سید محمود
مستوار قلندر
ایسی باطنی
طاقت
کے حامل ہیں
کہ جسے بھی
آپ نے خاص توجہ
سے نوازا ‘ اُسے
عین
بین تصویرِ
یار بنا کر
رکھ دیا حضرت
غوث علی شاہ
قلندری تذکرۂ
غوثیہ
میں فرماتے
ہیں : ’’ گروہِ
کاملین تین
قسموں پر منقسم
ہے: کامل،
اکمل ، مکمل
۔ کامل وہ ہے
جو خود تو صاحبِ
کمال ہو لیکن
کسی کو فیض
نہ پہنچا سکے
۔ اکمل وہ ہے
جو خود بھی
صاحبِ کمال
ہو اور فیضانِ
باطنی اور
ہدایتِ ظاہری
سے اوروں کو
بھی فائدہ
پہنچائے ۔
مکمل اس کو
کہتے ہیں کہ
اوروں کو مشیتِ
ایزدی اور
تقدیرِ الٰہی
کے موافق خواہ
گھنٹے میں
،خواہ مہینے
میں ، خواہ
سال میں کامل
و
مکمل بنا دے
۔‘‘ ہمارے مرشدِ
کریم بھی جس
پر نگاہِ التفات
ڈال دیں اُسے
بھی کامل و
مکمل بنا دیتے
ہیں اور اُس
سے بھی
مرشدِ کریم
کا فیضانِ
کرم بصورتِ
کرامات و مکاشفات
جاری
و ساری ہو جاتا
ہے ۔‘‘
سید المرسلین
آقا و مولیٰ
علیہ الصلوٰۃ
والسلام سے
فیضانِ ولایت
جب ایک امتی
کو عطا ہوتا
ہے تو حضور
غوث الاعظم
فرماتے ہیں
:
نظرت الی بلا
د اللّٰہ جمعا
کخردلۃ علی
حکم تصال
’’میں نے جب اللہ
کی اس ساری
کائنات کو
دیکھا تو گویا
میرے ہاتھ
پر رائی کے
دانے کے برابر
تھی ۔‘‘ (قصیدۂ
غوثیہ)
حضرت باقی
باللہ فنا
وبقا کا فلسفہ
سمجھانے کے
لئے اپنا جنازہ
خود پڑھانے
کے لئے آئے
۔ملک الموت
جب بچے کی جان
لینے آتا ہے
تو شیخ محمد
شربینی اسے
لوٹ جانے کا
حکم دیتے ہیں
کہ موت کا حکم
منسوخ ہو گیا
۔شاہ محمد
غوث لاہوری
جو شاہِ قلندر
کے آباؤ اجداد
میں سے ہیں
اپنے عصا کو
فقط گھما دیتے
ہیں تو ڈاکوؤں
کے سر قلم ہو
جاتے ہیں ۔
یہ آقا کے غلاموں
کی شان ہے کہ
قُم باذنی
کہہ کر مردوں
کو زندہ کردیتے
ہیں ۔ آئیے
شاہِ قلندر
کے تصرفات
و کمالات کی
جھلک دیکھتے
ہیں یہ مشاہدات
ہر ایک کے نصیب
میں نہیں ہوتے
۔ جنہیں دکھانا
مقصود ہوتا
ہے جو اتنا
ظرف رکھتے
ہیں وہی دیکھ
پاتے ہیں ،
وہی سمجھ پاتے
ہیں ۔
رجال الغیب
کا مطیع ہو
نا
لاہور سے قاری
اصغر علی محمودوی
لکھتے ہیں
:
’’ حضور پیر مستوار
دامت برکاتھم
عالیہ کا فرمان
ہے کہ اتنا
انسان ہمارا
ادراک نہیں
رکھتے جتنا
جن رکھتے ہیں
۔ ناچیز نے
پیر صاحب کی
صحبت
میں اس بات
کو ملاحظہ
بھی کیا ہے
اور عملی مظاہرے
بھی دیکھے
ہیں ۔
ناچیزکو بھی
حضور نے دم
کرنے اورتعویذ
دینے کی اجازت
دے
رکھی ہے اور
واقعتا ایسا
ہوتا ہے کہ
جنات ٹھہرتے
ہی نہیں ۔
ایک مرتبہ
خسرو نامی
دیو سے ملاقات
ہوئی
جو سکھ تھا
۔ اور ایک لڑکی
پر آتا تھا
۔ اُس نے مجھے
اور باقی احباب
جو موجود تھے
سب کومخاطب
کر کے کہا :
’ تمہیں ابھی
معلوم نہیں
کہ تم لوگوں
نے کس ہستی
کے ہاتھ
پر بیعت کی
ہوئی ہے۔ یہ
اس وقت کے قلندر
ہیں ۔ ایک
وقت آئے گا
کہ پورے پاکستان
میں اُن کا
نام بولے گا
۔
ان کا ثانی
کوئی نہیں
ہو گا۔ ان کا
بیٹا جو داؤد
ہے یہ ان کے
نام
کوبہت زیادہ
شہرت دے گا
۔
میں نے اس کو
کہا اس لڑکی
کو چھوڑو مجھ
پر آجاؤ ۔ وہ
بولا ۔:
’ تیرے گرد بہت
ہی زبردست
حصار ہے ۔ میں
تو کیا
کوئی بھی ہوائی
مخلوق تجھ
پر نہیں آ سکتی
۔ تمہارے گھر
میں بھی
داخل نہیں
ہو سکتی ۔ ‘
یہ پیر و مرشد
شیخ مکرم کا
فیض ہے کہ ان
کے طفیل ہوائی
مخلوق
ہماری مطیع
ہو جاتی ہے
۔ ایک بار ایک
جن نے کہا کہ
خبیث جن
تم سے سخت ڈرتے
ہیں اور تمہارے
سامنے حاضر
نہیں ہوتے
۔
جب سرکار کے
ادنیٰ غلام
اور سگ کا یہ
حال ہے تو پیر
صاحب کی
عظمت و رفعت
کا اندازہ
آپ خود لگا
سکتے ہیں۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>