بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں۔
والذین جاھدو فینا لننھد ینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین
(العنکبوت: 69)
ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں بڑے بڑے مجاھدے
اور کوششیں کیں ہم ان کو ضرور بالضرور اپنے صحیح راستوں پر لگادیں
گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہمت و صداقت کے ساتھ کام کرنے والوں
کے ساتھ ہے ۔ ‘‘
گویا رب کی معیت ، رب کی رفاقت اور دوستی کے حقدار یہی محبوب بندے ہیں جو صادق و مخلص ، عامۃ الناس کے لئے رشدو ہدایت کا پیکرہیں۔ مولانا سیدابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب ’’تزکیہ و احسان ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’تاریخ اسلام میں سے ان صادقیں و مخلصین کو جن میں ایک ایک آدمی اپنے عہد کا گل سر سبز ، منارۂ نوراور نوع انسانی کے لئے مشرف و عزت کا باعث ہے نکال کر دیکھیں کہ ان کے بعد کیارہ جاتا ہے۔ اور اگر ان پر اعتماد نہیں کیاجا سکتا تو پھر کون سی جماعت لائقِ اعتماد اور سرمایۂ افتخار ہوگی؟ ‘‘
بقول امام احمد رضا خان بریلوی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
کل نہ ما نیں گے قیامت کو اگر مان گیا
شمس الفقراء ، بحرِ معرفت ، آفتاب محبت ، عارفِ کامل پیر سید محمود الحسن شاہِ قلندر پیر مستوار صوفیائے وقت میں ایک روشن و تابندہ ماہتاب ہیں آپ ایسے مرشدِ کامل ہیں کہ آپ کے فیضانِ نظر سے طالب صادق نورِ معرفت سے قلب کو منور پاتا ہے ۔ وارفتگی اور محبتِ حقیقی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے ۔ آپ کی توجہ مرید صادق کو وجدان و عرفان بخشتی ہے۔ آپ مشکل سے مشکل بات کو اتنا آسان اور عام فہم کر دیتے ہیں کہ دل جھوم جاتا ہے ۔ آپ کا پیار ذکر و تفکر کی عادت ڈالتا ہے جلوتوں اور خلوتوں میں حق تعالیٰ کی یاد اور سچا پیار یوں عطا فرماتے ہیں کہ لمحوں میں برسوں کا سفر طے ہوجاتا ہے ۔
عبادت و خشیت کے رنگ ، پیار اور محبت کے انوار، ذکر و فکر کی تجلیات، حقیقت و معرفت کے اسرار و رموز، وہ کون کون سے عقدے ہیں جو صحبتِ مرشد میں کھلے نہ ہوں۔ مجھ جیسے ناکارہ اور قیل و قال کے فلسفوں میں الجھے رہنے والوں کو طریقت و معرفت کے انوار سے آشناکر دینا میرے پیر و مرشد شاہِ قلندر ہی کا طرۂ امتیاز ہے ۔
لطفِ مَے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کمبخت ، تو نے پی ہی نہیں
شاہِ قلندرپیرمستوار کی ذات اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو الفاظ و بیاں میں ڈھالنا ، آپ کی گفتگو کو احاطۂ تحریر میں لانا ، ایک طالبِ صادق کے لیے ان چیزوں کو منظم و مدوّن کرنا آسان بات نہ تھی۔ میری جان قربان ہو اپنے مرشدِ پاک پر اس کتاب میں اگر کچھ صحیح ملتا ہے تو یہ فقط انہی کا فیضانِ نظر ہے۔ کو تاہیاں اور
خامیاں ہیں تو اس لئے کہ مجھ جیسے ناکارہ بندے نے اپنے تئیں ایک کوشش کی ہے۔
اللہ رب العالمین پیر و مرشد کو عمرِ خضر عطا فرمائے اور اس میخانے سے طالبانِ حق کو ہمیشہ پیار و محبت ، حقیقت و معرفت کی مَے ملتی رہے ۔آپ کے فیو ضات و برکات سے عالمین فیضیاب ہوں (آمین بجا ہ سید المرسلین)
خاک پائے قلندر
امتیاز جاوید

باب اول



:حالاتِ زندگی ’
شاہِ قلندر پیر مستوار

خاندانی پسِ منظر

ایں خانہ ہمہ آفتاب است ، بے شک
حقیقت چو شمس ، نصف روز روشن
سید محمود الحسن شاہ مد ظلہ العالی جنھیں شاہِ قلندر ، پیر مستوار کے خوبصورت القاب سے پکارا جاتا ہے۔ آپ ایک معروف ولی کامل ، معاشرے کے روحانی مصلح اور طبیب ، ساقی کوثر کے عشق کی مے پلانے والے ، اسلام کے ایک ایسے داعی ہیں جو پاکستان کے بیشتر علاقوں کے عوام و خاص میں بہت محبوب و مقبول ہیں۔ آپ کا خاندان ہمیشہ سے دینداری ، تقویٰ اور پرہیز گاری میں ایک عالم کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔
شاہِ قلندر پیر مستوار اعلیٰ نسب، نجیب الطرفین سید ہیں ۔ پیران پیر دستگیر حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے صاحبزادے سید عبد الرّزاق کی نسلِ پاک سے ہیں ۔ مولائے کائنات شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ اور حسنین کریمین کے اسمائے مبارکہ آجائیں تو نگاہیں اس نسبت کی حیاء میں ادب سے اس خانوادے کے لئے جھک جاتی ہیں۔ کہ ان سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نسب کیا ہوگا۔
شاہِ قلندر کے آباؤ اجداد مقبوضہ کشمیر(سری نگر) میں مقیم ہوئے۔ شروع سے ہی آپ جناب کے خاندان کا ماحول مافوق الفطرت رہا ۔ آپ کے خاندان کو کشمیر میں’ ’ متّو‘‘خاندان کہتے ہیں ۔ ’’ متّو ‘‘ کشمیری زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مجذوب ، مست ہے یعنی آپ کا خاندان مجذوبوں کے خاندان کے طور پر مشہور ہے ۔ حضرت داؤد شاہ خاکی آپ کے خاندان کی بارہویں پشت میں اپنے وقت کے مشہور بزرگ گزرے ہیں ۔ یہ اپنے زمانے میں قاضی القضاۃ تھے اس لئے رہنا سہنا ، چال ڈھال ، نہایت شاندار تھی ، آپ اپنے بلند مرتبے اور فقہی مہارت کی بنا پر ’’ ابو حنیفہ ثانی ‘‘ کے نام سے مشہور تھے ۔سلطان العارفین ہفتم حضرت مخدوم حمزہ کی نظرِ خاص سے حضرت داؤد شاہ خاکی منصبی جاہ و جلال سے روحانیت اور تصوف کی طرف آئے ، اپنے آپ کو ختم کیا اور بالکل مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئے ۔حضرت مخدوم حمزہ نے انہیں چلّہ بتایا جس پر وہ ساڑھے چار سال زمین کے اندر خندق کھود کر رہے اور اس کے بعد جب انہوں نے حضرت داؤد شاہ خاکی کو آواز دی تو مٹی ہل رہی تھی اور وہ اللہ اللہ کر رہے تھے ۔اس دن سے سب انہیں ’’ خاکی ‘‘ کے نام سے پہچاننے لگے ۔اس وقت سے ’’ خاکی ‘‘ کا لقب اب تک اس خاندان کے لئے مخصوص ہے۔
شاہِ قلندر کے والد محترم پیرِ مجذو بان و سالکان و قلندران حضرت سید رسول شاہ خاکی بحکمِ الہٰی مخدوم پور شریف تشریف لائے اور اس بیابان ، غیر معروف جگہ کو مرکزِانوار و تجلیات بنادیا۔
ذیل میں حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی سے آگے شجرہ نسب میں یہاں فقط انہی صاحبزادگان کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کی نسلِ پاک سے شاہِ قلندر پیر مستوار کا تعلقِ نسبی ہے۔
آپ کی نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
آپ ہیں عین نور آپ کا سب گھرانہ نور کا

شجرۂ نسب شاہِ قلندر پیر سید محمود الحسن شاہ خاکی مستوار

۔ حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی
|
۔ سید عبدالرزاق
|
۔ سید ابو صالح نصر
|
۔ سید ابو السعود شیخ ظہور الدین احمد
|
۔ ابو زکریا سید شیخ سیف الدین یحییٰ
|
۔ سید شمس الدین محمد
|
۔ سید علاؤالدین علی
|
۔ سید بدر الدین حسین
|
۔ سید شرف الدین یحییٰ
|
۔ سید شرف الدین قاسم
|
۔ سید احمد
|
۔ سید حسین
|
۔ سید عبدالباسط
|
۔ سید پیر علی
|
۔ سید عبدالقادر
|
۔ سید محمود
|
۔ سید عبداللہ ٹھٹوی
|
۔ سید آغا حسن پشاوری
|
۔ سید شاہ محمد غوث لاہوری
|
۔ سید شاہ محمد فاضل
|
۔ سید ابو الحسن
|
۔ سید محمد داؤد شاہ خاکی
|
۔ سید صالح شاہ
|
۔ سید جعفر شاہ
|
۔ سید مجنون شاہ
|
۔ سید اسد اللہ شاہ
|
۔ سید شرف شاہ
|
۔ سید عزۃ شاہ
|
۔ سید عبدالخالق شاہ
|
۔ سید عبدالمجید شاہ
|
۔ سید عبداللہ شاہ
|
۔ سید موسیٰ شاہ
|
۔ سید رسول شاہ
|
۔ پیر سید محمود الحسن شاہ خاکی مستوار قلندر

والدین طیبین

حضرت سید رسول شاہ خاکی : والدِ گرامی شاہِ قلندر
قلندر سیدمحمود الحسن شا ہ مرشدِ مجذوبان و سالکان، سلطان الاولیاء ، امیرِ شریعت، فخرِ طریقت، فقیرِ لاثانی، اعجازِ ہادی حضرت سید رسول شاہ خاکی قدس سرہ العزیز کے خوش نصیب بڑے صاحبزادے ہیں۔ حضرت سیدر سول شاہ شاہِ قلندر کے والدِ محترم ہی نہیں بلکہ آپ کے مرشد و مربی بھی ہیں۔
سید رسول شاہ خاکی فطرتاً مجذوب تھے۔ان پر جذب اور کیف و مستی کا غلبہ ہمہ وقت رہتا تھا۔ آپ نے کم گوئی اور خلوت نشینی کو ہمیشہ پسندفرمایا۔ آپ کے جدِّ ا مجدحضور سیدنا غوث الاعظم کی ہمیشہ آپ پر خصوصی نگاہِ کرم رہی خواہ وہ بیعت کا معاملہ ہو یا کسی سالک کی روحانی منازل طے کرانے کا۔ آپ جس علاقے میں جاتے اس وقت کے اہلِ نظر اولیاء کرام کی توجہ کا مرکز رہتے ۔ موہڑہ شریف کے غوثِ زماں حضور بابا جی قاسم جو خود ایک کامل رہنما تھے نے آپ کی تمام روحانی منازل طے کروائیں۔ آپ نگر نگر، بستی بستی اس اللہ کی چاہت میں مستغرق ، اس کے پیار کی چاشنی لوگوں میں بانٹتے رہے۔ جہاں آپ نے روحانی فیوضات منتقل کئے وہاں اہلِ محبت نے قدم قدم پر اس رب کی آپ سے محبت کی علامتیں آپ کے جسم کا پر نور ہونا ، آپ کے اعضاء کاجسم سے الگ ہونا ، ذکر کے انوار اور ایسی کئی کرامات کا قدم قدم پر ظہور دیکھا ۔ جس کی تفصیل کسی حد تک’’تذکرۂ خاکی‘‘ میں ملتی ہے کہ
ہاتھ ہے اللہ کا ، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کار کشا کار ساز
جذب و مستی میں بیشتر اوقات رہنے کے باوجود آپ پابند شریعت ، علمی و ادبی ذوق رکھنے والے اعلیٰ پائے کی شخصیت تھے۔ آپ تحریک منہاج القرآن اور پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی علمی فکری دینی کاموں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ’’شیخ الاسلام‘‘ کا لقب بھی آپ ہی نے پہلی مرتبہ ڈاکٹر طاہر القادری مدظلہ العالی کو دیا۔ تحریکِ منہاج القرآن کے وابستگان کو بہت خوشدلی سے آپ نے ہمیشہ مخدوم پور شریف میں خوش آمدید کیا۔ ان کی روحانی و باطنی اصلاح فرمائی۔ آپ فنافی اللہ تھے ۔ آپ کی تربیت کے انداز اور رنگ شاہِ قلندر میں جھلکتے ہیں۔ آپ کے فیوضات و برکات کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ آپ کا مزارِ پرنور مرجع خاص و عام ہے۔
بنا کر دند خوش رسمی بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کنداین عاشقانِ پاک طینت را
امی حضور: والدہ محترمہ شاہِ قلندر
قابل صداحترام جنابہ ’’امی حضور‘‘ کو شاہِ قلندر پیر مستوار کی والدہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کی پاکیزگی ، نیکی اور تقویٰ کی اس سے بڑی علامت اور کیا ہوگی کہ آپ کو ایک ولیِ کامل کی زوجہ اور شاہِ قلندر پیر مستوار کی والدہ ہونے کا اعزاز و اکرام ملا ہے۔ دونوں سے اتنی خاص قریبی نسبت جہاں آپ کو ان کی خلوتوں کی امین بنائے ہوئے ہے وہاں آپ کو نورِ حقیقت کے رنگ میں بھی رنگے ہوئے ہے ۔ آپ ایک متحرک عبادت گزار صالحہ خاتون ہیں۔ عبادتِ الہٰی ، خشیت الہٰی ، اور عشقِ الہٰی کے انوار و تجلیات میں ڈوبی رہنے والی ’’امی حضور‘‘ ہیں۔ منکسر المزاج، سادگی اور استغناء کا پیکر ، آنے والی مہمان خواتین کو دن رات خوش آمدید کہنا، اور ان سے مثالی حسنِ سلوک آپ ہی کا خاصہ ہے ۔ انتہائی شفیق و مہربان اور مہمان نواز ہیں۔
باتوں میں ایک خلوص ، لہجے میں اک مٹھاس
ہم کو لبھا گیا آپ کا اندازِ گفتگو

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.