بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

عموماً اگر کوئی آسیب حضور پیر و مرشد کے سامنے آئے تو آپ
جناب اس سے پیار سے گفتگو فرماتے ہیں ۔ ایک بارجبکہ سرکار
لاہور میں سیف الرحمان بھائی کے گھر جلوہ افروز تھے ایک
عورت آئی ۔ آپ نے پوچھا : کیا مسئلہ ہے ؟تو اس عورت پر
جن حاضر ہو گیا اور بدتمیزی کرنے لگا ۔ آپ اس سے درگزر فرماتے
رہے تحمل سے جواب دیتے رہے مگر جب وہ باز نہ آیا توآپ نے
فرمایا : سائیڈ پر ہو کر بیٹھ جاؤ میں فارغ ہو کر تم سے بات کرتا ہوں ۔
اس پر اس نے کہا:کیوں کیا مجھ سے ڈر گئے ہو ۔ اس پر شاہِ قلندر
جلا ل میں آگئے آپ کے چہرے کے تیور بدل گئے ۔ آپ نے
اس جن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔ تقریباً 2 سے 3
منٹ تک یہی سلسلہ جاری رہا ۔ پلک جھپکے بغیر ۔ بالآخر وہ
عورت بے ہوش ہو کر گر پڑی اور جن غائب ہو گیا ۔یہ سارا
منظر دیکھ کر میں اور سیفی کشمکش کا شکار تھے ۔ محفل کے بعد
استفسارکیا کہ حضوروہ جن والا کیا معاملہ ہوا ۔ آپ مسکرا دئیے
اور فرمایا بس ہو گیا جو ہوناتھا ۔ ہم نے بارِدگر پوچھا: آپ
نے فرمایا :وہ وہاں گیا جہاں سے اب واپس نہ آئے گا ۔ دل
کو تسلی نہ ہوئی مگر بے ادبی کے خیال سے خاموش ہو رہے ۔
اس واقعہ کے بعد سالانہ اعتکاف میں حضور پیر صاحب نے سخی
لعل شہباز قلندر کے فضائل بیان کئے اور ایک موڑپر یہ بات ارشاد
فرمائی کہ سخی لعل شہباز قلندر جس جن کی آنکھ میں آنکھ ڈال دیتے
تھے اس کو سوختہ و خاکستر کر دیتے تھے یعنی جلا کر راکھ کر دیتے تھے۔ اتنا کہہ کر
سرکار نے میری طرف مخصوص انداز میں تبسم فرمایا اب مجھے سمجھ آگیا کہ چونکہ
آپ بھی منصبِ قلندری پر فائز و براجماں ہیں ۔ آپ کی نگاہ نے بھی اس جن کو
سوختہ و خاکستر کر دیا ۔‘‘
گجرات سے خلیفہ محمد یونس صدیقی لکھتے ہیں :
’’ حکیم محمد مشتاق گجرات کے گاؤں پھانبڑہ کے رہائشی ہیں ۔
وہ اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتا تھا اور پیروں
سے بھتہ بھی وصول کرتا تھا ۔ جس شخص سے اس نے یہ عمل سیکھا
تھا اس نے اسے بتایا تھا کہ تم اس عمل کو چھوڑنا چاہو تو ایسا آستانہ
ایسا پیرِ کامل ڈھونڈھنا جہاں تمہارے مؤکلات حاضر نہ ہو سکیں۔
ایک دن اس کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہوا اور وہ در در پھرنے
لگا ۔ تمام بڑی درگاہوں پر گیا ۔ مگر اس کے مؤکلات حاضر ہو
جاتے ۔ اسی تلاش میں وہ مخدوم پور شریف پہنچا ۔ محفل میں بیٹھ
کر عمل پڑھتا رہا لیکن مؤکلات حاضر نہ ہوئے وہ جان گیا کہ
یہی میری منزل ہے ۔ اس نے پیر و مرشد کے ہاتھ پر توبہ کر کے
غلامی ِ مستوار کا پٹہ گلے میں ڈال لیا ۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ آپ
کے آگے تمام شیطانی طاقتیں سرنگوں ہو جاتی ہیں ۔ ‘‘

آنے والے وقت کی پہلے خبر دے دینا

ولیِ کامل کی ایک علامت یہ ہے کہ جب وہ فرما دے کہ ایسا ہو گا تو وہ بات پوری ہو کر رہتی ہے ۔ اور یہ بات روزمرہ زندگی میں کئی مرتبہ مشاہدے میں آئی کہ شاہِ قلندر پیر مستوار کی زبانِ مبارک سے کوئی بات نکلی ۔ جس کا کوئی امکان ظاہراً نظر نہیں آ رہا ہوتا مگر وہ بات بعینہ اسی انداز سے وقوع پذیر ہوئی ۔
خلیفہ افتخار احمد پادشاہان چکوال سے لکھتے ہیں :
’’ جنوری 2006 ء میں میں نے پیر صاحب سے پادشاہان کے دورے
کے لئے تاریخ پوچھی ۔ جناب سرکار نے فرمایا ۔’ 15 تاریخ بروز بدھ ‘ ۔
ساتھ ہی فرمایا ۔’ بارش وغیرہ ہوئی تو پروگرام کینسل نہ کردینا ۔‘
میں نے سوچا بارش کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ مگر پیر صاحب کی آمد
سے قبل واقعتا بارش شروع ہو گئی ۔ جب پیر و مرشد پادشاہان پہنچے تو
ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔ آپ نے ایک ماہ قبل بارش کا بتا دیا ۔
اور جب آپ دورہ ختم کر کے تشریف لے گئے تو اس کے بعد چھ
ماہ تک بارش نہ ہوئی ۔‘‘

روحانی قوت و کمالات

خلیفہ حاجی عنایت علی صاحب شاہِ قلندر کے تصرفات بیان کرتے ہیں ۔
’’ شاہِ قلندر پیر مستوار پہلی مرتبہ گدی نشین ہونے کے بعد لاہور
تشریف لائے ۔ ہمارے گھر میں آپ رونق افروز تھے۔شام کا
وقت تھا ۔ آپ فرماتے ہیں :’ حاجی صاحب ! دیکھو سیڑھیوں میں
کون خبیث پڑھتا ہوا آ رہا ہے ۔ ‘ سیڑھیاں حالانکہ کمرے سے دور
تھیںاور کمرے سے نظر بھی نہیں آتی تھیں ۔ میں باہر نکلا اور سیڑھیوں
کی طرف گیا ۔ میں نے دیکھا ہمارے محلے کا ایک حکیم اور پیر و مرشد
کا خلیفہ راشد صاحب دونوں آ رہے تھے ۔ دونوں نے ملاقات کی
اور چلے گئے ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حکیم صاحب عامل تھے اور ایک
خاص وظیفہ اور عمل کرتے تھے ۔ جو صرف ملک شام میں موجودایک
شخص اور ایک یہاں یہ جانتے تھے ۔ اس عمل کے ذریعے یہ دوسروں
کی روحانی طاقت چھین لیتا تھا ۔شاہ صاحب نے منع کیا کہ پیر صاحب
کے پاس جا کر کوئی حرکت نہ کرنا ۔ مگر اس نے آکر پوری کوشش کی ۔
بعد میں خود اعتراف کیا کہ میری کوشش کے باوجود صاحبزادے
ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ اُلٹا یہ ہوا کہ اس کی اپنی طبیعت صاف ہو گئی ۔
آج تک چارپائی پر پڑا ہے ۔‘‘
اس واقعہ پر غور کریں تو سیڑھیوں پر اُن کاآنا ، اس کے اس وظیفے اور عمل سے شاہِ قلندر کا آگاہ ہونا اور خبیث کے لفظ سے اس کے ناپاک ارادوں کوواضح کرنا آپ کے تصرفات کی ایک جھلک ہے ۔ پھر اس کا ناکام ہونا اور اس کی اپنی طبیعت کا صاف ہوجانا بھی شاہِ قلندر پیر مستوار کی روحانی قوت کی نشاندہی کرتا ہے ۔

نظروں کے سامنے سے غائب ہو جانا

حاجی عنایت علی صاحب ہی شاہِ قلندر کے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ۔
’’اعجاز ہادی پیر بادشاہ جناب سید رسول شاہ خاکی کا قیام لاہور میں
ہمارے گھر میں ہوا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ محمود سرکارنے (جو ابھی بچے
تھے) ہمارے ساتھ داتا حضور جانا تھا ۔پیرسید رسول شاہ خاکی نے ہمیں
ہدایت فرمائی کہ محمود سرکار کو اکیلا نہیں چھوڑنا ۔ اُس وقت ابھی موجودہ
مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی ۔ اور بہت کھلا میدان تھا ۔ میرے ساتھ شیخ عبداللہ
بھی تھا ۔ میں وضو کے لئے گیا اور عبد اللہ کو تاکید کی کہ سرکار کے ساتھ
رہنا ۔ جب میں واپس آیا نہ سرکار پیر صاحب اور نہ ہی عبد اللہ ۔ میں
سخت پریشان ہوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد عبد اللہ آگیا ۔ وہ بھی وضو کے
لئے گیا تھا ۔ میں نے کہا کہ تم نے اُنہیں اکیلا کیوں چھوڑا تھا ؟ پیر سید
رسول شاہ خاکی نے سختی سے منع بھی کیا تھا ۔ میرا پریشانی سے برا حال
تھاکہ محمود سرکار نظر نہیں آ رہے ۔ تھوڑی دیر بعد میرے پیچھے سے آواز
آئی ۔ ’ حاجی صاحب آگئے ؟ ‘ نہ تو رش تھا ۔ اور نہ ہی کسی سمت سے
آپ آتے دکھائی دئیے ۔ میدان سے غائب ہو گئے اور پھر اچانک
نظروں کے سامنے آگئے ۔ آپ کے غائب اور حاضر ہونے کا فقط یہی
نہیں بلکہ اور بھی کئی مرتبہ مجھے مشاہدہ ہوا ۔ کہ آپ اُس جگہ پر ہوتے
ہوئے نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں ۔‘‘

خوشبو کا آنا

یہ معطّر معطّر لوگ جسے چاہیں اور جہاں چاہیں اپنی موجودگی کا احساس دلا دیں۔تسلیم اختر کامرہ سے لکھتی ہیں :
’’ ہمارے گھر میں جناب پیر و مرشد سرکار کی سی۔ڈی کا پروگرام تھا ۔
میں نے مہمانوں کے لئے بہت محبت سے خوب میوہ جات ڈال
کر حلوہ پکایا ۔ تو جب پیر بھائی چلے گئے اور میں اُس کمرے میں گئی ۔
تو اس کمرے سے سرکار کی خوشبو آ رہی تھی ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا
کہ میں دربار عالیہ مخدوم پور میں سرکار کے سامنے پہنچ گئی ہوں اور
یہ خوشبو دوسرے دن تک سب کو محسوس ہوتی رہی۔‘‘
خادمہ حسین بی بی بتاتی ہیں :
’’ میرے بھائی افتخار شاہ ایک مرتبہ پیر و مرشد کی ہدایت پر 21 دن
تک چلّے میں رہے ۔ جس دن چلہ ختم ہوا ۔ بھائی پورے پیر
صاحب لگ رہے تھے ۔ اور سارا صحن موتیے کی خوشبو سے مہک
رہا تھا ۔ حالانکہ ہمارے گھر میں تو کیا پورے محلے میں کہیں موتیہ
نہ تھا ۔ مگر ہم سب خوشبو کو محسوس کر رہے تھے ۔‘‘

حالات کا پلٹ جانا

پیر مستوار شاہِ قلندر جناب سرکار جذب و مستی میں ہاتھ کو حرکت دیتے ہیں۔ تو جاننے والے سمجھ جاتے ہیں کہ کسی کو کہیں اٹھایا اور کہیں بلندیوں پر فائز کر دیا۔ کسی کے لئے دعا کر دی تو دنوں میں حالات بدل کر رہ گئے ۔
خان پور کٹورہ سے حافظ غلام صفدر صاحب لکھتے ہیں :
’’ آج سے آٹھ سال قبل میرے مالی حالات بہت خراب تھے ۔ سرکار
پیر و مرشد نے شادی کا مشورہ دیا اور میرے لئے خصوصی دعا فرمائی ۔
بہترین جگہ دھوم دھام سے شادی ہوئی ۔ دولت کی بھی ریل پیل ہو گئی ۔
شیطان کے بہکاوے میں آکر مجھ سے بڑی غلطی ہوئی کہ میں پیر و مرشد
کی نافرمانی کر بیٹھا ۔ حالات پلٹ گئے برا حال ہو گیا ۔ دشمن جان
کے درپے ہو گئے ۔ بیوی بچے زمانے کی ٹھوکروں پر آگئے میںدو سال
تک خان پور سے فرار ہو کر ملک کے کونے کونے میں چھپتا رہا ۔
آخر ندامت اوربے چارگی حضور مستوار قلندر کے در پر لے آئی ۔
رو رو کے مرشد کو منایا ۔ سرکار نے رحم فرما کر گلے لگایا ۔ اور دعا فرمائی
کہ’’ اللہ پاک تمہیں پہلے سے بڑھ کر عروج دے گا ۔‘‘
سرکار کی نظرِ کرم سے ایک بار پھر حالات بدل گئے ۔ دشمن دوست
بن گئے ۔ میں دنوں میں لکھ پتی ہو گیا ۔ آج پھرمیری عزت اور
مقام ہے ۔ یہ سب میرے مرشد سرکار کے طفیل ہے ۔‘‘
اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ پیر و مرشد جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ حسبِ توفیق پیرو مرشد کی خاطر مدارات کا اہتمام کرتے ہیں۔ سرکار شاہِ قلندر کی آمد سے گھر پر رحمتوں اور برکتوں کی برسات ہونے لگتی ہے ، حالات بدل جاتے ہیں ، مسائل ختم ہو جاتے ہیں ۔

دل کی پکار کا سن لینا

دنیا کا قاعدہ قانون ہے کہ اگر آپ اپنے ٹی وی سیٹ پر کوئی خاص پروگرام سننا چاہتے ہیں جو کسی خاص چینل پر نشر ہوتا ہو تو آپ کو وہی چینل مخصوص وقت پر لگانا ہو گا اگر آپ FM ریڈیو سننا چاہتے ہیں تو ریڈیو کی ناب اس پر گھما کر لانی ہو گی ۔ تو آپ نشر ہونے والے پروگرام سن سکیں گے ۔ اگر ناب گھما کر سیٹ نہ کی گئی ہو تو خبریں ، گیت وغیرہ آپ نہیں سن سکتے ۔ ان دنیاوی مثالوں سے سمجھانا یہ مقصود تھا کہ دل کی ناب بھی جب پیار اور محبت کے خاص تعلق سے سیٹ کر لی جائے تو اس کا ریسیور اور سیٹ آن جاتا ہے ۔ پھر ظاہری مشینوں کی ضرورت نہیں رہتی ۔ بلکہ براہِ راست رابطہ قائم ہو جاتا ہے ۔
بہت سے افراد نے ایسے واقعات لکھے ہیں کہ جب بھی پیر و مرشد کو پکارا فوراً وہ مسئلہ بھی حل ہوا اور آپ کی حقیقتاً مدد محسوس بھی ہوئی ۔
ذکیہ ابڑو کراچی سے بیان کرتی ہیں ۔
’’ میں ایک مرتبہ مخدوم پور شریف پیر و مرشد کی حویلی میں مقیم تھی ۔
پیر صاحب گھر میں نہ تھے اور دوسرے حویلی میں تشریف فرما
تھے ۔ میں دروازے تک آئی اور آپ جناب کو دیکھا ۔ میرے دل
نے پکارا : ’’ پیر صاحب جلدی آجائیے ۔ دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘
میں واپس پلٹ کر صحن تک پہنچی ۔ تو مجھے پر جلال آواز آئی ۔ ’’ بولو !
کیا بات ہے ؟‘‘ میں حیران و ششدر رہ گئی ۔ کہ نہ صرف آپ نے
میرے دل کی آواز سنی بلکہ حقیقتاً آپ تشریف لے آئے اور
فرمایا : ’’ بتاؤ کیا بات ہے ؟ ‘‘
شہناز باجی بیان کرتی ہیں :
’’ بیعت کے بعد زندگی ہی بدل گئی۔ جو سوچا وہ پورا ہوا ۔ جب
آنکھیں بند کروں ۔ دل پہ کعبہ ، سجدے میں کعبہ دکھائی دیتا ہے ۔
نور و نکہت کی بارش محسوس ہوتی رہتی ہے۔ میں نے گھر میں مرشد پاک
کو پکارا کہ آج مجھے کوئی ایسا کلمہ دیں جسے میں ہر وقت پڑھتی رہوں ۔
مخدوم پور شریف آئی تو پیر صاحب اپنے دربار عالیہ میں تھے ۔ میں
امی حضور کے پاس بیٹھ گئی ۔ ابھی میں پیر و مرشد سے ملی نہیں ۔ ان سے
کچھ کہا نہیں کہ وہ دربارِ عالیہ سے آئے اور آتے ہی مجھے ایک چارٹ
دیا ۔ جس پر لکھا تھا ۔
یا رسول اللہ انظر حالنا ۔۔۔۔
پھر فرمایا : ’’ ہم نے نہیں دیا۔ حکم ہوا ہے تو دیا ہے ۔‘‘
میرے لجپال مرشد نے میرے دل کی آواز کو سن لیا ۔ یہ ایک مرتبہ
نہیں بارہا ہوا ہے کہ ابھی میں نے سوچا مرشدِ پاک کو پکارا اور انہوں نے
فوراً ً جواب دے دیا۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.