بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

چکوال سے نبیل عرفان صاحب لکھتے ہیں :
’’2007 ءکے محرم الحرام کا واقعہ ہے۔دربار شریف پر چلہ کے دن تھے۔
ایک شام حویلی میںمغرب کے وقت میرے ذہن میں سرکار کے بتائے
ہوئے وظیفے کے متعلق الجھن تھی اور سرکار کو میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ مجھ سے
وظیفہ پڑھا نہیں جا رہا تھا۔مغرب کی اذان سن کر سرکار اپنے گھر کے
دروازے کی طرف بڑھے۔ میں انہیں اپنی پریشانی کے متعلق بتا نہیں
سکا۔اسی وقت حضور پیر صاحب واپس دروازے سے میری طرف آئے
اور ایک بہت مشہور بزرگ کے بارے بتایا کہ وہ بزرگ اپنی آخری عمر میں
یہی وظیفہ پڑھا کرتے تھے۔یہاں سرکار نے وہی لفظ بتائے جو کہ ان
مشہور بزرگ کا وظیفہ تھا اور جو کہ میرا بھی وظیفہ تھا۔ یہ کہہ کر سرکار اندر چلے گئے۔سرکار نے میرے دل کی بات جان لی اور ان بزرگ کے متعلق یہ
بتا کر کہ ان کا بھی یہی وظیفہ تھا، مطمئن کر دیا اور میں خوش ہو گیا۔‘‘

کراچی سے خلیفہ بابا بھائی جان لکھتے ہیں :
’’ شاہِ قلندر سالانہ دورے پر کراچی تشریف لائے ۔ قاضی عبدالرؤف
صاحب کے گھر خواتین کے جمِّ غفیر میں بیٹھے اُن کے مسائل شفقت سے
حل فرما رہے تھے ۔ میں پیار بھری نظروں سے پیر صاحب کو دیکھ رہا تھا اور
دل ہی دل میں گنگنا رہا تھا : ’’ میری زندگی ہے تم سے کہیں تم بدل نہ جانا‘‘
میری آواز اتنی دھیمی تھی کہ ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے نہ سنی ہوگی۔
پیر صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اور اس شعر کا پہلا مصرعہ مجھے سنا دیا:
’’ جو کیا ہے آج وعدہ اُسے عمر بھر نبھانا ‘‘ اتنی مصروفیت میں بھی پیر صاحب
اِس حقیر کی دلی کیفیت سے غافل نہ تھے ۔ ‘‘

مستعمل ٹوپی کی برکات

کائنات کو اللہ پاک نے خوبصورت رنگوں سے سجایا ہے اور ہر رنگ اپنی جگہ منفرد خصوصیات رکھتا ہے ۔ سرخ رنگ خاص قلندریہ رنگ ہے اور یہ رنگ قلندریہ سلسلے کے علاوہ بھی کئی اولیاء اللہ نے استعمال کیا ہے ۔
مثال کے طور پر حضرت سید کمال کیتھروی ایک بہت نامور ولی اللہ گزرے ہیں۔ جو سرخ رنگ کے کپڑے ہمیشہ استعمال کرتے تھے ۔ ایک دفعہ آپ کو کسی اور رنگ کے کپڑے پہنائے گئے تو وہ خود بخود سرخ ہو گئے ۔ اس کے علاوہ حضرت لال شہباز قلندر بھی سرخ رنگ کے ہی کپڑے پہنتے تھے ۔بقول شاہِ قلندر
بکھرے ہوؤں کو اک رنگ دینے چلے ہیں
بھٹکے ہوؤں کو اک سنگ دینے چلے ہیں
محبت میں رنگ کے ہم اپنے دل محمود
مسلم کو پیار کا اک ڈھنگ دینے چلے ہیں
آذانِ قلندر
شمس الضحیٰ ، بدرالدجیٰ ، سرکار دو عالم آقا و مولیٰ رسول اللہ نے سرخ
رنگ کافی استعمال فرمایا ۔ اپنے لباس مبارک ، چادر مبارک ، خیمۂ اقدس کے لئے سرخ رنگ پسند فرمایا ۔ اس رنگ کے حوالے سے بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں۔ یہاں اختصار کے ساتھ فقط دو لکھی جا رہی ہیں ۔
حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں:
’’ ایک رات چاند پورے جوبن پر تھا ۔ اور ادھر حضور نبی اکرم
تشریف فرما تھے ۔ حضور اکرم سرخ دھاری دارچادر میں
ملبوس تھے ۔ اس رات کبھی میں رسول اللہ کے چہرۂ اقدس
پر نظر ڈالتا تھا اور کبھی چمکتے ہوئے چاند پر ۔ پس حضور نبی اکرم
چاند سے کہیں زیادہ حسین لگ رہے تھے ۔‘‘ (شمائل ترمذی)
حضرت براء بن عازب سے مروی ہے :
’’ نبی کریم میانہ قد تھے اور میں نے آپ کو سرخ حُلّہ
میں ملبوس دیکھا تو مجھے کوئی چیز آپ سے زیادہ حسین
نظر نہ آئی ۔‘‘
(صحیح بخاری ۔ 8752 ۔ رقم حدیث ۔ 5510 )
سرخ رنگ ظاہری اور باطنی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے ۔ چہرے پر ایک خاص نورانی رنگ لاتا ہے۔ اس وقت جناب پیر و مرشد شاہِ قلندر پیر مستوارکی ہدایت پرسرخ رنگ قلندریہ رنگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ مرد حضرات اس رنگ کی ٹوپیاں اور خواتین اسکارف استعمال کر رہی ہیں ۔ شاہِ قلندر کا ہر عمل بامرِ ربی ہوتا ہے ۔ اور اسلاف اولیاء کرام خصوصی طور پر پیرانِ پیر دستگیر حضور غوث الاعظم کی باقاعدہ اجازت اور سرپرستی میں ہوتا ہے ۔ قاری اصغر علی محمودوی کہتے ہیں :
’’ پیر مستوار مرشد پاک نے علم الیقین سے حق الیقین تک پہنچا دیا ۔
اور اس رنگ کی منظور ی و اجازت بھی کھلی آنکھوں سے دکھا دی ۔‘‘
شخ ریاض بتاتے ہیں :
’’ میں پیر صاحب کے ساتھ دورے پر تھا ۔ دورے کے دوران میں
نے بازار سے شیو بنوائی۔ حضور پیر صاحب نے منع فرمایا کہ بازار
سے شیو نہ بنوایا کرو۔ دورے کے دوران میں نے پھر بازارسے شیو
بنوائی۔ جس سے میرے چہرے پر دانے ( یعنی موکے) نکل آئے ۔
اور پورا چہرہ بھر گیا ۔ بہت علاج کرایا مگر فائدہ نہ ہوا ۔ ایک دن
شاہِ قلندر پیر مستوارنے مجھے اپنی ٹوپی عنایت کی ۔ گیارہویں میں
شرکت کی غرض سے میں نے ٹوپی دھوئی تو خیال آیا کہ یہ پانی کہاں
پھینکوں۔اس میں میرے مرشد کا پسینہ مبارک بھی شامل ہے ۔ مجھے
اور تو کچھ نہ سوجھا ۔ میں نے وہ پانی پی لیا ۔ رات کا وقت تھا ۔
صبح تک میرا سار اچہرہ صاف ہو گیا ۔ میرے دوست نے پوچھا ۔
رات کو کون سی دوائی لی ہے ؟ میں نے بتایا کہ میرے مرشد کی ٹوپی کا
کمال ہے کہ وہ دانے جو دو سال کے علاج میں ختم نہ ہوئے ۔ اس پانی
کی برکت سے ایک رات میں ٹھیک ہو گئے ۔‘‘
اب اسی واقعہ پر غور کریں تو نگاہِ ولایت نے دیکھ کر حکم دیا کہ بازارسے شیو نہ بنوانا ۔ اور جب حکم عدولی کی تو نقصان اٹھایا ۔ پھر کرم اور عنایت کہ خود ہی اپنی ٹوپی عطا فرمائی ۔ اب شیخ ریاض کا محبت و پیار کا تعلق تھا کہ پانی گرا نہ سکے ۔ اور محبت سے اسے پی لیا ۔ اس پیار پر پھر عطا ہوئی ۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی کسی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے اور ہمیشہ محبت سے آپ کے متعلق سوچنا چاہئیے ۔ اس کے اندر ساری رحمتیں پوشیدہ ہیں ۔

دستِ شفقت کا فیض

یہ رحمتِ عالم ، محبوبِ خدا کا فیضانِ خاص اولیاء ، فقراء ، قلندروں کو عطا ہوا ہے کہ ان کا پورا وجودِ مسعود برکتوں والا ہوجا تا ہے ۔ کھانے میں چند لقمے لے لیں تو وہ کھانا برکتوں سے بھر جاتا ہے اور کئی افراد کے لئے کافی ہو جاتا ہے ۔
اسی طرح اپنا دستِ مبارک لگا دیں تو زخم بھر جاتے ہیں ۔ آپ جناب پیر و مرشد کے دستِ کرم کے فیوضات کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔مرزا پور کے فوجی نسیم علی بیان کرتے ہیں :
’’ ایک بار حضور شاہِ قلندر پیر مستوار کے پاس آیا ۔ دل کی سختی کے حوالے
سے پریشان تھا ۔ میں نے عرض کی کہ حضور دل بے سکون ہے اور
شقاوت محسوس ہوتی ہے ۔ حضور پیر و مرشد نے مجھے قریب آنے کا
حکم دیا ۔ آپ نے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا میرے دل پر رکھا اور کچھ پڑھ
کر ہاتھ اٹھا دیا ۔ مجھے محسوس ہوا کہ فیضانِ مرشدیت نے میرے دل
کو لبالب بھر دیا ہے اور دل کی سختی بھی دور ہو گئی ۔‘‘
طلب سے سِوا عطا کیا گیا ۔ سختی بھی دورکی اور روحانی فیوضات بھی منتقل کئے ۔
قاضی عبد الرؤف صاحب کراچی سے جناب پیر و مرشد کے دستِ شفقت کا کمال یوں بتاتے ہیں ۔
’’ پیر و مرشد کراچی تشریف لائے ۔ ان دنوں میں سخت مسائل و
پریشانیوں میں گھرا ہوا تھا ۔ جناب سرکار نے پہلے دن بات ہی
نہیں سنی ۔ بہت رنجیدہ اور شکستہ دل ہوا ۔ دوسرے دن آ کر ساری
پریشانیاں عرض کیں ۔ جب میں جانے لگا تو مرشدِ پاک نے اپنے
دستِ مبارک سے تھپکی دی جس سے میری حالت یکسر بدل گئی ۔
میں نے خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا ۔ ساری پریشانیاںگویا دور
ہو گئیں ۔ مستی کی کیفیت اتنی غالب تھی گویا میں نے کئی بوتلیں شراب
کی پی لی ہوں ۔ دو دن تک وہ کیف و سرور رہا کہ بیان سے باہر ہے ۔
یہ میرے مرشد پاک کی اس تھپکی کے اثرات تھے ۔‘‘

نور و روشنی

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمہ وقت ذکرِ الٰہی ، عشقِ الٰہی میں ڈوبے رہنے والے ، سرکار آقا و مولیٰ رسول اللہ کے سچے عاشقوں کے دل منور و روشن ہوجاتے ہیں ۔ اور یہی روشنی تقسیم کرنا ان کا فریضۂ خاص ہوتا ہے ۔ یہ نور و روشنی اہلِ نظر کو ، خاص لوگوں کو حسبِ موقع مادی آنکھ سے بھی دکھا دی جاتی ہے ۔
سیف الرحمٰن محمودوی صاحب بیان کرتے ہیں :
’’ مجھے اپنے دل و جان سے محبوب پیر و مرشد کے ساتھ عمرے پر جانے کی
سعادت ملی ۔ جب احرام باندھنے کے لئے مرشدِ پاک نے قمیض اور
بنیان اتاری تو میں احرام کی چادر لئے پاس کھڑا تھا۔ میری نگاہ آپ
کے مبارک سینہ پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آپ کا سینہ مبارک
روشن و منور ہے ۔ اس سے نور و روشنی کی شعاعیں گویا پھوٹ رہی
ہیں ۔ میں متحیر ہو گیا مرشدِ پاک نے مجھے دیکھا اور فوراً چادر سے
خود کو ڈھانپ لیا ۔ ‘‘
شہناز باجی بیان کرتی ہیں:
’’ ایک مرتبہ عرس کے موقع پر جب مہمانوں سے حویلی کھچاکھچ بھری
ہوئی تھی ۔ صبح تہجد کے وقت میں صحن میں چارپائی پر بیٹھی تھی ۔
باقی خواتین ہنسنے بولنے میں لگی ہوئی تھیں ۔ میں مرشد کے تصور
میں آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھی رہی ۔ پیرو مرشداپنے کمرے
میں تشریف فرما تھے ۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا سرکار سامنے
چارپائی پر اپنے کمرے میں تشریف فرما ہیں ۔آپ کے پاؤں سے
روشنی کی کرن پھوٹتی ہے ۔ صحن میں لگے پودے تک آتی ہے ۔ پھر
واپس چلی جاتی ہے۔ میں کتنی دیر تک حیرت سے گُم یہ منظر دیکھتی
رہی ۔ یہ خواب یا تخیل نہ تھا حقیقت میں کھُلی آنکھوں سے مجھے
نظر آ رہا تھا ۔ ‘‘
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرشدِ پاک مہرِ منوّر ہیں ۔ آپ شاہِ قلندر ہیں ۔

بیعت ہونے کے اسباب

اس سائنسی دور میں جدید آلات اور مشینوں نے انسانوں سے تعلق کمزور کر دیا ہے ۔آپس میں پیار و محبت کی جگہ لاتعلقی ، خود غرضی اور نفس پرستی نے لے لی ہے ۔ بیعت حقیقت میں اپنے آپ کو اپنے شیخ اپنے مرشد کے حوالے کرنے کا نام ہے ۔ پھر اپنی کوئی مرضی اور پسند ناپسند نہ رہے ۔ مرشد جس طرح چاہے اس پر سر تسلیم خم کر دینا ہی اطاعتِ شیخ ہے۔بہت سے لوگ بیعت ہوتے ہیں مگر اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔ اپنی رائے کو اہمیت دیتے ہیں جس کی وجہ سے حقیقی ثمرات سے محروم رہتے ہیں ۔ جب محبت مشن کے خلفاء اور ناظمین سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کے بیعت ہونے کا سبب کیا تھا ؟ تو جو مواد جمع ہوا ‘ اُس کی روشنی میں بیعت کے اسباب کا تعین کیا گیا کہ وہ کون سی ایسی وجوہات تھیں جن کی بناء پر ان باشعور لوگوں نے اپنی رائے ، اپنی ذاتی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیا اور اپنے آپ کو شاہِ قلندر پیر مستوار کے حوالے کر دیا ۔ ان اسباب میں سے چند درج ذیل ہیں ۔

تلاشِ حقیقت

کچھ لوگ ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جو فطرتاً حقیقت کی تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں ۔ بہت سے خاص لوگ بیعت کا سبب ’’ تلاشِ حق‘‘ بتاتے ہیں ۔ انہیں ہمیشہ ایسے رہنما ، ایسے شیخ کی تلاش رہی جو انہیں اپنی ذات سے آشنا کر دے ۔ دل کی پیاس نے انہیں ہمیشہ سرگرداں رکھا ۔ بہت سے مشائخ سے ملنے کے باوجود دل پیاسا رہا ‘ روح تڑپتی رہی اور جب شاہِ قلندر پیر مستوار کی صحبت ملی ۔ آپ سے ملنے ، دیکھنے اور آپ جناب کی گفتگو سننے سے گویا پیاسے دل کو پانی مل گیا ۔ بے تاب ، بے قرار روح کو چین مل گیا ۔ دل اور دماغ یکسو ہو گئے ۔ ولیِ کامل کی تلاش کا سفر انہیں منزل تک لے آیا۔ کیونکہ جو طالبِ صادق ہوتے ہیں اللہ پاک اور رحمتِ دو عالم خود ان کی رہنمائی فرماتے ہیں اور انہیں مرشدِ کامل مل جاتا ہے ۔

خواب کے ذریعے رہنمائی

بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے پیر و مرشد کو پہلے دیکھا نہیں تھا اور ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی مگر خواب میں ان لوگوں نے پیر و مرشد کو دیکھا اور تلاش میں رہے۔
لاہور سے مسز اسلم بیان کرتی ہیں:
’’ میں نے بہت عرصہ پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ہیں ایک
بڑی سی جگہ ، کرسیاں ،کھانے اور لوگ ہیں ۔ بزرگ نے مجھے اور
میرے شوہر کو کرسیوں پر بٹھایا ۔ مجھے نیم بیداری میں بتایا گیا کہ
تمہارے مرشد سید محمود الحسن شاہ ہیں ان کا سراپا بھی دکھایا گیا ۔
میں نے اپنے شوہر کو بتایا اور ہم بہت عرصے تک تلاش میں
رہے ۔جب پیر مستوار لاہور تشریف لائے۔تو میری ایک شناسا
نے مجھے بتایا کہ ان کے پیر صاحب آئے ہیں ۔ میں بھی ملاقات
کے لئے آئی۔ دروازے پر آپ کے نام کا پوسٹر لگا تھا ۔ نام دیکھتے
ہی کرنٹ سا لگا ۔ خواب کا سارا منظر سامنے آ گیا ۔ پیر مستوار قلندر کو
دیکھا تو دل نے گواہی دی یہ تو وہی ہستی ہیں جنہیں اتنا عرصہ پہلے دیکھا
تھا۔ شوقِ ملاقات مخدوم پور لے گیا وہاں حویلی بھی دیکھی بھالی معلوم
تھی ۔ وہی جگہ ، کرسیاں ، کھانے جو خواب میں دیکھ چکی تھی ۔ میرے
رب نے میری رہنمائی فرمائی اور میں درِ مرشد تک پہنچی ۔ اب دنیا
میں میرے لئے سب سے مقدّم ہستی میرے مرشدِ پاک ہی ہیں۔ ‘‘

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.