یہ
صرف مسز اسلم
کے ساتھ نہیں
بلکہ بہت سے
ایسے افراد
ہیں جن کو بذریعہ
خواب دربارِ
خاکی شاہ اور
اس سے ملحقہ
مسجد کو خواب
میں دکھایا
گیا بعد میں
جب وہ کسی کے
ساتھ اس جگہ
گئے تو انہوں
نے اس کی تصدیق
کی کہ ہاں یہ
سب کچھ تو ہم
خواب میں دیکھ
چکے ہیں۔ جو
حضور داتا
گنج بخش علی
ہجویری ، امام
بری سرکار
، یا عبداللہ
شاہ غازی کے
پرنور مزارات
پر باقاعدگی
سے حاضر ہوتے
رہے تو ان کی
رہنمائی کی
گئی اور بالآخر
وہ بامرِ ربی
، منشائِ الٰہی
سے آستانہ
ء قلندریہ
مخدوم پور
شریف پہنچ
گئے ۔
فیضانِ نظر
شاہِ قلندر
پیر مستوار
فرماتے ہیں
:
’’ نظر سے نظر
ملے تو دل کی
نظر کھل جاتی
ہے ۔‘‘
کچھ افراد
باذنِ ربی
صحبت میں آکر
بیٹھے ۔ سرکار
جناب نے پیار
اور محبت دی
۔ اپنی نگاہوں
سے جب معرفت
کی مے پلائی
تو فیضانِ
نظر نے بہت
سے لوگوں کو
اسیر کر لیا
۔ دل کی نظر
کھل گئی اور
پھر درِ مرشد
سے اٹھنے کو
دل نہ چاہا
۔ جناب سرکار
پیر و مرشد
کا دل چونکہ
عشقِ الٰہی
سے منور و معطّر
ہے تو آپ جب
کسی کو اُس
عشق کی مے چکھا
دیتے ہیں تو
وہ بھی تڑپ
اٹھتا ہے ۔
یہ سودا بازار
سے نہیں ، کتب
سے نہیں ، درسگاہوں
سے نہیں صرف
اللہ والوں
سے ملتا ہے
اور اس کی قیمت
دل و جان ہوتی
ہے ۔ جو دل و
جان ہار بیٹھے
وہ دنیا کے
سودوں سے بے
نیاز ہو گئے
اور پھر انہیں
مادی نفع نقصان
کی پرواہ نہ
رہی ۔
مسائل و پریشانیاں
اس تیز رفتار
زندگی کی دوڑ
میں جہاں سائنس
نے اتنی ترقی
کر لی ہے ۔ مسائل
اور پریشانیاں
بھی بڑھ گئی
ہیںاور بعض
اوقات یہ مسائل
اتنے پیچیدہ
اور پریشان
کن ہوتے ہیں
کہ انسان مجبور
ہو کر کوئی
سہارا تلاش
کرتا ہے ۔ تو
کچھ وابستگان
اور مریدین
ایسے بھی ہیں
جو دنیاوی
مسائل کے حل
کے لئے آستانے
پر آئے اور
جب وہ مسائل
حل ہوئے تو
فقط آپ جناب
کی دعا کی برکت
سے یا تعویذ
کے اثرات سے
ان کے عقل و
دماغ مسخّر
ہو گئے ۔ یہ
بات سمجھ میں
آگئی کہ جہاں
دنیا کی تدابیر
ناکام ہو جاتی
ہیں وہاں یہ
اللہ والے
ہیں جو ایسے
تصرفات رکھتے
ہیں کہ حالات
پلٹ جائیں
۔ مسائل اور
پریشانیوں
کی جگہ اطمینان
، سکون اور
رحمت و برکت
چھا جائے ۔
یہ لوگ آئے
تو دنیاوی
غرض سے مگر
دینے والے
نے ادنیٰ سے
اعلیٰ ، دنیاداری
سے نکال کر
خالق و مالک
کی طرف لگا
دیا تو درِ
مرشد کو ایسا
پکڑا کہ پھر
کہیں اور دل
ہی نہ لگا ۔
اسیرانِ محبت
کے اثرات
وہ جو گرفتارِ
محبت ہوتے
ہیں ۔ ان کی
گفتگو ، ان
کا کردار ،
ان کا ہر عمل
اس محبت کے
تابع ہو جاتا
ہے ۔ کچھ لوگ
ایسے بھی ہیں
جنہوں نے اپنے
دوستوں ، اپنے
ملنے جلنے
والوں سے جناب
پیر و مرشد
سرکار کی تعریف
سنی ۔ آپ جناب
کی صحبتوں
کے اثرات ان
لوگوں میں
دیکھے تو طبیعت
مائل ہوئی
اور وہ دیکھنے
اور ملنے آئے
کہ اس دنیا
میں کون سا
ایسا ساقی
ہے جس کے اثرات
لوگوں کو اتنا
بدل دیتے ہیں
کہ غصے اور
نفرت کی جگہ
پیار و محبت
سے دل بھر جاتے
ہیں ۔ یہ لوگ
آئے اور خود
بھی مرشدِ
پاک کی محبت
کے اسیر ہو
گئے اور بیعت
ہوئے بنا نہ
رہ سکے ۔
فیضانِ غوث
الاعظم
کچھ خوش بخت
لوگ جو دیندار
گھرانے سے
تعلق رکھتے
تھے ۔ اپنے
گھروں میں
گیارہویں شریف
کا اہتمام
کرتے ، بزرگانِ
دین سے خاص
محبت و پیار
رکھتے ۔ انہوں
نے جب پیرانِ
پیر دستگیر
حضور غوث الاعظم
کی خدمت میں
مرشدِ کامل
کا مدعا بیان
کیا تو ان کی
باقاعدہ طور
پر رہنمائی
کی گئی ۔
کہ فیضانِ
غوث الاعظم
سے دامن بھرنا
چاہتے ہو تو
میخانۂ قلندریہ
پرچلے جاؤ
۔ جہاں حضور
غوث الاعظم
کے خانوادے
کا ایک فرزندِ
ارجمند ، فیضانِ
غوثیت مآب
بانٹ رہا ہے
۔ لینے والے
اپنے اپنے
ظرف اور استعداد
کے مطابق اپنا
اپنا حصہ وصول
کر رہے ہیں
۔ یہ لوگ اس
رہنمائی کے
نتیجے میں
پیر و مرشد
کے پاس آئے
اور بیعت ہوئے
۔
تصور کا وارد
ہو جانا
کچھ لوگ کسی
دوست یا جاننے
والے کے ساتھ
اتفاقیہ طور
پر آئے اور
ملاقات کی
۔ جب واپس گئے
تو کیفیاتِ
باطنیہ اور
تصورِ شیخ
ساتھ لے گئے
۔ اٹھتے بیٹھتے
، چلتے پھرتے
اُس تصورنے
قلب و باطن
پر گویا قبضہ
کر لیا ۔ اس
کی حقیقی وجہ
مرشدِ پاک
کا مادر زاد
قلندر ہونا
، آپ کا ولایتِ
کاملہ کے مقام
پر فائز ہونا
ہے ۔ آپ عامل
نہیں بلکہ
ولیِ کامل
ہیں ۔ مرشدِ
کامل کی صحبت
ایسی کیفیاتِ
قلبی عطا کرتی
ہے ۔ جو عبادات
اور ذکر اذکار
نہیں دیتے
۔ اور ہر عامل
ولی نہیں ہوتا
یہ بات سمجھ
جانی چاہئیے۔
جذب و مستی
ہوش مندی ،
فہم و فراست
دانائی اور
عقل مندی بڑی
اہمیت رکھتی
ہے ۔ نظامِ
زندگی متقاضی
رہتا ہے کہ
حکمت و تدبر
سے اخلاص و
عمل سے اسے
بہتر سے بہتر
بنایا جائے
اور معاشرے
میں بہتر کردار
ادا کیا جائے
۔مگر باہوش
اور عقل مند
لوگ بھی کبھی
کبھی ایسی
کیفیات کا
شکار ہوتے
ہیں جو عشق
و مستی اور
جذب کی کیفیات
کہلاتی ہیں
۔ جن کی لذت
، جن کا لطف
، بعض اوقات
مادّی نفع
نقصان اور
عقل کو چھوڑ
دینے سے ملتا
ہے ۔ پھر وہ
لوگ اُس لذّت
و حلاوت کی
جستجو میں
رہتے ہیں ۔
بقول شاعر
سمجھتی کیا
ہے دنیا عاشقانِ
شہِ بطحا کو
یہ دیوانے
وہ ہیں جن سے
سبق لیتی ہے
دانائی
کچھ ایسے خوش
نصیب افراد
ہیں جنہیں
بچپن میں پیرِ
مجذوبان و
سالکان حضرت
سید رسول شاہ
خاکی یا کسی
اور مجذوب
نے ضربِ قلندری
لگا کر چھوڑ
دیا ۔ ان کے
دل کی تڑپ ،
ان کی روح کی
پکار نے انہیںہمیشہ
جستجو میں
رکھا کہ یہ
جذب و مستی
انہیں کسی
ایسے در پر
لے جائے جو
منزلِ مراد
ہو ۔اللہ پاک
نے اِن لوگوں
کو رحمتِ خاص
سے نوازا اور
وہ شاہِ قلندر
کے قدموں میں
آگئے ۔جذب
و سلوک دونوں
ہی آپ کے زیرِ
تصرف اور دسترس
میں ہے ۔ آپ
جب چاہیں جذب
کے سمندر میں
غوطہ زن ہوتے
ہوئے مرید
کی ہیجان انگیز
کیفیات کو
سلوک کے ہموار
بہاؤ میں تبدیل
کر دیتے ہیں
۔ جہاں جذب
کی تلاطم خیز
موجیں کسی
کے قابو میں
نہ آ رہی ہوں
مرشدِ کریم
کا تصرف انہیں
سکوت اور سکون
عطا کرتا ہے
۔کئی مریدین
کو آپ نے جذب
کی طوفان خیز
موجوں میں
غرق ہونے سے
پہلے ہی سمندرِ
سلوک کے ساحل
پر لا کھڑا
کیا تا کہ وہ
آپ کی صحبت
سے حاصل کردہ
فیض سے عوام
الناس کو فائدہ
پہنچا سکیں
اور محبت مشن
کو آگے لے کر
بڑھیں جس کی
آج امتِ مسلمہ
کو ضرورت ہے
۔
بیعت کے اثرات
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ
حیات ہے ۔ احکامِ
شریعت بتانے
اور سمجھانے
کے لئے بہت
سی درسگاہیں
اور بہت سے
علماء کرام
موجود ہیں
۔ ایک عام شخص
بلاشبہ یہ
سوچ سکتا ہے
کہ نماز ، روزہ
، حج ، زکوٰۃ
کے احکامات
عام کتب سے
پتہ چل جاتے
ہیں اور اگر
ہم اخلاص سے
احکامِ شریعت
پر عمل پیرا
ہیں تو بیعت
کی کیا ضرورت
ہے ؟ بیعت ہونے
سے کیا فرق
پڑے گا ؟
اس سوال کا
جواب حاصل
کرنے کے لئے
ناچیز نے آستانۂ
قلندریہ سے
منسلک بہت
سے خلفاء ،
ناظمین اور
مریدین سے
پوچھا کہ بیعت
کے بعد آپ کی
زندگی ، آپ
کی شخصیت ،
آپ کے معمولات
اور آپ کی عادات
میں کیا تبدیلی
آئی ۔ کہیں
ایسا تو نہیں
کہ بیعت سے
کوئی فرق نہ
پڑا ہو؟ مجھے
حیرت ہوئی
کہ کسی ایک
فرد نے بھی
ایسا نہ کہا
کہ بیعت سے
کوئی فرق نہ
پڑا بلکہ ہر
ایک نے بڑھ
چڑھ کر وہ اثرات
بتائے جو انہوں
نے خود اور
ان کے قریبی
جاننے والوں
نے بہت نمایاں
طور پر محسوس
کئے ۔ ان اثرات
میں سے چند
ایک اختصار
کے ساتھ یہاں
لکھنے کی جسارت
کر رہی ہوں
۔ صرف اس نیک
نیتی سے کہ
روحانی نظام
کی برکات و
اثرات سے انکار
کرنے والے
شایدیہ سمجھ
سکیں کہ تصوف
و روحانیت
کانظام وہ
کیفیات اور
اثراتِ باطنیہ
مرتب کرتا
ہے جو عبادات
و احکامات
کا مقصود و
مغز ہے ۔ صحبتِ
مرشد کے تمام
اثرات ناقابلِ
بیاں ہیں چنانچہ
ان میں چند
ایک مندرجہ
ذیل ہیں ۔
خود شناسی
ایک نقطہ نظر
یہ ہے کہ صحبتِ
مرشد نے اپنے
آپ سے ملوا
دیا ہم خود
کو بھول کر
دنیا میں گم
تھے ۔ مرشدِ
پاک نے حقیقت
سے آشنا کر
دیا ۔ اس خود
شناسی نے اللہ
پاک کی طلب
، جستجو ، پہچان
عطا کی اور
اس خالقِ جان
، مالکِ کائنات
سے اتنا مضبوط
قلبی تعلق
عطا کیا کہ
دنیا سے بے
نیازی بڑھتی
چلی گئی ۔ حب
دنیا گویا
دل سے نکل گئی
۔ مشاہدۂ کائنات
اور مشاہدۂ
ذات میں اُس
اللہ پاک کو
دیکھنے اور
محسوس کرنے
کی عادت ہو
گئی ۔ حقیقی
اصول ، اسرار
و رموزِ حقیقت
سے آشنا کر
دیا ۔ علم الیقین
سے عین الیقین
اور عین الیقین
سے حق الیقین
تک پہنچا دیا
۔ قبل از بیعت
کا زمانہ ،
زمانۂ جاہلیت
تھا ۔ بیعت
کے بعد علم
، روشنی ، فہم
حتی کہ حق عطا
ہوا ۔ یہ سب
فقط مرشدِ
پاک کا کمال
ہے ۔ کہ پیار
اور عشق والوں
کو محبوب مل
گیا ۔
رغبتِ دین
کچھ افراد
نے بتایا کہ
بیعت کے بعد
دین کے احکامات
کی طرف قلبی
میلان بڑھا۔
پہلے کبھی
احکاماتِ دین
کی پرواہ نہ
کی تھی ۔ مگر
بیعت کے بعد
خود بخود فرائض
اور اوامر
و نواہی کا
خیال رہنے
لگا ۔ یوں محسوس
ہوا کہ گویا
شیطان نے جو
ہر وقت دل میں
بسیرا کیا
ہوا تھا ‘دل
سے غائب رہنے
لگا ہے ۔ اس
کا وہ ٹھکانہ
جو اس نے بڑا
مضبوط سمجھا
ہوا تھا اب
کمزور ہو گیا
اور اس کی جگہ
طہارت و پاکیزگی
قلب و باطن
میں سرایت
کرنے لگی ۔
تصورِ شیخ
نے خیر اور
شر کی پہچان
عطا کی ۔ احساسِ
زیاں بڑھا
اور گویا نیا
جنم لے لیا
ہو ۔ یکسر شخصیت
بدل کر رہ گئی
۔ پیاس سے نڈھال
جسم کو پانی
مل گیا ۔ گرمی
سے چور شخص
کو ٹھنڈک مل
گئی ۔ بے سکوں
کو سکوں مل
گیا ۔ بیعت
کے بعد زندگی
زندگی بنی
۔ خشک دینی
ماحول سے نکل
کر محبت کی
بہاریں نصیب
ہوئیں ۔
شخصیت میں
تبدیلی
کچھ افراد
نے بیعت کے
اثرات اس طرح
بتائے کہ بیعت
کے بعد زندگی
یکسر تبدیل
ہو گئی ۔ پیر
و مرشد کی صحبت
میں بیٹھنے
کے بعد ہر مرتبہ
ایک نئی تبدیلی
محسوس ہوتی
رہی ۔ بہت سی
بری عادات
بیعت سے پہلے
پائی جاتی
تھیں ۔ جیسے:۔غصہ
، عجلت پسندی
، فضول اور
بے فائدہ کاموں
میں وقت ضائع
کرنا عام معمول
تھا ۔ جب مرشدِ
پاک سے ملاقات
ہوتی تو گویا
ہر مرتبہ ایک
بری عادت کم
ہو جاتی ۔ حالانکہ
آپ نے کبھی
زباں سے ہر
ایک کو فرداً
فرداً نصیحت
نہ فرمائی
۔ مگر آپ کی
صحبت اور آپ
کے تصور کے
اثرات سے ساری
بہت بری عادتیں
کم ہوتی چلی
گئیں ۔ یہ اثرات
گھر والوں
اور دوست احباب
نے بھی بہت
زیادہ محسوس
کئے ۔ کردار
اور عمل بالکل
بدل کے رہ گیا
اور ساری تبدیلیاں
مثبت ہوئیں۔
مضبوط قوتِ
ارادی
بیعت کے بعد
زندگی میں
اطمینان اور
سکون آ گیا
۔ پہلے کسی
اچھے کام کا
ارادہ بھی
کیا تو کرنے
کی توفیق نہ
مل پاتی ۔ بیعت
سے یہ اثر ہوا
کہ قوتِ ارادی
پختہ اور مضبوط
ہوتی گئی ۔کمزوری
رفع ہو گئی‘
اعتماد ملا
‘ معاشرے کا
سامنا کرنا
آ گیا ۔ کمزور
کو طاقتور
بنانے والی
ذات مرشدِ
پاک کی ہے ۔
آپ کی وجہ سے
خود اعتمادی
اور حوصلہ
بڑھا ۔ نیکی
کے کام کرنے
کی قوت و استطاعت
بڑھ گئی ۔ فہم
و بصیرت میں
اضافہ ہوا
۔ باتوں کو
سمجھنے کی
اہلیت آ گئی
۔ آپ جناب ایک
قابل جوہری
کی طرح اپنے
ذرّے ذرّے
کو خود چمکا
دیتے ہیں ۔
کسی شاعر نے
کیا خوب کہا
ہے:
ماہِ تاباں
سے جا کے کہہ
دو کہ اپنی
کرنوں کو گِن
کے رکھ لے
میں اپنے صحرا
کے ذرّے ذرّے
کو خود چمکنا
سکھا رہا ہوں
آپ نے اپنے
زیرِتربیت
راہِ حق اور
رازِ معرفت
کے طالبوں
کی شخصیات
کو سنوارا
، نکھارا ،
سجایا ، اور
انہیں معاشرے
کے لئے مفید
اور کارآمد
بناد یا ۔ ناکارہ
پتھروں اور
سنگریزوں کو
ہیرے موتی
بنا دیا ۔
کاموں میں
بہتری
آپ جناب پیرو
مرشد سے اخلاص
اور پیار والا
تعلق انسانوں
کو منتہائے
کمال تک لے
جاتا ہے ۔ ظاہری
اور باطنی
ہر دو حالتوں
میں بامِ عروج
تک لے جانا
آپ کا حیرت
انگیز کمال
ہے ۔ تمام مادی
مسائل اور
پریشانیاں
بتدریج ختم
ہوتی چلی جاتی
ہیںاور ہر
کام میں بہتری
آتی جاتی ہے۔
رزق میں برکت
اور کشادگی
ہوتی چلی جاتی
ہے ۔ پہلے ہر
طرح سے کمزور
تھے ۔ معاشرے
میں عزت اور
مقام پیر صاحب
کی بدولت ملا
۔ وہ لوگ جو
کبھی سلام
کرنے کے روادار
نہ تھے عزت
سے دعوت دے
کر بلانے لگے
۔ شاہِ قلندر
کی کبھی کسی
گھر میں دعوت
ہوتی ہے تو
آپ کے جانے
کے بعد حیرت
انگیز طریقے
سے روزگار
، کاروبار
، ملازمت ہر
کام میں برکت
و رحمت آ جاتی
ہے ۔ جناب شاہِ
قلندر پیر
مستوار ایک
وقت کا کھانا
تناول فرماتے
ہیں اور اس
کی برکات سے
اہلِ خانہ
عرصۂ دراز
تک فیضیاب
ہوتے ہیں ۔
خشوع و خضوع
تیر رفتار
سائنسی دور
میں ہماری
عبادات یکسوئی
اور دلی کیفیات
سے خالی ہوتی
ہیں ۔ اس دنیا
دار دل کو صاف
اور پاکیزہ
کرنا اور اسے
ہر ایک کے حسبِ
استعداد انوار
و تجلیات سے
بھر دینا پیر
و مرشد شاہِ
قلندر ہی کا
کمال ہے ۔کچھ
لوگوں نے بیعت
کے اثرات یوں
بتائے کہ:
’’ پہلے بھی نمازیں
ادا کرتے تھے
۔ مگر کبھی
نمازوں میں
خشوع و خضوع
محسوس نہ کیا
تھا ۔ بیعت
کے بعد نمازوں
میں دل کی یکسوئی
حاصل
ہوئی ۔ ان کی
ادائیگی میں
پابندی آ گئی
۔ دل کی کیفیت
بدلی بدلی
سی
محسوس ہونے
لگی ۔ طبیعت
نیکی کی طرف
رغبت رکھنے
لگی ۔ ظاہری
اور باطنی
اثرات بہت
مثبت نظر آنے
لگے ۔ اللہ
سے پیار اور
محبت
کی کیفیات
بہت بڑھ گئیں
۔‘‘
باب ہفتم
مرشدِ پاک
کا مریدین
و وابستگان
کے لئے نظام
تعلیم و تربیت
عالمِ اسلام
کی پندرہ سو
سالہ تاریخ
اپنے اندر
بہت سے نشیب
و فراز لئے
ہوئے ہے ۔ سقوطِ
بغداد کے بعد
جہاں مسلمان
سیاسی طور
پر کمزور اور
مغلوب ہوئے
وہاں ان کا
تعلیمی معاشرتی،
فکری، نظریاتی
، اخلاقی روحانی
نظام بھی شکست
وریخت کا شکار
ہوا اور جب
بھی کبھی مسلمان
شکست خوردہ
ہوئے ‘ بے یقینی
نے متاعِایمان
کو غارت کیا
ایسے میں اولیائے
کرام ، صوفیائے
وقت نے قوم
کی کشتی کو
سنبھالا دیااور
اسلام کی نشاطِ
ثانیہ کا باعث
بنے ۔
حجۃ الاسلام
امام غزالی
کا ارشاد پاک
ہے۔
’’صرف صوفیاء
کرا م ہی معرفت
الہٰی کی راہ
پر گامزن ہیں۔
ان کی سیرت
سب کی سیرتوں
سے بہتر ۔ ان
کا طریقہ سب
کے طریقوں
سے درست،
ان کا خلق سب
کے اخلاق سے
پاکیزہ ہے
بلکہ اگر تمام
عقلاء کی عقل،
حکماء کی حکمت،
علماء کا علم
اور اس کے اسرار
کو جمع کیاجائے
تب بھی ان
کے سیرت و اخلاق
سے بہتر نہیں
ہو سکتے کیونکہ
ان کے تمام
ظاہری
و باطنی حرکات
و سکنات براہِ
راست سینۂ
نبوت کے نور
سے فیضیاب
ہوتے ہیں۔
اور اس کائنات
میں نورِنبوت
سے بڑھ کر کوئی
نور نہیں
جس سے روشنی
حاصل کی جائے۔‘‘
(المنقد عن
الضلال)
پیران پیر
دستگیر حضور
غوث الاعظم
جس دور میں
جلوہ افروز
ہوئے وہ دور
بھی طوائف
الملوکی، ابتری
اور انتشار
کا دور تھا۔
یہ آپ کا اعلیٰ
کردار اور
آپ کے روحانی
تصرفات و کمالات
ہی تھے کہ مرد
ہ تن میں آپ
نے نئی جان
پھونک دی اور
یوں آپ محی
الدین کہلائے
۔مسلمانانِعالم
پستی اور ذلت
سے باہر آئے
اور زندگی
کے تحرک میں
پھر سے مصروف
عمل ہوئے ۔
اسی کے نتیجے
میں کئی اسلامی
احیاء کی تحریکوں
میں قوت اور
جان آئی کہ:
جہاں میں اہلِ
ایماں صورتِ
خورشید جیتے
ہیں
اِدھر ڈوبے
اُدھر نکلے،
اُدھر ڈوبے
اِدھر نکلے
مسلمان آج
بھی ایک ایسے
ہی دور سے گزر
رہے ہیں۔ ذاتی
، انفرادی
زندگی عبادات
کے انوار سے
محروم ، خود
غرضی ، لالچ
، حسد، تکبر،
کینہ اور نفرتوں
سے بھرے دلوں
میں خوفِ خدا
، محبتِ الہٰی
، عشقِ مصطفےٰ
کی چنگاری
نہ رہی معاشرہ
فحاشی اور
عریا نیت کے
سیلاب میں
ڈوبا ہوا‘ ابلیسیت
کے شکنجے میں
بری طرح مقیّد
نظر آتا ہے۔
باون (52)ملکوں
میں مسلمان
حکمرانوں کی
موجودگی بھی
دینِ اسلام
کو وہ شان و
شوکت نہیں
دے پا رہی اور
مسلمان ہر
جگہ ذلیل و
رسوا ہو رہے
ہیں۔ اقوامِ
عالم میں مسلمانوں
کے پاس عزت
اور وقار نہیں
ہے ۔
لوگ اللہ سے
دور ، ایمان
کی لذت و حلاوت
سے نا آشنا
ہو چکے ہیں۔
کہ
بجھی عشق کی
آگ اندھیر
ہے
پھر مسلمان
نہیں خاک کا
ڈھیر ہے
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>