بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

ایسے میں اللہ پاک اپنے چنے ہوئے خاص بندوں کے ذریعے حفاظت و اقامتِ دین کا کام لیتا ہے ۔ حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی نے جس انداز سے خلفاء کے ذریعے روحانی برکات و تاثیرات کو شرقاً غرباً پھیلایا آج پھر اسی انداز سے روحانی محبت و چاشنی کی لذت و حلاوت کے جامِ معرفت کی متلاشی انسانیت کو جامِ قلندر کی ضرورت ہے۔
شاہِ قلندر نے بعینہ اسی طرز پر خلفاء کے نظام کو متعارف کرایا ہے۔ جامد نظام تصوف کی بجائے متحرک ، جاندار نظامِ تعلیم و تربیت متعارف کرایا ۔ جس کے تحت ایک فرد کی ہمہ جہت تربیت کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عوام الناس اور خاص لوگوں کے لئے ہر طرح سے ایک بہتر نظام دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے آستانے قائم ہیں اور ان سے افراد کو خلافت تو دی جاتی ہے مگر افسوس کبھی تو اہلیت و صلاحیت کو دیکھے بغیر خلیفہ نامزد کر دیا جاتا ہے ۔ اور کبھی رابطہ با قاعدگی سے نہ ہونے کے باعث خلفاء صحیح طور پر کام نہیں کر پاتے ۔ مرشدِ پاک شاہ قلندر نے خلفاء کے چناؤ میں ان کی اہلیت ، خلوص و وفا کو مد نظر رکھا ہے اور ساتھ ہی ان سے مستقل رابطہ، ان کی کڑی نگرانی اور ان کے لئے ہدایات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ بقول اقبال
ہے وُہی تیرے زمانے کا امام بر حق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

مریدین و وابستگان کے لئے نظام تعلیم و تربیت

شاہِ قلندر کے روزمرّہ کے معمولات
٭ دربار عالیہ میں ملاقات:
شاہِ قلندر پیر مستوار نے جب سے مسندِ رشد و ہدایت کی ذمہ داریوں کو سنبھالا ہے اس وقت سے ان کا معمول ہے کہ ہر روز صبح 10:30بجے دربارِ عالیہ میں رونق افروز ہوتے ہیںاور بلا تفریق خاص و عام ہر ایک آنے والے سے انفرادی طور پر ملتے ہیں۔ اس کا حال احوال پوچھنا۔ دور دراز سے آنے والے لوگوں سے سفر کا حال، علاقے کا حال دریافت کرنا، خندہ پیشانی سے ان کے دکھ درد میں شریک ہونا آنے والوں کو شاہِ قلندر کا گرویدہ بنا دیتا ہے۔ آپ ان کے مسائل خواہ وہ مادی ہوں یا روحانی ان کا حل بتاتے ہیں ساتھ ساتھ کبھی مختصر الفاظ اور جملوں میں اور کبھی کسی واقعہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے متلاشی حق کی بھی رہنمائی فرماتے رہتے ہیں۔ اور اپنے اس معمول کے لئے عموماًکبھی اپنی طبعیت کی خرابی کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کسی اور مصروفیت کو آڑے آنے دیتے ہیں ۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات علالت کے باوجود آپ عین مقررہ وقت پر حتیٰ کہ جمعہ اور اتوار کے دن بھی بلا ناغہ دربار عالیہ میں آتے ہیں اور آنے والوں سے ملتے ہیں۔ یہ صبح10:30بجے سے 12:30بجے تک اور پھر شام 4:30بجے سے نمازِ عصر کے وقت تک یہی معمول رہتا ہے ۔ اس دوران تعویذات ، دم ، دعا کا عمل جاری رہتا ہے۔ کسی کونگاہوں سے پلاتے ہیںاورکسی کو اپنی مخصوص مسکراہٹوں سے نوازتے ہیں۔ کسی کی تادیبی کاروائی کے ذریعے اصلاح فرماتے ہیں۔ کسی سے پیار بھری باتیں کر تے ہوئے اس کادل موہ لیتے ہیں۔آپ کی ہر بات، ہر رنگ، ہر انداز میں آنے والے کی اصلاح اوراس کی تعلیم و تربیت ہی مقصود ہوتی ہے بجز اس کے کچھ نہیں۔ کئی آستانوں پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پیر صاحبان کے پاس مریدین کے لئے وقت کی بہت قلت ہوتی ہے اور خاص طور پر غرباء کو پیر صاحب کے دیدار کا بھی موقع نہیں ملتا۔ کبھی قسمت میں ہو تو پیر صاحبان مقررہ وقت پر درشن کرا کے اجتماعی طور پر دعا کے لئے لمحہ بھر کے لئے ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔ مگر ہمارے شاہِ قلندر توجہ سے ہر ایک کی بات سنتے اسے تسلی دیتے ہیں۔ آنے والے دکھی لوگ اسی وجہ سے پیر صاحب سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ پیر و مرشد امیر اور غیرب کی تخصیص کئے بنا ہر ایک کو یکساں وقت اور توجہ دیتے ہیں۔
٭ بیعت کے ذریعے:
بیعت ایک وعدہ ہوتا ہے جو کسی خاص سلسلے میں کیا جائے۔ بیعت کا مصدر عربی زبان کا لفظ ’بیع‘ ہے جس کا معنی ہے خود کو بیچ دینا۔ اصطلاح میں سنتِ رسولِ مقبول کے مطابق کسی ولی ءَ کامل کے ہاتھ پر توبہ تائب ہونا اور اپنا آپ اس کے اس طرح حوالے کرنا کہ پھر اپنی کوئی خواہش اور مرضی نہ رہے۔ یہ سمجھ لینا اور یقین رکھنا کہ میرا مرشد، میرا شیخ روحانی سفر میں میرا رہنما ہے اور منزل تک پہنچانے کا ضامن بھی ۔ یہ خود کو شیخ کے حوالے کرنا انسان کا بیڑہ پار کر دیتا ہے کہ
جب تک بکے نہ تھے کوئی پوچھتا نہ تھا
تو نے خرید کر ہمیں انمول کر دیا
سرکار دو عالم ، رحمۃ اللعالمین علیہ الصلوۃ والسلام صحابہ اکرام سے بیعت لیا کرتے تھے ۔بیعت عقبہ اولیٰ ، بیعت عقبہ ثانیہ اسلام قبول کرنے پر آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک پر کیا گیا عہد تھا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیعت( بیعتِ رضوان ) لی گئی جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے ۔
ان الذین یبا یعونک انما یبا یعون اللّٰہ ید اللّٰہ فوق ایدیھم
(الفتح:10)
ترجمہ: ’’ اے محبوب بے شک جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں
وہ خدا تعالیٰ سے بیعت (وعدہ) کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ
کا ہاتھ ہے ۔ ‘‘
دربار عالیہ کے اوقات میں ہی آنے والوں میں سے جو کوئی توبہ تائب ہوتے ہوئے مستقل وابستگی کا خواہشمند ہو اسے بیعت بھی کیا جاتا ہے اور کسی کو بیعت کرتے ہوئے شاہِ قلندر کے پر نور چہرے پر جمال و جلال کی آمیزش اور روحانی بزرگوں سے براہِ راست رابطہ ایک عجب رنگ دیتا ہے ۔ بیعت کرنے والے کو چاہیے کہ ظاہری اور باطنی طہارت کا اہتمام کرے۔ ظاہری طہارت یہ کہ باوضو ہو‘ پاک صاف ہو‘ اچھا لباس پہنے اور خوشبو لگائے باطنی طہارت یہ ہے کہ گناہوں پر نادم ہو ‘ توبہ کا سچا ارادہ ہواور پیر و مرشد کی محبت و اطاعت کا دل میں پختہ ارادہ رکھتا ہو۔ دوزانو ہو کر با ادب بیٹھے اور جیسے بتایا جائے ویسے کر تا جائے ۔ دائیں ہاتھ میں دی جانے والی چادر پکڑ کر مٹھی بند کر لے بایاں ہاتھ بائیںزانو پر رکھے ۔ پیر و مرشد جو کچھ پڑھائیں بآواز بلند دہرانا چاہیے ۔ بیعت کے بعد ذکر کروایا جاتا ہے ۔ جس سے دل پر خاص ضرب لگائی جاتی ہے ۔ بیعت کے بعد مریدین کو چاہیے کہ اپنی سوچوں میں مرکزو محور اپنے پیرو مرشد کو
بنالیں یوں وہ مادی اور روحانی دونوں حوالوں سے کامیاب و کامران ہوں گے ۔
٭ روزانہ کے پڑھنے کے لئے ذکر:
وابستگان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ قلب کے لئے ہر روز پڑھنے کے لئے ذکر اذکار، وظائف و اور ادکی نصیحت کی جاتی ہے ۔ بالعموم ہر نئے آنے والے اور بیعت کرنے والے کو سب سے پہلے کلمہ شریف 101 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ کچھ لوگ جن میں قلبی استعداد ، باطنی رجحان زیادہ پایا جاتا ہے ۔ انھیں ان کے مزاج ، ضمیر ، عادات، کردار ، حوصلہ اور وفا کو دیکھتے ہوئے ان کی طبیعتوں کے مطابق مختلف وظائف دیئے جاتے ہیں۔ اگر ایک فرد اہلیت رکھتا ہو تو اہلیت سے عقیدت اور محبت بڑھتی ہے ۔ محبت میں آنے کے بعد روحانیت اور فقیری شروع ہوتی ہے ۔
جس طرح ایک ہیرے کی تراش خراش کی جاتی ہے اور اسے پالش کیا جاتا ہے اسی طرح سے مریدین اور وابستگان سے بتدریج مادی میل کچیل کو دور کرنا ان کے دلوں کو پاک اور مطہر کرنا انھیں نورانی چمک سے مزین کرنا شاہ قلندر ہی کا خاصہ ہے ۔ اور عام طور پر مریدین اور وابستگان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کے مرشد نے کس طرح شیطان سے ان کی حفاظت کی ہے یا دیگر دینی اور دینوی معاملات میں پیرو مرشد کسطرح ان کے لئے غائبانہ مدد گار ثابت ہوئے یہ فقط صاحب نظر ہی جان سکتے ہیں۔ ہر روز ذکر الہٰی بتدریج دل کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔دل سے مال وزر کی محبت دور ہوتی ہے ۔ ذکر سے دل منور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ ایک طرف سے فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف سے زیادہ ۔

٭ ٹیلی فونک رابطہ:
چونکہ پاکستان بھر میں وابستگان اور مریدین کی تعداد روزا فزوں بڑھ رہی ہے ۔اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کو مرکز انوار وتجلیات دربارِ عالیہ میں مستقل آتے رہنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ تو زمانی و مکانی حدود سے ماوراء جہاں پیر و مرشد کی ان پر باطنی توجہ رہتی ہے وہاں ان لوگوں کو ہر روز صبح 11 بجے سے 12 بجے اور رات 10:30 بجے سے 11:30بجے کے دوران ٹیلی فون کرنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ اوقاتِ دربار عالیہ کے دوران پیرو مرشد سب کے ٹیلی فون بھی سماعت فرماتے ہیں ، خیریت بھی دریافت کرتے ہیں۔ان کے مادی، باطنی روحانی مسائل کا حل بھی تجویز فرماتے ہیں اور دعائے خیر سے بھی نوازتے ہیں۔ مقصد فقط وابستگان اور مریدین کی دلجوئی ، ان کی تسلی و تشفی اور ان کے دل کی خوشی ہوتا ہے ۔ بعض اوقات مریدین بہت جزئیات کے ساتھ واقعات کی تفصیل سناتے ہیں جس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی مگر آپ خندہ پیشانی سے ان کی بات سنتے ہیں اور پھر ہدایات جاری فرماتے ہیں۔

٭ رات کی مخصوص نشست:

متلاشیانِ حق، طالبانِ صدق و خلوص ، خادمینِ دربار اور خاص لوگ سارا دن منتظر رہتے ہیں کہ کب شام ڈھلے اور پیر و مرشد کی اصلی سنگت اور صحبت ملے۔ دن میں لوگوں کی اکثر یت دنیاوی دکھوں اور پریشانیوں میں مبتلااپنے مادی مسائل کے حل کے لئے تعویذات اور دم کے متمنی ہوتے ہیں جبکہ رات کی اس مخصوص نشست میں عام طور پر تعویذات ، دم دعا کا عمل مفقود ہوتا ہے ۔ مرشد پاک کی یہ نشست مربیانہ اور عارفانہ رنگ لئے ہوتی ہے ۔
10:30 بجے سے 11:30 بجے تک رات کو ٹیلی فون سنے جاتے ہیں۔ اس کے بعد سارے دن کے معمولات میں اگر کوئی غیر معمولی بات ہوتو اسے ڈسکس کیاجاتا ہے۔ غلطیوں پر اپنوں کی سر زنش کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سوال جواب کی نشست جاری رہتی ہے ۔ ایک ہی سوال کو اگر مختلف افراد پوچھتے ہیں تو سنتِ رسولِ مقبول کے عین مطابق شاہِ قلندر ہر ایک فرد کو اس کی ذہنی سطح کو دیکھتے ہوئے ایک ہی سوال کا جواب مختلف انداز سے دیتے ہیں۔ سارے دن کی سخت مصروفیت کے باوجود پیر و مرشد انتہائی تروتازہ اور خوشگوار موڈ میں اپنی مخصوص نشست پر موجود رہتے ہیں۔ ہلکا پھلکا مزاح اور کبھی کبھار آپ کابے ساختہ ہنسنا اس نشست کے رنگ کو دوبالا کر دیتا ہے عموماً زیرِ لب تبسم سے سب پر کرم نچھاور کیا جاتا ہے ۔ اسطرح کے مشفقانہ ماحول میں جب حقیقت و معرفت کی گفتگو شروع ہوتی ہے تو دل نورِ ایمان سے روشن ہوتے چلے جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا دل نورِ الٰہی سے جگمگا گیا ہے۔
کبھی شعرو شاعری اور کبھی حمدو نعت بھی پیرو مرشد سننا پسند فرماتے ہیں اور بیٹھنے والوں کے ذوق اور ان کی باطنی استعداد کا اس درجہ خیال رکھتے ہیں کہ ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ شاہِ قلندر اسی کے بے حد قریب ہیں اور اگر کبھی کراچی ، لاہور یا دوردراز سے طالبانِ حق آئے ہوئے ہوں تو پیر و مرشد ان لوگوں کی دلجوئی کی خاطر اپنے آرام کو تج دیتے ہیں اوراکثر اوقات نماز فجر تک تشریف فرما رہتے ہیں۔ اس خاص وقت میں اس رب کائنات، حبیب کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیار اور عطا کی باتیں عجب کیفیت اور رنگ دیتی ہیں جو الفاظ میں سیمٹنا اور بیان کرنا مشکل ہے ۔ جس جس نے ان محفلوں کا ذائقہ چکھا ہے وہ ہمیشہ وہاں جانے کے لئے اور شاہِ قلندر کی صحبت و سنگت کے لئے تڑپتا رہتا ہے ۔
رات پوے تے بے درداں نوں نیند پیاری آوے
درد منداں نوں تانگ سجن دی سُتیاں آن جگاوے

شاہِ قلندر کے ہفتہ وار معمولات ٭

نمازِ جمعہ:

اللہ جل مجدہ‘ نے ارشاد فرمایا:
اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعہ فاسعوالی ذکراللّٰہ
(الجمعۃ)
ترجمہ: ’’ جب جمعہ کے دن تمہیں نماز کے لئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ
کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو ۔‘‘
مسلمانوں کے لئے جمعہ کا دن بطور خاص عبادت کے لئے چنا گیا۔ پسند کیا گیا کہ اس دن بطور خاص غسل کیا جائے، پاک صاف ہوا جائے، نماز کے لئے خصوصی تیاری کی جائے اور زیادہ سے زیادہ وقت ذکر پاک میں مشغول رہا جائے۔
پیرو مرشد جمعہ کا دن خود بھی اہتمام کے ساتھ سر پر سفید رومال اور ٹوپی لئے مسجد میں تشریف لاتے ہیں اور باقی سب ساتھیوں کو بھی لازمی آنے کی تاکید فرماتے ہیں۔ آپ خود نماز جمعہ کی امامت فرماتے ہیں۔ آپ کی پر تا ثیر آواز جب خطبے کے لئے گو نجتی ہے تو اس آواز میں ایک خاص ترنگ ، ایک خاص رنگ دل کی
دھڑکن میں ساز جگا دیتا ہے اور تصور اس دربار پاک میں لے جاتا ہے جب سرکار دو عالم اپنے اصحاب کے سامنے خطبہ دیا کرتے تھے ۔
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
ہر کوئی فدا ہے بن دیکھے تو دیدار کا عالم کیا ہوگا
اک سمت علی اک سمت عمرصدیق اِدھر عثمان اُدھر
ان جگمگ جگمگ تاروں میںماہتاب کا عالم کیا ہوگا

نمازِ جمعہ سے قبل پیرو مرشد اپنی زیر نگرانی کسی عالم سے موقع محل، حالات، اور مہینوں کو مد نظر رکھتے ہوئے درس بھی دلواتے ہیں، تاکہ آنے والوں کے علمی و دینی ذوق کی بھی تسکین ہوسکے۔ اللہ ہو کی صداؤں میں پیرو مرشد کا مسجد میں آنا اور جانا بھی عجب بہار دکھاتا ہے ۔

محفلِ ذکر

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
واذکر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا
(المزمل)
’’اپنے رب کے نامِ مبارک کا ذکر کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہوجاؤ۔‘‘
ذکر کی برکات و ثمرات سے صحیح طور پر فیضیاب ہونے کے لئے غیر اللہ سے منہ موڑ کر فقط اللہ سبحانہ‘ و تعالیٰ کا ہوجانا اورحضورِ قلب کے ساتھ ذکر کرنا انسان کو ذاکر سے مذکوربنا دیتا ہے۔ اللہ کے اسمائے مبارکہ اپنی نورانی تاثیر سے جب دل پروارد ہوتے ہیںتو انسان اور اللہ کے درمیان حائل حجابات اٹھتے ہیں۔ معرفت و حقیقت کے اسرارور موز سے آگہی ملتی ہے۔ انسان خود شنا س ہو جاتا ہے ۔ ذکر کی ضرب سے دل کے زنگ دور ہوتے ہیں۔ نفسانی قوتیں کمزور پڑتی ہیں اور روح کو بالیدگی اور قوت ملتی ہے ۔
ہر پیر کو بعد نمازِ عشاء محفل ذکر منعقد کی جاتی ہے ۔ جس میں باقاعدہ پیرو مرشد خود توجہ کے ساتھ ذکر کراتے ہیں۔ تاکہ وابستگان ذکر کے نور میں رنگے جائیں۔ اور ان میں معرفت کے اسرار سمجھنے کی قلبی استعداد پیداہوسکے۔

٭ قریبی علاقوں میں محافلِ نعت:

مخدوم پور شریف کے ارد گرد کے قریبی نواحی علاقوں مرید، چکوال وغیرہ میں ہر ہفتے کہیں نہ کہیں محفل ذکر و نعت منعقد ہوتی ہے جس کی صدارت آپ جناب خود فرماتے ہیں۔ آپ کی موجودگی مریدین کے دلوں کے اطمینان کا باعث بنتی ہے اور نعت کے خوبصورت اشعار پر آپ کے چہرے کے تاثرات کا رنگ دیکھنے والوں پر اشعار کے معنی و مفہوم کوکھولتا ہے ۔ کبھی ہلکی پھلکی گفتگو اور خوبصورت بات کرتے ہوئے اہلِ نظر پر کئی اسرار و رموز کے دروازے کھول دیتے ہیں اور مریدین ، اہل ایمان، حاضرین و سامعین کے لئے خیرو برکت کی دعا فرماتے ہیں۔

٭ ماہانہ پروگرام

گیارھویں شریف کا پروگرام:

ہر ماہ چاند کی گیارہ تاریخ کوپیرانِ پیر دستگیر حضورسیدنا غوث الاعظم کی نسبت سے گیارہویں شریف کا روحانی اجتماع منعقد ہوتا ہے ۔ اس پروگرام میں شرکت کے لئے دوردرازکے علاقوں سے خلفاء ناظمین اور مریدین بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ خواتین کے لئے بھی خصوصی انتظام کیا جاتا ہے ۔ پہلے یہ پروگرام مسجد میں ہوا کرتا تھا مگر اب تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے لنگر خانے میں انتظام کیا جاتا ہے۔ ہر طر ف سرخ رنگ اپنی بہار خوب دکھاتا ہے۔ مردوںکے سر پر سرخ رنگ کی ٹوپیاں اور خواتین کے سرخ اسکارف قلندریہ سلسلہ کی انفرادیت اور شاہِ قلندر سے ان کی نسبت کا اظہار کرتے ہیں۔ شاہِ قلندر سرخ ٹوپی کے ساتھ سرخ رنگ کا خوبصورت پٹکا گلے میں ڈالے جب شان کے ساتھ اپنے مریدین میں جلوہ افروز ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ انوار کی بارش برسنے لگ گئی ۔ خوبصورت کمپئرنگ ، تلاوتِ کلام الہٰی کے رنگ اور پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ثنا خوانی ہوتی ہے۔ دور دور سے آنے والے نعت خواں اپنی خوبصورت دلکش لے اور سوز میں جب آقا ومولیٰ رسول اللہ کی ثنا خوانی کرتے ہیں تو اہل ذوق سے خوب داد وصول کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ کسی مشہور عالم دین کا درسِ قرآن ہوتا ہے جس سے علمی ذوق رکھنے والوں کی تسکین ہوتی ہے اور تعلیم و تربیت ، عقائد و اعمال کے بہت سے سبق آموز پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس پروگرام میں شاہِ قلندر کی باتیں اتنی پرتا ثیر اور حکمت و معرفت سے بھر پور ہوتی ہیں کہ بلا شبہ یوں لگتا ہے کہ ہیرے جواہرات سے آپ نے دامن بھر دیا ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ بس یہ سلسلہ یونہی رہے پیرو مرشد کی باتیں کبھی ختم نہ ہوں۔ آپ کی باتیں، آپ کا خطاب خالصتاً باطنی اور روحانی تعلیم و تربیت کے متعلق ہوتا ہے تاکہ آنے والے مریدین کو روحانی فیوض و برکات سے بہرہ ور کیاجاسکے ۔

٭ سالانہ پروگرام

اعتکافِ عشق

ہر دور ہر زمانے میں حق کی جستجو ، حق کو پانے کی خواہش بہت سے لوگوں میں پائی جاتی رہی ۔ اسلام سے قبل لوگ محبوب حقیقی کی تلاشی میں گھر بار چھوڑ کرمخلوق سے کنارہ کش ہوکر رہبانیت اختیار کرتے تھے ۔ سرکار دو عالم احمد مجتبیٰ محبوبِ خدا رسول اللہ نے اعلان فرمایا:
لا رھبانیۃ فی الاسلام
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ اعلان اس گناہ گار امت کے لئے ایک بہت بڑی رحمت ہے ۔ پہلے لوگ جنگلوں، بیابانوں اور غاروں میں چلے جاتے تھے اور ان کے مجاہدے اور ریاضتیں بہت کڑی ہوتی تھیں۔ مگر آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم مومنوں کے لئے خوشخبری سنا دی کہ راہِ حق کے متلا شیو تمہیں اپنا گھر بار چھوڑنے ، بیابانوں اور جنگلوں میں بسیرا کرنے کی ضرورت نہیں تم اس دنیا میں رہتے ہوئے حق کو پا سکتے ہو کہ رہبانیت کا نعم البدل عطا کر دیا گیا اور وہ ہے اعتکاف۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.