بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

اعتکاف کا رنگِ حقیقی دنیا سے چند دن کے لئے کنارہ کش ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ سے محبوبِ حقیقی کی طرف لولگا لینا ہے ۔ اعتکاف کے فیوضات و برکات، اس کے روحانی فوائد کی بناء پر مرشدِ پاک شاہِ قلندر نے اپنے مریدین کو روحانی سفر پر گامزن رکھنے اور وصالِ حق کے لئے پہلی مرتبہ 2001 ء میں اپنی زیر نگرانی اعتکاف کر وانے کا انتظام کیا اور پیر و مرشد نے خالصتاً عشقِ حقیقی کے انوار و تجلیات سے مستفیض کرانے کے لئے اس کا نام ہی ’’اعتکافِ عشق ‘‘ رکھا ۔ دربار سے متصل مسجد علی میں پہلی مرتبہ مرکزِ انوار مخدوم پور شریف میں اٹھائیس(28) افراد کو معتکف ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پیر و مرشد نے اپنی بھر پور توجہ کے رنگ ظاہراً اور باطناًعطا فرمائے۔ مختلف اور ادو وظائف اور ان کی زکوٰتیں نکلوائی گئیں۔ ان خاص خوش نصیب لوگوں نے دن رات اپنے مرشد کی زیرِ نگرانی ان کی ہدایات کے مطابق گزارے۔ ہر روز رات کو مرشدِ پاک خصوصی خطاب فرماتے ۔ ہر لینے والا اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق ان موتیوں کو چنتا اور ان خوش قسمت لوگوں سے ان دنوں کی کیفیات اور احوال سنے جائیں تو اپنے محروم رہ جانے کا افسوس بڑھ جاتا ہے ۔
2002 ء میں جب اعتکاف کا وقت آیا تو معتکفین کی تعداد پہلے سے دوگنی ہوگئی کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں جا سکتے ۔ پیار کی خوشبو پھیلتی ہے تو قلب سلیم کھنچے چلے آتے ہیں۔ گویا مرشد پاک ایسا مقناطیس ہیں جو اپنے دائرے میں آنے والے لوہے کو اپنی طرف راغب کر لیتا ہے۔ وہ روحانی تجلیات کا منبع ہیں کہ دور حاضر میں ایسے لوگوں کامل جانا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
2003 ء میں جہاں مردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں پہلی مرتبہ خواتین کے لئے بھی اعتکاف کا اہتمام کیا گیا۔ وظائف، ذکر اذکار، عبادت،خشوع و خضوع، اور محنت و ریاضت میں خواتین نے کو ئی کمی نہ چھوڑی ۔ وظائف ، پڑھائی ، شب بیداری دن بھر کے خصوصی معمولات کو بڑے ذوق و شوق سے اپنایااور فیوضات و برکات سمیٹے ۔ مردوں کے لئے مسجد میں اور خواتین معتکفین کے لئے مہمان خانے میں باپردہ اہتمام کیا گیا اور اجتماعی اعتکاف کے باوجود انفرادی طور پر پر دے لگا کر ہرایک کے لئے عبادت گاہ مخصوص کی گئی ۔
2004 ء میں معتکفین کی تعداد، جوش و خروش اور جذبوں کی شدت دیکھنے میں آئی گویا ہر لحاظ سے اعتکاف کی اعلیٰ شان اور برکتیں نظر آرہی تھیں ۔ مرشد پاک کے خطبات معرفت کے انوار و رنگ سے بھر پور ہوئے ۔ افرادکی تعداد بہت بڑھ گئی۔ نتائج پہلے سے بہت زیادہ بہتر پائے گئے۔
المختصر ہراعتکاف پہلے سے بڑھ چڑھ کر ہوتا رہا ۔ تعداد کے اعتبار سے بھی ، ذوق کے اعتبار سے بھی اور خطابات کے اعتبار سے بھی ۔ خطابات کی سی ڈیز اورکیسٹس موجود ہیں۔ لینے والوں میں علمی و قلبی استعداد بڑھتی گئی اور دینے والے نے کمی نہ کی ۔ رحمت و کرم ہر سوچھا یا رہا ۔

٭ عرس امام عالی مقام شاہ کربلاحضرت امام حسین

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دستِ یزید
حقاء کہ بنائے لاالٰہ است حسین
(خواجہ غریب نواز)
شاہِ کر بلا امامِ عالی مقام کی محبت درحقیقت اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت ہے۔ امام حسین کے فضائل و اعلیٰ مقام پربے شمار احادیث موجود ہیں۔ حضور نبی کریم نے فرمایا۔
’’حسن اور حسین تمام جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘
(رواہ ترمذی)
من احب الحسن والحسین فقد احبّنی
’’ جس نے حسنین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ ‘‘
(رواہ مشکوٰۃ)
حسنین کریمین سراپا شبیہ مصطفی تھے ۔ امامِ عالی مقام نے کر بلا کے مقام پر اپنے بیٹوں ، بھائیوں ، بھانجوں ، بھتیجوں کو جسطرح اسلام کی خاطر اللہ کی راہ میں شہادت کے لئے پیش کیا۔ قیامت تک کے لئے قربانی، وفا، تن من دھن اولاد کودین مبین کی خاطر قربان کرنے کا نام حسینیت ہو گیا۔ آپ نے قربانی کی ایک لازوال مثال قائم کر کے سمجھا دیا کہ حق اور باطل میں کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔
اہل بیت اطہارسے پیار اور محبت پیرو مرشد کی شاعری ، ان کی گفتگو ، ان کے خطابات کے ہر رنگ میں جھلکتاہے۔ ہر سال امام عالی مقام کے عرس کی تقریبات آٹھ،نو اوردس محرم الحرام کو منائی جاتی ہیں۔ آٹھ محرم الحرام کو مجلسِ قلندر دربار عالیہ میں منعقد ہوتی ہے ۔ مہمانوں کی آمد شروع ہوجاتی ہے ۔
9 محرم الحرام کو خواتین کا بڑا پروگرام منعقد ہوتا ہے جس کا اہتمام انجمن کنیزانِ قلندر کرتی ہیں۔ دور دور سے خواتین اس پروگرام میں شرکت کرتی ہیں۔ دن بھر ذکر اذکار درود و سلام جاری رہتا ہے۔ 9 محرم الحرام کی رات کو مسجد میں ختم قرآن پاک شبینہ کی صورت میں ہوتا ہے ۔ معروف حفاظ کرام کی تلاوت سے رات بھر ماحول پر نور رہتا ہے ۔
10محرم الحرام کو خصوصی بڑی تقریب کے لئے ملک بھر سے آنے والے مہمانوں کا تانتا بندھ جاتا ہے ۔ صبح9 تک میدان کھچا کھچ لوگوں سے بھر جاتا ہے ۔ لوگ ذوق و شوق سے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔ دربار عالیہ مخدوم پور سے متصل پنڈال میں صبح دس بجے سے نعت خوانی اور دروس کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ کراچی،لاہور،گجرات ، راولپنڈی ، پشاور اور ملک بھر کے مختلف علاقوںسے بھرپور تعداد میں لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ہزاروں کا مجمع اتنے منظم طریقے سے پروگرام کے اختتام تک شاملِ محفل رہتا ہے ۔ پیرو مرشد سامنے خود تشریف فرما ہوں تو مریدین اوردیگر حاضرین میں ذوق و شوق کیوں کر نہ پیدا ہو۔ واقعہ کر بلا کی حکمتیں اور واقعات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور سوز و گداز اور رقتِ قلب کی کیفیات شدت سے دیکھنے میں آتی ہیں۔
مرشد پاک ابتدا سے پروگرام کے آخر تک خود تشریف فرمارہتے ہیں۔ آخر میں مختصراً خود خطاب فرماتے ہیں۔ شاہِ کر بلا امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام سے آپ کا والہانہ پیار آپ کی گفتگو، آپ کے خطاب کے ایک ایک لفظ میں جھلکتا ہے۔ پیار اور محبت میں رنگاہوا آپ کا تازہ کلام بھی سننے کو ملتا ہے۔ مرشدِ پاک کا لباس اس دن خصوصی طور پر گنبدخضریٰ والے سبز رنگ کا ہوتا ہے اور اس پر سلسلے کے رنگ یعنی آتشی گلابی رنگ کا عمامہ عجب پر نور رنگ دیتا ہے۔ ظاہراً دونوں تیز رنگ ایسے ہیں جو بادی النظر میں عجب محسوس ہوتے ہیں۔ مگر مرشد پاک جب عرس کے دن سامنے آتے ہیں تو آپ کو جمال حبیب کا عکس پر نور بنا رہا ہوتا ہے ۔ اہلِ نظر ہی جانیں کیا بہاریں ہوتی ہیں‘ کیا انوار کے رنگ ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ !!
لوگوں کے قلب و نظر کی تسکین کے لئے تبرکات نبوی کی زیارت بھی کرائی جاتی ہے۔ رحمتِ عالم نور مجسم نبی پاک سے نسبت رکھنے والی پاکیزہ اور مطہر چیزیں دیکھنے سے بھی دل و جان کو سرور ملتا ہے ۔ ان تبرکات کی زیارت کے لئے مزارِ انوار کے سامنے موجود کمرے کو سجایا جاتا ہے ایک طرف سے عشّاق داخل ہوتے اور درود پاک پڑھتے دوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے ہیں۔

٭ میلاد النبی اوربڑی گیارہویں شریف ربیع الاوّل کے مہینہ میں منعقد ہونے والی گیارہویں شریف میں تاجدارِ کائنات ، رحمت اللعالمین احمدِ مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی کی نسبت سے جشنِ عید میلاد النبی منایا جاتا ہے ۔ گیارہویں شریف کے علاوہ اسی ماہِ مبارکہ میں چکوال کے مختلف علاقوں میں شاہِ قلندر کی زیرِ صدارت عید میلاد النبی کے حوالے سے مردوں اور خواتین کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتاہے ۔
محض ربیع الاول ہی نہیں شاہِ قلندر کی ہر محفل میں شرکت کرنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شاہِ قلندر ہر لمحہ محبوبِ کائنات رحمتِعالم نورِ مجسم کا میلاد مناتے ہوں اور ہر لمحہ ان کی یاد میں محو رہتے ہوں ۔
ربیع الثانی کے مہینہ میں چونکہ حضور سیدنا غوث الاعظم جو کہ شاہِ قلندر کے جد امجد بھی ہیں کا عرس مبارک منایا جاتا ہے اسی نسبت سے اس ماہ کی گیارہویں کو عرف عام میں بڑی گیارہویں شریف سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس نورانی محفل میں مریدین کثرت سے شرکت کرتے ہیں اور عرس کا سا سماں پیدا ہو جاتا ہے ۔ شاہِ قلندر کی کیفیات دیدنی ہوتی ہیں ۔ آپ اس روز سراپا قاسمِ فیوضاتِ غوثیہ کا مظہر بنے ہوتے ہیں اس محفل کا طرۂ امتیاز اُس دن پڑھا جانے والا ختم خواجگان ہوتا ہے۔
صحابہ اور اکابر اولیائے عظام (بغداد اور کشمیر) کے ختمات شریف پڑھ جاتے ہیں اور آخر میں حضور شاہِ قلندر ان اکابر صحابہ کرام اور اولیائے عظام کی ارواح کو ختم خواجگان کا ثواب ایصال فرماتے ہیں اور اجتماعی دعا کا اہتمام ہوتا ہے ۔ حضور شاہِ قلندر کا فرمان عالیشان ہے کہ جو اس ختم خواجگان میں حضورِ قلب سے شامل ہو گا اور ختمات کا ورد کرے گا اللہ کریم اس کے گناہوں کو بخش دے گا اس کی مغفرت کا سامان بھی ہوگا اور اس کی دلی حاجاتِ ظاہری و باطنی بھی بر آئیں گی ۔


٭ عرس اعجاز ہادی حضرت سید رسول شاہ خاکی

سلطان العارفین برہان الواصلین ، عارف ربانی محرم اسرار یزدانی ، معدن کنوز سرمدی ، مصدر برکات ایزدی ، واصل باللہ، قدوۃ العاشقین مرشدِ مجذوبان و قلندران و سالکان حضرت سید رسول شاہ خاکی کے عرس کی تقریب ہر سال 25 جمادی الاول کو بڑی شان و شوکت سے منائی جاتی ہے ۔ صبح سے ملک بھر سے قافلوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی محبت، اس کے ذکر، اس کی یاد، اس کے پیار میں فنا ہوجاتے ہیں ان کے بقا کی ایک علامت افراد کا ان کے وصال کے بعد بھی ان کو یاد کرنا، ان کا ذکر کرنا، ان سے پیار کرنا ہے۔ باقی دنیا کی ساری محبتیں فتنہ ہیں مگر اللہ کے نیک بندوں سے محبت ایسی عبادت ہے جس پر اللہ کی نعمتوں رحمتوں، برکتوں، اس کی عنایات، توجہات کا نزول ہوتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کے نیک بندوں سے پیار اللہ کی نسبت سے ہے ۔ الحب فی اللّٰہ کے ضمن میں ہے اس لئے اس پر کوئی پرسش نہیں بلکہ انعامات اور دنیوی و اخروی رحمتیں ہیں۔
مرکز انواروتجلیات مخدوم پور شریف میں ہر طرف گہما گہمی ، رونق اور میلے کا ساسماں ہوتا ہے ۔محرم الحرام میں امامِ عالی مقام شاہِ کربلا کے عرس کی تقریبات میں شہادتِ عظمیٰ کی نسبت سے سوز و گداز کا رنگ غالب ہوتا ہے اور حضرت خاکی شاہ کے عرس کے موقع پر جوش و جذبے کا غلبہ ہوتا ہے ۔ دن بھر آنے والے مہمانوں کا استقبال ، ان کے لئے چائے کھانے کا اہتمام خادمینِ دربار کے لئے امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ ہر فرد اپنی جگہ بھر پور طریقے سے فرائض کی بجا آوری کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے ۔ خواتین کے لئے حویلی کے اندر اور مردوں کے لئے لنگر خانے میں انتظام کیا جاتا ہے۔ ظہر کے بعد حویلی میں خواتین کی محفل نعت و درس ہوتا ہے ۔ صحن کھچاکھچ بھرا ہوتا ہے۔ دور درازسے آنے والی نعت خواں بچیاں بہت ذوق و شوق سے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ثنا خوانی کرتی ہیں۔ اس کے بعد درس قرآن ہوتا ہے اور سلام دعا کے ساتھ مغرب کے بعد محفل کا اختتام ہوتا ہے ۔
رات کے کھانے کے بعد باہر میدان کی طرف ہر شخص کا رخ ہوجاتا ہے ۔ خوبصورت جھنڈے ، بینرز، اسٹیج کی سجاوٹ وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں خاص بات محفل سماع کا انعقادہے ۔
محفل سماع باقاعدہ طور پر حضرت خواجہ غریب نواز نے پاک و ہند کے علاقے میں شروع کی جب آپ نے یہاں کے لوگوں میں موسیقی سے لگاؤ دیکھا اور محسوس کیا کہ یہ راگ رنگ کے دیوانے ہیں تو آپ نے تبلیغ دین کا کام انہی کے انداز میں کرنے کے لئے محفل سماع کی بنیاد ڈالی۔ سماع تفریح طبع کا نہیں بلکہ تبلیغِ اسلام کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اور وہ مجالس جو فقط تفریح ،ناچ گانے کے لئے منعقد ہوتی ہیںانھیں بزرگان دین کی محفل سماع سے ملانا بالکل غلط ہے۔
حضرت شیخ کلیم اللہ اپنی کتاب عشرات کا ملہ میں لکھتے ہیں۔
٭ محفل سماع کے ادب کا تقاضا ہے کہ باوضو شریک ہوں۔
٭ محفل سماع میں درود شریف بکثرت پڑھیں۔
٭ دوزانو ہو کر بیٹھیں ، سر ڈھانپ کر رکھیں۔
٭ ہنسی مذاق اور بات چیت سے پر ہیز کریں۔
٭ سماع کو غور سے سنیں۔
مرشد پاک شاہِ قلندر پیر مستوار خود اسٹیج پر رونق افروز ہوتے ہیں اور خوبصورت کلام، اچھے اشعار پر قوال حضرات کو دل کھول کر داد دیتے ہیں۔محفلِ سماع کاآغاز حمدِ باری تعالیٰ سے ہوتا ہے ۔ بعد میں نعت ، قصائد در شان مولا علی مشکل کشا و حسنین کریمین و حضور سیدنا غوث الاعظم اور آخر میں صوفیانہ و عارفانہ کلام پیش کیا جاتا ہے ۔جوں جوں رات ڈھلتی ہے صوفیانہ کلام کی لے قلب و روح کو جھنجوڑتی چلی جاتی ہے ۔ اور جب شاہِ قلندر پیر مستوار خود نگاہوں سے پلا رہے ہوں تو حال کیوں نہ بدلے۔ دیوانے حال کی کیفیت میں مست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ محفل سماع اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ کوئی جھوم رہا ہے۔ کوئی مست و بے خود ہے۔ کوئی دھمال ڈال رہا ہے ۔ جن کے دل عشق حقیقی سے معمور ہوتے ہیں۔ ان کے لئے یہ موقع دلوں کو بحر معرفت میں ڈبو دینے کا ہوتا ہے ۔ عامۃ الناس اپنا رنگ لیتے ہیں۔ خاص کو کیفیت
و حال نصیب ہوتا ہے اور اخص الخاص کے سامنے سے حجابات اٹھتے ہیں ۔
تجلیات و انوار ہر ایک کو حسب حال ملتے ہیں۔ رات بھر محفل جاری رہتی ہے۔ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں میں گھر ے اعتراضات میں الجھے رہتے ہیں اور معرفت و پیار سے ان کا دامن خالی رہ جاتا ہے ۔ صبح صادق کے وقت تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوتا ہے ۔ مگر پیر مستوار قلندر کی ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ کھانے پینے، آرام کا وقفہ کئے بغیر، تھکاوٹ اور پریشانی سے بے نیاز اپنے وابستگان ، مریدین اور اہل محبت کو خود انفرادی طور پر ملتے ہوئے دعا دیتے ہوئے رخصت فرماتے ہیں۔ عموماً یہ سلسلہ فجر کی نماز کے بعد بھی دیر تک جاری رہتا ہے۔

٭ ملک بھر کے دورہ جات

محبت اور پیار کا تعلق متقاضی ہے کہ ملاقات بار بار ہو۔ ملنے کے بہانے بنتے رہیں اور پیر و مرشد نگاہوں کے سامنے رہیں۔ اپنے مریدین ، وابستگان پر شفقت و کرم اور محبت مشن کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لئے پیر و مرشد خود بھی سفر کی صعوبتیں بر داشت کر تے ہوئے ملک بھر کا دورہ فرماتے ہیں۔ جس کے ذریعے مریدین کو پیر و مرشد کی سنگت بھی ملتی ہے اور مہمان نوازی کے مواقع بھی۔ لاہور میں سالانہ دس دس دن کے لئے آپ دو مرتبہ تشریف لاتے ہیں۔
عام طور پر موسمِ سرما میں شاہِ قلندر پیر مستوار کراچی تشریف لاتے ہیں اور حیدرآباد ، ٹنڈوجام کا دورہ کرتے ہوئے کراچی چند دن قیام فرماتے ہیں ۔ شب و روز سخت مصروفیت میں گزارتے ہوئے یہاں سے آپ پشاور تشریف لے جاتے ہیں ۔ پھر کامرہ ، چوا سیدن شاہ ، کھوڑ ، اور اس سے متصل موضع جات کا دورہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد راولپنڈی میں امام بری سرکار ، واہ کینٹ ، ہری پور کے علاقوں کا دورہ کرتے ہیں ۔ ہر جگہ دن رات محافل ، تربیتی نشستیں ، ملاقاتیں ، لوگوں کے مادی روحانی مسائل کو حل کرنے میں سخت مصروفیت میں وقت گزارتے ہیں ۔پھر سرگودھا ، خوشاب ، میانوالی، پنڈی سید پور، پھلروان ، عبد اللہ پور ، گجرات کے مختلف موضع جات ، اس کے علاوہ لالہ موسیٰ ، دینہ ، سرائے عالمگیر اور آزاد کشمیر کے مختلف موضع جات کا آپ دورہ کرتے ہیں ۔برنالہ ، بھمبر ، ابو والہ گاؤں سے ملحقہ موضع جات اور مظفر آباد (کشمیر) د و دن یوںآپ مستقل سفر میں رہتے ہوئے صبح سے رات گئے تک تقریباً (28) اٹھائیس جگہوں کا دورہ فرماتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہاولپور ، شجاع آباد ، میلسی اور میاں چنوں اور پھر لودھراں ، ملتان ، وہاڑی ، اٹک ، چیچہ وچنی ، کمالیہ ، سمندری ، جھنگ اور دیپالپور سے ملحقہ موضع جات اور چکوال کے مقامی مختلف موضع جات کا دورہ کیا جاتا ہے ۔ مستقل سفر کی وجہ سے آپ جناب کی طبیعت بھی ناساز رہتی ہے ۔مگر اس کے باوجود آپ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ملک بھر کے دورہ جات کا اہتمام فرماتے ہیں ۔ صرف اس خیال سے کہ جو ذمہ داران جگہوں پر کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے دکھ سکھ میں بھی شرکت رہے ۔

٭ خلفاء کے لئے نظامِ تربیت و ہدایت

مندرجہ بالا تمام امور وہ تھے جن سے عوام الناس، مریدین اور وابستگان فیضیاب ہو رہے ہیں۔ رب العالمین کا ارشاد پاک ہے۔
فضلنا بعضھم علی بعض
’’ ہم نے بعضوں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ۔‘‘
اس دنیا میں موجود ہر شخص کا اپنا اپنا دائرہ عمل ہے ۔ ہر ایک کے حالات، اس کی تربیت مختلف جگہوں مختلف افرادکے ذریعے ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر شخص کی اہلیت، صلاحیت کردار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ حسب، نسب، کسب بھی ایک شخص کی استعداد و اہلیت اور قوت و صلاحیت پر اثر انداز کرتے ہیں۔ پیر و مرشد شاہ قلندر پیر مستوار نے جن افراد کو ان کی خصوصی اہلیت ، قابلیت اور استعداد
قلبی و باطنی کو دیکھتے ہوئے خلفاء نامزد کیا ہے ان کے لئے تربیت کا نظام بھی عوام الناس سے مختلف رکھا ہے ۔ ان کے لئے مجاہدے اور ریاضتیں زیادہ درکار ہوتی ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری صرف ذاتی کردار کو درست کرنا نہیں بلکہ ایک دنیا کے لئے رشد و ہدایت کا کام کرنا ہے ۔

خصوصی اور اد و وظائف

خلفاء کو زیادہ سے زیادہ ذکرِ الہٰی کے رنگ میں رنگنے کے لئے خصوصی اوراد و وظائف دیئے جاتے ہیں جو روزانہ کے معمولات میں ہوتے ہیں۔ ان اوراد و وظائف کی زکوٰتیں نکلوائی جاتی ہیں اور مرشد پاک کی خصوصی اجازت سے پڑھے جاتے ہیں۔ ان اوراد و وظائف کی تاثیرات ، ثمرات اور بر کات بہت خاص ہوتی ہیں اور جب استقامت کے ساتھ ہر روز کے معمول میں ان وظائف کو پڑھا جاتا ہے تو انوار ذکر کی بدولت قلب اور چہرہ پر نور ہوتا چلا جاتا ہے۔ زبان میں ، بیان میں تاثیر آتی ہے ۔ مرشد کی عین مطابقت میں خلفاء رہیں تو زبان مانند شمشیر ہوجاتی ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ خلفاء بھی کوئی بات کہہ دیں تو وہ بات پوری ہوجاتی ہے۔
اوراد و وظائف خلفاء کے ظاہری کام کو دیکھتے ہوئے باطنی نعمت کے طور پر دیئے جاتے ہیں۔ جس فرد کی جو ظاہری باطنی ذمہ داری ہو اس کے مطابق اورادو وظائف کرائے جاتے ہیں۔
پہلے زمانے میں ان وظائف کے لئے مخلوق سے کنارہ کش کراتے ہوئے جنگلوں بیابانوں میں بھیجا جاتا تھا تاکہ ایک مخصوص یکسوئی کا ماحول مل سکے جس میں یہ وظائف کئے جائیں ۔ پھر جلالی و جمالی پرہیز کراکے ان کی زکوٰۃ کی تکمیل کرائی جاتی تھی۔ یہ جلالی و جمالی پرہیز سے مراد کھانے پینے کی بہت سی حلال اشیاء کو بھی ترک کر دیا جاتا تھا تاکہ ان وظائف کے اثرات سیدھے قلب پر پڑیں۔ مگر اب زندگی کے بدلتے اطوار اور تیز رفتاری ہر ایک کی زندگی کی تیز دوڑ دھوپ اور اتنے تحرک میں یہ سب کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ پرانے وقتوں کے ان سارے تقاضوں کو نبھا سکیں صرف پیرو مرشد کی نگاہِ کرم سے سارے خلفاء کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔
کچھ خلفاء کو دم کی اجازت ہے انھیں اس سے متعلق و ظائف دیئے جاتے ہیں۔ کچھ کو تعویذات کی اجازت ہوتی ہے ان کے وظائف اس سے متعلق ہوتے ہیں تاکہ جس جس پیمانے کی ظاہری اور باطنی ڈیوٹی ہوگی اسی کے مطابق خلفاء کو روحانی طاقت مل سکے اور وہ کام کو بہتر طریقے سے کر سکیں۔

مجاہدے و ریاضتیں

اللہ رب العالمین قرآن مجید میں انسانوں کی آزمائشوں کا ذکر یوں فرماتے ہیں۔
ولنبلو نکم بشی ء من الخوف والجوع و نقص من الاموال والا نفس والثمرات
’’ اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں
اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ۔‘‘
(البقرۃ ۔ 155 )
روحانی نظام میں اس آیت کی عملی تفسیر شیخ لے رہا ہوتا ہے ۔ اور چونکہ خلفاء کو خصوصی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس لئے ان کی آزمائشیں بھی کڑی ہوتی ہیں کہ سونا بھٹی میں ڈل کر کندن بنتا ہے ۔ دانہ گرمی کو سہتا ہے اور گل و گلزار بنتا ہے ۔ یہ امتحان اور یہ آزمائشیں خواھشوں، ارادوں، آرزوؤں کے ساتھ ساتھ رزق میں تنگی یاکشادگی کے ذریعے بھی ہوتی ہیں اور ان آزمائشوں کا مقصود اپنی خواہشوں اور ارادوں کو ارادہ شیخ میں فنا کر دینا ہوتا ہے ۔ ارادہ شیخ دراصل منشاء ایزدی ہوتا ہے ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.