ہر
وہ کام جو اپنی
ذاتی، نفسانی،
مادی خواہشات
کو ترک کرکے
فقط اللہ و
رسول یا شیخ
کی رضا اور
خوشنودی کے
لئے کیا جائے
مجاہدہ کہلاتا
ہے ۔ کیونکہ
شیخ کا مقصود
اپنے وابستگان
کو صراطِ مستقیم
پر چلانااور
منزل مقصود
تک پہنچانا
ہوتا ہے ۔ شیخ
کی اپنی کوئی
ذاتی غرض نہیں
ہوتی ۔ ہر کاوش،
محنت ، ریاضت
جو عشقِ حقیقی
میں ڈوب کر
کی جائے مجاہدہ
ہی ہوتی ہے
۔ شاہِ قلندر
پیر مستوار
اپنے خلفاء
کو مختلف امتحانات
اور ریاضات
کی بھٹی سے
گزارتے رہتے
ہیں۔ کبھی
ان کی پسند
اور خواہشات
کو رد کرتے
ہوئے، کبھی
کوئی ایسا
حکم صادر کرتے
ہوئے جو ظاہراً
ان کی طبیعت
پر گراں گزر
رہا ہو یا کبھی
ان کے کسی عمل
پر ان کی سرزنش
کرتے ہوئے۔
ہر ایک کے لئے
آزمائش مختلف
ہوتی ہے ۔
صوفیاء کی
تاریخ ایسے
واقعات سے
بھری پڑی ہے
جہاں خاص مریدین
کی نفس کشی
کے لئے کبھی
ان سے بھیک
منگوائی جاتی
رہی اور کبھی
بھوک پیاس
کی کئی صورتوں
کے ذریعے آزمایا
جاتا رہا ۔کبھی
پسندیدہ چیز
لے کر اور نا
پسندیدہ چیز
کو برداشت
کرنے کی عادت
ڈالتے ہوئے
تاکہ نفسِ
امارہ کو اتنا
دبایا اور
مٹادیا جائے
کہ مغلوب ہوجائے
اور حقیقی
محبت سے سرشار
ہوکر نفس مطمئنہ
بن سکے۔ سمجھدار
اور با شعور
خلفاء اپنے
مرشد پاک کی
طرف سے ڈالے
گئے ہر امتحان
میں سر خرو
ہوتے ہیں کہ
وہ جانتے ہوتے
ہیں۔
تندیِ ء بادِ
مخالف سے نہ
گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی
ہے تجھے اونچا
اڑانے کے لئے
یہ مجاہدے
اور ریاضتیں
خلافت دینے
سے پہلے بھی
کرائی جاتی
ہیں اور خلافت
دینے کے بعد
بھی ۔ نظم و
ضبط میں سستی
کی ہر گز اجازت
نہیں ہوتی
۔ خلیفہ بننے
کے بعد بھی
عین ممکن ہے
کہ شیطان بہکا
دے۔ ایسی صورتوں
میں نوٹس سختی
سے لیا جاتا
ہے۔
انفرادی ہدایات
اپنے
خلفاء اور
خاص لوگوں
سے پیر و مرشد
کی محبت اور
پیار بھی بڑا
والہانہ ہے
۔ ان لوگوں
کی آمد پر مرشدِ
پاک کے چہرۂ
پر نور پر کھلتا
تبسم اور خوشی
کے رنگ ان لوگوں
سے خصوصی تعلق
کا اظہار کر
رہے ہوتے ہیں۔
اور یہ سنتِ
رسولِ خدا
کے عین مطابق
ہے ۔
یہ خلفاء کرام
کسی مادی ،
انتظامی، باطنی
مسائل و پریشانی
کا شکار ہوں
تو ان کو خصوصی
طور پر مرشدِ
پاک انفرادی
اہمیت اور
وقت دیتے ہوئے
ان کے مسائل
کو حل کرتے
ہیں۔ ان کو
خصوصی طور
پر ٹیلی فون
کے مقررہ اوقات
کے علاوہ بھی
فون پر رابطے
کی سہولت رہتی
ہے اگر یہ لوگ
بنفسِ نفیس
مخدوم پور
شریف آئیں
تو انفرادی
ملاقات کا
شرف بھی ملتا
ہے اور مرشد
پاک سے خاص
ہدایات لیتے
ہوئے اپنے
مسائل کا بہترین
حل پالیتے
ہیں۔ اس کے
علاوہ شاہِ
قلندر اگر
مجمع میں بھی
گفتگو فرما
رہے ہوں تو
ہر ایک کو اس
میں ہدایات
اس طرح سے دے
دیتے ہیں کہ
سب اپنی اپنی
خوراک لے کر
اطمینان و
سکون حاصل
کرتے ہیں۔
خلفاء کو دین
اور سلسلے
کے مزید فروغ
کے لئے جو ذمہ
داری سونپی
گئی ہوتی ہے
اس سلسلے میں
آنے والے مادی
، ظاہری ، روحانی
مسائل کا حل
بڑی حکمت عملی
سے شاہِ قلندر
تجویز فرماتے
ہیں تاکہ اس
راہِ حق کے
مسافر کے راستے
میں آنے والی
ہر رکاوٹ کو
دور کیا جا
سکے۔ چونکہ
خلفاء کی ڈیوٹیاں
پاکستان بھر
کے مختلف علاقوں
میں ہیں۔ کسی
کی ذمہ داری
شہر میں اور
کسی کی گاؤں
میں ہوتی ہے
اور ہر جگہ
کا ماحول ،
حالات، ثقافت
اور تہذیب
و تمدن مختلف
ہوتا ہے۔ ان
ساری باتوں
کو مدنظر رکھتے
ہوئے ہر خلیفہ
کے لئے ہدایات
انفرادی اور
مختلف ہوتی
ہیں۔ کہیں
لوگ پیار سے
بہتر سمجھتے
ہیں اور کہیں
سختی کی ضرورت
پڑتی ہے ۔ اس
کے مطابق لائحہ
عمل شاہِ قلندر
تجویز فرماتے
ہیں۔
چلہ کشی
چلہ مخصوص
دنوں کا ارادہ
کر کے مخلوق
سے کنارہ کشی
اختیار کرتے
ہوئے کبھی
تو مخصوص و
ظائف پڑھتے
ہوئے خلوت
میں کیا جاتا
ہے اور کبھی
خلوت کی حدود
و قیود اٹھا
کر جلوت ہی
میں چلہ کروایا
جاتا ہے ۔ یہ
تین دن، سات
دن اکیس دن
یا چالیس دن
کا بھی ہو سکتا
ہے اور یہ سنتِ
اولیاء ہے
کہ وہ نفس کشی
کے لئے جائز
اور حلال چیزوں
کو ترک کر تے
ہوئے تلاشِ
حق اور اپنے
مرشد کے حکم
کی بجا آوری
میں مخصوص
چلے کرتے تھے۔
چلے کی مخصوص
نوعیت یا شکل
نہیں ہوتی
۔یہ حسبِ حال
اور حسبِ ضرورت
کرائے جاتے
ہیں۔
بس خلیفہ کو
جو روحانی
استعداد دی
جاتی ہے ضرورت
پڑنے پر اسی
کے مطابق چلہ
کرایا جاتا
ہے ۔ یہ یاد
رہے کہ فیضانِ
مرشد محض چلہ
کشی کا محتاج
نہیں۔مرشد
چاہے تو کسی
کو محض توجہ
سے وہ سب عطا
کر دے جو چلہ
سے بھی نہ مل
پائے۔ چلہ
کی کئی صورتیں
ہیں ۔ مخصوص
جگہوں پر بھی
بٹھایا جاتا
ہے ۔ گھروں
پر شرائط اور
ہدایات دے
کر کرایا جاتا
ہے ۔ بعض اوقات
مخصوص ایام
مثلاً رمضان
کا اعتکاف،
محرم الحرام
میں عاشورہ
سے متصل سات
یوم آستانے
پر چلے کے لئے
مخصوص کرلئے
جاتے ہیں۔
تاکہ پاکیزہ
روحانی ماحول
مرشد کی قربت
اور براہِ
راست نگاہِ
فیض سے چلہ
کش زیادہ سے
زیادہ فیضیاب
ہوسکے۔
خواب
انبیائے کرام
کے خواب وحی
الہٰی ہوتے
تھے اور وہ
خواب میں جو
حکم پاتے اس
پر عملدرآمد
کرتے۔ حضرت
ابراہیم علیہ
السلام کا
حضرت اسماعیل
علیہ السلام
کو قربانی
کے لئے پیش
کرنا خواب
ہی کے حکم پر
عمل کرنا تھا۔
عام لوگوں
کے لئے خواب
حجت نہیں ہوتے۔
کیونکہ کئی
وجوہات، کئی
اسباب ، کئی
نفسیاتی باتیں
عام فرد کے
خوابوں پر
اثر انداز
ہوتی ہیں۔
عام لوگوں
کے لئے اچھا
خواب ان کی
نیکیوں کی
قبولیت کی
نوید ہوتا
ہے اس پر شکر
ادا کرنا چاہیے
اور کوئی برا
خواب آئے تو
صدقہ کرنا
چاہیے اور
اللہ کی بارگاہ
میں محبوب
پاک کے وسیلہ
جلیلہ سے دعا
کرنی چاہیے
۔
سلطان العارفین
فرماتے ہیں
کئی جاگن کئی
جاگ نہ جانن
کئی جاگدیاں
وی گئے سُتے
ہو
کئیاں نوں
رب سُتیاں
ملیا
کئی جاگدے
وی گئے پُٹھے
ہو
فقراء ، صوفیاء
، قلندری لوگ
جورب کے ہوجاتے
ہیں جاگتے
ہیں تو مجاہدے
اور ریاضتیں
کرتے ہیں۔
سوتے ہیں تو
مشاہدے میں
چلے جاتے ہیں۔
ان کا روحانی
رابطہ ملائِ
اعلیٰ سے قائم
ہوجاتا ہے
۔ جسمانی رابطہ
دنیا سے کمزور
ہوا اور باطنی
قلبی رابطہ
اپنے مولا
سے جڑ گیا کہ
ان کا انگ انگ
مولا سے لگا
ہوتا ہے ۔ ان
اولیائے کرام
کے معتقدین
، متوسلین
خلفاء اور
خاص افراد
کو بھی یہ مقام
مل جاتا ہے
کہ اپنے شیخ
سے رابطے کی
مضبوطی کی
بناء پر کسی
مادی یا روحانی
مسئلے کا حل
چاہیں تو خواب
میں مل جاتا
ہے کہ روحانیت
میں ہدایات
مادی ذرائع
کی محتاج نہیں
ہوتیں۔ خواب
کے ذریعے بھی
ہدایات مل
جاتی ہیں اور
اگر غلطی کر
رہے ہوں تو
اس پر تنبیہ
بھی خواب کے
ذریعے کر دی
جاتی ہے۔ خواب
میں صاف طور
پر چیزیں نظر
آجاتی ہیں
اور ان کا معنی
و مفہوم خلفاء
بہتر طور پر
سمجھ رہے ہوتے
ہیں۔
اشارات
مادی طریقوں
کے برعکس روحانی
نظام میں شیخ
اپنے خلفاء
کے باطن، قلب
پر تصرف رکھتاہے
اور اسی تصرف
کے ذریعے ان
کی رہبری اور
رہنمائی بھی
کرتا ہے ۔
بعض خلفاء
کی کیفیت یہ
ہوتی ہے کہ
تصور شیخ میں
مضبوطی اور
پختگی کی وجہ
سے شیخ کے افعال
اور خیالات
براہِ راست
ان میں منتقل
ہوتے رہتے
ہیں۔ جن سے
استفادہ کرتے
ہوئے وہ اپنی
راہوں کو متعین
کرتے چلے جاتے
ہیں۔
روحانی اشارات
کے ذریعے بھی
خلفاء کو سمجھا
دیا جاتا ہے
۔ چلتے پھرتے
کچھ چیزوں
یا باتوں کے
ذریعے کچھ
ہدایات دے
دی جاتی ہیں
کہ
عاقل را اشارہ
کافی است
اچانک کسی
بات پرکسی
عقدے کا حل
مل جانا، دل
پر ظاہری مفہوم
کے بجائے اصل
تعبیر کا القا
ء ہو جانا،
کسی معاملے
کی طرف توجہ
کا مرکوز ہوجانا،
دل کا میلان
اور شرح صدر
کا حاصل ہوجانا۔
یہ سب اشارات
کی مختلف صورتیں
ہیں۔ خلفاء
ان اشارات
کے ذریعے حقیقی
مفہوم اور
تعبیر سمجھ
جاتے ہیں۔
یہ بات جاننا
اور سمجھنا
ضروری ہے کہ
ہر قسم کی باطنی
رہبری اور
رہنمائی خواہ
خواب کے ذریعے
ہو،اشارات
کے ذریعے یا
مراقبے کے
ذریعے اگر
اس میں کچھ
ابہام یا شک
پایا جائے
یا مفہوم و
تعبیر میں
مشکل پیش آرہی
ہو تو خلفاء
فوراً بذریعہ
ٹیلی فون شیخ
سے رابطہ کرتے
ہیں اور شیخ
ان اشارات
کی توضیح و
تعبیر فرمادیتے
ہیں۔ جس سے
تمام شکوک
رفع ہوجاتے
ہیں۔
مراقبہ
روحانی نظام
میں مراقبے
کے ذریعے یکسوئی
اور باطنی
قوت کو بڑھایا
جاتا ہے ۔ کیونکہ
دنیا سے بے
رغبتی اور
اپنے پیر و
مرشد کی طرف
یکسوئی انسان
کو حقیقت میں
سلطنتِ فقر
میں لے جاتی
ہے اور انسان
معرفت کے راز
کو پانے کے
قابل ہوجاتا
ہے ۔ مراقبے
میں مخصوص
طریقے سے نشست
لے کر تصور
شیخ کے ذریعے
آنکھیں بند
کر کے باطنی
آنکھ کی بینائی
سے کام لیاجاتا
ہے۔ مراقبے
کی کئی صورتیں
ہوتی ہیں۔
شیخ جس کو جس
طرح کے مراقبے
کی اجازت دے
اس کے ذریعے
اپنے باطن
میں جھانک
کر رہبری اور
رہنمائی لی
جاتی ہے ۔ تنہائی
میں بیٹھ کر
ذکر کرنا اور
ذکر کے بعد
سوچنا بھی
ایک صورت ہے
۔ اللہ رب العزت
کسی کی ظاہری
آنکھ کے پر
دے اٹھا کر
باطنی آنکھ
روشن کردیتا
ہے تو شیخ کا
فیضان بصورت
کشف ظاہری
یا کشف باطنی
بھی خلفاء
کی رہنمائی
کرتا ہے اور
جس طرح کی خلفاء
کی ذمہ داریاں
ہوتی ہیں ان
ذمہ داریوں
کو مد نظر رکھتے
ہوئے مختلف
مراقبوں کی
اجازت دی جاتی
ہے ۔ بعض اوقات
اپنی کیفیات
کے اتار چڑھاؤ
اور قبض کے
ذریعے بھی
خلفاء کو متوجہ
اور متنبہ
کیا جاتا ہے
۔ بیت اللہ
شریف، مدینہ
پاک کا تصور
کیا جاتا ہے
مراقبہ نور
بھی کیا جاتا
ہے ۔ چونکہ
روحانی نظام
کا مرکز شیخ
ہوتا ہے ۔ شیخ
سے جتنا ظاہری
و باطنی رابطہ
تعلق مضبوط
ہوگا اتنی
ہی واضح ہدایات
مختلف ذریعوں
سے پہنچتی
رہیں گی ۔ مراقبے
کی جس کو شیخ
اجازت دے صرف
اسی کرنا چاہیے
اور جو صورت
بتائے اسی
طرح کرنا چاہیے
۔ اس سے نورانی
کیفیات نصیب
ہوتی ہیں۔
تادیبی کاروائی
(خلفاء کی غلطیوں
پر تادیبی
کاروائی)
خلفاء کو اہلیت
و صلاحیت اور
مختلف مجاہدوں
ریاضتوں کی
بھٹی سے گزرنے
کے بعد خلافت
دی جاتی ہے
اور اسے ہی
ملتی ہے جو
کسی مقام پر
ہوتا ہے۔ یہ
مرشد ہی جان
سکتا ہے کہ
کون کس اہلیت
وصلاحیت کا
حامل ہے ۔ اب
شاہِ قلندر
نے نظامِ خلافت
کے متوازی
ناظمین کا
نظام اسی لئے
متعارف کرایا
ہے کہ مشن اور
سلسلے کا کام
کرتے کرتے
ان ناظمین
میں جو اہل
ثابت ہوگا
اس کو خلیفہ
بنایا جائے
گا۔
شیطان ہر لمحے
انسان کے ساتھ
لگا رہتا ہے
۔ اگر خلفاء
شیطان کے حملے
کا شکار ہوجائیں،
غفلت ، سستی
یا اپنی ذمہ
داریوں کو
صحیح طریقے
سے ادا نہ کریں۔
رابطۂ شیخ
میں کمزوری
دکھائیں یا
کسی اور برائی
کا شکار ہوجائیں
تو پیر و مرشد
ایسی باتوں
کا
سختی سے نوٹس
لیتے ہیں۔
انھیں سزا
بھی دی جاتی
ہے ۔ اعتماد
اٹھ جائے تو
جلدی بحالی
نہیں ہوتی
۔ روحانی نظام
دنیاوی نظام
سے مختلف ہوتا
ہے۔ دنیا میں
سزا سے مراد
قید اور کوڑے
لئے جاتے ہیں۔
جبکہ روحانی
نظام میں اپنے
مقام و مرتبے
سے گر جانا،
خلافت کا ساقط
ہوجانا ، باطنی
طور پر دستارِ
خلافت سے محروم
ہوجانا مادی
اور
روحانی مسائل
کا شکار ہوجانا،
کاموں کا رک
جانا ، ہر عمل
کا الٹا ہوجانا
سزا کی مختلف
صورتیں ہوتی
ہیں۔ اور خلفاء
کو صاف اور
واضح پتہ چل
جاتا ہے کہ
پیر و مرشد
کی طرف سے تادیبی
کاروائی ہے
اور ان کے غلط
عمل پر بطور
سزا ہے ۔
باب ہشتم
اسلام اور
خواتین
انسانی تاریخ
میں عورت کی
اہمیت ہر دور
ہر زمانے میں
مسلمہ رہی
ہے۔ عورت انسانی
معاشرے کی
روحِ رواں
تھی اور ہے
۔ بلکہ انسانی
معاشرہ عورت
ہی کے دم سے
قائم و دائم
ہے۔ مرد کو
تہذیب یافتہ
عورت بناتی
ہے ۔ آدابِ
زندگی عورت
سکھاتی ہے
۔ ہر تہذیب
، ہر معاشرے
، ہر قوم اپنی
اقدار کی حفاظت
اور اسے اگلی
نسلوں میں
منتقل کرنے
کے لئے عورت
کی محتاج رہی
ہے ۔ عورت اگر
چاہے تو کتنے
مردوں کو جنتی
بنادے اور
اگر اپنے کر
دار و عمل میں
پستیوں کا
شکار ہو جائے
تو کتنے ہی
افراد کو جہنم
میں دھکیل
دینے کا سبب
بن جائے۔
تاریخ پر نگاہ
ڈالیں تو پتہ
چلتا ہے کہ
اسلام سے قبل
جتنے مذاہب
، معاشرے اور
قومیں تھیں
کہیں بھی نہ
عورت کو صحیح
عزت و مقام
دیا گیا نہ
ہی اسے اس کی
ذمہ داریوں
اور فرائض
کی آگہی دی
گئی۔ بیٹیوں
کو پیدا ہوتے
ہی زندہ دفن
کردیناعورت
کوجنت سے نکالے
جانے کا مؤجب
ٹھہرانا، شوہر
کی وفات پر
عورت کو زندہ
جلا دینا،
سازو سامان
کی طرح عورت
کی خریدو فروخت
کو جائز سمجھنا
، اسے برائیوں
اور مصائب
کی بنیاد قرار
دینا۔ ظلم
و ستم کا نشانہ
بنائے رکھنا
، فحاشی کا
ذریعہ سمجھنا‘
یہ سب مختلف
صورتیں ہیں
جن سے پتہ چلتا
ہے کہ عورت
عزت اور وقار
سے محروم انتہائی
ناگفتہ بہ
زندگی گزار
رہی تھی۔ اگر
تاریخ میں
کسی عورت نے
اپنے حسن و
جمال کا منفی
استعمال کیا
اور مردوں
میں لڑائی
، جنگوں کا
سبب بھی بنی
تب بھی عزت
اور وقار سے
محروم رہی۔
یہ ہادی ء برحق،
محبوب کائنات
، خاتم النبیین
، رحمۃ اللعالمین
رسول خدا کی
تعلیمات، آپ
علیہ الصلوٰۃ
والسلام کا
عملی کر دار،
آپ کا انسانی
معاشرے پر
احسانِ عظیم
ہے کہ وہ معاشرہ
جو عورت کا
مرہونِ منت
ہے اس معاشرے
میں پہلی بار
عورت کو عزت
و وقار کے اعلیٰ
مرتبے سے نوازاگیا
اور یہاں تک
کہ بعض جگہوں
پر عورت کو
مرد پر بھی
فضیلت عطا
فرماتے ہوئے
اس کو بلندیوں
سے نوازا۔
اللہ سبحانہ‘
وتعالیٰ نے
ارشاد فرمایا:
لقد خلقنا
الانسان فی
احسن تقویم
ترجمہ: ’’ہم نے
انسان کو بہترین
صورت پر تخلیق
کیا۔‘‘
جب یہ اعلان
فرمایا تو
گویا عورت
کو بھی انسانیت
کا اعلیٰ لبادہ
دیتے ہوئے
احسن تقویم
قرار دیا اور
مرد کے برابر
لاکھڑا کیا۔
ایک اور جگہ
ارشاد ہوا۔
یہاں بھی مرد
اور عورت میں
تخصیص نہ کی
گئی اور دونوں
کی تخلیق کا
ذکر ایک ہی
انداز سے کیا
گیا۔ اور جب
تقویٰ اور
پرہیز گاری
کی بنیاد پر
قرب الہٰی
عطا ہونے کے
انعامات کا
ذکر کیا گیا
تو ارشاد ہوا۔
ان اکر مکم
عنداللّٰہ
اتقٰکم
ترجمہ: ’’بے شک
اللہ کے نزدیک
تم میں سے زیادہ
مکرم وہ ہے
جو زیادہ تقویٰ
والا ہے ۔ ‘‘
یہاں بھی عمومی
اعلان فرمایا
کہ جو بھی زیادہ
تقویٰ ، نیکی،
محبت اور خشیت
اختیار کرے
گا وہ اللہ
کے قرب، اللہ
کی محبت کا
حقدار ہوگا
خواہ وہ مرد
ہے یا عورت
اور تاریخِ
اسلام اپنی
خواتین کے
تذکروں سے
بھر ی پڑی ہے
جو نیکی، پارسائی،
کر دارو عمل
میں کروڑوں
مردوں پر سبقت
لے گئیں۔
وہ جنت جس کی
خوشخبریاں
قرآن مجید
میں کئی مقامات
پر نیک لوگوں
کو دی گئی ہیںجو
اخروی زندگی
میں اللہ کا
انعام ہے ۔
جس کے لئے رات
دن عبادات
کی جاتی ہیں،
روزے رکھے
جاتے ہیں،
گناہوں سے
بچا جاتا ہے
زندگی بھر
محنت و ریاضت
کی جاتی ہے
۔ سرکار دو
عالم، احمدِ
مجتبیٰ، محبوبِ
خدا نے اس جنت
کے حصول کا
سبب عورت کو
قرار دیتے
ہوئے بتایا
کہ اگر عورت
ماں کے روپ
میں ہے تو
الجنۃ تحت
اقدام الامھات
ترجمہ: ’’جنت
ماں کے قدموں
تلے ہے۔‘‘
(الحدیث)
عورت بیوی
کے روپ میں
ہے تو کلامِ
الہیٰ نے بتلایا:
ھنّ لباس لکم
وانتم لباس
لھن
ترجمہ: ’’ وہ تمہارا
لباس ہیں اور
تم ان کا لباس
ہو ۔‘‘
عورت کومردوں
کی طرح لباس
کے فوائد کا
حامل قرار
دیاجو پردہ
بھی ہوتا ہے
اور گرمی سردی
سے بھی محفوظ
رکھتا ہے ۔
عورت مرد کے
عیبوں پر پردہ
ڈالنے والی،
دکھ سکھ میں
ساتھ دینے
والی ہوتی
ہے ۔ حضور نے
فرمایا:
’’جنت بیوی سے
حسنِ سلوک
میں ہے۔‘‘
عورت بیٹی
ہے تو آقا و
مولیٰ رسول
نے اپنی دو
انگلیوں کے
اشارے سے بتلایا
کہ:
’’دو بیٹیوں
کی بہترین
پرورش کرنے
والا شخص قیامت
میں میرے
اس قدر قریب
ہوگا جس طرح
یہ دو انگلیاں۔‘‘
ہر معاشرے،
ہر تہذیب ،
ہر قوم کی بنیادی
اکائی ایک
فردہے اور
چند افراد
پر مشتمل ایک
خاندان ایک
گھر ہوتا ہے۔ہر
فرد کی پہلی
معلّم، پہلی
مدرس اس کی
ماں ، ایک عورت
ہوتی ہے۔ ہر
گھر، ہر خاندان
ایک عورت کی
بنیاد پر قائم
ہوتا ہے ۔ ایک
مفکر کا قول
ہے ۔
’’ تم مجھے اچھی
مائیں دو،
میں تمہیں
اچھی قوم دوںگا۔‘‘
گویا کہ ایک
اچھی قوم کی
بنیاد ایک
اچھی ماں ہے۔
یہ جہاں ایک
عورت کے لئے
اعزاز و اکرام
ہے وہاں عورت
کے لئے منصبِ
ذمہ داری بھی
ہے ۔ اگر عورت
اپنی ذمہ داریوں
کو صحیح ادا
نہ کرے تو گھر
ٹوٹنے لگتے
ہیں، خاندان
بکھرنے لگتے
ہیں، نفرتوں
اور عداوتوں
کی ایسی آندھیاں
اور طوفان
اٹھتے ہیں
کہ پورے معاشرے
اور قوم کو
کھو کھلا کر
دیتے ہیں۔
علامہ اقبال
نے عورت کی
اہمیت کو شعری
رنگ میں یوں
ڈھالا۔
وجودِ زن سے
ہے تصویرِ
کائنات میں
رنگ
اسی کے ساز
سے ہے زندگی
کا سوز دروں
اسلام کے عقائد،
ارکان ، اعمالِ
صالحہ پر نظر
دوڑائی جائے
تو وہ مرد اور
عورت کے لئے
یکساں ہیں۔
کلمہ ، نماز،
روزہ ، حج،
زکوٰۃ قیامِ
لیل ، توبہ
، خشیت ، محبت
، زہدو ورع
، سخاوت، نفع
بخشی المختصر
ہر حکم مرد
اور عورت کے
لئے یکساں
ہے۔ اور قرآن
مجید میں جب
بھی حکم دیا
جاتا ہے تو
ارشاد ہوتا
ہے ۔
یآ ایّھا الّذین
آمنو۔۔۔
’’اے ایمان والو۔۔۔‘‘
اس پر بھی غور
کریں تو ایمان
والوں میں
مرد اور عورت
یکساں طور
پر شامل ہیں۔
سارے عظیم
مرد ، سارے
بزرگانِ دین،
سب شہداء ،
سب رہنماء،
کسی عورت کے
زیرِ تربیت
ضرور رہے ہوتے
ہیں۔ بقول
شاعر
بتولے باش
و پنہاں شو
ازیں عصر
تادر آغوش
شبیرے بگیری
ترجمہ:’’ تو مثل
بتول یعنی
سیدہ خاتون
جنت حضرت فاطمۃ
الزہرا کی
طرح
بن اور اس زمانے
کی نگاہوں
سے اوجھل ہوجا۔
چھپ جا تاکہ
تیری گود میں
شبیر (حضرت
امامِ حسین
علیہ السلام
کا لقب) جیسے
فرزند، ان
جیسی عظیم
شخصیت
پر وان چڑھ
سکے۔ ‘‘
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>