تاریخِ
اسلام اور
عظیم خواتین
قرآن مجید
اور احادیث
نبوی میں کتنی
ہی خواتین
کا ذکر ملتا
ہے ۔ ان کی نیکی،
پاکدامنی،
اور متقی ہونے
کی گواہی دی
گئی،کسی کی
خصوصی صلاحیتوں
، ذہانت و فطانت
کو سراہا گیااور
ان کے کارہائے
نمایاں پر
ان کی حوصلہ
افزائی بھی
کی گئی ۔
اسلام دینِ
فطرت ہے۔ اعتدال
اور میانہ
روی اسلام
کے ہر حکم میں
نظر آتی ہے۔
اسلام نے اگر
عورت کے لئے
گھر کو مرکزِ
نگاہ بنایا،
افضل قرار
دیا تو ضروریاتِ
زندگی کے لئے
اسے چار دیواری
میں مقید نہ
کیا بلکہ باہر
نکلنے اور
کام کرنے کی
اجازت مرحمت
فرمائی۔ اس
کی عزت اور
وقار کے لئے
پردے کا حکم
فرمایا تو
دوسری طرف
گھر کی چار
دیواری میں
زیب و زینت
، رنگوں ، سونے
چاندی ریشمی
لباس کو اس
کے لئے جائز
اور مختص کیا
گیا۔ روزی
کمانے کی ذمہ
داریوں سے
اسے مستثنیٰ
قرار دیا۔
چادر اور چار
دیواری عورت
کی حفاظت اور
اس کا اعزاز،
اس کے حسن و
جمال کو محفوظ
کرنے کے لئے
ہے جس کا غیر
مسلموں نے
غلط استعمال
کیا۔
غزوات میں
عورتوں کی
شرکت، زخمیوں
کے علاج ، ان
کو پانی پلانے
کی ذمہ داری
، ضرورت پڑنے
پر ہتھیار
اٹھا کرکافروں
سے دو بدو مقابلہ
کرنے، باقاعدہ
جہاد میں حصہ
لینے ، حج اور
عمرے میں شرکت
، عیدین کی
نمازوں میں
شمولیت ، معاشی
طور پر اپنی
صلاحیتوں کو
اضافی استعمال
کرنے کی اجازت،
ان سب مثالوں
سے سمجھا دیا
گیا کہ حالات
اور وقت کے
تقاضوں کے
مطابق پر دے
کے احکامات
میں نرمی کی
گنجائش موجود
رہتی ہے ۔ فرض
شرعی حدود
کو واضح کر
دیا گیا۔ ان
حدود کی پاسداری
ہر حالت میں
لازم کر دی
گئی اور فحاشی
اور عریانیت
کے دروازوں
کو بند کرتے
ہوئے عورت
کو شمعِ محفل
اور کھلونا
بننے سے بچایا
گیا۔
اسلام کی تاریخ
میں خاتونِ
اول آقا و مولیٰ
رسول اللہ
کی زوجہ اول
جناب سیدہ
حضرت خدیجہ
الکبریٰ انتہائی
ذہین ، زیر
ک اور نیکی
و تقویٰ میں
یکتا و بے مثال
تھیں۔ آپ جنابہ
خود تجارت
کے امور کی
نگرانی فرما
یا کرتی تھیں۔
اور آپ نے اپنا
سارا مال اسلام
کے لئے سر کار
کے قدموں پر
نچھاور کرتے
ہوئے رہتی
دنیا تک کے
لئے مثال قائم
کر دی۔
حضرت فاطمۃ
الزہرہ سیدہ
خاتون جنت
رسول اللہ
کی چھوٹی اور
لاڈلی بیٹی
نے ابتدائے
اسلام کی تمام
تکالیف بر
داشت کیں۔
آپ گلستانِ
مصطفی کا وہ
مہکتا پھول
ہیں جس کی خوشبو
سے آج بھی جہان
معطر ہے۔ آپ
کی ساری زندگی
خواتین کے
لئے مشعل راہ
ہے۔ پاکبازی،
سیرت ، کر دار
، زہد و تقویٰ
، خاوند کی
اطاعت گزاری،
حسنین کریمین
کی تربیت ،
گھرکے کاموں
کی مشقت ، آپ
کا ہر روپ ،
ہر رنگ، بحیثیت
بیوی، ماں،
بیٹی کے آج
بھی قابلِ
اتباع ہے اور
قیامت تک رہے
گا۔
حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام
کی پیاری زوجہ
حضرت عائشہ
صدیقہ اپنے
بے مثال حافظے،
ذہانت، علم
و حکمت، فہم
و فراست میں
کوئی ثانی
نہیں رکھتیں۔
حضرت عائشہ
صدیقہ بہت
سے اعزازات
کی حامل ہیں۔
آپ علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے
حضرت عائشہ
کے علم و فہم
کی وجہ سے انھیں
نصف دین قرار
دیا ۔ سینکڑوںصحابیوں
نے آپ سے اکتسابِ
فیض کیا۔ ہزاروں
احادیث آپ
سے مروی ہیں۔
خانگی اور
گھریلو زندگی
کے زیادہ تر
دینی احکامات
حضرت عائشہ
صدیقہ کے ذریعے
امت تک پہنچے۔
حضرت ابراہیم
علیہ السلام
کی زوجہ حضرت
ہاجرہ علیہ
السلام کارب
کی خوشنودی
کے لئے حضرت
اسماعیل علیہ
السلام اپنے
شیر خوار بچے
کو لئے لق و
دق صحرا میںٹھہرنا
پھر پانی کی
تلاش
میں دوڑنا
، اور اللہ
کو یہ ادا اتنی
پسند آئی کہ
اسے حج اور
عمرے کا لازمی
حصہ بنادیا
گیا۔ پھر حضرت
اسماعیل علیہ
السلام کو
قربانی کے
لئے پیش کرنا
آپ کے صابرو
شاکر ہونے
کی علامت ہے۔
حضرت عیسیٰ
علیہ السلام
کی والدہ حضرت
مریم علیہ
السلام کی
عبادت گزاریاں
اس حد تک بڑھ
گئیں کہ ان
کے حجرے میں
ان کے لئے بے
موسمی پھل
آیا کرتے تھے
۔ قرآن مجید
میں انھیں
صدیقہ کا لقب
دیا گیا۔ فرعون
کی بیوی حضرت
آسیہ علیہ
السلام کا
ذکر بھی قرآن
مجید میں اللہ
کی نیک بندی
کے طور پر کیا
گیا۔
آپ کی پھو پھو
حضرت صفیہ
بنت عبدالمطلب
انتہائی بہادر
اور معاملہ
فہم خاتون
تھیں۔ غزوۂ
احزاب کے موقع
پر ایک یہودی
اس قلعے کی
طرف آیا جس
میں عورتیں
اور بچے تھے
حضرت صفیہ
نے بڑی دلیری
سے اس کا سر
قلم کر کے قلعے
سے نیچے پھینک
دیا کہ پھر
کسی یہودی
کو اس طرف آنے
کی جرا ءت نہ
ہوئی۔ سید
الشھداء حضرت
حمزہ کی دردناک
شہادت پر حضرت
صفیہ نے مرثیہ
لکھا جس سے
آپ کے اعلیٰ
ادبی ذوق کا
اندازہ ہوتا
ہے۔
حضرت اسماء
بنتِ ابو بکر
کا اتنی کم
سنی میں آپ
کی ہجرت کے
راز کی حفاظت
کرنا حیرت
انگیز ہے ۔
پھر بزرگی
میں اپنے بیٹے
حضرت عبداللہ
بن زبیر کو
حق کی خاطر
جان قربان
کرنے کی تلقین
کرنا، ان کی
المناک شہادت
پر صبر وتحمل
کا بے مثال
مظاہرہ کرنا
بے شک ان جیسی
خواتین ہی
تاریخ کی آبیاری
کرتی ہیں۔
حضرت ام سلیم
وہ عاشقہ صادقہ،
دین پر مر مٹنے
والی خاتون
ہیں کہ مشرک
نے پیغام نکاح
بھیجا تو اسلام
کی دعوت اتنے
دلنشین انداز
سے دی کہ اس
نے کلمہ پڑھ
لیا۔ اور بعدمیں
جلیل القدر
صحابہ میں
ان کا شمار
ہوا۔ آپ حضرت
عائشہ کے ہمراہ
غزوات میں
شریک ہوئیں۔
حضرت امِ عمارہ
بیعت عقبہ
ثانیہ میں
شریک ہوئیں۔
آپ کا ہر وقت
سر بکف رہنے
کا جذبہ ، محبوبِ
کائنات سے
والہانہ عشق
ہمیشہ سرمایہ
افتخار رہا۔
آپ نے غزوہ
احد میں بے
مثال جرا ءت
و بہادری دکھائی
اور آقا و مولیٰ
رسول اللہ
کی حفاظت میں
تلوار زنی
کے بے مثال
جوہر دکھائے۔
کہ آپ’’ خاتون
احد‘‘ کے لقب
سے مشہور ہوئیں۔
آپ بیعت رضوان،
غزوۂ خیبر
، غزوۂ حنین
میں بھی شریک
ہوئیں۔
حضرت ام کلثوم
نے تنہا پیدل
اسلام کی خاطر
مکہ سے مدینہ
ہجرت کی آپ
کی ابھی شادی
بھی نہیں ہوئی
تھی۔ اسلام
پر مرمٹنے
کا جذبہ اتنا
شدید تھا کہ
سب تکالیف
کو سہہ لیا۔
حضرت خولہ
عطر کی تجارت
کرتی تھیں۔
حضرت خنسائ
اور حضرت زرقا
اپنی شاعری
کی وجہ سے مشہور
تھیں۔ حضرت
حفصہ شعلہ
بیاں مقررہ
تھیں۔ غرضیکہ
ہر شعبہ زندگی
میں اسلام
کی تاریخ میں
بے شمار عورتوں
نے کا رہائے
نمایاں سر
انجام دیئے۔
پاکستانی معاشرہ
اور عورت کا
مقام
ہم شاندار
ماضی، اعلیٰ
روایات، مضبوط
تہذیب و تمدن
، مشرق کی اعلیٰ
خصوصیات کے
حامل اسلامی
معاشرے کے
ارکان ہیں۔
مسلمان سیاسی
طور پر مغلوب
اور شکست خوردہ
ہوئے تو یہ
شکست خوردگی
پورے نظام
میں پھیلتی
چلی گئی اور
ناسور کی طرح
ہر شعبے کی
شکست و ریخت
کا باعث بنی
۔ ایمان اور
یقین میں دراڑیں
آئیں تو تمام
نظریات بدلتے
چلے گئے ۔ آج
ہمارا معاشرہ
کئی طبقات
میں بٹا ہوا
ہے۔ اور ہر
گروہ ، ہر طبقے
کے نظریات
عورت کے حوالے
سے مختلف نظر
آتے ہیں۔ ہماری
یہ طبقاتی
تقسیم دولت،
مال و زر کی
بنیاد پر ہے۔
اس اعتبار
سے ہمارا پاکستانی
معاشرہ واضح
طور پر تین
طبقوں میں
بٹا ہوا ہے
۔
اولاً حکمران
جماعت پر مشتمل
دولت مند،
رئیس ، اعلیٰ
عہدیدار ،
تجارت پر قابض
لوگوں کاگروہ
جن کی زندگی
کا مرکز و محور
مال و دولت،
گلیمر ، عیاشی
ہے۔ یہ وہ طبقہ
ہے جو اپنی
دولت کے نشے
میں مجموعی
طور پر اسلام
کے احکامات
کو پسِ پشت
ڈالے ہوئے
ہیں۔ یہ لوگ
آزادی ءِ نسواں
کے نعرے لگاتے
ہیں۔ عورت
کو شمع محفل
، فحاشی اور
عریانیت کے
لئے استعمال
کرنے پر تلے
ہوئے ہیں۔
مغرب کی اندھی
تقلید نے انھیں
حقیقی سودوزیاں
سے بے نیاز
کر دیا ہے۔
عورت کو آزادی
کے نام پر اشتہارات
کے لئے استعمال
کیا جا رہا
ہے ۔ اس کے نسوانی
حسن کو عریاں
کر کے سستی
شہرت اور مال
وزر کے جال
میں پھنسا
دیا گیا ہے
۔ عورت نمائش
کا ذریعہ بن
گئی ہے ۔ خاندان
اور گھر خود
غرضی، مال
و زر، خود پسندی،
جھوٹی شان
کی کھوکھلی
بنیادوں پر
کھڑے کئے گئے
ہیں۔ جس سے
ان گھروں میں
اطمینان اورسکون
نہیں رہا ۔
ان کی اگلی
نسل انگریزی
تو فر فر بولتی
مگر قرآن سے
بے بہرہ ہے
۔
ثانیاً وہ
طبقہ جو باشعور،
محنت کش مڈل
کلاس ہے یہ
طبقہ ایک طرف
ماضی سے رشتہ
جوڑے ہوئے
اپنی روایات
کی حفاظت کرتا
دکھائی دیتا
ہے اور دوسری
طرف تعلیم،
فہم ، اور جدید
علوم کے حصول
کے لئے بھی
کوشاں ہے یہی
طبقہ ہے جس
نے ملک وقوم
کو محنت، دیانتداری
،عزم و عمل
سے مضبوط بنیادیں
دینے کی کوشش
کی ہے۔ یہاں
عورت کو عزت
اور وقار کی
نگاہ سے دیکھا
گیا ۔ حجاب
، پر دہ ، چادر
اور چار دیواری
کے تصور کی
حفاظت اور
آبیاری بھی
کی گئی۔ یہ
کھلے ذہن اور
روشن خیال
کہلائے۔ مگر
اسی طبقے میں
نظریاتی طور
پر ایک ایسا
گروہ بھی سامنے
آیا جنھوں
نے خواتین
کو گھروں میں
پر دے کے نام
پر مقیّد کر
کے یہ خیال
کیا کہ معاشرہ
برائی کی راہ
پر ہے کہیں
ذرا سی بھی
نرمی بچیوں
کو گمراہ نہ
کردے ۔ انھیں
تعلیم سے بھی
محروم کر دیا
۔ کم عمری میں
ان کی شادیاں
کرکے اپنے
فرائض سر سے
اتارنے کی
کوشش کی ۔ ایک
سوچ یہ بھی
رہی کہ تعلیم
سے اپنے حقوق
کا شعور آتا
ہے ۔ خواتین
کو ان کے حقوق
سے بے بہرہ
رکھا جائے
۔ خود غرضی
پر مبنی سوچ
نے خواتین
کے لئے علم
و فن کے دروازے
بند کر دیے۔
ثالثاً کمزور،
غریب ، مظلوم
و محروم طبقہ
جو ملک میں
بھاری اکثریت
رکھتا ہے ۔
انھیں غلام
اور خادم متصور
کیا گیا ۔ ظلم
و ستم کا نشانہ
بنایا گیا۔
عدل و انصاف
کی دھجیاں
اڑائی گئیں
۔ جنھیں دو
وقت کی روٹی
میسر نہ آئے
۔ جن کے بچے
بیماری مفلسی
کے ہاتھوں
آئے دن شکار
بن رہے ہوں
وہ روایات
کی حفاظت کے
قابل ہی کہاں۔
ایک طرف وہ
اعلیٰ طبقہ
جن کے کتے،
گھوڑے بھی
مرغن غذاؤں
پر پلیں اور
دوسری طرف
یہ مجبور ومظلوم
طبقہ جو ایک
وقت کے کھانے
سے بھی محروم
ہے۔ یہاں
عورت کا استحصال
بھی ہو رہا
ہے ۔ عورت ظلم
کا نشانہ بھی
بن رہی ہے ۔
عورت باعث
پریشانی اور
تفکر بھی ہے
۔ اسکی عزت
و ناموس کی
حفاظت، و ڈیروں
اور جاگیرداروں
کے ظلم سے اسے
بچانا بھی
ایک مسئلہ
ہے ۔
پیر و مرشد
اور خواتین
کی تعلیم و
تربیت
شہروں میں
موجود خواتین
کو تعلیم کے
مواقع بھی
بہم میسر ہیں
۔ جس سے دیہات
اور گاؤں کی
بچیاں محروم
ہیں۔ تعلیم
انسانی ذہن
کو جلا بخشتی
ہے ۔ دین کے
احکامات کو
سمجھنے اور
اس پر عمل کر
نے کی قوت و
صلاحیت بھی
دیتی ہے ۔ محبوب
خدا رسول اللہ
کی بے شمار
احادیث مبارکہ
بار بار علم
کی ترغیب میں
موجود ہیں۔
آپ نے فرمایا
۔
’’علم حاصل کرو
خواہ چین جانا
پڑے ۔‘‘
۔۔۔
’’علم حاصل کرنا
ہر مسلمان
مرد اور عورت
پر فرض ہے۔
‘‘
۔۔۔
’’مجھے معلم
بنا کر بھیجا
گیا ہے ۔ ‘‘
شاہِ قلندر
پیر مستوار
نے ہمیشہ اہلِ
علم کی قدر
کی اور انھیں
عزت و تکریم
سے نوازا۔
پیرو مرشد
نے بچیوں کے
لئے بھی تعلیم
کی ہمیشہ حوصلہ
افزائی کی
۔ پیر و مرشد
کا ہر عمل تعلیم
کی قدر اورحصول
تعلیم کی ترغیب
دیتا دکھائی
دیتا ہے ۔ سلسلے
اور مشن سے
وابستہ مریدین
کے لئے بھی
پیر و مرشد
کی ہدایت ہے
۔ کہ خواتین
کو تعلیم حاصل
کرنے کے مواقع
فراہم کریں
۔ ان کو اداروں
میں جا کر علم
کے حصول کے
لئے آسانیاں
دیں۔ تعلیم
حاصل کرکے
ہی وہ دین کا
، مشن کا کام
بہتر طریقے
سے کر سکتی
ہیں۔
معاشرے کی
موجودہ ڈگر
متقاضی ہے
کہ ہر فرد زیورِ
تعلیم سے آراستہ
ہو۔ عدل و انصاف
کی فراہمی
ہر فرد کے لئے
ہو۔ دولت کی
جائز اور منصفانہ
تقسیم ہو۔
تعلیم کے مواقع
سب کو حاصل
ہوں۔ اداروں
کے ذریعے،
میڈیا کے ذریعے
اسلام کے صحیح
تصور اور احکامات
کو لوگوں تک
پہنچایا جائے
۔ پر دے کی ترغیب
دی جائے ۔ اس
کی حکمتوں
اور فوائد
سے سب کو آگاہ
کیاجائے ۔
حقوق و فرائض
کا اگر سب کو
شعور مل جائے
تو بے شک
نہیں ہے ناامیداقبال
اپنی کشتِ
ویراں سے
ذرا نم ہو تو
یہ مٹی بڑی
ز رخیز ہے ساقی
خواتین کی
تربیت کے لئے
خصوصی اہتمام
پیرومرشد نے
ہمیشہ خواتین
کی تعلیم و
تربیت کو اہمیت
دی اور اس بات
کا نہ صرف خود
خیال رکھا
بلکہ خلفاء
و ناظمین اور
مریدین کو
بھی تاکید
کی کہ خواتین
کے لئے علیحدہ
پروگرامز کا
اہتمام کیاجائے۔
ان کے لئے الگ
محفلِ ذکر
اور درسِ قرآن
کا اہتمام
ہو۔ آپ نے ترجیحی
بنیادوں پر
خواتین معلمات،
اور نعت خواں
لڑکیوں کی
حوصلہ افزائی
کی ۔ یہی وجہ
ہے کہ سلسلے
کا جہاں بھی
کام ہو رہا
ہے وہاں خواتین
کے لئے بھی
خصوصی نشستوں
کا اہتمام
کیا جاتا ہے
۔ دربارِ عالیہ
میں ملاقات
میں بھی خواتین
فیضیاب ہوتی
ہیں۔ اسکے
علاوہ تمام
بڑے پروگرامز
میں خواتین
کے لئے باپر
دہ انتظامات
، پیر و مرشد
کی اس حوالے
سے خصوصی اہمیت
و توجہ کا مظہر
ہیں۔ رات کی
خصوصی نشست
میں بھی جب
خالصتاً واجب
الوجود، وحدت
الوجود ، روحانی
سفر، فقر و
غنا، استغراق
و سکر جیسے
دقیق روحانی
موضوعات پر
گفتگو ہوتی
ہے اس میں بھی
خواتین کو
سننے اور سمجھنے
کے پورے مواقع
دیئے جاتے
ہیں۔ اوراگر
خواتین میں
سے کوئی سوال
کرے تو پیرو
مرشد توجہ
سے بات سنتے
اور جواب دیتے
ہیں۔
مشن سے وابستہ
خواتین اور
اعلیٰ ادبی
ذوق
پیرومرشد خود
اعلیٰ ادبی
ذوق رکھتے
ہیں اور جو
لوگ زبان و
ادب سے متعلق
خصوصی صلاحیتوں
کے حامل ہیں
پیرو مرشد
ان کی حوصلہ
افزائی فرماتے
ہیں ۔ یہی وجہ
ہے کہ مشن سے
وابستہ بہت
سی خواتین
شعر و شاعری
کا اعلیٰ ذوق
رکھتی ہیں۔
پیرو مرشد
ہمیشہ ان کے
شاعرانہ کلام
کو سنتے اور
اصلاح فرماتے
ہیں۔ بحر،
وزن، ردیف
قافیہ اس حوالے
سے خواتین
کی یوں رہنمائی
فرماتے ہیں
کہ محسوس ہوتا
ہے کہ ایک استاد
اپنے طالب
علموں کو اپنا
علم اور ادبی
ذوق منتقل
کر رہا ہے ۔
ان سب کے شاعرانہ
کلام میں آقا
و مولیٰ رسول
اللہ کی ثناء
خوانی ، پیر
و مرشد سے پیار،
محبتِ حقیقی
کے رنگ اتنے
نمایاں ہیں
کہ شاعری کے
مروجہ پیمانوں
پر پورا نہ
اترنے کے باوجود
اس میں موجود
پیغام اور
سوچ کو محسوس
کیا جاسکتا
ہے ۔
مشن سے وابستہ
خواتین کی
ذمہ داریاں
انسانی معاشرے
میں حقوق و
فرائض کا چولی
دامن کا ساتھ
ہے ۔ ایک فرد
کا حق دوسرے
کا فرض ہوتا
ہے ۔ مثال کے
طور پر اولاد
کے حقوق ماں
باپ کے فرائض
اور ماں باپ
کے حقوق اولاد
کے فرائض ہوتے
ہیں۔ اسی طرح
خاوند کا حق
اور بیوی کا
فرض ، بیوی
کا حق اور شوہر
کا فرض ہوتا
ہے ۔ اسلام
نے عورت کو
ذلت کی پستیوں
سے اٹھا کر
عزت و اعلیٰ
مرتبہ دیا۔
ہر مسلمان
پر عورت کی
عزت و تکریم
کو لازم قرار
دیا۔ مقام
اور منصب اعلیٰ
ہو تو ذمہ داریاں
اور فرائض
بھی زیادہ
ہوتے ہیں۔
اس اعلیٰ مقام
کا تقاضایہ
تھا کہ ہر مسلمان
عورت اپنے
فرائض کو پہچان
کر کما حقہ‘
انھیں ادا
کرے مگر ایسا
نہ ہو سکا ۔
مسلمان عورت
اپنی نسل میں
جذبۂ شبیری
منتقل نہ کر
سکی اور نہ
ہی محبت و عشق
حقیقی کے رنگ
و نور کو قلوب
و اذہان میں
ڈال سکی ۔ اس
وجہ سے معاشرے
میں بے عملی
بڑھتی چلی
گئی ۔ مشن سے
وابستہ بالخصوص
اور ہر مسلمان
عورت کی بالعموم
مندرجہ ذیل
ذمہ داریاں
ہیں۔
ا ۔ ایمان باللہ
و ایمان بالرسالت
کے صحیح مفہوم
اور تقاضوں
سے آگہی
ایک چھوٹا
سا کلمہ جسے
ہم کلمۂ طیبہ
کہتے ہیں۔
اس پر دل سے
ایمان اور
زبان سے ادائیگی
ہمیں ایک ایسے
دائرے میں
داخل کرتی
ہے جو اہل ایمان
کا دائرہ ہے۔
آج ہمارا المیہ
یہ ہے کہ ہم
دنیاوی و عصری
علوم کے حصول
میں اتنے محو
ہو گئے کہ اس
کلمے کے معنی
و مفہوم ، اس
پر یقین و ایمان،
اس کے تقاضوں،
سے خود بے بہرہ
ہوگئے اور
ڈگری یافتہ
نو جوان طبقے
کو بھی ایمان
و یقین نہ دے
سکے۔ مشن سے
وابستہ خواتین
کی پہلی ذمہ
داری اپنے
ایمان کی حفاظت
ہے ۔ ہمارے
تمام اعمال،
زندگی کا لمحہ
لمحہ ایمان
کے تابع ہے۔
اس کے بغیر
اعمال بے روح
اور بے کار
ہوجاتے ہیں۔
مگر اس ایمان
کی حفاظت آسان
نہ رہی ۔ کیونکہ
معاشرے پرابلیسیت
چھائی ہوئی
ہے ۔ اور ایمان
کی حفاظت کے
بارے میں شاعرنے
کیا خوب کہا
ہے:
یہ شہادت گہِ
الفت میں قدم
رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے
ہیں مسلمان
ہونا
ایمانیات میں
پختگی اور
یقین ہماری
زندگی کی راہِ
عمل کو درست
کر سکتا ہے۔
اور اس میں
کمزوری ہماری
زندگی کو بگاڑ
سکتی ہے ۔ یہاں
مختصراً اتنا
کہوں گی کہ
مشن سے وابستہ
خواتین باطنی
طور پر ہر وقت
تصور شیخ میں
رہیںکہ اس
سے شیطان بھاگتا
ہے ۔ شیطان
سے دوری انسان
کو اللہ کا
قرب عطا کرتی
ہے۔ ایمان
کی حفاظت کا
ایک طریقہ
معاشرے سے
کٹ جانا ، جنگلوں
اور بیابانوں
میں نکل جانا
ہے اور ایک
طریقہ یہ ہے
کہ شیطان کے
خلاف، شیطانی
قوتوں کے خلاف
علمِ جہاد
بلند کیا جائے۔
اور نفس کے
خلاف جہاد
کو رسولِ خدا
نے جہادِ اکبر
قراردیا اور
یہ جہاد اکبر
اسی وقت ممکن
ہے جب اپنے
شیخ ، اپنے
پیرو مرشد
سے ظاہری ،
باطنی رابطہ
بہت مضبوط
ہو۔
ب۔ اعمالِ
صالحہ
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ
حیات ہے۔ اسلام
ایک مکمل ضابطۂ
زندگی ہے ۔
راہِ عمل ہے
زندگی کے ہرشعبے
سے متعلق مکمل
رہنمائی فراہم
کرتا ہے ۔ اسلام
محض سوچ کا
نام نہیں ۔
اسلام ایک
محض فکر و تخیل
نہیں ۔ اسلام
فقط چند نظریات
کا نام نہیں
بلکہ پیدائش
سے موت تک،
صبح سے رات
، خوشی اور
غمی ، دکھ اور
سکھ کے ہر لمحے
میں اللہ اور
رسول کی اطاعت
و غلامی کا
نام ہے۔ اللہ
رب العزت کا
ارشاد پاک
ہے ۔
یا ایّھا الّذین
امنو ا دخلوا
فی السلم کآ
فّۃٍ
ترجمہ: ’’اے ایمان
والو۔ اسلام
میں پوری طرح
سے داخل ہو
جاؤ۔ ‘‘
قول و فعل کے
تضاد کو ترک
کر دو۔ منافقت
اور دوغلے
چہروں سے باز
آجاؤ۔ کھانا
پینا ، سونا
جاگنا، لین
دین، میل ملاقات
، کاروبار
تعلیم ، تجارت،
ملازمت ، غرض
زندگی کا ہر
شعبہ اسی حقیقی
محبت اور اطاعت
کے رنگ میں
رنگا ہوا ہو۔
اگر ہم خود
کو اسلام کے
احکامات پر
پابند نہیں
کر سکتے تو
ہم دوسروں
کو وعظ و تبلیغ
کیسے کر سکتے
ہیں۔ انسان
کے کر دار کا
پتہ چھوٹی
چھوٹی باتوں
سے ملتا ہے
۔ جسطرح سورج
کی روشنی چھوٹے
سے سوراخ سے
بھی نظر آتی
ہے ۔ اسی طرح
انسان کا عمل
اور کر دار
معمولی باتوں
میں بھی نظر
آتا ہے ۔ مشن
سے وابستہ
خواتین کو
چاہیے کہ عبادات
اور معاملات
کو درست کر
لیں۔ نفرتوں
، عداوتوں،
کینہ اور خود
غرضی پر مبنی
سوچ کو ترک
کر تے ہوئے
گھروں کے اندر
پیار اور محبت
کو فروغ دیں
مسکرا کر ملنا
بھی عبادت
ہے۔ سلام میں
پہل کرنا۔
ایک دوسرے
کو تحفے تحائف
دینا، دوسروں
کے لئے اپنی
خواہشات کی
قربانی دینا
قلب کو انوار
و تجلیات سے
بھر دیتا ہے
۔ خواتین میں
ایک بڑی برائی
غیبت کی پائی
جاتی ہے ۔ سونے
چاندی اور
مال و زر کا
لالچ شیطانی
چنگل میں پھنسائے
رکھتا ہے ۔
ہر لمحہ کوشش
کریں کہ اسلام
کی قائم کر
دہ حدود کی
حفاظت کریں۔
خواہ پنجگانہ
نماز کا معاملہ
ہے یا پر دے
کی شر عی حدود
کی بات ہے۔
معاملات اور
لین دین میں
کھرا پن ہے
یا دیگر امانتوں
کی حفاظت کا
معاملہ ہے
ہر لمحے خدا
کا خوف رہے
۔ مرشد کا تصور
رہے ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>