ج۔
ذاتی فرائض
کی ادائیگی
شاہِ قلندر
پیرمستوار
فرماتے ہیں
کہ کوئی خاتون
اپنے اہلِ
خانہ کی اجازت
اور رضا مندی
کے بغیر آستانے
پر نہ آئے کہ
جو اپنے اہلِ
خانہ، والدین
اپنے شوہر
کی اطاعت و
رضا کا خیال
بالکل نہ رکھے
وہ اللہ اور
رسول کی خوشنودی
کے لئے کیا
کر سکے گا۔
کچھ جگہ استشنائی
حالات اور
صورتیں ہوتی
ہیں ایسی صورت
میںاپنے شیخ
سے رہنمائی
و رہبری لینی
چاہیے ۔
ماں کی ذمہ
داری سب سے
بڑھ کر ہے وہ
اگر صحیح تربیت
کرے تو اولاد
جنتی ہوسکتی
ہے اور اگر
اس نے فرائض
صحیح ادا نہ
کئے تو وہ اپنی
اولاد کو جہنم
میں دھکیل
سکتی ہے ۔ بیوی
کے لئے شوہر
کی اطاعت اور
اس کی خوشنودی
اہم ہے ۔ بیٹی
ہے تو اسے ہر
لمحے والدین
کا خیال رکھنا
ہے کہ قرآن
مجیدمیں بار
بار
وبا الوالدین
احساناً
کہتے ہوئے
والدین سے
حسنِ سلوک
کی تاکید کی
گئی ہے ۔ عورت
کے لئے گھر
کو مرکزِ نگاہ
قرار دیا گیا
ہے ۔ جس طرح
مرد کے ذمہ
دیگر معاشی
تمدنی ذمہ
داریاں ہیں
عورت کو ان
سے مستثنیٰ
کر کے گھر اور
خاندان کی
ذمہ داریاں
دی گئیں۔ مشن
سے وابستگی
کا مطلب یہ
ہے کہ گفتگو،
کر دار ، عمل،
فرائض کی ادائیگی
میں اعلیٰ
معیار دکھایاجائے
۔ کہ ہمارا
کر دار و عمل
ایسا ہو کہ
پیر و مرشد
ہم سے راضی
اور خوش ہوں
کہ مرشد کی
خوشی اللہ
کی رضاو خوشی
ہے ۔
د ۔خدمتِ دین
اللہ کا دین
ہمارا محتاج
ہر گز نہیں
۔ اللہ رب العزت
چاہے تو ’’ابابیل‘‘
سے کام لے لے
، چاہے تو ’’کُن‘‘
کہہ دے۔ ہمیں
اگر خدمتِ
دین کا شعور
اور توفیق
ملی ہے تو یہ
مرشد کے طفیل
ملی ہے ۔ فضلِ
ربی ہے ۔ ہمارا
کوئی ذاتی
کمال نہیں
کیوںکہ تاریخ
گواہ ہے کہ
ابو جہل اور
ابو لھب جیسے
عرب سردار
اس خوش بختی
سے ناصرف محروم
رہے بلکہ بارگاہِ
الہیہ سے انھیں
دھتکار دیا
گیا۔ اور سیاہ
فام غلام بلال
حبشی کو اس
سعادت کے لئے
منتخب کر لیا
گیا۔
ایں سعادت
بزور بازو
نیست
مشن سے وابستہ
خواتین کو
چاہیے کہ شاہِ
قلندر پیر
مستوار کی
CDs، ان کے خطابات
، ان کی گفتگو
وقتاًفوقتاً
اپنے حلقۂ
احباب میں
تصوف کا ذوق
رکھنے والوں
کو سنایا کریں۔
اور جوپڑھی
لکھی سمجھدار
بہنیں ہیں
وہ باقاعدہ
ہفتہ وار یا
ماہانہ گیارھویں
شریف کے پروگرام
کا انعقاد
کریں۔ اور
اس کے لئے ضروری
ہدایات، اجازت
اور رہنمائی
پیرو مرشد
سے ضرور حاصل
کریں۔ جب جب
موقع ملے پیرو
مرشد کے پاس
حاضر ہوا کریں۔
عرس کے مواقع
پر زیادہ سے
زیادہ خواتین
کو دعوت دیا
کریں۔ خود
بھی ذکر و تفکر
کی عادت ڈالیں
۔ محافل میں
خشوع و خضو
ع اور آداب
کا خاص خیال
رکھیں۔ مرشدکے
روحانی زندگی
پر اثرات سے
دوسروں کو
آگاہ کیا کریں۔
اللہ ہماری
زبان و عمل
میں تاثیر
و برکت پیدا
فرمائے ۔(آمین)
پیر و مرشد
کی خواتین
کے لئے خصوصی
ہدایات
٭۔
اپنا مقصد
محبتِ خدا
، عشقِ مصطفی
اور مطابقتِ
رہنما کو سمجھیں۔
٭۔
پردے کا خصوصی
خیال رکھیں
اور باہر نکلتے
ہوئے کم از
کم چادر لے
لیں ۔
٭۔
والدین کا
احترام کریں
۔ شوہروں کے
حقوق کا خیال
رکھیں ۔
٭۔
مشن کے فروغ
کے لئے جذبہ
ہونا چاہئیے
۔ایسی آتش
ہونی چاہئیے
جسے کوئی پانی
بجھا نہ سکے
۔اس آتش کو
عشق سے مزید
تپش ملتی رہے
۔
٭۔
دنیا کے جو
بھی کام ہیں
۔آپ ڈاکٹر
ہیں ۔ انجینئر
ہیں یا کوئی
اور ملازمت
کر رہی ہیں
اپنے کام خوش
اسلوبی سے
کریں اور رفقائے
کار کے ساتھ
اپنے تحفظِ
عصمت کا خیال
رکھیں ۔
مختلف شہروں
میں خواتین
کے کام
چکوال
ضلع چکوال
اور اس کے نواحی
علاقوں میں
جناب عارف
صاحب اور مسز
ناصرہ عارف
کی سرپرستی
اور نگرانی
میں مشن کا
کام بہت اچھے
طریقے سے ہو
رہا ہے ۔ یہ
دونوں بہت
محنت اور تندہی
سے دن رات سلسلے
کے کام میں
مصروف ہیں
اور ان کے اخلاص
اور کام کی
بدولت ہزاروں
لوگوں تک محبت
مشن کا پیغام
پہنچ رہا ہے
۔
٭ سالانہ پروگرام:
ضلع چکوال
کے مختلف علاقوں
میں سالانہ
پروگرام باقاعدگی
سے ہو رہے ہیں
۔کئی جگہوں
پر ربیع الاول
اور محرم الحرام
میں ہر سال
بڑی بڑی محافل
منعقد ہو تی
ہیں جن میں
شاہِ قلندر
پیر مستوار
کی ہدایات
پر دیگر شہروں
سے نعت خواں
اور معلمات
شامل ہوتی
ہیں ۔ یہ پروگرام
خواتین میں
بہت مقبول
ہیں اور ان
میں خواتین
کی تعداد دن
بدن بڑھتی
جا رہی ہے۔
چکوال کے درج
ذیل علاقوں
میں سالانہ
پروگرام منعقد
ہوتے ہیں۔
مرید مخدوم
پور (ضلع چکوال)
بھون
سگھر
چکوال شہر
٭ ماہانہ اور
ہفتہ وارپروگرام:
خواتین کے
اصراراور ذوق
و شوق کو دیکھتے
ہوئے بہت سے
علاقوں میں
ماہانہ اور
ہفتہ وار پروگرام
شروع کئے گئے
ہیں جو باقاعدگی
سے منعقد ہو
رہے ہیں ۔ بعض
علاقوں میں
جمعہ اور بعض
علاقوں میں
پیر کا دن ہفتہ
وار پروگرام
کے لئے مخصوص
کیا گیا ہے
۔ یہ سب عارف
اور مسز ناصرہ
عارف کی کاوشوں
کی بدولت ہے۔
مندرجہ ذیل
علاقوں میں
باقاعدگی سے
خواتین کے
ماہانہ پروگرام
منعقد ہورہے
ہیں ۔
مرید
بھون (محلہ
میلاں)
بھون (محلہ
جھمٹ)
کوٹ چوہدریاں
چکوال (ڈھکو
روڈ)
ڈھاب
لاہور
لاہور میں
چیف ناظم سیف
الرحمن محمودوی
صاحب کی رہنمائی
اور سرپرستی
میں خواتین
کاکام بھرپور
طریقے سے ہو
رہا ہے ۔ خواتین
کے پروگراموں
کے لئے تمام
ضروری انتظامات
سیف الرحمٰن
صاحب کی ذاتی
دلچسپی اور
رہنمائی میں
ہر سال بہتر
سے بہتر ہو
رہے ہیں اور
نتائج بھی
پہلے سے زیادہ
ہیں ۔
٭ سالانہ پروگرام:
لاہور میں
مرکزی سطح
پر سالانہ
تین پروگرام
منعقد ہوتے
ہیں ۔ جن میں
کثیر تعداد
میں خواتین
شامل ہوتی
ہیں ۔ ان میں
خوبصورت نعت
خوانی کے ساتھ
ساتھ فکری،
علمی اور روحانی
خطابات ہوتے
ہیں ۔ اور ہر
سال شاہِ قلندر
کے فیضانِ
نظر سے شرکاء
کی تعداد بھی
بڑھ رہی ہے
۔ نیز دیرپا
اور دور رس
روحانی اثرات
مرتب ہورہے
ہیں ۔
سالانہ محفلِ
میلاد برائے
خواتین
( جو کہ مطیع
الرحمٰن صاحب
کی رہائش گاہ
پرمنعقد ہوتی
ہے ۔)
سالانہ خواتین
کا پروگرام
بمقام اچھرہ
محفلِ میلاد
کوٹ لکھپت
(جو کہ صوفی
عبد الخالق
صاحب کی رہائش
گاہ پرمنعقد
ہوتی ہے ۔)
٭ سہ ماہی اور
ماہانہ محافل:
ماہانہ اور
سہ ماہی بنیادوں
پر خواتین
کے لئے پروگرام
اور درسِ قرآن
کا اہتمام
بہت سے علاقوں
میں کیا گیا
ہے ۔ بعض علاقوں
میں ماہانہ
پروگرام باقاعدگی
سے ہو رہا ہے
۔ وہ علاقے
مندرجہ ذیل
ہیں ۔
جنرل ہسپتال
چونگی (امر
سدھو)
لکھو ڈہر
شاہدرہ
اچھرہ
کوٹ لکھپت
شالامار
٭ شب بیداری:
شبِ معراج
کے موقع پر
خواتین کے
لئے اجتماعی
شب بیداری
کا اہتمام
کیا جاتا ہے
۔ جس میں رات
بھر نعت خوانی
، درس ، صلوٰۃ
التسبیح ،
ذکر اور رقت
آمیز دعاکرائی
جاتی ہے۔
کراچی
کراچی میں
بابا بھائی
جان کی عرپرستی
اور رہنمائی
میں خواتین
کا کام منظم
طریقے سے شروع
کیا گیا ہے
۔ مختلف علاقوں
میں باقاعدگی
سے مقررہ تاریخوں
پر خواتین
کی محافل منعقد
ہو رہی ہیں
۔ جن کے نتائج
بہت حوصلہ
افزا ہیں ۔
ان میں شریک
خواتین کی
تعداد میں
دن بہ دن اضافہ
ہو رہا ہے ۔
٭ سالانہ پروگرام:
گولڈن ٹاؤن
بھٹائی آباد
سعود آباد
(ملیر)
سلمان فارسی
٭ ماہانہ پروگرام:
کراچی میں
ماہانہ بنیادوں
پر پروگرام
مختلف علاقوں
میں رکھے گئے
ہیں تاکہ تسلسل
قائم رہے اور
بہتر نتائج
حاصل ہو سکیں
۔
مندرجہ ذیل
علاقوں میں
باقاعدگی سے
ماہانہ پروگرام
منعقد ہو رہے
ہیں ۔
بھٹائی آباد
گولڈن ٹاؤن
سعود آباد(ملیر)
سلمان فارسی
ماڈل کالونی
عظیم پورہ
ملیر 15 (ملیر
ہومز )
دیگر شہر
پاکستان کے
دیگرشہروں
میں بھی پروگرام
باقاعدگی سے
ہو رہے ہیں
۔ طوالت سے
بچنے کے لئے
یہاں صرف دو
بڑے شہروں
کا ذکر کیا
گیا ہے ۔ضلع
چکوال ۔ مرید
میں ناصرہ
عارف صاحبہ
تندہی سے دن
رات سلسلے
کے کام میں
مصروف ہیں
اور ان کے کام
کے نتیجے میں
ہر سال ہزاروں
لوگوں تک مشن
کا پیغام پہنچ
رہا ہے ۔ اس
کے علاوہ آپ
بہترین مقررہ
اوراچھی شاعرہ
ہیں ۔پیر صاحب
سے بہت محبت
و عقیدت رکھتی
ہیں اور آستانہ
عالیہ کے قریب
ہونے کی وجہ
سے ان کی صحبت
سے بھی دن رات
فیضیاب ہوتی
ہیں۔
گجرات میں
عظمیٰ بتول
کا کام قابلِ
تحسین ہے ۔
لڑکیوں میں
بے حد مقبول
ہیں ۔ صرف گجرات
ہی نہیں بلکہ
دیگر علاقوں
میں بھی ان
کی نعت خوانی
بہت پسند کی
جاتی ہے ۔
راولپنڈی میں
آمنہ بہت محبت
کے ساتھ محبت
مشن کا پیغام
عام کرنے کے
لئے شب و روز
وقف کئے ہوئے
ہیں ۔ اسی طرح
سے ہر بڑے شہر
میں خواتین
منظم طریقے
سے کام کر رہی
ہیں ۔
باب نہم
نظامِ خلافت
کے امین و خادمین
پیرومرشد شاہ
قلندر پیر
مستوارسید
محمودالحسن
خاکی شاہ
خوش نصیب خادمینِ
دربار
1۔ استاد صوفی
غلام یاسین
صاحب:۔
عرصۂ دراز
سے دربار عالیہ
سے وابستہ
ہیں، دربار
سے متصل خوبصورت
مسجد کے امام
ہیں، بچوں
کو قرآن پاک
کی درس و تدریس
کا کام انجام
دیتے ہیں۔
مویشیوں کی
دیکھ بھال
استاد صاحب
کی ذمہ داری
ہے۔ پیرومرشد
آپ کو خصوصی
عزت و احترام
سے نوازتے
ہیں۔بقول پیر
صاحب:
’’استاد یاسین
صاحب کی طرح
کوئی خلوصِ
دل سے خدمت
کرنے والا
خادم نہیں
دیکھا، اور
حضور پیر صاحب
کے وصال
کے بعد ناچیز
کے محبت مشن
کے ساتھ وفادار
ہیں اور خدمت
کر رہے ہیں
اور ہر وقت
محبت کے جذبے
سے سر شار ہیں۔
خدام میں سب
سے اعلیٰ مقام
انہیں حاصل
ہے ۔ اور
ہمارے نزدیک
ترین ہیں‘‘۔
2۔غلام ربانی
صاحب:۔
عرصۂ دراز
سے دربار عالیہ
سے وابستہ
ہیں۔ اور یہ
اِن کا اعزاز
ہے کہ اِنہوں
نے قدوۃ العاشقین
پیر بادشاہ
حضرت سید رسول
شاہ خاکی کے
ساتھ بھی کام
کیا اور اب
شاہِ قلندر
پیر مستوار
کے ساتھ بھی
کام کر رہے
ہیں۔ عام طور
پر سفروحضر
میں ساتھ ساتھ
ہوتے ہیں۔
بڑے اچھے نعت
خواں ہیں۔
بہت سنجیدہ
مزاج، اپنے
کام سے کام
رکھنے والے
ہیں۔ ان کی
ذمہ داری پیرومرشد
کی ہدایت کے
مطابق لوگوں
کو تعویذات
دینا اور اس
کا استعمال
سمجھانا ہے۔
3۔حکیم تنویر
صاحب:۔
2002 ء سے دربار
میں اپنی خدمات
سر انجام دے
رہے ہیں۔ حکمت
کی خدمات دربار
سے وابستہ
لوگوں کو فراہم
کر رہے ہوتے
ہیں۔ ان کی
ذمہ داری شاہِ
قلندر کی ہدایات
کی روشنی میں
تعویذات لکھنا
ہے۔ بنیادی
طور پر یہ ایک
کاتب کے طور
پر دربار سے
وابستہ ہیں۔
شاہِ قلندر
کے اشارۂ ابرو
کو سمجھنے
والے، ہر لمحے
تعویذات میں
گم رہنے والے
حکیم تنویر
صاحب اپنی
دیگر ذمہ داریاں
بھی احسن طریقے
سے نبھاتے
ہیں ۔
4۔ مجیدمستانہ:۔
دربار سے وابستہ
سب سے زیادہ
دلچسپ شخصیت
مجید مستانہ
کی ہے۔ حسنِ
ظرافت سے مالا
مال ہر لمحے
کسی نہ کسی
سے ہنسی مذاق
اور سب سے زیادہ
رعب میں رہنے
والے ہمارے
مجید مستانہ
صاحب ہیں،
ان کی ذمہ داری
ہر چھوٹا بڑا
کام ہے۔ دربار
پر جھنڈا لگانا
ہے۔ یا شیڈ
بنانا ہے۔
کوئی پودا
لگانا ہے یا
فرش بچھانا
ہے۔ انتظامی
امور میں پیش
پیش ہر لمحے
متحرک نظر
آتے ہیں، خصوصی
سبز رنگ کے
لباس میں ملبوس
اور بعض اوقات
ڈنڈا ہاتھ
میں لئے دربار
میں آنے جانے
والوں کے لئے
انتظامات کرتے
مجید مستانہ
بہت دلچسپ
شخصیت کے حامل
ہیں۔
5۔ نبیل عرفان
صاحب:۔
نبیل عرفان
صاحب پیرومرشد
کی دستاویزات،
آپ کی تحریروں،
شاعرانہ کلام،
تعویذات کو
محفوظ کرتے
ہوئے ہر لمحے
نظر آتے ہیں۔
خصوصی ذمہ
داری کمپیوٹر
سے متعلق ہر
کام کی ہے۔
اور مخدوم
پور شریف جیسی
چھوٹی سی جگہ
پر کس طرح کمپیوٹر
جیسی جدید
ایجاد سے فائدہ
اٹھایا جانا
ہے یہ نبیل
عرفان صاحب
کا کارنامہ
ہے۔ تمام مریدین
کا ریکارڈ
آپ کو ہر لمحے
Upto Date ملے گا۔ اس
کے علاوہ ڈائیگرامز
بنانی ہے یا
انٹرنیٹ استعمال
کرنا ہے۔ کسی
چیز کی کمپوزنگ
ہے یا کوئی
ڈیزائننگ ہے
یہ سب کام نبیل
عرفان صاحب
کر رہے ہیں۔
پیر صاحب کو
موصول ہونے
والی ای ۔ میل
کو چیک کرنا
بھی ان کی ہی
ذمہ داری ہے
۔ ان کا کہنا
ہے کہ آذانِ
قلندر کی کمپوزنگ
کے دوران انہیں
آذانِ قلندر
کے تمام اشعار
زبانی یاد
ہو گئے یہ بھی
شاہِ قلندر
کا ایک اعجاز
ہے ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>