بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

6۔ اشفاق احمد صاحب:۔
استاد صوفی غلام یاسین صاحب کی مدد کے لئے اشفاق احمد کو رکھا گیا ہے۔ یہ استاد صاحب کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہر لمحے کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں۔

خواتین خادمین

1۔ خورشیداں
2 ۔ حسین بی بی

یہ خواتین شاہِ قلندر پیر مستوار کی رہائش گاہ ، حویلی کے باپردہ ماحول میں شاہِ قلندر کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ گھر کے اندر مہمانوں کی تواضع کھانے پینے کا انتظام کرنا ، آنے والی مہمان خواتین کا خیال رکھنا ان کے رہنے سہنے کے لئے ضروری چیزوں کی فراہمی ان خواتین خادمین کی ذمہ داری ہے۔ سلسلے اور مشن کا کام جس تیزی سے ملک بھر میں پھیل رہا ہے ۔ اس لحاظ سے مہمانوں کی آمدو رفت بھی بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔ اور شاہِ قلندر پیر مستوار کی طبعیت ایسی ہے کہ کبھی کسی سے جانے کو خود نہیں کہا۔ خواتین کئی کئی دن قیام کرتی ہیں مگر آپ کے یا آپ کے اہلِ خانہ کے چہرے پر کبھی ناگواری کے آثار نہیں دکھائی دیتے ۔
خورشیداں پیر بادشاہ حضرت سید رسول شاہ خاکی کے زمانے سے حویلی میں مقیم ہیں۔ ان کا اپنا رعب اور دبدبہ بھی ہے اور کچھ اپنے وضع کردہ اصول بھی ہیں جن کی حفاظت میں سب کو ڈانٹ بھی دیتی ہیں مگر بہت اخلاص سے ہر لمحے مصروفِ خدمت رہتی ہیں۔ حسین بی بی سے ملیں تو احساس ہوتا ہے کہ فہم و فراست اور سمجھداری اداروں یا ڈگریوں کی محتاج نہیں ۔ اللہ والوں کی صحبتوں سے انسان کا دل و دماغ کتنا منور ہوجاتا ہے یہ انھی کا خاصہ ہے ۔ حسین بی بی خوشدلی سے ہر لمحے کچن کے کاموں میں مصروف نظر آتی ہیں، اور ہر لمحے متحرک، بھاگ دوڑ میں مصروف کہیں جناب داؤد شاہ اور کہیں نقی شاہ صاحب کو سنبھالتی ۔ مہمانوں کی تواضع کے لئے برتنوں، کا انتظام کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ یہ وہ خوش نصیب خواتین ہیں جنھیں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے بندوں کی خدمت کے لئے منتخب کیا ہے ۔ انھیں پیر و مرشد کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے کا شرف بخشا ہے ۔ اور امی حضور کی ان سے محبت بہت اپنائیت بھری ہے ۔

خلفاء اور ناظمین کی ذمہ داریاں

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں ، ہر دور میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ روحانی نظام ایک فرد کی اصلاح اور تربیت کا نظام ہے ۔ جس کا مرکز و محور شیخ ہوتا ہے ۔ متلاشیِ حق جب ایک ولیِ کامل کے پاس آتے ہیں تو اسی مادیت زدہ معاشرے کے بہت سے اثرات اُن میں پائے جاتے ہیں ۔ شیخِ کامل اور ایک مرشد و مربی انہیں تعلیم اور تزکیہ و تصفیہ کے ذریعے بہتر سے بہتر بناتا ہے اگر افراد اپنی صلاحیتیں ، اپنا وقت اخلاص و محبت کے ساتھ دین کے لئے وقف کر دیں ۔ مطابقتِ شیخ میں رہیں ۔ استقامت سے ہر امتحان میں پورے اتریں تو ایک وقت آتا ہے کہ وہ عام سے خاص اور خاص سے خاص الخاص ہو جاتے ہیں ۔
سلسلۂ قادریہ قلندریہ میں شامل ہونے والے افراد کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے شاہِ قلندر ان کے اپنے علاقوں میں انہیں مختلف ذمہ داریوں پر فائز کرتے ہیں ۔ اس کے لئے ناظمین کا نظام رکھا گیا ہے ۔ ہر علاقے میں ایک ناظم اور ایک اُس کا معاون مقرر کیا جاتا ہے ۔ بڑے بڑے شہروں مثال کے طور پر کراچی ، لاہور ، چکوال ، گجرات وغیرہ میں انتظامی سہولتوں کے پیشِ نظر شہر کا ایک ناظم مقرر کیا جاتا ہے اور دیگر علاقوں میں علاقائی ناظمین اور معاونین مقرر کئے جاتے ہیں ۔ یہ تمام ناظمین شہری ناظم کے لئے معاونین ہوتے ہیں ۔ ملکی سطح پر ایک چیف ناظم کے تقرر کیا گیا ہے ۔ تمام شہروں کے ناظمین چیف ناظم کے زیرِ نگرانی اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ۔
اسی طرز پر خواتین ناظمات مقرر کی جاتی ہیں ۔ جو خواتین کی سطح پر محبت مشن کو فروغ دینے کے لئے کام کرتی ہیں ۔ یہ ناظمات بھی شہری ناظم کی رہنمائی میں کام کرتی ہیں۔ اس طرح چیف ناظم کی زیرِ نگرانی مربوط اور منظم کام ہو رہا ہے ۔
شاہِ قلندر پیر مستوار جن خوش قسمت لوگوں کو اہل سمجھتے ہیں انہیں خلفاء مقرر کرتے ہیں ۔ اس کے لئے باضابطہ پروگرام منعقد ہوتا ہے اور ان خلفاء کی دستار بندی کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔ جہاں یہ منصب اعزاز و اکرام کا باعث ہے وہاں فرائض اور ذمہ داریوں میں بھی زیادہ محنت اور اخلاص کا متقاضی ہے ۔ خلیفہ عام فرد نہیں ہوتا ۔ بلکہ شاہِ قلندر کا نمائندۂ خاص ہوتا ہے ۔
خلفاء اور ناظمین کی چند اہم ذمہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں :

٭ رابطۂ شیخ
ظاہری اور باطنی طور پر شیخ سے رابطے میں رہنا ہر خلیفہ کے لئے اشد ضروری ہے۔ خواہ جس نوعیت کی بھی ذمہ داری دی گئی ہو۔ چونکہ طریقت میں محبتِ شیخ اور تصور شیخ کا کر دار سب سے زیادہ مرکزی ہوتا ہے۔ اس لئے خلفاء میں محبت بھی کمال کو ہوتی ہے اور تصور میں پختگی بھی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ ظاہری اسباب کے ذریعے بھی خلفاء کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مرکز سے جڑے رہیں۔ پیر و مرشد کے پاس کثر ت سے آنا، میل ملاقات پیر و مرشد کی عادات و اطوار کو سمجھنا ان کی پسند نا پسند کو جاننا ، ان کی مرضی و منشاء کو اپنانا خلفاء کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے تاکہ وہ ہرلمحہ پیرو مرشدکی مطابقت میں رہیں۔

٭ مریدین سے رابطہ
ہر علاقے میں موجود مریدین ، وابستگان سے رابطہ رکھنا، ان کے حال احوال سے باخبر رہنا خلیفہ کی ذمہ داری ہے، چونکہ خلیفہ پیر و مرشد کا نائب ہوتا ہے ۔ اسلئے اس کی کوشش رہنی چاہیے کہ مریدین کا پیرو مرشد سے تعلق مضبوط رہے ۔
مریدین کے دکھ سکھ میں شریک رہنا ان کو بروقت مادی، روحانی مسائل کے وقت رہنمائی کرنا ہر خلیفہ کی ذمہ داری ہے۔

٭ دم، دعا، تعویذات کے ذریعے خلقِ خدا کی خدمت:
چند خلفاء کو ان کی اہلیت و صلاحیت کے مطابق دم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ مختلف تعویذات اور ان کے اثرات سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کے کام آسکیں۔ کہ فقیر کی زندگی لوگوں کے لئے باعث نعمت و رحمت ہوتی ہے۔ ان کے دنیاوی مسائل کا حل بھی اللہ پاک ان فقراء کے ذریعے عطا کرتا ہے اور ان کے باطنی و روحانی سفر میں بھی مدد گار اور رہنما رہتا ہے ۔ نہ صرف مریدین اور وابستگان بلکہ عوام الناس میں سے بھی جو کوئی رجوع کرتا ہے یہ محبت مشن کے علمبردار خلفاء ہر طرح سے دلجوئی فرماتے ہیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگر معاملہ سنگین ہو، زیادہ اہم اور بڑے مسائل کے لئے پھر خلفاء کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ پیرو مرشد سے رجوع کریں۔ کوئی بھی شخص آستانے پر آئے تو مایوس واپس نہ جائے۔ خلفاء کے بس میں نہ ہو تو وہ مرکز سے رجوع کر کے ہر فرد کامسئلہ حل کریں۔

٭ محفلِ ذکرو نعت۔ درس محبت:
خلفاء کا اصل کام لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح اور ان کے دلوں میں محبتِ شیخ ، محبتِ رسول اور محبتِ الٰہی اس طرح سے ڈالنا کہ دنیا کی محبت ، خود غرضیاں ، لالچ ، تکبر جیسی بیماریاں دور ہوجائیں۔ اس کے لئے ہر خلیفہ کا فرض ہے کہ اپنے علاقے میں جیسے ممکن ہو ہفتہ وار یا ماہانہ محفلِ ذکر منعقد کرائے ۔ محفل نعت اور درس محبت کا اہتمام کرے۔ اپنی گفتگو کے ذریعے بھی لوگوں کی رہنمائی اصل منزل کی جانب کرے اور باقاعدہ درسِ قرآن و حدیث کے ذریعے بھی ان کی رہبری کرے۔
ماہانہ گیارھویں شریف کا پروگرام براہِ راست پیرو مرشد سے اور حضور غوث الاعظم کے فیضانِ کرم سے روحانی و باطنی رشدو ہدایت کا منبع ثابت ہوتا ہے۔ اس کا اہتمام کرے ۔ ہو سکے توساتھ لنگر کا بھی انتظام کرے۔ تاکہ لوگوں کی ہر حوالے سے دلچسپی بر قرار رہے۔

٭ سالانہ مرکزی پروگراموں میں مرکز پر پہنچنا:
مرکز انوارِ و تجلیات مخدوم پور شریف میں پیرو مرشد کی زیرِ نگرانی سال میں دو عرس کے پروگرام ہوتے ہیں۔ ایک محرم الحرام میں امامِ عالی مقام شاہِ کر بلا کا عرس اور ایک جمادی الاول میں اعجاز ہادی پیر بادشاہ حضرت سید رسول شاہ خاکی کے عرس کی تقریب خلفاء کے لئے لازم ہے کہ ان سالانہ پروگراموں میں نہ صرف خود شریک ہوں بلکہ اور لوگوں کو بھی ترغیب دیں اور انھیں بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں ساتھ لے کر آئیں۔ ان موقعوں پر لوگوں کے لئے ٹرانسپورٹ اور طعام کا بندوبست بھی خلفاء و ناظمین کی ذمہ داری ہوتا ہے۔

٭ خواتین کے لئے خصوصی پروگراموں کا انعقاد:
خواتین کا کر دار معاشرے میں بہت اہمیت رکھتا ہے کہ ہر بچے کی پہلی
درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے ۔ خواتین کے لئے علیحدہ محفلِ ذکر اور درس کا اہتمام باقاعدہ ماہانہ یا سہہ ماہی بنیادوں پر اپنے علاقے میں کرانا ہر خلیفہ کے فرائض میں سے ہے۔

٭ محبت مشن کے لئے افراد کی وابستگی اور تیاری:
ہر خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ مشن اور سلسلے کے کام کو فروغ دینے کے لئے
ہر طرح سے کوشاں رہے ۔ زیادہ سے زیادہ افراد کو مشن سے وابستہ کرنے کے لئے اپنی گفتگو، کردار اور عمل کے ذریعے ترغیب دے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ افراد کی وابستگی پیر و مرشد سے بیعت کے ذریعے ہو۔ بیعت کا حقیقی مفہوم و تعبیر ان پر واضح کرتے ہوئے بیعت کے لئے لوگوں کو تیار کرے۔
خلفاء کو بیعت کی اجازت نہیں ۔ پیرومرشد فرماتے ہیں کہ بیعت کو ئی مذاق نہیں ۔ آج کل ہر مسجد کا مولوی اپنا بیعت کا نظام چلا رہا ہوتا ہے ۔ عام قسم کے عاملین بھی بیعت کر رہے ہیں۔ یہ سب غلط ہے ہر فرد بیعت کرانے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ بیعت صرف ولیِکامل کے ہاتھ پر کرنی چاہیے اور عوام الناس کو بھی اتنی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں وہ واقعی اس قابل ہے یا نہیں ؟ پرانے وقتوں میں ذرائع آمدورفت اس قدر نہ تھے آنے جانے کا مسئلہ ہوتا تھا۔ اسلئے خلفاء کی مختلف علاقوں میں ڈیوٹیاں لگا کر بیعت کی اجازت دی جاتی تھی جبکہ اب وہ مسئلہ نہیں رہا۔ بیعت ایک ہی جگہ ، ایک ہی مرکز پر ہو تاکہ افراد کی Strength قائم رہے۔

٭ مثالی کردار
خلفاء اور ناظمین نے خدمتِ دین کے لئے خود کو وقف کرنا ہوتاہے اس لئے معاشرے میں اُن کا کردار و عمل بھی سب سے بہتر اور مثالی ہونا چاہئیے ۔ تاکہ وہ شاہِ قلندر کی معاشرے میں بہترنمائندگی کر سکیں ۔ قول و فعل کے تضاد نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ اس لئے کردار و عمل کو بہتر بنانا بنیادی ذمہ داری ہے ۔مشن کا کام علاقے میں تبھی ہو سکتا ہے جب خلفاء اور ناظمین کی زندگی ، ان کا عمل ، ان کی صالحیت ، ان کی سیرت ، ان کا تقویٰ معاشرے میں انہیں باعزت مقام دے رہا ہو ۔
آقا و مولیٰ رسول اللہ نے اسلام کی طرف ، اللہ کی وحدانیت کی طرف لوگوں کو بلایا تو اپنا کردار ان کے سامنے رکھا ۔ آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں پہاڑ کے پیچھے سے ایک فوج آ رہی ہے تو کیا تم میری بات مان لوگے ۔ سب نے بیک زبان اقرار کیا ۔ جی ہاں ہم مان لیں گے کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں ۔اس کے بعد آپ نے توحید اور رسالت کی دعوت دی ۔ اسی طرح صحابہ کرام نے شرقاً غرباً پھیل کر اپنی سیر ت وکردار کے ذریعے اسلام کی روشنی کو پھیلایا ۔ اسی طرح پھر صوفیائے کرام ، اولیاء اللہ نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو اسلام کی دولت سے بہرہ وَر کیا ۔
کام کی خوبصورتی کردار و عمل سے آتی ہے اور جو لوگ دین کا کام ، محبت مشن کا کام سر انجام دے رہے ہوں انہیں ہر لمحہ اپنا احتساب کرتے رہنا ہے اور خود کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہے ۔

٭ علاقائی پروگرام
شاہِ قلندر پیر مستوار کے حکم کے مطابق ہر خلیفہ اور ہر ناظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں وہاں کی روایات اور رجحانات کو دیکھتے ہوئے مخلف پروگرام منعقد کرے ۔ ان پروگراموں میں محفلِ نعت ، محفلِ ذکر و فکر ، ہفتہ وار سی ڈیز اور خواتین کے پروگراموں کا انعقاد شامل ہے ۔ ان پروگراموں کے ذریعے خلفاء اور ناظمین مقامی لوگوں کے حالات ، ان کی ذہنی سوچ اور فکر کے مطابق انہیں مؤثر انداز میں محبت مشن کا پیغام دیتے اور انہیں اس مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں اور ہر سال آستانہ عالیہ پر ہونے والے پروگرام عرس امام عالی مقام ، عرس پیر سید رسول شاہ خاکی اور ماہانہ گیارہویں شریف اور دیگر اہم موقعوں پر منعقد ہونے والے روحانی اجتماعات میں بڑھتی ہوئی لوگوں کی شمولیت ان خلفاء اور ناظمین کی محنت اور کاوشوں اور شاہِ قلندر پیر مستوار کی ان پر خصوصی توجہ کا بےّن ثبوت ہے ۔

٭ استقبالیہ ریلی
شاہِ قلندر پیر مستوار جب سالانہ دورے پر مختلف شہروں اور علاقوں میں تشریف لاتے ہیں تو خلفاء اور ناظمین اپنی استطاعت کے مطابق شاہِ قلندر کے استقبال کے ضروری انتظامات کرتے ہیں ۔ اس کے لئے تقریب یا پھولوں ، جھنڈوں ، بینروں اور نعروں کی شکل میں استقبالیہ ریلی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو مقامی لوگوں کے لئے ایک خوشگوار تاثر پیدا کرتا ہے اور انہیں ایک ولی اللہ کی اس شہر یا علاقے میں آمدسے باخبر کرتا ہے تا کہ جو چاہے وہ اس مردِ قلندر کی صحبت سے فیضیاب ہو سکے اور علمِ معرفت اور توحید کی مے سے اپنے قلب و ذہن کو منور کر لے۔

٭ سماجی فلاح و بہبود کے کام
اللہ سے سچا پیارکرنے والے اللہ کے بندوں سے سچا پیار کرتے ہیں اور سماجی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ ہر خلیفہ اور ناظم اپنے اپنے علاقوں میں فلاح و بہبود کے کام کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ رمضان المبارک میں غریبوں کے لئے راشن کا اہتمام کرنا ، غریب بچیوں کے جہیز کے لئے مدد کرنا ، مساجد اور مدارس کے لئے ہر طرح سے مدد و تعاون کرنا ، بلڈ بینکس ، لائبریریز، تعلیمی اداروں کا قیام ۔ اس طرح کے مختلف کاموں کے ذریعے اپنی استطاعت کے مطابق مختلف علاقوں میں مختلف خلفاء اور ناظمین سماجی فلاح و بہبود میں حصہ لے رہے ہیں ۔
اس وقت ملک بھر میں جہاں جہاں خلفاء و ناظمین موجود ہیں وہ مخلتف فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ بہت سی جگہوں پر ان کے قائم کردہ اسکول اور لائبریریوں سے عوام فائدہ اٹھا رہی ہے۔

٭ سیاسی و سماجی مؤثر رابطے
خلفاء اور ناظمین معاشرے کے فعال اور متحرک افراد ہیں ۔ جو سیاسی اور سماجی حلقوں میں اپنی ایک شناخت اور پہچان رکھتے ہیں ۔ دیگر جماعتوں اور تنظیمات سے رابطے میں رہتے ہیں ۔ اور علاقائی سطح پر دیگر تنظیمات کے زیرِ اہتمام ہونے والے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں اور ان پروگراموں میں علاقے کے با اثر طبقے کو محبت مشن کے نمائندہ کی حیثیت سے شاہِ قلندر کاپیغام دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عوام الناس کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں ۔ یہ خلفاء اور ناظمین کی ذمہ داری ہے۔

٭ پر امن معاشرے کا قیام
خلفاء اور ناظمین کا فرض ہے کہ تمام پیر بھائیوں کے حالات سے آگاہی رکھیں ۔ اگر تنظیمی یا کسی دینی و دنیوی معاملے میں پیر بھائیوں میں اختلاف ہو جائے تو ان اختلافات کو دور کرائیں اور پیر بھائیوں میں پیار محبت کی فض قائم کریں اور اسی طرح اس حلقے میںمعاشرے کے افراد کو شامل کرتے ہوئے محبت معاشرے کے قیام میں مؤثر کردار ادا کریں ۔ محبت مشن کے داعی (خلفاء و ناظمین) کا لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ، پیار محبت بانٹنا ، لوگوں کی تکالیف دور کرنے کے لئے خود وقت ، جان اور مال خرچ کرناماحول میں مثبت تبدیلی کا باعث اور محبت معاشرے کے قیام کی بنیاد ہے ۔

٭ شاہِ قلندر کی مصروفیات سے آگاہی
خلفاء اور ناظمین کا فرض ہے کہ شاہِ قلندر پیر مستوار کی مصروفیات سے حتی الامکان آگاہ رہیں ۔ ملک بھر کے دورہ جات ، بڑے بڑے سالانہ پروگرام جو ملک کے مختلف علاقوں میں ہوتے ہیں ان سے آگاہ رہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کی مناسب رہنمائی کریں اور انہیں شاہِ قلندر کی آستانہ عالیہ پر موجودگی اور عدم موجودگی سے آگاہ کریں تاکہ لوگوں کو شاہِ قلندر سے رابطہ رکھنے میں دقّت کا سامنا نہ کرنا پڑے نیز لوگوں کو خلفاء و ناظمین کی اہمیت کا احساس رہے اور وہ انہیں اپنا ہمدرد اور بہی خواہ جانیں ۔

پیغاماتِ قلندر

طالبانِ حق کے شاہِ قلندر کا پیغام

اے حق کے متلاشیو اور شرابِ معرفت کے پیاسو!
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ان گنت شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب ، جناب محمد مصطفی کریم کا امتی بنا یا ،کیونکہ اگر وہ چاہتا تو ہمیں پیدا ہی نہ کرتا ، یا پیدا کرتا تو کسی پتھر کی شکل میں پیدا کرتا ، یا کسی درخت کی شکل میں پیدا کرتا ، یا کسی حیوان کی شکل میں پیدا کرتا ، مثلاً چوہا ، بلا ، کتا ، مگر از حد شکر کہ انسان بنایا اور کسی اور نبی اور رسول کی امت میں پیدا نہ کیا بلکہ اس نبی اور رسول کی کی امت میں پیدا کیا ، جس پر چرند ، درند ،پرند، نباتات ، حیوانات ، انسان ، ملائکہ رشک کرتے ہیں ۔ بلکہ ان کا رشک کرنا تودرکنار خود اللہ پاک ہر وقت لاتعداد درود و سلام کے تحفے اور اپنی پر مہک برکات ، اپنے محبوب پر نچھاور کررہا ہے اور اللہ پاک کا ایک بار درود و سلام بھیجنا ایسا ہے کہ اگر اس کا راز کھل جائے تو اس جہان سمیت سارے جہانوں میں انوار و تجلیاتِ رب کا اس قدر نزول ہو کہ پھر سب جہانوں کا چپہ چپہ رحمتِ الٰہی کی آغوش میں نظر آئے اور ان جہانوں کے باسی اپنے دل میں چمکِ نورِ ذات کو پا کر مست در شرابِ عشق ہو جائیں ۔
اے حق کی تلاش کرنے والو اور دینِ حق کے عاشقو ! آج امتِ مسلمہ کا بڑا عجیب حال ہے اور یہ امت ظاہری اور باطنی زوال کا شکار ہے ۔ نئے نئے دین ایجاد ہو رہے ہیں ۔ غلط مسالک ایجاد ہو چکے ہیں ۔
بد عقیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ نبوت و مہدیت کے کئی جھوٹے دعویدار بن چکے ہیں ۔ اور مستقبل میں کئی اور بن جائیں گے ، کیونکہ پیارے مصطفی کریم نے جو علاماتِ قیامت بتائی تھیں ، یہ سب کچھ اس کے مطابق ہو ر ہا ہے اور بزرگانِ دین اولیائے کرام نے اپنے اپنے وقت میں جو کچھ فرمایا تھا ، آخر زمانے کے متعلق ، بالکل آج اسی طرح ہو رہا ہے ۔ اہلِ دل کے لئے یہ تمام خرابات جو آج کل رونما ہو رہے ہیں یا ہوں گے ، یہ نئی بات نہیں ہے ۔ کیونکہ اہلِ دل آقائے نامدار کے فرمودات سے آگاہ ہیں اور اولیائے کرام کے درس سے فیض حاصل کئے ہوئے ہیں ۔
آج ہمیں اس امر کی ضرورت ہے کہ جو کچھ ہمارے اسلاف یعنی بزرگانِ دین اور اولیائے امت فرما گئے ہیں ، ہم اس کی پیروی کریں اور ان کے فرمودات اور اقوالِ زریں فقط ہمارے لئے صحیح راستہ فراہم کر سکتے ہیں ۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے ولیوں کی زبان سے نکلے ہوئے ارشادات مختلف کتب کی شکل میں ہمیں آج بھی دستیاب ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ اگر ہم صحیح راستہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم آج سے کئی سو سال پہلے گزرے ہوئے اللہ کے پیاروں کی کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
اور قلندر یہ بات وثوق سے کہتا ہے کہ اللہ والوں کی کتابوں سے اللہ مل جاتا ہے ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.