بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

ہمیں آج کل کے نئے نئے مذہبوں سے ، نئے نئے مسلکوں سے اور نئے نئے عقیدوں سے ، جھوٹے روحانی دعویداروں سے بچنا چاہئیے ۔ اور ان لوگوں نے جو نئی راہیں اپنی طرف سے نکالی ہوئی ہیں اور اپنی طرف سے جو غلط قسم کا لٹریچر شائع کیا ہوا ہے اس سے بچنا چاہئیے ، اور ان غلط کتابوں کا مطالعہ ہرگز نہیں کرنا چاہئیے کہ اس سے ایمان چلا جائے گا ۔
اے متلاشیانِ حق! یہ دور پُر فتن ہے ۔ ہم قیامتِ صغریٰ سے گزر رہے ہیں ۔ اس دور میں ہر طرف خرابی ہی خرابی ہے ، فحاشی ہے ، عریانی ہے ، جھوٹ ہے ، فریب ہے ، ادب ختم ہو چکا ہے ، محبت اٹھ گئی ہے ، بد عقیدگی عام ہے ، لباسِ فقر میں بے شمار راہزن موجود ہیں ۔جبہ و دستار کا جادو چلتا ہے ۔ ظاہر میں چمک ہے ، باطن سیاہ ہے ، طریقت کے درس سے نا آشنا پیرِ طریقت ہیں ، شریعت کی روح کو نہ سمجھنے والے رہبرِ شریعت ہیں ، بے عمل حکمران ہیں ، ظلم کا بازار گرم ہے ، عدل و انصاف ختم ہے ۔ کوئی پرسانِ حال نہیں ، رحم اور ترس نام کی چیز نہیں ، دین سے دوری ہے ، آقائے نامدار سے دوری ہے ۔
تو میرے پیارو! ایسے حالات میں ایمان کو بچانا بڑا مشکل ہے اور ایسے حالات میں جس نے فقط ایمان بچا لیا ، وہ سمجھو کہ اس دورمیں ولی ہے ۔ تو فارمولا قلندر نے آپ کو بتا دیا ہے ۔ اب اس پر عمل کرنا آپ کا کام ہے ۔ یقینا جو عمل کریں گے ، وہ اس پر فتن دور کے فتنوں سے بچ جائیں گے اور جو عمل نہ کر سکا ، وہ اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہو گا ۔ جو ہمارا کام تھا وہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے اور پیارے مصطفی کریم کی رحمت سے پورا کیا اور یقینا قلندر کا یہ پیغام متلاشیانِ حق ، سچ کو ڈھونڈنے والے اورشرابِ معرفت کے پیاسوں کے لئے خاص رازِ رب تعالیٰ ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ جلّ شانہ‘ اس پیغامِ حق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !

﴿ محبت مشن ﴾

محبت مشن دعوتِ ذکر اللہ و ذکرِ رسول دیتا ہے اسلام کی محبت کے لئے کوشاں ہے ، روحانیت کے فروغ کے لئے روا ں دواں ہے ۔ اسی سلسلے میں خواتین میں بھی کام اللہ کے فضل و کرم سے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظرِ رحمت سے شروع کیا گیا ہے جس میں کامیابیوں کو دیکھ کر ہر ذی شعور حیرت زدہ ہے ۔ یہ سب اللہ کی مدد سے ہوا ہے اور اس مشنِ محبت کا خود اللہ ہی مدد گار ہے ۔ محافلِ میلاد کے جو پروگرام گھر گھر شروع کئے گئے ہیں ان سب کا مقصد اسلام اور روحانیت کا فروغ ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ جن گھروں میں بیماریاں ، مصیبتیں ، جادو ، جنات ، نظرِ بد ، مشکلات ، بے چینیاں ، آپس میں لڑائیاں ، رزق کی کمی ، پیسے میں بے برکتی ، دین سے دوری اور اولاد کی نافرمانی یہ تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں وہاں پہ اگر سرکار دوجہاں کی محفلِ میلاد کا انعقاد کیا گیا ہے تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے بتدریج یہ برائیاں ختم ہوتی چلی گئیں اور وہ گھر امن و سکون کا گہوارہ بن گئے اس میں حیرت کی کوئی بات اس لئے نہیں کہ یہ محفل پیارے مصطفی کریم کی ہے اور سرکار کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ اللعالمین ، یعنی تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے تو جب سرکار کا ذکر جس گھر میں ہو گا وہاں پہ رحمت ضرور ہو گی کیونکہ سرکار رحمتِ دو عالم ہیں اور یہ مشاہدے سے ثابت ہو چکا ہے ۔ اسی ضمن میں ایک ایمان افروز واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ جس سے ہر مسلمان کا ایمان تازہ ہوتا ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے والد کریم حضرت شاہ عبد الرحیم بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ محفلِ میلاد میں میرے پاس تھوڑے چنے تھے تو میں نے وہی رکھ کر محفلِ میلا د کا ختم دلوایا اور اس کے بعد میرے دل میں یہ کھٹکا تھا کہ آیا یہ قبول ہوا ہے یا نہیں ۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ وہی چنے سرکا کے سامنے پڑے ہیں اور سرکار مسکرا رہے ہیں تو اس طریقے سے ان کے دل کا کھٹکا دور ہو گیا دل کو طمانیت ملی اور روح کو خوشی ملی ۔ اس سے ثابت ہوا کہ محفلِ میلاد ہر گھر میں کتنی ضروری ہے ۔ ہم مسلمانوں کے اکابرین اپنے گھروں میں محفلِ میلاد کروانا لازمی سمجھتے تھے اور جب شاہ ولی اللہ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم یہ اعلیٰ بزرگانِ دین محفلِ میلاد کرواتے ہیں تو ہم سب مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے بزرگانِ دین کی پیروی کرتے ہوئے لازمی طور پر اپنے اپنے گھروں میں محافلِ میلاد کا اہتمام کیا کریں کہ اسی میں اللہ کے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام خوش ہوتے ہیں اور جس امتی پر رسول کریم خوش ہوں اس کا گھر ہر قسم کی مصیبتوں سے پاک ہو کر خوشیوں کا محل بن جاتا ہے ۔محبت مشن دراصل یہی ہے کہ ہر گھر میں محبت ہی محبت ہو اور محبت ذکرِ مصطفی سے ہی ہر گھر کو مل سکتی ہے ۔ تمام مسلمانوں کو چاہئیے کہ ہر گھر میں محفلِ میلاد کو رواج دیں ۔


شاہِ قلندر کا پیغام امتِ مسلمہ کے نام

سب تعریفیں اللہ پاک کی جو اندازے سے باہر کرم کرنے والا ہے اور ازحد درود و سلام پیار مصطفی کریم کے نام جو اندازے باہر رحمت کرنے والے ہیں ۔
برادرانِ اسلام خواتین و حضرات ! بندۂ ناچیز نے سوچا کہ اس کشمکش کے دور میں جب ہر طرف لادینیت چھائی ہوئی ہے اور بد عقیدگی کی فضا عام ہے اور نفس پرستی پر فخر کیا جارہا ہے ۔ اگر کوئی دنیا دار ہے تو دنیا کے کسی شعبے میں خلوصِ نیت سے کام نہیں کرتا ۔ اگر کسی کو علم کا دعویٰ ہے تو عمل سے دامن صاف ہے ۔ اگر کوئی روحانیت کا دعویٰ کرتا ہے تو شرائطِ طریقت سے نابلد ہے ۔ اگر کوئی دکھی انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کو دکھ کا اندازہ ہی نہیں ۔ الغرض ہر شعبہ چاہے اس کا تعلق دنیا سے ہو چاہے دین سے ہو ، چاہے روحانیت سے ، الجھا ہوا ہے اور اپنے اصل مقاصد کھو چکا ہے ۔ فرقہ واریت کا دور دورہ ہے اور اس طرح اسلام دشمن عناصر اپنے گندے عزائم میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ فرقہ واریت کے ذریعے تمام مسلمان جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ، ان کو جدا جدا کر دیا گیا ہے ۔ وہ مسلمان جو دوسرے مسلمان کے لئے اتنا درد رکھتے تھے کہ اگر ایک مسلمان ایک وقت مسجد میں نہیں جاتا تھا تو سب مل کر اس کو پوچھنے چلے جاتے تھے ، آیا کہ وہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے ۔ لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔ بغض و عناد اور نفرت کی آگ جل رہی ہے ۔ یہ سب کچھ اغیار کا تماشہ ہے ۔ا ن سنگین حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک چیز کا اپنانا انتہائی ضروری ہے اور اس کا نام ہے محبت !
یہ ایک ایسا نام ہے کہ تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا اس کا کام ہے ۔ ورنہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہر انسان بے نام ہے ۔
اس اعلیٰ مقصد کے لئے بندۂ ناچیز پیر مستوار قلندر نے ایک مشن شروع کیا ہے جو کہ سیاست اور فرقہ واریت سے پاک ہے جس کا مقصد تمام انسانوں کا آپس میں محبت کرنا اور اللہ اور رسول سے محبت کرنا ہے ۔ اس مشن میں شامل تمام مرد اور عورتیں خلوصِ نیت سے کام کریں اور بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں اور اس مشن کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی محافل میں شرکت کریں ۔
مرد اور خواتین جب تک جذبۂ ایمانی کے ساتھ کام نہیں کریں گے ، تب تک منزل کو پانا دشوار ہے ۔ ہمارا مقصد تمام انسانوں کا آپس میں محبت کرنا اور راہنماکے تصور میں چلتے ہوئے اللہ اور رسول کی محبت میں مست ہونا ہے ۔
ایک سوال اکثر ذہنوں میں گردش کر رہا ہے اور متعدد بار اس بندۂ ناچیز سے پوچھا بھی گیا ہے کہ آئندہ آپ کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، یا سیاست میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ تو اس کے متعلق میں نے واضح طور پر پہلے بھی لکھ دیا ہے اور بعض تقاریر میں بھی بیان کر چکا ہوں کہ آئندہ ہمارا کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاست غرض ہے ۔ مجھے یہ علم ہے کہ لوگ اس قسم کا سوال کیوں اٹھاتے ہیں ۔ اس کی وجہ پورے ملک میں سلسلہ اور مشن کا کام ہے ۔ چونکہ دن رات اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ اور مشن کا کام تیزی سے پھیل رہاہے ، بلکہ ملک کے کونے کونے تک پیغامِ قلندر پہنچ چکا ہے ۔ تو اس کے پیشِ نظر بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ شاید آئندہ یہ کوئی سیاسی جماعت بنانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ لیکن ہمارا سیاست اور فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم صرف پیغامِ محبت تمام انسانوں تک پہنچا رہے ہیں ۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو آپس میں محبت عطا فرمائے ۔ آمین!

محفلِ میلاد النبی

بے حد و لاتعداد تعریف اس پیارے مالک کی جس نے جسدِ خاکی کو اپنی پیاری روح سے شاندار بنا دیا اور فہم و فراست سے نواز کر اس بات کی طلب قلوب و اذہان میں روشن کر دی کہ ایسی پیاری مخلوق کے خالق کی تلاش کی جائے اور پھر خود ہی اس کا سامان مہیا کرد یا۔ انبیاء و رسول بھیج بھیج کر اپنی محبت کے گلستان کو جگمگاتا رہا اور بے شمار گلشنِ محبتِپروردگارِعالم میں نغماتِ محبت گنگنانے والے خوش آواز اور خوش دل انسان اپنی اپنی داستانِ محبت رقم کرتے رہے ۔ انبیاء و رسولوں کے بعد اللہ کے چاہنے والے موجود رہے ۔ جن کی ڈیوٹی انبیاء جیسی ہے ، کیونکہ آقا کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہے اور سرکار کی تعلیمات مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ مداوائے غمِ انسانیت بھی ہیں ۔ بیماروں کو شفایاب ہونے کے ساتھ ساتھ مریضِ دل بھی نسخۂ اکسیر حاصل کر سکتا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : ’’ میرے دوست میری چادر کے نیچے ہیں ۔‘‘ سرکار کے دوست سرکار کے زمانے میں بھی تھے اورسرکار کے ظاہری دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی دوست موجود ہیں ۔ دوست اس وقت بھی سرکار کی چادر کے نیچے تھے اور دوست آج بھی شفقتِ رسول کے نیچے پروان چڑھ رہے ہیں ۔ اس طرح دین کو قائم رکھنا ، دین کو عام کرنا اور تمام انسانیت کے قلوب کو اللہ کے ذکر سے مزین کرنا ، کردار کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نفس کی تعمیر و ترقی کرنا ، دل کی دنیاؤں کو علومِ مافوق الفطرت سے پُر کرنا ، بے چین روحوں کو ابدی طمانیت بخشنا ، یہ کام اُس مردِ قلندر کا ہوتا ہے جو تابعداری ءِ مصطفی کریم میں اپنے مشن کو لے کر چل رہا ہو اور ان خصوصیات کا حامل ہی مرشدِ کامل ہوا کرتاہے ۔
اب جو لوگ ایسے رہنما کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہوں ، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مکمل اطاعتِ مرشد میں اپنی خواہشات کو چھوڑ دیں اور شیخِ کامل کی مرضی کو تلاش کریں ۔ یہ ایک بہت بڑا نقطہ ہے ۔ کسی بھی طالبِ حق کو حق تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے اس نقطہ پر دھیان دینا ہو گا ۔ مریدِ مخلص کے لئے ضروری ہے کہ مکمل تابعداری ءِ مرشد میں رہے اور استقامت کا اس قدر مظاہرہ کرے کہ اسی تابعداری میں چلتے چلتے ایک دن وہ تابعداری ءِ نبی کریم میں جا پہنچے ۔
تصورِ شیخ روحانیت میں اسمِ اعظم کا سا اثر رکھتا ہے ، جس طالبِ حق نے اپنے مرشدکا تصور پکا کر لیا ، اس پر شیطان کا کوئی داؤ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ روحانیت کی ابتداء اور انتہاء تصور ہے ۔
اس مشن سے وابستگان کو چاہئے کہ وہ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ، لیٹتے یہ دھیان رکھیں کہ ان کا مرشد ان کو دیکھ رہا ہے ۔ اس طرح وہ مکمل باطنی طور پر رابطۂ شیخ میں رہیں گے اور جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ افعالِ بد سے دُور رہیں گے اور بری خصلتوں کو چھوڑنے کا نام ہی تصوف ہے ۔ جب تک ان کی بری عادات دور نہیں ہو سکتیں ، اس وقت پاک صفات نہیں آ سکتیں اور جب تک پاک صفات نہ آئیں ، کوئی بھی تشنگانِ علمِ معرفت میں سے واقفِ رموزِ ذات نہیں ہو سکتا کہ ہزاروں لوگ اس راستے پر چلتے ہیں اور اکثر بھٹک جاتے ہیں ۔ منزل صاحبِ مرشد کا مقدر ہوا کرتی ہے ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ فی زمانہ مریدِ مخلص اور مرشدِ کامل خال خال ہے ۔ چند ایک لوگ مبتلائے حال نظر آتے ہیں مگر صاحبِ حال کوئی نظر نہیں آتا۔ علمِ معرفت کو تصوف کی کتابوں سے پڑھ کر بیان کرنا اور مصدرِ علمِ معرفت ہونا اور بات ہے ۔ چھوٹا برتن ہمیشہ حاصل ہونے والی چیز کو ایک حد کے بعد ضائع کرنے لگتا ہے اور بڑے برتن میں کثیر مال اکٹھا ہو جاتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ جو کچھ برتن میں ہوتا ہے ، وہی اس سے باہر نکلتا ہے ۔ اب صاف ظاہر ہے کہ جتنا برتن میں ہوگا، اتنا ہی نکلے گا ۔
بعض چند لوگوں کو طالب بنا لیتے ہیں اور آخر میں استعدادِ باطن نہ ہونے کی بنا پر ان کے سامنے عاجز نظر آتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگوں کے طالبین توہمات و خطرات میں پڑ کر اپنے ظاہر و باطن سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا مشن دورِ حاضر میں روحانیت کی تعلیم عام کرنا ہے اور جو روحانیت کا معنی تھا یعنی کہ ’’ محبت‘‘اس کو عام کرنا ہے ۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں روحانیت کی شکل بگاڑ دی گئی ہے اور اُس کے بہت سارے نمونے منظرِ عام پر ہیں ۔ اب سادہ لوح درویش ان من گھڑت سلسلوں میں داخل ہو کر اپنے قلب کو روشن کرنے کی بجائے سیاہ کرتے ہیں ۔ ہمارا مشن اصل روحانیت کی تعلیمات کو طالبانِ حق تک پہنچانا ہے ۔ یا یوں کہیے کہ عشقِ اللہ اور عشقِ مصطفی کریم کے چراغوں کو ہر دل میں جلانا ہے ۔ اس لئے ہم نے یہ مشن شروع کیا ہے اور اس میں شامل مرد اور خواتین دونوں ہیں ۔ اللہ کے فضل و کرم سے خواتین میں بھی روحانیت کے اس عظیم مشن کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے نتائج خواتین میں بھی زبردست ہیں ۔
یہ مشن بے لوث ہے اور اس کا مقصد اللہ اور رسول کی رضا کو تلاش کرنا ہے ۔ جو بھی اللہ اور رسول کی خاطر آئے گا ، دنیا و آخرت کی دولت سے مالا مال ہو جائے گا ۔ یقین اس میں شرط ہے ۔ اس مشن سے جو بھی وابستگان ہیں ، ان مرد و خواتین کے لئے یہ سخت حکم ہے کہ وہ
(1) نماز کی پابندی کریں
(2) وظائف کی پابندی کریں
(3) تصورِ شیخ کی پابندی کریں
کہ ان کی نجات اور ان کی منزل اور ان کا مقصد انہی تین نکات میں چھپا ہوا ہے ۔ انشاء اللہ جو ہمارے ساتھ اس سفرِ محبت میں ہم سفر ہوگا ، یقینا تسکین سے معمور اس کا جگر ہوگا اور اس کی تمام ظاہری و باطنی حاجات خود اللہ پاک حضور اکرم کی رحمت کے باعث پوری کرے گا ۔ اگر کوئی مریض ہے تو میخانۂ غوثِ اعظم سے اس کا علاج ہو گا اور اگر نادار و کمزور ہے تو قوتِ حیدرعلیہ السلام سے خیرات ملے گی ۔ اگر کوئی اس قدر غریب ہے کہ اس کا گھر تک نہیں ہے تو اس کو ساےۂ رحمت اللعالمین میں گھر ملے گا ۔ اگر کوئی مظلوم ہے تو اس کے لئے حضور غوثِ اعظم نے فرما دیا ہے کہ’’ میرے مرید تو فکر مت کر ، میں تیرے دشمن کو قتل کر دوں گا ۔‘‘ یعنی مظلوم کا ہاتھ دستگیرِ کامل کے ہاتھ میں ہوگا ۔ الغرض اس مشن میں جو کوئی حاجات لے کر چلے گا ، وہ اللہ پاک اپنے محبوب کے صدقے پوری فرمادے گا ۔ مگر طالبانِ حق کو چاہئیے کہ وہ اپنا مقصد اور اپنی منزل اور اپنی حاجت فقط عشقِ اللہ اور عشقِ مصطفی کریم ہی رکھیں کہ اس حاجت کے حاصل ہونے سے دیگر تمام دنیاوی اور اخروی اور باطنی حاجات از خود پوری ہو جاتی ہیں ۔
دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سفرِ عشق میں رحمت اللعالمین رفیق عطا فرمائے ۔آمین ! سلطانی پنج تن کے در سے ملی ہے
شوکتِ دنیا و دیں انہی کے گھر سے ملی ہے
توحید و رسالت کی شناخت بھی محمود
بے شک فاطمہ کے اُس گوہر سے ملی ہے


دعائیں (ہر فرد کے لئے)

وظائف وہ ہوتے ہیں جو مقررہ تعداد، مقررہ اوقات اور کسی بھی مقصد کے لئے بطورِ خاص باقاعدگی سے کئے جاتے ہیں ۔ ان کے مثبت اور منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں اگر کسی مرشدِ کامل کی اجازت اور رہنمائی و سرپرستی کے بغیر کئے جائیںاسی لئے ہمیشہ مرشدِ کامل کی اجازت سے اور رہنمائی سے ہی وظیفہ کرنا چاہئیے۔ صرف کتابوں سے پڑھ کر کرنے سے نقصان ہوتا ہے ۔ ذیل میں شاہِ قلندر پیر مستوار کی عوام الناس اور مریدین کے لئے وہ دعائیں دی جارہی ہیں جن کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ۔ جو صرف مثبت اور اچھے اثرات ہی دیتی ہیں۔

درود پاک
یہ وہ عبادت ہے جو قطعی القبول ہے ۔ کوئی بھی پڑھے قبول کیا جاتا ہے ۔ درود پاک جو بھی پڑھا جائے برکات کا حامل ہوتا ہے ۔ کثرت سے پڑھنا چاہئیے ۔ رہنمائی کے لئے ایک درود پاک دیا جا رہا ہے ۔ ہر روز ایک تسبیح لازم کر لینی چاہئیے ۔
صلی اللّٰہ علی حبیبہ محمد وآلہ وسلّم

استغفار
اپنے گناہوں پر احساسِ ندامت کے بعد توبہ تائب ہونا اور اللہ پاک ، سرکار دوعالم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ عالیہ میں جا کر معافی مانگنا بندوں کو گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے ممنوع اور حرام چیزوں کے قریب جانا ، فرائض سے غفلت اور کوتاہی کرنا باعثِ ندامت بنتا ہے۔ مومنین
کے لئے سنتوں ، مستحبات اور نفلی کاموں میں بھی کمی بیشی باعث توبہ بنتی ہے ۔ اولیاء کرام ، صوفیاء ، قلندر لوگ اگر ایک لمحے کے لئے بھی غافل ہو جائیں تو ندامت کے آنسو بہاتے چلے جاتے ہیں ۔ ہر ایک کے لئے نیکی اور تقویٰ کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ اللہ والوں کی بات اور عام شخص کی بات میں زمین آسمان جنتا فرق ہوتا ہے ۔ کثرت سے استغفار کرنا چاہئیے ۔
استغفر اللّٰہ الذی لا الٰہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ

نوافل
تہجد کے وقت قیام ، رکوع و سجود کی لذت و حلاوت وہی سمجھ سکتے ہیں ۔ جو اس کا ذائقہ خود وہ کام کر کے محسوس کرتے ہیں ۔نوافل جس قدر ممکن ہوں وہ پڑھنے چاہئیں ۔
سیدہ معصومہ کائنات خاتونِ جنت کے نام پر ہر روز بعد نمازِ مغرب یا عشاء دو رکعت نفل ادا کرنا باعثِ خیر و برکت ہے ۔ اس کے علاوہ تہجد کے نوافل بھی باقاعدگی سے ادا کرنے چاہئیں ۔

قرآن پاک

قرآن پاک کی تلاوت ، اس کو سمجھنا ، اس پر عمل پیرا ہونا اور اس کے فہم کو دوسروں تک پہنچانا افضل کام ہے ۔
سرکار دو عالم نے فرمایا :
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘
ترجمہ: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘
جس قدر ہو سکے ہر روز قرآن پاک کی تلاوت باقاعدگی سے کرنی چاہئیے۔ محبت اور انہماک سے پڑھنا چاہئیے ۔ اور یہ خواہش اور دعا ہو کہ اللہ پاک معرفت و حقیقت کے راز جو اس قرآن میں پوشیدہ ہیں ۔ ان سے آگاہ فرمائے ۔ اور عملی زندگی میں قرآن نافذ العمل ہو جائے ۔

فاتحہ خوانی ۔

شجرۂ طریقت قادریہ قلندریہ اپنے اسلاف ، اولیاء اللہ ، تمام مومنین اور مومنات کے لئے فاتحہ خوانی ، اول آخر درود پاک ، سورہ فاتحہ ، قل شریف پڑھ کر ایصال ثواب کرنا ان اولیاء کرام کے فیوضات و توجہ کے بہت اچھے روحانی اثرات عطا کرتا ہے ۔ اس لئے اگر ممکن ہو تو ہر روز ، ورنہ ہفتے میں ایک بار ضرور فاتحہ خوانی کرنی چاہئیے اور شجرہ شریف باقاعدگی سے پڑھنا چاہئے ۔

بیماری

٭ اگر بخار ، درد یا تکلیف ہو تو آیت کریمہ
لا الٰہ الّا انت سبحا نک انّی کنتُ من الظٰلمین
اکتالیس (41 ) بار ، الحمد شریف بھی اکتالیس (41)بار مریض خود پڑھے۔ شفا ہو گی۔
٭ بیماری میں سورۃ اخلاص دو سو (200) بار پڑھے صحت یاب ہو گا ۔
٭ آیت کریمہ ایک سو گیار ہ (111) مرتبہ اوّل آخر تین بار درود شریف کے ساتھ ہر روز پڑھے ۔ جب تک بیماری دور نہ ہو جائے ۔ بیماری دور ہو جائے تو چھوڑ دے ۔

ترانہ

دم مست قلندرخاکی شاہ دم مست قلندر خاکی شاہ
حسنین کے ہیں یہ دل جانی
شیدائے حیدر خاکی شاہ
دم مست قلندر خاکی شاہ دم مست قلندر خاکی شاہ
دل میں ان کے مکہ مدینہ نورِ خدا سے روشن سینہ
زہد و تقویٰ ان کا قرینہ ولیوں میں خاکی ہیں نگینہ
یہ کامل بھی ہیں عامل بھی
عرفان کے سمندر خاکی شاہ
دم مست قلندر خاکی شاہ دم مست قلندر خاکی شاہ
کھلتی کلیا ں ان کا تبسم پیار بھرا ہے ان کا تکلم
درس ہے ان کا موجِ تلاطم ذکرِ نبی میں رہتے ہیں گم
غوث الاعظم کے جلووں کے
ہاں دیکھو مظہرخاکی شاہ

دم مست قلندر خاکی شاہ دم مست قلندر خاکی شاہ
اللہ ہی اللہ ان کی صدائیں مقبولِ رب ان کی دعائیں
اللہ کی ضرب لگائیں فیض وکرم کے در کھل جائیں
اک جام تمہارا پینے کو
آیا ہے کوثر خاکی شاہ
دم مست قلندر خاکی شاہ دم مست قلندر خاکی شاہ
کوثر بریلوی

<< پیچھے :: فہرست ::

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.