بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

برسوں سے آپ کا معمول ہے کہ صبح ٹھیک (3) تین بجے بستر چھوڑ دینا اور یا د الہٰی میں گم ہوجانا، کبھی سجدہ ریزیاں ، کبھی ذکر اذکار اور کبھی دعاؤں اور التجاؤں کے رنگ لئے اُن لمحوں میں جب مادہ پرستی میں ڈوبی خواتین گہری نیند کے مزے لیتی ہیں۔ امی حضور ان لمحوں میں اپنے رب کو منانے میں مصروف ہوتی ہیں اور کیوں نہ ہوں۔
ایک جہان جس گھرانے سے رہنمائی لیتا ہے۔ جن کا ہر عمل ،ہر کام قابل تقلید سمجھا اور جانا جائے ان سب کو ایسا ہی مثالی ہونا چاہیے ۔ اہلِ محلہ کے دکھ درد میں شریک رہنا ۔ خواتین کے مسائل کو دن بھر حل کرنے میں لگے رہنا، ساتھ میں مہمانوں کے لئے کھانے ، چائے کا بھی دھیان رکھنا آپ ہی کے پر خلوص جذبوں کا اظہار ہے ۔ کہ
جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
پیر و مرشد شاہِ قلند رجب کبھی ملک بھر کے دورہ جات اور محافل کے سلسلے میں دیگر شہروں میں تشریف لے جاتے ہیں تو بعد میں پریشان حال خواتین کی رہنمائی اور تعویذات کا کام بھی امی حضور خود سرانجام دیتی ہیں۔ اللہ پاک ہم خواتین کو بھی ان کے جیسا ذوقِ عبادت عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین)

شاہِ قلندر کی جلوہ افروزی
اس عالم ناسوت میں اللہ کے محبوب و مقرب بندوں کی آمد کا اعلان پہلے سے کیا جانا سنتِ الٰہیہ ہے۔ کچھ لوگ اپنی نیکیوں اپنے اعمال کے سبب اعلیٰ مقامات پاتے ہیں۔ اور دنیا کے لئے مشعل راہ بھی بنتے ہیں۔ کچھ چنیدہ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں بھیجا ہی اسلئے جا رہا ہوتا ہے کہ عالم ان سے فیضیاب ہو۔ یہ لوگ رحمتِ الٰہیہ کی ہی ایک صورت ہوتے ہیں۔
سید الکونین ، شمس الضحیٰ ، بدر الدجیٰ سرور دو عالم حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کی اطلاع تمام انبیاء کرام دیتے چلے آئے۔ سب کو مبشر اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مصدق بنا کر بھیجا گیا۔ پیرانِ پیر دستگیر حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کی آمد کا چر چا بھی کئی سو سال رہا۔
بعینہ شاہِ قلندر سید محمود الحسن شاہ مد ظلہ العالیٰ کی آمد کی اطلاع بھی پاکیزہ ہستیوں کے ذریعے پہلے سے دی گئی ۔ آپ قدوۃ الاولیاء حضرت داؤد شاہ خاکی کی اس خوشخبری کے مصداق ہیں کہ ہماری ہر نسل میں ایک بچہ مادر زا د فقیر پیدا ہوگا اور اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کا امین ہوگا۔ سینہ بہ سینہ ، نسل در نسل جہاں یہ خوشخبری منتقل ہوتی آرہی ہے وہاں اس بچے کی بھی نشاندہی دیگر واقعات و حالات سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی سے حضرت سید رسول شاہ خاکی کا ایک خصوصی پیارو محبت ، اور رہبری اور رہنمائی کا تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم نے انہیںخواب میں بشارت دی کہ آپ کے ہاں ’’ہمارا محمود ‘‘آرہا ہے گویا آنے والے کا نام تک تجویز کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ سید عبداللطیف المعروف امام بری سرکار بھی حضرت سید رسول شاہ خاکی کے پاس خواب میں تشریف لائے اور محمود الحسن نام انہوں نے بھی تجویزکیا۔
اعجازِ ہادی، سلطان الاولیاء حضرت سید رسول شاہ خاکی نے اپنی زوجہ (امی حضور) کو بتایا کہ میرا بیٹا آنے والا ہے جس کی شان عالی و نرالی ہوگی ۔ وہ سات ولیوں کی ولائت لے کر دنیا میں آئے گا اور قلندر ہوگا۔ پوچھا گیا کہ کیسے پہچان ہوگی کہ وہ اتنے اعزازات کا حامل خوش بخت بچہ ہے ۔ تو فرمایا کہ وہ تصدیق کی مہریں لگوا کر آئے گا۔ اس کے بدن پر سات نشان ہوں گے جو بزبانِ حال خود اس کی بلند شان کو بیان کرنے والے ہوں گے ۔
امی حضور فرماتی ہیں کہ جیسے ہی محمود سرکار( نومولود) کوغسل دیا گیا تو جسد با بر کت پر وہ سات نشان نورانی روشنی لئے نمایاں ہو کر چمکنے لگے ۔ ان کا رنگ جسم سے جدا گہر ا سرخی مائل تھا۔
گویا کہ سات ولیوں کی ولایت مُہرِ ولایت کے ساتھ مادر زاد عطا کر دی گئی تھی اور یہ نشان اب بھی موجود ہیں۔ غسل کے بعد محمود سرکار کو حضرت سید رسول شاہ خاکی کے پاس دربار میں لے جایا گیا۔ انھوں نے خود اذان دی ۔ آپ کے منہ میں شہد ڈالا اور رب تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا۔ کیونکہ آپ کے چہرے اور جسم کی علامتوں نے آپ کے قلندر ہونے اور ولایت کا حامل ہونے کی نشاندہی کر دی تھی تین دن تک آپ نے ماں کا دود ھ نہ پیا۔ حضرت سید رسول شاہ خاکی yes">  کو خبر دی گئی تو وہ تشریف لائے۔ محبت سے آپ کو اٹھایا اور سمجھدار اور باشعور لوگوں سے جس طرح بات کی جاتی ہے اس طرح سے آپ کو سمجھاتے ہوئے فرمایا۔
’’بیٹا ۔ یہی ماں ہے تمہاری پندرہ سو سال گزر گئے ۔ اب میں
تمہارے لئے دائی حلیمہ جیسی سیرت والی کہاں سے لاؤں ۔
اب یہی ماں ہے ۔ اسی کا دودھ پیو‘‘۔
اس کے بعد آپ نے گویا بات کو سمجھ لیا اور پھر بنا ضد کئے ماں کا دودھ پینا شروع کر دیا۔
اہلِ ایمان ہمیشہ ایسے نام پسند فرماتے ہیں جن کی نسبت کسی نہ کسی طرح اپنے آقا ومولیٰ، رحمتِ عالم نور مجسم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہو اور یہ نسبت ساتھ اگر رب تعالیٰ سے بھی مل جائے تو کیا ہی حسن و جمال اس نام میں سمٹ آتا ہے ۔ کچھ اسمائے مبارکہ ایسے ہیں جو رب تعالیٰ اور سرکار دو عالم دونوں کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
مثلاً عزیز ۔ روؤف، رحیم وغیرہ ،’’محمود‘‘ بھی ایسا ہی اسم مبارک ہے جو اللہ کا بھی ہے اور آقا و مولیٰ کا بھی نام مبارک ہے ۔ پھر اس نام میں روحانی و باطنی تو جیہات فقط اہل نظر کے لئے ہیں کہ آپ قلندری صفات سے بہرہ ور ہوکر اس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہوئے۔
بندے کو ہی اس نے کامل جہاں بنایا
لباسِ بشر کے اندر لا مکاں بنایا
(شاہِ قلندر)

کم سنی میں شاہانہ انداز
انتہائی کم سنی میں ہی آپ عام بچوں سے بہت مختلف اور اعلیٰ اطوار لئے ہوئے تھے ۔ کچھ جذب و مستی کے رنگ تھے ۔ کچھ شاہانہ قلندری انداز تھے کہ ہر جگہ ہر مقام پر الگ اور منفرد ہی دکھائی دیتے تھے ۔ بچپن سے ہی کھانے پینے کی کبھی پر واہ نہ کی اور نہ ہی ان چیزوں کو کبھی اہمیت دی ۔ امی حضور فرماتی ہیں کہ محمود سرکار کی عمر فقط تین سال تھی جب سے آپ روزے رکھتے آرہے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ میں نے اصرار کیا کچھ کھاپی لیں تو فرماتے ہیں ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔
خلوتوں میں رہنا ہمیشہ پسند فرماتے خاموش طبع، کم گو تھے اور شروع سے اللہ کے ذکر و تفکر میں ڈوبے رہتے تھے ۔ مرید کے ایک اسکول سے مروجہ عصری علوم کا آغاز کیا مگر عجب عالم ہے درویشی اور بے نیازی کا کہ اس عمر میں بھی نہ کبھی کسی چیز کو لینے کے لئے ضد کی اور نہ ہی کسی چیز کی کمی پر برا منایا۔آپ بچپن کے ٹافیوں ، چاکلیٹوں کے شوق سے ماور اء قلندری رنگ لئے ہوئے تھے ۔ ضرورت پڑی تو کھانا سادہ طریقے سے کھا لیا اور بباطن اس محبوب حقیقی کے ذکر اور یاد سے ہی وہ قوتِ جسمانی ملتی رہی جو فقیری کا خاصہ ہے ۔ نہ کھلونوں کی پر واہ ہے نہ یار دوستوں کی ۔ ہر دم ہر لمحہ بس اس محبوب حقیقی میں گم ہیں۔ پانچ سال تک روٹی نہیں کھائی صرف دودھ پر گزارہ کر لیتے ۔ اسکول جانا شروع کیا تو کھانے کے چند لقمے بھی لینے شروع کئے پیدل اسکول جایا کرتے تھے ۔ کبھی کتابیں اسکول چھوڑ آتے اور کبھی بستہ ہی بھول جاتا۔ ننگے پاؤں آر ہے ہیں تو احساس نہیں کہ جوتا اسکول میں ہی رہ گیا۔ اقبال فرماتے ہیں۔
خاکی و نوری نہاد ، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دلنواز
ایک مرتبہ کم سنی میں ایک بچھو تین چار چھوٹے بچھو بچوں سمیت ہتھیلی پر رکھ کر لے آئے ۔ امی حضور فرماتی ہیں کہ میں یہ ماجرہ دیکھ کر ڈر گئی ۔ حضرت سید رسول شاہ خاکی نے تسلی دی فرمایا اس کو کوئی نہیں کاٹے گا یہ سانپ بھی پکڑلے گا تم پریشان نہ ہو۔
عمر کے اُس دور میں بھی قلندری زبان سے جو کچھ نکل جاتا پورا ہوجاتا۔ لوگ دعاؤں کے لئے اپنے گھرلے جایا کر تے تھے ۔
جسم میں ذکر و افکار کی روحانی جلا لی تاثیر ظاہراً بھی اپنے اثرات دیتی تھی۔ حتیٰ کہ جس جگہ کیڑے ہوتے شاہِ قلندر پاؤں پھیر دیتے تو کیڑے ختم ہوجاتے ۔
سب سے مشکل کام نہانا لگتا تھا۔ جذب کے رنگ میں ان مادی پابندیوں کو ماننا بہت مشکل دکھائی دیتا ۔ تنہائیوں ، خلوتوں ، سنسان جگہوں پر پھرتے رہنا اچھا لگتا تھا۔ عمر کے ساتھ جگہیں تبدیل ہوتی رہیں مگر ذوقِ خلوت زندہ رہا اور ان سنسان جگہوں پر جنگل اور جھاڑی نما درختوں میں گھنٹوں پھرتے ہوئے کبھی حشرات الارض کا خوف قریب نہ پھٹکا ۔
مشاہدوں اور خوابوں کے ذریعے آنے والے دور کی ، مستقبل کے حالات کی خبر ہوجاتی ۔ آپ بہت کم سن تھے جب بھٹو نے الیکشن لڑا ۔ اس کم سنی میں بھٹو کے برسرِاقتدار آنے سے قبل آپ نے بھٹو کے نعرے لگا کر بتا یا کہ بھٹو اب آئے گا ہی آئے گا اور حقیقتاً بعد میں ایسا ہی ہوا۔
کبھی کسی غلطی پر سرزنش کرتے ہوئے والدِ محترم حضرت سید رسول شاہ خاکی نے آپ کو کمرے میں بند کیا تو کچھ دیر بعد دیکھا گیا کہ آپ چھت پر یا باہر موجود ہیں وہ بند دروازے کی چٹخنی کیسے کھلی واللہ اعلم ۔
ایک مرتبہ حضرت سید رسول شاہ خاکی نے پانی کی ضرورت بڑھ جانے کی وجہ سے زمین میںبورنگ کرانی چاہی ۔ شاہِ قلندر پیر مستوار نے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا’’ پانی نہیں نکلے گا‘‘ تین چار مرتبہ کوشش کے باوجود بورنگ نہ ہوسکی اور پانی نہ نکلا ۔
بچوںکے درمیان ہوتے تو ان میں گھل مل جاتے ۔ عام بچوں کی طرح رہنا زیادہ پسند فرماتے اگر کوئی اُس دور میں پیر صاحب کہہ کر بلاتا تو ناگوار گزرتا ، جہاں بہت سے ساتھی اور اساتذہ پہچان کر بہت عزت و احترام دیا کرتے تھے وہاں بہت سے لوگ حسد کے مارے سازشیں بھی کیا کرتے تھے ۔
شاہِ قلندر کو بچپن ہی سے تنکا ہاتھ میں رکھنے کی عادت تھی ۔ ایک مرتبہ چند لڑکوں نے آپ کو تنگ کرنے کے لئے تنکا توڑ ڈالا ۔ آپ خاموش رہے آپ نے ان لڑکوں کو کچھ نہ کہا ۔ پرنسپل تک خبر پہنچی تو اُس نے ان لڑکوں کو یہ کہتے ہوئے ڈانٹا کہ محمود صاحب تو تنکے پر اللہ کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا۔ پھر وہ لڑکے ناصرف اس کلاس میں فیل ہوئے بلکہ اپنی عملی زندگی میں اب تک ناکام و نامراد ہیں ۔ یہ اللہ کے ولیوں کی شان ہے کہ انہیں پریشان اور تنگ کرنے والوں کو اللہ بھی معاف نہیں فرماتا ۔
حدیثِ قدسی ہے اللہ کریم فرماتا ہے ۔
مَن عاد لی ولیاً فقد اذنتہ‘ بالحرب
ترجمہ: ’’ جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف اعلانِ
جنگ میں خود کرتا ہوں۔‘‘
پہننے اوڑھنے ، نشست و برخاست ، میل ملاقات ، کھانے پینے میں حد درجہ سادگی اور استغناء بچپن میں بھی تھا اور یہ رنگ آج بھی ہے ۔ آپ کا ذوق انتہائی اعلیٰ اور نفیس بھی ہے ۔ چیزوں کے انتخاب میں آپ کے حسنِ انتخاب کی داد دینی پڑتی ہے ۔ دنیا سے بے نیازی کے رنگ جو آج نظر آتے ہیں ان کی جھلک بچپن سے ہر کام میں موجود تھی ۔
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے

تعلیم و تربیت

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
اللّٰہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے اور جواس کا راستہ
پکڑے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے۔‘‘
بارگاہِ صمدیت سے پیدائش کے ساتھ ہی ولایت عطا کرنا سنتِ الٰہیہ ہے۔ علماء اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں حق کو پانے کے دو راستے بتاتے ہیں راہِ اجابت اور راہِ انابت ایک فضل ربی سے چنے ہوئے منتخب لوگ ہوتے ہیں اور ایک وہ جو عبادت و اطاعت ، ریاضت و مجاہدوں کے ذریعے سفر کرتے اور راہِ ہدایت کو پالیتے ہیں۔
جن لوگوں کو رب تعالیٰ چن لیتا ہے انھیں خود علم و معرفت عطا فرماتا ہے ۔ شاہِ قلندر پیر مستوار مادر زاد ولی ہیں۔ محنت نہ تھی۔ طلب نہ تھی، ریاضت نہ تھی بلکہ عطائی علم و حکمت اور معرفت کا نور تھا جس سے شروع سے دل اور سینہ منور تھا۔ طبیعت کو دنیا سے رغبت ہی نہیں، اسی کی تلاش ، اسی کی جستجو ہمیشہ سے رہی ۔

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لئے بیٹھے ہیں ا پنی آستینوں میں
ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے ، انہیں خلوت گزینوں میں

شاہِ قلندر پیر مستوار ہمیشہ اپنے والدِ بزرگوار حضرت سید رسول شاہ خاکی کی تربیت اور توجہات کا مرکز و محور رہے ۔ایک مرتبہ حضرت سید رسول شاہ خاکی نے فرمایا۔
’’میں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا سب اس کے حوالے کر دیا۔‘‘
ساری ساری رات جاگ کر گزارنا والدِ گرامی کا معمول تھا جو شاہ قلندر نے بھی اپنایا۔ حضرت سید رسول شاہ خاکی نے اپنی زوجہ سے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا بہت خاص الخاص ہے اس نے دین کا بڑا کام کرنا ہے ۔ امی حضور فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی دنیا اور دین دونوں عطا کیجئے تو خاموش ہوگئے ۔ جمعہ کے دن نماز کے بعد گھر تشریف لائے اور فرمایا ۔
’’ میں نے دعا کر دی ہے۔ یہ جدھر نظر کرے گا تو سب کے
بیڑے پار کر دے گا۔ دین اور دنیا دونوں میں اعلیٰ مرتبہ پائے گا۔‘‘
علم و معرفت کے خزانے دنیا میں جلوہ افروزی کے ساتھ ہی عطا کر دیئے گئے تھے ۔ والدِ محترم نے اپنا سارا علم منتقل کیا۔ اب شاہِ قلندر کے اپنے رنگ، اپنی ریاضتیں اور مجاہدے تھے جو تین سال کی عمر سے شروع ہوگئے۔ دنیا سے منہ موڑ کر عمر کے اسی دور سے اپنی توجہ محبوب حقیقی کی طرف رکھی جس سے فیوضات و رحمتِ ربانی نے ہمیشہ اپنی آغوش میں لئے رکھا ۔ لمحہ لمحہ آگے بڑھتے رہنے کا سفر جاری و ساری رہا۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب رسول اللہ کے بارے میں فرمایا ۔
وللا خرۃ خیرلک من الاولیٰ
ترجمہ: ’’آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی
سے بہتر ہے ۔ ‘‘ (الضحیٰ:3 )
اور یہ سرکار دو عالم آقا و مولیٰ رسول اللہ کی اپنی امت کے خاص لوگوں پر کرم نوازی ہے کہ ہر نعمت اور ہر رحمتِ الہیٰ کی خیرات اپنے دوستوں اپنے پیاروں ، محبوب اور مقرب بندوں کو عطا کی۔ شاہِ قلندر کا سفرِ معرفت ہر آن ہر گھڑی
آگے کی طرف رواں دواں رہا۔ جو کہ مقام و مرتبے کے لحاظ سے ، علم و معرفت کے حوالے سے ، مظہرِ حق ہونے کے حوالے سے ، ظاہری اور باطنی طور پر اظہر من الشمس ہے۔ جہاں عصر ی علوم کا سلسلہ جاری رہا وہاں ظاہراً دینی اور روحانی تعلیم بھی مروجہ طریقوں سے ہوتی رہی ۔ استغناء اور درویشی کی عجب شان ہے کہ رحیم یار خان دینی تعلیم کے لئے گئے والدہ نے جاتے ہوئے 50 پچاس روپے دیئے ۔ چھ ماہ بعد واپس آئے تو وہ 50 کا نوٹ اسی طرح سامان میں واپس آگیا۔ سبحان اللہ کبھی دنیاوی خواہشوں اور ضرورتوں کی کشش اپنی طرف کھینچ نہ سکی۔
شیطان ملعون کا یہ دعویٰ کہ’’ میں تیرے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لوں گا‘‘ اور رب لم یزل کا فرمان کہ
’’ میرے بندے تیرے بہکاوے میں نہ آئیں گے۔‘‘
اس فرمان کا مفہوم ایسی ہی مثالوں سے سمجھ میں آتا ہے کہ حقیقتاً جو اللہ کے ہوگئے شیطان ان کے سائے سے پناہ مانگتا ہے ۔ شاہِ قلندر پیر مستوار مجذوبین کی توجہ کا مرکز بچپن سے رہے ۔ چکوال میں پان کی دکان پر جاتے تو ایک مجذوب آپ کو پیار بھری نظروں سے بس دیکھتا رہتا ۔ جب بھی اہل اللہ لوگوں میں سے کوئی آپ کو دیکھتا تو دیکھتا چلا جاتا۔ آپ تانگے پر چکوال جاتے تو ایک مجذوب تانگے کے ساتھ ساتھ دوڑ تا رہتا اور آپ کو دیکھتا رہتا جب واپسی کا سفر ہوتا تو گویا وہ آپ کو دیکھنے کا منتظر ہوتا ۔ واپسی میں بھی اسی طرح تانگے کے ساتھ ساتھ دوڑتا رہتا۔
ایک مجذوبہ خاتون مائی بلو تھی سبزی کی دکان پر کبھی شاہِ قلندر تشریف لے جاتے تو آپ کا سواگت ہمیشہ بڑے عجب انداز سے کرتی ۔ آپ کو دیکھتے ہی خوشی سے پکارنے لگتی ’’چن چن دے سا منڑے آگیا‘‘
ایک ملنگ صفت آدمی سراور پاؤں سے برہنہ پورے شہر میں گھوما کرتا تھا دیکھنے میں پروفیسر لگتا ۔ اس کی توجہ بھری نگاہیں بھی شاہِ قلندر پر بھر پور رہیں۔ ایک مرتبہ آپ کو پکڑ کر بٹھا لیا۔ آپ کے ہاتھ کو پکڑا بغور دیکھا اور پھر کہا۔ یہ کیا؟ سب کچھ
چھوڑدو اور جاؤ چنبے کے نیچے بیٹھ جاؤ۔ ایک اورمجذوب صفت آدمی عبدالرزاق آپ کے پاس آیا کرتا اور آپ کو دیکھتے ہوئے یہ شعر اکثر اس کی زبان پر رہتا ہے ۔
کیا شانِ احمدی کا چمن میں ظہور ہے
ہر گل میں ہر شے میں محمد کا نور ہے
یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کو اہلِ نظر نے ہمیشہ پہچانا، اپنی بھر پور توجہ اور اہمیت دی ۔ طوالت کے پیشِ نظر یہاں صرف چند کا اشارتاً ذکر کیا گیا ہے۔ کہ آپ کے بچپن ہی سے آپ کے اعلیٰ مقام و مرتبے کی علامتیں دیکھنے والوں کو نظر آرہی تھیں۔
جسمانی ورزش اور کھیل سے خصوصی دلچسپی رہی ۔ بچوں کے ساتھ والی بال کھیلنا سب سے مرغوب شوق تھا۔ آپ کے والد محترم حضرت سید رسول شاہ خاکی بعض اوقات آپ کو جب کھیل کود میں مصروف دیکھتے تو غصہ بھی دکھاتے اور ڈانٹ بھی دیتے کیونکہ ان کی نگاہ ان خاص کاموں پر تھی جن کے لئے شاہِ قلندر کی خاص تعلیم و تربیت مقصود تھی۔ تاکہ عام بچوں کا کوئی شوق اس راہ میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے ۔ مروجہ عصری علوم سے فراغت ہوئی ، کالج کو خیر آباد کہا کراچی تشریف لائے تو PIAمیں ملازمت کا شوق ہوا۔ والد محترم سے اجازت چاہی تو انھوں نے سختی سے منع کر تے ہوئے فرمایا کہ نہیں آپ کی ڈیوٹی کہیں اور لگا دی گئی ہے ۔ اور کچھ ہی عرصے کے بعد والد محترم کی مسند پر جلوہ افروز ہو کر اپنی ذمہ داریاں نبھانی شروع کیں۔ والد گرامی نے ہمیشہ بھر پور توجہ دی ۔ شاہِ قلندر فرماتے ہیں کہ جس بات کے بارے میں سوچا والد گرامی نے فوراً اسی بات کی تشریح فرمائی حقیقت و معرفت کی باتیں رات کی نشت کا خصوصی حصہ ہوا کرتی تھیں۔ رات کو آپ کو ساتھ رکھتے ، عبادت کے ذوق و شوق کو شروع سے منتقل کیا گیا۔ شریعت کی حفاظت اور طریقت کی آبیاری کے لئے ہر پہلو سے ہمہ جہت تربیت کی گئی ۔ اسلئے جہاں دنیوی مصروفیات میں زیادہ گم نہ ہونے دیا وہاں جذب کی کیفیات کی بھی حفاظت فرمائی ۔ عرس کی محفل میں دوران ذکر جب بھی آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہوتی تو والد محترم آپ کو جھنجوڑ دیا کر تے کہ یہ کیفیت غالب نہ آجائے اسی طرح زیادہ نعت خوانی سے بھی منع فرماتے کہ پہلے پڑھائی پر توجہ دو امی حضور فرماتی ہیں کہ حضرت سید رسول شاہ خاکی فرمایا کر تے تھے اگر ہم نے ان پر صحیح توجہ نہ رکھی تو یہ یہاں سے چلے جائیں گے۔ آپکے آنے جانے کی بھی خاکی شاہ صاحب کڑی نگرانی فرمایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ تمام مزاروں پر بھی جانے سے منع فرماتے ۔ فقط کلر کہار میں ھو یا ھو سرکار ، دامنِ کوہسار میں سید عبد الطیف المعروف امام بری سرکار ، لاہور میں داتا صاحب اور شاہ غوث، سیو ن شریف میں لال شہباز قلندر کے مزارات پر جانے کی اجازت تھی اور وہ بھی کبھی کبھار تاکہ مجذوبیت پر قلندری رنگ غالب رہے کہ آپ سے ایک عالم نے رشد وہدایت پانی ہے۔
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں ، راکب ہے قلندر
(اقبال )

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.