بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

حضرت سید رسول شاہ خاکی فنافی اللہ تھے۔ ایک بار کم سنی میں آپ نے شاہِ قلندر کو اپنے پاس سلا لیا۔ شاہِ قلندر فرماتے ہیں ۔’’میں اس وقت چھ سات سال کا تھا ان کی چار پائی استعمال کرنے سے ساری رات میرا جسم لرزتا رہا۔ ‘‘
ایک مرتبہ سنسان کھیتوں میں اچانک بغیر کسی خاص وجہ کے ایک پتھر پر پاؤں لگا۔ در د کوئی خاص نہ تھا مگر حالت بدل گئی ۔ جذب کی کیفیت کا غلبہ اس قدر تھا کہ ہوش نہ رہا۔ زبان سے کیا کیا ادا کیا کچھ خبر نہ رہی ۔ تقریباً دو دن یہ حالت رہی۔ والد محترم نے اپنی بھر پور توجہ اور نگاہ میں رکھاان پر خط کھینچااور دم کیا ، جسم میں پھر حرکت نہ ہوئی اور پھر حالت سنبھلتی چلی گئی ۔
علم الاعداد ، علمِ نجوم پر شاہِ قلندر کو خصوصی دسترس حاصل ہے ۔ بغیر کسی استاد کے عطائی علم ہے۔ اس کے علاوہ پتھروں کی پہچان، ان کی خصوصیات اور انسانوں پر ان کے اثرات پر ملکہ حاصل ہے۔ کسی ماہر جوھری کی طرح فوراً اصل اور نقل کی پہچان کر لینا آپ ہی کا خاصہ ہے۔ انسانوں کے لئے جوہر شناس نگاہیں پتھروں کو بھی جانچ لیتی ہیں۔ شاہ قلندر کو زمانہ طالب علمی سے اردو کا مضمون ہمیشہ پسند رہا۔ محبوب حقیقی کے ساتھ حقیقی پیار اور تعلق نے خاص علمی و ادبی ذوق عطا فرمایا۔ رب سے پیار بھری باتیں لطیف پیرائے میں کرنا ان محبوب اور مقرب بندوں کا ہی شیوہ ہے۔
دنیا والے مجازی محبتوں میں گم رہتے ہیں اور شاہِ قلندر کا دل اس سچے پیار سے اتنا لبا لب بھرا رہتا ہے کہ دنیا کی محبت کی جگہ نہیں رہتی ۔ آپ کی ہر بات ہر شعر میں اُس حقیقی پیار کی خوشبو ملتی ہے۔ کالج کے زمانے میں کبھی کبھی آمد پر چند اشعار لکھ لیا کرتے تھے ۔ باقاعدہ رباعیات اور قطعات کی شکل میں لکھنا بعدمیں شروع کیا۔
اہل بیت سے محبت کے اظہار میں آغاز سے اشعار لکھے خاص طور پر مولائے کائنات شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں خوبصورت اشعار کہے پھر سلسلہ چلتا رہا ۔ شاہ قلندر کی ہر دلعزیز شہرۂ آفاق کتاب ’آذانِ قلندر‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے اور دوسری زیرِ طباعت ہے ۔نمازِ مغرب کے بعد شاعری اور مطالعہ کو خصوصی وقت دینا شاہِ قلندر کے نزدیک اس کی اہمیت اور ان کے لطیف ذوق کی نشاندہی کر تا ہے ۔

شاہِ قلندر اوراہلِ خانہ

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:
ان المسلمین و المسلمٰت والمومنین والمومنٰت والقٰنتین والقٰنتٰت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعداللّٰہ لھم مغفرۃ
واجراً عظیماً
ترجمہ(کنزالایمان): ’’بیشک ! مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان
والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیںاور
سچے مرد اور سچی عورتیںاور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی
کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے
اور خیرات کرنے والیاںاور روزے والے اور روزے والیاں
اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ
کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ، ان سب
کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔‘‘
(الاحزاب: 35 )
بے شک پاکیزہ مطہر لوگوں کے لئے ان کی طرح متقی اور باکردار لوگوں کو ان کے عمر بھر کے ساتھ کے لئے چنا جاتا ہے۔ آقا و مولیٰ رسول اللہ کا یہ اعلان کہ نکاح میری سنت ہے ۔ اسی سنتِ مطہرہ کی اتباع میں شاہِ قلندر شادی کے بندھن میں اس وقت ہی بندھ گئے جب آپ کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی۔ محبوب حقیقی کی محبت و یاد میں شادی اور ازدواجی ذمہ داریاں آپ کی طبعیت پر گراں گزر رہی تھیں۔ مگر اپنے والدین کی فرمانبرداری اپنے پیرومرشد کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کی دلنواز عادت کے تحت عمر کے اس دور میں ان ذمہ داریوں کو اٹھایا اور نبھایا جب کہ نوجوانوں کی کھلنڈری طبعیت کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتی ۔ ( 21 ) اکیس فروری .1987 ء کو آپ کی شادی ہوئی ۔ آپ نے والد صاحب سے درخواست کی کہ مرغ موجود ہیں تو دعوت کے لئے مرغ قورمہ پکا یا جائے۔ جبکہ والد محترم کی خواہش تھی کہ بکرے ذبح کئے جائیں ۔ آپ خاموش ہوگئے صبح اٹھ کر دیکھا گیا کہ سارے مرغ جن کی تعداد تقریباً تیس تھی اپنے پنجروں میں مردہ پائے گئے جبکہ ظاہراً کوئی سبب نہ تھا۔
آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ شہزادی جان سادات گھرانے کی با پردہ ، پاکیزہ اطوار لئے نیک و متقی اور خوب سیرت خاتون ہیں۔ وہ ایسی خوش قسمت و با نصیب بی بی ہیں جنھیں شاہِ قلندر پیر مستوار مرشد پاک کی خلوتوں اور جلوتوں کے رنگ سمیٹنے کا موقع ملا ہے ۔ آپ کے شہزاد گان جناب سید داؤد شاہ اور جناب سید نقی شاہ صاحب گلستانِ قلندر کے نوخیز پھول ہیں جن سے چمن میں رونق و بہار چھائی رہتی ہے ۔
پیر مستوار کی خصوصی شفقت و محبت کے حقدار آپ کے دست و بازو ، آپ کے چھوٹے بھائی سید حسین شاہ صاحب کے ذکر کے بغیر اہلِ خانہ کا تعارف مکمل نہیں ہوتا ۔ جناب سید حسین شاہ صاحب پیر و مرشد کو جتنی عزت و احترام دیتے ہیں اُس سے کہیں بڑھ کر شاہِ قلندر پیر مستوار انہیں پیار اور محبت سے نوازتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں ۔ سید حسین شاہ صاحب سنجیدہ ، بردبار ، متحمل مزاج لئے ہر لمحے مصروفِ عمل نظر آتے ہیں ۔ عرس کا موقع ہو یا گیارہویں شریف کا پروگرام ہو اعتکاف و چلہ کے انتظامات ہوں یا کوئی اور موقع سارے انتظامات ، ہر کام کی نگرانی سید حسین شاہ صاحب خود فرماتے ہیں ۔
پیر سےّد محمد شاہ ہمدانی
آپ کے سسرال کا تعلق سادات ہمدانیہ سے ہے ۔ آپ کے سسرپیر سید محمد شاہ ہمدانی سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ پائے کی شخصیت تھے ۔ تحصیل تلہ گنگ میں سگھر کے علاقے میں مقیم بہت بڑے جاگیردار ۔ بہترین عالم دین ، پابند شریعت ،حکیم حاذق اعلیٰ خطیب مفتی و مقرر تھے۔ مگر اس کے باوجود انتہائی عاجزی اور انکساری طبعیت کا خاصہ تھی۔ اپنے وقت کے بہترین نیزہ باز اور گھڑ سوار تھے آخری ایام بہت دلچسپ گزارے ۔ اپنی حیات میں خود اپنی قبر تیار کر وائی ۔ اس قبر میں بیٹھے اٹھے اور پھر اسے بند کر وادیا ۔ آخری تین ماہ تک زبان کلمہ طیبہ کے ورد سے خالی نہ رہی ۔ بہت کم سوتے تھے ، ڈاکٹر انہیں ٹھیک کہتے تھے مگر نقاہت بہت زیادہ تھی، بہت کم آرام فرماتے ، نماز کی پابندی کی عادت اتنی جان میں رچی بسی تھی کہ جب تک ہمت تھی اٹھ کر پڑھ سکتے تھے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے رہے کمزوری حد سے بڑھی اور اٹھنے کا یارانہ نہ رہا تو بیٹھ کر اور بعد میں لیٹ کر بھی نماز ادا کی ۔ ادا ضرور کی نقاہت اور کمزوری کے باوجود کبھی نماز ترک نہ کی ۔ کلمہ شہادت ہر لمحہ زبان پر جاری و ساری رہا یہاں تک کہ کھانے پینے میں بھی جلدی فرماتے کہ کھانے پینے کے دوران زبان کلمے سے محروم ہوجاتی ہے جو انھیں پسند نہ تھا۔ شاہِ قلندر ملاقات کے لئے جاتے تو آپ سے فرماتے ہیں ’’ نہیں ۔میرے لئے یہ دعا کریں کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ ‘‘ شاہِ قلندر نے فرمایا اللہ آپ کو صحت دے ۔ آپ بزرگ لوگ ہیں اور آپ کا اس جہاں میں رہنا باعث منفعت ہے مگر ان کا اصرار ہوتا کہ آپ دعا فرمائیں ۔
شاہِ قلندر پیر مستوارپیر سید محمد شاہ ہمدانی کے بارے میں قرآن کی یہ آیت تلاوت فرماتے ہیں۔
’’ الا ان اولیاء اللّٰہ لا خوف علیھم ولا ھم یخرنون
اسکی عملی شکل دیکھنے میں آرہی تھی کہ نہ خوف تھا نہ غم اور بصد خوشی جانے کو تیار تھے ۔ ہر گھڑی انتظار میں تھے کہیں کلمہ رہ نہ جائے آخری وقت تک کلمہ پڑھا ۔ اونچی آواز سے پھر آہستہ آواز سے اور جب آواز بند ہو گئی تو دل کی آواز سے پڑھا۔میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ دنیا سے جاتے وقت اتنا راضی خوشی گیا ہو اور قبر اور آخرت کو تسلیم کیا ہو۔ ‘‘

رشد و ہدایت کی مسند مبارک پر رونق افروز ہونا

وہ محبوب اور مقرب بندے جنھیںبارگاہِ الوہیت سے منتخب کیا جاتا ہے ۔ رحمانیت، رحیمیت اور ملکیت کے خزانوں سے عطا کیا جاتا ہے ۔ علم الغیب کی حکمت و معرفت کے اسرار و رموز ان کے روشن سینوں میں القا کئے جاتے ہیں۔
صمدیت کی خیرات سے دنیائے رنگ و بومیں استغناء کی دولت دی جاتی ہے ۔ وہ لوگ رشد و ھدایت کا سرچشمہ ہوتے ہیں ۔ ان کی نگاہیں جب توجہ اور کرم سے کسی گناہ گار پر بھی پڑجاتی ہیں تو وہ گناہ گار بھی صاحب نظر ہوجاتے ہیں۔ ان کا کام بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم دکھانا نہیں ، فقط اس پر چلانا نہیں ،بلکہ منزل مقصود تک پہنچادینا ہوتا ہے ۔
شاہِ قلندر ابھی فقط دسویں جماعت کے طالب علم تھے جب اعجازِہادی حضرت سید رسول شاہ خاکی نے دستارِ خلافت باندھتے ہوئے باقاعدہ مسندِ ر شدو ہدایت کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔ 10 محرم الحرام کی صبح عرس حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر بعد نمازِ فجر مخدوم پور شریف کی مسجد علی میں نمازیوں کے سامنے دستار خلافت عطا فرمائی ۔
پیر قلندر حضرت سید رسول شاہ خاکی نے اپنے وصال سے تقریباً تین ماہ قبل اپنی حیات مبارکہ میں حضرت داتا گنج بخش کے مزارِ انور کا سبزرنگ کا غلاف منگوایا۔ گھر تشریف لائے اپنی زوجہ محترمہ امی حضور کو یہ فرماتے ہوئے دیا کہ محمود الحسن شاہ صاحب کے لئے دستار ہے ۔ جہاں یہ حضرت داتا گنج بخش کے ساتھ ان کے خصوصی روحانی تعلق کی علامت ہے، وہاں ان کے روحانی فیو ض و برکات کی طرف اشارہ بھی ہے، اپنی جانشینی کا اعلان اور شاہِ قلندر کے لئے دعائے گنج بخش تھی کہ رب تعالیٰ نے جس عظیم مشن اور ذمہ داری کے لئے ان کا انتخاب فرمایا ہے یہ اسے بطریق ِاحسن پورا کرسکیں۔
جب 31 اکتوبر 1994 ء پیرِ مجذوبان و سالکان اعجازِ ہادی حضرت سید رسول شاہ خاکی نے وصال فرمایا تو ان کی وصیت کے مطابق قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمدطاہر القادری صاحب جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لائے چونکہ جانشینی کا فیصلہ تو خود حضرت سید رسول شاہ خاکی نے اپنی حیات میں ہی کر دیا تھا۔ اب اس جانشینی کا واضح اعلان مریدین اور وابستگان میں کرنا ضروری تھا تاکہ متعلقین، دوست احباب جو غم سے نڈھال ہورہے ہیں ان کی تسلی و تشفی بھی ہوجائے اور ناقدین و حاسدین پر بھی واضح ہو جائے کہ شاہِ قلندر پیر مستوار اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لئے بسروچشم تیار ہیں۔ حضرت سید رسول شاہ خاکی کے مقرر کر دہ خلیفہ مولانا نور محمد صاحب کو ان کی بزرگی اور خاکی شاہ سے دیرینہ تعلق کی بناء پر اس اعلان کے لئے چنا گیا جب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری تشریف لائے تو محترم نور محمد صاحب نے عرض کی کہ’’ آپ مہمان بھی ہیں اور بہترین عالمِ دین بھی۔شاہِ قلندر کی دستار بندی چونکہ پہلے ہوچکی ہے اب فقط جانشینی کا اعلان باقی ہے اور دستار بھی حضرت سید رسول شاہ خاکی نے پہلے سے منگوا رکھی ہے لہٰذا آپ دستار بندی کی رسم کرتے ہوئے اعلان فرمادیں ۔‘‘
تو پرفیسر صاحب نے باقاعدہ دستار بندی کی ۔ شاہِ قلندر کی سجادہ نشینی کا اعلان ہوا اور دعا ہوئی۔ اس طرح 3نومبر 1994 کو شاہِ قلندر حضرت سید رسول شاہ خاکی کی مسند پر بطور پیر مستوار قلندر رونق افروز ہوئے۔ دلوں کا نور آنکھوں کا سرور ، محبتوں کے سفیر ، صداقتوں میں بے نظیر، بحر معرفت ، موج بصیرت ، پیکر قادریت ، مجسم مجذوبیت، شان قلندریت پیر مستوار شاہِ قلندر نے اپنی ذمہ داری مرشدیت کو اس طریقے سے اٹھایا کہ چشمِ فلک حیران رہ گئی وقت کے نبض شناسوں کی اس نوجوان کی بلندیِ پرواز کو دیکھتے ہوئے زبانیں گنگ ہوگئیں ۔
ہر اہلِ جنوں مردِ قلندر نہیں ہوتا
ہر صاحبِ آئینہ سکندر نہیں ہوتا
موجیں تو سمندر سے بہت اٹھتی ہیں لیکن
ہر موج کے دامن میں گوہر نہیں ہوتا
شاہِ قلندر پیر مستوار مسند رشدو ہدایت پر رونق افروز ہوئے تو سینکڑوں مریدین ہزاروں اور لاکھوں میں تبدیل ہوگئے ۔ سلسلے کا کام جو چند شہروں میں تھا آناً فاناً ملک بھر میں پھیل گیا۔ محرم الحرام میں امام عالی مقام شاہِ کر بلا کے عرس کی تقریب جو مسجد میں ہواکرتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کے درودیوار سے باہر نکلی اور اب کتنے کَنال پر پھیلا میدان بھی جگہ کی قلت کے باعث تنگ دکھائی دینے لگاہے۔یہ تو ظاہری پیمانے ہیں شاہ قلندرنے روحانی اور باطنی معرفت وحقیقت کے انوار وتجلیات کے خزانوں سے عوام الناس کو یوں مالا مال کیاکہ کراچی سے پشاور تک شاہِ قلندر لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنتے چلے گئے۔ ان کے اشارۂ ابرو پر جان دینے والے ان معتقدین ، مریدین سے شاہِ قلندر پیر مستوار کو کوئی ذاتی دنیاوی غرض نہیں۔ وہ اپنی مسند کی لاج رکھنے والے ایسے مرشدپاک ہیں جن پر مسند بھی ناز کرتی ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ وَر پیدا

آپ معلم بھی ہیں۔ مربی بھی ہیں۔ کہ علم و معرفت کا نور آپ کی گفتگوسے، آپ کی سرمگیں آنکھوںسے ، آپ کی توجہ سے وابستگان کو منور کرتا ہے۔ آپ وابستگان کی کہیں حوصلہ افزائی اور کہیں بظاہر ان کوتنبیہہ کرتے ہوئے انھیں تربیت کی بھٹی سے گزارتے رہتے ہیں کہ میل کچیل دور ہوتی رہے۔ اور ان کی باطنی استعداد میں اضافہ ہو۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں کا ظہور ہوتا ہے
آپ حقیقی مسیحا اور طبیب ہیں۔ جسمانی بیماریوں کے معالج اور ڈاکٹر بہت مل جاتے ہیں مگر روحانی بیماریوں کا مسیحا آج کے دور پر فتن میں کم ہی ملے گا۔ آپ ایسے معالج ہیں کہ روحوں کو زندگی، قوت اور شفا آپ کی کیمیا اثرصحبت سے ملتی ہے۔ قلب و نظر پاکیزہ اور محبتِ حقیقی میں رنگے جاتے ہیںکہ
نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز
نقطۂ پرکار حق ، مرد خدا کا یقین
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز

شہرِ دلبر ۔ مخدوم پور شریف

مجھے ہوش کب تھی رکوع کی مجھے کیا خبر تھی سجود کی
جہاں مل گیا تیرا نقشِ پا وہیں ہم نے کعبے کو پالیا
قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید:
ومن یعظم شعائر اللّٰہ فانھا من تقوی القلوب
ترجمہ: ’’اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں کا احترام کرتا ہے پس بے شک
یہ دلوں کے تقوی میں سے ہے۔‘‘
یہ اللہ کی نشانیاں ، شعائر اللہ کیا ہیں؟ جب یہ جاننا چاہا کہ کیا کوئی چیز فی نفسہ شعائر اللہ ہو سکتی ہے ۔ اس جستجو میں آئے تو قرآ ن پال نے وضاحت کر دی کلامِ الہٰی میں جواب ملا۔
ان الصفاو المروۃ من شعائر اللّٰہ
’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ‘‘
اب دونوں آیات کو ملا یا جائے ، سمجھا جائے تو مفہوم یوں سامنے آتا ہے کہ صفا اور مروہ دو پہاڑ ہیں۔ سنگ و خشت کے ذرے ہیں مگر یہ پہاڑ اللہ کی نشانیاں قرار پائے، کیوں ؟کیوں کہ ان پہاڑوں ، ان پتھروں کو حضرت حاجرہ علیہ السلامکے قدموں سے نسبت ہوگئی ۔ وہ حضرت حاجرہ جو اللہ کی نیک بندی ہیں نبی اور رسول نہیں۔ اس نیک پاکیزہ سیرت بی بی کے قدم لگ گئے تو صفا اور مروہ عام پہاڑ نہ رہے اللہ کی نشانیاں ٹھہرے ۔ اب ان کی تعظیم و احترام دلوں کا تقویٰ ٹہرا۔ اللہ کو ماننا خالی تقویٰ اور ان جگہوں کا احترام دلوں کا تقویٰ قرار دیا۔
گویا، وہ جگہیں ، وہ شہر، وہ گاؤں ، وہ بیاباں ،جنگل ، صحرا، پہاڑ، دریا خاص ہوجاتے ہیں جن کی نسبت اللہ کے نیک بر گزیدہ بندوں سے ہوجاتی ہے ۔ حضرت مریم علیہ السلام جس حجرے میں عبادت کرتی ہیں وہ حجرہ اتنا خاص ہوجاتا ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلاموہاں اس حجرے کو وسیلہ بناتے ہوئے رب سے اولادِ نرینہ کی درخواست کرتے ہیں تو وہ درخواست ، وہ دعا قبول کرلی جاتی ہے۔
رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
ھنالک دعا زکریا ربہ قال رب ھب لی من لّدنک
ذریۃ طیبہ انک سمیع الدعاء
ترجمہ (کنزالایمان):’’ یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو ، بولا اے رب میرے !
مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد ۔ بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا ۔‘‘
(آل عمران: 38 )
مرکزِانوار و تجلیات، رشدو ہدایت، دلوں کو مزکیٰ و مصفیٰ کرنے والا ، رب کے قرب اور محبت کو پھیلانے والا یہ چھوٹا سا قصبہ جسے قدوۃ الاولیاء پیر قلندر مرشد مجذوبان و سالکان اعجازِ ہادی حضرت سیدرسول شاہ خاکی کے مسکن کے طور پر منتخب کیا گیا ۔ وہ جگہ مبارک ہے ۔ وہ فضائیں وہ ہوائیں، وہ مٹی کے ذرے بہت خاص ہیں کیونکہ اب یہ فضائیں شاہِ قلندرکی سانس کی خوشبو لئے ہوئے ہیں۔ یہ ہوائیں شاہِ قلندر کو بو سے دیتی ہیں۔ یہ مٹی کے ذرے شاہِ قلندر کے تلووں کو چومتے ہیں۔ ہمیں یہ شہر بہت پیارا ہے کہ یہ دلدار کا شہر ہے ۔ مستوار کا مسکن ہے ۔ دلبر کی سیر گاہ ہے ۔ قلندر کی عبادت گاہ ہے ۔ یہ مخدوم پور شریف ہے ۔
موٹر وے سے آئیں تو بلکسر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر چکوال اور تلہ گنگ روڈکے درمیان مرید کے نواحی گاؤں اب لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس لئے کہ ان دلوں کو یہاں سید المرسلین رحمۃ للعالمین کے پیار کی خوشبو ملتی ہے ۔ اس شہر سے محبت کی ڈور باندھ کر مدینہ پاک سے محبت کا قرینہ آجاتا ہے کہ صاحبِ مخدوم پور کو غرض ہے تو ایک ہی بات سے کہ آؤ راہِ حق کے متلا شیو اللہ سے محبت ، سرکارِ مدینہ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پیار کی چنگاری سے اپنے من کو روشن کر لو۔ دلوں کے چراغ جلا لو کہ دلوں کی روشنی اللہ اور اللہ کے حبیب سے پیار ہے ۔
روحانی کیف و مستی کا مرکز دن رات ملک بھر سے آنے والے طالبان حق کے لئے مرکز انوار ہے۔ یہاں ایک چھوٹی سی مسجد (جس میں خواتین کے لئے بھی نماز کا اہتمام کیا گیا ہے) اور ایک مہمان خانہ ہمہ وقت راہِ سلوک کے مسافروں کو خوش آمدید کہتا ہے ۔ قلب سلیم کے حامل لوگ یہاں سے واپس جاتے ہیں تو اپنے دل اپنے دلدار مرشدِ پاک کے پاس چھوڑ جاتے ہیں کہ
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
طالبانِ حق جب مخدوم پور میں آتے ہیں تو ادب سے سر جھکا لیتے ہیں ۔ خشوع و خضوع سے پہلے پیرِ قلندر، قدوۃ العاشقین حضرت سید رسول شاہ خاکی کے مزارِ پر نور پر حاضر ہوتے ہیں۔ پیر قلندر کی بارگاہِ قدسیہ میں سلام عرض کرتے ہیں اور اس کے بعد دل مسرت سے جھوم رہا ہوتا ہے کہ اپنے دلبر اپنے دلدار اپنے پیرو مرشد شاہِ قلندر پیر مستوارسے ملاقات کا وقت آگیا۔دل کی دھڑکنیں بے قابوہوئی جاتی ہیں۔ شوق ملاقات کشاں کشاں پیر و مرشد کے خوبصورت ، مرکز رنگ و نور دربار عالیہ میں لے جاتا ہے جہاں پیرو مرشد اپنی مسند پر یوں رونق افروز نظر آتے ہیں گویا پر وانوں کے درمیان شمع جل رہی ہو۔ ان کے چہرہ انور پر نگاہ پڑتی ہے تو سفر کی ساری تکالیف تھکان دور ہوجاتی ہے اور جب پیرو مرشد اپنے مخصوص تبسم کے ساتھ آنے والے کا استقبال کرتے ہیں تو دل کی کلی کھل جاتی ہے ۔
سالکانِ حق بے ساختہ ادب سے جھک جاتے ہیں قدم بوسی کو دل بے تاب ہوجاتا ہے ۔ اور تمنا کرتا ہے کہ وقت یہیں ٹہر جائے اپنے مرشد کا دیدار ان گناہ گار آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے پائے ۔
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.