بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

باب دوم

شاہِ قلندر کے مواعظ و گفتگو

دارا تلاش کر نہ سکندر تلاش کر
عشق کا دریا نہیں سمندر تلاش کر
بکھرا ہوا ہے تو ظاہر کے جہاں میں
اپنے من میں ڈوب کر قلندر تلاش کر
شاہِ قلندر
اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا
ترجمہ: ’’ اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیں اور
(اپنے قلب و باطن میں ) ہر ایک سے ٹوٹ کے
اسی کے ہو رہیں ۔‘‘
(المزمل : 8 )
دل اس کے پیار سے اس کی یاد سے ، اس کے ذکر سے خالی نہ ہونے پائے۔ اس تعلق میں اتنی مداومت اتنے انوار و رنگ ہوں کہ خواہ ذکر و تسبیح ہو یا رکوع و سجود علم و فہم کے موتی بکھیر ے جائیں یا ہلکی پھلکی گفتگو ہو ہر بات ہر حال میں توجہات کا مرکز و محور فقط محبوب حقیقی کی ذات رہے ۔ تو فقراء پر حالت یہ رہتی ہے ۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
یہ لذتِ آشنائی کی مے فقراء و صوفیاء و اہلِ دل حضرات طالبانِ حق میں اس طرح بانٹتے ہیں کہ وہ بھی ذوق و سرور اور سوز و گداز سے آشنا ہو جاتے ہیں اور طالبِ صادق کی پہلی منزل فنا فی الشیخ ہوتی ہے ۔ اس محبت میں فنائیت ہی محبوبِحقیقی تک لے جاتی ہے ۔
یہ باب قبلہ و کعبہ شاہِ قلندر پیر مستوار سے رات کی مخصوص نشست میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب اور مختلف مواقع پر ان کی گفتگو کی تحریری صورت ہے۔ ابتداء میں ناچیز نے یہ گفتگو فقط اپنی رہنمائی کے لئے سمجھنے اور بار بار مطالعہ میں رکھنے کے لئے تحریر کی ۔بعد میں اس کتاب میں شامل کرنے کے نقطہ نظر کے تحت جب جب شاہِ قلندر پیر مستوار کسی کو نصیحت یا کسی کی رہنمائی و تربیت کے لئے کچھ فرماتے تو میں اسے ذمہ داری سے تحریر کرتی رہتی ۔ آپ کی اس گفتگو میں یارانِ طریقت کے روحانی سفر کے لئے بہت قیمتی زادِ راہ چھپا ہوا ہے جو اہلِ دل کی خوراک ہے ۔ شاہِ قلندر پیر مستوار کی تمام تر محبتیں ، چاہتیں ، جذب و مستی ، ہوش و مدہوشی کا ہر رنگ اس حقیقی لم یزل میں یوں ضم ہے کہ بعید و دوری کا کوئی تصور نہیں رہا۔ اہلِ محبت جو رب کی تلاش میں رہتے ہیں انہیں رب ملتا ہے تو شاہِ قلندر جیسے لوگوں کی صورت میں۔ وہ رب کی محبت کی مے پیتے ہیں ان فقراء کی صحبتوں میں ، ان کی خدمتوں میں، ان کی دلنشیں باتوں میں ۔
نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
شاہِ قلندر

میں کم فہم ہوں ان کی گفتگو کو لفظوں میں ڈھالنے کا کام آساں نہ تھا ۔ یہ جتنا کچھ لکھا گیا یہ بھی فقط مرشدِ پاک کے فیضانِ نظر سے ۔
اللہ پاک ہمیں پیر و مرشدِ جاں کی باتوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی اہلیت عطا
فرمائے ۔ (آمین)
امتیاز جاوید

ھو الظاہر ھو الباطن

ظاہر بھی اللہ ہے اور باطن بھی اللہ ہے ۔ اللہ پاک موجود ہے اور ساتھ باطن کے موجود ہے جو کچھ بھی ظاہر میں ہے اور جو کچھ ظاہر کے اندر چھپا ہوا ہے ۔ ہر طرف اللہ ہی اللہ ہے ۔بندہ ظاہر ہے اللہ کی محبت اس کے باطن میں ہے۔ عشق اور مشک چھپ کر نہیں رہ سکتے وہ ظاہر میں بھی نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح سورج ہے تو اسے چھپایا نہیں جا سکتا ہے ۔ اثرات سے پتہ چلتا ہے کہ مشک یعنی خوشبو روح کو طمانیت اور فرحت دیتی ہے ۔ سورج سے زندگی بحال ہوتی ہے ۔ عشق میں دونوں سے بڑھ کر مسرتیں اور عطائیںہوتی ہیں ۔
اللہ جہاں ظاہر ہے وہاں چھپا ہوا بھی ہے باطن میں بھی موجود ہے اور ظاہر میں بھی موجود ہے ۔
فاینما تولو ا فثم وجہ اللّٰہ
ترجمہ :’’پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے
(یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے ۔‘‘
(البقرۃ : 115 )
جہاں تم ہو وہیں تمہارے ساتھ ہے ۔ جو نظرآ رہا ہے عالمِ موجودات میں وہ وہی ہے کہ جو موجود ہے اور اس کا کچھ مقصود بھی ہے ۔
لا مطلوب الا اللّٰہ ۔لا محبوب الا اللّٰہ
لا موجود الا اللّٰہ ۔لا مقصود الا اللّٰہ
بندہ اللہ سے محبت کرتا رہتا ہے ۔ کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی محبت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مطلوب اس پر ظاہر ہو جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں ہوتی تو شور کرتا ہے سمجھ آ جائے تو چپ لگ جاتی ہے ۔ارشادِ نبوی ہے :
اذا تمَّ الفَقْرَ فَقَد قَلَّ لِسَانَہ‘
ترجمہ: ’’ جب فقر (اللہ کی پہچان ) ہو جاتی ہے توزبان خاموش
ہو جاتی ہے۔‘‘
قلندر تو عشق کی بات کرتا ہے اور ہمارا طریقہ وحدت ہے کہ
اذا تم الفقر فھو اللّٰہ
ترجمہ : ’’جب فقر نقطہ کمال کو پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی ہے۔‘‘
اول بھی وہی ہے آخر بھی وہی ہے۔ ظاہر بھی ہے باطن بھی ہے ۔ عیاں بھی نہاں بھی ہے ۔ازل سے ہے ابد الآباد ہے ۔ اس کے انوار ظاہر پر چمکیں تو
حسنِ اعمال نظر آئے گا ۔
اعمالِ صالحہ ، عبادت،ریاضت ، اطاعت ، بندگی نظر آئے گی ۔ شریعت نظر آئے گی ، دین نظر آئے گا ، سنتِ محبوبِ خدا کی پیروی نظر آئے گی ۔
اور جب باطن پر اس کا راز آشکارہ ہو جائے تو یہ بباطن اس کا ہونا ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا تو مٹی کے پتلے کو نہیں بلکہ جب بباطن وہ خود اس پتلے میں ظہور پذیر ہوا تو فرمایا :
ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ السٰجدین
ترجمہ: ’’ اور جب میں اس میں اپنی روح پھو نک دوں تو تم
سب اس کے حضور سجدہ میں گر پڑنا ۔‘‘ (الحجر : 29 )
ملائکہ کو سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا یہ سجدہ ریزیاں بباطن اس کے اسی وجود کو تھیںاور فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
قال انّی اعلم ما لا تعلمون
ترجمہ: ’’جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔‘‘
(البقرۃ : 30 )
جسم بو دار مٹی سے بنا کر اس میں نفسانی ، حیوانی خصلتیں رکھ دیں ۔ مگر اس تن کے اندر من ہے اور اس من میں نور کا چراغ رکھ دیا جس میں اپنے حسن کی تجلی ڈال دی نور کی شمع دی جب یہ شمع روشن ہو جائے جب نور کے چراغ جل پڑیں تو پھر ظاہراً مٹی کے وجود کو نہ دیکھنا اس روشن باطن کو دیکھنا۔ اس میں موجود رب کی روشن تجلی کو دیکھنا اور جان لینا کہ اس کے باطن میں اللہ ہے ۔ یہ انسان مظہرِ حق ہے۔مظہرِ خدا ہے ۔بابا بلّھے شاہ نے فرمایاہے :
گل سمجھ لئی تے رولا کی
اے رام رحیم تے مولا کی

تصوف

تصوف کا لفظ صوف سے نکلا ہے۔ صوف بھیڑوں سے حاصل کردہ اون سے بنے ہوئے لباس کو کہتے تھے۔فقراء نفس کو عذاب دینے کے لئے کھردرا صوف کا لباس استعمال کرتے تھے بعد میں اسے ترک کر دیا گیا۔
در حقیقت تصوف اولیاء اللہ کے دل کا دسترخوان ہے ۔اللہ والوں کی سنگت اختیار کرنا، دوستی کرنا ان کے کردار کو اپنا لینا ہے ۔ اللہ پاک کو حاصل کرنے کا صحیح طریقہ ، رہنما کی اقتداء اور محبت میں چلتے ہوئے رسول اللہ تک پہنچنا ۔ صحیح رہنما کی سنگت اور صحبت انسان کو بدل دیتی ہے ۔ انسان کے ماحول کو ، اس کے نفس کو ، دلوں کو بدل ڈالتی ہے ۔نفس نفسِ امارہ سے مطمئنہ کی طرف آتا ہے یوں وہ بندہ بچ گیا جس کو محفل اچھی مل گئی اور فقط پیار والا ہی کوشش کرتا اور پا لیتا ہے ۔
دست بہ کار ، دل بہ یار
یہ بھی تصوف ہے ۔ چونکہ تصوف اللہ کی محبت اور قرب کی باتیں ہیں جو اہلِ محبت ، فقراء سے ملتی ہیں ۔تو اولیاء کے باطنی دسترخوان پر کھانے کا نام تصوف ہے ۔اس خوراک کا بھوکا تلاش میں رہتا ہے اور خوراک تک جا کر ہی دم لیتا ہے۔اس کی طلب اللہ ہی سے ہے ۔ توفیق بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے ۔جب طلب بھی سچی ہو کوشش بھی ہو تو اللہ پاک اس کو اُٹھا کر اپنے بندے کے پاس بھیج دیتا ہے۔ اب بتاتا رہنما ہے ۔ زباں اس کی ہے ۔ اللہ پاک بندے کی زباں سے ہی تعلیم فرماتا ہے ۔رہنما سے محبت میں وہ جب وارفتہ ہو جاتا ہے تو خود اس کا
وجود مفقود ہو جاتا ہے اور شیخ وارد الوجود ہو جاتا ہے ۔ پھر رحمۃ اللعالمین ،
محسنِ کائنات کے ہاںحضوری والا بن جاتا ہے ۔فنا فی الرّسول ایسا مقام ہے کہ بندہ بالمشافہ سرکا ر سے گفتگو کرتا ہے اور اس سے بھی اعلیٰ مقام صاحبِ حضور کا ہے کہ جس کے سینے میں آکر خود آقا مقیم ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت حضوری والے بھی کم ہیں اور صاحبِ حضور تو بہت ہی کم ہیں ۔
ولیوں کی کرامت اور نبی پاک کا معجزہ جو نبی پاک کی حیات پر دلالت کرتا ہے ۔کرامت کا ظہور ولیوں کے ذریعے ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔روحانیت میں بھوک اور نیند پر کام کرنا ضروری ہے تو یہ نفس کی موت کی علامات ہیں اور اولیائے کرام شیطان کے گھر نفس کو پہلے تباہ کرتے ہیں ۔
المختصر تصوف کا مقصود اللہ پاک کو حاصل کرنا۔ اللہ کی طلب ، جستجو اور پہچان ہے جس کے لئے اولیاء کرام کی سنگت صحبت کو اختیار کیا جاتا ہے۔ ضبطِ نفس، عبادات ، تقویٰ و طہارت کے ذریعے نفس کا تزکیہ کیا جاتا ہے ۔


محبت مشن

معاشرہ انتشار ، بدنظمی اور نفرتوں کا شکار ہو چکا ہے ۔خاندان سے لے کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح تک مسلمان انہی نفرتوں کو دل میں بٹھائے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں ۔ اس وقت تمام امت کے مابین پیار و محبت اخوت اور بھائی چارے کی ضرورت ہے ۔ یہی محبت اور پیار ایمان ہے ۔ یہ محبت دین ہے ۔ یہ محبت قوت ہے ۔ یہ محبت طاقت ہے ۔ یہ محبت اتحاد ہے ۔ آپس میں ایک دوسرے سے انسیت اور پیار کا تعلق ، پھر اپنے رہنما اپنے مرشد سے محبت اور نورٌ علی نور ‘
وجہِ تخلیقِ کائنات ، محبوبِ رب کائنات سے سچا پیار اور عشق کا تعلق جب ایک بندے کا بن جاتا ہے تو وہ خاص ہو جاتا ہے اور پھر یہی تصور جب اللہ پاک ، مولائے کل ، حی القیوم کی طرف جاتا ہے تو محبت اپنا تمام تر معنی و مفہوم دے رہی ہوتی ہے ۔
بحکم اللہ پاک اور بحکم حضور نبی اکرم کی نظرِ کرم ، اور جامِ دیدار سے فقیر نے محبت مشن شروع کیا ہے ۔ یہ انہی کی عطاء اور کرم نوازی ہے کہ یہ سلسلہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے ۔
اصلاح معاشرہ تبھی ممکن ہے جب دل میں پیار اور محبت ہو ۔
الدنیا مزرعۃ الآخرۃ
ترجمہ: ’’ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔‘‘ (الحدیث)
جب محبت ظاہری کردار و اعمال کو بدلے گی تو اس کے فوائد باطنی طور پر اچھی کیفیات لائیں گے اورانہی اعمال کا نتیجہ جنت کی صورت میں ملے گا۔ جس نے محبت مشن کے تقاضوں کو سمجھا اور پورا کیا تو اس کے فوائد و ثمرات کیفیاتِ باطنی بن کر دنیا میں بھی اس کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔
بقول اقبال
شہیدِ محبت نہ کا فر نہ غازی محبت کی رسمیں نہ تر کی نہ تازی
یہ جوہر اگر کارفرما نہیں ہے تو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی
نہ محتاج سلطان نہ مرعوب سلطان محبت ہے آزادی و بے نیازی
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے یہ آدم گری ہے وہ آئینہ سازی
خواجہ غریب نواز کا فرمان ہے :
’’ اہلِ سلوک کے درمیان محبت وہ علم ہے ، جسے صد ہزار عالم
جاننا چاہتے تھے ۔ مگر انہیں ذرا بھر بھی خبر نہیں ہوتی اور زہد میں
بھی ایسی طاقت ہے کہ زاہد اس سے بے خبر اور غافل ہیں اور
وہ ایسا بھید ہے جو دو عالم سے باہر ہے اسے صرف اہلِ محبت اور
اہلِ عشق جانتے ہیں ۔‘‘
روحانیت کا نچوڑ محبت ہے ۔ اللہ کی محبت کے حصول ، اس کے محبوبکے در تک پہنچنے کے لئے تابعداروں سے محبت ، ایک لائن ہے سیدھی جس پر چلنے کے لئے رہنما کی ضرورت رہتی ہے ۔ محبت والا رہنما کی مطابقت میں درِ رسول تک جا پہنچتا ہے ۔ فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول اور پھر فنا فی اللہ جب اللہ کے عشق میں فنا ہوتا ہے تو بقا کا متحمل ہو جاتا ہے ۔ اس محبت کو ہی تصوف اور روحانیت کا نام دیا جاتا ہے۔
اسی محبت سے رازِ خداوندی سمجھ آنا شروع ہوتے ہیں ۔بہت سے لوگ سننے سے ہی محروم رہتے ہیں کچھ سنتے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ کچھ سمجھ بھی جاتے ہیں مگر عمل سے محروم ہوتے ہیں کہ دورِ حاضر میں کھال اور پوست کے طالب تو ملتے ہیں ‘ ہمہ اوست کے طالب نہیں ملتے ۔
طالبِ صادق کو سمجھ جانا چاہئیے کہ وہ اپنے رہنما کی طرف یکسو رہے کہ یکسو جو ہوتا ہے وہی روبرو ہوتا ہے ۔ انسان ہو ، مسلمان ہو اور دل میں محبت ہو تو جو پیار
سے آتا ہے اللہ پاک اس پر کرم فرماتا ہے ۔
اگر چاہت ، طلب ، سچی محبت سے آجاتا ہے تو کیمیا اثر نظر جانانِ کائنات سرکارِ دو عالم کی ہے کہ
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا اور وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
تو جو متلاشیِ حق ہوتا ہے وہ منزل پہ پہنچ جاتا ہے ۔ اللہ پاک عبادتوں کا محتاج نہیں تو جو عبادت پیار سے کی جائے گی وہ قبول ہوگی ۔ جس عبادت میں کوئی غرض چھپی ہوئی نہ ہو اور یہ تو اللہ پاک کی خود رضا ہے ، چاہت ہے ، کہ کوئی ہے ایسی تلاش میں ۔ وہ خود نگہبان ہوتا ہے ۔طالب کو صادق ہونا چاہئیے اور مرشد کامل ہونا چاہئیے ۔ شوق ہو تو بندہ صحیح جگہ آخر پہنچ جاتا ہے اور منزل کو پا لیتا ہے ۔
محبت مشن میں شامل ہونے اور اس مشن کے لئے کام کرنے کا مقصود اس محبت ومعرفت کا جام پینا ہے کہ جس سے بندے اور رب تعالیٰ کے درمیان حجابات اور پردے اٹھ جائیں ۔بندہ ہر وقت ولولۂ عشق سے سرشار رہے اور اس کے تمام کام اس محبت کے نشے میں ہوں ۔


مرشدِ کامل کی ضرورت

مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم تا غلام شمس تبریزی نہ شد
آج کل کا دور جہاںعقلی اور سائنسی دور ہے ۔ وہاں مادہ پرستی اور نفس پرستی زوروں پر ہے ۔ بداعمالیوں سے انسانی قلب پر تاریکی کا غلبہ آ جاتا ہے اور وہ اس مقام پر جا پہنچتا ہے کہ خیر اور شر میں تمیز بھی کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے ۔
ایک صحیح مرشد اور رہنما کی صحبت انسان کی حفاظت کرتے ہوئے اسے بہت کچھ پیار میں عطا کر دیتی ہے ۔ اچھی صحبت میں انسان اچھے اعمال ہی سیکھتا ہے۔
حضرت با یزید بسطامی فرماتے ہیں :
من لا شیخ لہ ‘ فیشخ شیطانہ‘
ترجمہ: ’’جس کا کوئی مرشد نہ ہو اسے شیطان پکڑ لیتا ہے ۔‘‘
اگر کسی کا صحیح رہنما نہ ہو گا تو وہ بدعقیدہ ہو جائے گا۔انسان کے ایمانیات اور عقائد کی حفاظت تبھی ممکن ہے جب وہ کسی اللہ والے کو اپنا رہنما اپنا مرشد بنا لے گا۔ رہنمائی اور مشورے کی ضرورت انسان کا فطری تقاضا ہے ۔ انسانی جبلّت ہے کہ وہ کسی رہنما کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی اُس کی طرح گزارنے کی سعی کرے ۔دنیا میں انسان ہر علم و فن کے لئے ایک استاد کا محتاج ہوتا ہے ۔ گاڑی چلانے کا عمل ہے یا ڈاکٹر بننے کا ۔ حکیم بننا ہے یا انجینئر ۔ درزی بننا ہو یا معمار غرض ہر کام کے لئے انسان کو ایک استاد کی ضرورت پڑتی ہے اور جب کوئی چاہے کہ اللہ کو چاہا کیسے جائے۔ کہاںمیں ذرۂ بے مقدار اور کہاں وہ بلند و بالا شان والا مالک الملک تو اسےضرورت پڑتی ہے ایک ایسے رہنما کی جس سے مل کر جس کی صحبت میں رہ کر اس کا دل نورِ معرفت الٰہی سے روشن ہو جائے ۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :
او در دلِ من است و دل من بدست اوست
چوں آئینہ بدست من و من در آئینہ
ترجمہ : ’’وہ میرے دل میں رہتا ہے اور میرا دل اس کے
ہاتھ میں ہے جیسا کہ آئینہ میرے ہاتھ میں اور میں آئینہ میں۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.