بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

بداعمالیوں کے نتیجے میں دل زنگ آلود ہو جاتے ہیں اور اس کا علاج فقط مرشد کامل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
کلا بل ران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون
ترجمہ: ’’ہر گز ایسا نہیں بلکہ ( اصل وجہ ) ان کے دلوں پر ان کے
اعمال (بد) کا زنگ بیٹھ گیا ہے ۔‘‘
(المطففین : 14 )
یہ زنگ آلود دل جب کسی دل والے سے مل جاتے ہیں تو زنگ ، تاریکی ، ظلمتیں دور ہو جاتی ہیں کہ
درد منداں دی یاری اینویں جیویں دکان عطاراں
سودا بھانوے لئے نہ لئے ، ہُلے پینڑ ہزاراں
بے درداں دی یاری اینویں جیویں دکاں لوہاراں
کپڑے بھانویں کنج کنج بہیے چھنڑ کا ں پینڑ ہزاراں


صحبتِ شیخ کے نتائج

صحبتِ شیخ سے صحبت کا اثر ہوتا ہے اور اثر سے حال بدلتا ہے ۔حال جب بدلتا ہے تو کیفیات کا نزول ہوتا ہے ۔ان کیفیات سے ایک منزل نصیب ہوتی ہے اور ہر منزل ، ہر مقام اپنی منزل مقصود کی طرف لے جاتا ہے ۔ اب منزلِ مقصود کی طرف پہلے سے رواں دواں لوگوں کی ہمسفری مل جاتی ہے اور رہنما کے ساتھ چلنا ، اس کی مطابقت میں ، اس کی محبت میں انسان کو منزلِ مقصود تک لے جاتا ہے۔سچی محبت ، وفا اور ادب کے ساتھ رہے تو بتدریج عشق میں بدل جاتی ہے ۔ عشق کی خاصیت ہے کہ جس کا عشق ہو اسی کا روپ عطا ہو جاتا ہے تو گویا عشق مقصود کو ساتھ لے کر منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ نہ منزل ختم ہوتی ہے اور نہ عشق ختم ہوتا ہے کیونکہ مقصود تو ساتھ ہوتا ہے ۔ منزل مقصود کا پتہ چل گیا ‘ مل گیا تو احساس یہ رہا کہ حاصل کرنے کے باوجود بھی مقصد کی تکمیل نہیں ہوئی تو تشنگی ہر قدم پر دوبالا ہوتی جاتی ہے اور پیاس کی شدت محسوس ہوتی ہے جس پیاس کا مطالبہ یہ ہے کہ پورے بحرِ عشق کو وہ ہڑپ کر جائے اور پھر بھی آرزو کہتی ہے کہ پیاس باقی ہے ، ہدایت من جانب اللہ ہے ۔
فقیر کی ، شیخ کی تو ہر لمحے کوشش ہوتی ہے کہ ہر آنے والا بہتر سے بہتر ہو جائے ۔ کئی توجہ سے پار ہو جاتے ہیں ۔ کوشش فرض ہے ۔بہت سارے ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ وفاداری بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ جو اصل ہوتا ہے وہ وفا کرتا ہے ۔ اعمال میں کمی بیشی بھی ہو تو وفا کی وجہ سے بیڑہ پار ہو جاتا ہے۔
اللہ والوںکی صحبتوں کی اہمیت اللہ پاک نے قرآن مجید میں بے شمار جگہ واضح فرمائی ہے ۔ روزِ محشر جب کوئی نسب کام نہ آئے گا صرف نبی پاک کا نسب ، اللہ والے نیک صوفیاء لوگ کام آئیں گے ۔ فرمایا:
الاخلاء یومئذ بعضھم لبعضٍ عدٌ وّ الّا المتقین
ترجمہ: ’’ سارے دوست اور احباب اس دن ایک دوسرے کے
دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے ( انہی کی دوستی اور ولایت
کام آئے گی )‘‘ (الزخرف : 67 )
سورہ کہف میں نیکوکاروں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم ۔۔۔
ترجمہ: ’’ اپنے آپ کو ان لوگوں کی صحبتوں میں لگا
دے ۔جم کر بیٹھ، صبر کر ان لوگوں کے ساتھ جو
صبح شام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں۔‘‘
ایک نیکو کار انسان کی عبادات کو غلط سوچوں کے ذریعے خراب کرنا اور زیادہ عبادات سے کم کی طرف لانا شیطان کا کام ہے ۔ جو ہر وقت نیک لوگوں کے دل پر حملے کرتا رہتا ہے جس سے ایک عام شخص کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے تو ایسے میں بھی ایک کامل شیخ اپنے مریدین کی حفاظت کرتا ہے ۔ ایسے مقامات پر بھی شیخ کی ضرورت رہتی ہے ۔


فقراء کی پہچان

آج کل کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ فقراء کی پہچان کا ہے ۔ در حقیقت فقراء کی پہچان فقیروں کو ہی ہوتی ہے ۔ایک عام آدمی ظاہری کردار ، اخلاقیات اور اعمال کو دیکھ کر سوچ سکتا ہے ۔ ولیِ کامل وہ ہے جس کو دیکھ کر ، مل کر ۔اللہ کی یاد ، اللہ کی محبت دل میں سما جائے ۔ تلاش اور پرکھ دونوں چیزیں کرنی پڑتی ہیں ۔
متلاشیِ حق اور واصلِ حق اصل فقیر ہوتا ہے ۔فقر لفظ اپنے معنی کی اعتبار سے بھوک سے نکلا ہے ۔شرعی فقیر وہ ہے جس پر زکوٰۃ ، صدقات ، خیرات لگیں گی۔روحانیت میں فقیر سے مراد وہ متلاشیِ حق ، عاشقِ مولا ہے جو ہر وقت محبتِ الٰہی کابھوکا ہے ۔ہر لمحے ہر گھڑی اسی کی محبت میں سرشار ہے ۔بقول حضور داتا گنج بخش
عارف را عارف مے شناسد
ترجمہ: ’’ عارف کو عارف ہی جان سکتا ہے ۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جو قلبِ سلیم رکھتے ہیں ، جن کے دل مائل بہ روحانیت ہوتے ہیں وہ محفل میں آتے ہیں ‘ گفتگو سنتے ہیں ‘ صحبت اختیار کرتے ہیں تو اللہ پاک ان کے دلوں میں اپنے بندوں کی محبت ڈال دیتا ہے جس سے وہ فقراء کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بیعت کرکے باقاعدہ سلسلے میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ چونکہ یہ معرفتِ حق کا کام ہے جو ابد الآباد تک جاری و ساری رہنا ہے تو جب ایک شخص بیعت کے بعد اخلاص سے رابطۂ شیخ اور تصورِ شیخ اختیار کرتا ہے ۔ تو اس
میں بہت سی ظاہری خرابیاں نہیں رہتیں ۔ جتنا اخلاصِ نیت سے وہ آگے بڑھتا جاتا ہے اس کا نفس اور دل پاکیزہ اور منور ہوتے جاتے ہیں اور اسے اپنے رہنما اپنے شیخ کی پہچان حاصل ہوتی جاتی ہے ۔
مطابقتِ شیخ

مطابقت کا فلسفہ ایسا ہے کہ پوری روحانیت اس کے اندر بند ہے فقط اپنے شیخ مرشد و مربی کی مطابقت کرنا جو سیکھ جاتا ہے وہ کامیاب و کامران ہے ۔کیونکہ فقیر طالب سے جتنی محبت کرتا ہے اتنی طالب فقیر سے کرے تو کرامتیں آج بھی وقوع پذیر ہو سکتی ہیں جیسے ندی کا مصلّے کے نیچے سے رواں ہو جانا ۔ اس محبت کی تین شرطیں ہیں جنہیں پورا کرنا لازم ہے ۔ ادب ، وفا اور تعمیلِ احکام ۔ جہاں ان میں سے کسی بات میں کوتاہی ہوئی وہاں رابطہ ، مطابقت منقطع ہو گئی ۔ ایک مقام پانا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا اس پر قائم رہنا ، اس کو برقرار رکھنا اور آگے بڑھنا ۔ مثال کے طور پر عرس پر پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے اور جو لوگ پرواہ نہیں کرتے اور عرس پر نہیں آتے وہ مطابقت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں وہ خود نقصان اٹھا تے ہیں ۔یہ ان لوگوں کے لئے جو بلاعذر کاہلی اور محبت میں کمی کی بناء پر ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور یوں دیکھا جائے تو مطابقت تو کتے میں بھی ہے اس سے زیادہ ہو تو بات ہے اور یہ جان لینا چاہئیے کہ قلندر کی منزل سب سے سخت ہوتی ہے ۔ جس کی نیت درست نہیں وہ مرشد مرشد بیشک پکارتا رہے فائدہ نہیں ہے ۔ حدیث مبارکہ ہے ۔
انّما الاعمال باالنّےّات
ترجمہ: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔‘‘
ہر ولی دینِ مصطفی کو پھیلانے کے لئے آتا ہے اور اس کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس کام کے لئے وقف ہوتا ہے ۔

مریدین کے لئے رہنما اصول

روحانی نظام میں تصورِ شیخ ، رابطۂ شیخ مرکز و محور ہے ۔روحانی تعلیم میں سارا علم محویتِ شیخ ہے ۔ صاحبِ تصوف صرف وہی ہو سکتا ہے جن کا باطنی رابطہ مرشد سے مضبوط ہو ۔ تصورِ شیخ روحانیت میں اسمِ اعظم کا سا اثر رکھتا ہے ۔ جس طالبِ حق نے اپنے مرشد کا تصور پکا کر لیا اس پر شیطان کا کوئی داؤ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔
روحانیت کی ابتداء و انتہا تصور ہے ۔ مکمل باطنی رابطۂ شیخ افعالِ بد سے انسان کو بچاتا ہے ۔ زمانی و مکانی قیود سے آزاد یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
مشن سے وابستہ افراد کو چاہئیے کہ اپنے عقائد درست رکھیں ۔ مرید کا مرشد سے پیار اور محبت کا تعلق ایسا ہو کہ اپنے آپ کو ، اپنی جان مال ، تن من دھن کو مرشد پر قربان کرنے والا ہونا چاہئیے۔ مرشد کے ہر حکم کی تعمیل اپنے سارے معاملات سے زیادہ اہم جانے ، بارگاہِ مرشد میں حسنِ ادب کے قرینوں کو مدِ نظر رکھنا چاہئیے ۔ مرشد کی خدمت گزاری میں پوری قوت و استطاعت لگا کر بھی اسے بہت حقیر سمجھنا چاہئیے۔ مرشد سے متعلق اشیاء مسند ، بستر، روزمرہ استعمال کی اشیاء برتن، کپڑے کبھی اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لانے چاہئیں ۔ کبھی مرشد کے سامنے اونچی آواز سے بات نہیں کرنی چاہئیے ۔ دل میں بدگمانی پیدا نہیں ہونے دینی چاہئیے۔ مرشد کی ہر بات کو شرح صدر کے ساتھ ظاہراً باطناً قبول کرنا چاہئیے ۔ ہمیشہ تسلیم و رضا کا پیکر بنے رہنا چاہئیے۔
مرشد کی بارگاہ میں بیٹھے تو بیٹھنے کے آداب کا خیال رکھنا چاہئیے ۔ دوزانو ہو کر با ادب بیٹھنا چاہئیے ،گفتگو غور سے سننی چاہئیے ،کسی اور سے بھی بات ہو تو اس میں اپنے لئے نصیحت کا پہلو تلاش کرنا چاہئیے ۔ مرشد کی مرضی و منشاء سمجھنے کی اہلیت خود میں پیدا کرنی چاہئیے ۔ہر لمحے مرشد کے حضور بے ادبی سے ڈرتے رہنا چاہئیے ۔ مرشد کی ناراضگی کو اپنے لئے موت سے بدتر سمجھنا چاہئیے ۔ یہ محبت اور ادب کے قرینے ایسے ہیں جو کسی عام سے شخص کو خاص بنا دیتے ہیں ۔اور پیار اور ادب سے محرومی ایک عبادت گزار شخص کو بہت سی برکات و تاثیر سے محروم کر دیتی ہے ۔ مرشد سے سچا پیار اس لئے اہم جانے کہ فقط میرا مرشد ہی مجھے نارِ جہنم سے بچا سکتا ہے ۔ مجھے اللہ کا قرب فقط مرشد کے وسیلے سے مل سکتا ہے ۔رحمتِ عالم ، نورِ مجسم ، محبوبِ خدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غلامی مرشد کی غلامی سے مشروط ہے ۔ مرشدسے محبت عطا کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔ یہ عطا محبت کی سند ہے اوروفا محبت کی دلیل ہے ۔
سلطان محمود غزنوی سے کسی نے پوچھا کہ آپ ایاز پر خصوصی طور پر مہربان رہتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ سلطان محمود نے جواب دیا: ’’ وہ سب سے زیادہ آدابِ خدمت بجا لاتا ہے ۔‘‘ایک روز شکار گاہ میں ایک ہما پرواز کرنے لگا۔ سب غلام ، خدمت گار ہما کے سایہ کے لئے دوڑے مگر ایاز نے فقط میری رکاب میں میرے پاؤں پر ہاتھ رکھا ۔میں نے کہا تم ہما کے سایہ کی طلب کی میں کیوں نہیں لگے ؟ اس نے جواب دیا مجھے محض آپ کے سایہ کی تمنا ہے ۔ اس حسنِ ادب کی وجہ سے میرے دل میں اس کی قدر و منزلت بڑھ گئی کیونکہ حسنِ ادب اللہ لم یزل کو بھی بہت پسند ہے۔
گویا پانچ ایسے امور ہیں جن کا بجا لانا ایک طالبِ صادق کے لئے بہت ضروری ہے۔
٭ محبتِ شیخ
٭ مرشد کا ادب
٭ تصورِ شیخ
٭ حکمِ شیخ پر عمل درآمد
٭ مرشد سے وفا

ان پانچ امور سے ہی درجات میں فرق پڑتا ہے ۔یہی امور روحانی نظام میں آگے بڑھنے کے لئے سیڑھی کا کام کرتے ہیں ۔ اگر ان امور کا خیال نہ رکھیں گے تو مرشد سے روحانی فیض حاصل کرنے میں ناکام و نامراد رہیں گے ۔ مشن سے وابستگان کو چاہئیے کہ تین باتوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں اس میں کوتاہی قطعاً نہ ہو۔
٭ نماز کی پابندی
٭ وظائف کی پابندی
٭ تصورِ شیخ
سالک کی منزلِ مقصود انہی تین نکات میں چھپی ہوتی ہے ۔ سلسلہ قادریہ مخدومیہ قلندریہ سے وابستہ مریدین اپنے نام کے سا تھ ’’قادری ، محمودوی ، خاکوی ، مخدومی یا قلندری ‘‘ لگا سکتے ہیں ۔

دیگر فقراء کی رائے میں آدابِ شیخ

جملہ کبارمشائخ کا اس بات پر اجماع ہے کہ اپنے شیخ کے لئے مریدکے دل میں جذباتِ ادب کے بغیر حصولِ فیض ممکن نہیں ۔ آداب کی بجا آوری کے بغیر ریاضتیں اور مجاہدات بھی اپنا اثر نہیں دکھاتے ۔ ذیل میں چند مشائخ کے فرامین آدابِ شیخ کے حوالے سے پیشِ خدمت ہیں ۔ سب سے پہلے شیخ المشائخ حضرت غوثِ اعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرامین ملاحظہ کیجئے ۔ آپ اپنی کتاب ’’ غنیۃ الطّالبین ‘‘ کے ایک باب آدابِ مریدین میں فرماتے ہیں ۔ مرید کو چاہئیے کہ وہ
٭۔ دل کو طلبِ حق اور اس کے ماسوا سے ترک کے لیے تیار کرے ۔
٭۔ کتاب و سنت کی اتباع کرے ۔
٭۔ عجز و انکساری کا مظاہرہ کرے ۔
٭۔ توبہ میں رضا جوئی الٰہی کو اپنا شیوہ بنا لے ۔
٭۔ شیخ سے محبت کرے ۔
٭۔ شیخ سے قطع تعلق نہ کرے ۔
٭۔ شیخ کے سامنے اپنی تعریف نہ کرے ۔
٭۔ بلا اشد ضرورت بات نہ کرے خاموش بیٹھا رہے۔
٭ ۔ شیخ کے سامنے کوئی مسئلہ بیان ہو رہا ہوتو مریدعلم رکھنے کے باوجود بھی خاموش رہے ۔
٭۔ شیخ کے قریب اپنا مصلّٰی نہ بچھائے ۔
٭۔ اپنے بارے میں دوسروں سے بہتر ہونے کا یقین نہ رکھے ۔
٭۔ شیخ سے اپنے احوال مخفی نہ رکھے ۔
٭۔ شیخ کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کرے ۔
٭۔ کثرتِ سوالات سے اجتناب کرے ۔
٭۔ کرامت کو عوام سے چھپائے ۔
٭۔ ظاہر میں شیخ کی مخالفت اور باطن میں اعراض نہ کرے ۔
٭۔ شیخ کو اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ جانے ۔
٭۔ حضرت ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ :
آپ کا فرمان ہے ، مرید کو چاہئیے کہ اپنے شیخ کے سامنے ’’ کیوں ‘‘ کا لفظ تک استعمال نہ کرے کیونکہ اس لفظ کے اندر اعراض کی بُو پائی جاتی ہے ۔

٭۔ حضرت ابنِ عطا رحمۃ اللہ علیہ :
فرماتے ہیں جو شخص اپنے نفس کو بے ادبی پر قائم رہنے دیتا ہے تو اس کا نفس سرکش بن جاتا ہے ۔ جس کے ظاہر میں ادب نہیں وہ باطنی حسنِ ادب سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔

٭۔ حضرت شہاب الدین سہر وردی رحمۃ اللہ علیہ :
مرید کو چاہئیے کہ اپنے شیخ کو رسوا نہ کرے کبھی غلطی سے بھی اپنے آپ کو شیخ پر ترجیح نہ دے ۔

٭۔ حضرت ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ :
آپ فرماتے ہیں عبادت سے آدمی جنت تک پہنچتا ہے مگر ادب کرنے سے اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ یعنی معرفت مولا نصیب ہو جاتی ہے ۔ صوفیاء کے نزدیک ادب عبادت سے بالاتر چیز ہے کیونکہ عبادت رد ہو سکتی ہے لیکن ادب اور خدمت کبھی
ضائع نہیں ہوتی ۔

٭۔ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ :
بے ادب نہ صرف اپنی روحانی دنیا کو خراب کرتا ہے ۔ بلکہ پورے عالم میں فساد کی آگ لگا دیتا ہے ۔بے ادب اللہ کے فضل سے محروم رہتا ہے ۔

٭۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ :
اللہ تعالیٰ اپنے غضب اور اولیاء کے غضب سے بچائے وہ جس طرح نسبت عطا کرنے پر قدرت رکھتے ہیں اسی طرح نسبت سلب بھی کر سکتے ہیں ۔

٭۔ صوفیاء کا مشہور قول :
صوفیاء کا مشہور قول ہے ۔ ’’ المرید لا یرید ‘‘ مرید اپنی خواہش سے کچھ نہیں چاہتا یعنی وہ رضائے مرشد میں رضائے الٰہی کا طالب رہتا ہے ۔


٭ چند عملی مثالیں

بزرگانِ دین اپنے مرکزِ عقیدت کی خدمت میں کیسے رہا کرتے تھے چند عملی نمونے پیشِ خدمت ہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ :
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کی مجالس میںاس طرح ساکت اور مؤدب ہو کر بیٹھتے کہ پرندے بے جان چیزیں سمجھ کر ان کے سروں پر بیٹھ جاتے اور ان کو خبر تک نہ ہوتی ۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ :
آپ اپنے ابتدائی ایام میں شیخ کی صحبت میں تھے کہ ایک دن شیخ نے فرمایا طاق سے فلاں کتاب اٹھا لاؤ انہوں نے عرض کیا کون سا طاق؟ فرمایا ایک عرصے سے تم یہاں رہ رہے ہو تمہیں طاق کا بھی پتہ نہیں ، عرض کیا میں نے کبھی ادھر اُدھر جھانکنے کی کوشش نہیں کی ، میں تو آپ کی صحبت کی خاطر یہاں آیا ہوں لہٰذا آپ ہی کی طرف متوجہ رہتا ہوں ۔ آپ کے مرشد نے فرمایا اگر یہی بات ہے تو پھر تمہارا کام ختم ہوا ، واپس بسطام چلے جاؤ یعنی تم نے ادب حاصل کر کے گویا تمام روحانی منازل کو حاصل کر لیا ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.