حضرت
ابو القاسم
قشیری رحمۃ
اللہ علیہ
:
ان کا یہ حال
تھا کہ جب اپنے
شیخ حضرت ابو
دقاق رحمۃ
اللہ علیہ
کی خدمت میں
جاتے تو پہلے
روزہ رکھتے
، غسل کرتے
اور پھر حاضر
خدمت ہوتے
۔ حاضری کے
لئے جاتے تو
بار بار واپس
لوٹ آتے دروازہ
کھٹکھٹانے
کی ہمت نہ ہوتی
۔
حضرت پیر سید
مہر علی شاہ
گولڑوی رحمۃ
اللہ علیہ
:
آپ جب بھی اپنے
مرشد کی خدمت
میں حاضری
کا ارادہ کرتے
تو جوتے گولڑہ
(راولپنڈی
) میں اتار دیتے
اور باوضو
ہو کر ننگے
پاؤںسیال شریف
(سرگودھا) تک
پیدل سفر کرتے
اور جب تک صحبت
میں رہتے رفع
حاجت کے لئے
سیال شریف
کے علاقہ سے
باہر نکل جاتے
۔
ایک اصفہانی
نوجوان کی
عقیدت مرشد:
حضرت ابو الحسن
نوری رحمۃ
اللہ علیہ
آپ حضرت سری
سقطی کے پیر
و مرشد اور
جنید بغدادی
کے ہم عصر تھے
۔آپ کا ایک
اصفہانی نوجوان
مرید تھا اس
کے دل میں مرشد
کے دیدار کا
اشتیاق پیدا
ہوا۔ جب وہ
چلنے لگا تو
شاہِ اصفہان
نے اس کو لالچ
دیا کہ اگر
تم اپنے مرشد
سے ملنے نہ
جاؤ تو میں
تمہیں ایک
ہزار دینار
کا محل سامان
سمیت اور ایک
ہزار دینار
کی کنیز مع
زیورات کے
پیش کر سکتا
ہوں ( موجودہ
دور میں یہ
رقم کروڑوں
روپے میں بنتی
ہے ) لیکن وہ
نوجوان ان
تمام چیزوں
کو چھوڑ کر
ننگے پاؤں
شوقِ دیدارِ
یار میں چل
پڑا ۔ ادھر
حضرت ابو الحسن
نوری نے اپنے
ارادت مندوں
کو حکم دیا
کہ ایک میل
تک زمین کو
صاف و شفاف
کر دو ، کیونکہ
ہمارا ایک
عاشق ہوسِ
دنیا کو چھوڑ
کر ننگے پاؤں
شوقِ دیدارِ
میں چلا آ رہا
ہے ۔اور جب
وہ نوجوان
حاضرِ خدمت
ہوا تو حضرت
ابو الحسن
نوری نے تمام
واقعہ بیان
کرکے اس نوجوان
سے فرمایا
کہ
۔’’مرید کی شان
یہ ہے کہ اگر
سارے جہان
کی نعمتیں
بھی اس کے سامنے
پیش کر دی جائیں
تو وہ ان پر
نگاہ تک نہ
ڈالے ۔ ‘‘
ان تعلیمات
کی روشنی میں
ہمیں اپنا
محاسبہ کرنا
چاہئیے کہ
ہم کس حد تک
آدابِ شیخ
کا خیال رکھتے
ہیں ۔ ہر شخص
کو اپنے اعمال
کا بہتر علم
ہوتا ہے ۔
روحانی رکاوٹیں
یارانِ طریقت
کی کمزوریاں
جو روحانی
طور پر آگے
بڑھنے میں
رکاوٹ ثابت
ہوتی ہیں ۔
ان کا جاننا
اور سمجھنا
اس لئے ضروری
ہے تا کہ ان
کو دور کیا
جا سکے اور
یہ کمزوریاں
روحانی سفر
کو روکنے کا
سبب نہ بن پائیں
۔
آج کے دور میں
ایک بڑی کمزوری
اعتقاد اور
یقین سے محرومی
ہے۔ جہاں اعتقاد
متزلزل ہوا
وہاں اپنے
مقام سے نیچے
گر گئے اور
خود کو خبر
بھی نہ ہوئی۔
طالب کو چاہئیے
کہ ہمیشہ اپنے
مرشد کو وسیلہ
جانتے ہوئے
اس پر یقینِ
کامل رکھے
۔ ایک اور کمزوری
یہ ہے کہ اس
مادہ پرست
دنیا میں رہتے
ہوئے انسان
ہر لمحہ مادی
فائدے اور
نقصان کو سامنے
رکھتاہے ۔
یہ مادہ پرستی
، دنیوی فائدوں
کی طرف دل کا
میلان روحانیت
کی ضد ہے کہ
جہاں دنیا
کی محبت ہو
وہاں اللہ
کی محبت نہیں
ہوتی اور جہاں
اللہ سے سچی
محبت ہو وہاں
دنیاوی فائدے
اور نقصان
بے معنی ہو
جاتے ہیں ۔
گزر جا عقل
سے آگے کہ یہ
نور چراغِ
راہ ہے منزل
نہیںہے
انسان کی طبیعت
میں کاہلی
، سستی ، آرام
طلبی اس قدر
بڑھ گئی ہے
کہ وہ دین کے
کاموں کے لئے
روحانی قوت
سے محروم ہو
گیا ہے ۔اور
روحانی نظام
تو اللہ سے
تعلقِعشق پر
مبنی ہے ۔ اپنی
سستی اور کاہلی
کی بناء پر
انسان پر نفسانی
خواہشات کا
غلبہ آ جاتا
ہے ۔
نفس اور شیطان
رکاوٹیں ڈالتے
ہیں طالب کے
لئے ضروری
ہے کہ کاہلی
اور سستی کو
ارادتاً ترک
کر کے دینی
وروحانی کاموں
میں بڑھ چڑھ
کر حصہ لے اور
مریدین کے
لئے جو رہنما
اصول بتائے
گئے ہیں ان
پر عمل پیرا
ہو ۔
یہ شہادت گہِ
الفت میں قدم
رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے
ہیں مسلمان
ہونا
باقی ہر ایک
کی اپنی طلب
اپنا اپنا
ظرف کا پیمانہ
ہوتا ہے کچھ
لوگ صحیح موقع
کھو دیتے ہیں
‘ آگے بڑھنے
کا ۔ تربیت
میں کمزوری
کی وجہ سے ‘کچھ
اغیار کی باتوں
میں آکر راہ
سے بھٹک جاتے
ہیں ‘ بعض اوقات
کچھ حالات
آزمائشی طور
پر صبر و استقامت
کے متقاضی
ہوتے ہیں ۔
مگر صبر کا
دامن چھوڑدینے
سے آگے کا سفر
رک جاتا ہے
۔اگر عام لوگوں
کی بات کریں
کہ وہ روحانی
سفر میں آگے
کیوں نہیں
بڑھ پاتے تو
اس کی ایک وجہ
یہ ہے کہ ان
کو موزوں رہنمائی
اور تربیت
نہیں مل پاتی
۔ بعض لوگوں
کو اچھے رہنما
مل جاتے ہیں
مگر اس کے باوجود
وہ اپنی پڑھتے
رہتے ہیں اس
سے مراد یہ
کہ اپنی مرضی
پر چلتے ہیں
رہنما کی مرضی
اور منشاء
نظر انداز
کر دیتے ہیں
اور روحانیت
میں رہنما
کی طرف دھیان
رکھنا بہت
ضروری ہے ۔
ہمہ وقتی اٹھتے
بیٹھتے ، سوتے
جاگتے دھیان
اپنے مرشد
کی طرف لگا
رہے اس سے دنیا
میں رہتے ہوئے
الگ زندگی
ملے گی جو اصل
زندگی ہے اور
اسی میں رہتے
ہوئے حجابات
اٹھتے ہیں
۔ یہ کمزوریاں
بتائی اس لئے
جاتی ہیں تاکہ
انہیں سمجھ
کر دور کیا
جاسکے۔ میاں
صاحب فرماتے
ہیں ۔
جیکنڑ سونہڑا
راضی ہو وے
مرضی لوڑ سجن
دی
جے تو مرضی
اپنی لوڑیں
فیرنئیُوں
گل بنڑ دی
جس کوخیال
رہتا ہے اس
کااچھاحال
رہتا ہے جومطابقت
چھوڑدیتاہے
وہ خوارہوتاہے۔
انا
روح انا میں
ہے اور انا
میں خدا ۔۔۔ایک
انا فرعون
بناتی ہے ۔
ایک انا اناالحق
کا پرتو ہے
۔جو خود میں
رہے وہ بے خود
رہے ۔صرف خود
کو سمجھنا
یہ فرعونیت
ہے اور خود
کو ختم کر کے
بے خود ہو گئے
تو خدا تک پہنچ
گئے کہ خود
کو ختم کر کے
خدا کو خود
میں سمجھا
تو وحدانیت
کو پا لیا ۔اللہ
ہے اور اس کا
ٹھکانہ دل
ہے جب وہ آ گیا
نہ قلب رہا
، نہ نفس رہا
، نہ سر ، نہ
خفی ، نہ اخفیٰ
،بس وہی رہا
۔ جب دل میں
ظہور ہوا ۔
دل ہی لا مکان
بن گیا تو انسان
کا راز سمجھ
میں آ گیا۔
صوفیاء مجاہدے
کراتے ہیں
۔ ریاضتیں
کراتے ہیں۔
بھیک منگوانا
، بھوکا پیاسا
رکھنا، چلّے
کرانا ۔ ان
سے نفس نڈھال
ہو جاتا ہے،نفس
نڈھا ل اور
کمزور ہو جاتا
ہے تو مشاہدہ
کرتا ہے پھر
بندہ ، بندہ
نہ رہا۔
عالمِشہود
میں شیطان
کی رکاوٹیں
رہتی ہیں کہ
وہ خرابی چاہتا
ہے وہ چاہتا
ہے کہ آپ ترقی
نہ کرسکیں
۔ دین میں آگے
نہ بڑھیں ۔
انسان کو سکون
نہ ملے۔ انسان
خوش نہ ہو ۔
انسان غمگین
ہوتا ہے تو
وہ خوش ہوتا
ہے ۔ تو کچھ
لوگ تو عالم
شہود میں ظاہرداری
میں ہی پھنس
جاتے ہیں ۔
کچھ عالم ملکوت
تک پہنچتے
ہیں ، مشاہدہ
ملا تو فخر
و تکبر آ گیا۔
اپنے آپ کو
نورانی سمجھنے
لگ گیا اور
اس مقام سے
آگے نہ بڑھ
سکا۔عالم احدیت
واقف کاروں
کی جگہ ہے ۔
واقفیت ہو
گئی یقین ہوا
جیسا کہ ہیرے
کا پتہ چل گیا
کہ بوتل میں
ہے اس کی آب
و تاب نظر آ
رہی ہے ۔ تو
اب یہ سمجھ
لینا کہ بس
میرا ہی توہے
اس پر خوش رہنا
کہ سامنے تو
ہے اسے پانے
کی طرف نہ جانا
اسی جگہ پر
چھوڑ گیا جسے
پتہ چل گیا
جو اس سے آگے
بڑھ گیا وہ
متحیر ہو گیا
۔وہاں ذاتِ
حق ہے یہاں
نورِ حق ہے
۔
انا کی دو قسمیں
ہیں :
٭۔
انائے نفس
٭۔
انائے دل ۔
انائے ذات
انائے نفس
فرعونیت کی
طرف لے جاتی
ہے ۔ انسان
خود کو سب کچھ
سمجھتا ہے
اور فرعون
بن جاتا ہے
۔
روحانیت روح
سے نکلا ہے
۔ عناصر جن
سے انسان بنا
ہے جب فنا ہو
جائیں گے مٹی
مٹی میں ، آگ
آگ میں ، انسان
تحلیل ہو جائے
گا روح بچ جاتی
ہے۔
سرکارِ دو
عالم علیہ
الصلوٰۃ والسلام
نے فرمایا
:
موتوا قبل
انت موتوا
’’مرنے سے پہلے
مر جاؤ۔‘‘
مرنے سے پہلے
خود کو مارنا
اپنی میں کو
مارنا ہے ۔
پھر اناالحق
کا رنگ ملتا
ہے۔ روح کا
مقام دل میں
ہے ہر انسان
ذاتی طور پر
کچھ نہیں ۔
اس کی ذات ہے
تو کسی ذات
سے مل کر ۔ یہ
نسبتوں کا
سفر خدا تک
لے جاتا ہے
کہ وہ ظاہراً
ظاہر ہے ۔ عین
عیاں ہے ۔
بابا بلھے
شاہ فرماتے
ہیں :
اک لازم شرط
ادب دی اے سانوں
بات معلوم
سب دی اے
ہر ہر وچ صورت
رب دی اے کتے
ظاہر کتے چھپیندی
اے منہ آئی
بات نہ رہندی
اے
اساں پڑھیا
علم تحقیقی
اے اوتھے اکو
حرف حقیقی
اے
ہور جھگڑا
سب ودھیکی
اے اینویںرولاپایابہندی
اے
منہ آئی بات
نہ رہندی اے
حقیقی
دل
روحانیت پڑھنے
لکھنے سننے
سے نہیں آتی
۔ لکھنے سے
انسان کو علم
حاصل ہوتا
ہے کیونکہ
اللہ پاک کا
ارشاد ہے کہ
میں نے انسان
کو علم قلم
کے ذریعے دیا
ہے ۔ فرمایا
:
اقرا ء وربک
الاکرم o الذی
علم با القلم
o
علم الانسان
ما لم یعلم
o
ترجمہ : ’’ پڑھئے
اور آپ کا رب
بڑا ہی کریم
ہے جس نے
قلم کے ذریعے
(لکھنے پڑھنے
کا ) علم سکھایا۔جس
نے
انسان کو (اس
کے علاوہ بھی
) وہ (کچھ) سکھا
دیا جو
وہ نہیں جانتا
تھا ۔‘‘
پہلے عقل پہ
، شریعت پہ
، علم پہ چلو
جب دل زندہ
ہو جائے تو
پھر دل کی بات
مانو۔ دل زندہ
ہو نے سے پہلے
ممکن ہے تم
نفس کی مان
رہے ہو یعنی
بغیر دلِ زندہ
کے انسان کو
یہ معلوم نہیں
ہوتا کہ وہ
دل کی مان رہا
ہے یا نفس کی
۔ تصورِ شیخ
میں رہ کر طالب
کو چاہئیے
کہ ہمہ وقت
ذکرِ خفی میں
رہے اور اسمِ
ذات کا تصور
اس قدر پختہ
ہو کہ وہ اس
کی آنکھوں
، دماغ ، دل
، دونوں ہاتھوں
، دونوں ٹانگوں
، پورے بدن
میں سما جائے
اور واضح نظر
آئے پھر بے
شک اس کا بولنا
اللہ کا بولنا
، دیکھنا ،
سننا ہے ۔ جیسا
کہ حدیث پاک
میں ہے ۔
’’اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے
جو میرا ہو
جاتا ہے میں
اس کا ہو جاتا
ہوں ۔ میں اس
کی آنکھیں
، ہاتھ ، پاؤں
، دل ، دماغ
بن جاتا ہوں۔
پھر اس کا دیکھنا
میرا دیکھنا
ہے ۔ اس کا
بولنا میرا
بولنا ہے ۔۔۔
‘‘
لوگوں کی کئی
قسمیں ہیں
۔ ایک قسم کے
لوگ وہ ہیں
جو دانائی
کی بات سنتے
ہی نہیں ۔ ایک
صرف سنتے ہیں
سمجھتے نہیں
۔ کچھ ایسے
ہیں جو سنتے
سمجھتے ہیں
مگر عمل نہیں
کرتے اور سب
سے اعلیٰ وہ
لوگ ہیں جو
سنتے بھی ہیں
، سمجھتے بھی
ہیں اور پھر
اس پر عمل بھی
کرتے ہیں ۔
بات وہ سنی
جاتی ہے جو
کانوں تک پہنچے
اور عمل اس
پر کیا جاتا
ہے جو دل تک
پہنچے ۔ حقیقی
دل وہ ہوتا
ہے جو کسی ایسے
دل کی طرف مائل
ہو کہ اس کے
اپنے معاملات
ختم ہو جائیں
اور وہ دل اس
کو اپنے جیسا
بنا دے ۔
فقیر ہمیشہ
دل کو دیکھتا
ہے اور دل کو
غلاظت سے پاک
کر کے اللہ
کے ذکر کی طرف
لگا دیتا ہے
اور پھر خودبخود
اللہ کا ذکر
اُس دل سے جاری
ہو جاتا ہے
جس کو ہم قلب
کا جاری ہونا
کہتے ہیں پھر
اُس کی زندگی
خودبخود بدل
جاتی ہے ۔
ملامت
ملامت فقر
کا پہلا حصہ
ہے ۔ حضور نبی
اکرم سے محبت
دراصل اللہ
تعالیٰ کی
وحدانیت کا
اقرار ہے اور
بندہ اگر حق
پر ہو تو ملامت
بڑا کام کرتی
ہے ۔ سرکار
داتا گنج بخش
کشف المحجوب
میں بیان فرماتے
ہیں کہ وہ تین
ماہ تک چلّہ
کاٹتے رہے
۔ مگر ایک مسئلہ
حل نہ ہوا ۔
آخر کار ایک
سفر کے دوران
ایک مزار پر
رکنا ہوا تو
وہاں ملنگ
لوگوں نے آپ
پر آوازے کسے
اور نا شائستہ
طریقے سے پیش
آئے تو سرکار
نے فرمایا
کہ اس ملامت
سے میرا وہ
مسئلہ حل ہو
گیا جو چلّے
سے بھی نہ ہو
سکا تھا مگر
لازم یہ ہے
کہ بندہ حق
پر ہو ‘ حق ہی
کی جستجو میں
ہوتو ملامت
بہت کام کرتی
ہے کہ ہمیشہ
دل میں خدا
کا خوف رہے
۔ دنیا کو بھی
نہیں چھوڑنا
چاہئیے کیونکہ
یہ بھی ضروری
ہے ۔ دنیا کے
معمولات میں
توازن ہونا
چاہئیے ۔ ملامت
نفس کو مارتی
ہے جو شیطان
کا گھر ہے اگر
ملامت سے یا
کسی اور وجہ
سے غصہ آ جائے
تو فوراً آئینہ
دیکھنا چاہئیے
غصہ دور ہو
جائے گا ‘ خود
میں برداشت
کی قوت پیدا
کرنی چاہئیے
۔ مسئلہ میں
سے مصالحہ
نہ ختم کیا
جائے تو مسئلہ
ختم نہیں ہوتا
۔
اندر سے فٹ
ہونا ضروری
ہے پھر ظاہری
حالت بدلنے
میں دیر نہیں
لگتی ۔ ہر وہ
بات جو حق سے
، اپنے شیخ
سے دور کرنے
والی ہو اس
سے پرہیز ضروری
ہے ۔ بلکہ ہر
میدان میں
شفا ’پرہیز
‘ ہی ہے ۔ روحانیت
میں بھی دوا
لیتا رہے پرہیز
نہ کرے تو فائدہ
نہیں ۔ برداشت
اور دلیری
انسان پیدا
کر لے تو اللہ
کرم کرتا ہے
۔
مادی مسائل
کا حل
دنیاوی معاملات
، مسائل اور
دیگر باتوں
کو دیکھا جائے
تو تین صورتیں
سامنے آتی
ہیں ۔ ایک وہ
باتیں جس میں
نہ گناہ ہے
اور نہ ثواب
۔ شریعت میں
ان امور کو
مباح کہا گیا
۔ دوسری دو
واضح صورتیں
وہ باتیںجس
میں ثواب ملتا
ہے اور وہ باتیں
جن کا کرنا
گناہ ہے ۔
عارف لوگ نہ
گناہ کی بات
کرتے ہیں اور
نہ وہ جس میں
نہ گناہ ہوتا
ہے نہ ثواب
۔ وہ بات کرتے
ہیں تو صرف
ثواب کی ۔ اصل
بات یہ ہے کہ
خدا سے تعلق
بہت اہمیت
رکھتا ہے ۔
جب خدا سے تعلق
ہو جاتا ہے
تو دنیاوی
مسائل و مشکلات
کی کوئی حیثیت
نہیں رہتی
یہ خود بخود
حل ہو جاتے
ہیں ۔ دو کام
کرنے پڑتے
ہیں خدا کا
دھیان بھی
رکھنا ہے اور
شیطان کا بھی
کہ کہیں پکڑ
نہ لے ۔ والدین
کو اولاد کی
تربیت پر خاص
توجہ دینی
چاہئیے ۔ جو
والدین بچوں
کے ساتھ ان
کی غلطی میں
رعایت کرتے
ہیں وہ اولاد
ان کی کبھی
نہیں بن سکتی
۔ اس کے علاوہ
جو لوگ گستاخِ
اولیاء اور
انبیاء ہیں
ان کے ساتھ
کھانے پینے
سے بھی بچنا
چاہئیے ان
کے پاس بچے
بھی حفظ و قرات
کے لئے نہیں
بھیجنے چاہئیں۔
ہمیشہ یاد
رہے کہ قیامت
کے دن اعمال
میں روح نہ
ہوگی تو اٹھا
کر پھینک دئیے
جائیں گے اور
روح عشقِ محمد
ہے ۔بقول اقبال
یہ فاقہ کش
جو موت سے ڈرتا
نہیں ذرا !
اِس کے بدن
سے روحِ محمد
نکال دو
انبیاء اور
اولیاء کی
شان میں گستاخی
کرنے والے
مزاج کے لحاظ
سے خشک ہوتے
ہیں ۔ خشک اس
وجہ سے ہیں
کہ تکبر ہے
۔ تکبر اس وجہ
سے ہے کہ مرشد
کامل سے دور
ہیں ۔مرشد
کامل سے اس
وجہ سے دور
ہیں کہ شیطان
ساتھ ہے اور
شیطان اس لئے
ساتھ ہے کیونکہ
عشقِ مصطفی
کریم نہیں
ہے ۔ تو بندے
کا تعلق رحمتِ
عالم نورِ
مجسم سے ہوتا
ہے تو اللہ
سے تعلق قائم
ہو جاتا ہے
۔ اور جو اللہ
کا ہو جاتا
ہے اس کے مسائل
رحمتِ ربانی
سے حل ہوتے
چلے جاتے ہیں
کہ خدا سے تعلق
میں
ظاہری معاملات
کی کوئی حیثیت
نہیں ۔
بہت سے مریدین
اور عوام الناس
مادی مسائل
کے حل کے لئے
، دنیاوی معاملات
کے لئے فقیر
کے پاس آتے
ہیں ۔یہ بھی
ایک طریقہ
ہے راہِ طریقت
میں لوگوں
کے آ جانے کا
۔جب فقیر کے
اثراتِ باطنی
اللہ کے ذکر
( جو وظیفہ کی
شکل میں دیا
گیا ) کی بدولت
یا دم ، دعا
، تعویذ کے
ذریعے معاملہ
حل ہوتا ہے
۔ تو اس کی تاثیر
سے باطن پر
اثرات پڑتے
ہیں اور روحانی
سفر میں آنے
والا آگے بڑھتا
ہے ۔ زیادہ
تر لوگ اسی
طرح سے آتے
ہیں اور ہم
سفر ہو جاتے
ہیں ۔ خالص
للّٰہیت بہت
کم ہوتی ہے
۔ یہ دنیاوی
معاملات ایک
ذریعہ بن جاتے
ہیں آگے آنے
کا ۔
علم ، محبت
، عمل
علم کی اہمیت
مسلّمہ ہے
۔ قرآن و احادیث
میں بار بار
علم کی ترغیب
دی گئی اور
اس کا حصول
فرض قرار دیا
گیا ۔
اقراء باسم
ربک الذی خلق
’’ (اے حبیب ) ! اپنے
رب کے نام سے
پڑھئے
جس نے( ہر چیز
کو) پیدا فرمایا
۔‘‘ (العلق : 1 )
یہ پہلی وحی
علم کی اہمیت
کو اجاگر کرتی
ہے ۔اسی طرح
احادیث میں
بار بار علم
کے حصول پر
زور دیا گیا
۔ مگر ایک بات
سمجھ لینی
چاہئیے کہ
اللہ اور رسول
پاک سے پیار
علم پر فوقیت
رکھتا ہے ۔
ابو جہل جہالت
کا باپ اس لئے
کہ اس میں محبت
نہ تھی ۔ تو
محبت نہ ہو
تو انسان پڑھا
لکھا بھی جاہل
ہی ہے ۔
اہلِ محبت
کا یہ عالم
ہو جاتا ہے
کہ شرف الدین
بو علی شاہ
قلندر سائل
کو ، بیماروں
کو گالی لکھ
کر دے تو شفا
ہو جاتی تھی
کیونکہ ان
اہل اللہ لوگوں
کو وہ مقام
ملتا ہے کہ
الفاظ کی وقعت
ختم ہو جاتی
ہے اور نیت
کام کرتی ہے
۔یہ دیکھا
گیا ہے کہ فقراء
جب کلامِ الٰہی
کے کسی لفظ
کی وضاحت فرماتے
ہیں تو ظاہری
علم سے ہٹ کر
، مروّج معنی
و مفہوم کو
چھوڑ کر ، عام
ذہنوں کی جہاں
رسائی نہیں
ہو سکتی وہ
بیان کرتے
ہیں ۔ یہ علم
‘ علمِ لدنی
ہے ۔ رب تعالیٰ
کا فرمان ہے
۔
من لّدنک رحمۃ
رحمتِ ربانی
علم کی صورت
میں عطا ہوتی
ہے ۔ بڑے بڑے
اہلِ علم ،
دلائل اور
قیاس کی باتیں
کرنے والے
اثرات سے کیوں
محروم ہیں
؟ کہ اصل بات
ہی یہ ہے کہ
ان کی سرکارِ
دو عالم سے
نسبت کیسی
ہے۔ علمائے
ربانی ، علماء
حق اور ولیِ
کامل ۔وہ کجا
اور آج کے یہ
جاہل لوگ کہاں
۔
پہلے درسِ
نظامی سے فارغ
التحصیل طلباء
باقاعدہ فقراء
اور اہل اللہ
کی صحبتوں
میں بیٹھ کر
تصوف کو سمجھتے
تھے کیونکہ
روحانی نظام
فقط ان صحبتوں
سے ہی سمجھ
آ سکتا ہے ۔
اس کے بعد پھر
عمل میں تاثیر
آتی ہے تو جب
علم بانٹتے
تو اس کے اثرات
معاشرے میں
ظاہر ہوتے
۔
اہلِ علم کو
صحبتِ اولیاء
مل جائے ۔ان
کے پاس بیٹھنا
، رہنا ، سفر
میں پیدل ساتھ
رہیں تو اولیاء
کرام کے تابکاری
و روحانی اثرات
جو مرتب ہوتے
رہتے ہیں ان
سے بات اور
تقریر میں
تاثیر آ جاتی
ہے ۔
مولانا روم
فرماتے ہیں
۔
یک زمانہ با
صحبتِ اولیاء
بہتر از صد
سالہ عبادت
بے ریا
آج کے دور میں
ڈاکٹر طاہر
القادری صاحب
اور پیر کرم
شاہ صاحب کی
خدمات قابلِ
تعریف ہیں
۔
صوفیاء کا
طریقہ تو یہ
ہے کہ ایک دوسرے
سے تعاون اور
محبت کرتے
رہیں ۔جن کو
ولایت عطا
ہوتی ہے ان
کا کام بدل
جاتا ہے ۔
اب آج کے دور
میں
وہ مسلماں
کہاں اگلے
زمانے والے
گردنیں قیصر
و کسریٰ کی
اڑانے والے
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>