بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

اگر غلامانِ رسول ، سچے پیار والے آگے آئیں تو جہاں کو تسخیر کر سکتے ہیں۔پھر جناب جانِ جاناں سرور دو عالم کی عطا سے تسخیر اور تاثیر عطا ہوتی ہے۔فقراء کی ڈیوٹیاں اور ہوتی ہیں ۔ اگر انسان شریعت سمجھ کر محبت سے فقراء کے پاس آئے اور عمل میں کوتاہی نہ کرے تو سمجھ آ جاتی ہے کہ حقیقت کیا ہے ؟
ساری زندگی بندہ ایک ہی کمرے میں رہتا ہے وہ بھی کرائے کا جو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ تو اس زندگی میں علم ، محبت اور عمل کو ملا دیںپھر انسان ،انسان بنتا ہے ۔
عقل اور علم چراغ تو ہے مگر منزل نہیں ۔ آج لوگ چراغ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم علم والے ہیں اصل میں اُن کے پاس علم موجود ہی نہیں ہے اگر صحیح علم ہو تو وہ علمِ حقیقی کی طرف انسان کو رجوع کروا دیتا ہے اگر کسی کے پاس صحیح علم ہے تو اِس حد تک آ کر رُک گیا ہے کہ حقیقت سے نا آشنا ہے ۔ جب تک انسان کسی فقیر کی صحبت میں نہ اٹھے بیٹھے تب تک اُس کا علم صحیح معنوں میں اُسے مستفیض نہیں کر سکتا ۔ علم پڑھنا اَور بات ہے ‘ جب وہ کسی فقیر کے پاس پہنچتا ہے تو سارا علم ایک طرف رہ جاتا ہے پھر وہ اُس فقیر کا علم سیکھنا شروع کرتا ہے ‘ اِس کے بعد وہ کسی قابل ہوتا ہے وگرنہ وہ اِسی علم کے چکروں میں پڑا رہتا ہے اور کوئی چیز حاصل نہیں کر پاتا کیونکہ یہ میدان یعنی روحانیت ، تصوف اور فقیری بقیہ میدانوں سے ذرا ہٹ کے ہے ۔


جادو ۔ کالا عمل

جہاں تک جادو اور کالے عمل کا تعلق ہے تو جناب رحمت عالم حضور نے فرما دیا :
السحر حق وساحر کافر
ترجمہ: ’’جادو کا وجود ہے اور جادو کرنے والا کافر۔‘‘
جناب سرکار دو عالم پر بھی جادو کیا گیا جس پر سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئی۔ فقراء پر بھی جادو کیا جاتا ہے ۔ شیطانی قوتیں اپنا زور لگاتی رہتی ہیں ۔
پیر مہر علی شاہ صاحب پر بھی جادو کیا گیا۔ آپ تین ماہ تک بسترِ علالت پر رہے ۔ پہلے اللہ پاک کی طرف سے آزمائش سمجھا اور رضا شناسی میں رہے کہ دوست کی طرف سے جو بھی عطا ہو وہ ٹھیک ہے ۔ اور جب انہیں پتہ چلا کہ باقاعدہ فلاں آدمیوں نے انڈیا جا کر کالا عمل کرایا ہے تو ان فقراء کے لئے توڑ کوئی مسئلہ نہیں۔آپ نے خود توجہ کی اور توڑ کیا کہ وہ مالک کائنات تو بندۂ مومن کو اپنی ملکیت کے فیض سے خدائی کا مالک بنا دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جادو کا اثر ہوتا ہے مگر نماز اور قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھنے والوں پر کم ۔ درود شریف اور وظائف پڑھنے والوں پر اور کم ۔غسل کرنے والوں اور ہمہ وقت باوضو رہنے والوں پر اور کم ۔سب سے بڑا توڑ تو خود جانِ عالم رسولِ پاک نے بتلا دیا کہ آخری تین قل شریف تین دفعہ پڑھ کرپورے بدن پر پھونک مارد یں۔آخری ایام میں مائی صاحبہ حضرت عائشہ پڑھ کر ہاتھ پھیرا کرتی تھیں ۔اگر بیماری ، سختی آ جائے تو ایسا ہی کرنا چاہئیے۔
مسلمان ہر ایک پر غالب آتا ہے اگر سچے ایمان والا ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے جو چاہے مومن کر سکتا ہے مگر غلامی رسول سے کہ فنا فی اللہ کے بعد بقا بھی غلامی مصطفی ہے ۔ حقیقتِمحمدی سمجھ سے باہر ہے ۔ دم ، تعویذات اور دعا سرکار سے ثابت ہے ان کے علاوہ جادو اور کالا عمل سب کفر ہے ۔ ہندو پنڈت اور عاملین جنات اور عمل کے ذریعے بعض باتیں بتاتے ہیں مگر ایمان والوں کو ہر گز ان کے پاس نہیں جانا چاہئیے کہ یہ اس در سے دور ہو کر خود بے در ہیں ۔

عالمین

جو شریعت میں ہے وہ عالمِ ناسوت میں ہے ۔ جو طریقت میں ہے وہ عالمِ جبروت میں ہے۔ جو حقیقت میں ہے وہ عالم لاہوت میں ہے ۔ عالمین میں سے ایک عالمِ ارواح ہے جو روحوں کی قیام گاہ ہے اور وہاں سے وہ عالَمِ ظاہر یعنی دنیا میں آتی ہیں یہ ایک اور عالم ہے یہاں سے عالمِ برزخ کی طرف جارہی ہیں۔ایک دفعہ صحابہ میں سے کسی نے کہا:
’’ اے زمانے تیرا برا ہو۔‘‘
آپ نے سختی سے منع فرمایا کہ’’ زمانے کو برا مت کہوکہ زمانہ خدا ہے۔ زمانہ وقت میں موجود ہے تھا اور ہو گا ۔ ‘‘جو قائم ہے وہ خدا ہے اللہ پاک ہے جو اس کو چلا رہا ہے اللہ کی وجہ سے زمانہ ہے اور طالبِ حق پہ عالمین میں سے ایک عالم تقویٰ پر رہنے کا ہے ، یہ عالم طالب کو طریقت میں شامل کرتا ہے ۔ ایک عالم معرفت میں لے جاتا ہے کسی طالب پہ جو کچھ گزرتا ہے جو کچھ وہ پاتا ہے تو عالمین میں سے کسی عالم میں سے پاتا ہے ۔ اثر انگیز نگاہ سے دلوں کا عالم بدل جاتا ہے ۔طالبانِ حق کو اس عالم میں رہتے ہوئے بیشمار عالمین کی سیر کرائی جاتی ہے ۔
عاشقِ صادق کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا عالم ہو سکتا ہے کہ راہِ طلب اور راہِ عشق میں ایک ایسا عالم آتا ہے کہ درِ محبوب تک پہنچ جاتاہے ۔ کوئی بھی ذی شعور خود ہی سوچ لے کہ اس وقت طالب کی خوشی کا کیا عالم ہو گا۔عالم زمانے کو کہتے ہیں ۔ زمانہ وقت ہے اور ایک طالب پر کئی قسم کا وقت گزرتا ہے یوں سمجھئے کہ ایک طالب کئی عالمین میں سے گزرتا ہے ۔

اللہ پاک نے سورۃ فاتحہ کے آغاز میں فرمایا :
الحمد للّٰہ رب العالمین
’’ اللہ اس ذات کریم کا شکر جو سب زمانوں کو پالنے والا ہے ۔‘‘
(الفاتحہ : 1 )
ہر زمانے کی مخلوقات کو پالنے والا وہ خود ہے وہ صرف کھانے پینے کا رزق نہیں بلکہ وہ رزق پیا رکی صورت میں بھی اہل افراد کو عطا کرتا ہے ۔ہر زمانے میں عام لوگوں کو رزق دیا جاتا ہے ۔ خاص لوگوں کو رزق کے ساتھ محبت بھی دی جاتی ہے خاص الخاص کو رزق اور محبت کے ساتھ عشق کا رزق بھی عطا کیا جاتا ہے تو اس طرح ایک عام بندہ اور ایک طالبِ حق اور ایک عاشقِ صادق ہر عالم میں اللہ کی زیرِ نظر رہے اور ہر عالم میں اللہ کے بندوں کے لئے فیض رساں رہے ۔
خاصانِ خدا کا یہ شیوہ ہے کہ جب ایک خاص بندہ طلب کے عالم میں آتا ہے اس وقت اس کو طلب ہوتی ہے اس نے دیکھا نہیں ہوتا اس وقت وہ اشتیاق کے عالم میں ہوتا ہے اور جب دیدار ہو جائے تو پھر طلب سے محبت کے عالم میں چلا جاتا ہے ۔ محبت کے عالم میں پختگی اختیار کرنے کے باعث اللہ پاک اس کو عشق کا عالم عطا کرتا ہے عشق میں ایک ایسا مقام آتا ہے کہ وہ جل جاتا ہے یعنی فنا کے عالم میں چلا جاتا ہے ۔ فنا کے عالم میں پہنچتا ہے تو پھر بقا کی صورت میں تمام عالمین کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ اب نہ اس پہ ذکر کا عالم ہے نہ ذاکروں کے عالم سے نسبت رکھتا ہے بلکہ اب عالمین سے جان چھوٹ گئی اور مذکور میں غرق ہو گیا ۔ زمانہ ، وقت کی قید ختم ہو گئی اور مذکور سے مل گیا ۔ نہ ذاکر ، نہ ذکر بس مذکور رہ گیا ۔ یعنی ذاکر بھی ختم ہو گیا ذکر بھی ختم ہو گیا بس مذکور باقی رہ جائے گا۔ مذکور بشکلِ نور رہتا ہے مسرور ‘ مگر یہ منزل ہے بہت دور۔

رات کا درد

اللہ پاک نے دن اور رات بنائے ۔ کچھ نعمتیں دن کو عطا کیں اور کچھ باتیں رات کے لئے مختص کر دیں ۔ انسان دن کو مختلف کاموں میں لگا رہتا ہے ۔ اللہ پاک نے فرمایا:
ان لک فی النّھار سبحا طویلا
ترجمہ: ’’ بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سی
مصروفیات ہوتی ہیں ۔‘‘
(المزمّل : 7 )
رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے ۔انسان کاموں سے فارغ ہوتا ہے تو اسے دل کے رشتے ناطے یاد آتے ہیں ۔دل کے رشتے کا تعلق درد سے ہے ۔رات ہوتو درد بڑھ جاتا ہے ۔ عاشق تاریکی ، سناٹے اور خلوت کو تلاش کرتے ہیں ۔ اہلِ محبت کو وہ درد بھی پیارا ہوتا ہے ۔
عرفاء اور عشاق کے لئے رات زبردست چیز ہے ۔ وہ رات کا انتظار کرتے ہیں ۔ دنیا والے سو جاتے ہیں اور وہ اپنے محبوب سے ملاقات کرتے ہیں ۔
عاشق ‘ چور ‘ فقیر خدادے منگدے گھُپ ھنیرا
اک لُٹا وے ‘ اک لّٹّے ‘ اک کہہ گیا سب کجھ تیرا !
طالبِ صادق بھی رات کا منتظر ہوتا ہے کیونکہ رات کو درد مچلتا ہے ۔ ماہی ِ بے آب کی طرح سوز اور پیار بڑھتا ہے ۔ ایک عاشق کے لئے بے تابی ، بے قراری میں محبوب کی نگاہِ کرم چھپی ہوتی ہے ۔ اس لئے اسے بے قراری بھی محبوب ہوتی ہے۔
بقول اقبال کے
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
محبوب سے نسبت رکھنے والی ہر چیز پیاری لگتی ہے ۔ راستہ بھی تسکین دیتا
ہے صحن اور دروازے پر اور تسکین ملتی ہے ۔ تو شام کا وقت چونکہ آنے والی رات ، آنے والی گھڑی کا دروازہ ہے ۔ اس لئے شام کے وقت کو بھی عرفاء اور شعراء نے موضوعِ سخن بنایا ہے ۔ رات کے ایک پہر میں کئی کئی باتیں ہوتی ہیں ۔ انہی باتوں میں ساری راتیں بسر ہوتی ہیں ۔ جوں جوں محبوبِ حقیقی سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ۔ ایسی ہی لمبی راتیں اچھی لگتی ہیں ۔
نمازی پنج ویلے
عاشق ہر ویلے
دنیا دار کی ڈیوٹی وقت کے ساتھ ہے ۔ اور فقیر کی ڈیوٹی ربط کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اور رات کے لمحے ربط کو بڑھاتے ہیں ۔دن مجاہدے میں گزرا ۔ رات مشاہدے کا وقت ہے ۔ملائِ اعلیٰ سے براہِ راست ربط و ملاقات کا وقت ہے ۔ رحمتِ حق کی آواز پر لبیک کا وقت ہے ۔مناجات کا ، ملاقات کا وقت ہے ۔ ہر ایک کو نوازا جاتا ہے ۔جس نے رات کے لمحوں میں محبوب سے ملنے کا مزہ چکھ لیا وہ حبِّ دنیا سے نجات پا گیا ۔ رات ہو اور محبوب سے ملاقات ہو۔ ایک فقیرکی جگہ جائے انکشافات ہوتی ہے ۔ کیونکہ راز والے کو پا لینے سے وہ خود ایک راز بن جاتا ہے ۔ پیار والے تو کہتے ہیں ۔
تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا
کوئی ایک بات پوچھے تو ہزار بات کرنا
کوئی قیام میں رات گزار دیتا ہے ۔ کسی کو سجدے کی لذت گم رکھتی ہے ۔ کوئی اپنے دلدار ، حق کی تجلیات ، اس کے جلووں میں متحیر ہوتا ہے۔
کنارہ پا نہیں سکتا حقیقت سمندر کی
بندۂ عقل کیا جانے ‘ حالت کسی کے اندر کی
بدلتے ہیں انداز زمانے کے جِن سے محمود
وہ مظہرِ جمالِ ذات ہے صورت قلندر کی


اولیاء کرام کی اقسام

1۔ سالک
2۔ مجذوب
3۔ قلندر
یہ سب ولائیت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں ، ایک مشترک لفظ ’ ولی ‘ ان سب کے لئے بولا جاتا ہے ۔ ان کو پھر ہر درویش نے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ان میں سے بعض ظاہری کام پر تعینات ہوتے ہیں ۔ اور بعض کو صرف باطنی کام کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یہ سب اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔
1۔ سالک :
راہِ سلوک میں رہ کر ظاہری شرع پر عمل کرنے والا سالک کہلاتا ہے۔ یہ شرع پر کاربند رہتا ہے ۔تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کر طریقت کو عام کرتا ہے۔ اس کا مقام انتہائی اہم اور اعلیٰ ہے ۔اس پر تمام کیفیات گزرتی ہیں ۔ یہ ہوش میں رہ کر ہوش مندوں کی صحیح تربیت کرتا ہے۔ اس کا سلسلہ ہوتا ہے اور مریدین ہوتے ہیں ۔عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور شریعت اور طریقت کی مے انہیں ان کے میخانوں سے پلائی جاتی ہے۔ سلسلے کا معنی اللہ والے سے مل کر اللہ کے راستے کا پتہ چلاناہے۔
قادریہ ، سہروردیہ ، نقشبندیہ ، چشتیہ یہ چاروں سلاسل ہیں ۔ اللہ کی محبت کی مے لوگوں کو پلانا ، ان کی صحیح تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا سالک کاکام ہے ۔ اس پر ہوش غالب رہتا ہے ۔کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ آپ کو ہوش ہو گا تو ہوش والے کو سمجھا سکیں گے ۔ اس کی قدر و منزلت اللہ کے نزدیک بہت ہے ۔اس کا مقام اونچا ہوتا ہے ۔
2۔ مجذوب :
جذب شدہ ۔ اللہ کی محبت میں جذب شدہ ایسا اللہ کا دوست جو اپنی ذات کی نفی کر کے اسی اللہ کی ذات میں ضم ہو گیا ہو ۔
اس پر ظاہری شرع ساقط ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ شریعت ہوش مند پر لا گو ہوتی ہے ۔یہ ظاہری اعتبار سے بے ہوش ہوتا ہے ۔
مجذوب کا سلسلہ نہیں ہوتا اور نہ ہی مریدین ۔ یہ اپنے باطنی اسرار و رموز میں محو و مست رہتا ہے ۔جو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوتے ہیں ۔باطنی طور پر مجذوبین کی بعض اوقات مختلف شعبوں میں ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں ۔ کئی مرتبہ حکومتوں کے بننے اور اتار چڑھاؤ میں بھی ان کا دخل ہوتا ہے ۔یہ باطنی کنٹرولر کا کام کرتے ہیں اور ان میں بھی رینک ہوتے ہیں باطنی لحاظ سے۔
بعض بالکل عشقِ الٰہی میں غرق ہوتے ہیں ۔ اور بعض کی ڈیوٹیاں مختلف جگہوں پر لگائی جاتی ہیں ۔کبھی شربت بیچنے پر اور کبھی مختلف کاموں پر ۔
مجذوب مانگنے والا نہیں ہوتااور نہ ہی کبھی اپنی خواہشِ نفس سے مانگتا ہے ایک سے لے کر دوسرے کو دے دیتا ہے اسی طرح کسی کے پاس زادِ سفر نہ تھا تو مجذوب نے کسی ایک سے لیا اور جِس کے پاس زادِ سفر نہ تھا اس کو دے دیا ۔ ان کا ہر عمل، ہر حرکت ، ہر ہر ادا مصلحت سے بھرپور ہوتی ہے ۔ ہر بات کے پیچھے کوئی تمثیل ہوتی ہے ۔ بعض اوقات غیر متوقع بات کر دے گا ۔ کسی کو گالی دے دے گا ۔ مگر ہر بات کسی مصلحت کی بناء پر ہوتی ہے ۔
3۔ قلندر :
یہ سالک اور مجذوب دونوں کے مزاج اور کیفیات کا حامل ہوتا ہے ۔ سلوک اور جذب کا مجتمع ہو جانا ۔ دونوں کی خصوصیات کا کسی میں مل جانا ۔ قلندریت کا حامل کر دیتا ہے ۔ قلندر پر جذب غالب ہو تو کیفیات اور ہوتی ہیں ۔ ہوش غالب ہو تو کیفیات اور ہوتی ہیں ۔ یہ کبھی باہوش اور کبھی بے ہوش ہوتا ہے۔ دو نوں طرح کی عطائیں اِس پر ہوتی ہیں ۔
قلندر کا ایک معنی ’’ دین و دنیا سے آزاد ‘‘ بھی لیا جاتا ہے ۔ کہ بعض اوقات جذب کی کیفیات غالب آگئیں تو اہل ظاہر کے نزدیک بے ہوش اور دین و دنیا سےآزاد ہے ۔
مفلس کے لئے ہے نہ تونگر کے لئے ہے
کونین کی ہر شے تو قلندر کے لئے ہے
ایک اور مفہوم کے مطابق ’ قلندر ‘ سریانی زبان کا لفظ ہے اور اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔جس طرح رحمن ، رحیم اس ذات کے نام ہیں ۔ اسی طرح قلندر بھی اسماء خدا میں سے ہے ۔قلندر کا ایک معنی ’ بندر نچانے والا ‘ بھی ہے ۔ چونکہ قلندر کی محبت میں دلوں کا رقص ہوتا ہے تو یہ رقص کرانے والا قلندر کہلاتاہے ۔
قلندر سے ایک مراد ’ کُل اندر ‘ بھی لیا جاتا ہے ۔ کہ عالمین اور کُل جہاں اس کے اندر پوشیدہ ہیں ۔سب کچھ سمیٹے ہوئے ہے ۔
سالک مجذوب:
پہلے سالک تھا‘ پھر جذب میں چلا گیا ‘یہ بھی قلندریہ رنگ ہی ہوتا ہے۔راہِ سلوک کا مسافر جب جذب کی کیفیات بڑھ جانے کی بناء پر حالتِ جذب میں سرگرداں ہو جائے تو وہ سالک مجذوب کہلائے گا۔
مجذوب سالک:
پہلے مجذوب تھا ۔ پھر سالک بنا تو اسے مجذوب سالک کہتے ہیں ۔ فقراء کا نظام بالکل جداگانہ ہوتا ہے فقیر کے ، قلندر کے راز کو پا لینا بہت مشکل ہے ۔کیفیات بدلتی بھی رہتی ہیں ۔اعجاز ہادی پیر بادشاہ حضرت سید رسول شاہ خاکی اوائل میں جذب میں رہتے تھے ‘حضور غوث الاعظم کے عاشق تھے اور بعد میں سالک بنے ۔
قلندروں میں بھی اپنے اپنے مقام اور مرتبے ہوتے ہیں ۔ ڈیوٹیاں لگی ہوتی ہیں ۔ قلندریت میں بھی آگے کی طرف بڑھتے رہنے کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ خواہ وہ سلوک میں ہو یا جذب میں ۔ مروجہ سلسلے چاروں اور فقراء کا نظام بالکل الگ تھلگ ہے ۔ یہ وحدت کے قائل ہوتے ہیں ۔بابا بلھے شاہ بھی قلندریہ مزاج کے تھے ۔ شاعری میں بڑی بڑی باتیں کہہ گئے اگر نثر میں کہتے تو فتویٰ لگ جاتا ۔ قلندریہ سلسلہ عشق و مستی کا سلسلہ ہے ۔جو عشق سے شروع ہوتا ہے اور فنائیت کی طرف لے جاتا ہے ۔قلندر حقیقی فقیر ہوتا ہے جو اللہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ عام لوگ زمانے کے مطابق چلتے ہیں اور زمانہ قلندر کے مطابق چلتا ہے ۔ قلندر روحانی سیر کرتا ہے اور اگر طالبِ صادق تصورِ شیخ میں مکمل ہو تووہ بھی شیخ کے ساتھ روحانی سفر کرتا ہے ۔جس طرح موسیقی سننے سے انگ بجتے ہیں اسی طرح ذکرِ اسمِ ذات کے ساتھ قلندر کے انگ بجتے ہیں ۔ جامِ عشقِ مصطفی کریم اور جامِ عشقِ خدا پی کے جب مستی آتی ہے تو ایسی حالت کو ’’قلندریت ‘‘ کہتے ہیں ۔قلندر خود شرابِ عشقِ الٰہی میں مست ہو کر اس کے راستے پر چلتا ہے اور لوگوں کو بھی اس راستے پر لے آتا ہے ۔ قلندر پہاڑ بھی ہوتا ہے ، ریت بھی ، پانی ، صحرا ، آگ بھی ۔اس کی حقیقت کو کوئی نہیں پا سکتا۔یہ اللہ پاک کے رازوں میں سے ایک راز ہے ۔اور ایک قلندر کا کلام علم کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ منجانبِ خدا ہوتا ہے ۔

فقر و غناء

صاحبِ فقر جب اپنی حقیقت کو پا لیتا ہے تو صاحبِ غناء ہو جاتا ہے ۔ فقیر خود تو بھوکا ہے مگر وہ ذات جس سے اسے نسبت حاصل ہے وہ ذات امیر ہے ۔ وہ جس ذات تک پہنچ کر امیر ہوا وہ ذات کبیر ہے امیر ہے۔ فقیر حقیقت میں آلائشِ نفس ، ظاہری خواہشات میں غریب ہے ۔ اس کی بھوک اللہ کے پیار کی بھوک ہے‘ وہ ہر لمحے عشق و مستی میں رہتا ہے ۔
شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں:
’’ فقیر اپنے فقر سے اتنی ہی محبت رکھتا ہے جتنی دولت مند اپنی دولت سے رکھتا ہے ۔‘‘
عوام الناس کے نزدیک دنیاوی نعمتوں کو حاصل کرنا ، ان میں کثرت کا مالک ہونا غناء ہے ۔جبکہ فقراء کے نزدیک اس اصل مالک ، نعمتوں والے کو پا لینا غنا ہے ۔اور فقیر ہی درحقیقت غنی ہوتا ہے ۔دنیاوی رزق بے شک اللہ کی نعمت ہے۔اور نعمتوں پر شکر نعمتوں کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے اور شکر کا مطلب اس نعمت کو اللہ ہی کی راہ میں لگا دینا ہے ۔ جبکہ فقر پر صبر کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور صبر اللہ کا قرب ، اس کی محبت ، اس کی معیت ، اس کی رفاقت ، اس کی پہچان عطا کرتا ہے ۔اس انداز سے بھی دیکھیں تو فقر ہی سب کچھ ہے جو صوفیاء ، قلندروں اور اہل اللہ کے پاس ہے۔ اہلِ دنیا اس سے محروم ہیں ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.