بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
مہرِ منور شاہِ قلندر

غنی کا لفظ اس بے نیاز رب سبحانہ‘ کے ہی شایانِ شان ہے اس لئے فقراء سب کچھ اس کی راہ میں لگا کر بھی فقر ہی اختیار کرتے اور پسند کرتے ہیں ۔
عوام الناس کی طلب یہ رہے کہ اگر رب تعالیٰ اسبابِ معیشت عطا فرماتا ہے تو اسی کی عطا ہے اپنی محنت اپنا کمال نہ سمجھیں اور اس سے غافل نہ ہو جائیں اگر رزق میں کشادگی نہ ہو تو حرص و ہوس سے خود کو بچائیں اس کی مرضی اور رضا پر دل سے اطمینانِ قلب کو حاصل کریں کہ یہ متاعِ دنیا اتنی اہم نہیں حقیقی متاع فقط مالک انس و جن سے پیار ، اس کو پا لینا ہے ۔ اپنے فرائض کی ادائیگی اور باطن کی نگہداشت بہت ضروری ہے ۔ نفس کی حفاظت کی جائے اور دنیاوی اغراض سے دل کو پاک کیا جائے یہی اصل فقر ہے ۔

توسل ۔ استغاثہ

یہ دنیا دارالاسباب ہے ۔ ہمیشہ حقیقی مدد اللہ کی ہی ہوتی ہے ۔ اللہ نے ہی وسائل پیدا فرمائے ہیں وہ چاہے تو بغیر وسیلہ کے عطا فرما دے لیکن اس کا اپنا ایک مزاج ہے ۔ہدایت بھی اس نے بندوں کو براہِ راست نہ دی ۔ بلکہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے ۔جنہوں نے اس کا پیغام بندوں تک پہنچایا ۔
کلام اللہ پڑھیں تو وہ فرماتا ہے:
ولو انھم اذ ظلمو انفسھم جاء وک ۔۔۔۔
ترجمہ: ’’ اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ
کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگ لیتے۔‘‘
(النساء : 64 )
یعنی بتلا دیا کہ ظلم کر بیٹھو ، گناہ کر بیٹھو تو میرے محبوب سے مدد مانگو گے تو میں ہی تو ہوں ۔ایک اور جگہ فرمایا:
وما ینطق عن الھویٰ o ان ھو ا لّا وحی ٌ ےُّوحیٰ۔۔۔
ترجمہ: ’’ میرا محبوب اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتا ۔ جو کچھ وہ عطا کرتے ہیں
وہ اللہ ہی کی عطا ہے ۔ اصل وہی ہے ۔‘‘ (النجم : 3 )
ایک اور مقام پر ارشادِ ربانی ہے:
وما اتٰکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا ۔۔۔
ترجمہ: ’’ پس وہ جو کچھ دیں لے لیا کرو اور جس سے منع فرمائیں
رک جایا کرو۔‘‘ (الحشر : 7 )
اللہ نے ہر چیز میں سبب رکھا ہے ۔ مرض ہوتا ہے تو دوا لیتے ہیں شفا تو اللہ دیتا ہے۔ اسی طرح سوچیں تو ہیرا بھی پتھر ہے مگر ہیرے اور عام پتھر میں فرق ہے ۔ عظمت دینے والا اللہ ہے اسی طرح بندوں میں جو اس کے بندے ہیں ان میں اور عام لوگوں میں فرق ہے پیرانِ پیر غوث الاعظم دستگیر اتنے محبوب بندے ہیں کہ ان کے نام کے توسل کے باعث لوگ فیضیاب ہوتے ہیں مدد اللہ ہی کی ہوتی ہے ۔
صدقہ رد البلاء ہے ۔اگر کوئی صدقہ دے تو مصیبت ، دکھ دور ہوتے ہیں ۔ اب کوئی کہے کہ صدقہ رد البلاء کیسے ہو گیا ؟ یہ اسباب تو اللہ ہی کے عطا کردہ ہیں ۔ اور وہ خود قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
یا ایھاالّذین اٰمنو ا اتّقوا اللّٰہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ۔۔۔
ترجمہ: ’’ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس (کے حضور)
تک (تقرّب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو ۔‘‘
(المائدہ : 35 )
اور یہ تاریخِ اسلام میں ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے ۔ انبیاء بھی کسی وسیلے کے ذریعے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے ۔ اسی طرح صحابہ اور کثیر ائمہ کرام بھی اس کے حضور اس کے نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں ۔ یہ اللہ کا پسندیدہ اور جائز طریقہ ہے جس کے ذریعے دعا جلدی قبول ہوتی ہے ۔
قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر توسل کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا حضرت مریم علیہ السلام کے حجرے میں اس جگہ کا وسیلہ اپناتے ہوئے اولاد کی دعا کرنا ۔ حضرت یوسف علیہ السلامکی قمیض مبارک کے ذریعے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا واپس آ جانا اور اسی طرح کی بیشمار مثالیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں ۔ اس بات کو سمجھ لینا چاہئیے کہ اصل اور حقیقی مستعان اللہ ہوتا ہے ۔ بندہ کسی کام کے لئے کسی سے رجوع کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے علاج کے لئے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ دم اور تعویذات کا استعمال ، اللہ کے نیک بندوں کا وسیلہ بنانا ، درحقیقت دنیا میں اللہ ہی کے عطا کردہ اسبابِ زندگی کو استعمال کرنا ہے ۔ اس لئے توسل اور استغاثہ کا عمل اللہ کے نیک مقرب ، محبوب بندوں کو وسیلہ بناتے ہوئے مدد طلب کرنا ، دعا مانگنا ، مناجات کرنا ، یہ سب اعمال جائز بلکہ پسندیدہ ہیں ۔

فکر ۔ خیال

فکر سے دنیا آباد بھی ہوتی ہے اور برباد بھی ۔ جو فکر یار کی طرف سے عطا ہوتا ہے وہی آباد کرتا ہے ۔فکر وہ سوچ اور خیال ہے جو انسان کو یار کی یاد میں گم رکھتا ہے ۔ جو ’’ خیال ‘‘ میں رہتا ہے وہ ’’ حال‘‘ میں رہتا ہے۔ کہ خیال حال بناتا ہے اور حال استقبال بناتا ہے ۔
متلاشیِ حق کو کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔کیونکہ منزل کی جستجو میں بڑی رکاوٹیں ہوتی ہیں اور یاد رکھنا چاہئیے کہ جو خیال کو چھوڑ دیتا ہے اس کو حال چھوڑ دیتا ہے کہ
جو ’’ نچ ‘‘ جاندا اے اوہ ’ ’ پا ‘‘ جاندا اے
جب انسان بیعت ہو جائے تو پھر ہر چیز مرشد پر چھوڑ دے اور صرف خیال ، تصور کو مضبوط کر لے ۔ ہر لمحے صرف تصور میں رہے پھر تصور میں جو شے ظاہر ہو اس کا مشاہدہ کرے ۔

سکون

راہِ سلوک میں مختلف قسم کی رکاوٹیں آتی ہیں جن کے پسِ پردہ طالبِ صادق کے لئے بہتری ہی ہوتی ہے۔ قلندر کے دربار میں جنگل ، پہاڑ ، جانور ، رجال الغیب غرضیکہ بڑے بڑے تماشے اور حیران کن چیزیں موجود ہوتی ہیں ۔
ذکر اللہ باعث اطمینان اور سکون ہے ۔ جب ذکر اللہ میں اور تصور شیخ میں طالب اتنا محو ہو جاتا ہے کہ طالب کے بدن میں اور کوئی چیز نہیں رہتی تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ یکسو ہے ۔ اور اگر طالب یکسوئی میں نہ ہو تو نفس تابع نہیں رہتا ۔ جس کے زیرِ دست نفس ہے اس کے زیرِ دست سلطنت ہے اور عجیب بات ہے کہ سکون ہونا ایک لذت ہے تو سکون کو ترک کرنا اس سے بڑی لذت ہے ۔

ارادہ

ہر انسان کا ارادہ ہی اس کا معیار ہوتا ہے ۔ نفس مغلوب ہو، نفس مر دہ ہو تو ارادہ پختہ ہوتا ہے ۔ جب ارادہ پختہ ہو ، یقین کامل ہوتو منزل کاحصول مشکل نہیں رہتا۔ خوفِ خدا مد نظر ہو تو انسان غلطی نہیں کرتا ۔

یکسوئی

ایک کا ہوجانا یکسوئی ہے اور یکسوئی سے ایسا ایک ملتا ہے جو ایک بہت بڑے ایک سے ملا دیتا ہے ۔ پھر وہ خود ایک فردِ عظیم بن جاتا ہے ۔

عقل

جب بندہ عقل میں رہتا ہے ، خراب رہتا ہے ۔ جب عقل بندے میں آتی ہے تب وہ کامل بنتا ہے ۔ کیونکہ بندہ تب تک عقل میں رہتا ہے جب تک اسباب پر نظر رکھتا ہے اور عقل تب بندے میں آتی ہے جب خدا پر نظر رہتی ہے ۔

بندگی

بندہ بندگی کے خول سے نکلا تو بندگی سے گیا ، اور بندہ اپنے آپ کےخول سے نکلا تو بندگی اس سے گئی ۔


باب سوم
اَسرار


اَسرار۔ اقوالِ شاہِ قلندر

اہلِ حق، صوفیاء ، قلندر جو بحر معرفت میں غوطہ زن ہوتے ہیں ۔ وہ جب بات کرتے ہیں تو ان الفاظ، ان جملوں کے پسِ منظر میں جو جہاں چھپا ہوتا ہے وہ اھلِ نظرہی جان سکتے ہیں ان کی گفتگو ۔۔۔۔. ان کا ایک ایک جملہ اپنے اندر انوار الہیہ کے رنگ بھی لئے ہوتاہے اور اس ایک جملے میں ہی کئی معانی چھپے ہوتے ہیں۔ گویا کوزے میں سمندر بند ہوتا ہے ۔ ان خوبصورت باتوں اور انہی بامعنی جملوں کو کبھی اقوالِ زریں کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی ہیرے جواہرات قرار دیا جاتا ہے۔.
اسلام کے علاوہ دیگرمذاہب میں بھی اپنے رہنماؤں ، داناؤں کی باتوں کو محفوظ کیا جاتا ہے اور ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر زرتشت اور گو تم بدھ کے نظریات آج بھی زیرِ بحث رہتے ہیں۔منٹگمری واٹ ، جان ڈیوی ، ڈارون ، اور ڈبلیو سی اسمتھ وغیرہ کی باتیں اب بھی کی جاتی ہیں۔
اسلام ایک مکمل دینِ الہٰی ہے جس کی بنیاد وحیئِ الٰہی ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ رسول مقبول میں علم، حکمت، معرفت، حقیقت، سائنس، عالم ارضی، شمسی و قمری، علم ریاضی، ہندسہ، زبان و ادب غرضیکہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں جس کے متعلق معلومات یا رہنمائی نہ دی گئی ہو۔ اِس کے معنیٰ و تفاسیر پر سینکڑوں کتب لکھی گئیں اور قیامت تک لکھی جاتی رہیں گی۔ مولانا روم اور اقبال نے قرآن و احادیث کے معانی و مفہوم کو اپنے انداز سے شاعری کی زبان میں پیش کیا ۔ حضور غوث الاعظم اور دیگر صوفیاء کرام نے قرآن و احادیث میں سے اخذ شدہ معرفت کو اپنے انداز سے بیان کیا۔ اور ہمیشہ سے طالبانِ حق، متلا شیان نور ان باتوں ، شعروں ، جملوں اور انوارِ الہیہ سے اپنے قلوب کو منور کرتے رہے ہیں۔
آئیے ۔ ۔ ۔ ! ہم بھی شاہِ قلندر پیر مستوار کی اِن انمول باتوں کو سمجھیں اور اپنے قلوب و اذہان کو منور کرلیں۔
امتیاز جاوید


اللہ سبحانہ‘ و تعالیٰ۔ حقیقت ِابدی

۱۔ ہر ایک چیز کے ظاہر کے باطن میں اللہ موجود ہے ۔
۲۔ ہر چیز کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی تہہ میں پہنچیں تو حق پوشیدہ ہے ۔
۳۔ انسان کی حقیقت حال یہ ہے کہ حق اس کے اندر پوشیدہ ہے اور یہ غیر حق کی طرف راغب ہے۔
۴۔ جو حق کا شیدائی بنتا ہے وہی حق کا مظہر بنتا ہے۔
۵۔ بعض لوگوں کی زبان سے الفاظ جاری ہوتے ہیں بعض لوگوں کی زبان سے حق گویا ہوتا ہے ۔
۶۔ جس کے اندر حقیقتِ ابدی کا سورج چمک رہا ہو تو یقینا اس کی کر نوں سے ایک جہاں مستفیض ہوتا ہے ۔
۷۔ حق ایک خوشبو کی مانند ہے کہ اہلِ حق اس کو سونگھ سکتے ہیں۔
۸۔ عام، خاص اور خاص الخاص میں فرق یہ ہے کہ عام حق کو علم کی حد تک جانتے ہیں۔ اور خاص حق کو دیکھ کر جانتے ہیں اور خاص الخاص حق کو پاکر جانتے ہیں۔
۹۔ حق کی شناخت ہوجائے تو یافت ناممکن نہیں رہتی ۔
۰۔ حق پیار والوں کا ساتھی ہوتا ہے ۔ اور پیار والے حق کی روشنی کے سفیر ہوتے ہیں۔

عشقِ مصطفےٰ کریم

۱۔ ایک اچھے مومن کی خاصیت یہ ہے کہ اپنی تمام زندگی کا حصول چاہے عبادات ہوں زہد یا تقویٰ یا تمام تر نیکیوں کی شکل میں ہو اس کو لے کر چوکھٹ مصطفےٰ پر رکھ دے اور وہاں پر پڑی نعلین پاک اٹھا کر سر پہ رکھ لے اور سمجھ لے کہ مقصدِ حیات کو پالیا ۔
۲۔ عشقِ مصطفےٰ مومن کی حیات ہے اور منافق کی موت ہے ۔
۳۔ عشق مصطفےٰ منبع علوم معرفتِ الہیہ ہے ۔
۴۔ عشقِ مصطفےٰ عاشق کو واقفِ عرش و کرسی، لوح و قلم بنا دیتا ہے۔
۵۔ عشق مصطفےٰ مومن کی تکمیل کا باعث ہے ۔
۶۔ عشق مصطفےٰ عارف کو سیاحِ لامکاں بنا دیتا ہے ۔
۷۔ حقیقت دنیا ، حقیقتِ آخرت اور حقیقت معرفت یہ ہے کہ عشقِ مصطفےٰ کا نوران سب میں بکھیر کر ان کو وحدہ لاشریک کا مظہر بنادیا جائے ۔
۸۔ صحابہ نے سرکار مدینہ سے عشق کیا اور ان کے بہترین پیر و کار بنے کئی سوسال بعد بھی سرکار کی امت میں سے اگر کوئی امتی بحر معرفتِ الہی کا غوطہ خور بنا تو اس کا مدد گار عشقِ مصطفےٰ تھا۔
۹۔ عشق مصطفےٰ گنہگار کے لئے پیغامِ رحمت اور نیکو کار کے لئے شرفِ قبولیت اور مستوار کے لئے مستی کا جام ہے ۔
۰۔ عشقِ مصطفےٰ اہلِ نظر کا نام ‘ اہلِ باطن کا کام استوار کرتا ہے اور اہلِ حق پہ سلامتی کی بارش کرتا ہے ۔

اولیاء اللہ

۱۔ اہلِ حق متلا شیان ِحق کے لئے چراغِ حق ہوتے ہیں۔
۲۔ اولیاء اللہ خود دوست بن کر اوروں کو دوست بنا دیتے ہیں۔
۳۔ اولیاء اللہ اللہ کے خزانوں کے جواہرات ہیں۔
۴۔ اولیاء اللہ کے دل اللہ کے آئینے ہیں جن سے طالبانِ حق کو مشاہدہ حق ہوتا ہے ۔
۵۔ ولی اللہ کی روح اللہ کی ذاکر ہوتی ہے اسی وجہ سے عوام الناس کی روحیں بارگاہِ اولیاء میں جا کر خوش ہوتی ہیں۔
۶۔ اولیاء اللہ کو وسعتِ قلبی باامرربی حاصل ہوتی ہے کہ ہر انسان راغب ہو کر سکونِ قلب حاصل کرتا ہے ۔
۷۔ اللہ نے اولیاء اللہ کو دوستی کا مقام عطا کر کے دیگر تمام مخلوقات کو ان کا دوست بنا دیا۔
۸۔ ولی کی دوستی عطار کی دو کان کی مانند ہے کہ دوست کو خوشبو آکر رہے گی ۔
۹۔ اللہ کے ولی سے محبت خام کو پختہ اور پختہ کو کندن بنا دیتی ہے ۔
۰۔ اللہ کا ولی صاحبِ علم ہی نہیں صاحبِ اَسرار بھی ہوتا ہے ۔

انسان

۱۔ انسان اگربھولا ہوا ہو تو نسیان سے ہے اوراگرسمجھ جائے تورحمن سے ہے۔
۲۔ انسان ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کو پڑھنے والا انسان انسان نہیں رہتا ۔
۳۔ انسان ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کو اگر عام شخص پڑھے تو انسان بن جائے خاص پڑھے تو محبت کا جہاں بن جائے اور خاص الخاص پڑھے تو صاحب معرفتِ رحمان بن جائے۔
۴۔ انسان ایک قلم کی مانند ہے کہ کسی کا تب کے ہاتھ لگ جائے تو بڑی بڑی تاریخ رقم کردے۔
۵۔ انسان کی محبت میں ایک راز ہے وہ جس انسان پر افشا ہوجائے اس کو
بحرِحیرت میں ڈال دیتا ہے ۔
۶۔ انسان کے دو روپ ہیں۔ عطا کرنے والا بھی انسان ، عطا ہونے والا بھی انسان۔
۷۔ انسان بنا محبت کے نہ جلنے والے چراغ کی مانند ہے ۔
۸۔ مجبور انسان کی آہ پر تا ثیر ہوتی ہے ۔
۹۔ انسان کو جس نے خوش رکھا اس نے اللہ کو خوش رکھا۔
۰۔ تمام انسان موتیوں کی طرح ہیں ۔ اگر ایک ہار میں ہوں تو ہر موتی چمکتا ہے زینت دیتا ہے لیکن اگر اسی ہار سے ایک موتی بھی گر جائے تو نہ چمک رہتی ہے نہ زینت ۔

یقین

۱۔ یقین پختہ ہو تو لو ہے کی زنجیر کو توڑ دیتا ہے اور اگر خام ہو تو خود بندے کو توڑ دیتا ہے ۔
۲۔ یقین والا بلندیوں پر پرواز کرتا ہے اور بے یقین نیچے سے دیکھ بھی نہیں سکتا ۔
۳۔ صاحبِ یقین اللہ کے رازوں کا رازداں بن کر خودراز بن جاتا ہے ۔
۴۔ یقین حقیقت کا زینہ ہے ۔ یقین کی سیڑھی پر چڑ ھ کر حق تک پہنچ سکتے ہیں۔
۵۔ یقین شریعت کی بنیاد ہے ۔ طریقت کی جان ہے ۔ معرفت کا زینہ ہے اور حقیقت کی کنجی ہے ۔
۶۔ یقین ہو تو پتھر سے لے لے اور بے یقین کے لئے آستان بھی رائیگاں ۔
۷۔ یقین کی کتاب کے حافظ اللہ کے عاشق بن جاتے ہیں۔
۸۔ یقین وہ گوہرِ نایاب ہے کہ جس کو حاصل کرنے کے لئے مجاہدات کابحرِ بیکراں عبور کرنا پڑتا ہے ۔
۹۔ با یقین با مراد اور بے یقین بر باد۔
۰۔ یقین کا مصدر نورِ خدا ہے ۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.