حرفِ
مستوار
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
صلی اللہ علیٰ
حبیبہ محمِّد
وٰ آلِہ وسلم
تمام تعریفیں
اللہ پاک کے
لیے ہیں جو
ازل سے قائم
ہے اورابد
تک قائم رہے
گا۔ جس کی قدرت
سے تمام جہاں
آباد ہیں،
وہی مولائے
کل ہے، حییُ
القیوم اوربے
نیاز ہے۔ لاکھ
لاکھ شکر اس
پیاری ذاتِ
عالی کا، لاکھ
لاکھ احسان
اس وحدہ لا
شریک کا کہ
جس نے اِس قلندر
کو تو فیق بخشی
اور اپنی یاد
کا، قرب کا،
عشق کاسلسلہ
عطا فرما دیا۔
لاکھوں کروڑوں
درودوسلام
سیدنا و مولاناسید
المرسلین جناب
رسول پاک
علیہ الصلوٰۃ
والتسلیم
پرجوکہ وجہ
تخلیق کائنات
ہیںاور محبوبِ
ربّ کائنات
ہیں۔ اس میں
شک نہیں کہ
آپ سب سے عالی
صفات ہیں،
وہ سب سے پاک
ہیں، پاک کرنے
والے ہیں،
قریب ہیںاوربھٹکتے
ہوؤں کو قریب
کرنے والے
ہیں ۔ خدائے
پاک کے تمام
جملہ خزانوں
کے قاسم ہیں۔وہ
پیارے اور
میٹھے احمد
ہیں، حامد
ہیں، محمود
ہیں، جن کی
مثال نہیں
اور اُن جیساکسی
کوکمال نہیں۔
آپ کے درِاقدس
میں کوئی اونچا
بولے یہ کسی
کی مجا ل نہیں
۔ مجال کیوں
کر ہو کہ جس
ذات اقدس پر
خود اللہ پاک
اوراس کے فرشتے
دردوسلام بھیجتے
ہوں اور اللہ
کی تمام برکیتں
نازل ہوتی
ہوں۔ جہاں
جبرائیل جیسے
دربان ہوں۔مقام
ومرتبہ ایسا
ملے کہ سرعرش
اللہ پاک کے
محمد مہمان
ہوں اور آپ
کا فرمان کہ
"اولیا ئی تحت
ردآئی"ترجمہ''
کہ میرے دوست
میری چادر
کے نیچے ہیں''۔
اب وہ لوگ جن
پر اس قدر عنایتِ
سرکار مدینہ
ہیں انہیں
مجذوب قلندر
اور سالک کہتے
ہیں اگر کسی
مجذوب سے فیض
پہنچا تو وہ
حضور کی اسی
"تَحْتَ رِدَآئی"
کے تحت پہنچا
، اگرکسی قلندر
سے بھی پہنچا
توایسے ہی
پہنچا اور
اگر کسی سالک
سے پہنچا تو
بھی اِس حدیث
کے تحت پہنچا
۔اس طرح یہ
لوگ پورے عالم
میں، پورے
جہان میں،
پوری دنیا
میں، ظاہر
ہوئے کہیں
بشکلِ مجذوب
،کہیں بشکلِ
قلندر، کہیں
بشکل سالک
اور وہ فیض
وعشق محمدیکو
تقسیم کرتے
رہے ہیںآج
بھی کرتے ہیں
اور تقسیم
کرتے رہیں
گئیں ۔ آقا
کے بعد سب سے
پہلے یہ فریضہ
اہل بیت اطہار
اور صحابہ
اکرام نے ادا
کیا ظاہری
و باطنی دونوں
طریقوں سے
صحابہ و اہل
بیت اطہار
کے بعد پھریہ
تینوں اقسام
یعنی فقراء
مجذوب و قلندر
اور سالک اپنا
فریضہ سرا
نجام دیتے
رہے ہیں اور
قیامت تک انھوں
نے اپنایہ
فریضہ سر انجام
دینا ہے۔ بحکم
اللہ پاک اور
بحکم حضور
بنی اکرم یہ
قلندر بھی
حضور کا بے
حد ممنون و
مشکور ہے اور
اس ذات عالی
کا ہر وقت شکر
گزارہے کہ
جن کی نظرِکرم
اور جامِ دیدار
سے اُن کے فقیروں
میں سے ہے۔
اُن کے انعامات
اس قدر ہیں
کہ بیان کرنے
کو الفاظ نہیں،
اتنے زیادہ
ہیں کہ لکھنے
کے لیے اوراق
نہیں اور بیان
کرنے کے لیے
مجھ ناچیز
میں اتنی قوت
نہیں۔ یہ جتنا
بھی لکھا ہے
اُنہی کی عطا
ہے اور سب سے
بڑی کرم نوازی
یہ ہے کہ قلندر
کی روح کبھی
آقاسے جدا
نہیں ۔یہ کتاب
بھی اِسی ضمن
میں تحریر
کر رہے ہیں
جس میں ان تینوںاقسام
کے فقراء کے
راہنما کا
تذکرہ ہو گا
۔ اِنشااللہ!
پیر قلندر
سید محمودالحسن
شاہ خاکی
سجادہ نشین
دربارِقادریہ
، مخدومیہ،
قلندریہ
٭٭٭٭٭٭٭
حرفِ سپاس
شیخِ طریقت
،رہبرِ شریعت
،قدوۃالعاشقین
،زبدۃالواصلین
حضرت پیر سید
رسول شاہ خاکی
کا شمار بیسویں
صدی عیسوی
کی اُن چند
نامور روحانی
شخصیات میں
کیا جا سکتا
ہے،جن کی دعوتی
تربیتی اور
روحانی خدمات
برصغیر کی
اسلامی تاریخ
کا روشن باب
ہیں ۔اللہ
تعالیٰ نے
انہیں چاک
و چوبند جسم
اور طویل عمر
کے ساتھ وافر
علمی اور روحانی
صلاحیتوں سے
بھی نواز رکھا
تھا۔اس لئے
ان کی دینی
خدمات کا سلسلہ
اور متوسلین
کا حلقۂ اثر
بھی ملک کے
اندر اور بیرون
بھی قابلِ
ذکر حد تک پھیلا
ہوا ہے۔
سید رسول شاہ
خاکی کو بیک
وقت چاروں
سلاسل۔سلسلہ
عالیہ قادریہ،
چشتیہ،نقشبندیہ
اور سہروردیہ
سے بیعت اور
خلافت حاصل
تھی ۔اور آپ
کی عملی زندگی
بھی چہار سلاسل
کی جامع تھی
۔سلسلہ قادریہ
میں آپ نے شیخ
المشائخ سیدنا
طاہر علاؤالدین
قادری الگیلانی
کے چچا زاد
بھائی اور
بہنوئی حضرت
سیدنا ابراہیم
سیف الدین
الگیلانی سے
بمبئی میں
شرفِ ملاقات
حاصل کی۔ سیدنا
ابراہیم سیف
الدین ،حضور
سیدنا غوث
الاعظم جیلانی
کے آخری نقیب
الاشراف اور
قابلِ فخر
فرزند تھے۔
میرے والدِ
گرامی ،فریدِ
ملت حضرت ڈاکٹر
فریدالدین
قادری کے شیخ
بھی وہی تھے۔
جناب خاکی
شاہ قبل ازیں
مجذوب تھے۔
قدرت نے آپ
کو ولایت کی
تمام جہتوں
سے نوازنے
کے لئے سلسلہ
عالیہ قادریہ
سے سرفراز
فرمایا اور
سیدنا ابراہیم
سیف الدین
کی توجہات
سے آپ جذب سے
سلوک کی طرف
منتقل ہوئے۔
میرے اباجی
، حضور خاکی
سرکار کے پِیر
بھائی بھی
تھے یوں حضرت
کے ساتھ میری
دو روحانی
نسبتیں ہیں
،ایک میرے
شیخ سیدنا
طاہر علاؤالدین
کی طرف سے ،دوسری
میرے والدِ
گرامی کی طرف
سے۔یہی وجہ
تھی کہ حضرت
خاکی شاہ صاحب
مجھ سمیت تحریک
منہاج القرآن
سے وابستہ
ہر شخص سے بے
پناہ محبت
اور شفقت فرماتے
تھے۔خود چل
کر کئی بار
تحریک کے مرکز
پر لاہور تشریف
لائے۔جامعہ
کے طلباء اور
اساتذہ سے
نشست فرمائی۔میرے
غریب خانے
کو بھی اپنی
تشریف آوری
سے مشرف فرمایا۔آپ
تحریک منہاج
القرآن کو
اس صدی کی عظیم
ترین اسلامی
تحریک سمجھتے
تھے اور اپنے
حلقۂ ارادت
میں تاکیداً
اور حکماً
تحریک سے وابستگی
اور عملی تعاون
کی تلقین فرماتے
تھے ۔میرے
ساتھ آپ کی
شفقت اور توجہات
کی کیفیت کو
الفاظ میں
بیان نہیں
کیا جا سکتا۔میں
سمجھتا ہوں
کہ یہ اُن کی
اعلیٰ ظرفی
علم دوستی
اور دین کے
ساتھ گہری
محبت کا اظہار
تھا۔وہ تحریکی
احباب اور
اپنے حلقۂ
ارادت میں
حکماً فرماتے
تھے کہ جیسے
ہر دور میں
اللہ تعالیٰ
اپنے خاص بندوں
کو عالمی سطح
پر علمی، فکری
اور روحانی
خدمات کی سعادت
دی ،ہمارے
دور میں یہ
توفیق تحریک
منہاج القرآن
کے بانی اور
سرپرست ڈاکٹر
محمد طاہر
القادری کو
حاصل ہے۔اس
لئے میں انہیں
شیخ الاسلام
کہتا ہوں اور
تم بھی ان کے
لئے یہی الفاظ
لکھا اور بولا
کرو۔میرے لئے
یہی سعادت
کافی ہے کہ
انہوں نے وصیت
میں نماز جنازہ
پڑھانے کا
حکم دیا اور
اللہ تعالیٰ
نے مجھے اُن
کی زیارت اور
نماز جنازہ
پڑھانے کی
توفیق سے بہرہ
ور فرمایا۔
آپ عام مشائخ
سے ہٹ کر انقلابی
سوچ و فکر کے
مالک تھے۔اللہ
تعالیٰ نے
آپ کو استغنا
اور درویشی
کی اعلیٰ ترین
صفات سے نواز
رکھا تھا۔بعض
معاصر خانوادوں
کی طرح انہوں
نے دنیاوی
شان و شوکت
کے حصول،دولت
و ثروت کی ہوس
اور محلات
کی تعمیر و
تزئین کی بجائے
خانقاہی نظامِ
تربیت پر ہی
ساری توجہ
مرکوز رکھی،کیونکہ
اسلاف اور
بزرگانِ دین
کا معمول بھی
یہی ہے اور
جملہ انبیاء
کی سنت بھی!
اُن کے مریدین
اور متوسلین
کے لئے میرا
پیغام یہی
ہے کہ اپنے
شیخ و مرشد
کے نقشِ قدم
پر چلتے ہوئے
دین کے لئے
اپنی جملہ
علمی اور عملی
صلاحیتیں وقف
کیئے رکھیں
۔یہی اُن کی
روحانی توجہات
حاصل کرنے
کا موجب ہو
گا اور اس میں
خدا اور رسول
کی رضا بھی
مضمر ہے۔
آمین بجاہ
سید المرسلین
علیہ الصلوٰۃ
والتسلیم
احقر العباد
محمد طاہر
القادری
٭٭٭٭٭٭٭
عقیدت
نامہ
حضور سرورِ
کائنات ،تاجدارِ
عرب و عجم،والیِ
امت جناب محمد
مصطفیٰ علیہ
الصلوٰۃ والتسلیم
نے کائنات
میں بسنے والے
ایک خاص طبقہ
کے جلال و عظمت
سے افرادِ
ملت کو آگاہ
فرمانے کے
لئے ایک دفعہ
ارشاد فرمایا
،جس کا مفہوم
یہ ہے کہ ’’میری
امت ایک خاص
حق پرست گروہ
سے کسی دور
میں بھی خالی
نہیں رہی۔اُن
کا رحمتوں
بھرا وجود
ہر زمانے میں
برقرار اور
قائم و دائم
رہتا ہے۔کسی
دشمن کی مخالفت
و عداوت اس
کا کچھ بگاڑ
نہیں سکتی۔‘‘
اہلِ نظر فرماتے
ہیں کہ یہ اولیائے
کرام کا طبقہ
ہے جن کی نشان
دہی حدیث میں
فرمائی گئی
ہے۔یہی وہ
با کمال لوگ
ہیں جو ایک
طرف مصیبت
زدہ اورغمگین
و مسکین انسانوں
کو اپنی شفقت
و رحمت کے سائبان
تلے لے لیتے
ہیں، اُن کی
روحانی دستگیری
بھی فرماتے
ہیں۔ دوسری
طرف اہلِ باطل
اور حق سے منحرف
انسان نما
درندوں سے
زبردست ٹکر
بھی لیتے ہیں
اور ہمیشہ
غالب رہتے
ہیں۔
جذب و مستی
سے سرشار ،امت
کے دستگیر
،پیکرِ شفقت
ورحمت ،دانائے
رازِ ہستی
فیض رساں،
پیر طریقت
حضرت پیر سید
رسول شاہ خاکی
صاحب اولیائے
کرام کے ایسے
ہی گروہ سے
تعلق رکھنے
والے ایک باکمال
ولی تھے۔جنہوں
نے ساری زندگی
حاجت مندوں
،درد کے ماروں
،مصائب و آلام
کے طوفانوں
میں گھرے ہوئے
انسانون کو
اپنی نگاہِ
کیمیا کے اثر
اور دعا و برکت
سے فیض یاب
کیا۔راہِ حق
سے منحرف اور
صراطِ مستقیم
سے بھٹکے ہوئے
لوگوں کو فیضِ
محبت سے راہِ
محبت پر گامزن
کیا اور جو
سرتاپا محبت
دنیا میں ڈوب
چکے تھے اور
گناہوں کی
دلدل میں پھنسے
ہوئے تھے انہیں
اپنی نگاہ
کیمیا کے اثر
سے توبہ و حق
پرستی کی طرف
مائل کیا۔
حضرت پیر صاحب
اپنی ذات میں
ایک انجمن
تھے جو علم
و فضل،روحانیت
و بصیرت ،طہارت
و تقویٰ،باطنی
و ظاہری جاہ
وجلال غرض
ہر اعتبار
سے آنے والے
پر اثر انداز
ہوتے تھے۔اور
نووارد آپ
کی پیشانی
میں درخشاں
نورِ ولایت
دیکھ کر پہلی
ہی نظر میں
گرویدہ ہو
جاتا تھا اور
پھر ساری زندگی
غلامی اور
نیاز مندی
پر فخر کرتا
رہتا تھا۔
آپ کے حلقۂ
ارادت میں
ہر طرح کے لوگ
آتے تھے۔جن
میں تاجر،
سیاستدان،دانائے
راہِ علم اور
فلم انڈسٹری
سے وابستہ
لوگ بھی ہوتے
تھے۔آپ کی
شفقت سب کے
لئے یکساں
تھی اور آپ
کی دعا و برکت
میں سب حصہ
دار تھے۔گنہگاروں
سے نفرت کا
آپ کے ہاں کوئی
تصور نہیں
تھا۔گویا جو
بھی صحبت میں
آگیا،شفقت
کا مستحق ہو
گیا۔یہی وہ
فیضِ عام تھا
جس نے اہلِ
عقیدت ،متوسلین
اور عوام کے
دلوں میں آپ
کے لئے بے پناہ
چاہت پیدا
کی ہوئی تھی
اور سب پروانوں
کی طرح آپ کے
گرد گھومتے
تھے۔
ادارہ منہاج
القرآن پر
حضرت کی خصوصی
نظر تھی۔اس
کے عروج و ارتقاء
کے لئے آپ ہمیشہ
دعا گو رہے۔اُن
کی بڑی خواہش
تھی کہ مصطفوی
انقلاب کا
سویرا طلوع
ہو اور ہر طرف
دینِ محمد
ی کا پرچم لہراتا
ہوا نظر آئے۔انشاء
اللہ حضرت
کی یہ خواہش
ضرور پوری
ہو گی۔ آپ کی
نگاہِ خاص
اور توجہِ
خاص سے یہ پودا
ضرور بار آور
ہو گا۔
اللہ کریم
آپ کے فیض و
برکت اور روحانی
اثرات کو تا
قیامت قائم
رکھے اوراہلِ
عقیدت آپ کے
آستان پر حاضر
ہو کر ہمیشہ
کے لئے فیض
یاب ہوتے رہیں۔
محمد معراج
اسلام
خاک پائے خاکی
شاہ صاحب
شیخ الحدیث
جامعہ اسلامیہ
انٹرنیشنل
منہاج القرآن
یونیورسٹی
٭٭٭٭٭٭٭
سیرتِ
پیر سید رسولِ
شاہ خاکی
آج ہر طرف مادیت
کی سازشیں
اور فتنے شمع
ِ ایمان کو
بجھانے اور
روحِ محمد
کو امت مسلمہ
کے بدن سے نکال
باہر کرنے
کیلئے ایڑھی
چوٹی کا زور
لگا رہے ہیں۔
معاشی ضروریات
بڑھ کر معاشی
مجبوریاں اور
دنیاوی مسائل
بن چکی ہیں،
غفلت ، جہالت
اور فضول کاموں
سے بھری ہوئی
بیکار طرزِ
زندگی بندوں
اور خدا تعالیٰ
کے درمیان
حجاب بن چکی
ہے مگر حالات
خواہ اس سے
بھی تاریک
تر ہوجائیں
قیامت تک ایسی
پاکیزہ نورانی
اور خدا رسیدہ
ہستیاں اُمتِ
مسلمہ میں
سے ضرور پیدا
ہوتی رہیںگی
اور اُن کی
گرمئی نفس
سے اسلام دلوں
کو منور کرنے
کے بعد دنیا
کے گوشے گوشے
میں پہنچتا
رہے گا۔ اسلام
کے دامن سے
ظاہر ہونے
والی ایسی
اکابر شخصیات
میں سے ایک
حضرت سلطان
الاولیا ء
امیر شریعت
فخرِ طریقت
فقیر لاثانی
پیر سید رسول
شاہ صاحب القادری
الخاکی قدس
سرہ العزیز
کی ذات گرامی
ہے جو بیک وقت
بزم قلندران
، مجلس مجذوبان
اور محفل سالکان
کی شمع محفل
تھے اور آپ
کی سیرت اور
کام بلاشبہ
حدیثِ رسول
اللہ کی رو
سے رسول نما
کا م ہے۔ یقینا
آپ اُن علم
وعرفان کے
وارث اولیاء
کرام میں سے
تھے جو انبیاء
کرام کے وارث
ہوتے ہیں۔
اور جن کامقام
بقول حدیث
مبارکہ بنی
اسرائیل کے
نبیوں جیسا
ہوتا ہے۔ وہ
ایک طرف عالم
ربانی کی طرح
اپنے ارادت
مندوں کو تعلیم
شریعت کا درس
دیتے نظر آتے
اور کبھی تلقین
ذکر و فکر کی
انجمن سجا
کر مخدوم پور
شریف کی مسجد
علی میں جلوہ
افروز ہوتے۔
آپ کا شمار
ایسے بزرگوں
میں ہوتا تھا
کہ وہ وقت آنے
پر تلوار اور
بندوق کی بجائے
کسی درخت کی
شاخ سے ہی تلوار
کا کام لے لیتے
تھے۔ بڑے بڑے
سلطانوں کی
شمشیریں جو
کام نہ کر سکیں
وہ اس گوڈری
اوڑھنے والے
سرخ پوش فقیر
کی عقابی نگاہوں
نے آسانی سے
کر دکھایا
ہے ۔ یہ لوگ
موت کے بعد
مرتے نہیں
ہیں بلکہ تھوڑی
دیر کے لیے
موت کا ذائقہ
دار جام پی
کر شہید محبت
ہو جاتے ہیں
اور ہمیشہ
کیلئے حیات
جاودانی کیساتھ
زندہ ہو جاتے
ہیں دنیا کے
بادشاہوں کے
دربار میں
وہ شان و شوکت
کہاں جو وصال
محبوب پانے
کے بعد ان روحانی
بادشاہوں کے
دربار میں
نظر آتی ہے۔
پوری دنیا
میں ان سے تعلق
رکھنے والے
ارادت مند
جو روحانی
فیوضات اور
دیدار کی تمنا
رکھتے ہیں
اور دینی اور
دنیاوی مشکلات
میں ان کے مقبول
وسیلے سے دُعائیں
کرتے ہیں یہ
اللہ تعالیٰ
کے طرف سے عطاکردہ
اذن و تصرف
وشان ہوتی
ہے مگر یہ نبیوں
کے غلام ہوتے
ہیں ان اولیاء
و فقراء کو
انبیاء کرام
براہِ راست
اللہ کی طرف
سے مامورکرتے
ہیں۔ جو سلسلہ
اب حضور خاتم
النبین والمرسلین
پر آکر ختم
ہو چکا ہے اور
اولیاء کرام
کا شرعی تعلق
اللہ تعالی
سے رسول کے
واسطے سے ہوتا
ہے ایسی خدارسیدہ
ہستیاں شان
و مقام میںتو
ولی اللہ ہوتے
ہیں مگر کام
و کردار میں
رسول نما ہوتے
ہیں۔ جیسے
سر کار دوعالم
کی حدیث مبارکہ
ہے کہ ’’الشیخ
فی قومہ کالنبی
فی امتہً‘‘ (حدیث
نبوی) مرشد
طریقت کی اپنے
حلقہئِ ارادت
میں مثال ایسے
ہے جیسے نبی
کی اپنی امت
میں۔
ایک دوسری
حدیث مبارکہ
میں ارشادِ
نبوی ہے جیسے
حضرت انس روایت
کرتے ہیں کہ۔’’لن
تخلو الارض
من اربیعن
رجلا مثل خلیل
الرحمن بھم
تسقوں تنصرون‘‘
(طبرانی فی
الاوسط) یہ
زمین چالیس
ابدال اولیاء
کرام سے کبھی
خالی نہیں
ہو گی جو حضرت
ابراہم خلیل
اللہ کی طرح
فیض یافتہ
بندے ہونگے
ان کی برکت
سے تمہیں (برسات
و پانی) پلایا
جائے گا اور
انہیں کے وسیلے
سے تم مدد ونصرت
پاؤ گے۔
اسی طرح ایک
حدیث حضرت
عبادۃ سے امام
طبرانی نے
الکبیر میں
اور ایک روایت
حضرت ابنِ
عمر سے بھی
مروی ہے جن
میں اولیاء
اللہ کو نبیوں
اور رسولوں
کی مثل کہا
گیا ہے اور
سورہِ یٰسین
کی آیت نمبر
13سے20تک مطالعہ
کریں تو اللہ
تعالیٰ نے
شام کے شہر
نطاکیہ والے
لوگوں کے واقعہ
میں چار مرتبہ
حضرت عیسی
کے صحابیوں
اور حواریوں
کو جوولی اللہ
تھے اُنہیں
رسول اور مرسلین
کہہ کر پکارا
ہے وہ تین صحابی
تھے اور بخاری
شریف میں حضرت
ابوہریرۃ سے
مروی حدیث
رسولِ کریم
ہے ۔
’’لیس بینی و
بین عیسیٰ
نبی‘‘کہ میرے
اور عیسیٰ
کے درمیان
کوئی بنی نہیں
ہوا ہے۔ ان
آیات کریمہ
اور احادیث
مبارکہ کا
مفہوم یہ ہے
کہ جو لوگ امت
میں سے اپنے
پیارے رسول
اور بنی کے
پیغام رسالت
کو صحیح طریقے
پر ہمہ گیر
ظاھری باطنی
علمی و روحانی
پہلوؤں کیساتھ
زندہ کرنے
کی عملی کوشش
و جہاد کرتے
ہیں و ہ دعوت
و تبلیغ رسالت
کا جہاد کرنے
والے اُمّی
و صحابی اور
ولی اللہ ہی
ہونگے بنی
اور رسول نہیں
ہوسکتے مگر
کام رسول جیسا
کریں گے۔ ایک
ایک ولی اللہ
کا ایک نبی
اور رسول کی
طرح کام ہوتا
ہے۔ جیسے داتا
علی ھجویری
رحمۃ اللہ
علیہ نے پورے
پنجاب کو کفر
سے پاک کر کے
نورِ اسلام
کا بہت بڑا
مرکز بنادیا۔
حضرت خواجہ
معین الدین
چشتی رحمۃ
اللہ علیہ
نے پورے ہند
کے نوے لاکھ
افراد کو نورِ
اسلام سے روشناس
کرادیا حضور
غوث الاعظمنے
ایک جہان کو
آباد کیا اور
دین کو زندہ
کرنے والے
محی الدین
کہلائے گے۔
اور اسی طرح
سید رسول شاہ
صاحب خاکینے
پنجاب، سندھ،
پورے پاکستان
اور دیگر علاقوں
کے لوگوں کو
ظاہری باطنی
تعلیم و تربیت
دے کر راہِ
حق پر چلنے
والے زندہ
دل اور بیدار
مغز مومن و
مجاہد بنادیا
جو یقینا ایک
رسول کا کام
ہے۔ اور آپ
اپنے کام اور
کردار کے پیش
نظر رسولِ
خاکی اور اللہ
کے ایسے کامل
ولی ہیں جن
کے متعلق حضور
نبی علیہ
الصلوٰۃ والتسلیم
نے
ایک حدیث میں
فرمایا۔
’’علما ء امتی
کا ن انیباء
بنی اسرائیل‘‘
(حدیث مشکواۃ)
میر ی امت کے
علماء (اولیاء)
بنی اسرائیل
کے نیبوں جیسی
شان رکھتے
ہیں۔
وصال مبارک
سے پہلے خاکی
شاہ صاحب سرکار
نے مجھے لاہور
سے بلوا کر
چند خاص باتیں
ارشاد فرمائیں
جن میں سے ایک
یہ بھی تھی
کہ’’ اکرام شاہ
یہ تیرے بھائی
ہیںاور محمود
الحسن قابل
ہے یہ بعد میںاس
سلسلہ کو اچھی
طرح سنبھال
لے گا‘‘۔ میں
تو کہتا ہوں
کہ مرید کے
لیے مرشد کامل
کی ہر چیز اور
مرشد کی ہرنشانی
فیض حاصل کرنے
کا ذریعہ ہوتی
ہے۔ مگر مرشد
کے بعد اُس
کی اولاد کا
ہر چیز سے بڑھ
کر ادب کرنا
اور ہر لحاظ
سے خدمت کرنا
مرشد کا قرب
اور فیض پانے
اور مرشد کو
راضی کرنے
کا سب سے آسان
ذریعہ ہوتا
ہے۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں اپنے
مرشد کی کو
راضی کرنے
کاسیلقہ عطافرمائے
اور اللہ تعالیٰ
ہمیں اپنے
مرشد کی ہر
نشانی پیر
بھائی اوربا
لخصوص مرُشد
کی اولاد پاک
کی خدمت اور
ادب کی خاص
توفیق عطافرمائے
آمین۔
سیدمحمداکرام
شاہ جیلانی
٭٭٭٭٭٭٭
حرفِ آغاز
اللہ تعالیٰ
قرآنِ عظیم
میں فرماتے
ہیں کہ’’فَاذْ
کُرُونِیْ
اَذْکُرْکُم‘‘
ترجمہ:’’پس تم
مجھے یاد کرو
میں تمہیں
یادکرو ں گا‘‘۔بندہ
اپنے حسبِ
حال اللہ کو
یاد رکھتاہے
اور اللہ اپنی
شان کے لائق
بندے کو یاد
رکھتا ہے۔بندہ
اللہ کو بندوں
میں یاد کرتا
ہے،اللہ بندے
کو ملائکہ
کی محفل میں
یاد کرتا ہے۔بندہ
اپنی عمر کی
حد تک اللہ
کو یاد کرتا
ہے جب کہ ربِ
کائنات کے
وعدے میں دوام
ہے۔وہ اب ابد
تک کسی نہ کسی
صورت اپنے
بندے کو یاد
کرتا ہے۔اس
کی چند صورتیں
درج ذیل ہیں:
1) اللہ کا یاد
رکھنا اس مفہوم
میں بھی ہے
کہ لوگ اس مردِ
حق کا نام نسلاً
بعد نسلاً
ادب سے لیتے
رہیںاورپیار
سے تذکرہ کرتے
رہیں۔
2) اللہ کے یاد
کرنے کی دوسری
صورت یہ ہے
کہ بندوں کی
حاجتیں اللہ
تعالیٰ اس
مردِ حق کے
وسیلے سے پورری
فرماتا ہے۔لوگ
اس کے باطنی
فیض سے فیض
یاب ہوتے ہیںاور
وہ مردِ حق
بصورتِ خواب
لوگوں کی رہنمائی
فرماتا ہے۔اس
سلسلے سے بھی
لوگ اس ولی
کو یاد کرتے
ہیںیہ بھی
اللہ تعالیٰ
کے یاد کرنے
کی ایک صورت
ہے،چونکہ اُس
کی منشاء سے
ہی ہو رہا ہے۔
یہاں ایک واقعہ
لکھنا مناسب
ہو گا ۔ایک
دفعہ جناب
پیر مہر علی
شاہ حضرت بابا
فرید گنج شکر
مسعود کے عرس
مبارک پر حاضری
کے لئے تشریف
لے گئے۔لوگ
حق فرید یا
فرید کے نعرے
لگا رہے تھے۔ایک
آدمی نے جناب
پیر مہر علی
شاہ سے اعتراض
کیا کہ یہ کیا
ہے،لوگ ایسا
کیوں کہتے
ہیں اللہ کو
یاد کیوں نہیں
کرتے تو جناب
مہر علی شاہ
نے جواب دیا
کہ کیا تُو
نے قرآن نہیں
پڑھا:’’فَاذ
کرُونِی اَذکُرکُم‘‘
۔ترجمہ:’’پس
تم مجھے یاد
کرو میں تمہیں
یاد رکروں
گا‘‘۔بابا صاحب
ساری عمر اللہ
اللہ کرتے
رہے اب اللہ
اپنا وعدہ
ایفا فرما
رہا ہے کہ بندوں
کی زبان پر
حق فرید یا
فرید کے نعرے
ہیں۔یہ عین
منشاء الہیٰ
کے مطابق ہے۔
3) اپنے بندے
کو یا دکروانے
کی صورت اس
کی نیک اور
صالح اولاد
بھی ہے جو اپنی
محنت کے ساتھ
ساتھ اپنے
اس بزرگ کے
فیض کی امین
بھی ہوتی ہے
اور اپنے سلسلے
کو اور چار
چاند لگا دیتی
ہے۔یہ نیک
اور صالح اولاد
اپنے اس بزرگ
مردِ حق کے
ذکر کا سبب
بھی بنتی ہے
۔یہ بھی اللہ
تعالیٰ کے
وعدہ ایفا
ہونے کی ایک
صورت ہے۔
علیٰ ھٰذا
القیاس اپنے
بندہِ خاص
کو یاد کرنے
کی اللہ تعالیٰ
نے بے شمار
صورتیں پیدا
کی ہوئی ہیں۔
اپنے بندوں
کو یاد کرنا
اللہ تعالیٰ
کی اپنی سنت
بھی ہے۔اللہ
تعالیٰ نے
جا بجا قرآنِ
کریم میں اپنے
بندوں کا ذکر
بڑے حسین پیرائے
میں کیا ہے۔اللہ
تعالیٰ فرماتے
ہیں: ’’ وَاذکُرفِی
الکِتٰبِ مُوسٰی
اِنَّہ کَانَ
مُخلَصاً وّ
کَا نَ رَسُولً
نَّبِیاً’’۔ترجمہ:
اِس کتاب میں
موسٰی کا ذکر
کریں، بے شک
وہ خالص اور
رسول ونبی
تھے۔’’وَاذکُر
فِی الکِتٰبِ
اِسمٰعِیلَ
اِنَّہ کَانَ
صَادِقَ الوَعدِ
وَ کَانَ رَسُولً
نَبِیاً‘‘۔ترجمہ:
اور اس کتاب
میں اسمٰعیل
کا ذکرکریں
کہ وہ وعدہ
کے سچے اور
رسول و نبی
تھے۔ اپنے
بندوں کا ذکر
اس طریقے سے
کر کے اس نے
سنتِ الہیٰ
قائم فرمائی۔
اس سنتِ الہٰی
ہی کا فیض ہے
کہ اللہ کے
وعدہ کے مطابق
ہر دور میں
صالحین، مقربین،
محبوبین کے
تذکرے لکھے
جاتے رہے اور
لکھے جاتے
رہیں گے۔جس
بھی بزرگ کی
کتاب اٹھا
کر دیکھیں،اُس
نے اپنے بزرگوں،مشائخ
کا ذکر بڑے
حسین پیرائے
میں کیا ہوتا
ہے۔
:: فہرست
:: آگے>>