یہ
کتاب جو آپ
کے ہاتھ میں
ہے،یہ بھی
شروع میں بیان
کی گئی آیت
’’فاذ کرونی
اذ کرکم ’’کی
تفسیر کے ضمن
میں ہے اوراللہ
تعالیٰ کی
سنت کے فیض
کی امین بھی
ہے۔ فقیر کے
فیض کا،اس
کی زندگی کا،اس
کے رموز کا،اس
کے اشارات
کا،ہر مرید
کے ساتھ اس
کے معاملے
کا،ہر کام
میں اس کی حکمت
کا،غرضیکہ
اس کی زندگی
کا ایک ایک
لمحہ اپنے
اندر سینکڑوں
چھپے اور ظاہر
باب لئے ہوتا
ہے۔اس لئے
کہا جاتا ہے
کہ فقیر کبھی
کتابوں میں
سما نہیں سکتا۔اس
کی حقیقت اللہ
ہی جانتا ہے
یا پھر اللہ
والوں کا سینہ
ایسے رازوں
سے بھرا ہوتا
ہے۔
لیکن پھر بھی
اللہ تعالیٰ
کی سنت سے اکتسابِ
فیض کے لئے
جناب قلندر
پیر سید محمود
الحسن شاہ
صاحب نے اس
ناچیز (سید
افتخار حسین
شاہ) کے ذمہ
اس کتاب کے
مسودات اکٹھے
کرنے کی ڈیوٹی
لگائی ۔بلا
شبہ یہ ایک
بڑا مشکل کام
تھا۔مختلف
لوگوں سے مسوّدات
اکٹھے کرنا،پھر
اُن کی صحت
پر غور و فکر
کرنا۔یہ کام
جناب پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
صاحب کی خصوصی
نظر اور توجہ
سے ناچیز نے
مکمل کیا۔ناچیز
کا اس قسم کے
کام کا پہلے
کوئی تجربہ
نہیں ہے۔سرکار
کے حکم سے شروع
کیا اور مکمل
ہو گیا۔
اللہ پاک کی
بارگاہِ عالیہ
میں یہ دعا
ہے کہ وہ ذات
اس کاوش کو
قبول فرمائے۔
مجھے اور میری
نسلوں کو،میرے
دوست احباب
کو اس خانوادہ
کے اور اس سلسلہ
کے رنگ میں
رنگ دے۔
آمین
قربِ قلندر
کا طالب !
سید افتخار
حسین شاہ
٭٭٭٭٭٭٭
حالات
،واقعات وارشادات
مُرشدِ مجذوبان
،قلندران وسالکان
پیر سید رسول
شاہ خاکی
﴿ باب اول ﴾
اعجازِ ہادی
فقیر کی زندگی
کو احاطہ تحریر
میں لانانا
ممکنات میں
سے ہے اور ایسا
شاید اس وجہ
سے ہے کہ فقیر
کی زندگی مافوق
الفطرت ہوتی
ہے۔ ماتحت
الفطرت عوامل
پر تو انسان
گوہرِقلم وزبان
دکھا سکتا
ہے مگر مافوق
الفطرت اشیا
وعوامل جب
تک خود ہی اپنی
راہنمائی مہیا
نہ کر یںوہ
انسانی پہنچ
سے باہر ہوتی
ہیں۔
فقیر کی زندگی
اللہ کا راز
ہوتا ہے۔رسالہ
غوث الاعظم
میں مذکور
ہے۔
’’اَلْاِنْسَانُ
سِّرِیْ وَاَنَا
سِرُّ ہْ ‘‘(انسان
میرا بھیدہے
اور میں اسکا)
اور وہ کبھی
بھی اس راز
کو افشا نہیں
کرتا مگر بعض
اوقات فقراء
ایسا کرتے
ہیں کیونکہ
وہ نائب رسول
ہوتے ہیں اور
’’حَرِیْصُْ
عَلَیْکُمْ‘‘
کامِصداق ہوتے
ہیں ۔ فقیر
کا ایک ہی مشن
ہوتا ہے کہ
مخلوق خدا
کو کسی نہ کسی
طرح معبود
حقیقی سے واصل
کر دیا جائے۔
اسطرح فقیر
راہ سلوک میں
پیش آنے والے
ریاضات ومجاہدات،
مصائب والائم
اور دشوار
گزار وکٹھن
حالات سے گزرنے
کے لئے طالبان
راہ سلوک کے
سامنے ایک
مینارہ نور
کی ماند ہوتے
ہیں۔ مرشدِکامل
ہر کٹھن منزل
پر طالبانِ
راہ سلوک کی
راہنمائی کرتے
ہیں
یہاں یہ بھی
سمجھانا مقصود
ہے کہ یہ راہ
پھولوں کی
سیج نہیں ہوتی۔
اس راہ پر چلنے
کے لئے پورے
نظام سے ٹکر
لینا پڑتی
ہے اور استقامت
پر رہنا پڑتا
ہے تب کہیں
جاکر فقیر
اپنے رب کی
بارگاہ میں
سرخرو ہوتا
ہے۔
بقول شاعر
یہ شہادت گہہ
الفت میں قدم
رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے
ہیں مسلماں
ہونا
زیر نظر مضمون
حضرت اعجاز
ہادی سید رسول
شاہ خاکی کی
ایک کتاب ’’اعجازہادی
‘‘ کا ایک باب
ہے ۔یہ کتاب
’’اعجازہادی‘‘
حضور پیر سید
رسول شاہ خاکی
نے خود اپنی
زندگی میں
لکھوائی۔ اُسی
کتاب کا ایک
باب جس میں
آپ کی سوانح
عمری کا تذکرہ
ہے حسب الحکم
پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
سجادہ نشین
زیب آستانہ
عالیہ قادریہ
مخدومیہ قلندریہ
کتاب ہذا میں
تحدیثِنعمت
کے لئے شامل
کیا جارہا
ہے۔
دُعاہے کہ
اللہ کریم
ہم سب کو ان
واقعات سے
راہنمائی عطا
فرمائے۔
ابتدائی
حالات
اسم گرامی
سیدی و مرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی کا نام
نامی اسم گرامی
دادا حضور
رحمتہ اللہ
تعالی علیہ
نے غلام رسول
اور والد محترم
رحمتہ اللہ
تعالی علیہ
نے رسول شاہ
اور والدہ
محترمہ نے
منور شاہ رکھا۔
ولادت
باسعادت
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی 9 رمضان
المبارک بروز
پیربوقت ظہر
بمقام بولاب
(مقبوضہ کشمیر
سری نگر) میں
اس عالمِ آب
وخاک میں جلوہ
افروز ہوئے
۔
21 دن تک دودھ
نہ پیا
سیدی و مرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی نے پیدائش
سے لے کر مکمل
اکیس دن تک
اپنی والدہ
ماجدہ کا دودھ
نہیں پیا جب
تک عید الفطر
کا چاند نظر
نہیں آیا )اس
طرح آپ کی پیدائش
سے ہی کرامات
کا ظہور شروع
ہوگیا( جو اکثر
اقطاب اور
اغیاث میں
پایا گیا ہے
اور سَیرِ
کی کتب میں
موجود ہے ۔
صحت ٹھیک
رہی
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی کے 21 دن
دودھ نہ پینے
سے گھر والے
سخت پریشانی
و حیرانی میں
مبتلا رہے
مگر آپ کی صحت
بدستور ٹھیک
رہی ۔ذرابرابر
بھی چہرہ مبارک
پر کمزوری
کا نشان نہ
آیا بلکہ چہرہ
مبارک پہلے
سے بھی زیادہ
روشن ہوتا
گیا ایسا جیسا
کہ چودھویں
کا چاند روشن
ہوتا ہے۔ جو
بھی اس چہرہ
مبارک کو دیکھتا
قلب میں راحت
پا تا اور اسے
سوائے اللہ
ھو کے باقی
سب کچھ بھول
جا تا ۔ نہایت
ہی جذ ب وکیف
کا عالم آپ
پر طاری رہتا
تھا کیونکہ
آپ پیدائشی
ولی تھے ۔ یہی
قول اور نیک
بندوں کے متعلق
بھی ملتے ہیں
جو غوث اور
قطب گزرے ہیں
۔) حدیث شریف
میں نبی کریم
علیہ الصلوۃ
والسلام نے
ارشاد فرمایا
کہ ولی اللہ
وہ ہوتا ہے
جس کے چہرے،
کو دیکھ کر
خدا یاد آجائے
باقی سب کچھ
بھول جائے
( قلب پراسم
ذات کا پہرہ
ہو جائے اور
شیطانی وساوس
دور ہو جائیں
نظر عمیق سے
دیکھا جائے
تو آپ کی ولادت
باسعادت ہی
آپ کی ولایت
کی بیّن دلیل
ہے۔
ایک مرد
قلندر کی تشریف
آوری
اکیس دن کے
بعد ایک مجذوب
فقیر مرد قلندر
جنگل کی طرف
سے (جو پہلے
کبھی نہیں
دیکھا گیا
تھا) آپ کے گھر
آیا اور آ کر
پوچھنے لگا
کہ وہ نومولود
بچہ کہاں ہے
جو اس گھر میں
پیدا ہوا ہے
۔ آپ کے دادا
حضور آپ کو
لے کر اس مجذوب
فقیر کے پاس
آگئے ۔ اس مجذوب
فقیر نے اپنی
چھوٹی انگلی
آپ کے منہ میں
ڈال دی ۔ آپ
نے اس مجذوب
فقیر کی انگلی
کو چوس لیا
اوراس دن کے
بعد آپ نے اپنی
والدہ محترمہ
کا دودھ پینا
شروع کر دیا
۔
آپ حسنی
اور حسینی
سید ہیں
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی نجیب
الطرفین سید
ہیں۔ آپ کا
شجرہ نسب حضرت
پیر شاہ محمد
غوث لاہوری
سے مل کر سید
عبدالوہاب
گیلانی اور
حضور غوث الثقلین،
غوث الاعظم
محبوب سبحانی
سید عبدالقادر
جیلانی رحمتہ
اللہ علیہ
سے مل کر حضرت
امام عالی
مقام حضرت
امام حسن و
حضرت امام
حسین رضی اللہ
عنہما سے پھر
حضرت علی المرتضی
شیر خدا رضی
اللہ عنہ سے
جا ملتاہے
۔
حضور پیر
صاحب کا شق
صدر
ایک دفعہ کا
ذکر ہے کہ سیدی
و مرشدی سیدرسول
شاہ خاکی مدظلہ
العالی اپنے
دادا حضور
کے پاس استرا
حت فرما رہے
تھے آپ نے خواب
میں دیکھاکہ
دو شخص حاضر
ہوئے اور آپ
کو قریب ہی
ایک جگہ تھی
وہاں پر لے
جا کر لٹا دیا۔
انہوں نے آپ
کاسینہ مبارک
چیر کر کوئی
چیز نکالی
جس کا آپ کو
قطعاً احساس
(یعنی دردنہ
ہوئی) نہ ہو
ا قبلہ پیر
صاحب کا ارشاد
ہے کہ میرے
سامنے ایک
چا ند تھامیں
نے ان دو آدمیوں
سے اس کے متعلق
دریافت کیا
تو وہ خاموش
رہے۔ اس کے
بعد آپ کے دادا
حضور نے آپ
سے پو چھا کہ
بیٹا کہا ں
گئے تھے آپ
نے دادا حضور
سے عرض کیا
کہ ادھر ہی
تھا دادا حضور
اس واقعہ کو
سمجھ گئے ۔
اس کے بعد دادا
حضور نے آپ
کے والد محترم
کو فرمایا
کہ یہ اپنا
بیٹا ) سید رسول
شاہ خاکی ( مجھے
بخش دیں ۔ ابا
حضور نے فرمایا
کہ میں نے آپ
کو یہ بیٹا
بخش دیا ۔
زمانہ
بچپن میں ہی
کفن لکھنا
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی مدظلہ
العالی ارشاد
فرماتے ہیں
کہ میں ایک
دفعہ بچپن
میں عصر کے
وقت دادا حضور
کے پاؤں دبا
رہا تھا کہ
داد حضور نے
ارشاد فرمایا
بیٹا اب کیا
وقت ہے۔ آپ
نے دادا کی
خدمت میں عرض
کیا کہ اب عصر
کا وقت ہے ۔
دادا حضور
اس وقت اسمِ
ذات کے ذکر
میں مشغول
تھے ۔ دادا
حضور کے پاؤں
مجھے ٹھنڈے
محسو س ہوئے
۔میں چونکہ
بچہ تھااس
وجہ سے سمجھ
نہ سکا۔ اس
کے بعد دادا
حضور نے ابا
حضور کو وصیت
فرمائی کہ
میرا کفن آپ(سید
رسول شاہ خاکی)سے
لکھوانا۔ آپ
نے دادا حضور
سے صر ف ا،ب
اور ی تک ہی
پڑھا تھا ۔
آپ کے ابا حضور
نے آپ کا ہا
تھ پکڑ کرکہا
کہ یہ تو پڑھا
ہوا ہی نہیں
ہے پھر کفن
لکھنے کاوقت
آیا تو میں
نے کہا کہ لاؤ
میں کفن لکھ
دیتا ہوں۔
کفن بہت خوبصورت
لکھا گیا جس
نے بھی دیکھاوہ
تعجب میں ڈوب
گیا اور پکار
اٹھا کہ اس
جیسی کفنی
آج تک کسی ہا
تھ سے بھی نہ
لکھی ہوئی
پائی گئی ۔
غوث الاعظم
کے ہاتھ پر
بیعت
دادا حضور
کی وفات کے
دو دن بعد آپ
نے ایک خواب
دیکھا
۔ سید
رسول شاہ خاکی
خود فرماتے
ہیں کہ بہت
سے لوگ باہر
میدان کی طرف
دوڑ رہے ہیں
اور آپ نے لوگو
ں سے پوچھا
کہ کدھر جارہے
ہو تو انہوں
نے جواب دیا
کہ بادشاہ
سلامت آئے
ہیں ان کی طرف
سب جارہے ہیں
۔ آپ آگے ہوئے
اور دیکھا
کہ بہت سے بزرگ
کرسیوں پر
بیٹھے ہیں
اور ایک سنہری
کرسی پر آپ
کے دادا حضور
بیٹھے ہیں
ان بزرگوںکے
پاس بہت سے
محافظ بھی
ہیں جب آپ ان
کے سامنے جاتے
ہیں تو دادا
حضور آپ کو
اپنے پا س بلاتے
ہیں اور پیا
ر کرتے ہیں
۔ اور دادا
حضور نے ارشاد
فرمایا بیٹا
آپ کو کوئی
بھی بیعت نہیں
کر سکتا کیونکہ
تم روحانی
طور پر حضور
غوث الا عظم
رحمتہ اللہ
علیہ کے دست
مبارک پر بیعت
ہو ۔
نیراوّج
ولایت سید
رسول شاہ خاکی
سیدی و مرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی جب چلنے
پھر نے کے قابل
ہوئے تو آپ
کے دادا حضور
نے آپ کو اپنی
پرورش میں
لے لیا۔ دادا
جان آپ کو کبھی
اپنے آپ سے
جدا نہیں کرتے
تھے رات کوبھی
اپنے پاس سلاتے
تھے ۔ عربی
کا سبق خودہی
دیتے تھے مگر
آپ چونکہ فطرتاً
مجذوب تھے
ہر وقت عالم
سکوت میںہی
رہتے تھے۔
کبھی کبھار
جنگل کی طرف
چلے جاتے تھے
اور اِدھر
اُدھر گھومتے
رہتے تھے۔
اپنے مالک
کی رنگینیوں
اور قدرتی
مناظر کو دیکھ
کر اپنے اندر
ایک عجیب سا
کیف محسو س
کرتے تھے خاموشی
ان کاورثہ
تھا ۔ سوائے
اپنے دادا
حضور کے کسی
اور سے گفتگو
نہیں فرماتے
تھے حتیٰ کہ
کھا نا بھی
دادا حضور
کے ہی ساتھ
تناول فرماتے
تھے۔
فرشتے
کی حاضری اورپیر
مہر علی شاہ
کی زیارت
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی کی عمر
ابھی دس سا
ل کے قریب تھی
اور آپ اپنے
دادا حضور
کے پاس سوئے
ہو ئے تھے کہ
آدھی رات کواَمر
ربی سے اپنے
بستر سے اٹھے
اور باہر جنگل
کی طرف چلے
گئے آپنے دیکھا
چاند نیچے
آگیا ہے اور
آپ نے چاند
کو ہاتھ میں
لے کر کھیلنا
شروع کر دیا۔
چاندکی روشنی
کی شعاعیں
ہاتھو ں سے
نکل کر پھیل
رہی تھیں ۔
آپ کی یہ کو
شش تھی کہ چاند
کو مٹی کے نیچے
چھپا دیا جائے
۔ بس آپ اسی
مشق میں محو
تھے کہ اچانک
ایک عکس سا
نظر آیا ۔ آپ
نے بلا خوف
و خطر اس سے
پو چھا تم کو
ن ہو ۔ جواب
آیا میں اللہ
کا فرشتہ ہوں
اور کہا کہ
میرے قریب
آجائیں ۔ جونہی
آپ قریب گئے
توکیا دیکھا
کہ ایک بزرگ
نہایت نورانی
چہرہ والے
تشریف فرماہیں
۔ مجھے دیکھ
کر مسکرائے
اور کہا بیٹا
گھبرائیے نہیں
اللہ اتعالی
آپ کے ساتھ
ہے مجھ پر دست
شفقت پھیر
تے رہے اور
دعائیں بھی
دیتے رہے اور
یہ الفاظ آپ
کے زبان پر
تھے کہ بیٹا
تمھارا ستارہ
عروج کو پہنچے
گا۔ جب وہ آپ
سے علیحدہ
ہو نے لگے تو
آپ نے نہایت
ادب سے پوچھا
کہ سرکار آپ
کون ہیں توانہوں
نے مسکراتے
ہوئے فرمایا
بیٹا مجھے
پیر مہر علی
شاہ کہتے ہیں
جنھیں آپ اکثر
یاد کیا کرتے
ہیں ۔ دیکھتے
ہی دیکھتے
آپ آنکھو ں
سے غائب ہو
گئے ۔
دادا حضور
کا علم کمال
اس کے بعد سیدی
ومرشدی اعجاز
ہادی سید رسول
شاہ خاکی واپس
اپنے گھر تشریف
لے آئے اور
اپنے دادا
حضور کے بستر
پر لیٹ گئے
۔ ابھی لیٹے
ہی تھے کہ دادا
حضور نے کروٹ
بدلی اور پوچھا
بیٹا کہاں
گئے تھے ۔ آپ
نے دادا حضور
کی خدمت میں
عرض کیادادا
جی بس یہیں
تھا ۔ دادا
حضور مسکرائے
اور پھر خاموش
ہو گئے اور
پھر آہستہ
سے فرمانے
لگے کہ بیٹا
اللہ تعالی
آپ کے حق میں
بہتر کرے گا۔
سرکار
غوث الاعظم
کی خدمت میں
دادا حضور
کی رحلت کے
بعد سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سیدرسول شاہ
خاکی نے ایک
رات خواب میں
دیکھا کہ ایک
بہت بڑا پررونق
دربار لگا
ہو ا ہے جہاںبہت
بڑا ہجوم ہے
۔ لوگوں کے
چہرے نہایت
ہشاش بشاش
اور پر رونق
نظر آرہے تھے
جیساکہ ہر
طرف سے نور
کی شعائیں
نکل رہی تھیں
۔ آپ تھوڑے
سے آگے بڑھے
اور دیکھا
کہ تین بزرگ
سامنے تشریف
فرما ہیں ۔جن
کے چہروں پر
چاند اور سورج
کی شعاعوں
کا پہرہ تھا
آپ جونہی ذرا
آگے بڑھے تو
ایک نورانی
چہرہ بزرگ
(جو پاس والی
کرسی پر جلوہ
افروز تھے)
نے دربان کو
حکم دیا کہ
اس بچے کو فوراً
نبی کریم کی
خدمت میں پہنچا
دیا جائے۔
میںنے دیکھا
کہ دادا حضورجو
کچھ کاغذوں
پر مہریں لگا
رہے تھے نے
نبی کریم کی
طرف اشارہ
کر کے عر ض کیا
حضور یہ میرے
پوتے ہیں ۔
حضور صلی اللہ
علیہ وسلم
نے اپنا دست
شفقت آپ کے
سر پر پھیرا
آپ کے پاس حضور
غوث الاعظم
بھی تشریف
فرما تھے حضور
غوث الاعظم
نے بھی آپ سے
بہت پیار کیا
اور نہایت
مسرت سے فرمایا
بیٹا اللہ
تعالی تمہیں
اپنی راہ میں
کامیابی عطا
فرمائے گھبرانے
یا پریشان
ہونے کی کوئی
ضرورت نہیں
ہے۔ مزید دادا
حضور نے فرمایا۔
بیٹا اللہ
تعالی آپ کو
کامیاب زندگی
عطا فرمائے۔
اس کے بعد آپ
کی آنگھ کھل
گئی آپ نے اپنی
آنکھ میں ایک
عجیب مسرت
آمیزی اور
کیف و سرور
محسوس کیا
۔ اس کے بعد
آپ وجدانی
عالم میں رہنے
لگے ۔
پیر شاہ
شرف الدین
سے ملاقات
عہد طفلی کے
دن گز رہے تھے
۔ کشمیر کی
وادیوں میں
آپ مستی کے
عالم میں پھر
تے رہتے تھے
۔ آپ کی عمر
تقریبا بارہ
برس کو پہنچ
چکی تھی ۔ انہی
ایام میں ایک
بہت ہی مشہور
بزرگ جو کہ
حضرت پیر مہر
علی شاہ صاحب
رحمتہ اللہ
تعالی کے خلیفہ
خاص تھے ۔ آپ
کا اسم مبارک
پیر شریف الدین
رفیقی ہے کشمیر
میں اکثرتبلیغ
دین کی خاطر
تشریف لا یا
کرتے تھے جہاں
بھی آپ قیام
فرماتے آپ
کو گھر سے بلوالیا
کرتے اور خوب
پیار کیا کر
تے تھے اور
فرماتے تھے۔
’’بیٹا ایک وقت
آئے گا دنیا
آپ کے فیض سے
فیضیاب ہو
گی ‘‘۔
جب تک آپ کا
قیام کشمیر
کی وادی میں
رہا ۔ آپ سے
پیر شریف الدین
صاحب کی اکثر
ملا قات ہو
تی رہی۔آپ
فیض یا ب ہوتے
رہے ۔ ویسے
تو آپ کا خاندان
بھی مشہور
و معروف ہے
آپ کے دادا
علیہ الرحمتہ
کا بڑے عظیم
الشان بزرگوں
میں شمار ہوتا
ہے ۔ دادا جان
سلسلہ عالیہ
سہروردیہ کبرویہ
قادریہ چشتیہ
سے منسلک تھے
۔
سفر کی
تیاریاں
حسب فرمان
دادا حضور
آپ ایک روز
اپنی وجدانی
کیفیت میں
تھے کہ وہاں
سے پیدل ہی
چل پڑے اور
سفر کرتے کرتے
آپ بارہ مولا
پہنچ گئے ۔
بارہ مولا
کے قریبی گاؤں
میں ایک مشہورو
معروف بزرگ
مجذوب عبدالستار
نامی رہا کرتا
تھا ۔ آپ نے
اس مجذوب کے
ہاں کچھ دن
قیام فرمایا
۔ اور پھرباامرربی
اوربزرگوں
کی اجازت سے
اپنی منزل
کی جانب چل
دیے۔
بارہ مولی
میں قیام کے
دوران ایک
شخص آپ کی طرف
بڑھا اور دبی
دبی آواز میں
نہایت ادب
وا حترام سے
عرض کرنے لگا
کہ حضور اگر
آپ کھا نا پسند
فرمائیں تو
حاضر خدمت
ہے ۔ آپ نے رضامندی
کا اظہار فرمایا
اور اس کی خوش
بختی جاگ اٹھی
وہ فورا آپ
کی خدمت میںکھانا
لے آیا آپ نے
حسب ضرورت
تناول فرمایا
اور دعائے
خیر فرمائی
۔
مری کی
طرف تیاری
اس کے بعد آپ
مری جانے لیے
لاری پر سوراہوئے
اور آپ مری
پہنچ گئے وہاںایک
ہوٹل پر قیام
کیا ۔
موہڑہ
شریف کی طرف
روانگی
آپ ہوٹل میں
اپنی مستی
کی حالت میں
بیٹھے ہوئے
تھے کہ دو صوفی
صاحبان چائے
پینے کے لیے
ہوٹل پر پہنچے
انہوں نے جب
آپ کو مستی
کے عالم میں
پایا تو آپ
سے دریافت
فرمایا کہ
آپ کہا ں سے
تشریف لائے
اور کہاں جانے
کا اراداہ
ہے۔ آپ نے بڑی
دھیمی آواز
سے فرمایابھائی
ہم مسافر ہیںاور
مسافری میں
ہی اپنا وقت
بسر کررہے
ہیں۔
صوفی صاحبان
نے آپ کی توجہ
موہڑہ شریف
جہاں پر با
با جی غوث زماں
خواجہ قاسم
موہڑوی علیہ
الرحمتہ تشریف
فرماتھے مبذول
کرائی ۔ بابا
جی سرکار کا
نام سنتے ہی
آپ نے اپنا
ارادہ موہڑہ
شریف میں حاضری
کا کرلیا ۔
آپ صوفی صاحبان
کے ہمرہ موہڑہ
شریف میں با
با جی کی خدمت
میں پہنچ گئے
۔ بابا جی کی
خدمت میں جونہی
پہنچے تو با
با جی سرکار
نے آپ سے بے
حد پیار کیا
اور با با جی
سرکار نے آپ
کی پیشانی
کو چوما ۔ با
با جی سرکار
نے حاضرین
مجلس اور اپنے
خدام حضرات
سے فرمایا
کہ یہ صاجزاد
ے ماشا اللہ
سید گیلانی
خاندان سے
تعلق رکھتے
ہیں اور آپ
کے آباؤ اجداد
کا بھی چوٹی
کے بزرگوں
میں شمار ہوتا
ہے ۔ لہذا سب
پر فرض ہے کہ
آپ کا نہایت
ادب و احترام
کریں اور آپ
کی خدمت میں
کوئی کمی واقع
نہ ہونے پائے
۔ مزید آپ نے
تاکیداً فرمایا
کہ آپ نبی علیہ
الصلوۃ والسلام
کی آلِ پاک
سے ہیں آپ کی
تعظیم و تکریم
کرنا ہم سب
پر فرض عین
کی طرح ہے۔
با باجی سرکار
نے اپنے ایک
خادم کو بلوایا
اور آپ کو اس
کے سپرد کر
یا۔ خادم نے
آپ کی خدمت
بجالانے کے
بعد ایک کمرہ
میں آپ کی رہائش
کا اہتمام
کر دیا ۔ خادم
آپ کی خدمت
میں دست بستہ
ہو کر عرض کرنے
لگا سرکار
جو بھی حکم
ہو یہ خادم
آپ کی خدمت
بجالانے کے
لیے ہر وقت
تیار ہے ۔
موہڑہ
شریف میں قیام
سیدی ومرشدی
اعجاز ہادی
سید رسول شاہ
خاکی اب موہڑہ
شریف میں رہنے
لگے ۔ آپ باباجی
سرکار کے پاس
تقریبا عرصہ
دو تین سال
تک رہے اور
باباجی سرکار
آپ کو تمام
عرصہ روحانی
فیض سے نوازتے
رہے ۔ بابا
جی سرکارنے
بڑی شفقت کے
ساتھ آپ کی
ہر طرح سے تربیت
فرمائی حتی
کہ راہ سلوک
کی تمام روحانی
منازل بھی
طے کرائیں
۔ آپ نے با باجی
سرکار کے زیر
سایہ بڑی کامیابی
کے ساتھ اپنا
وقت گزارا
اور اپنے مالک
حقیقی کو ہر
وقت ہر دم ہر
لحظ اپنے قلب
مبارک پر منقش
پایا ۔ باباجی
سرکار کا معمول
رہا کہ جو سائل
بھی عقیدت
و محبت سے آپ
کی بارگاہ
میں
حاضر ہو ا تو
آپ نے اسے ایک
ہی نظر سے روحانیت
سے نواز دیا
۔ با با جی سرکار
نہایت کامل
اور سخی مرد
تھے ۔ سیدی
ومرشدی اعجاز
ہادی سید رسول
شاہ خاکی مدظلہ
العالی فرمایاکرتے
تھے کہ وہ اپنے
وقت کے غوث
زماںتھے۔
لوگ روتے ہوئے
با باجی سرکار
کی بار گاہ
میں آتے تھے
اور ہنستے
ہو ئے جاتے
تھے ۔ انہیں
ایسی روحانی
تسکین مل جاتی
تھی کہ با باجی
سرکار کے دیوانے
بن جاتے تھے
۔
<< پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>