بابا
بلیاں والی
سرکار کی کرامات
کا واقعہ!
جناب غلام
رسول صاحب
عرف بابا بلیاں
والی سرکار
کا ایک ایمان
اَفروز واقعہ
بیان کرنا
انتہائی مناسب
ہو گا ۔ ان کی
ڈیوٹی روحانی
طور پر روضہِ
رسول پر لگی
ہوئی تھی۔
ایک دن آقا
کریم نے خواب
میں بابا بلیاںوالے
کو فرمایا
کہ ہمارے روضے
کے اندرایک
کبوتر مرا
ہوا ہے جس سے
بو آ رہی ہے
اس کو یہاں
سے نکالو۔بابا
جی نے مدینے
کے گورنر سے
بات کی(چونکہ
وہ لوگ اس عقیدے
اور خیال کے
نہیں ہیں ) اس
نے کہا کہ آپ
جھوٹ بول رہے
ہیں بابا جی
نے فرمایا
کہ میں جو کہہ
رہا ہوں درست
ہے ۔ گورنر
نے کہا کہ اگر
جھوٹ ہوا تو
پھر۔ بابا
جی نے فرمایا
کہ اگر غلط
ہو تو میری
گردن اتار
دینا۔ کافی
سوچ بیچار
کے بعد گورنر
راضی ہو گیا
۔ بابا جی نے
فرمایا کہ
12 سال کے بچے
کو اندر بھیجا
جائے لہذا
اچھا نیک اور
صا لح 12 سال کا
بچہ منتخب
کیا گیا اس
کو ایک پلاسٹک
کا لفافہ دیا
گیا اچھا سا
لباس پہنایا
گیا اور روضہِ
رسول کے اندربھیجا
گیا ۔ لفافہ
اس لئے تھا
کہ کبوتر اس
میں ڈال کر
واپس لے آئے۔
جب بچہ اندر
گیا تو واقعی
وہاں کبوتر
مردہ پڑا تھا
اس میں سے بدبو
آرہی تھی اوراس
پر کیڑیاںبھی
تھیں۔اس خو
ش قسمت بچے
نے وہ کبوتر
لفافے میں
ڈال لیا اور
باہر آ کر بتایا
کہ حضور اپنے
خلفآ ء راشدین
کے ساتھ اور
حسنین کریمین
کے ساتھ تشریف
فرماہیںاس
نے مزید کہا
کہ مجھے خود
تاجدار کائنات
نے اپنے پاس
بلایا دست
شفقت پھیراا
ور پیار کیا۔
اصل میں کبوتر
تو ایک بہانہ
تھا سرکار
نے اپنی جاودانی
حیات طیبہ
کا معجزہ دکھانا
تھا کہ میں
اب بھی موجود
ہوں ورنہ وہی
کبوتر زندہ
ہو کربھی باہر
جا سکتا تھا
اصل میں سرکار
نے اپنے ایک
عاشق کے توسط
سے اپنی حیات
مبارکہ دکھانی
تھی۔بچہ باہر
آیا اس نے مرا
ہوا کبوتر
لا کر گورنر
کو دیکھایا
اور ساتھ ہی
سرکار سے ملنے
کا واقعہ بھی
سنایا۔ گورنر
مدینہ حیران
رہ گیا بابا
جی کو بہت زیادہ
انعام و اکرام
دینا چاہامگر
بابا جی نے
یہ کہہ کرلینے
سے انکار کر
دیا مجھے سرکار
کی نظر ہی کافی
ہے۔
اس واقعہ کے
بعد بابا جی
کے گرد لوگوں
کا ہجوم ہونے
لگا سرکار
دو جہاں نے
بابا جی کو
حکم فرمایا
کہ حضرت امیر
حمزہ کے مزار
پاک پر چلے
جاو۔ حکم ملتے
ہی بابا جی
وہاں تشریف
لے گئے ۔وہاں
بھی لوگ جمع
ہونے لگے دعا
کے لئے عرض
کرتے پھر تھوڑا
ہی عرصہ وہ
اس دنیا میں
رہے اور پھر
دنیا فانی
سے پردہ فرما
گئے اورہمیشہ
کے لئے واصل
ہو گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خلیفہ راجہ
عزیز الرحمن
خان
تعارف:
خلیفہ راجہ
عزیز الرحمن
خان صاحب کا
تعلق واہ فیکٹری
سے ہے وہ گکھڑ
فیملی سے تعلق
رکھتے ہیں۔انتہائی
صاحبِ بصیرت
اور پیر صاحب
کے قرب یافتہ
خلیفہ ہیںحضورپیر
صاحب سے عزیز
صاحب کے خاص
الخاص گھریلو
تعلقات بھی
ہیں۔حضورپیر
صاحب کے قریبی
راز دار اور
سفرِ طیبہ
میں بھی قربت
کا شرف حاصل
کرنے والوں
میں شامل ہیں۔پیر
صاحب کے متعلق
انتہائی ایمان
افروز گفتگو
فرماتے ہیں۔اُن
کی زندگی کے
چندمشاہدات
اس کتاب میں
پیش کیے جا
رہے ہیں۔
پیر صاحب سے
ملاقات:
خلیفہ راجہ
عزیز الرحمان
صاحب فرماتے
ہیں کہ میں
فوج سے ریٹائر
ہوا تو میری
عمر ابھی ٹھیک
تھی اورمزید
نوکری کی خواہش
بھی تھی۔ اس
لیے میں نے
اور ملازمت
کی تلاش شروع
کر دی۔میرے
بڑے بھائی
موہڑہ شریف
پیر خان صاحب
کے مرید تھے۔مجھے
بھائی جان
نے ایک دن کہا
کہ کسی اللہ
والے سے تعلق
قائم کرو ،تمہارے
سارے کام بشمول
ملازمت حل
ہو جائیں گے۔انہی
دنوں ایک مجذوب
جو کہ بادشاہ
بابا کے نام
سے مشہور تھے
۔جامعہ مسجد
راولپنڈی کے
قریب گھومتے
رہتے تھے اوررات
کو ایک تندور
کے شیڈ میں
قیام فرماتے
تھے ۔میری
اُن سے ملاقات
ہوئی۔مجھے
اُن کے پاس
بیٹھ کر بڑا
سکون ملتا
تھا۔میں اکثر
اُن کے پاس
آتا جاتا رہتا
تھاایک دن
ملازمت کے
لئے میں نے
ملٹری انجینیئرنگ
سروس کے چیف
آفیسر (جوکہ
پشاور میں
ہوتا تھا)سے
ملنے کا ارادہ
کیا۔پشاور
جانے سے پہلے
میں بابا جی
کی خدمت میں
حاضر ہوا۔اُن
سے اپنا مقصد
بیان کیا اور
پھر میں پشاور
روانہ ہو گیا۔میری
خوش قسمتی
کہ مجھے جاتے
ہی نوکری مل
گئی اور مجھےPAF
بیس مرید میں
تعینات کر
دیا گیا۔ اسی
طرح ایک دن
پیر لال بادشاہ
جو کہ ڈھوک
کھبہ راولپنڈی
میں تشریف
فرماتے تھے
اُن سے میری
ملاقات ہوئی۔اُنہیں
اپنے حالات
بتائے اور
کسی اللہ والے
سے ملنے کی
خواہش کا اظہار
کیا۔انہوں
نے فرمایا
کہ جہاں آپ
کی ملازمت
ہے وہاں قریب
ہی پیر سید
رسول شاہ خاکی
کا آستانہ
مبارک ہے تم
اُن کے پاس
جایا کرووہ
بہت ہی کامل
شخصیت ہیں۔تم
جتنا جلد ہو
سکے اُن کی
خدمت میں حاضری
دو۔یہ بات
سُن کر میرے
دل میں اور
بھی تڑپ پیدا
ہوئی۔سوچنا
شروع کیا کہ
جتنا جلد ہو
سکے سرکار
کی خدمت میں
حاضر ہونا
چاہیے۔میں
راولپنڈی سے
واپس اپنی
ڈیوٹی پر PAF مرید
پہنچا۔اپنے
سٹاف کے لوگوں
سے اور باقی
ملنے والوں
سے پتہ کیا
کہ کیا یہاں
کوئی رسول
شاہ خاکی نامی
پیر صاحب رہتے
ہیں۔ انہوں
نے مجھے بتایا
کہ یہاں قریب
ہی رہتے ہیں۔لوگوں
نے مجھے راستہ
دکھایا میں
بڑا خوش ہوا
اور اُسی دن
چھٹی کر کے
حاضرِ خدمت
ہوا۔بتایا
گیا کہ پیر
صاحب گھر پر
نہیںہیںچنانچہ
میں واپس آگیا۔ایک
خادم کو بتایا
کہ کل حاضر
ہوں گا۔
سارا دن پھر
اسی لگن میںگزرا
کہ جاؤں گا
،زیارت ہو
گی ،ملوں گا
وغیرہ وغیرہ۔بہر
حال دوسرے
دن چھٹی کے
بعد حاضرِ
خدمت ہوا ،سرکار
جلوہ افروز
تھے آپ کی قدم
بوسی کی۔ سرکار
نے پوچھا کہ
تمہیں یہاں
کس نے بھیجا
ہے؟میں نے
عرض کی کہ حضور
جناب لال شاہ
صاحب نے بھیجاہے۔سرکار
نے فرمایا
کہ میں نے اُنہیں
منع کیا تھا
کہ اِدھر کسی
کو مت بھیجنا
کیونکہ نہ
میں پِیر ہوںنہ
فقیر ۔مسکین
آدمی ہوں اپنے
دن گزار رہا
ہوں۔میں یہ
سُن کر پریشان
ہو گیاکہ اب
کیا ہو گا۔تھوڑی
دیر خاموش
رہنے کی بعد
پِیر صاحب
نے فرمایا
کہ وقت ملے
تو آجایا کرو
ہو سکتا ہے
کہ انہوں نے
تمہیں اچھا
سمجھا ہو۔یہ
سننے کی دیرتھی
کہ میری خوشی
کی کوئی انتہا
نہ رہی مجھے
سرکار کے پاس
بیٹھ کر بڑا
ہی سکونِ قلب
محسوس ہو رہا
تھا میں نے
روز جانا شروع
کر دیا اُن
دنوں میں نہ
تو نماز کا
پابند تھا
نہ ہی رموز
طریقت و تصوف
سے واقف تھااسی
طرح تقریباً
۸ ماہ گزر گئے
۸ ماہ کے بعد
ایک دن سرکار
نے پوچھا کہ
میاں اتنا
عرصہ ہو گیا
ہے آپ یہاں
آتے ہیں،آپ
نے آج تک اپنے
آنے کا مقصد
تو بیان ہی
نہیں کیا۔میرے
دل میں جو بات
تھی وہ میں
نے بیان کر
دی۔پیر صاحب
نے سن کر فرمایا
کہ لال بادشاہ
کی خدمت میں
یہ بات عرض
کردینا۔میں
راولپنڈی آیا
تومیں نے وہی
بات لال بادشاہکی
خدمت میںعرض
کی۔جواباًانہوںنے
فرمایا کہ
میں نے تمہیں
خاکی شاہ کی
خدمت میں بھیجا
ہے وہ سب کچھ
ہیں اُن کا
دامن پکڑ لو
تمہارا ہر
مقصد پورا
ہو گا ۔میں
نے عرض کیا
کہ ٹھیک ہے
حضور دوبارہ
پیر صاحب کی
خدمت میںحاضر
ہوا۔آپ اکیلے
تشریف فرما
تھے مجھ سے
پوچھا کہ پیر
لال بادشاہ
کی خدمت میں
گئے تھے ۔میں
نے جی کہتے
ہوئے جوکچھ
لال بادشاہ
نے فرمایا
تھا، وہ سرکار
کی خدمت میںعرض
کر دیا۔ جب
میں نے یہ الفاظ
کہے کہ انہوں
نے فرمایا
ہے کہ خاکی
شاہ بڑے ہی
اونچے فقیر
ہیں اُن کا
دامن پکڑلو
تو سرکار کے
چہرہ مبارک
کا رنگ اچانک
سرخ ہو گیا
آنکھیںبھی
سرخ ہو گئیں
میری طرف غور
سے دیکھا تو
میں چیخ مارکر
آپ کے قدموں
میں گر گیا۔
آپ نے زور سے
میری پشت پر
تھاپڑا مارا
اور انگلی
مبارک سے میری
پشت پر کچھ
لکھا اور کہا
کہ جاؤ اللہ
تمہارے ساتھ
ہے ۔ساتھ ہی
آپ نے فرمایا
کہ جاؤ گھر
چلے جاؤ میں
لگاتار رو
رہا تھا میرا
دل انتہائی
نرم ہو گیا
تھااور خوف
خدابھی بڑھ
گیا تھا۔اُس
دن سے میں نماز
کا پابند ہو
گیا، ورد وظائف
کا شوق پیدا
ہو گیا میں
نے تقریباً
سات سال تک
PAF بیس مرید میں
ملازمت کی
اور لگاتار
سرکار کی خدمت
میں حاضر ہوتا
رہا، جامِ
محبت اور جامِ
دیدار نوش
کرتا رہا۔کئی
واقعات رونما
ہوئے ،کئی
کرامتیں دیکھیں
جن میں سے بعض
کا ذکر بھی
کر رہا ہوں
تاکہ پڑھنے
والے کا ذوق
تازہ ہو اور
اس سے اللہ
والوں کی نسبت
کی اہمیت کا
پتہ چلے۔
ایس ڈی اوکا
تبدیل ہونا:
خلیفہ راجہ
عزیزالرحمن
صاحب فرماتے
ہیں کہ میں
چونکہ ایم
ای ایس میں
ملازمت کرتا
تھا۔اپنے کام
کے علاوہ ہر
وقت ذکرو فکر
اور نوافل
میں مشغول
رہتا میرے
اکثر ساتھی
اورایس ڈی
او حضرات مجھ
سے بڑا چڑتے
تھے۔ دیکھو
جی ہر وقت مسجد
میں بیٹھا
رہتا ہے کسی
سے گپ شپ نہیں
کرتا وغیرہ
وغیرہ۔بہرحال
میں اپنے کام
سے کام رکھتا
تھا۔جب بھی
مجھ سے کوئی
چھیڑ چھاڑ
کرتا تھامیں
پیر صاحب کو
یاد کرلیتا
تھا ۔ جو بھی
گریزن انجنئیرآتا
وہ لوگ اُس
کو میرے خلاف
کردیتے۔ جونہیGE
اُن کے بہکاوے
میں آ کر مجھ
سے چھیڑخانی
کرتا ۔ یہ سرکار
کی زندہ کرامت
تھی کہ 24گھنٹے
کے اندر اندر
اُس کا ٹرانسفر
کالیٹر آجاتا
اِس طرح یکے
بعددیگرے تینGEتبدیل
ہوئے۔ حالانکہ
GE کو تبدیل کرنا
کوئی آسان
کام نہیں ہوتا۔
اچھا خاصہ
کوئی بحران
آئے تو پھر
جاکر GEتبدیل
ہوتے ہیں۔چونکہ
وہ بھی پیر
کی اولاد کو
تنگ کرتا تھا
اِس لیے بغیر
کسی وجہ کے
GEتبدیل ہوجاتا
تھاجب لگاتار
3بار ایسا ہواتو
پھر جاکر میرے
سٹاف کے مغزمیں
یہ بات آئی
کہ اس یعنی
(عزیز الرحمان)کو
نہیںچھڑنا
چاہیے یہ ایسا
ویسا نہیں
ہے۔ اس کا مرشد
کامل ہے جو
اس کی مکمل
سرپرستی فرمارہا
ہے جو اس کو
کسی بھی صورت
پریشان نہیں
دیکھ سکتا۔
پیر صاحب کی
نگاہ بصیرت:
میں1971کی پاک
بھارت جنگ
میں مرید ائر
بیس پر تعینات
تھا ایک دن
حضورپیر صاحب
کی خدمت عالیہ
میں حاضر ہوا
سرکار نے فرمایا
کہ میاں آپکا
بیس کمانڈر
جاسوس ہے اور
یہ نقصان پہنچائے
گا میں نے اپنے
متعلقہ افسر
جو اسکارڈن
لیڈر کے عہدے
کا تھا اس کو
بتایا اس نے
میری بات پر
خاص توجہ نہ
دی پھر وہی
ہوا جس کا خدشہ
تھا۔ پیر صاحب
نے جو فرمایاتھا
ویسا ہی ہوا
کہ بیس پر ہر
اس جگہ پر بمباری
کروائی گئی
جہاں زیادہ
سے زیادہ نمایاں
جہازکھڑے تھے
اور عملہ کام
کر رہا تھا۔
سامانِ حرب
کا بھی کافی
نقصان ہوا
اور لوگ بھی
بہت سے شہید
ہوئے۔
امام بری سرکار
کی زیارت ظاہری:
جناب عزیزالرحمن
صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ میں پیر
صاحب کے ساتھ
امام بری سرکار
کے عرس کی تقریب
میں شرکت کے
لیے گیا ۔مزار
پاک کے قدرے
سرھانے کی
طرف ایک بوڑھ
کا بہت بڑا
درخت ہے اس
کے نیچے ڈھولک
بج رہی تھی
بہت سے ملنگ
دھمال میں
مشغول تھے۔
میں سرکار
کے ساتھ ہی
پیچھے کھڑا
تھا ۔ ہمارے
سامنے ایک
سبز رنگ میں
ملبوس انتہائی
وجاہت والے
بزرگ کھڑے
تھے۔ وہ ڈھولک
کی تھاپ پر
اپنا پاؤں
زمین پر ماررہے
تھے اور ساتھ
ہی ساتھ ذکر
بھی کرتے جاتے
تھے۔ پیر صاحب
بڑے ادب سے
ان بزرگوں
کی طرف دیکھ
رہے تھے۔ پیر
صاحب کے دائیں
اور بائیں
اوربھی بزرگ
ہستیاں کھڑی
تھیں۔ یہ منظر
چند منٹ تک
جاری رہا جب
ڈھولک ختم
ہوئی تو وہ
بزرگ بھی غائب
ہو گئے۔ جناب
پیر صاحب حالت
مجذوبی میں
چلے گئے۔ مختلف
جگہ ڈھولک
بج رہی تھی
پیر صاحب جس
بھی محفل میں
جاتے ڈھولک
کی آواز آنی
بند ہو جاتی۔
پیر صاحب کافی
دیر تک اس بے
خودی کے عالم
میں اِدھر
اُدھر گومتے
رہے۔ تھوڑی
دیر بعد پیر
صاحب کی حالت
بدلی اور سرکار
کی حالت مجذوبی
ختم ہوئی ۔ہم
نے جس جگہ قیام
کیا ہوا تھا
واپس وہاں
آئے پیر صاحب
آرام کے لیے
تھوڑا سا لیٹ
گئے۔ میں قدم
مبارک دبانے
لگااور قدم
مبارک دباتے
دباتے میں
نے پوچھا کہ
وہ سبز پوش
بزرگ کون تھے
۔ پیر صاحب
نے مسکرا کر
جواب دیا کہ
وہ عرس والے
ہی تو تھے۔
(یعنی امام
بری سرکار
خود تھے )
میں اب بھی
موجود ہوں:
راجہ عزیز
الر حمن خان
صاحب فرماتے
ہیں کہ جناب
خاکی شاہ سرکار
کے وصال مبارک
کے بعد دل بہت
افسردہ رہتا
تھا۔ پیر صاحب
کی محبتیں
شفقتیں قربتیں
ہر وقت یاد
آتیں تھیںاوروہ
یادیں مجھے
خون کے آنسو
رلاتی تھیں
۔ ایک رات مجھے
پیر صاحب خواب
میں ملے تو
مجھے فرمانے
لگے کہ تم گھبراتے
کیوں ہو یہ
واقعہ امر
تھا جو ہو گیاباقی
میں اب بھی
موجود ہوں
کوئی فکر والی
بات نہیں ۔
مجھے اس خواب
سے کافی حوصلہ
مل گیا۔
اِنہی دِنوں
میں ایک دفعہ
میں سرکار
کی قدم بوسی
کے لیے بعد
از وصال حاضر
ہوا۔ جونہی
میں مخدوم
پور پہنچاتومیں
نے خاص باطنی
کیفیت میں
دیکھا کہ حسب
معمول دربار
پرکچھ لوگ
آجا رہے تھے
۔ چند لوگ مجھے
دربار سے آتے
ہوئے ملے اور
کہنے لگے کہ
عزیز صاحب
پیر صاحب دربار
میں موجود
ہیں۔ سرکار
واپس دنیا
میں تشریف
لے آئے ہیں
میںششدر رہ
گیا کہ لوگ
کیا کہہ رہے
ہیں۔تھوڑا
آگے گیا پھر
ایک آدمی ملا
اس نے بھی یہی
کہا میں بے
حد خوش ہوا
کہ یہ تو عجیب
بات ہے میں
ابھی جناب
سے ملتا ہوں
ساری اداسی
ختم ہو جائے
گی دل کو قرار
اور آنکھوں
کو ٹھنڈک نصیب
ہوگی ۔ اس خوشی
کی دُھن میں
جب دربارشریف
پہنچا تو کیا
دیکھتا ہوں
کہ واقعی پیر
صاحب دربارمیں
موجود تھے۔
میںبیا ن نہیںکر
سکتا کہ میری
کیا حالت تھی
یہ واقعہ میں
نے زندگی میں
پہلی بار دیکھا
میں خوشیوں
کے سمندر میںڈوب
گیا آنکھوں
میں آنسوں
کا سمندررواں
تھا۔ میں نے
حیرانگی کے
عالم میں پیر
صاحب سے پوچھا
حضور میں کیا
دیکھ رہا ہوں
توپیر صاحب
نے مسکرا کر
جواب دیا کہ
یہ بھی
اللہ کا کام
ہے۔
میت کا مسکرانہ!
ایک شخص مرید
گاؤں کا رہنے
والا تھا۔
اُس کا نام
مجھے اب یاد
نہیں رہاروزانہ
صبح وہ پیر
صاحب کی خدمت
میں حاضر ہوتا
قدم بوسی کرتا
اور پھر اپنے
دنیاوی کاموں
میں مشغول
ہوجاتا۔ اس
کا آخری وقت
قریب ہوا۔وہ
بیمار ہوا
اور اس کی رحلت
ہو گئی۔ جناب
پیر صاحب اس
سے بڑی محبت
فرماتے تھے۔
جناب اس کا
جنازہ پڑھانے
کے لیے تشریف
لے گئے میں
بھی آپ کے ساتھ
تھا۔ پیر صاحب
جنازہ کے بعد
اس کے منہ کے
قریب کھڑے
ہوگئے تھوڑی
دیر دیکھتے
رہے اچانک
اُسکے ہونٹوںسے
مسکراہٹ ظاہر
ہوئی۔میں یہ
منظر اپنی
آنکھوں سے
دیکھ رہا تھا
سرکار نے جب
متوفی کو مسکراتے
ہوئے دیکھا
تو فرمایا
اب ٹھیک ہے۔
اب اسے دفنا
دو اور سرکار
واپس مخدوم
پور شریف تشریف
لے آئے۔
ہسپتال میں
غیبی کھانا
ملنا!
ایک دفعہ میں
سخت بیمار
تھا اور ہسپتال
میں داخل تھا
میرا کچھ کھا
نے پینے کو
دل نہیں چاہتا
تھا۔ سارے
رشتے دار اور
دوست احباب
پریشان تھے
کہ میں کھا
نا نہیں کھا
رہا ہو ں۔بہر
حال پورا ایک
ماہ میں نے
کچھ کھایا
پیا نہیں۔
رات بھی ایک
عجیب پریشانی
میں گزرتی
تھی۔ اُن دنوں
رات کو ایک
بزرگ ہستی
کبھی پیر صاحب
کی شکل میں
اور کبھی اپنی
مخصوص شکل
میں مجھے ایک
پلیٹ میں دودھ
اور شہد پیش
کرتے تھے ۔یہ
معمول پورا
ایک ماہ جاری
رہا اس سے مجھے
توا نائی حاصل
ہوتی تھی اور
ایک عجیب و
غریب لذت اور
حلاوت بھی
ملتی تھی ۔
حضور پیر سید
رسول شاہ خاکی
صاحبنے خود
اِس ہی طرح
کا ایک واقعہ
بیان کیا کہ
پیر صاحبجناب
لال بادشاہ
مری والی سرکار
کے گہرے دوست
اور ہم عصر
تھے۔ جناب
پیر صاحب فرماتے
ہیں ،کہ ہم
پانچ درویش
ہوتے تھے جب
ہمیں بھوک
لگتی تھی تو
ہم جنا ب لال
بادشاہ کی
طرف اشارہ
کرتے وہ ہاتھ
اُوپر اٹھاتے
آسمان سے طشتری
آتی اُس میں
مختلف اقسام
کے کھانے ہوتے
وہ ہم کھاتے
بعد میں خالی
طشتری جناب
شاہ صاحب ہوا
میں اُچھال
دیتے وہ غائب
ہوجاتی۔
ا للہ تعا لیٰ
اپنے فقیر
بندوں اور
صالحین کو
طرح طرح سے
اپنی قدرت
کے نظارے کرواتا
ہے وہ چاہے
تو بغیر باپ
کے کسی کو پیدا
کر دے چاہے
تو ہزاروں
من آگ میں اپنے
ابراھیم کا
بال بھی نہ
جلنے دے۔چاہے
تو موسٰی کی
قوم کو آسمان
سے من وسلوٰی
عطا فرمائے
یہ اُس کی قدرتیں
ہیں آج بھی
اپنے بندوں
کے ساتھ ایسے
معاملات وہ
فرماتا رہتا
ہے اور فرماتا
رہے گا۔ اللہ
کی قدرت میں
دوام ہے،ہمیشگی
ہے،وہ زبردست
مملکت والاہے
ہاں اُس کا
ہو نے کی دیر
ہے جو دل میں
سوچو وہ ہی
ہو گاجیسا
کہ علامہ اقبال
نے فرمایا
۔
خودی کو کر
بلند اتنا
کہ ہر تقدیر
سے پہلے
خُدابندے سے
خود پوچھے
بتا تیری رضاکیا
ہے
گھڑیا ل زور
زور سے خود
بخود ہلنے
لگا
راجہ عزیز
الرحمن خان
صاحب فرماتے
ہیںایک رات
میں اپنے اہل
خانہ کے ہمراہ
اپنے گھر سویا
ہو ا تھا کافی
رات گزر گئی
تھی۔ ایک چو
ر ہمارے گھر
میں داخل ہوا
ہمارے گھرکی
دیوار کے ساتھ
ایک گھڑ یال
لگاہوا تھا۔
اُس گھڑیال
نے زور زور
سے دیوار کے
ساتھ ٹکرانا
شروع کر دیا۔اُس
کی آواز سے
میری نو سالہ
نواسی کی آنکھ
کھل گئی اُس
نے اپنے ماموں
آصف کو جگا
یا۔ اس با ت
کا پتہ چور
کوبھی چل گیا
وہ بھاگ نکلا۔
میرے بیٹے
نے اُسے گلے
سے پکڑنے کی
کوشش کی مگر
وہ طاقت ور
تھا چھڑاکر
دیوار پھلانگ
کر باہر چلا
گیا ۔یہ جناب
پیر صاحب کی
نگاہِ کرم
تھی کہ ہمارا
کوئی نقصان
نہیں ہوااور
خصوصاًکھڑیال
کا ازخود زورزورسے
ہلنا یقیناً
سرکارکی خاص
نگاہ کرم کا
اثر تھا۔
قبل ازوقت
خطرات سے آگاہی!
جب جناب خا
کی شاہ سرکار
مدینہ منورہ
تشریف لائے
تو میں بھی
اس وقت مدینے
میں ہی تھا
۔اپنے روز
گا ر کے سلسلے
میں ایک دن
مجھے جناب
پیر صاحب نے
فرمایا عزیز
الرحمن جن
پاکستانی لوگوں
سے آپ کا واسطہ
پڑتا ہے وہ
اچھے لوگ نہیں
ہیں۔ اُن سے
بچ کے رہنا
کہیں وہ آپ
کو پریشان
نہ کریں ۔میں
نے عرض کی حضور
ٹھیک ہے میں
احتیاط کروں
گا۔ کچھ عرصہ
گزرا، ایک
پاکستانی جس
نے ایمیگریشن
والوں سے مل
کر غلط ویزے
لئے ہوے تھے
اورکچھ لوگ
پاکستان سے
نئے نئے گئے
تھے۔ اُس نے
سب کو پکڑ وا
دیا اب اس شخص
کی میرے ساتھ
بھی نہیں بنتی
تھی اُس نے
پاکستانیوں
سے کہا کہ تم
عزیز کا نام
لومیں تمہیں
چھڑوادوں گا۔(کہ
عزیز بھی غلط
کاغذات سے
یہاں آیا ہے)
۔انہوں نے
ایساہی کیا
پولیس والوں
نے مجھے پکڑ
لیا۔ سرکار
عمرہ ادا کر
کے واپس تشریف
لا چکے تھے
میں نے جنا
ب کی خدمت میں
خط لکھا اورسارا
ما جرا بیان
کر دیا۔ سرکار
نے جواباً
لکھا کہ ہم
نے تمہیں پہلے
ہی بتا دیا
تھا۔الغرض
میںدس ماہ
تک زیر حراست
رہا پھر اُن
آدمیوں میں
سے ہی ایک آدمی
نے پولیس والوں
کو اصل صورتِ
حال سے آگاہ
کیا اور بتایا
کہ عزیز الرحمن
کا کوئی قصور
نہیںہے۔ فلا
ں آدمی کے کہنے
پر ہم نے اس
کا نام لیا
تھا اس طرح
پھر مجھے جیل
سے رہائی ملی
اور جس با ت
کا اظہا ر پیر
صاحب نے پہلے
فرمایا تھا
وہ بات پوری
ہوکر رہی۔
پیر صاحب کی
نگاہِ کرم
سے مدنیہ منورہ
حاضری!
راجہ عزیز
الرحمن خان
صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دن میرے دل
میں خیال آیا
کہ اگر مجھے
مدینہ منورہ
میں نوکری
مل جائے تو
کیا بات ہے
اس وقت میں
پی اے ایف مُرید
بیس پر ملازم
تھا۔ سارا
دن یہ بات میرے
ذہن میں گھومتی
رہی اور ساتھ
ہی ساتھ یہ
نعت زبان پررہی
،
سارے جگ توں
نرالیاں نیں
مدینے دیاں
گلیاں
اک وا رویکھادے
مولا مدنی
سرکار دیاں
گلیاں
جب میں چھٹی
کر کے دربار
شریف میں حاضرِ
خدمت ہوا تو
قربا ن جائیں
ہر وقت اپنی
نگاہوں میں
رکھنے والے
مرشدِ پاک
فرمانے لگے
آج سارا دن
کیا گنگناتے
رہے ہو۔ میں
حیران ہو گیا
کہ سرکار کو
کیسے پتہ چل
گیا ہے۔ میں
نے دن والا
شعر سرکار
کے پوچھنے
پر سُنایا
تو سرکا ر مُسکرائے
اور فرمایا
یہ کا م بھی
ہو جائے گا
۔کچھ دنو ں
بعد ایک کمپنی
میں ٹیسٹ دیااُنہوں
نے مجھے بغداد
شریف کیلئے
سیلیکٹ کر
لیا۔ میں بڑا
خوش ہوا کہ
حضور غوث الثقلین
کے قدمین شریفین
میں حاضری
نصیب ہوگی
اور روز گار
بھی مل جائے
گا۔ اُن دنوں
ایران عراق
کی جنگ نہیں
ہوئی تھی عراق
کی کرنسی بڑی
مضبوط تھی
تنخوا وغیرہ
بھی اچھی بن
جاتی تھی۔
میں نے سوچا
کہ چلو بعد
میں مدینہ
شریف کی بھی
حاضری ہوجائے
گی اُس کمپنی
کا آفس کراچی
میں تھا۔میں
مُقررہ تاریخ
پر کراچی گیا
رابطہ کرنے
پر پتہ چلا
کہ اُنہوں
نے کوئی سفارشی
میری جگہ رکھ
لیا ہے۔
میں نے وہاں
سے سرکار کو
چکوال خط لکھا
جناب نے حُکم
فرمایا کہ
عمرہ کا ویزہ
لگوا کر مدینہ
چلے جا ؤ آگے
سارا بندو
بست ہو جائے
گا میں نے ایسا
ہی کیااور
مدینہ پاک
چلا گیا۔ جدہ
میں نوکری
ملتی تھی میری
خواہش تھی
کہ مدینہ میں
نوکری مل جائے۔
دوسری پریشانی
یہ تھی کہ عمرے
کا ویزہ بھی
ختم ہونے والا
تھا۔ میں نے
پھر جناب کی
خدمت میں خط
لکھا سرکار
نے جواب میں
لکھا کہ تاجدارکائنات
کے قدموں کی
جانب بیٹھ
کر ربِ کریم
کے حضور سجدہ
کرو اور اپنا
مقصد دل میں
رکھو، سر اُٹھانے
سے پہلے تمہارا
کام ہو جا ئے
گا۔ جوںہی
خط ملا میں
نے حُکم کی
تعمیل کی حضور
کے قدموں میںبارگاہِ
الٰہی میں
سجدہ کیا جب
مسجدِنبوی
سے باہر جانے
لگا توایک
واقف آدمی
ملا اُس نے
کہا کہ مدینہ
منورہ کی بلدیہ
میں بھرتی
ہو رہی ہے۔
آپ بھی کوشش
کریں میں فوراً
بلدیہ کے دفتر
گیا دیکھا
کہ بہت سے پاکستانی
لائن میں لگے
ہو ئے تھے۔
میں نے وہا
ں پر موجود
ایک اردنی
انجینیرسے
بات کی جوانگریزی
بولتا تھا
اُس کو میں
نے اپنے سرٹیفکیٹ
دکھائے وہ
میرے کاغذات
لے کر دفترکے
اندرچلاگیا۔
تھوڑی دیرکے
بعدوہ واپس
آیا اُس نے
مجھے اپوانٹمنٹ
لیٹر دیدیا
میں حیران
ہو گیا ساتھ
ہی یہ بات بھی
عرض کرتا چلوںکہ
سرکار نے اپنے
خط میں یہ بھی
لکھا تھا کہ
اس خط کا جواب
دینے سے پہلے
تمہارا کام
ہو جائے گا
تاجدارِمدینہ
کا الوداع
فرمانا!
اللہ تعالی
قرآ ن مجید
میں فرماتے
ہیں کہ(وَفِیْکُمْ
رَسُوْلُ اللّٰہِ)
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسول تو تمہارے
اندر موجود
ہیں ۔ رسول
نبی اکرم کی
ذات گرامی
نے ظاہری طور
پر پردہ فرمایا
ہے مگر باطنی
طور پر آپ اپنی
امت میں موجود
ہیں اورقیامت
کے بعد بھی
موجود رہیں
گے۔ جیسا کہ
پہلے بیان
ہو چکا ہے کہ
امام بری سرکار
اپنی قبر کے
باہر عرس پر
موجود تھے
اور حضور پیر
سید رسول شاہ
خاکی فرماتے
تھے کہ میں
حضورپیر مہر
علی شاہ صاحب
کی قبر پر حاضری
دیتاتھا تو
حضور پیر مہر
علی شاہ صاحباپنی
قبر مبارکہ
سے باہر تشریف
لے آتے اور
میں ان سے گفتگو
کرتا مزید
اوپر بیان
کردہ قرآن
کریم کی آیت
بھی گواہ ہے
کہ رسول ہمارے
اندر موجود
ہیں۔روحانی
طور پر آج بھی
اپنے عاشقوں
کوبذریعہ خواب
اورظاہر میں
راہنمائی فرماتے
ہیں ۔لیکن
یہ نظارہ وہ
آنکھ کر سکتی
ہے جو سرکار
مدینہ کے دیدار
کیلئے دن رات
ترستی ہے اور
سوائے رخ رسول
کے کسی اور
طرف دیکھنا
ساری عمر روا
نہ سمجھے یہ
نظارہ آج بھی
اُن آنکھوں
کیلئے موجودہے۔
مگر پہلے وہ
جسم اقدس ہر
کوئی دیکھ
سکتا تھا ابو
بکر بھی اور
ابو لہب بھی
،پھراللہ نے
وہ جسم پاک
اٹھا کر گنبد
خضریٰ میںرکھ
دیا ۔صدیق
اکبر والی
آنکھ ہو تو
آج بھی نظر
آتے ہیںاور
اگر ابو لہب
والی آنکھ
ہو تو نظر نہیں
آتے یہ تو آنکھ
آنکھ کی بات
ہے۔ ایسی ہی
آنکھ کے حامل
جناب سید خاکی
شاہ سرکارتھے۔جن
کے سامنے کوئی
حجاب نہ تھاوہ
ہر وقت انہیں
کے جلووں میں
رہتے تھے ۔تو
جب جناب پیر
صاحب مدینہ
عالیہ تشریف
لے گئے تو عزیز
الرحمن صاحب
فرماتے ہیں
کہ میری خوش
قسمتی کہ میں
بھی ان دنوں
مدینہ عالیہ
میں موجود
تھا۔حضور پیر
صاحب کی معیت
میںکافی وقت
سرکار مدینہ
کے قدموں میںگزارا
۔مجھے ظاہری
باطنی بہت
سی نعمتوں
سے مستفید
ہونے کا موقع
ملا۔جناب پیر
صاحب کی وہاں
بھی شان دیکھی۔
میرا دل چاہتا
تھا کہ معلوم
ہوپیر صاحب
کا مقام بارگاہ
رسالت ماب
میں کیا ہے
اور سرکار
اپنی اولاد
سے کس قدر شفقت
فرماتے ہیں
۔یہ واقعہ
کچھ اس طرح
ہے کہ( پیر صاحب
جب عمرہ کرکے
مدینہ شریف
سے واپس جدہ
تشریف لے جانے
لگے جہاںسے
واپس پاکستان
آجانا تھا)جب
مدینہ پاک
سے پیر صاحب
الوداع ہونے
لگے تو پیر
صاحب اچانک
کار میں بیٹھتے
ہی باہر نکل
آئے اور کارکا
دروازہ پکڑ
کر سر جھکاے
کھڑے ہو گئے
۔ کافی دیر
ایسی حالت
میں سرتاپاا
دب بن کر کھڑے
رہے پھر کار
میں بیٹھے
اورڈرائیور
سے کہا میاں
چلو۔میں بھی
پیر صاحب کا
ہمنوا تھا
۔جدہ پہنچنے
پر رات کو حسب
معمول میںنے
سرکار کو دبانا
شروع کیا تو
میںنے بڑے
ادب سے آہستہ
سے پوچھا کہ
سرکارآپ اچانک
کار سے نکلے
کھڑ ے رہے اور
پھر چل پڑے
یہ کیا ماجرہ
تھا؟ پیر صاحب
کا جواب سن
کر میں سرا
پا حیرت میں
ڈوب گیا جب
پیر صاحب نے
فرمایاکہ سامنے
حضور تھے اورآپ
خود الوداع
فرمانے آئے
تھے ۔اس واقعہ
سے یہ بات آسانی
سے سمجھی جاسکتی
ہے کہ حضور
پیر صاحب کاکیا
مقام ہے اور
حضور کی بارگاہ
میں پیر صاحب
کی کیا مقبولیت
ہے۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>