بھولے
کو راہ دکھانا
!
ایک دفعہ میں
ڈھوک کھبہ
راولپنڈی پیر
لال حسین شاہ
صاحب کے پاس
گیا ۔ان کے
پاس کوئی شاہ
صاحب بیٹھے
تھے وہ بھی
بزرگ آدمی
تھے ۔ جناب
خاکی شاہ سرکار
کا تبصرہ ہوا
تو وہ مجھ سے
فرمانے لگے
کہ صاحب یہاں
ہی رات ٹھہر
جائیں صبح
مل کر چلیں
گے میں نے بھی
خاکی شاہ سرکار
کی زیارت کے
لئے جانا ہے۔صبح
ہوئی تو انہوں
نے مجھ سے کہا
کہ آپ چلیں
جائیں مجھے
راستہ سمجھادیں
میں بھولوں
گا نہیں خود
ہی آ جاؤں گامیں
نے راستہ سمجھا
دیا اور خود
ڈیوٹی پر آگیا
چھٹی کے بعد
سرکار کی خدمت
عالیہ میں
حاضر ہوا تو
سرکار نے مجھے
فرمایا کہ
ایک شاہ صاحب
راولپنڈی سے
آ رہے تھے لیکن
وہ بھول کر
آگے تلہ گنگ
چلے گئے ہیں
تم یہیںرہووہ
تھوڑی دیر
تک آ جاتے ہیں۔
تھوڑی دیر
بعد شاہ صاحب
آگئے سوچنے
کی بات یہ ہے
اور یہ اکژ
اوقات ہوتا
تھا کہ جو بھی
کوئی سرکار
کی زیارت کے
لئے گھر سے
چلتا تھا سرکار
کو تمام اس
کے حال کی خبر
ہوتی جسطرح
شاہ صاحب پنڈی
سے چلے اور
بھول گئے جناب
کو سب پتہ چل
رہا تھااس
واقعہ کیساتھ
ایک حدیث قدسی
کا حوالہ دینا
چاہوں گا کہ
جس میںاﷲ تعالیٰ
فرماتے ہیں۔میں
بندے کی آنکھ
بن جاتا ہوں
جس سے وہ دیکھتا
ہے ۔ جب بندہ
اﷲ کی آنکھ
سے دیکھتا
ہے تو اس بندے
سے کیا پردہ
باقی رہ جاتا
ہے وہ جدھر
بھی نظر کرتا
ہے وہ ہر چیز
کو اپنے سامنے
پاتا ہے خواہ
دور ہو یا نزدیک
۔کئی دفعہ
ایسا ہوا کہ
کئی مرید بیرون
ملک سے آتے
تھے اوروہاں
کے شہروں کی
اور دیگر چیزوں
کی باتیں کرتے
تھے اور پیر
صاحب اس سے
شریک گفتگو
ہوتے تھے جیساکہ
پیر صاحب بھی
اُسی آدمی
کے ساتھ رہ
کر آئے ہوں۔
بات کرنے والا
آدمی حیران
ہو جاتا تھا
کہ جناب کو
کیسے وہاں
کی چیزوں کی
خبر ہے ۔
نگاہ دور تک
دیکھ لیتی
تھی !
راجہ عزیز
الرحمن خان
صاحب فرماتے
ہیںایک دفعہ
معمول کے مطابق
جناب کی خدمت
میں حاضر تھادربار
عالیہ میں
محفل ذکر منعقد
تھی میرا ارادہ
یہی تھا کہ
محفل کے بعد
یہاں ہی قیام
کروں گا اور
صبح یہاں سے
ڈیوٹی پر آؤں
گا۔ جونہی
محفل ختم ہوئی
لنگر تقسیم
ہوا سرکار
نے مجھے آواز
دی اور فرمایا
کہ صاحب گھر
چلیں جائیں
۔ میں نے عرض
کی کہ حضور
میں یہاں سے
ہی صبح ڈیوٹی
پر چلا جاؤں
گا ۔ جناب نے
کہا کہ جلدی
سے گھر پہنچواس
بات پر مجھے
اندیشہ ہوا
کہ ضرور کوئی
بات ہے۔میں
گھر پہنچا(میری
رہائش اس وقت
چکوال میں
تھی ) تو پتہ
چلا کہ میری
چھوٹی بچی
جوکہ پانچ
سال کی تھی
کنویں میں
گر گئی تھی
۔ کنواں تنگ
سا تھا اور
بہت گہرا تھا
سرکار ہی کی
نظر تھی کہ
بچی صحیح سلامت
نکال لی گئی
تھی بچی کو
کوئی چوٹ بھی
نہیں آئی اور
نہ ہی کسی قسم
کا کوئی نقصان
ہوا اور بچی
ہوش میں بھی
تھی پڑوسیوں
نے میرے جانے
سے پہلے اسے
نکال لیا تھا
۔ دوسرے دن
جب میں دربار
شریف پہنچا
میں نے ساری
بات بتائی
سرکار نے مسکرا
کر فرمایا
آپ کے جانے
سے پہلے ہی
بچی کولوگوںنے
نکال لیا ہو
گا ۔دیکھیں
کس طرح پل پل
کی خبر سر کار
کو تھی کہ محفل
میں بھی حاضر
تھے ، محفل
کروا رہے تھے
اورنگاہ بصیرت
کیا کچھ دیکھ
رہی تھی۔ فقیر
کی پھر حالت
یہ ہو تی ہے
۔
حکومتوں کا
کنٹرول پیر
صاحب کے ہاتھ
میں !
ایک دفعہ پیر
صاحب گفتگو
فرما رہے تھے
تو آپ نے فرمایا
میاں سوائے
مکہ اور مدینہ
عالیہ کی حکومتوں
کے دنیا کی
ساری حکومتیں
یعنی حکمران
تبدیل کرنا
فقیر کی چٹکی
کی ایک بات
ہوتی ہے مکہ
اور مدینہ
کے حکمران
خودحضورنبی
اکرم تبدیل
فرماتے ہیں۔
پھر پیر صاحب
نے فرمایا
کہ یہ ووٹ وغیرہ
سب بکواس ہوتا
ہے فقیر جس
کو چاہے ،آگے
لے آئے یہ سارے
کام تو اللہ
کے ہاتھ میں
ہے۔بلا شبہ
اللہ کے ہاتھ
میں ہیںلیکن
اللہ ہی نے
اپنے فقراء
کی ڈیوٹی لگائی
ہوتی ہے۔ جسطرح
وزیراعظم کے
ہاتھ میں ملک
کی بھاگ دوڑ
ہوتی ہے ملک
میں کوئی بھی
ایسا فتنہ
فساد یا مسئلہ
کھڑا ہو جائے
تو وزیراعظم
پر ہی حرف آتا
ہے۔ لیکن سب
سے پہلے اسی
متعلقہ محکمے
کا وزیر۔ سیکرٹری
۔ اور دیگر
افسران ذمہ
دار ہوتے ہیں
۔اور ایسے
لاکھوں مسائل
ہیں جو ملک
میں عام حالت
میں چل رہے
ہیں ہر محکمے
کا اپنا اپنا
نظام ہے کمانڈ
ر شپ ہے۔
غرضیکہ اس
طرح پوری دنیا
میںایک نظام
ہے جس سے دنیا
کا نظام کنڑول
ہو رہا ہے۔
کسی وزیر کا
، سیکریرٹری
کا کسی بالائی
آفسر کا اپنے
محکمے میں
خود مختار
ہونا ، کمانڈ
کرنا اپنے
محکمے میں
معاملات چلا
نا وزیر اعظم
کے معاملات
میں دخل نہیں
ہے بلکہ وزیر
اعظم کیطرف
سے تفو یض شدہ
اختیارات کا
احسن استعمال
خود وزیر اعظم
کی خوشنودی
کا باعث ہے
۔با لکل اسی
طرح اللہ پاک
ہی کے ہاتھ
میں سارا نظام
عالم ہے لیکن
اسی نے مینہ
برسانے والے
فرشتے مقرر
کے رکھے ہیں۔
گناہ ثواب
لکھنے والے
فرشتے بھی
ہیںاوروہ فرشتے
بھی ہیں جنکو
سیّاحین کہا
گیا جو دنیا
میں ہونے والی
اللہ کی یادکی
محفلوں کی
تمام روداد
بشمول ان افراد
کے ناموں کے
جو اس میں شامل
تھے بارگاہ
الٰہی میں
پیش کرتے ہیں
درانحالیکہ
اللہ ان تمام
امور پر مطلع
ہے۔ اسی طرح
دنیا وی نظام
میں اسی نے
اپنے فقیر
مقرر کررکھے
ہیں جس سے وہ
اپنا نظام
چلاتا ہے۔
اس میں کوئی
شک نہیں ہے
کہ اللہ دنیا
کا واحد حاکم
ہے اس کی اجازت
کے بغیر ایک
پتہ بھی نہیں
حرکت کر سکتا
۔ لیکن اس نے
ہی اپنے قرب
یا فتہ بندوں
کی ڈیوٹی لگائی
ہوئی ہے اور
ایسا عین فطرت
الہٰیہ کیمطابق
ہے۔ اِن مثالوں
سے یہ سمجھانا
مقصود تھا
کہ ایسی بات
پڑھ کر دل میں
یہ بات نہ آ
جائے کہ یہ
تو اللہ کے
کام ہیں فقیرلوگ
درمیان میں
کیسے آگئے
۔ فقیر ایسے
ہی آگئے جیسا
کہ دنیا وی
نظام میں نیچے
ساری چھوٹی
کمانڈشپ ہیں
اور پوری دنیا
کا نظام احسن
طریقے سے چل
رہا ہے ہمارے
ملک میں نیا
رائج شدہ بلدیاتی
نطام اسکی
ایک احسن مثال
ہے جبکہ اصل
میںکمانڈ ملک
کے وزیر اعظم
یا صدر کے پاس
ہوتی ہے۔
دینا میں جو
بھی ہے مجاز
ہے اور حقیقت
اللہ کے پاس
ہے اِس دنیا
میں اللہ نے
مجاز رکھا۔
مجاز سے حقیقت
کو پانا بقول
حضرت بابا
فریدالدین
گنج شکر اللہ
کے رازوں میں
سے ایک راز
ہے۔ بے نظیر
جب پہلی بار
وزیر اعظم
بنی تو حضور
پیر صاحب نے
فرمایاتھا
میاں اس کو
ہم 3سال دیتے
ہیں وہی ہوا
کہ لگ بھگ اتنے
عرصے میں اسی
کی خدمت ختم
ہو گئی۔ اِسی
طرح ایک دفعہ
وزیراعظم محمد
نواز شریف
کی حکومت تھی۔
عزیزالرحمن
صاحب فرماتے
ہیںکہ میں
جناب پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر تھا اچا
نک پیر صاحب
نے مجھے لکھنے
کا حکم فرمایا
سرکار بولتے
گئے میں لکھتا
گیا ۔ پورا
پرچہ جس طرح
پیر صاحب نے
فرما یا میںنے
اسی طرح لکھ
دیا۔ آخر میں
پیر صاحب نے
فرمایا کہ
لکھو"بحکم
مرد قلندر"اور
فرمایا کہ
پنڈی جا کر
اس کی فوٹو
کا پیاں کروا
کر مختلف جگہ
پر دیواروں
پر لگا دو ۔
ساتھ ہی پیر
صاحب نے فرمایا
کہ جب آپ راولپنڈی
جائیں گے تو
ایک مجذوب
لیاقت باغ
کے قریب نالہ
لئی کے پُل
پر بیٹھا ہو
گا ۔ اس کو دھکا
دے کر نالے
میں پھنک دینا
۔ اس مجذوب
نے مجھے دور
سے آتے ہوئے
دیکھا تو وہ
بھاگ گیا ۔
اس واقعہ کی
حقیقت تو پیر
صاحب ہی بہتر
جانتے ہیں
کہ اس میں حکمت
کیا تھی۔بہر
حال جو عبارت
دیواروں پر
فوٹو کاپی
کرواکر لگائی
تھی ٹھیک اس
کے دو ہفتے
بعد نوازشریف
حکومت ختم
ہو گئی اوریہی
بات پیر صاحب
نے لکھوائی
تھی۔
امامت کا مسلئہ!
جب میں مدینہ
شریف میں تھا
۔ کچھ لوگ مسجدِ
نبوی کے امام
کے پیچھے نمازنہیں
پڑھتے تھے
۔چونکہ وہاںکے
امام صاحب
اہلِ حدیث
مکتبہ فکر
سے تعلق رکھتے
ہیں۔ جب کبھی
عام زندگی
میں کسی اہل
حدیث سے واسطہ
پڑتا تو اُن
کے عقائد صریحاً
گستاخیِ رسول
گستاخیِ اہلِ
بیعت اور انکارِ
ولایت پر مبنی
نظر آتے تودِ
ل کو بڑا رنج
ہوتا ۔ اس خیا
ل سے مسجد نبوی
کے امام صاحب
کے پیچھے نماز
پڑھنے کو دِ
ل نہیں چاہتا
تھا۔ میں نے
مدینہ شریف
سے پیر صاحب
کی خدمت میں
خط لکھا۔ اور
اس بارے میں
رائے مانگی
کہ میں اپنی
نماز اکیلے
پڑھ لیاکروں
یا باجماعت
پڑھ لیا کروں۔
جس دِن خط میں
نے بھیجا اسی
رات پیر صاحب
کی خواب میں
زیارت ہوئی
۔ زیارت اِس
حالت میں ہوئی
کہ جناب مسجد
نبوی میں خود
جماعت کروا
رہے ہیں اور
میں پیچھے
نماز پڑھ رہا
ہوں ۔ کچھ دِنو
ں کے بعد پیر
صاحب کاجواب
موصول ہوا
آپ نے جواب
میں لکھا تھا
کہ خط ملنے
سے پہلے آپ
کو جواب تو
مل چکا ہو گا۔
خط بھیجتے
وقت ہی خواب
میں پیر صاحب
نے منظر تو
دکھلا دیا
تھا پیر صاحب
نے جواب میں
لکھا کہ وہاں
تا جدارِ کائنات
موجود ہیں
۔ ان کے کہنے
پر امام صاحب
جماعت کرواتے
ہیں یہی تصور
کیا کرو کہ
جناب خود جماعت
کروا رہے ہیں
اور نماز جماعت
کے ساتھ ہی
پڑھا کرو!
ٰایمان افروز
خواب!
ایک دفعہ میں
مسجد نبوی
میں عشاء کے
بعد باب عمر
کے قریب بیٹھا
تسبیح کر رہا
تھا ۔ ان دِنو
ں پیر صاحب
بھی عمرہ کے
لیے مدینہ
میں ہی تشریف
رکھتے تھے۔
مجھے تسبیح
پڑھتے پڑ ھتے
اونگھ آ گئی
۔ خواب میں
دیکھا کہ حضور
پیر صاحب مسکراتے
ہوے میرے قریب
آ رہے ہیں میں
نے خواب میں
ہی اُٹھ کر
قدم بوسی کی۔
قدم بوسی کے
بعد آپ اچانک
نظروں سے اوجھل
ہو گئے ۔ میری
اونگھ ختم
ہو گئی میں
تسبیحات سے
فارغ ہو کر
پیر صاحب کی
خدمت میں حاضرہوا
اور خواب بیان
کیا پیر صاحب
فرمانے لگے
وہ میں نہیں
تھا حضرت خواجہ
خضر تھے۔
جناب غوث جیلانی
کی بشارت!
جناب عزیز
الرحمن صاحب
فر ماتے ہیں
کہ جن دنوں
میں مرید بیس
پر تعینات
تھا۔ ایک دفعہ
رات کو میں
بجائے گھر
جانے آستانہ
عالیہ پر ہی
سوگیا۔ کہ
یہاں سے ہی
صبح ڈیوٹی
پر چلا جاؤں
گا ۔ یہ وہی
مبارک رات
تھی جس رات
حضرت سید رسول
شاہ خاکی سرکار
کے فیض کے امین
اور اپنے جداامجد
کے فیض کے امین
جناب غوث پاک
کے نورِ نظر
حضر ت پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
کی ولادت باسعادت
ہوئی۔ صبح
نماز فجر کے
بعد جب سرکار
خاکی شاہ صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوا تو
سرکار نے فرمایا
کہ آج رات حضور
سید نا غوث
الثقلین تشریف
لائے تھے اور
خبر دے کر گئے
ہیں کہ آپ کے
پاس محمو د
الحسن آرہے
ہیں ۔ اسی رات
جناب پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
کی ولادت باسعادت
ہوئی تھی۔
جناب مسکین
شاہ صاحب کا
واقعہ!
مدینہ طیبہ
میں ایک بزرگ
مسکین شاہ
صاحب ہیں (جو
تادم تحریرحیات
ہیں ) آبائی
طور پر کشمیر
کے رہنے والے
ہیں بڑی مدت
ہوئی پیدل
مدینہ شریف
گئے تھے اور
ابھی تک روضہ
رسول کے سایہ
پر نور میں
رہ رہے ہیں۔
وہاں وہ مسجد
نبوی شریف
میں کام وغیرہ
بھی کرتے تھے۔
پیر صاحب وہاں
دوران عمرہ
اُن سے ملے
۔ انھوں نے
پیر صاحب کی
بڑی خدمت کی
پیر صاحب ان
سے بہت خوش
تھے۔ پیر صاحب
نے ایک دفعہ
شاہ صاحب سے
کہا کہ صاحب
کبھی پاکستا
ن (چکوال ) تشریف
لائیںآپ نے
ہمارا بڑا
خیال رکھا
ہے ہمیں خوشی
ہو گی کہ ہم
آپ کی خدمت
کریں ۔ شاہ
صاحب نے فرمایا
کہ میں جو خدمت
یہاں کر رہا
ہوں یہاں ہی
ٹھیک ہوں میرا
پاکستان جانا
مناسب نہیں
یہاں ہی سرکار
کی طرف سے ڈیوٹی
لگی ہے جسے
میں پورا کر
رہاہوں۔ شاہ
صاحب نے فر
مایا کہ ہمارا
یہاں کلہ ٹھکا
ہوا ہے ۔ پیر
صاحب نے اس
بات کو فقیری
انداز میں
محسوس کیا
۔ پیر صاحب
عمرہ ادا کرنے
کے بعد واپس
پاکستان تشریف
لے آئے کچھ
عرصہ کے بعد
کوئی ایسا
مسئلہ ہو اکہ
شاہ صاحب کو
وہاں کی انتظامیہ
نے نکال دیا
اور انھیں
پاکستان بھیج
دیا۔ جب شاہ
صاحب کراچی
پہنچے تو وہاں
بر یگیڈیر
اسلم صاحب
کے ہاں قیام
کیااسلم صاحب
پپر صاحب کے
ملنے والے
تھے ۔ اسلم
صاحب نے پیر
صاحب سے ملاقات
پر بتایا کہ
شاہ صاحب تو
میرے پاس کراچی
تشریف رکھتے
ہیں ۔ پیر صاحب
یہ بات سن کر
مسکرائے اور
فر مانے لگے
کہ شاہ صاحب
کا تو مدینہ
میں کلہ ٹھکا
ہوا تھا وہ
کیسے پاکستان
آگئے ۔ شاہ
صاحب پاکستان
میںاور بھی
آستانوں پر
گئے اور اپنا
مدعا بیان
کیامگر شنوائی
نہ ہوئی۔ یعنی
یہ بات کہ کسی
طریقے سے میں
واپس پھر مدینہ
شریف چلا جاؤں
جبکہ اصل بات
پیر صاحب کے
ہاتھ میں تھی
اور بھلا کوئی
اس کیس کو کیسے
ڈیل کر سکتا
تھا ۔
راجہ عزیزالرحمن
صاحب فرماتے
ہیںکہ میں
بھی کراچی
میں شاہ صاحب
سے ملا اور
عرض کی کہ آپ
نے تو پاکستان
نہیں آنا تھا
آپ کیسے تشریف
لائے ۔ شاہ
صاحب نے فر
مایا کہ پیر
صاحب نے ہی
آنے کا کہا
تھامیں تو
انکار ی تھا
یہ سارا کام
انھوں نے ہی
کیا ہے انھوں
نے ہی بلوایا
ہے۔ ورنہ میرا
تو ارادہ کبھی
بھی نہیں تھا۔
پھر شاہ صاحب
کو جب صورت
حال کا صحیح
ادارک ہو اکہ
اصل میں پیر
صاحب کا ہی
یہ کام ہے اور
جب میں نے کہا
تھا کہ کلہ
ٹھکا ہوا تو
پیر صاحب نے
یہ بات پسند
نہیں فرمائی
تھی۔ پیر صاحب
کو بھی ایک
نسبت تھی جناب
تاجدار کائنات
سے۔ انھوں
نے پھر دل میں
کہا کہ چلو
دیکھ لیتے
ہیں کہ شاہ
صاحب پاکستان
آتے ہیں کہ
نہیں۔ پھر
شاہ صاحب پیر
صاحب کی خدمت
میں حاضر ہوئے
پیر صاحب کے
قدموں میں
گر پڑے اور
معافی چاہی
۔عرض کی کہ
سرکار واپس
مدینہ عالیہ
بھجوا دیں
۔ آپ شہنشاہ
ہیں معاف فر
ما دیں ۔ پیر
صاحب نے فر
مایا پہلے
اپنے گھر جاؤ
بڑا عرصہ ہو
گیا ہے آپ اپنے
گھر نہیں گئے
پھر مدینہ
شریف بھی چلے
جاؤ گے ۔ انھوں
نے حکم پر عمل
کیا کچھ عرصہ
رہنے کے بعد
مدینہ کے ویزہ
کیلئے کوشش
کی ۔ اجازت
مل گئی اورشاہ
صاحب مدینہ
واپس چلے گئے۔
تاحال وہاںہی
مقیم ہیں ۔پیر
صاحب نے فر
مایا کہ اب
شاہ صاحب آپ
نے عام لوگوں
سے میل جول
نہیں رکھنا
پردہ نشین
ہو کر رہنا
ہے ۔ ورنہ پھر
گڑ بڑ ہو جائے
گی یہ کامل
فقیر کی زبان
کی تا ثیر ہے
۔ جو بات بھی
زبان سے نکلتی
ہے تقدیر بن
جاتی ہے ۔ اللہ
تعالیٰ اپنے
بندے کے دل
میں آئی ہوئی
غیرت کو کبھی
رد نہیں فر
مائے ۔
گم شدہ بچے
کا اچانک گھر
آجانا !
راجہ عزیز
الرحمن صاحب
فرماتے ہیںکہ
ایک دفعہ با
با قادری نے
مجھے بتایا
کہ بمبئی میں
تین بزرگ تھے
۔ ان میں ایک
جناب پیر صاحب
تھے جبکہ دوسرے
دو جناب بابا
زرین شاہ اور
تاج الدین
تھے ۔ تینوں
ایک جگہ بیٹھ
کر شام کو کڑھی
پکاتے تھے
ا ور پھر اکھٹے
بیٹھ کر کھاتے
تھے یہ ان کا
معمول تھا
۔ وہاں قریب
ہی آبادی میں
ایک عورت تھی
جوملواڑی ذات
تھی ۔ وہ اکثر
ان بزرگوں
کے پاس آتی
تھی ۔ اس کا
بچہ کافی عرصہ
سے گم تھا ۔
اس نے ایک دن
اپنے بچے کی
گم شدگی کا
ذکر کیا اور
دعا کے لئے
کہا ۔ بابا
تاج الدین
نے اس عورت
سے کہا کہ گھر
جاؤ جناب غوث
پاک کے نام
کی ایک دیگ
پکاؤ اور بچوں
اور غریبوں
میں تقسیم
کرو آپ کا بچہ
مل جائے گا
۔ اس نے حکم
کی تعمیل کی
مگر اس کا بچہ
واپس نہ آیا
۔ اس عورت کے
خاوند نے اپنی
عورت کوطعنہ
دیا کہ تیرے
بزرگ کیسے
ہیں دیگ بھی
پکائی ہے پھر
بھی بچہ نہیں
آیا ۔ عورت
بات سن کر پر
یشان ہوئی
اور خاوند
سے کہا کہ وہ
واقعی بزرگ
ہیں پتہ نہیں
پھر بچہ کیوں
نہیں آیا ایسا
کرو آج تم خود
جاؤ ، ان بزرگوں
سے عرض کرو
شاید بچہ آجائے
۔ اس ملواڑی
کو جب تاج الدین
نے آتے دیکھا
تو خاکی شاہ
سرکار سے عرض
کی کہ ملواڑی
آرہا ہے ۔ اس
سے خودہی بات
کر نا۔ جب ملواڑی
آیا اس نے آکر
کہا کہ میرا
بچہ ابھی تک
نہیں آیامیں
نے دیگ بھی
پکا کر تقسیم
کی ہے۔ پیر
صاحب کے ہاتھ
میں کڑھی کا
پیالہ تھا
وہی اس کے منہ
پر زور سے مارا
اور فر مایا
گھر جاؤ بچہ
آیا ہوا ہے
۔ کڑھی سے اسکے
سارے کپڑے
خراب ہو گئے
وہ غصے سے گھر
واپس آگیا۔
گھر پہنچتے
ہی وہ بیوی
سے سخت ناراض
ہوا کہ ان درویشوں
نے میرا کیا
حال کیا ہے۔
عورت نے کہا
اندر آکر دیکھو
تیرا بچہ ابھی
ابھی آگیا
ہے ۔ ملواڑی
جلدی جلدی
اندر گیا دیکھا
تو حیران رہ
گیا کہ بچہ
موجود تھا
۔ بچے کو بڑے
تپاک سے ملا
پوچھا کہ تم
اچانک کیسے
آگئے بچے نے
کہا کہ تین
بزرگ بیٹھے
کڑھی پی رہے
تھے۔ ایک نے
مجھے قریب
بلایا دوسرے
نے بازو سے
پکڑ کر ہوا
میں اچھال
دیا اور میں
گھر کے صحن
میں آکر گر
ا صحیح سلامت
بھی رہا ۔بابا
قادری فرماتے
ہیں اشارہ
با با تاج الدین
نے کیا تھا
اور بازو سے
جناب خا کی
سرکار نے پکڑکر
پھینکا تھا
۔ وہ ملواڑی
حیران رہ گیا
اور پھر جناب
کے قدموں میںہدیہ
تشکر لئے حاضر
ہوا ۔
نسبت کافیض
راجہ عزیزالرحمن
صاحب فر ماتے
ہیں کہ جب میں
سعودی عرب
گیا تو سنا
تھا کہ کعبہ
اللہ پر پہلی
نظر پڑے تو
جو مانگو مل
جاتا ہے یعنی
دعا پوری ہو
جاتی ہے ۔ جب
عاجز کی نگاہ
کعبہ پر پڑی
تو میں نے اپنے
مرشد کی محبت
اور نسبت کی
سلامتی کی
دعا کی تھی
۔ بعد میں کئی
ایسے مشکل
مسائل آئے
کہ مجھ جیسے
کمزور شخص
کے لئے ان سے
نکلنا انتہائی
مشکل ہی نہیں
بلکہ نا ممکن
تھا یہ صرف
اس نسبت کا
فیض تھا کہ
یہ مشکل آسان
ہو تی چلی گئی
۔ قدم قدم پر
پیر صاحب نے
اپنا ہونے
کا حساس دلایا
۔پیر صاحب
نے ایک دفعہ
بڑے خاص انداز
میں فر مایا
تھا کہ سارے
مرید ایک طرف
اورعزیز الرحمن
تم ایک طرف
اللہ تعالیٰ
سے دعا ہے کہ
یہ محبت دنیا
و آخرت میں
پکی اور قائم
و دائم رہے۔
٭٭٭٭٭٭
خلیفہ صوفی
عبدالخالق
صاحب (لاہور)
بدو سے ملاقات
خلیفہ صوفی
عبدالخالق
صاحب مولانا
نور محمد صاحب
(جوکہ حضور
پیر سید رسول
شاہ خاکی کے
خلیفہ اول
تھے) کے فرزندِ
رشید ہیں۔
اوائل میں
حضور پیرصاحب
اُنہی کے گھر
(لاہور ،کوٹ
لکھپت)میں
قیام فرمایا
کرتے تھے۔خلیفہ
صوفی عبدالخالق
صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ میں اور
میرے والدِ
بزرگوار حضور
پیر صاحب کی
خدمت میں حاضر
تھے۔پیر صاحب
نے فرمایا
کہ جب میں حج
پر گیا تووہاں
میری ایک بدو
سے ملاقات
ہوئی جنکی
زوجہ کے سر
میں ہر وقت
درد رہتا تھا۔
اُس بدو کو
خواب میں بشارت
دی گئی تھی
اور زیارت
بھی کروائی
گئی کہ اس دفعہ
حج پر پاکستان
سے سید رسول
شاہ خاکی نامی
ا یک بزرگ تشریف
لائیں گے اُن
سے اپنی بیوی
کودم کروانا
وہ صحت یاب
ہوجائے گی۔
حضور پیر صاحبنے
فرمایاجب میں
پہلی دفعہ
روضہ رسول
پر حاضری کے
لئے حاضر ہوا
تو جیسے ہی
میں دعا کر
کے واپس مُڑااُس
بدو نے مجھے
پکڑ لیااور
کہا کہ آپ ہی
کی مجھے خواب
میں زیارت
کروائی گئی
تھی۔ آپ میرے
ساتھ میرے
گھر تشریف
لے جائیں۔
آپ نے فرمایا
میں اُن کے
ساتھ چلاگیا۔اُن
کی زوجہ کومیں
نے دم کیا وہ
اُسی وقت ٹھیک
ہوگئی ۔ اُس
بدونے کہا
کہ آپ میرے
گھررہیں اور
کھانا تناول
فرمائیں۔ آپ
نے فرمایا
نہیں تم جتنا
جلدی ہوسکے
مجھے واپس
چھوڑ آؤ۔واپسی
پر جب ہماری
گاڑی جبلِ
نور کے پاس
سے گزری تو
میں نے اُسے
کہا یہاں گاڑی
روکو اُس بدونے
گاڑی روکدی۔
آپ نے فرمایا
میں نے اُس
بدو سے پوچھاکہ
اس پہاڑ کو
جبل نور کیوں
کہتے ہیں۔
اُس نے جواب
دیااِس وجہ
سے کہ یہاں
سرکارِ دوجہاں
تشریف فرماہوئے
تھے۔ میں نے
اُس سے کہا
کہ جس پہاڑ
پر حضور تشریف
فرماہوں اگر
وہ نور بن سکتا
ہے توکیا خود
حضور نور نہ
تھے۔اُس بدو
نے کہاواقعی
آپ نورہی ہیںاور
اُسی وقت بیعت
کرلی۔پیر قلندرسید
محمودالحسن
شاہ خاکی صاحب
نے بھی اپنی
ایک رُبائی
میں اسطرف
اشارہ فرمایا
ہے۔
درخت سے نوٹوں
کا جھڑنا
صوفی عبدالخالق
صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ پیر صاحب
نے فرمایا
کہ کشمیر میں
جب میں حالتِ
جذب میں ہوا
کرتا تھا ایک
دفعہ مجھے
بُخار ہوگیا۔
میرے پاس اتنی
رقم نہ تھی
کہ علاج کروا
سکوں۔میں ایک
بوڑھے بوڑھ
کے درخت کے
پاس سے گزرا
تو اُس سے مخاطب
ہواکہ تم کیسے
حضور کے اُمتی
ہو کہ اُن کی
اٰولادکی خاطر
تم روپے بھی
نہیں بن سکتے۔اتنا
کہنے کی دیر
تھی کہ اُس
درخت کے تمام
پتے روپوں
میں بدل گئے۔آپ
نے فرمایا
جتنی مجھ کو
ضرورت تھی
میں نے اُتار
لئے۔اسی اثنا
میں ایک شخص
کاوہاں سے
گزر ہوا جب
اُس نے یہ حال
دیکھا تو چِلّا
اُٹھاکہ درخت
پر روپے لگ
گئے ہیں۔ آپ
نے درخت کو
کہا اپنی اصلی
حالت میں واپس
چلے جاؤ۔وہ
روپے پھر پتے
بن گئے۔
احوال پر مطلع
ہونا
ایک دفعہ میرے
والدِ محترم
حضور پیر صاحبکے
پاس (مخدوم
پور شریف) تشریف
لے گئے۔ حضور
پیر صاحب نے
فرمایا کہ
عبدالخاق نے
جو کبوتر پال
رکھے ہیں اُس
سے کہو کہ وہ
اُنہیں آزاد
کر دے۔ (حالانکہ
عبدالخالق
صاحب کہتے
ہیں کہ میں
نے وہ کبوتر
عبدالرشید
نامی شخص کے
گھر پال رکھے
تھے) میرے والدِ
محترم نے واپسی
پر مجھے کہا
کہ حضور پیر
صاحب فرماتے
ہیں کہ جو کبوتر
تم نے پال رکھے
ہیں اُن کو
آزاد کر دو۔
میں نے والد
صاحب کو کہا
کہ آپ نے پیرصاحب
کو یہ بتایا
ہوگا کہ میں
نے یہ کبوتر
پال رکھے ہیں۔کچھ
دنوں کے بعد
جب میں حضور
پیر صاحب کی
خدمت میں حاضری
کے لئے چکوال
گیا تو پیر
صاحب نے مجھے
فرمایا ’’اچھا
میاں تم کہتے
تھے کہ صوفی
نور محمد صاحب
نے مجھے بتایا
ہوگا‘‘میں اپنی
بات پر بڑا
نادم ہوا اور
عرض کی کہ حضور
میراایمان
ہے کہ اللہ
والے ظاہری
اور باطنی
احوال پر مطلع
ہوتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
خلیفہ حاجی
عنایت صاحب
تعارف
حاجی عنایت
صاحب لاہور(
اچھرہ) میں
قیام پذیر
ہیں ۔ انھیں
لاہور کے باقی
مریدین پر
ایک انفرادیت
حاصل ہے کہ
پہلے جناب
سید رسول شاہ
خاکی سرکار
اور اب پیر
قلندرسید محمود
الحسن شاہ
صاحب اور حسین
شاہ سرکار
جب بھی لاہور
تشریف لے جاتے
ہیںتو حاجی
صاحب کے گھر
ہی قیام فر
ماتے ہیں ۔
یہ بڑے ہی کرم
کی بات ہے کہ
کوئی مرد حق
کسی گھر کو
اپنے قیام
کا شرف بخشے
۔ جب جناب پیر
صاحب لاہور
تشریف لے جاتے
ہیں ان دنوں
حاجی صاحب
کے گھرمیں
خوب گہما گہمی
ہوتی ہے ۔ سرکار
کی مسند مبارک
لگی ہوتی ہے
۔ ہر طالب ،
دُکھی، درد
مند، عشق و
محبتِ مرشد
کا طالب غرضیکہ
ہر طرح کا آدمی
حاج&