پہلے
دن حضور غوث
الااعظم جیلانی
کی زیارت !
حاجی عنایت
صاحب فر ماتے
ہیں کہ میںپیر
صاحب سے شرف
بیعت حاصل
کرنے کیلئے
چکوال آیا۔پیر
صاحب سے ملاقات
کرکے میں کچھ
زیادہ متاثر
نہیں تھا ۔
بہر حال وہاں
ہی قیام کیا۔
عصر کی نماز
پڑھنے کے لئے
مسجد میں گئے
۔ پیر صاحب
بھی نماز کے
لئے مسجد تشریف
لائے ۔
جب نماز کی
امامت سرکار
نے کروانی
شروع کی تو
میں کیادیکھتا
ہوں کہ سامنے
تخت پر حضور
غوث اعظم جیلانی
تشریف فر ما
ئیں اور پیر
صاحب بڑے ادب
سے ساتھ تشریف
رکھتے ہیں
اور تسبیح
پڑھ رہے ہیں
۔
کچھ دیر یہ
منظر جاری
رہا ۔ پھر یہ
منظر ختم ہو
گیا نماز مکمل
کی میں بہت
ہی زیادہ متاثر
ہوا اور دل
میں سوچا کہ
واقعی پیر
صاحب کامل
فقیر ہیں اور
میں نے بڑی
شرح صدر سے
حضور پیر صاحب
کے دست اقدس
پر بیعت کر
لی۔
آنے والے واقعات
کاپیر صاحب
کو علم ہونا
!
حاجی عنایت
صاحب فر ماتے
ہیں کہ ہم جب
بھی مخدوم
پور شریف جاتے
تو پیر صاحب
کا معمول مبارک
یہ تھا کہ اکثر
مجھے اور میری
بیوی کو دودن
کے لئے ٹھہراتے
اورہم بھی
ذہنی طور پر
2دن کے لئے تیارہوکر
جاتے۔ ایک
دفعہ ہم حاضری
کے لئے چکوال
حاضر ہوئے
۔ دوپہر ہونے
سے تھوڑی دیر
پہلے ہم دربار
عالیہ پہنچے
قدم بوسی کی۔لنگر
شریف کھایا
اور ساتھ ہی
حضورپیر صاحبنے
اجازت مرحمت
فرما دی۔دُعامیں
مغفرت وبخشش
کی دعا دی اور
حکم دیا اب
واپس چلے جائیں۔
ہم دونوں میاں
بیوی بڑے حیران
ہوئے کہ ابھی
تو آئے ہیں
ابھی سرکار
نے جانے کا
بھی فر ما دیا
ہے ۔ دل میں
وسوسہ پیدا
ہوا کہ شاید
کوئی گستاخی
ہو گئی ہے ۔
دوسرا خیال
یہ ہم اتنے
پیارسے آئے
ہیںاور سرکار
نے آتے ہی واپس
بھیج دیا ہے۔
بہر حال طرح
طرح کے خیال
آتے رہے۔ راستے
میںواپسی پر
آپس میں اس
پریشانی کی
وجہ سے کوئی
بات چیت بھی
نہیں کی ۔ اور
سوچوں میں
سارا سفر طے
کر دیا اُس
رات دس بجے
ہم لاہور پہنچ
گئے ۔ پریشانی
کے عالم کھا
نا کھایا اور
سو گئے۔ رات
ایک بجے پیغام
آیا کہ حاجی
صاحب تمہارا
چچا زاد بھائی
فوت ہو گیا
ہے ۔ وہ میرا
بہت ہی قریبی
آدمی تھا اورا
س کا سارا تدفین
کا بندوبست
میں نے ہی کرنا
تھا ۔ جب یہ
واقعہ پیش
آیا پھر پیر
صاحب کے جلدی
مخدوم شریف
سے بھجوانے
کی حکمت سمجھ
میں آگئی اور
اپنی سوچوں
پر سخت شرمندگی
ہوئی ۔ اور
یہ بات بھی
سمجھ میں آگئی
کہ سرکار نے
آتی بار معمول
سے ہٹ کر بخشش
اور مغفرت
کی دعا کیوں
کی تھی ۔ بہرحال
اللہ تعالیٰ
جب فقیر کے
پردے اُٹھا
دیتا ہے تو
آنے والے واقعات
کا بخوبی علم
ہوتا ہے۔ پیر
صاحب کے کئی
ایسے واقعات
بھی ہیں کہ
سالوں بعد
میں آنے والے
واقعات کا
بھی سرکار
کو علم ہوتا
تھا۔
مخد وم پور
شریف بیٹھ
کر لاہور ہمارا
مشاہدہ کرنا
!
سیدنا عمر
فاروق کے زمانے
میں ایک معرکہ
غیرمسلموں
کے ساتھ ہوا۔
اس میں حضرت
ساریہاسلامی
دستے کی کمانڈ
کر رہے تھے۔
سیدنا عمر
فاروق مدینہ
شریف میں قیام
پذیر تھے۔
قریب تھاکہ
حضرت ساریہ
شکست کھا جاتے
سید نا عمر
فاروق نے مدینہ
پاک سے آوازدی
’’اے ساریہ پہاڑی
کی جانب دیکھو‘‘حضرت
ساریہ نے فوراً
اُسی غیبی
آواز پر لبیک
کہا اور پہاڑی
کی طرف حملہ
کیا اور فتح
سے ہمکنار
ہوئے۔ حالانکہ
حضرت عمر اسوقت
مدینہ میں
خطبہ جمعہ
فرمارہے تھے۔
حضور کی ایک
حدیث مبارکہ
بھی ہے جسکا
مفہوم یوں
ہے کہ’’مومن
کی فراست سے
ڈرو وہ اللہ
کے نور سے دیکھتا
ہے‘‘ ۔اللہ تعالیٰ
اپنے بندے
کے لئے زمین
وزماں کی قید
ختم فرما دیتا
ہے۔ جناب سید
ناغوث الااعظم
جیلانی فر
ماتے ہیں’’ میں
نے جب پوری
دنیا کی طرف
نظر دوڑائی
تو وہ میرے
ہاتھ پر رائی
کے دانے کے
برابرا تھی‘‘مندرجہ
بالا مثالوں
سے یہ بات واضح
ہو گئی کہ فقیر
کے لیے دور
و نزد یک کے
فاصلے ختم
کر دیے جاتے
ہیں وہ جہاں
چاہے دیکھ
سکتا ہے جہاں
چاہے بات کر
سکتا ہے ۔
اس طرح کا ایک
واقعہ حاجی
عنایت صاحب
نے قلم بند
کروایا کہ
ایک دفعہ ہمارے
مالی حالات
انتہائی مخدوش
ہو گئے اور
روز بروز ہماری
حالت ابتر
ہو تی جارہی
تھی حتٰی کہ
دو وقت کی روٹی
بھی مشکل سے
ملتی۔ اللہ
کا شکر ہے اچھے
بُرے وقت میںپیر
صاحب سے نگاہ
نہیں ہٹی۔
دل میں خیال
یہی تھا کہ
ہمارا اول
و آخر سب سرکار
ہی ہیںسوچا
سرکار کے قدموں
میں حاضری
دیتے ہیں اور
عرض کرتے ہیں
تاکہ حالات
میں بہتری
پیدا ہو جائے
۔ کرایہ کسی
سے ادھار لیا۔
اور ہم میاں
بیوی گھرسے
چکوال کے لیئے
روانہ ہو ئے
جب ہم ریلوے
اسٹیشن پہنچے
وہاں ایک آدمی
پر نظر پڑی
جو کہ گٹر کے
قریب بیٹھا
ہوا تھا اور
وہاں گلہ سٹرا
پھل جو کہ پھل
فروش شام کو
پھینک دیتے
ہیں اس میں
ہاتھ مار رہا
تھا اور کھا
رہا تھا ۔ میں
نے دیکھا اور
آگے گزر گیا۔میری
بیوی نے بھی
دیکھا اور
مجھ سے کہنے
لگی کہ حاجی
صاحب دیکھو
یہ بیچارہ
کیا کررہا
ہے میں اپنی
بیوی سے ناراض
ہو اکہ چھوڑ
وہ کھاتا ہے
تو کھانے دو۔
ہم آگے نکل
گئے ۔ ہم سرکار
کی قدم بوسی
کیلئے آستانہ
عالیہ پہنچ
گئے ۔ مناسب
وقت پا کر سرکار
سے اپنے حالات
بیان کئے کہ
حضور دو وقت
کی روٹی سے
بھی تنگ ہوتے
جارہے ہیں۔پیر
صاحب نے میری
طرف دیکھ کر
فرمایا کہ
وہ لوگ بھی
تو ہیں جو گندگی
کے ڈھیر سے
گلہ سڑا پھل
اُٹھا کر کھاتے
ہیں اور گزارہ
کرتے ہیں تم
پر ابھی اتنا
برا وقت تو
نہیں آیا ۔
صبر سے کام
لو ہم حیران
ہو گئے کہ کس
طرح پیر صاحبکی
نگاہِ بصیرت
کسطرح ہمارا
مشاہدہ فرمارہی
تھی اور کیسی
حکمت سے صبر
کی نصیحت فرمائی۔
سرکار کا مشاہدہ
اور کمال شفقت!
حاجی عنا یت
صاحب فر ماتے
ہیں کہ ہماری
مالی حالت
بد ستور خراب
تھی کہ رمضان
المبارک اور
پھر عید کا
دن آ گیا ۔ ہمارے
پاس اتنے بھی
پیسے نہیں
تھے کہ عید
کا کھا نا پکا
سکیں ۔ خود
بھی کھائیں
اور بچوں کو
بھی کھلائیں
شام کو ہم نے
چنے پکائے
اور وہی تھوڑے
سے بچا کر رکھ
دیے صبح میں
عید پڑھ کر
واپس آیا تو
وہی کالے چنے
پڑے تھے ۔ ان
سے ہی روٹی
کھاکر صبر
شکر کر لیا
۔ اسی پر یشانی
کے عالم میں
عید کے تیسرے
دن کرایہ بڑی
مشکل سے ادھار
پکڑا اور مخدوم
پور کا پروگرام
بنایا ۔ ہم
عصر کے وقت
سرکار کے قدموںمیں
پہنچے ۔ سرکار
نے فوراً خادم
کو حکم دیا
کہ مرغ ذبح
کر و اور حاجی
کو دو۔ میں
نے عرض کی نہیں
حضور جوکچھ
بھی پکا ہوا
ہے میںوہی
کھاؤں گا فرمایا
تم خاموش رہو
۔ شام کو جب
لنگر شریف
پک کر آیا تو
پیر صاحب نے
مجھے اپنے
ساتھ بٹھا
لیا اور خادم
دربار سے کہا
وہ جو الگ مرغ
پکا ہے ادھر
لے آؤ حاجی
اور مجھے دو
۔ جب کھانا
لگا تو سرکار
نے اپنے حصے
کی بوٹیا ں
بھی میری پلیٹ
میں ڈال دیں
۔ میں انکار
کرتا رہا سرکار
نے فرمایا
کہ بس کھاؤ
اور خود پیر
صاحب مجھے
دیکھتے رہے۔
بعد میں سرکار
نے خود بھی
کھاناکھایا
۔ کھانا کھانے
کے بعد سر کار
نے فر مایا
کہ حاجی میں
آج تیسرے دن
کے بعد کھانا
کھا رہا ہوںاور
چائے پی کر
گزارہ کر رہاہوں
۔ وہ اس لئے
کہ عید کے دن
جب مجھے کھانا
دیا گیا تو
میری نگا ہ
آپ پر پڑی آپ
چنے کھا رہے
تھے وہ بھی
بڑی پریشانی
کے عالم میں
میرے دل پر
بھی بوجھ ہوا
میں نے بھی
کھانا چھوڑ
دیا کہ میں
کیسے کھاؤں
۔ میرے مرید
اگر اس حالت
میں ہوں تو
میں جی بھر
کر کیسے کھالوں
، آج تمہارے
ساتھ کھانا
کھا رہا ہوں
سرکارنے دعا
فرمائی ’’حاجی
اللہ تمہیں
ہر لحاظ سے
بہتر کرے‘‘۔
قیامت آنے
والی ہے !
ایک دفعہ میں
پیر صاحب کی
خدمت عالیہ
میں حاضر تھا۔میرے
ساتھ لاہور
سے پیر صاحب
کی ایک مریدعورت
بھی گئی ہو
ئی تھی۔ اس
نے سرکار سے
عرض کی کہ سر
کار ہم نے بھائی
کی شادی کرنی
ہے تاریخ بتا
دیں سرکار
نے فرمایا
کہ اسی ماہ
میں کرلو اس
نے کہا کہ یہ
شب برات کا
مہینہ ہے اگلے
ماہ کی کوئی
تاریخ بتا
دیں سرکار
نے فرمایا
کہ اس ماہ کرلیں
قیامت آنے
والی ہے۔ اس
عورت نے اصرار
کیا کہ نہیں
سرکار اگلے
ماہ کی کوئی
تاریخ بتا
دیں۔ تو سرکار
نے پھر مخصوص
انداز سے کہا
کہ اچھا اگلے
ماہ کرلو !انھوں
نے اگلے ماہ
کی تاریخ رکھ
دی ۔ اگلا مہینہ
آیا،بارات
والا دن خیرو
عافیت دوسرے
دن ولیمہ تھا
۔ ولیمہ تیار
ہو نے سے کچھ
دیر ہی قبل
لڑکے کا والد
فوت ہو گیا
اس کو دفنا
کر واپس آئے
تو لڑکے کا
ماموں فوت
ہو گیا ۔ تین
دن گزرے کہ
لڑکے کی خالہ
فوت ہو گئی
یوں یکے بعددیگرے
اور اموات
بھی ہوئیں۔
ان پر تو قیامت
ٹوٹ پڑی سرکار
نے اپنی نگاہ
بصیرت سے پہلے
ہی بھانپ لیا
تھا کہ اس طرح
اموات ہوں
گی ۔ ان کے لئے
تو قیامت ہی
آگئی ۔ کہ ہر
طرف ماتم کا
حال تھا۔ پھر
انہیں ہوش
آئی اور بات
سمجھ میں آگئی
سرکار نے جو
فر مایا کہ
ابھی شادی
کر لو بعد میں
قیامت آنے
والی ہے ۔
اس طرح کا
ایک واقعہ
جناب پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
کے بارے میں
بھی ہے۔ کہ
ایک دفعہ جناب
قلندر پاک
نے نماز تراویح
پڑھائی آپ
کافی تیزی
سے جماعت کروار
ہے تھے ایک
نمازی نے جناب
سے کہا کہ حضور
تھوڑا سا آہستہ
پڑھائیں۔ آپ
بہت تیز پڑھا
رہے ہیں آپ
نے فرمایا
کہ آہستہ پڑھانے
سے آپ کو نیند
آجاتی ہے انھوں
نے کہا حضور
نہیں آئے گی
۔ کچھ ہی دیر
بعد وہی شخص
نماز میں نیند
کی وجہ سے گر
گیا۔سب اس
کو دیکھ کر
حیران ہوگئے۔
جب قلندر پاک
نماز سے فارغ
ہو ئے تو فرمایا
میں نے کہا
نہیں تھا کہ’’
تجھے نیند
آجائے گی ‘‘۔
وہ آدمی حیران
ہوا اور معافی
کا خواستگار
ہوا کہ سر کار
آ پ بہتر جانتے
ہیں جس طرح
چاہیں ویسے
پڑھائیں۔
ٹانگ کٹنے
سے بچ گئی ۔
حاجی عنایت
صاحب فر ماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ میں دربار
شریف میں بیٹھا
ہوا تھا کہ
پیر صاحب نے
مجھے فر مایا
کہ لاہور فلاں
خلیفہ صاحب
( نام لکھنا
مناسب نہیں
) سے کہہ دینا
کہ دم کرنے
لوگوں کے گھر
نہ جا یا کریں
جو کوئی گھر
آجائے اس کو
دم کر دیا کریں
۔ میں نے آکر
ان کوپیرصاحب
کا حکم نامہ
سنایا ۔ انھو
ں نے پیر صاحبکے
حکم کی پروانہ
کی اور حسب
معمول لوگوں
کے گھر جاتے
رہے ۔ ایک دن
جب کسی کے گھر
سے واپس آئے
تو کسی نے دیکھا
کہ ان کی جوتی
بھی جل رہی
تھی اور انگوٹھا
بھی جل رہا
تھا ۔ اس وقت
انھیں خودکو
خبربھی نہ
تھی۔ تھوڑی
دیر بعد شدید
درد شروع ہوا
تو ۔ انہیں
احسا س ہوا
کہ یہ کیا ہو
گیا ہے ۔ ڈاکٹر
کو دکھایا
تو انھوں نے
کہا کہ ۔ موہدی
( ایک خاص قسم
کی بیماری
کا نام ہے) ہو
گئی ہے ۔ اور
پاؤں ٹخنے
سے اوپر تک
کاٹنا پڑ ے
گا
حاجی عنایت
صاحب فر ماتے
ہیں انہوں
نے مجھے اس
بیماری کے
متعلق بتایا
کہ ڈاکٹر یہ
بات کہتے ہیں۔
میں مخدوم
پورآیا اورپیر
صاحب سے عرض
کی کہ ان خلیفہ
صاحب نے آپ
کے حکم کی تعمیل
نہ کی اُن کے
ساتھ یہ معاملہ
ہوا ہے کہ ان
کا انگوٹھا
خود بخود ہی
جلا اور بعد
میں پتا چلا
کہ موہدی ہو
گئی ہے اب ڈاکٹر
کہتے ہیں کہ
پاؤں کاٹنا
پڑے گا ورنہ
مرض بڑھتا
ہی چلا جائے
گا ۔ سرکار
نے فرمایا
کہ یہ کیسے
ہو سکتا کہ
ان کا پاؤں
کٹے ۔ ان کا
پاؤں نہیں
کاٹنا پڑے
گا اورنہ ہی
مرض بڑھے گا۔کچھ
دنوں کے بعد
خودبخود ہی
ان کا پاؤں
ٹھیک ہو گیا
۔ بعد میں سرکار
نے فر مایا
کہ اس سے کہو
کہ لوگوں کے
گھر جا کر دم
کرنا چھوڑ
دے اب اگر اس
نے ایسانہ
کیا تو دوٹکڑے
ہو جائے گا
۔اس کے بعد
انھوں نے ایسا
نہیں کیا اور
صرف گھر آنے
والوں کو ہی
دم کرتے تھے
۔
٭٭٭٭٭٭٭
خلیفہ صوفی
آفتاب احمد
صاحب
خلیفہ صوفی
آفتاب احمد
صاحب جن کا
تعلق واہ فیکٹری
سے ہے فرماتے
ہیں کہ میرے
بڑے بھائی
محمد اشرف
صاحب جو کہ
واہ فیکٹری
میں ملازم
ہیں وہ جناب
خاکی شاہ سرکار
کی بیعت تھے
جب وہ جناب
کی خدمت میں
حاضر ہوتے
تو میرے لیے
ضرور دعا کرواتے
کہ جناب چھوٹے
بھائی کو ملازمت
مل جائے ایک
دن سرکار نے
فرمایا کہ
تم اس کو گھر
(سیالکوٹ ) سے
ساتھ واہ فیکٹری
لے آؤ یہاں
رکھو اس کو
ملازمت مل
جائے گی۔ سرکار
کا فرمانا
تھا کہ جونہی
میں واہ فیکٹری
آیا بھائی
کے ایک دوست
آفسیر تھے
وہ خود گھر
آئے اور کہا
کہ اپنے بھائی
کو بھرتی کرواؤ
انہوں نے خود
ہی ساری کاغذی
کاروائی مکمل
کی اور مجھے
بھرتی کروا
دیا۔ اس کے
بعد بھائی
نے مجھے بیعت
کے لیے کہا
کہ تم بھی جناب
کی بیعت ہو
جاؤ۔میں نے
بھائی جان
سے کہا میرے
سر میں ہر وقت
درد رہتا ہے
میں ساتھ جاؤں
گا اگر پیر
صاحب کے دم
سے میرا درد
ٹھیک ہو گیا
تو میں بیعت
کر لوں گا میں
ساتھ تو نہ
جا سکا بھائی
جان میرے لیے
تعویذ لے کر
آئے اس تعویذ
سے میرا سر
درد مکمل طور
پر ٹھیک ہو
گیا میں بہت
متاثر ہوا
۔
میری بیوی
کے دانت میں
شدید درد تھا
جس سے چہرے
میں سوجن ہوگئی
تھی کئی دنوںتک
وہ روٹی بھی
نہیں کھا سکی
اور دوائی
سے آرام نہیں
آرہا تھا حتیٰ
کہ ڈاکٹروں
نے کہا کہ ٹی
بی ہوگئی ہے
اس پر ہم بہت
زیادہ پریشان
تھے میں نے
بھائی جان
سے کہا کہ اس
کو بھی ساتھ
لے چلتے ہیں
جناب سے دم
کروائیں گے
تاکہ وہ ٹھیک
ہو جائے۔ جب
ہم مخدوم پور
شریف پہنچے
تو سخت گرمی
کے دن تھے پیر
صاحب دربار
عالیہ میں
تشریف فرما
تھے آپ نے خیریت
دریافت کی
۔میری بیوی
درد سے کراہ
رہی تھی جناب
نے دم فرمایا
اسی وقت اس
کو آرام آگیا
جناب نے اپنے
سامنے بٹھا
کر کھانا کھلایا
۔ ہم سب حیران
تھے جناب کی
نظرِ کرم سے
آج تک اس کوئی
دردنہیں ہوا
اس سے بھی میں
بہت متاثر
ہوا ۔
بیعت اور تلقینِ
وظائف
ان واقعات
کے بعد اب میں
بھی بیعت کے
لیے بے چین
تھا ۔ ایک دفعہ
ہم جناب کی
خدمت عالیہ
میں حاضر ہوئے
رات 11بجے کا
وقت تھا ۔ سب
مریدین اٹھ
کر چلے گئے
خادم دربار
اور ہم دونوں
بھائی رہ گئے
بھائی جان
نے سرکار سے
عرض کیاکہ
جنا ب چھوٹے
بھائی کو بیعت
کر لیں سرکار
نے مسکرا کر
فرمایا جس
نے بیعت ہونا
ہے وہ تو بول
ہی نہیں رہا
اس پر میں نے
جنا ب سے عرض
کی کہ جناب
مجھے قبول
فرمائیں اور
بیعت فرمالیں
۔جناب نے مجھے
بیعت فرمالیا
اور کچھ وظائف
تلقین فرمائے
پابندی سے
ان پر قائم
رہنے کی ہدایت
فرمائی میں
جناب کی نظر
سے ان وظائف
پر آج بھی سختی
سے کار بند
ہوں۔ سرکار
نے مجھے 10دن
کے لیے ایک
وظیفہ عطا
فرمایا کہ
چھٹی لے لوگھر
میں دس دن خلوت
میں رہ کر یہ
وظیفہ کرنا
ہے ۔ میں نے
جناب کی ہدایت
پر عمل کیا
لیکن دوسرے
ہی دن میری
ہمت جواب دے
گئی۔ میری
حالت غیر ہوگئی
اور میں مرنے
کے قریب پہنچ
گیا۔ میں نے
جناب کو بڑے
درد دل سے یاد
کیا کہ اگر
آپ میر ی مدد
کو نہ آئے تو
میں مر جاؤں
گا۔ جس وقت
میں نے پیر
صاحب کو یاد
کیا تھا عین
اگلے دن اُسی
وقت کسی آدمی
نے ہمارے گھر
پر دستک دی
اور فرمایا
کہ پیر صاحب
بستی میں تشریف
لائے ہوئے
ہیں اور آپ
کو یادفرما
رہے ہیں ۔ بھائی
جان مجھے گاڑی
میں لے گئے
میں بہت زیادہ
کمزور ہو گیا
تھا میں جناب
کے سامنے گیا
جناب نے پوچھا
میاں کہاں
ہو میں نے عرض
کی کہ حضور
آپ کے سامنے
ہوں ۔ آپ ہی
بہتر جانتے
ہیں سرکار
نے فرمایا
کہ ابھی تو
نیت ہی کی ہے
تو یہ حال ہے
آگے کیا ہوگا
میں نے عرض
کی کہ حضور
آپ ہی کی نظر
سے سب کچھ ٹھیک
ہوگا ۔حضور
نے میرے سر
کو پکڑ کر پھونک
ماری میرا
سرایسے ہو
گیا جیسے برف
میں لگا دیا
گیا ہو اور
میں بالکل
ٹھیک ہو گیا
۔ پھر میں نے
بڑے بڑے وظائف
کیے مگر کچھ
ظاہر ی پریشانی
اور تکالیف
نہ ہوئی ۔سرکار
نے کچھ ایسے
وظائف عطا
فرمائے کہ
جناب غوث اعظم
کا روحانی
فیض بھی نصیب
ہوا۔
سرکار کی نظر
کرم
جناب پیر صاحب
نے مجھے پھر
وظائف بتائے
جو کہ میں پابند
ی سے پڑھتا
رہا ۔ اس وظیفے
سے مجھے یہ
ہوتا تھا کہ
سوتے اور جاگتے
پڑھتا رہتا
تھا اگر کبھی
میں خاموش
ہو جاتا تو
ہر طرف سے اس
وظیفے کی آوازیں
آنی شروع ہو
جاتیں جب بھی
پڑھتا اپنے
آپ کو روضہ
رسول کے اندر
پاتا اور اپنے
آپ کو درود
شریف پڑھتا
ہوا پاتا ۔
تاجدار کائنات
کی زیارت
حضور پیر صاحب
نے مجھے ایک
وظیفہ بتایا
جو کہ میں پڑھتا
رہتا تھا۔
ایک دن اس وظیفے
کے نتیجے میں
تاجدار کائنات
کی زیارت ہوئی۔
میں خواب میں
دیکھتا ہوں
کہ ایک کھلی
جگہ ہے دونوں
طرف صحابہ
اکرام تشریف
فرما ہیں درمیان
سے راستے کھلا
ہے اور سامنے
تاجدار کائنات
تشریف فرما
ہیں اور نورانی
کرسی پر بیٹھے
ہوئے ہیں ۔
میں درمیانی
راستہ سے صحابہ
اکرام کے درمیان
سے گزرتا ہوا
سیدھا حضور
نبی اکرم کے
سامنے جاتا
ہوں۔ آقا کو
سلام عرض کرتا
ہو آپ مجھے
گلے لگا لیتے
ہیں تو بس مجھے
دنیا کی یا
کسی اور چیز
کی کوئی ہوش
نہیں رہتی
صرف اتنا یاد
ہے کہ سرکارِدوعالم
کے گلے سے لگا
ہوا ہوں۔ اسی
دوران مجھے
اپنے شانوں
کے درمیان
ایسا محسوس
ہوا کہ وہاں
برف رکھ دی
گئی ہے عجیب
ٹھنڈک محسوس
ہو رہی تھی
آپ نے خصوصی
فیض پاک سے
نواز ا ۔ لاکھوں
سلام حضور
نبی اکرم کی
ذات پاک پر
اور لاکھوں
رحمتیں نازل
ہوں میرے مرشد
کریم خاکی
سرکار کے مزار
پُر انوار
پر جنہوں نے
اس نا چیز کو
اتنا بڑا شرف
بخشا ۔ ویسے
خواب میں کئی
بار حضور نبی
اکرم کے روضہِ
اقدس پر حاضری
کا شرف حاصل
ہوا اور درود
شریف پڑھنے
کا موقع ملامگر
ایسا کامل
اور شفیق پیر
شاید ہی کسی
نصیب والے
کو ملے جو اپنے
مرید کا ایسے
ظاہری و باطنی
طور پر خیال
رکھے کہ جو
مرید کے وہم
و کمان سے بھی
باہر ہوگا۔
اولاد نرینہ
کا ملنا
1989کی بات ہے کہ
میں ایک دفعہ
جناب پیر صاحب
کی بارگاہ
عالیہ میں
حاضر ہوا سرکار
نے فرمایا
کہ اچھا ہوا
تم آگئے ہم
باہر جا رہے
ہیں ۳، ۴ ماہ
وہاں ہی رہیں
گے پھر سرکار
نے گھر کی خیر
خیریت دریافت
فرمائی اور
اور فرمایا
کہ میاں تمہارے
کتنے بیٹے
ہیں میں نے
عرض کیا کہ
حضور بیٹے
تو نہیں ہیں
3بیٹیاں ہیں۔
سرکار نے فرمایا
میں نے سمجھا
کہ آپ کے بیٹے
ہیں ۔ ہم دعا
کرتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ
تمہیں ایک
بیٹا ہی دے
دے ہم وہاں
بھی جا کر دعا
کریں گے تو
میں نے عرض
کی کہ حضور
جیسے آپ مناسب
سمجھیں جب
سب کچھ آپ کے
حوالے کیا
ہے تو پھر ہمیں
کیا پریشانی۔
جناب حج کرنے
کے لیے سعودی
عرب تشریف
لے گئے ۔
اس دوران پیر
صاحب مجھے
خواب میں ملے
میں نے دیکھا
کہ آپمجھے
کبھی کعبۃاللہ
کے اندر لے
جاتے ہیں اور
کبھی کعبۃاللہ
سے باہر لے
آتے ہیں۔ جب
ہم کعبۃاللہ
کے اندر جاتے
ہیں تو ہمارے
لباس سبز ہو
جاتے ہیں اور
جب کعبہ سے
باہر صحنِ
حرم میں آتے
ہیں توہمارے
لباس سرخ ہو
جاتے ہیں۔
وہاں ہی آپ
نے مجھے خواب
میں انگوٹھی
عطا فرمائی
ایک تسبیح
دی اور ایک
عصا ء عطا فرمایا۔
میں خانہ کعبہ
کے غسل خانوں
میں نہایا
بعد میں میں
کیا دیکھتا
ہو ں دو چھوٹے
چھوٹے بچے
ہیں ایک کا
رنگ سرخ اور
سفید ہے دوسرے
کا رنگ سانولا
ہے اور قدرے
کمزور بھی
ہے۔ ان بچوںکی
جوانی تک میں
انہیں خواب
میں دیکھتا
ہوں اس کے بعد
سرکار جب حج
سے واپس تشریف
لائے میں سرکار
کی قدم بوسی
کے لیے حاضر
ہوا۔ آپ
نے فرمایا
میاں ہم نے
تمہارے لیے
یہاں بھی دعا
کی تھی وہاں
بھی مقام ابراہیم
پر کھڑے ہو
کر خاص دعا
کی تھی اللہ
تعالی آپ پر
رحم فرمائے
گا۔جناب کی
نظر کرم سے
اللہ نے دو
بیٹے عطا کیئے
بڑے بچے کا
نام حسن رکھا
اور دوسر کا
محمد سعید
رکھا ۔
بعد میں ایک
بیٹا بیمار
ہو گیا ۔ اس
کی ہڈیاں نکل
آئیں ہم جناب
کے پاس آئے
جناب نے دم
کیا تعویذ
دیے اور بکرا
صدقہ کرنے
کا حکم فرمایا
جو نہی صدقہ
کیا بچے کی
حالت سنبھل
گئی بالکل
ہی قریب المرگ
ہو چکا تھا
اب دونوں بیٹے
ما شاء اللہ
صحیح و تندرست
ہیں جس طرح
معاملہ آپ
نے خواب میں
دکھایا تھا
ویسے ہی نظام
چل رہا ہے ۔
اور ایک کرامت
ایک دفعہ آپ
واہ فیکٹری
تشریف لائے
آپ نے مجھے
ایک وظیفہ
بتایا جو کہ
میں پابندی
سے کرتا رہا۔
اس وظیفے سے
مجھے یہ فائدہ
ہوا کہ بارہ
اماموں کے
مقام جناب
نے مجھے دکھائے
پھر حضرت امام
حسن وحُسین
دکھائے پھر
حضرت فاطمہ
اور پھر خلفائے
راشدین کی
زیارت کروائی
اور ان کے مقام
یعنی مرتبے
دکھائے۔یہ
باتیں میں
نے حضرت صاحب
سے عرض کیں
تو آپ نے فرمایا
ٹھیک ہے یہ
باتیں صرف
مجھے بتانا
اور کسی سے
نہیں کرنا
۔ جو کہ میں
نے آج تک کسی
کو نہیں بتائیں
اور نہ ہی بتا
نا چاہتا تھا
۔ اب چونکہ
پیر قلندر
سیدمحمود الحسن
شاہ خاکی کا
حکم تھا اس
لیے بیان کر
دیں۔
ہزاروں اولیا
ء کی زیارت
ایک دفعہ کا
ذکر ہے کہ امام
بری سرکار
کا عرس پاک
تھا میں بھی
کچھ لوگوں
کے ساتھ مل
کر عرس پر جانا
چاہتا تھا
۔ پھر مجھے
یاد آیا کہ
پیر صاحب تو
واہ فیکٹری
میں آئے ہوئے
ہیں میں امام
بری سرکار
چلا جاؤں یہ
مناسب نہیں
ہے یہ سوچ کر
میں نے اپنا
ارادہ ترک
کر دیا اور
گھر ہی رہا
۔ صبح 3بجے اٹھا
سائیکل لی
اور جہاں جناب
تشریف فرما
تھے وہاں چلاگیا۔
ساڑھے تین
بجے میں جناب
کی قیام گاہ
پر پہنچ گیا
دروازہ کھٹکٹھایا۔
جناب جیسے
انتظار ہی
فرما رہے ہوں
فرمایا بیٹا
اندر آجاؤ
میں تمہارا
3بجے کا انتظار
کر رہا ہوں۔
میں نے عرض
کیا کہ حضور
میں گھر سے
تین بجے کا
ہی نکلا ہوں
سرکار نے فرمایا
کہ رات کو کیوں
نہیں آئے میں
نے عرض کی کہ
حضور بری سرکار
جانے کا ارادہ
تھا آپ نے فرمایا
کہ وہاں کیا
کرنا تھا۔
میں نے عرض
کی کہ حضور
سلام ہی کرنے
جانا تھا اور
تو کوئی کام
نہیں تھا آپ
نے فرمایا
کہ وہ بھی یہاںسے
ہو جائے گا
۔ آپ نے کچھ
پڑھنے کے لیے
دیا اور فرمایا
کہ سوتے وقت
یہ پڑھ لینا
سب کچھ نظر
آجائے گا۔
میں نے حکم
کی تعمیل کی
اگلی رات خواب
میں کیا دیکھتا
ہوں کہ ایک
بہت ہی بڑاہال
ہے تا حد نظر
اس کی لمبائی
چوڑائی ہے
جس کا ایک دروازہ
مشرق اور دوسرا
مغر ب کی طرف
تھا ۔ پرانے
زمانے کی چار
پائیاں ہال
میں لگی ہوئی
ہیں درمیان
سے جگہ خالی
ہے ان چارپایوں
پر بہت سے بزرگ
اپنے اپنے
شغل میں محو
تھ