بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

خلافت کا عطا ہونا
1988گیارہ ربیع الثانی چھوٹے عرس پاک (جناب کی رحلت مبارک سے قبل بڑی گیارھویں شریف کو چھوٹا عرس پاک ہوا کرتا تھا جناب کی رحلت مبارک کے بعد وہ عرس پیر صاحب کے یوم و صال کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور بڑی گیارھویں شریف عام گیارھوں شریف کی طرح محفل گیارھویں ہی کی جاتی ہے) پرپیر صاحب نے بندہ نا چیز کو اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا تعویذ لکھنے کی بھی اجازت فر ما دی جس سے آج تک بہت سے لوگوں کو فائدہ حاصل ہوا بندہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہے کہ جس نے مجھے کامل مرشد عطا کیا مجھے دین و دنیا اللہ نے اس گھر سے دی ہے آج جو کچھ بھی میں صرف آپ کے کرم سے ہوں۔
جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں
یہ تو کرم ان کا ہے ورنہ مجھ میں توایسی بات نہیں
بعدازوصال بھی نگاہِ کرم
19فروری2002بروز منگل حسبِ معمول صبح 4بجے بیدار ہوا ۔ نمازِ فجر سے قبل مال مویشیوں کو دیکھنے کے لئے جارہا تھا۔میرا گھر جی ۔ٹی روڈ پر واقع ہے میں نے روڈ کراس کرنا تھا دونوں اطراف دیکھا کوئی ٹریفک نہ تھی۔میں چل پڑا اچانک پشاور سائیڈ سے ایک گاڑی نمودار ہوئی اور آناً فاناً مجھ سے ٹکرائی۔ جب کار مجھ سے ٹکرائی اُسی لمحہ میں نے حضورپیر سید رسول شاہ خاکی صاحب کو دیکھاکہ وہ اپنے بیٹھنے کے مخصوص انداز میں تشریف فرماہیں۔میں نے اُس لمحے جب گاڑی مجھ سے ٹکرارہی تھی خود کو پیر صاحب کے سامنے پایا۔ پیر صاحب نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر سے اُوپر اُٹھایا۔ دوسرے لمحے میں خود کو جی ٹی روڈ پر ہوا میں کئی فٹ تک بلند ہوتے ہوئے بقائمی ہوش وحواس دیکھ رہا تھا پھر میں زمین پر گر پڑا ۔میں ایک پہلو کے بل سڑک پر گرا مجھے کوئی درد محسوس نہ ہوئی۔کچھ سنبھل کر میں نے اپنے اعضا لیٹے لیٹے چیک کئے ۔جب ہاتھ گھٹنوںپر لگا تو محسوس ہوا کہ ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں ۔اس دوران موٹر وے پولیس والے آئے۔ اُنہوں نے گاڑی پکڑ لی جو کہ ایک سمگلر کی تھی۔جو مال سمگل کرنے لاہور جارہے تھے۔گاڑی بالکل تباہ ہوچکی تھی۔مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔درد شدید تھا۔10بجے حضور پیر قلندر سیدمحمود الحسن شاہ خاکی صاحب کوفون کے ذریعے اطلاع دی۔آپ اطلاع پر بہت مسکرائے درد فوراً ٹھیک ہو گیا۔
میں نے کہا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میں اب مکمل معذور ہوجاؤں گا۔ لیکن پیر صاحب نے اپنے خاص انداز میں مسکراتے ہو کہا۔’’خیر ہوسی‘‘اس دوران بڑے پیر صاحب سے خواب میں ملاقات ہوتی رہی ۔آپ نے مجھے خواب میں چلایااورپھر دوڑایا۔میں نے عرض کیا چلا نہیں جاتاتوپیر صاحب نے فرمایا’’چل لوگے،کچھ نہیں ہوتا‘‘۔
4ماہ بعد میں بغیر سہارے کے چلنے لگا۔ میں نے خواب میں بھی پورا ایکسیڈنٹ کا منظردوبارہ دیکھا ۔پیر صاحب  کی ٹھوکر نے مجھے گاڑی کے ٹائروں کے نیچے کچلنے سے بچا لیا ۔اس واقعہ سے ثابت ہوگیاکہ مُرشدِ کامل ہر وقت صبح وشام، دن رات ،سفر حضر ،زندگی موت میں ساتھ ہے۔جس کا واضح ثبوت میں ہوں۔جن افراد نے وہ ٹویوٹا کار دیکھی ۔وہ ضرور اس کرامت کو سمجھے اور حیران ہوے ۔ یہ واقعات جناب کی امانت تھے آج بیان کر دیے تاکہ پڑھنے والے کے ذوق میں اضافہ ہو اور جناب کے مقام کا اندازہ ہو سکے اور پتہ چلے کہ جناب کس شان اور رفعت کے مالک تھے ۔آپ کو پہچاننا بہت مشکل ہے اور جنہوں نے پہچانا انہوں نے کچھ پا لیا جنہوںنے نہیں پہچانا وہ ویسے ہی رہ گئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مرشد کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے (آمین)
٭٭٭٭٭٭٭

خلیفہ محمد یونس صدیقی صاحب

خلیفہ یونس صدیقی صاحب جن کا تعلق پیرو شاہ گجرات سے ہے۔ اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں
بیعت ہونے کا پس منظر!
میںمینارِ پاکستان لاہور پر تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام گیارہ اوربارہ ریبع الاؤل کی درمیانی شب میلادِمصطفی کے موضوع پر کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے فتنۂ قادیانیت کی جڑیں اکھاڑ دیں۔ اس کانفرنس کی روداد ماہنامہ مہناج القرآن میں پڑھی اس ماہنامہ میں پروفیسر صاحب کے پیر و مرشد سیدنا طاہر علاوالدین القادری کی لاہور آمد اور مرکز میں مصروفیات کا حال پڑھا۔ پروفیسر صاحب کی عقیدت و محبت کے واقعات پڑھے تو منہاج القرآن کی جانب دل میںرغبت ہوئی ۔
اس کے بعدپروفیسر صاحب کی آڈیو اور وڈیو کِیسٹ سنیں ۔ جس میں پروفیسر صاحب نے فلسفۂ بیعت اور روحانیت کا ذکر سانئسی اورقرآنی حوالے سے کیا ہے۔ اس پر میری طبیعت تصوف وروحانیت کی طرف مائل ہوئی مزید براںایک اورخطاب نے بھی اس طرف مائل کیا جس میں اہل
جنت اور اہل دوزخ کے مکالمے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی قرآن پاک سے ثابت کیا کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کی جماعت اور شیخ کے نام سے اٹھایا جائے گا۔ اس کے بعد تلاشِ مرشد کے لیے میری طبیعت بے چین ہو گئی۔ میں نے تمام معروف گدیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن کہیں طبیعت نہ مانی اور تلاشِمرشد کامل میں طبیعت بے چین ہونے لگی۔ آخر ایک دن ایک شخص نے بتایا کہ مخدوم پور شریف چکوال میں ایک ولی کامل ہیں جو کہ خاکی شاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔وہ پروفیسرڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے بہت محبت کرتے ہیں اور پروفیسر صاحب بھی لوگوں کو بیعت کے لیے حضور خاکی شاہ سرکار کے پاس بھیجتے ہیں یہ بات سنتے ہی نا چیز نے آپ کو اپنا پیر و مرشد تسلیم کر لیا اور بیعت کے لیے مخدوم پور شریف پہنچ گیا ۔
۱۸ فروری ۱۹۹۴ بروز جمعۃ المبارک بمطابق۷رمضان المبارک ۳بجے ناچیزآپ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ چھ افراد اور بھی تھے۔ راستے میں سوچتا رہا کہ پیر صاحب کوئی سوال نہ پوچھیں اور سلسلہ قادریہ میں بیعت کرلیں تو کتنا ہی اچھا ہو ۔ جب پہلی نگاہ آپ پر پڑی تو آپ کو دیکھتا ہی رہ گیا آپ نے باقی چھ افراد سے آنے کا حال پوچھا مگر نا چیز سے کوئی سوال نہ کیا اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت فرما لیا۔ بیعت کے وقت آپ نے فلسفہِ بیعت پرایک ایمان افروزخطاب بھی دیا۔
حضور پیر صاحب نے فرمایا !
بیعت خریدو فروخت ہوتی ہے جب آدمی بیعت ہوجاتا ہے تو وہ فروخت ہوجاتا ہے اس کے تمام اختیارات،ارادہ، عمل ، گناہ و ثواب شیخ کے ذمہ ہو جاتے ہیںاور مُرید کا کچھ اختیار نہیں رہتا ۔ تمہیں ان باتوں پر عمل کرنا پڑے گا ۔لڑکیوں کو بالکل نہیں دیکھنا ۔ چلتے وقت اِدھر اُدھر نہیں دیکھنا اپنے آپ کو حقیر جاننا ۔والدین کا ادب و احترام کرنا ۔چلتے پھرتے یوں تصور کرنا جسے دربارمیں چل رہا ہوں اور پیر و مرشد سامنے ہے رات کو سورت مُلک پڑھ کر سونا ۔ شریعت کی پابندی کرنا ہوگی اس کے بعد آپ نے فر مایا کہ اگر آپ یہ باتیں سمجھ گئے ہو تو تیار ہو جاؤناچیز نے عرض کیا کہ حضور تیار ہوں۔ اس کے بعد آپ نے گناہ گا ر کو اپنی ارادت میں لے لیا۔ بیعت ہونے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ جیسا حضور سے صدیوں سے شناسائی تھی سارا خوف ختم ہو گیا اور دل میں عجیب و غریب لذت محسوس ہوئی۔بیعت کے وقت ظاہر ہونے والی کرامات درج ذیل ہیں ۔
کرامات
1) اسی روز شام کے وقت آپ ادارہ منہاج القرآن کے طالب علموں کو کچھ کتابیں دے رہے تھے ۔ ناچیز بھی دربار میں موجود تھا میرے دل میں ابھی خیال ہی گزرا تھا کہ کاش مجھے بھی پیر صاحب کتابیں دے دیں اسی لمحے آپ نے ان لڑکوں کو حکم دیا کہ یہ جو مولوی آج بیعت ہوا ہے اسے بھی
ایک سیٹ دے دو لڑکوں نے کچھ دیر لگائی ۔ تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ الماری کھول کر جتنی کتابیں ہیں، لے لو میں نے وہ کتابیں لے لیں ۔
2) میں سید ناً طاہر علاو الدین قادری کی سوانح عمری میں پڑھ تھا کہ ایک روز انھوں نے ایک اسڑانومی کے پروفیسر کو اسڑانومی پر وہ لیکچر دیا کہ وہ حیران رہ گیا ۔میں سوچ رہا تھا کہ حضور بھی ایسی گفتگو فرمائیں ! اسی دن شام کو میں پیر صاحب کے پاؤ ں دبا رہا تھا ۔آپ نے سب کولنگر کھانے کا حکم دیا لیکن مجھے نہیںکہا اسی دوران دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کے ساتھ اسڑانومی کے موضوع پر بات چیت شروع کر دی اور اپالو گیارہ کے چاند پر جانے کا سارا واقعہ سنایا اور دیگر اسی قسم کے موضوع پر گفتگو فرمائی جونہی گفتگو ختم ہوئی مجھے حکم دیا کہ اب تم کھانا کھاؤ میں حیران رہ گیااور یوں میری خواہش پوری ہوگئی۔
3) اس کے بعد اسی سال دو محرم کو آپ کے پاس حاضری دی اور عرس تک وہاں ہی قیام کرنے کا ارادہ بنایا ۔ایک دن میں اور میرے ساتھی قریبی چشمے پر گئے ۔ میرے دوستوں نے وہاں کپڑے دھوئے۔ میں قریب اونچی جگہ پر بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ آپ کی صحیح خدمت کروں اورفیض حاصل کروں۔وہاں سے واپسی پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فوراً پوچھا اچھا تم درویشی مانگتے ہو کلمہ پڑھنا آتا نہیں اور خواہش درویشی کی کرتے ہو اس پر آپ نے نا چیز کو ضرب کے ساتھ کلمہ شریف پڑھنے کا طریقہ سکھایا۔
4) عرس مبارک کے دن تھے جب بھی آپ  کہیں تشریف لے جاتے تودو آدمی آپ کو پکڑ کرچلایا کرتے تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ تو پرانے خادم ہیں پتہ نہیں میری قسمت میں آپکے ساتھ چلنا کب ہوگا ۔ اسی لمحے آپ اٹھے اور نیچے لنگر خانے میں جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا ۔ میں بھی آگے بڑھا اور پیر صاحب کو سہارا دینے کا ارادہ ظاہر کیاآپ نے باقی سب کو منع کردیا اور فرمایا کہ یہ دونوں ہی کافی ہیں۔ دوسرے میرے ساتھ سید افتخار حسین شاہ صاحب تھے، آپ لنگر خانے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لے آئے ۔اس طرح ناچیز کی خواہش اسی لمحے پوری کردی ۔
دوسرے محرم کو جب حاضری دی تو حضور نے بڑے سخت لہجے میں فرمایا کہ نو محرم کو آنا تھاتم دو محرم کو ہی آگئے ہو پہلے وہ آتے ہیں جنہوں نے کام کرنا ہوتا ہے۔ میں نے اُسی دن لنگر خانے پر کام شروع کردیا سارا دن کام کرتا رہا اوررات کوجناب قلندر سید محمود الحسن شاہ صاحب خاکی کی محفل ذکر میں شامل ہوا اسی دوران حضور پیر صاحب نے اپنے لطف و کرم کی انتہا کردی اور آپ نے ساری عمر کے لیے دربار عالیہ پر عرس کے موقع پر جھنڈے اور بینر لگانے کی ذمہ داری سونپ دی اور ساتھ ہی سخت تاکیدفرمائی کہ کام یہ ذمہ داری کے ساتھ پورا کرنا ۔ اس کی حقیقت بعد میں واضح ہوئی جو میں آگے چل کر بیان کروں گا ۔
11محرم الحرام زندگی کا ایک یاد گار دن !
گیارہ محرم الحرام کو عرس مبارک ختم ہوا مجھے جو کام سوپنا گیا تھا وہ ختم کرنے کے بعد اجازت کے لیے پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ حضور راضی ہوجائیں او راتنا فرمادیں کہ میں تم سے راضی ہو ں۔ آپ نے فوراً پوچھا کہ کیا کرتے ہو میں نے عرض کی کہ حضور پڑھتا ہوں اور پڑھاتا ہوں آپ نے بہت خوش ہو کر فرمایا کہ بہت اچھا کرتے ہو۔ مجھے قریب آنے کا اشارہ فرمایا اور میرے ساتھ آپ نے ایک اور شخص کو بھی بلایا ۔
مجھے آپ نے اور قریب آنے کا اشارہ فرمایا۔ آپ نے اپنے ایک خادم کو الماری سے دستار والا لفافہ نکالنے کا حکم فرمایا ۔ دستاریں سامنے پھیلاکر کچھ دیر پیر صاحب پڑھتے رہے پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر ایک دستار ناچیز کے سرپر باندھی اور دوسری دوسرے آدمی کے سر پر باندھ دی اس کے بعد دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی نا چیز کے دل کی طرف کی اس کے بعد سب کودعا کے لیے حکم دیا ۔ آپ نے پہلے عربی میں اور بعد میں اردومیں بلند آواز کے ساتھ اور خاموشی کے ساتھ کافی لمبی دعا فر مائی ۔ اور فرمایا کہ اے اللہ میں انہیں ولیوں میں شمار کرتا ہوں ُتُو بھی انہیں ولیوں میں شمار کر ۔ اس طرح آپ نے خلافت عطا فرمائی اور ضروری ہدایات ارشاد فرمائیں۔ اس کے بعد تمام لوگوں نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا اور مبارک بادیں دیں۔ اس وقت نا چیز کی عمر ۲۵سال تھی ۔ میں واپس گھر چلاگیا ان دنوں پاکستان عوامی تحریک کا عوامی تعلیمی منصوبہ جاری تھا ۔ گجرات کا پہلا تعلیمی مرکز میں نے کھولا۔ کام شروع کیا اس میں بہت زیادہ مشکلات اور پریشانیاں آئیں ۔
پانچ ماہ کے بعد بڑی گیارھویں شریف پر دوبارہ حاضر ہوا۔ دل میں بے شمار وسوے تھے عجیب وغریب خیالات دل پر وارد ہوئے جو کہ ناقابل بیان ہیں ،تین دن قیام کرنے کے بعد واپسی کی اجازت لینے کے لیے دربار شریف میں حاضر ہوا۔ جونہی حاضر ہوا آپ نے فرمایا اچھا بیٹا میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ آپ کا یہ فرمانا تھا کہ تمام وسوے اسی لمحے ختم ہو گئے جن لوگوں نے میری مخالفت کی تھی، ان کے بارے میں بیان کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے خود ہی فرمایا کہ بیٹا میرے دربار میں بولنا گناہ ہے۔ جو میرے سامنے بولتے ہیں انہیں گناہ ہوتا ہے۔ تم آتے ہو خاموشی سے بیٹھتے ہو، واپس چلے جاتے ہو۔ مجھے سب حالات کا پتہ ہے کہ تم کیوں آتے ہو۔ میرے دربار میں بیٹھنے کا یہی طریقہ ہے۔ آپ نے ایک واقعہ سنا کر میری تربیت فرمائی آپ نے فرمایا بیٹا ایک پیر صاحب تھے وہ بہت سخت طبیعت کے تھے۔ وہ ایک دفعہ کہیں جار ہے تھے ان کے پیچھے پیچھے ایک خلیفہ چلتا تھا۔وہ کچھ دور آگے گئے تو انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ آیا پیچھے خلیفہ ہے کہ نہیں۔ جب انھوں نے دیکھا تو پیچھے وہ نظر نہ آیا ۔انھوں نے غصے میںآ کر پھر پیچھے دیکھا تو ہر چیز پتھر بن گئی۔ اور ساتھ ہی فرمایااُسے کس نے روکا ہے۔ اس طرح آپ نے ایک مثال دے کر بے شمار چیزیںسمجھا دیں۔
خواب میںوصال کی پیشگوئی!
حضور پیر صاحب کے وصال مبارک سے پندرہ دِن پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک رات خواب میںپیر صاحب  کی توجہات ہوئیں۔ اور آپ نے اپنے جنازے کا منظر اور قبر مبارک کی جگہ خواب میں دکھا دی میںنے خواب میں دیکھا کہ سینکٹروں لوگ دربار کے باہر کھلی زمینوں میں جمع ہیں۔ اور میں تین آدمیوں کے ہمراہ دربار پر حاضر ہوتا ہوں اس کے بعد سیدھا لنگر خانے میں جاتا ہوں ۔ سامان وہاں رکھ کر واپس دربار شریف جانے کے لیے بڑے دروازے سے اندرداخل ہوتاہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے قبر ہے اور ساتھ ہی پیر صاحب کفن پہنے چار پائی پر لیٹے ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد لوگ آپ کو قبر میں اتارناشروع کر دیتے ہیں۔ میں بھی آگے بڑھ کر آپکو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ بیٹا تم دائیں طر ف وہاں کھڑے ہو جاؤ میںنے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد میری آنکھ کُھل جاتی ہے اور مجھے بہت خوف اور ڈرلگنا شروع ہوجاتا ہے۔ساتھ آٹھ دِن اسی کیفیت میں گزارتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ شاید مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔
اس کے بعد میںدربار عالیہ پر حاضری کے لیے جاتا ہوں۔میں سب سے پہلے جناب قلندرسید محمودالحسن شاہ صاحب کی خدمت میں سلام بجا لاتا ہوں۔ آپ مجھے اپنے پاس بیٹھنے کا حکم فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے ایک بات ہے۔ میں آپ کے پاس بیٹھا رہتا ہوں۔ اتنے میں ایک آدمی آتا ہے وہ آکر حضور پیر صاحب کے بارے میں پوچھتا ہے ۔ توسیدی و مرشدی پیر قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب اس سے فرماتے ہیں کہ حضور پیر صاحب تو دس دِنوں سے بیمار ہیںاور ملاقات بند ہے۔ آج کچھ ٹھیک ہیں آج دربار کھل جائے گا۔ ۱۲بجے تک میں جناب قلندر پاک کے پاس بیٹھا رہتا ہوں ۔
اس کے بعد جناب قلندر پاک اندر تشریف لے جانے کے لیے اُٹھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی مجھے بھی آنے کا اشارہ فرماتے ہیں اور مجھے تنہائی میں اپنا ایک خواب سناتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ دربار پر لگے جھنڈے اتر گئے ہیں۔ا ور میں تمہیں بلاتا ہوں کہ صدیقی جلدی کرو۔ جھنڈے اتر گئے ہیں تم انہیں دوبارہ لگاؤاور میں(یونس صدیقی) وہ جھنڈے دوبارہ لگا دیتا ہوں۔ اتنا بیان فرما کر جناب پیر قلند رسید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب اندر تشریف جاتے ہیں۔ شام تک دربار بند رہتا ہے۔ میں شام تک وہاں مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جھنڈے دوبارہ لگنے کا مطلب حضور پیر صاحب کے صحت یاب ہو جانے کی نشانی ہے۔صبح ناشتہ کرنے کے بعد حضور کی زیارت کا شرف حاصل ہوا آپ دربار سے ملحقہ کمرے میںپلنگ پر آرام فرمارہے ہوتے ہیں۔میں ساتھ ادب سے کھڑا ہو کر آپ سے عرض کرتا ہوں حضور آپ کتنے دِنوں سے بیمار ہیں ۔آپ تھوڑا سا اوپر اُٹھ کر فرماتے ہیں" پچیس چھبیس دِن ہوگئے ہیں "مجھے دل میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب آپ بالکل ٹھیک ہیں۔میرا سارا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ میں آپ سے واپسی کی اجازت مانگتا ہوں آپ فرماتے ہیں اجازت ہے۔ میں دست بوسی کرنے کے لیے جھکتا ہوں آپ مجھے سینے سے لگا لیتے ہیں۔ اور میری پشت پر دستِ شفقت پھیرتے ہیں اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دعا کر کے واپس گھر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔
وصال کے وقت تمام جانوروں بھی روئے !
۳۱ اکتوبر۱۹۹۴ء بمطابق ۲۵جمادی الاؤل کو میں شام کے وقت سات بجے کے قریب بچوں کو پڑھارہا تھاکہ تو اچانک مجھے غیبی طور پر بے شمار جانوروں کے رونے کی آوازیں آنے لگتی ہیں اور کافی دیر تک یہ آوازیں آتی رہتی ہیں۔ اس وقت میرا دِل خوف سے ڈوب گیا۔ اُسی رات کو خواب میںمیرے دادا جان مجھ سے چکوال کا کرایہ مانگتے ہیں ۔ صبح میں انتہائی پریشانی کے عالم میں گھر سے باہر چلا جاتا ہوں ۔جب گھر واپس آتا ہوں تو دربار سے ایک لڑکا پیرصاحب کے وصال مبارک کی خبرلے کر آتا ہے ’’اِناّاللہ واِنَّا الیہِ رَاجِعُوْن‘‘۔
اسی وقت میں اپنے ایک پیر بھائی کو ساتھ لے کر مخددم پور شریف پہنچ جاتا ہوں۔ جب وہاں پہنچتا ہوں تو عین اس خواب کے مطابق جو سرکار نے پندرہ دِن پہلے دکھائی تھی میں سیدھا لنگر خانے جاتا ہوں۔ سامان وہاں رکھ کر غمگین دِل کے ساتھ دربار کی طرف جاتا ہوں تو سامنے قبر مبارک
تیار ہو رہی تھی۔ لحد میں اتارتے وقت بھی ٹھیک اسی جگہ مجھے جگہ ملی جہاں میں نے خود کو خواب میں موجود پایا تھا۔
رحلت مبارکہ کے بعدجناب قلندر سید محمود الحسنشاہ خاکی صاحب سے پہلی ملاقات!
جب میں دربار عالیہ پر پہنچا اور آپ کی خدمت میںآداب بجا لایا تو سارا غم ختم ہو گیا اور دِل نے گواہی دی کہ یہی سید رسول شاہ خاکی ہیں۔ اِس کے بعد ایک آنسو بھی نہ گرا ۔اس دِن سے قلندر پاک کے لطف و کرم کی بارشیں شروع ہو گئیں اور اس حاضری کے بعد پیر قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب خواب میں جھنڈے اُتار کر دوبارہ ناچیز کے ہاتھوں لگنے کا سارا ماجرہ سمجھ میں آگیا۔پھر مسلسل خواب میں آپ کی قدم بوسی نصیب ہوتی رہی۔اور پیر صاحب کے ختم چالیسویں پر جس دِن آپ نے باقاعدہ گدی سبنھال کر بیعت کا آغاز کیا تو میں نے دِل ہی دِل میں تجدید بیعت کر لی۔ اس کے بعد آپ نے پورے پاکستا ن میں محافلِ ذکر شروع کروائیں تو ناچیز کو گھر پر چاند کی انیسویں شب محفل ذکر منعقدکرنے کا حکم عطا فرمایا ۔
i)۔ وصال مبارکہ کے بعد کافی دوستوں نے کہنا شروع کر دیا کہ حضور پیر صاحب چلے گئے ہیں ۔ لیکن سید رسول شاہ خاکی نے خواب میں آکر اپنی قبرِانور جو کہ بڑے محل کی صورت میں تھی دکھائی اور فرمایا کہ میں زندہ ہوں اور یہیں موجود ہوں اور بے شمار حقیقتوں سے پردہ اُٹھایا جو کہ ناقابلِ بیان ہیں ۔ الحمد اللہ پیر صاحب کے کرم کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔
قلندرسید محمود الحسن شاہ صاحب کے لطف و کرم !
i)۔ جناب پیر قلندر سید محمود الحسن شاہ صاحب نے پیر و شاہ کی سر زمین پر تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا حکم فرمایا آپ کے اس حکم کے بعد آتے ہی مجھے ایک ہائی سکول میں کنٹریکٹ پر دو سال کے لیے بطور سائنس ٹیچر ملازمت مل گئی۔ ان دو سالوں میں ایک مثالی ادارہ قائم کرنے اور اِس کا نظم و نسق چلانے کے لیے ضروری تجربہ حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے اپنا ادارہ قائم کر لیا جس کا نام آپ نے ہی مخدومیہ ماڈل ہائی سکول رکھااور اس کے اغراض و مقاصد وضع کر دیے۔ یہ ادارہ آناًفاناً ایک مثالی ادارہ بن گیا اور لوگ اس کی کامیابی دیکھ کر آج بھی حیرت زدہ ہیں۔
حضور تاجدارِ کائنات  کی زیارت!
ناچیز نے پہلے ہی سال اعتکاف قلندر سید محمود الحسن شاہ صاحب کے قدموں میں بیٹھنے کا ارادہ کیا ۔ تو آپ نے سولہ رمضان المبارک کوخواب میں حضور  کی نہ صرف زیارت کروائی بلکہ حضور نے اپنا دسِت شفقت بھی ناچیز کے دِل پر رکھا اور میری زبان سے بے اختیار درود و سلام جاری ہوگیا۔ساتھ ہی حضور  نے دعاؤں سے بھی نوازا اِس کے ساتھ ہی سیدنا عمر فاروق کی بھی زیارت کروائی ۔پھر اعتکاف جو حضور قلندر پاک کے قدموں میں کیا اس میں وہ سکون ملاجو دنیا میں کہیں نہیں مل سکتا۔ تصوف کے بے شمار رموز سکھائے اور باری تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ کروایا۔ ناچیز کو ایک نئی منزل اور خدمت کی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کے رموز سکھائے۔
دوسرا اعتکاف اس سے بھی زیادہ تربیت کا باعث بنا اور اس دوران بھی قلبی اور روحانی سکون اور اعتکاف کے حقائق سے پردہ اٹھا۔ یہ اعتکاف ایک قسم کا چلّہ تھا۔ اس میں میرے ساتھ پیر صاحب کے دو سینئر خلفا حافظ صفدر صاحب اور سید افتخار حسین شاہ صاحب تھے۔ یادرہے کہ یہ چلّہ پرانے وقتوں کے صوفیاء جنگلوں میں کرتے تھے اور اکثر کی اس میں موت واقع ہو جاتی۔ لیکن آپ نے اپنی خصوصی قلندری طاقت کے ذریعے ساری منازل انتہائی آسانی سے طے کروا دیں جس پر ناچیز آج بھی حیرت زدہ ہے۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>