بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

لیلۃ القدر کا نصیب ہونا!
اس اعتکاف سے پہلے جناب نے فرما دیا تھا کہ یہ اعتکاف حضور غوثِ پاک  کی خصوصی توجہات کے سائے میں ہوگا۔ ۲۴ رمضان المبارک کو قلندر پاک نے ناچیز کو واضح حکم فرمایا کہ پچیسویں رمضان المبارک کی رات کو ایک منٹ بھی سونا نہیںاس رات کو ساڑھے بارہ بجے لیلۃ القدر ہو گی۔ اس رات کو جو وظائف پڑھنے تھے وہ زبان پر نہیں آتے تھے یعنی زبان نہیں چلتی تھی اور نیند سخت غلبہ کرتی تھی۔ لیکن ناچیز کھڑے ہو کر ساڑھے بارہ بجے تک جاگتا رہا۔جب ٹھیک ساڑھے بارہ بجے تو قلندرسید محمود الحسن شاہ صاحب دامت برکا تہم عالیہ نے ناچیز پر توجہ فرمائی اور میری روح جسم سے نکل کر آپ کے سامنے حاضر ہوگئی۔ اس کے بعد میری روح نے حضور پیر صاحب کے مزار پر حاضری دی اور پھر ساری نیند ختم ہوگئی۔ اور ناچیز کا منہ خودبخود قبلہ کی طرف ہو گیا۔ زبان پر وظائف جاری ہو گئے اور بیداری کے عا لم میں آسمان سے لیلۃ القدر نازل ہوتے دکھائی دینا شروع ہوگئی۔آسمان پر سے گنبد خضراء شریف عجیب و غریب روشینوںاور انورار و تجلیات میں لپٹا ہوا مخدوم پور شریف کی مسجد پر اترا جہاں ہم لو گ اعتکاف کر رہے تھے۔ جب وہ انوارو تجلیات زمین پرپڑے تو پوری زمین بقعۂ نور بن گئی اور حجرہ مبارک میں روحانی روشینوں کے بلب روشن ہو گئے۔
یہ سب مناظر دیکھنے کے بعد ناچیز نے مسجد کی ٹوٹیوں سے پانی پی کر دیکھا تو وہ میٹھا تھا (جبکہ عام حالت میںکھارا ہوتا ہے)اور پانی نیم گرم تھا۔ ناچیز کے دِل پر باری تعالیٰ کے انوار و تجلیات کی ہیبت طاری ہوگئی۔ اس کے بعد کچھ یاد نہ رہااور سخت سردی لگنا شروع ہو گئی جو کہ تین دِن تک غالب رہی ایسے کہ جیسے جسم برف میں لگ گیا ہو۔ اس طرح آپ نے اپنے ایک ادنیٰ مرید کو ان حقیقتوں کا مشاہدہ کروایا جس کے لیے لوگ نہ جانے کتنی کتنی ریاضتیں اور مجاہدے کرتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے ایک اور چلہ گھر کے لیے عنایت فرمایا جس کے اختتام پر حضور نبی اکرم  کی زیارت مبارک سرخ ٹوپی(قلندری رنگ جو پیر صاحب استعمال کرتے ہیں) کے ساتھ ہوئی۔ جس سے سلسلے کے حق اور سچ ہونے کا اور قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب کے لطف و کرم کا حق وعین الیقین حاصل ہوا اور اس طریقے سے آپ نے مجھ گنہگار سیاہ کار بد کار شخص کو سلوک و تصوف کی راہیں چند تو جہات سے سمجھا کر،نا چیز کو اس کی زندگی کا مقصد سمجھا دیا اور بے شمار نعمتیں عطا فرما کر ساری عمر کے لیے یاد الہیٰ میں مشغول رہنے کا حکم فرمادیا۔
حضور پیر صاحب کی تحریک منھاج القرآن پر عنایات
حضور پیر سید رسول شاہ خاکینے تحریک منھاج القرآن کی سب سے زیادہ حمائت کی اور لوگوں کو اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہونے کا حکم بھی دیا۔ وہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے بہت محبت کرتے تھے اور انکی بہت تعریف فرماتے تھے۔آپ فرمایا کر تے تھے یہی ایک شخض ہے جو کہ دین کی صیحح معنوں میں خدمت کر رہا ہے۔ تحریک منھاج القرآن پیروشاہ(گجرات) کی بنیاد ناچیز نے رکھی تھی اور پیر صاحب کی توجہات کے زیر سایہ پیروشاہ میں دین کاکام ہوتا رہا۔ حضورپیر صاحب نے ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو حُکم فرمایاتھاکہ آپ تعلیمی منصوبہ شروع کردیں۔جب ڈاکٹر صاحب نے عوامی تعلیمی منصوبہ شروع کیا تو ضلع گجرات (پیروشاہ) میں پہلا عوامی تعلیمی مرکز ناچیز نے قائم کیا۔
مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اس مرکز کو مسجد میں ہی شروع کردیا گیا۔ تعلیمی منصوبہ کی اُٹھان دیکھ کر سیاسی وڈیروں نے مخالفت اور سازشیںشروع کر دیں۔ الغرض یہ منصوبہ بند کرنا پڑا مسجد کے سامنے جو بورڈ تھا وہ ناچیز نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ تنظیم نے فیصلہ کیا کہ آپ خود ہی بورڈ اکھاڑ دیں تاکہ مزید اختلافات جنم نہ لیں۔ میں نے وہ بورڈ اکھاڑ دیا۔ لوگوں نے میرا بہت مذاق اُڑایااور جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔ اسکے بعد چھوٹے عرس پر جب میں حضورپیر صاحب سے ملاتومیری خواہش تھی کہ وہ لوگ جومخالف ہیں ان کاذکر پیرصاحب سے کروں۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنی زبان سے یہ واقعہ آپ سے بیان کرتا آپ نے مجھے ایک ایمان افروز نصیحت فرمائی آپ نے فرمایا’’میرے آگے بولنا سخت گناہ ہے میرے دربار کا یہی اصول ہے کہ خاموشی سے بیٹھا جائے۔ یہ لوگ جو میرے سامنے اونچی اونچی آواز یں نکالتے ہیں انہیں کچھ نہیں ملے گا۔تم آتے ہو اور خاموشی سے بیٹھتے ہو مجھے پتہ ہے تم کیوں آتے ہواور تمہارا کیامقصد ہوتا ہے آئندہ بھی اسی طرح آنا اور خاموشی سے بیٹھاکرنا‘‘ ۔تھوڑے عرصے بعد وہی لوگ جنہوں نے مخالفت کی تھی وہ ذلیل وخوار ہوگئے۔ اس کے بعد تحریک اور زیادہ پھیل گئی اور سینکڑوں لوگ شامل ہوگئے اور ایک بہت بڑی جماعت بن گئی۔
پیر قلند سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب کی نوازشات
حضور پیرسید رسول شاہ خاکی صاحب کے وصال کے بعد حضور قلندرسید محمود الحسن شاہ صاحب نے اور زیادہ کرم نوازیاں فرمانا شروع کر دیںاور آپ کی توجہات کے باعث تحریک منھاج القرآن ،پاکستان عوامی تحریک پیروشاہ نے ایک نیا رُخ اختیار کیا اور ناچیز کو تحریک کی تحصیلی سطح کی ذمہ داریاں ملیںاور اِس طرح تحریک منھاج القرآن پیروشاہ پنجاب کی مثالی تنظیم بن گئی۔(یاد رہے یہ سب کچھ قلندر پاک کی توجہات کے باعث ہوا)
قلندر پاک کی ایک انوکھی کرامت
جب جنرل پرویز مشرف نے ناظمین کانیا نظام متعارف کروایا تو پاکستان عوامی تحریک نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جس دن مشرف صاحب کی تقریر ہوئی اس کے چند روز بعد ناچیز حضورپیر قلندرسید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب کی قدم بوسی کے لیے دربار پر حاضر ہوا۔ رات ایک بجے کے قریب آپ نے مجھے فرمایا اگر اب تنظیمات محنت کریں تو کامیابی ملنے کا امکان ہے اس فرمان کے چند دن بعد خواب کے ذریعہ قلندر پاک نے پیروشاہ کی نظامت ناچیز کودے دی۔ خواب کچھ اس طرح تھاکہ’’ہمارے گاؤں کے قریب ایک وسیع وعریض میدان ہے۔ میں وہاں کھڑاہوں PIAکی VIPفلائیٹ آئی ہے اور اس میں سے کچھ آرمی کے آدمی اُتر کر بتاتے ہیں کہ حکیم محمد الیاس صاحب کو اسلام آبادمیں بلایا گیا ہے میں انہیں اس طیارے میںسوارکراتاہوں۔جب یہ جہاز چلا جاتا ہے تو دوسری فلائیٹ آتی ہے اورکچھ آرمی کے افراد اُتر کر کہتے ہیںکہ یہ طیارہ آپ کے لیے ہے آپ بھی ہمارے ساتھ اسلام آباد جائیں گے اس طرح میں بھی اس جہاز میں سوار ہوجاتاہوں اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے‘‘۔
جب الیکشن قریب آیا تو تنظیم نے حکیم الیاس صاحب کو ناظم اور مجھے نائب ناظم کھڑے ہونے کا مشورہ دیا۔اس سلسلے میں ہدایات لینے کے لیے ناچیز قلندر پاک کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔15,14شعبان کی شب تھی قلندر پاک نے فرمایا ’’میں تو تم کو قلندر بنانا چاہتا ہوں تم پتہ نہیں کیا بننا چاہتے ہو‘‘ اس فرمان کے بعد میںنے خود الیکشن میں کھڑے ہونے کا ارادہ ترک کر دیا۔ جب حکیم صاحب الیکشن میں کھڑے ہوگئے توناچیز نے آپ کے دربارمیں عرض کی۔ آپ نے فرمایا انشااللہ تعالی پیروشاہ کی سیٹ پر قلندری چکر ہوگا اور دنیا دیکھے گی اور آپ الیکشن جیت جائیں گے۔جب ہم نے الیکشن مہم شروع کی تو پچاس سال سے قابض لوگوں نے ہمیں ہراساں کرنے کا ہر طرح سے منصوبہ بنایا۔لیکن ہر منصوبے کو قلندر پاک نے توجہات سے ختم فرمادیا۔کوئی شخض یہ یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ یہ لوگ جیت جائیں گے۔ لوگ کہتے تھے کہ انہوں نے مرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور یہ یقینا گولی کھائیں گے۔ لیکن قربان جاؤں قلندر پاک کی زبان پر آپ نے فرمایا ’’اگر آپ لوگوں کو گولی لگنی ہے توپھر ہم آپ لوگوں کے پیر کس لیے ہیں۔انشااللہ کچھ نہیں ہوگاتم ہی غالب آؤگے اور سیاسی وڈیرے شکست کھائیں گے‘‘اور پھر دُنیا نے دیکھا کہ تحریک کو فتح حاصل ہوئی۔
پچاس سال سے قابض سیاسی وڈیرے سوچنے پر مجبور ہوگئے اور ان کی زبانیں بول اُٹھیں کہ واقعی یہ قلندر پاک کی کرامت اور توجہات اور طاقت کا عملی نمونہ ہے کہ حکیم الیاس صاحب جیسے غیر معروف شخض کو اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوںکہ قلندر پاک نے ایک ہفتہ پہلے الیکشن جیتنے کی بشارت دے دی تھی جوکہ ناچیز نے حکیم صاحب (جوآج کل ناظم ہیں) کو بتادی تھی۔حکیم محمد الیاس صاحب آج بھی ناظم ہیں اور بڑی کامیابی سے مطب الخاکی اور نظامت چلارہے ہیں۔یہ واقعات اختصار کے ساتھ تحریر کئے ہیںکہ ہر خاص وعام کوقلندر پاک کی طاقت وعظمت کا اندازہ ہوسکے اورساری دنیا آپ سے دین اور دُنیا کافائدہ حاصل کرسکے۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کا سایہ ہم پر تاقیامت رکھے۔(امین )
طالبین کے لیے ناچیز کا مشورہ!
یہ تمام باتیںمیں نے حضور پیرقلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب کے حکم سے تحریر کی ہیں تاکہ جو اس کتاب کو پڑھے وہ سچا طالب بنے اور قلندر پاک تک پہنچ کر اس دورِ پرفِتن میں روحانیت کا حقیقی مشاہدہ کر سکے ۔ تصوف کی اصل کو دیکھ کر دین اسلام کے باطنی اور روحانی گوشوں کا احاطہ کر سکے۔یہ چند واقعات ہیں ورنہ ہر لمحہ دین و دنیا کے معاملات میں آپ کی تو جہات ہر سچے طالب پر جاری ہیں ۔ اگر انہیں تحریر میں لایا جائے تو سینکڑوں کتب بن جائیں۔

٭٭٭٭٭٭٭

خلیفہ میاں سردار محمد صاحب اور خلیفہ حاجی صوفی صدیق
صاحب کا بیعت کرنے کا دلچسپ واقعہ

جناب صوفی صدیق صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اور میرے دوست جناب میاں سردار محمد صاحب نے یہ ارادہ کیا تھا کہ جب بیعت ہوں گے تو ایک ہی جگہ ہوں گے ۔ ہم دونوں دوست تھے اور کافی جگہ بیعت کے لئے جاتے رہے مگر ہمارا دل کہیں بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران ہمیں ایک بزرگ ملے اور انہوں نے ہمیں کافی وظائف بتائے کہ یہ وظائف کرو ۔ ہم نے یہ وظائف شروع کر دیے۔ پھر ایک رات ہماری قسمت جاگ اٹھی ہمیں خواب میں اشارہ ہوا کہ سرگودھا چلے جاو ہم خواب میں ہی سرگودھا چلے گئے ۔ جب ہم کمپنی باغ کے پاس پہنچے تو ہمیں ایک بزرگ ملے جو گدڑی پہنے ہوئے تھے ۔ وہ بزرگ ہمیں ہوٹل پر لے گئے وہاں انہوں نے ہمیں ایک دودھ کا گلاس اور سردار محمد صاحب کو چائے کا ایک کپ پلایا اور کہا کہ فوراً پی لو ہماری ڈیوٹی ختم ہو چکی تھی ہم پتا نہیں کہاں جا رہے تھے کہ اچانک ہماری ڈیوٹی یہاں لگا دی گئی پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ ہمارے گاؤں پنڈی سید پور آئیں گے ۔ پہلے تو وہ نہ مانے پھر بے حد اصرار کرنے پر انہوں نے وعدہ فرمایا کہ میں جمعرات کی رات پنڈی سید پور آؤں گا اتنے میںمیری آنکھ کھل گئی۔ صبح صبح ہی میں میاں سردار صاحب سے ملا اور رات والا سارا خواب انہیں سنایا اور بتایا کہ سرگودھا میں کوئی ہستی ہیں سائیں جمال نام کی۔ میاں سردار صاحب نے کہا کہ چلو ابھی سرگودھا چلتے ہیں ہم اﷲ کا نام لے کر سرگودھا کے لئے روانہ ہو گئے ہم بڑی مشکل سے سرگودھا جانے والی ٹرین پر سوار ہوئے ہم جس ڈبے میں بیٹھے اس میں دس بارہ فوجی بینڈ والے تھے انہوں نے ہم سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ہم نے انہیں بتایا کہ ہم سرگودھا جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنے پاس بٹھایا اور بتایا کہ ہم بھی سرگودھا جا رہے ہیں۔ راستے میں وہ بینڈ والے آ پس میں باتیں کر نے لگے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ استاد جی آج کل سر گودھا میں روحانی حکومت کس کی ہے وہ کہنے لگا ویسے تو کافی بزرگ ہیں لیکن سائیں جمال کا اختیار لگتا ہے کہ سب پر ہے ۔
ہم ان کی بات سن کردل ہی دل میں بہت خوش ہوئے کہ یہ بھی سائیں جمال کو جانتے ہیں پھر میں نے ان بینڈ والوں سے پوچھا کہ آج کل سایئں جمال کہاں مل سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ سرگودھاریلوے پھا ٹک پر زیادہ ملتے ہیں ویسے وہ گھومتے رہتے ہیں۔ جب ہم سرگودھا پہنچے تو سیدھے پھاٹک پر جانے کا ارادہ کیا کہ ہو سکتا ہے کہ سایئں جمال ہمیں وہاں مل جائیں جونہی ہم پھاٹک پر پہنچے تو سامنے وہی شخص جو مجھے خواب میں ملا تھا کھڑا تھا ۔اس نے مجھے دیکھا تو فوراً مجھ سے مصا فحہ کیا اور ہم سے کافی آگے چلا گیا ۔ہم کھڑے رہے ۔میں نے میاں سردار صاحب سے کہا کہ یہ وہی آدمی ہے جو مجھے خواب میں ملا تھا۔میاں صاحب نے کہا چلو ہم بھی اس کے پیچھے چلتے ہیں۔جب ہم اس کے پیچھے گئے تو وہ فوراً ایک ہوٹل میں گئے ہم بھی ہوٹل میں گھس گئے اس شخص نے فوراً بیرے کو بلایاخود درمیان میں بیٹھ گئے ۔ہمیں دائیں بائیں بٹھا لیا اور ہوٹل والے سے کہا ایک کپ دودھ اور دو کپ چائے دے دو۔ہوٹل والے نے حکم کی تعمیل کی انھوں نے دودھ مجھے (یعنی صدیق صاحب)کو پیش کیا اور چائے ایک کپ خود اور دوسرا کپ میاں سردار صاحب کو دے دیا۔
یہ منظر دیکھ کر مجھے خواب و لا سارا منظر یاد آ گیا ۔میں بے احتیاط رونے لگ پڑا۔ ہوٹل والے اور کچھ لوگ مجھے دیکھنے لگے کہ صوفی صاحب کو کیا ہو گیا ہے۔تو اس بزرگ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ رونے کی ضرورت نہیں ہے میں پتہ نہیں کہا جا رہا تھا۔میری ڈیوٹی آپ پر لگا دی گئی ہے ہم چائے سے فارغ ہو کر ان کے ساتھ ہی باہر نکلے وہ کمپنی باغ کی طرف چل پڑے ہم بھی ساتھ ساتھ ہو لیئے میں نے ان سے عرض کی کہ وعدہ کریں کہ آپ ہمارے گاؤ ں آئیں گے مگر وہ نہ مانے بالا خر بڑی منت سماجت کے بعد مان گئے اور فرمانے لگے کہ مجھے اگلی جمعرات حضرت بری امام اسلام آباد جانا ہے آپ کو مل کر آگے چلا جاؤں گا آپ جامع مسجد میں موجود رہنا۔جب انہوں نے ہمیں یہ کہا تو ہم بڑے حیران ہوئے کہ انہیں ہمارے گاؤں کی جامع مسجد کا کیسے پتہ ہے۔ ہم نے آپس میں کہا کہ واقعی یہ تو اللہ کا ولی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب مجھے اجازت دوتم جدھر سے آئے ہو وہاں جاؤ اور مجھے کہیں اور جانا ہے ۔وہ ساتھ ہی درختوں کے جھنڈ کی طرف گئے اور وہاں سے غائب ہو گئے ۔ہم پھر پھاٹک کی طرف گئے اور پوچھا کہ سائیں جمال کہا ں تشریف رکھتے ہیں انھوں نے بتایا کہ وہ جو سامنے جنگلہ ہے وہاں زیادہ بیٹھتے ہیں ۔ہم وہاں
چلے گئے تو وہاں دو درویش بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان سے پوچھا کہ سائیں جمال کس وقت تشریف لائیں گیں تو وہ کہنے لگے کہ ان کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے ۔ہم تقریباًدس منٹ ہی بیٹھے کہ اچانک سا ئیں جمال تشریف لے آئے ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے ۔ہم ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے وہ ہمیں دیکھتے ہوئے اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ہمیں باجے والوں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی تھی کہ سائیں جمال فروٹ بہت پسند کرتے ہیںاور روپے پیسوں کی طرف آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے ۔جب وہ اپنی جگہ بیٹھے تو ہمیں گالیاں دینا شروع کر دیں کیوں یہاں آئے ہو ۔پھر گالیاں نکال کر کہنے لگے کیا لینے آئے ہو ۔اور میرے لئے کیا لے کر آئے ہو ۔ہم نے ان کے لئے انگور بھی لئے تھے۔
ہم نے فوراً انگور پیش کئے۔سائیں جمال نے انگور لے کر اس کا گولا سا بنایا اور اوپر ہوا میں اچھال دیا۔جب وہ لفافہ نیچے گرا تو بالکل ٹھیک تھا۔وہ لفافہ جس جگہ گرا وہیں پڑا رہا۔ پھرہمیں کہا کہ بس یہی لے کر آئے ہو میرے لیئے اور کوئی رقم نہیں لے کر آئے۔میں نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا میری جیب میں تین چار سو روپے تھے وہ میں نے پیش کر دئیے مجھ سے پیسے لیکر انہوں نے زمین میں دفن کر دیئے اور فوراً ایک کوڑا پکڑااور میرا سر پکڑ کر نیچے کیا اور میری کمر میں کوڑا دے مارا اور پھر مجھے چھوڑ کر جیسے ہی میاں سردار کو پکڑنے لگے وہ فوراً پیچھے بھاگ پڑے اور اپنے آپ کو کوڑا نہ لگنے دیا ۔مجھے کوڑا مار کر کہنے لگے کہ جاؤ اٹھ جاؤ یہاں سے۔ دو درویشوں نے ہمیں پکڑ کر اٹھا دیا اور کہنے لگے کہ اب آپ فوراً یہاں سے چلے جائیں آپ کا کام ہو گیاہے ۔ پھر ہم وہاں سے سیدھا اپنے گھر پنڈی سیدپور آ گئے۔ تین دن بعد جمعرات تھی جس دن کا اس گدڑی والے نے آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہم حسب وعدہ جمعرات کو مسجد میں دروازے کے پاس پہنچے رات ایک بجے تک ہم نے انتظار کیا مگر وہ شخص نہ آیا ایک بجے میاں صاحب اپنے گھر چلے گئے اور میں اپنے گھر چلا گیا جب میں چارپائی پر لیٹا تو فوراً آنکھ لگ گئی آنکھ لگی ہی تھی کہ وہ شخص خواب میں آ گیا اور کہنے لگاکہ یاری تو نہ ہوئی میں اتنی دور سے آپ کو ملنے کے لئے آیا ہوں اور آپ یہاں سوئے ہیں۔ پھر میں خواب میں ہی اس کو گلے ملا اس کے بعد وہ کہنے لگا اب مجھے اجازت دیں میں نے بری امام اور شاہ لطیف جانا ہے میںنے ان سے کہا کہ میں آپ کو کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ صوفی آپ ضد بہت کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا کھانا تیار کرو جو جلدی پک جائے میںنے ان سے کہا کہ آپ ہی بتائیں کہ کیا کھائیں گے وہ کہنے لگے کہ دودھ کی کھیر بنا لیں جلد تیار ہو جائے گی ۔
میں نے فوراً کھیر بنائی اور دو پیالوں میں ڈال کر پیش کی وہ کہنے لگے نہیںہم ایک ہی پیالا لیں گے دو چمچے ایک ہی پیالے میں رکھے پھر ہم نے کھیر کھائی۔ کھیر کھانے کے بعد میں نے کافی کوشش کی کہ وہ مجھے اپنا نام بتائیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تمہاری سب باتیں مانی ہیں مگر یہ نام والی بات نہیں مانی جائے گی پھر وہ کہنے لگے کہ جو آپ نے اتنا لمبا سفر کیا ہے اور جس کے لئے میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی آپ مخدوم پور چکوال تشریف لے جائیں آپ کا مقصد حل ہو جائے گا اور مجھے اجازت دیں پھر چکوال کا سارا نقشہ خواب میں دکھا دیا گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ چلیں میں آپ کو تھوڑا آگے چھوڑ آؤں وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے مگر میں بضد ہو کر انہیں چھوڑنے کے لئے کھڑا ہوا۔ ہماری گلی کے آگے ایک موڑ پڑتا ہے جب موڑ کے نزدیک پہنچے تو وہ ذرا تیز ہو گئے مجھ سے چند قدم آگے نکل گئے موڑ مڑتے ہی میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی پھر میں نے صبح سردار صاحب کا پتا کیا مگر وہ مجھے سارا دن نہ ملے شام چار بجے میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے رات والی تمام بات ان کو بتائی۔ میاں صاحب فرمانے لگے کہ اب ہمیں چکوال جانا پڑے گا ۔چلو ابھی چلتے ہیں میاں صاحب نے اپنے گھرنہ بتایا اور نہ ہی میں نے۔ شام ساڑھے چار بجے گھر سے پیدل ہی چکوال روانہ ہو گئے کیونکہ اس وقت بسیں نہیں ہوتیں تھی ہم گھر سے براستہ غریب والا سویٹ فیکٹری اور جوتانہ آڑہ بشارت کے راستے چل پڑے جب جوتانہ پہنچے تو عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تھا ہم نے ارادہ کیا کہ رات یہاں مسجد میں گزارتے ہیں اور صبح یہاں سے چل پڑیں گے ہم نے وضو وغیرہ کیا اور مسجد میں داخل ہو گئے اﷲ عزوجل کا خاص کرم ہے کہ اس نے مجھے آواز کی لذت سے مالا مال کیا ہے پھر میں نے آذان دی اور کچھ لوگ آ گئے میاں صاحب نے جماعت کروائی نماز کے بعد وہ لوگ ہم سے پوچھنے لگے کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں ۔
ہم نے انہیں بتایا کہ پنڈی سید پور سے آئیں ہیں اور چکوال جانا ہے پھر وہ ہمیں گھر لے گئے اور کھانا وغیرہ کھلایا اور رات ہم نے وہیں بسر کی اور سحر ی کے وقت ہم چکوال کے لئے نکل پڑے اور براستہ سلوئی ہوتے ہوئے ہم چکوال کے ساتھ ہی علاقہ جوک پہنچ گئے وہاں ہمارے کچھ رشتہ دار رہتے تھے رات ہم نے ان کے پاس بسر کی۔ صبح ہونے پر ہم وہاں سے نکلے اور دن بھر وہی خواب والا نقشہ ڈھونڈتے رہے اور تقریباً ظہر کے وقت ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے جو کہ مرید تھی ہم نے ارادہ کیا کہ ظہر کی نماز یہاں ادا کرتے وہاں ہماری ملاقات ایک شخص(گوہر شاہ ) سے ہوئی جس نے ہمیں کھانا کھلایا۔ کھانے کے بعدہم نے اس سے پوچھا کہ یہاں کوئی پیر صاحب ہیں ؟ یا کوئی اﷲکا بندہ جس کا ڈیرہ کہیں باہر ہو۔ گوہر شاہ کو معلوم تھا لیکن اس نے ہمیں نہیں بتایا ۔گوہر شاہ اس وقت حضرت پیرسید رسول شاہ خاکی صاحب کا مریدنہ تھا پھر وہاں سے ہم ہوائی اڈا کی طرف نکل گئے ساتھ ہی قبرستان بھی تھا وہاں بھی ڈھونڈا مگر کوئی بات نہ بنی ۔جو سڑک تلہ گنگ کی طرف جاتی ہے وہاں آکر ایک شخص سے پوچھا کہ یہاں کوئی پیر صاحب رہتے ہیں اس نے کہا آپ یہاں سے تھوڑا آگے چلے جائیں۔
جیسے ہی ہم ڈیرے کے قریب پہنچے مجھے خواب والا سارا نقشہ یاد آگیا میں نے میاں صاحب سے کہا کہ ہم منزل مقصود تک پہنچ چکے ہیں۔یہی وہ ڈیرہ ہے جو مجھے خواب میں نظر آیا تھا اس وقت وہاں صرف ایک چھوٹی حویلی اور ایک مکان تھا ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا تو بارہ سال کا ایک بچہ سامنے آیا ہم نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ہم پیر صاحب سے ملنا چاہتے ہیں وہ اندر گیا پیر صاحب کو جا کر بتایا اور پھر ہمیں ساتھ لے کر اندر گیا۔ جناب پیر صاحب  اندر تشریف فرما تھے ہم نے قدم بوسی کی حضرت پیر صاحب نے ہم سے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں کہاں سے تشریف لائے ہیں اور کیا چاہتے ہیں ہم نے کہا کہ ہم تو بڑی مشکلوں سے آپ کے پاس پہنچے ہیں بس آپ نظر رحمت فرما دیں حضور پیر صاحب نے فرمایا کہ تم یہاں کیا لینے آئے ہو۔ کسی اور گدی پر جاؤ تمہار ے نزدیک جاری پور ہے وہاں پیر فضل شاہ ہے سلطان باہو سیال شریف ہے وہاں جاؤ یہاں کیا ہے نہ تو میں پیر ہوں اور نہ ہی مرید بناتا ہوں کوئی پیر تلاش کرو جوکہ آپ کو مرید بنالے۔ میں نے عرض کی حضور ہم نے بڑی مصیبتیں جھیلی ہیںاب یہاں تک پہنچنے کے بعد ہم واپس کسی اور آستانے پر نہیں جائیں گے۔ یہاں ہی مر جائیں گے ۔پھر پیر صاحب نے کہا نماز ادا کرو اور باہر برآمدے میں سو جاؤ جب رات کے دو بجے تو پیر صاحب نے آواز دی کہ اندر آجاؤ جب ہم اندر داخل ہوئے تو پیر صاحب نے فرمایا کہ میرے لئے آرڈر آ گیا ہے اب تم بتاؤ کیا چاہتے ہو ہم نے بیعت کے لئے درخواست کی ہماری قسمت جاگ اٹھی اور پیر صاحب نے رات کے ڈھائی بجے بیعت کیا پھر صبح ہم پیر صاحب کی اجازت سے واپس آگئے ۔اس طرح ہم اپنا مقصد پانے میں کامیاب ہوگئے۔
بقول اقبال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.