بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

﴿ باب چہارم ﴾

واقعات خادمینِ دربار

بی بی گلاب خاتون عرف اماں ڈھوڈے والی

بی بی گلاب خاتون صاحبہ (جو کہ ڈھوڈہ، چکوا ل کی رہنے والی ہیں) وہ خوش نصیب ہیں کہ جنہیں جناب پیرسید رسول شاہ خاکی صاحب کی میزبانی کا بہت دیر تک شرف حاصل رہا۔ جب پیر صاحب پاکستان ڈھوڈہ گاؤں میںتشریف لائے تو گلاب خاتون صاحبہ کے گھر کو آپنے اپنی قیام گاہ بنایا۔ انہوں نے پیر صاحب کی خوب خدمت کی اپنے چند واقعات بتائے ہوتے کہتی ہیں کہ میں نے پیر صاحب کو خواب میں دیکھا (یہ جناب کے ڈھوڈہ تشریف لانے سے پہلے کی بات ہے) خواب کچھ اس طرح ہے کہ جناب پیر صاحب باہر سے تشریف لاتے ہیں اور مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ یہ نورانی چہرہ پہلے کبھی نہیں دیکھا خُدا جانے یہ کون ہیں۔اِس خواب کے کافی عرصہ بعد اسداللہ شاہ صاحب پیر صاحب کو لے کر ہمارے گاؤں آئے۔ آپ نے مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینا شروع فرما دیے ۔ ایک دن میں جناب کی زیارت کے لیے گئی۔ آپمسجد میں رہتے تھے میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ پیر صاحب کو اپنے گھر میں نہ رکھ لیں۔ میرا خاوند راضی ہو گیا پھر آپ نے ہمارے گھر قیام فرمایا۔ہمارے گھر چلہ کشی کی اور فرمایا کہ اگر میں دوران چلہ مر جاؤں تو مجھے یہاں ہی دفنا دینا ۔ چلہ کے
دوران پیر صاحب کافی کمزور ہو گئے تھے ۔اسی کمزوری کے باعث ایک دن گر پڑے اورسر میں چوٹ آگئی۔ سفید چمونے کی طرح کے کیڑے جناب کو پڑگئے تھے ۔جب حضور چِلّے سے باہر آئے تو باہر آکر اپنے جسم سے کیڑے اتار کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے۔
دو سال تک وہاں رہے آپ آدھی روٹی تناول فرماتے تھے۔ وہاں جناب کی ایک کرامت دیکھی کہ مکان کے اندر پودے لگے تھے انہیں بکری کے بچے نے کھا لیا۔ سرکار نے فرمایا یہ بکری کا بچہ مر جائے کیونکہ اس نے میرا پودا کھا لیا ہے اس پر میرا بچہ رونے لگا ۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا ۔اس دوران بکری کا بچہ زمین پر تڑپنے لگا یعنی جونہی پیر صاحب  کے منہ سے بات نکلی وہ اسی وقت گرپڑا ۔ اس پر میں نے آپ سے عرض کی کہ جناب میں آپ کی خدمت کرتی ہوں اسے بچا لیں ۔ اس پر آپ نے کچھ پڑھ کر بکری کے بچے پر پھونک ماری وہ صحیح سلامت کھڑا ہو گیا۔
جس مکان میں پیر صاحب رہتے تھے ،وہ مکان درس کے لیے وقف کردیاگیا تھا ۔ پھر وہاں سے حضور مخدوم پور شریف تشریف لے آئے۔ ہر جمعرات اور جمعہ کو جناب روزہ رکھتے تھے ۔ایک دن سحری کے وقت میرے خاوند روٹی لے کر گئے حضور نے روزہ رکھنا تھا۔ میر ے خاوند کے روٹی لے جانے پر آپ سخت غصہ میںآ گئے۔ برتن پھینک دیے وہ اس لیے کہ روٹی دینے کی ڈیوٹی میری تھی اورغلطی سے میرا خاوند روٹی لے کر چلا گیا۔جناب نے دروازہ اندر سے بند کر لیا پھر دروازہ چیر کر حضور کو اندر سے باہر نکا لا ۔ اس کے بعد معافی مانگی اور پھر میں ہی روٹی لے کر جاتی تھی ۔چّلے کے دوران جو بھی کام ہوتا تھا حضورپیر صاحب  مجھے چٹ پر لکھ کر دیتے تھے۔ میں پڑھ کر انہیں چیز مہیا کر دیتی تھی ۔ ایک واقعہ یوں ہوا کہ میرے گھر والے کو کسی نے میرے بارے میں شک میں ڈال دیا ۔وہ حضور کے چلّے والے مکان کے دروازے پر آکر کھڑا ہو گیا۔ ایساکرنے پر اس کے ساتھ جو ہواوہ خود بتاتا ہے کہ مجھے ایسے لگا کہ جیسے میری آنکھیں کسی نے بند کر دی ہیں اور اس دوران تین افراد گھوڑوں پر آئے۔ ایک نے بتایا کہ میں جناب پیر صاحب کا والد ہوں دوسر ے نے فرمایا کہ میں حضور کا دادا جان ہوں تیسرے کے متعلق یا د نہیں اور مجھے اشارے سے کہا کہ حضور پیر صاحب کو نقصان نہیں پہچانا ورنہ تمھارا برا حال ہوگا۔ڈر سے مجھے پسینہ آگیا میں نے آکر توبہ کی اور معافی مانگی۔پھر جب لوگ ایسی بات کرتے تھے تووہ کہتا تھا کہ نہیں پیر صاحب بالکل ٹھیک آدمی ہیں۔
جب میں خدمت کرتی تھی تو جناب نے فرمایا کہ اگر میںمر جاؤں یا بیمار ہوں جاؤں تو کیا کروگی میں نے عرض کی کہ شریعت کیا کہتی ہے؟بندہ بلا کرلاؤں گی ۔ آپ نے فرمایا بڑھیا میں تو آپ کو ماں سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں بھی آپ کو بیٹا کہتی ہوں۔ اس پر آپ بہت خوش ہوئے۔ ان سے میں جب مخدوم پور ملنے آتی تھی تو سا را دن روتی تھی۔ حضور پیر صاحب تادمِ حیات مجھ سے ہمیشہ راضی اور خوش رہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭

استاد یٰسین صاحب کے واقعات

اﷲ تعالی سورۃ کہف میں ارشاد فرماتے ہیں ترجمہ۔ ’’اور رُوکے رکھیے اپنے آپ کو ان لوگوں کو ساتھ جو صبح و شام پکارتے ہیں اپنے رب کو اور طلب گار ہیں اس(اللہ) کی رضا کے اور نہ ہٹیں آپ کی نگاہیں ان سے‘‘۔
اﷲ تعالی کے نیک بندوں کے ساتھ جڑ جانا ان کی خدمت میں ادب میں فرمانبرداری میں ساری عمر گزار دینا مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں آتا ہے اور ساری عمر اس طرح استقامت کے ساتھ گزار دینا بیعت کا حق ادا کر دینے کے مترادف ہے اور اصل بیعت یہی ہے۔
انہیں چند لوگوں میں جنہوںنے اپنی ساری عمر بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کمال ادب سے اور خدمت میں گزاری ہو اُستاد یٰسین صاحب کا شمار ان صاحب استقامت لوگوں میں ہوتا ہے۔پیر صاحب کے مال مویشیوں کی خدمت آستا نے پرآنے جانے والے سے شفقت اور پیارکرنا،پانچ وقت کی جماعت کروانا ،بچوں کو دونوں وقت قران کریم پڑھانااور جناب کی خدمت میں بھی خاصا وقت دینا ان کے مرید صادق ہونے کی دلیل ہے ۔
دور سے کبھی دیکھیں بچوں کو درس دے رہے ہوں توحضور خاکی شاہ صاحب کا گمان ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ پیر صاحب تشریف فرما ہیں یہ جناب یٰسین صاحب کی پیر صاحب سے محبت کی دلیل ہے ۔
بیعت ہونا
1958 میں ایک دن میں بیعت کے لئے حاضر ہوا یہی خیال تھا کہ سرکار جلد ہی بیعت فرمائیں گے مگر کافی دیر ہوگئی حتی کہ ظہر اور عصر کاوقت ہوگیا۔ میں نے نماز عصر پیر صاحب کے ساتھ ادا کی نماز کے بعد میری حاضری کا وقت آگیا سرکار نے مسجد میں ہی بیعت فرما لیا اور فرمایا کہ اب خوش ہیں پھر میں دو تین دن لگا تار حاضر خدمت ہوتا رہا۔
نماز میں سرور آنا
ایک دن پیر صاحب نے فرمایا کہ’’ اب نماز میں سرور آتا ہے کہ نہیں‘‘۔پیر صاحب کا یہ جملہ بہت ہی معنی خیز تھا کیونکہ بیعت سے پہلے مجھے نماز میں سرور نہیں آتا تھا۔ دل میں مختلف وسواس جنم لیتے تھے میں دل میں یہ سوچا کرتا تھا کہ ایسی نماز کا کیا فائدہ مگربیعت کے بعد مجھے نماز میں سرور ملنے لگا ۔ پیر صاحب مدتوں پہلے کی حالت سے اگاہ تھے اسی لئے توآپ نے فرمایا تھا کہ نماز میں سرور آتا ھے کہ نہیں۔ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ جناب اپنے ہونے والے مرید کو خواب میں پہلے ہی آگاہ کر دیتے تھے۔
میاں یہ بھی چلے گا وہ بھی چلے گا
میں ایک دن حضور پیرصاحب کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ۔ جناب نے پوچھا کہ شادی کی ہے۔میں نے عرض کی جی حضور کر چکا ہوں پیرصاحب نے فرمایا کہ تمھاری ڈیوٹی تو ہمارے ساتھ ہے ۔پھر فرمایا ٹھیک ہے میاں یہ بھی چلے گا وہ بھی چلے گا ۔سرکار نے فرمایا کہ ملازمت کرو اس بات کی مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی بہر حال جب بھی میں ملازمت سے گھر آتا تو پہلے سیدھا پیرصاحب کے پاس جاتا ۔
ایک دن میں جناب کا تصور کر کے بیٹھا ہوا تھا دل چاہ رہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ کرآستانہ عالیہ پر چلا جاوںجناب نے میری عرض سن لی ۔صبح میں ڈیوٹی پر گیا تو سرکار کا خط ملا کہ میں مدینہ شریف جا رہا ہو ں آپ نے یہاں آستانہ پر ڈیوٹی دینی ہے ۔ میں نے دوسرے ہی دن چھٹی لے لی اور گھر آگیا ۔ میرے آنے سے ایک دن قبل جناب مدینہ کے لئے روانہ ہو گئے تھے۔ پیرصاحب گھر بتا کر گئے تھے کہ یٰسین آ جائے گا فکر نہ کریں۔ اب سرکار کی اس فقرے کی سمجھ آئی کہ میاں یہ’’ بھی چلے گا وہ بھی چلے گا‘‘۔
سرکار کے چہرہ پاک کی تابانی!
ایک رات پیرصاحب چارپائی پر تشریف فرما تھے ۔ میں سرکار کو دبا رہا تھا۔ پیرصاحب دربار عالیہ کے باہر صحن میں تشریف فرما تھے رات چودھویں کی تھی چاند اپنے پورے آب و تاب پر تھا ۔ سرکار کے چہرے کا حسن عجیب و غریب تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔میں جناب کے چہرہ انور کو دیکھتا ہی جا رہا تھا ۔میری یہ
کیفیت دیکھ کر سرکار نے فرمایا کہ ایک دن حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے حضور  بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے ہی چاند کی چاندنی تھی حضور  نے فرمایا کہ کیا چاہتے ہو اس پرسیدناحضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ جناب آپ  کا چہرہ انور ہو اور میری آنکھیں ہوں میں یہی چاہتا ہوں ۔
16 کلو میٹر روز طے کرنا
میں رمضان المبارک میں روزانہ اپنے گاوں سے سرکار کے لئے دودھ لے کر آتا تھا رات کوحضور پیرصاحب کو دباتا تھا پھر صبح واپس چلا جاتا تھا۔ میں روز سولہ سترہ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتا تھااور مجھے کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی یہ صرف اور صرف جناب کی خصوصی نظر کے بدولت تھا ۔ اتنا فاصلہ روز طے کرنا اور رات کا کافی حصہ جاگ کر گزارنااور گھر واپس جا کر پھر گھر کے کام بھی کرنا یہ سب کچھ جناب کی نظر کی بدولت ہی ہوتا تھا۔
دن رات کے معمولات
پیرصاحب کی نگاہِ کرم تھی کہ آپ نے مجھے اپنی نوکری کے لئے چن لیا تھا۔ میرا معمول کچھ اس طرح کا تھا کہ صبح میں نماز تہجد پڑھتا پھر آذان سے لے کر نماز فجر کے درمیان (اس وقت کنویں ہوتے تھے ہاتھ سے پانی نکالانا پڑتا تھا ۔)پچاس ٹین(سولہ کلو گرام کا ایک ٹین ہوتا ہے) پانی کنویں سے نکالتا تھا۔پھر جماعت کرواتا نمازفجر کے بعد گھر کے کام کرتا مثلاًگائے رکھی ہوئی تھی ان کا دودھ دھونا۔ ان کا چارہ وغیرہ بنانا، بچوں کو مسجد میں پڑھانا، پھر گھر کے لئے سبزی یا گوشت لانا اس طرح میرا بھر پور دن گزرتا ۔
اتنے سارے کام تھے بہر حال جناب کی نظر تھی کہ سارے کام کر لیتا تھا اور تھکاوٹ بھی نہیں ہوتی تھی ۔ میں لکڑیاں وغیرہ گھر کے جلانے کے لیے تیار کرتاسب سے بڑی آ خری خواہش یہ تھی کہ میں سرکار کو غسل دوں وہ بھی جناب نے حسرت پوری کر دی کہ سرکار کو غسل دینے کی سعادت مجھے نصیب ہوئی۔
غیبی مدد
ایک دفعہ میں عرس کے موقع پر آستانہ عالیہ پر حا ضر ہوا معمول یہ تھا کہ آستانہ عالیہ کا سارا کام ختم کرکے واپس جاتا تھا ۔کچھ لکڑیاں پڑی ہوئیں تھیں سرکار نے فرمایا کہ ان کو چیر دو ۔ میں نے ایک لکڑی جو قدرے سخت تھی اس میں سنبہ (لکڑیاں چیرنے کے لئے لوہے کا بنا ہوا دیسی آلہ)لگایا اوپر بڑے ہتھوڑے سے ضربیں لگائیں ۔چھ انچ تک وہ لکڑی کے اندر چلا گیا لیکن وہ لکڑی دو ٹکڑے نہ ہوئی تھی ۔ جناب گھر سے باہر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے سمجھا کہ کام ختم ہو گیا ہے۔ جناب اس وقت کافی صحت مند ہوتے تھے ۔جناب نے ہتھوڑا پکڑ لیا اور خوب ضربیں لگائیں لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔
میں نے سرکار سے ہتھوڑا لے لیا اور عرض کی کہ حضورآپ اندر تشریف لے جائیں میںخود ہی کر لوں گا۔جناب اندر تشریف کے گئے ۔پھر میں نے بھرپور ضربیں لگانی شروع کر دیں۔ آخر کار لکڑی پھٹ گئی اور دو ٹکڑے ہو گئی لیکن میں کافی تھک گیا۔ رات کو حسب معمول میں سرکار کو دبا رہا تھا توآپ نے فرمایا کہ اب آپ سو جائیں آپ کافی تھک چکے ہیں ۔ میںجونہی لیٹا تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھ لگ گئی ۔ آنکھ لگی ہی تھی کہ چار آدمی آئے اور انہوں نے مجھے دبانا شروع کر دیا ۔ انہوں نے پانچ منٹ تک مجھے خوب دبایا میں نے انہیں کہا کہ چلے جاومجھے تنگ نہ کروورنہ میں سرکار کو بتا دوں گا کہ آپ لوگ مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔انھوں نے جب یہ سنا تو بھاگ گئے ۔ لیکن ا ن کے دبانے سے میراجسم ہلکا پھلکا ہو گیا اور تھکا وٹ نام کی کوئی چیز نہ رہی ۔ اس طرح سرکار نے دن بھر کی تھکاوٹ غیبی مدد سے دور کر دی ۔
گم شدہ سونے کا مل جانا !
استاد یٰسین صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے گاوں میں ایک عورت چنوں بی بی تھی ۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا ۔بیٹی کے لئے اس نے کافی پیسے وغیرہ اکٹھے کر رکھے تھے ۔بعد میں چنوں بی بی نے بیٹی کے لے جہیز بنایا، اچھا خاصازیور بھی بنایااور بیٹی کی شادی کر دی ۔تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک دن انہوں نے اپنا سنگھار بکس دیکھا تو زیور موجود نہ تھا ۔ وہ بڑی پریشان ہوئی( لڑکی نے اپنا زیور اپنی ماں کے گھر رکھا ہوا تھا )اس نے والدہ کو بتایا انہوں ہر طرح سے جائزہ لیا کہ کیسے چوری ہوی ۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہ آیا ۔وہ پیر صاحب کی خدمت میں سخت پریشانی کے عالم میں حاضر ہوئی اور ساری بات بتائی ۔سرکار نے بتایا ادھر ہی ہے مل جائے گا پریشان نہ ہوں سرکار نے چنوں بی بی کو نماز کے بعد پڑہنے کے لئے وظیفہ دیا اور فرمایا کہ تمہارا سونا مل جائے گا ۔
چنوں بی بی نے بڑی عقیدت سے وظیفہ پڑھنا شروع کردیاپڑھتے پڑھتے چالیس دن گزر گئے۔بہرحال وہ کمال عقیدت سے پڑھتی رہی۔
آخر ی روز وہ پڑھ رہی تھی کہ دوسرے کمرے سے اس کو کوئی چیز گرنے کی آواز آئی۔(یہ وہی خالی سنگاربکس تھاجو ایک جگہ پراس نے اونچا رکھا تھا)۔اس نے وظیفہ پڑھنے کے بعد اپنی بچی سے پوچھاکہ کیا گرا ہے ۔بچی نے دیکھا تو سنگار بکس نیچے گراپڑا تھا۔اور سارا سونا اس میں موجود تھا اسکی خوشی اور حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔پھر انہوں نے پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی پیر صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا اچھا ہوا تمہارا کام ہوگیا ۔
10ہزار آدمی چاہیے
استاد یٰسین صاحب فرماتے ہیں کہ سردی کا موسم تھا ایک رات سخت سردی تھی ۔جناب اپنے پلنگ مبارک پر لیٹے ہوئے ہوئے تھے جہاں اب پیر قلندر سید محمودالحسن شاہ صاحب اپنی مسند پر تشریف فرماتے ہیں وہاں پلنگ ہوا کرتا تھا ۔میں سرکار کی خدمت پر مامور تھا۔
رات کافی گزر گئی تھی ۔پیرصاحب سونے کی تیاری کرنے لگے اور مجھے بھی حکم فرمایا کہ میاں سو جاو بتی بند کر دو اور کنڈی بھی اندر سے لگا دو۔ میںنے غور سے سارے کواڑ باہر والے اور اندر والے بند کئے اور بتی بند کی اور سو گیا ۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی اور میں نیم خوابی کی حالت میں تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ دربار سے دور ایک بیری کے درخت سے ایک عجیب مخلوق اتری عرف عام میں اس کو بلا کہہ سکتے ہیں اس کے ہاتھ میں لالٹین تھی ۔اس نے دربار شریف کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ وہ بلا دربار شریف کے باہر حویلی تک آ گئی اب میں بخوبی یہ منظر دیکھ رہا تھا جونہی وہ دروازے پر آئی دروازے کا کواڑ خود بخود کھل گیا ۔اب میں گھبرا بھی گیا اور اندر ہی اندرخود کو مضبوط بھی کرنے لگا کہ میں اسے روکوں گااورپیرصاحب تک نہیں جانے دوں گا ۔میں نے اٹھنے کہ کوشش کی لیکن مجھے یو ںمحسوس ہواکہ میرا سارا جسم شل ہو گیا ہے میں باوجود کوشش سے ہِل نہ سکا۔
وہ پیر صاحب کے پلنگ کے پاس چلی گئی میںیہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔اس نے بتی پیر صاحب کے سرہانے رکھی اور بغل سے ایک کاپی نکالی اورسرکار سے کہا کہ اس پر دستخط کر دیں سرکار نے کہا نہیں اس نے پھرکہا دستخط کر دیں سرکار نے پھر نہیں میں جواب دیا ۔تیسری دفعہ ابھی کہہ ہی رہی تھی کہ جناب جلال میں آ گئے اور غصے سے اٹھے اور زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مار دیا وہ جلدی سے اپنی بتی اٹھا کر بھاگ گئی۔جب وہ اندر آئی تھی تو کواڑ خودبخود کھل کر بند ہو گیا تھا ۔سرکار نے مجھے آواز دی کہ یٰسین بتی جلاو اورکواڑ دیکھو میں نے کواڑ دیکھے دونوںکواڑ بند تھے۔ پھر میںنے بتی بند کی اور سو گیا اور سرکار بھی آرام فرمانے لگے۔
صبح ہوئی تو جناب دربار میں جلوہ افروز ہوئے۔ میں بھی معمول کا کام ختم کر کے سرکار کی خدمت میں حاضر ہوا سرکار نے فرمایا کہ رات کو دیکھا تھا کہ وہ کیا کہتی تھی۔ میں نے عرض کی کہ جناب وہ کیا دستخط کروانا چاہتی تھی سرکار نے فرمایا کہ اس علاقے کے دس ہزار آدمیوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرواناچاہتی تھی۔( ان دنوں ایک مخصوص مرض اس علاقے میں پھیلا ہواتھا اورلوگ بہت زیادہ مر رہے تھے) ۔اس دن کے بعد اموات بند ہو گیں اور لوگ صحت یاب ہونا شروع ہو گئے یہ مخصوص مرض اس دن کے بعد کسی کو نہیں ہوئی ۔اگرپیر صاحب دستخط فرمادیتے تو یقینا دس ہزار لوگ اس بیماری سے مر جاتے۔
سبق!
فقیر اپنی ڈیوی سر انجام دے رہا ہوتا ہے اور لوگوں کی بڑی بڑی مصیبتیں اس فقیر کے سبب سے، اس فقیر کے وجود مسعود کی برکت سے ٹل رہی ہوتی ہیں اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا ۔ اس واقعہ سے انداز ہ لگانا چاہئے لوگ یہی کہتے ہوں گے کہ یہ بیماری ٹل گئی ہے ۔کسی کو نہیں پتہ کہ بیماری کس نے ٹالی کون اس بیماری کے ختم کرنے کا سبب بنا اور یہ بیماری ختم ہونے میں جناب خاکی شاہ سرکار کا کیا ہاتھ ہے۔ پیر قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی صاحب فرماتے ہیں کہ’’ دنیا فقیر کو مانے نہ مانے وہ اپنی ڈیوٹی کر رہا ہوتاہے‘‘ ۔

٭٭٭٭٭٭٭

ملک غلام ربانی مخدومی صاحب

حضورپیر صاحب کے دربار عالیہ پر مقیم عرصہ دراز سے خدمت کرنے والے جناب غلام ربا نی صاحب پیر صاحب کے منظور نظر خادم ہیں ۔ جناب خاکی شاہ سرکار کی حیات طیبہ میں بھی آپ کے ساتھ سفر و حضر میں خدمت گار رہے اور اب جناب قلندرسید محمودالحسن صاحب کے بھی خدمت گار ہیں جناب قلندر سید محمود الحسن جی سرکار کا عارفانہ کلام اور رباعیات بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کچھ اپنے ایمان افروز واقعات لکھوائے ہیں۔
مجذوب سے ملاقات
ایک دفعہ جناب پیر سید رسول شاہ خاکی صاحب سردیوںمیں کراچی تشریف لے جارہے تھے۔میں بھی پیر صاحب کی خدمت کے لیے ساتھ تھا ۔حیدر آباد ریلوے اسٹیشن سے تھوڑی دیر پہلے پیر صاحبنے مجھے اپنا کمبل دیا اور حکم فرمایا کہ اس ریلوے اسٹیشن پر فلاںجگہ ایک مجذوب کھڑا ہو گا ۔یہ کمبل اس پر پھینک دینا ہے اور جلدی سے واپس آکر پھر گاڑی میں سوار ہو جانا ۔جونہی گاڑی رکی میں نے آپ سے کمبل لیا اور مجذوب کو تلاش کیااسٹیشن سے تھوڑی دور وہ مجذوب کھڑا تھا۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے بجائے کمبل اس پر پھینکنے کے اس پر لپیٹناشروع کر دیا جونہی کمبل لپیٹااس نے مجھے پکڑ لیا اور سختی سے بغلگیر ہوگیا اب میں اس سے جان چھڑاؤں اور وہ مجھے چھوڑتا نہیں تھا میں نے بہت شور کیا کہ گاڑی نکل جائے گی۔ میں جناب پیر صاحب کو بتاتا ہوں وغیرہ وغیرہ ۔اس نے مجھے بڑی مشکل سے اس وقت چھوڑا جب گاڑی چل پڑی تھی۔میںبڑی مشکل سے بھاگ کر آخری ڈبے پر سوار ہوا سردی بہت سخت تھی اورمجھے پیر صاحب کا فکر بھی دامن گیر تھاکہ وہ کیا فرمائیں گے۔ جب گاڑی اگلے اسٹیشن پر رکی تو میں پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپنے پوچھا کہ میاں کدھر گئے تھے میں نے ساری بات بتائی۔آپ نے فرما یا میں نے تمہیں کہا تھا کہ کمبل اوپر پھینکنا، تم نے بات نہیں مانی اس لیے گڑبڑ ہوئی ہے ۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ فقیر جس وقت بھی جو بات زبان سے نکال دے وہی مرید کے لے بہترین ہے۔ مرید مان لے تو بہتر ی ورنہ نقصان کا خدشہ ہوتا ہے ۔
سمندر میں نہانا
دوسرا واقعہ جناب ربانی صاحب بتاتے ہیں کہ ہم عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر گئے۔ جناب پیر صاحب سے میں نے عرض کی کہ جناب میں سمندر میں نہالوں جناب نے فرمایا کہ میاں ڈوب جاؤگے ۔میں نے عرض کی کہ حضور میں گہرے پانی میں نہیں جاؤںگا ۔بہرحال پیر صاحبنے اپنے اندازہ سے منع فرمایا اور دربار شریف میں تشریف لے گئے ۔ میں نے نہانا شروع کردیا اچانک ایک تیز لہر آئی اور وہ مجھے گہرے پانی میں لے گئی میں نے ڈوبنا شروع کردیااور سخت پریشان ہوگیا کافی پانی میرے پیٹ میں چلاگیا ۔میں نے اس پریشانی کے عالم میں پیر صاحب کو یاد کیا اور پھرایک بڑی لہر نے مجھے کنارے پر لاکر رکھ دیا ۔میں بڑی مشکل سے باہر نکلا اور نڈھال ہوکر بیٹھ گیا پیر صاحب دربار شریف سے واپس آئے اور مسکرا کر پوچھا کہ کیا ہوا ہے ۔میں نے ساری بات بتائی پیر صاحب نے فرمایامیںنے تجھے نہانے سے منع کیا تھا ۔جناب کی خصوصی نظر نہ ہوتی تو میں یقیناڈوب جاتا۔
ایک اورمجذوب سے ملاقات کا دلچسپ واقعہ !
غلام ربانی صاحب بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ میں پیر صاحب کے ساتھ راولپنڈی گیا۔ وہاں صدر میں ہسپتال روڈ پر ایک بہت بڑا شیشم کا درخت تھاجس کے نیچے ایک مجذوب رہتا تھا۔ اس نے سر پر بہت بڑا انگریزوں والا ٹوپ پہن رکھا تھاجس سے اُسکی آنکھیں ڈھک جاتی تھیں۔ اس کے سامنے چالیس ،پچاس کے قریب کتے ہر وقت بیٹھے رہتے تھے۔ آپ چونکہ مجذوبوں کے بھی بادشاہ تھے۔ آپ تھوڑی دیر کھڑے ہو گئے اور مجھے کچھ پیسے دیے کہ پانچ، چھ روٹیاں تندور سے لے آؤ ۔میں لے کر آیا آپ نے میری جھولی میں وہ روٹی ٹکڑے کر کے ڈال دی اور حکم فرمایاکہ مجذوب کے آگے رکھ آؤ۔ خودآپ دور کھڑے ہو گئے۔میں کتوں سے ڈر رہا تھا۔ بڑے بڑے کتے تھے بہرحال قریب جانے کی دیر تھی کہ سب کتے اِدھر اُدھر ہوگئے اور درمیان سے مجذوب کے پاس جانے کے لیے میرے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ میں حیران رہ گیا اور مجذوب نے ٹوپی اوپر کی اور کھڑا ہوگیا۔ وہ اصل میں اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ اس کے بادشاہ یعنی حضورخاکی شاہ سرکار پیچھے تھوڑا دور کھڑے تھے۔ میں نے روٹی اس کے سامنے رکھ دی اور پھر واپس آگیا۔ پھر میں آپ کے ساتھ لئی نالہ جوکہ پیرودھائی کی طرف ہے اُدھر چلاگیا۔ وہاںآپ نے پُل پر وہ جگہ دکھائی جہاں اُنہوں نے چلہ کشی کی تھی۔اس واقعہ کی شرح میں جناب قلندرسید محمود الحسن شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس واقعہ سے واضح پتہ چل رہا ہے کہ جو لوگ فقراء کے ہم نشین ہوتے ہیں ان کو فقراء کے ساتھ سفر کرنے میںاور صحبت کرنے میں، بے شمار واقعات پیش آتے ہیں کوئی عقل والا ہی انہیں بھانپ سکتا ہے ۔ انوار و تجلیات کی بارش سے نایاب گوہرجنم لیتے ہیں۔ اور سب کچھ فقیر کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس واقعہ میں فقیر کی صحبت رکھنے والے جانور بھی عام انسان سے زیادہ عقل رکھتے ہیں کیونکہ جب اس مجذوب کے کتوں نے دیکھا کہ کسی فقیر کا درویش ہے تو انھوں نے راستہ چھوڑ دیا اور ادب کیا ۔یوںسمجھئے کہ دِل والوں کی سنگت سے ہر سنگتی صاحب دِ ل ہو جاتا ہے۔اس طرح کا واقعہ جناب جنید بغدادی کا بھی ہے انھوں نے ایک کتے پر توجہ کی پھر وہ کتا جہاںبھیجاتا، تو اس کتے کے اردگرد اس علاقے کے کتے جمع ہوجاتے۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.