زوجہ
عبد اللہ کے
واقعات!
(i) ایک خادمہ
(زوجہ عبداللہ)
ہے۔ عرصہ قدیم
سے دربار شریف
کی خدمت کر
رہی ہے۔ ایک
دِن اس نے پیر
صاحب کے کمرے
سے شور سنا۔
یہاں یہ بیان
کرتے چلیں
کہ پیر صاحب
اکثر رات کو
اور کبھی کبھی
دِن کو بھی
وارداتِ غیبی
کی وجہ سے ایک
مخصوص شور
مچاتے تھے۔
اس کیفیت کے
دوران ان کا
حکم تھا کہ
ہمارے کمرے
میںکوئی بھی
داخل نہ ہواکرے۔
جب خادمہ نے
آواز سنی توپیر
صاحب کے کمرے
میں چلی گئی۔
وہ کہتی ہے
کہ جب میںاندر
گئی تو میں
نے دیکھا کہ
دونوں بازوالگ
تھے،ٹانگیں
الگ تھیںاور
دھڑا لگ تھا۔
یہ منظر دیکھ
کر میں گھبرائی
اورواپس آگئی۔
میں نے آ کر
مائی صاحبہ
(امی حضور)کو
آواز دی ۔ میںنے
جونہی آواز
دی یکدم مجھے
پیر صاحب کی
آواز آئی "اللہ
اکبر" ساتھ
ہی مجھے واپس
بلا لیا اور
ڈانٹا کہ جب
میں نے کہا
ہے کہ ایسی
کیفیت میں
کوئی نہ آئے
تو تم کیوں
اندر آئی ہو
یہ واقعہ من
وعن لکھ دیا
ہے۔
(ii) اِس کے علاوہ
پیر صاحب کی
ایک اور کیفیت
جو کہ پہلے
امی حضور کے
حوالہ سے بھی
بیان ہو چکی
ہے۔یہی خادمہ
کہتی ہے میںنے
بھی ایک دفعہ
دیکھاہے کہ
نورانیت آپ
کے جسم کے ہر
عضو سے نکل
رہی تھی۔ جیسے
ٹارچ سے روشنی
نکل رہی ہو۔
بالکل جسطرح
امی حضور نے
حالت دیکھی
تھی۔
(iii) یہی خادمہ
ایک اور واقعہ
اس طرح بیان
کرتی ہیں کہ
میں نے ایک
دفعہ سرکار
کے سرکے اوپر
عبادت خانہ
میں چھت پر
دو سانپوں
کو اَٹکھیلیاں
کرتے دیکھا۔
میں نے بولنا
چاہا۔ سرکار
نے اشارے سے
منع فرما دیا
تو میں بھی
سمجھ گئی کہ
خاموش رہنے
کا حکم ہے اور
اشارہ کیا
کہ واپس چلی
جاؤ تو میں
واپس چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
﴿ باب چہارم
﴾
واقعات مُریدین
نصیر الحق
مخدومی صاحب
نصیر صاحب
کا تعلق خان
پور کٹورہ
سے ہے ۔ پیر
صاحب کی صحبت
میں رہنے کا
حق ادا کرتے
ہوئے انھوں
نے اپنے دامن
کو جناب کے
فیض سے خوب
بھرا ۔ ان کے
واقعات سے
اس بات کی بھی
عکاسی ہوتی
ہے کہ ایک عام
آدمی فقیر
کامل کی صحبت
میں رہ کر کس
طرح ممتاز
ہوجاتا ہے
اور کس قدر
باطنی فیض
سے مالا مال
ہوتا ہے اس
کا ادراک صرف
صاحبِمحبت
کو ہی ہوسکتا
ہے دوسرے کو
نہیں ۔ نصیر
صاحب نے پیر
صاحب کے ساتھ
حرم شریف کا
سفر بھی کیا
اور آپ نے اپنی
کمال توجہ
سے انہیں کیا
سے کیا مشاہدات
کروائے اور
ہمہ وقتی ذاکر
بنا دیایہ
صرف فقیر کامل
کی صحبت کا
اثر ہے ۔ان
کے واقعات
سے صحبت کی
اہمیت خوب
واضح ہوتی
ہے ۔
بیعت ہونا
اور بیماری
کا رفع ہونا
نصیر الحق
صاحب اپنے
بیعت ہونے
کا واقعہ یوں
بیان کرتے
ہیں کہ میری
عمر اس وقت
سولہ ،سترہ
سال تھی اور
میں سخت بیمار
تھا۔ ان دنوں
سرگودھا میں
ایک حکیم صاحب
کے پاس زیر
علاج تھا جو
کہ خاندانی
حکیم تھا۔
میں نے اس حکیم
سے طویل عرصہ
تک علاج کروایا
اور مکمل پرہیز
بھی کیامگر
صحت مند نہ
ہو سکا۔ آخر
کار حکیم صاحب
نے میرے ماموں
منظور احمد
مخدومی صاحب
سے کہا کہ میں
نے اپنا پورا
زور لگایا
ہے میرے بس
کی بات نہیں
اسے کسی فقیر
سے تعویذ یا
دم وغیرہ کرواؤ۔
اس نے کہاکہ
خانپور کے
ساتھ دین پور
شریف میں میرے
پیر صاحب ہیں
،ان سے تعویذ
وغیرہ لے لو۔میرے
ماموں نے کہا
کہ ہمارے اپنے
پیر و مرشد
سید رسول شاہ
خاکی چکوال
میں ہیں ہم
ان سے تعویذ
لیں گے۔ کچھ
دِنوں کے بعد
میں ماموں
کے ساتھ پیر
صاحب کی خدمت
میں حاضر ہوا
۔ساری بات
پیر صاحب کو
بتائی جناب
نے فرمایا
اسے کچھ بھی
نہیں ہے۔ پیر
صاحب دربار
شریف میں تشریف
فرما تھے۔
اندر گھر والے
دروازے سے
قلندر سید
محمود الحسن
شاہ صاحب دربار
شریف میں آئے
اور ایک تعویذ
پیر صاحب کو
دے کر واپس
چلے گئے۔ جناب
پیر صاحب نے
اس تعویذ پر
کچھ لکھا اور
پھر بند کردیااور
مجھے حکم دیا
کہ اسے گلے
میں ڈال لیں۔
پھر فرمانے
لگے کہ" یہ
تعویذ ۲۵سال
پہلے لکھا
تھا، پتہ نہیں
میاں یہ کہاں
سے آگیا ہے"
پھر ہم دربار
شریف سے باہر
آگئے۔
پیر صاحب عصر
کے بعد پھر
باہر تشریف
لائے۔ آپ باہر
چبوترے پر
تشریف فرما
تھے پھر ہم
سے ملے اور
مجھ سے بہت
پیار کیا۔
پیر صاحب نے
اپنا ایک ہاتھ
میرے سینے
پر رکھا اور
دوسرا ہاتھ
کمر پر رکھا
اس کے بعد میری
کمر پر کچھ
لکھا۔ رات
ہم وہاں رہے
پیر صاحب نے
کچھ تعویذ
پینے کے لیے
عطا فرمائے
اور پھر ہم
واپس آگئے۔
پیر صاحب کے
دیے ہوئے تعویذ
استعمال کیے
اور بیماری
ختم ہو گئی۔
میں بالکل
صحت مند ہوگیا
۔پھر دوبارہ
جناب کی خدمت
میں حاضر ہوئے۔
ماموں جان
نے بیعت کی
خواہش کا اظہار
کیا ۔ حالانکہ
اس وقت پیر
صاحب بہت کم
لوگوں کو بیعت
فرماتے تھے۔مجھے
فرمایا کہ
میرے سامنے
آجاؤ۔جب میںنے
اپنا ہاتھ
پیر صاحب کے
ہاتھ میں دیا
تو مجھے کوئی
ہوش نہیں تھا
کہ میں کہاں
ہوں ۔اس کے
بعد جناب نے
مجھے وظائف
عطا فرمائے۔
حضور نبی کریم
کی زیارت
ہم گھر واپس
آگئے۔ گھر
پہنچے اپنے
وظائف پڑھے۔
رات کو سویا
تو خواب میں
کیا دیکھتا
ہوںکہ حضور
نبی اکرم تشریف
فرما تھے۔
صحابۂ کرام
بھی موجود
تھے۔ میں جب
آپ کی محفل
میں جاتاہوں
تو سرکارمدینہ
فرماتے ہیں
کہ آگئے ہو
میںنے عرض
کیا جی حضور،
آپ نے فرمایا
کہ" یہ اونٹ
لے جاؤ اور
چرا کر لے آؤ
"اتنے میں صبح
کی آذان ہوئی
اور میری آنکھ
کُھل گئی۔
آنتڑیوں کا
کینسر
میںکچھ عرصہ
خانپور رہا
پھر کراچی
چلا گیا اور
پھردوبارہ
خانپور آگیا۔
بہرحال مسلسل
مرشدِ گرامی
سے رابطہ رکھا
۔ اس کے بعد
سرگودھا والے
حکیم صاحب
کے پاس گئے
۔ انھوں نے
میری نبض دیکھی
اور بہت ہی
خوش ہوئے اور
کہنے لگے کہ
اس کا مزاج
ہی بدل گیا
ہے۔ پھر کراچی
آٹھ دس سال
رہااور خانپور
واپس آنے پر
پھر بیمار
ہو گیا۔ ہر
وقت پیٹ میں
درد رہتا تھا
کسی دوائی
سے کچھ آرام
نہیں آتا تھا۔
عرس کے موقع
پر حاضر ہوا
مسجد والے
کمرے میں نیم
مردہ حالت
میں پڑا تھامیری
حالت بہت خراب
تھی۔ وہاں
سے واپس آئے
تو بہاولپور
و کٹوریہ ہسپتال
میں داخل ہواگیا۔
ڈاکٹر میجر
امین کے پاس
زیر علاج رہا
۔ بہت سارے
ٹیسٹ لیے آخر
کار ڈاکٹروں
نے یہ فائنل
رپورٹ دی کہ
اِسے آنتٹریوں
کاکینسر ہے۔پھر
ماموں منظور
حسین نے پیر
صاحب کو خط
لکھا کہ نصیر
الحق کے بارے
ڈاکٹر صاحب
کہتے ہیںکہ
اُسکو آنتڑیوں
کا کینسرہے۔
پیر صاحب نے
واپسی جواب
دیا کہ ڈاکٹر
بکواس کرتے
ہیںکوئی کینسر
نہیںہے، انتٹریوں
کی بیماری
ہے۔پندرہ دِن
کے بعد ڈاکٹر
نے پھر چیک
کیا۔ ہر رپورٹ
ٹھیک تھی حتیٰ
کہ اس بیماری
کا نام ونشان
بھی موجود
نہیں تھا ڈاکٹر
خود حیران
تھے۔
امام بری سرکار
کی حاضری
کچھ عرصہ بعد
جناب کی خدمت
میں مخدوم
پور شریف حاضر
ہوئے۔ پیر
صاحب نے امام
بری سرکار
کے مزار پر
مجھے اسلام
آباد بھیجا۔
ہمارے ساتھ
قلندر سید
محمودالحسن
شاہ صاحب اور
حسین شاہ صاحب
بھی تھے۔ وہاں
ہمارے اوپر
چادریں ڈالی
گئیں۔ یہ سب
سادات خاندان
سے تعلق کا
نتیجہ تھا
ورنہ مجھ جیسا
گنہگار کہاں
اور یہ عطائیں
کہاں۔
حضرت بہاوالدین
زکریاکی زیارت
ایک دفعہ پیر
صاحب کے ساتھ
ملتان میں
حضرت بہاالدین
زکریا ملتانی
کے مزار پر
حاضر ہوئے۔
بڑے دروازے
سے ہم ذرا پیچھے
تھے کہ
جناب کو ایک
نورانی چہرے
والے بزرگ
ملے۔ تھوڑی
دیر پیر صاحب
ان سے گفت وشنید
کرتے رہے پھر
وہ چلے گئے
بعد میں ہم
مزار پر چلے
گئے۔ جب ہم
مزارِ پاک
پر حاضری دے
کر فارغ ہوئے
تو واپسی پرراستے
میںپیر صاحب
نے پوچھا،
میاںتم جانتے
ہو وہ بزرگ
کون تھے آپ
نے پہچانا
یا نہیں؟ میںنے
عرض کی کہ حضور
نہیں پہچانا۔
آپ نے فرمایا
کہ وہ صاحبِمزار
حضرت بہاالدین
زکریا ملتانی
خود ہی توتھے۔
یہ مرشد کے
قدموں کا صدقہ
تھا ورنہ ہم
کہاں اور ایسی
عنائتیں کہاں۔
داتا گنج بخش
علی ہجویری
کی زیارت
اسی طرح کا
ایک اورواقعہ
بھی ہے کہ میں
داتا صاحب
کے مزار پرحاضر
ہوا۔ اس وقت
پرانی مسجد
ہو ا کرتی تھی۔
نمازِ ظہر
ہو چکی تھی
میں نے منبر
کے سامنے نماز
پڑھی۔ جب نماز
سے فارغ ہواتو
میںنے دیکھا
کہ منبر کیساتھ
ایک بزرگ تھے
قد کوئی چھ
فٹ تھااور
قد وقامت بہت
ہی پیاری تھی
نہ پتلے تھے
نہ ہی موٹے
تھے۔ ان کا
رنگ انتہائی
سرخ اور سفید
تھاانہوںنے
مجھے اپنے
پاس بلایا
اورفرمایاکہ
کہاں بیعت
ہو؟ میں نے
عرض کی کہ حضور
خاکی شہنشاہ
کا بیعت ہوں۔
انھوں نے فرمایا
کہ ایک ہزار
دفعہ روزانہ
درود شریف
پڑھا کرو۔
میں نے عرض
کی میرے پیرو
مرشد نے جو
کچھ مجھے فرمایا
ہے میں تو وہی
پڑھوں گا اور
میں کچھ نہیں
پڑھ سکتا۔
جب میں وہاں
سے واپس آیا
تو میںشک اور
یقین کی ملی
جلی کیفیت
کا شکار تھاکہ
یہ داتا صاحب
تھے۔ جب میں
پیرصاحب کے
پاس مخدوم
پور گیا۔ ان
کی خدمت میں
سارا ماجرہ
بیان کیا تو
جناب نے فرمایا
کہ وہ داتا
حضور ہی تھے۔
پیر صاحب کی
معیت میں روضئہ
رسول کی حاضری
دوبارہ جب
میں حضور پیر
صاحب کی خدمت
میں حاضر ہواتو
جناب نے فرمایا
کہ میاں پاسپورٹ
ہے میںنے عرض
کیا کہ حضور
نہیں۔ آپ نے
فرمایا کہ
واپس جاؤاور
جلدی سے پاسپورٹ
بنواؤ۔ میںواپس
خانپور گیا
پاسپورٹ بنوا
کرواپس آیا۔
جناب مجھے
اپنے ساتھ
عمرے پر لے
گئے۔ عمرہ
ادا کیا،مکہ
مکرمہ میں
ایک حکیم صاحب
تھے۔ ہم نے
ان کے ہاں قیام
کیا پھر مدینہ
شریف گئے صبح
کا وقت تھا
شہر سے دُور
گنبد خضریٰ
کا نظارہ کیا
وہ منظر بیان
نہیں ہو سکتا
اور اُس پر
مستزادیہ کہ
انسان کسی
فقیر کاملِ
کی معیت میں
ہو راستے میں
پیر صاحب نے
مجھے اپنا
پاجامہ اور
بنیان پہننے
کے لیے دیں۔
میں نے اپنے
بیگ میں رکھ
لیں اور ادباً
نہیں پہنیں
راستے میںپیر
صاحب نے پوچھا
کہ میاں وہ
کپڑے نہیں
پہنے !آپ نے
گاڑی رکوائی
اور پہننے
کا حکم دیا
کہ ابھی پہنو
یہ سرکار کی
کرم نواز یاں
تھیں۔
سرکار کے روضہ
اقدس پر حاضری
دی۔ وہ کیا
عجیب منظر
تھا کیا نورانیت
تھی کیاہی
نظارہ تھا
وہی بات کہ
مدینہ کہاں،کہاں
میں کمینہ۔
جہاں حضور
نبی اکرم کی
جائے نماز
تھی(ریاض الجنۃ)
وہاں حاضری
دی۔ وہاں کی
حاضری میں
بہت کچھ دِل
میں بس گیامگراُن
کیفیات کو
صفحہ قرطاس
پر نہیں لاسکتا۔
میری سمجھ
میں نہیں آتا
کہ وہ کیا چیز
تھی وہ ایک
ایسی خوشبو
ہے جو آج تک
نہیں سونگھی
وہ دِل و دماغ
کو ہر وقت معطر
رکھتی ہے اور
عجیب کیف سے
سرشار رکھتی
ہے۔ پھر وہاں
تقریباًدس
دِن قیام کیا۔بہت
زیادہ زیارتیں
کیںمسجد قباء
کی زیارت کی
سرکار کے گھر
کی زیارت کی
۔وہاں اندر
ایک چٹائی
پڑی ہوئی تھی،
ایک لوٹا تھا،
ایک گھڑا تھا
پھر جنگِ اُحد
اور جنگِ خندق
کا مقام دیکھااور
وہ کنواں بھی
دیکھا جس کے
پانی سے سرکار
کو غسل دیا
گیا تھا۔ وہ
بیری کا درخت
بھی دیکھا
جس کے پتے پانی
میں ڈال کرحضرت
محمد کو غسل
پاک دیا گیا
تھا۔
بعدمیں پیرصاحب
مکہ شریف آئے
وہاں آپ حکیم
صاحب کے گھر
قیام کرتے
تھے ۔ناشتہ
کرکے ہم حرم
شریف جاتے
جناب کے ساتھ
طواف کرتے۔
پیر صاحب پڑھتے
رہتے تھے اورمیں
ساتھ بیٹھا
رہتا تھا۔
پیر صاحب کے
ساتھ ظہر کی
نماز پڑھ کر
واپس حکیم
صاحب کے گھر
آجاتے۔ حکیم
صاحب کے گھر
میلالگا رہتا
تھا بہت سے
لوگ آتے۔پیر
صاحب ان کے
لیے دعا فرماتے
اور انہیں
پڑھنے کیلئے
وظائف عطا
فرماتے۔ عربی
لوگ بھی آتے
تھے۔پیر صاحب
جب انہیں کوئی
وظیفہ بتاتے
تواو ل و آخر
درود شریف
کا بتاتے جن
پر وہ کہتے
کہ درود شریف
کیاہے۔ آپ
فرماتے کہ
یہ صلوٰۃ النبی
ہے وہ بہت خوش
ہوتے۔ جوں
جوں ان کے مسائل
حل ہوتے تو
وہ اورزیادہ
خوش ہوتے ۔
ان میں ایک
عربی عبدالرحمن
عاشور تھا
جو کہ حرم شریف
کا ٹھیکدار
تھا۔ پیرصاحب
کا بہت زیادہ
عقیدت مند
تھا اورجناب
سے محبت کرتا
تھا۔ بعد میں
وہ مخدوم پور
بھی آیا۔ گورنر
مکہ نے پیرصاحب
کی دعوت کی
ہم اس کے گھر
کھانے کے لیے
گئے۔ پیر صاحب
سے انھوں نے
کافی دیر گفتگو
کی اوروہ بہت
زیادہ متاثر
ہوا۔ پیرصاحب
نے انھیں بہت
کچھ عطا بھی
فرمایا۔ ہمارا
سفر تقریباً
چالیس روز
کا تھا۔ ایسا
خوشگوار سفرمیری
زندگی میں
پہلی بار تھا
اورآخری بار
تھاجو مجھے
زندگی بھر
یاد رہے گایہ
میری خوش قسمتی
ہے۔ یقینا
یہ سفر میری
بخشش کا سامان
ہوگا۔
مُریدین کیلئے
خوشخبری
پیر صاحبکی
ایک اور بات
کہ مدینہ شریف
میںپیر صاحب
نے رسول اکرم
کی جالی مبارک
پکڑکر عرض
کی آقا کیا
ہم آپ کی اولاد
بھی ہیں کہ
نہیں ۔جناب
نے یہ بات مجھے
بعد میں بتائی
کہ مجھے ہاں
میںجواب ملا
کہ ہاں آپ ہماری
اولاد ہیں۔پھرآپ
فرماتے ہیںکہ
میں نے عرض
کی کہ میرے
ان مریدین
کا کیا بنے
گا۔ آپ فرماتے
ہیںکہ پردہ
اُٹھا دیا
گیا اور مجھے
دکھایا گیا
کہ دو رَسیاں
ہیں ایک رسی
جناب کے مرد
مُرید تھامے
ہوئے ہیں اور
دوسری رسی
عورتیں مرید
تھا مے ہوئے
ہیں اور سب
جنت میں جارہے
ہیں۔اسکے بعد
جب پیر صاحب
مخدوم پورواپس
تشریف لائے
اور جو کوئی
بھی آیا جناب
نے اُسے واپس
نہیں بھیجاعام
بیعت شروع
کردی وگرنہ
عمرے سے پہلے
بہت کم لوگوں
کو بیعت کرتے
تھے۔
حرم شریف میں
پیر صاحب کی
زیارت
پیر صاحب نے
میرے لیے حکیم
صاحب(مکہ والے)
سے ویزہ منگوایااور
میں سعود یہ
چلا گیا۔دو
سال حکیم صاحب
کے ساتھ کام
کیا۔ یہ سب
مرشد کا صدقہ
تھا۔ایک دِن
حکیم صاحب
شام کی نماز
حرم شریف میں
پڑھ کر واپس
آئے، اپنے
مطب میں بیٹھے
اور مجھے بلایا
کہ یہاں آؤ۔
مجھ سے پوچھا
کہ تم کب سے
پیر صاحب کے
ساتھ ہو۔ میرے
ذہن میں بات
آئی کہ یہ سعودیہ
کا رہنے والا
ہے ضرورکوئی
الٹی بات کرے
گا۔ بہرحال
میںنے حکیم
صاحب سے کہا
میں پچپن سے
پیرصاحب کے
پاس ہوں۔ پھر
حکیم صاحب
نے کہا کہ آج
نماز مغرب
کے وقت میںنے
پیر صاحب کو
حرم شریف میں
دیکھا ہے وہ
مجھ سے تین
صفیں آگے تھے۔
میں قریب گیا
تو پیرصاحب
پھر تین صفیں
آگے ہوگئے۔
پیرصاحب نے
مجھے اشارہ
بھی کیا کہ
رک جاؤ بہرحال
میں سمجھ نہیں
سکا۔ اس کے
بعد پیر صاحب
غائب ہوگئے۔
مجھ سے حکیم
صاحب نے پوچھا
کہ یہ کیا معاملہ
ہے؟ پیر صاحب
تومخدوم پورمیں
تشریف فرما
ہیں۔ میں نے
انھیں یہاں
کیسے دیکھا
ہے؟ میں نے
حکیم صاحب
سے کہا کہ آپ
اس چیز کو نہیں
سمجھ سکتے۔
اگر یہی بات
میں حکیم صاحب
سے کہتا تو
حکیم صاحب
کبھی نہ مانتے۔
آج جب خودحکیم
صاحب نے پوچھا
اورمیں نے
اس کی تصدیق
کی تو اُن کا
عقیدہ اور
پختہ ہو گیا۔
پھر میں نے
کہا آج آپ کو
پتہ چلا ہے
کہ اللہ کے
ولی کی طاقت
اور تصرف کیا
ہوتا ہے۔ میں
وہاں دوسال
رہا۔ہر وقت
یوں محسوس
ہوتا تھا کہ
خاکی سرکار
میرے ساتھ
ہیں۔ اور مجھے
ہدایت فرماتے
کہ حج کے موقعہ
پر ایسے کرنا
ہے ایسے کرنا
ہے۔ وہاں مجھ
پر آپکی بہت
زیادہ نظر
رہی ۔
سید جلال الدین
بخاری کی زیارت
دوسال بعد
میں واپس آیا
پیر صاحب سے
ملنے مخدوم
پور آیا اور
پھر پیر صاحب
نے مجھے خانپورمیں
اپنا سنار
والا کا م شروع
کر نے کا حکم
دیا۔ پیر صاحب
ہر سال خانپور
میرے ماموں
کے گھر تشریف
لاتے تو فرماتے
کہ میاں اُچ
شریف والے
ہمارے نسلی
بزرگ ہیں وہاں
زیارت کے لیے
جایا کرو۔
خانپور میں
ایک دن میرے
ایک پیر بھائی
کہنے لگے کہ
اُچ شریف چلیں
تو میں نے اس
سے کہا کہ اگر
سرکار بلائیں
گے تومیں جاؤں
گا۔ ایکدفعہ
جمعہ کے دِن
فجر کی نماز
کے بعد پیر
صاحب کے عطا
کردہ وظائف
پڑھے اور سوگیا۔
خواب میں دیکھاکہ
سید جلال الدین
بخاری تشریف
لائے ہیں۔
میں فوراً
اٹھا میں نے
غسل کیا، کپڑے
تبدیل کئے
اور اُچ شریف
کا ارادہ کیا۔
اُچ شریف سلام
کر کے واپس
آگیا۔
حضرت شہبازقلندر
کی زیارت
ایک دفعہ مجھے
بخار ہوا اور
بخار بائیس
تیئس دِن رہا
۔ خانپور جس
کمرے میں پیر
صاحب تشریف
رکھتے تھے
میں وہاں سو
گیا تو خواب
میں شہباز
قلندر تشریف
لائے۔انہوں
نے میرا سر
اپنی گود میں
رکھا اور فرمایا
کہ کیوں گھبراتا
ہے۔ اتنے میں
میری آنکھ
کھل گئی۔
سید جلال الدین
بخاری کا خلافت
عطافرمانا
ایکدفعہ پیرصاحب
کے ساتھ ہم
اُچ شریف حاضری
کے لیے گئے
تقریباًدوویگنیں
آدمیوں سے
بھری تھیں۔
پیر صاحب کے
ساتھ ایک آدمی
ارشد نامی
دربار سے آیا
تھا وہ بھی
ساتھ تھا۔
شام کو حاضری
کے بعد جب گھر
واپس آئے تو
گھر پر ارشد
کو پیر صاحب
نے یہ بات بتائی
کہ سید جلال
الدین بخاری
نے نصیر کو
خلافت عطا
فرمائی ہے۔
یہ بات ارشد
نے مجھے بتائی
کہ آپ کو مبارک
ہو آپ کو اُچ
شریف سے خلافت
ملی ہے۔ پیر
صاحب نے بعدمیں
مجھے خود بھی
یہ بات بتائی
اور یوں اس
کی تصدیق ہو
گئی۔ لیکن
میں نے عرض
کی کہ حضور
مجھے تو پتہ
ہی نہیںکہ
میرے ساتھ
ایسا ہوا ہے۔
آپ نے فرمایا
کہ ہاں ایسا
ہی ہوا ہے،
جب ہم ان کی
خدمت میں سلام
کر رہے تھے
انھوں نے تمہارے
گلے میں رومال
ڈال دیا تھا
جو باہر والے
بڑے دروازے
تک تھا۔ یہ
سب میرے مرشدکریم
کا صدقہ ہے۔
دل کی جگہ خانہ
کعبہ کی تصویر
کر اچی کا ایک
واقعہ اس طرح
ہے کہ جب میں
کراچی میںکام
کرتا تھاتو
وہاں نیوی
کے ایک ڈاکٹر
(جو نیوی ہسپتال
کے انچارج
تھے) پیرصاحب
سے ملنے آتے
تھے۔ پیر صاحب
بھی اکثر ان
کے ہاں جاتے۔
کراچی دورے
کے دوران ایک
دفعہ پیر صاحب
کے سینے میں
کوئی تکلیف
ہوئی۔ ڈاکٹر
صاحب نے جناب
کا ایکسرے
کیا۔ جب ایکسرے
آیا تو دِل
کی جگہ پر خانہ
کعبہ کی تصویر
تھی۔ جب پیر
صاحب نے ایکسرے
مانگا تو ڈاکٹر
صاحب نے دینے
سے انکار کردیا
اور تبرکا
ً اپنے پاس
رکھ لیا۔
جنات سے لڑائی
میرے ساتھ
کئی دفعہ ایسا
ہوتا ہے کہ
میری جنوں
سے لڑائی ہوتی
ہے۔ایک دفعہ
میں نے یہ بات
پیر صاحب سے
عرض کی تو پیر
صاحب نے فرمایا
کہ ایساہوتا
رہتا ہے اور
جب بھی میری
جنوں سے لڑائی
ہوتی ہے تو
میں قلندر
پیرسید محمود
الحسن شاہ
سرکار کا نام
لیتا ہوں تووہ
بھاگ جاتے
ہیں۔
یہاں یہ بات
قابلِ ذکر
ہے کہ حضورپیر
قلندر سید
محمود الحسن
شاہ خاکی صاحب
فرماتے ہیں
کہ ’’اتنا انسان
ہماری ذات
کا ادراک نہیں
رکھتے جتنا
کہ جنات رکھتے
ہیں۔
٭٭٭٭٭
طارق محمود
صاحب (کلر کہار)کے
واقعات
بدبو کا خوشبو
میں بدلنا
تلہ گنگ (ضلع
چکوال ) میں
سالانہ محفلِ
نعت 1993میں منعقد
ہوئی جس میں
حضور پیر صاحب
کو بھی شمولیت
کی دعوت تھی۔پیر
صاحب محفل
میں تشریف
لے گئے۔ابھی
ایک یا دو ہی
نعت خوانوں
نے نعت پڑھی
ہوگی کہ حضور
پیر صاحب نے
انتظامیہ سے
اجازت چاہی
اور فرمایاسرکار
کی محفل تھی۔
اس لئے میں
حاضر ہوگیاچونکہ
بوڑھا آدمی
ہوں زیادہ
دیر نہیں بیٹھ
سکتا اس وجہ
سے اجازت چاہوں
گا۔انتظامیہ
نے کہاکہ تھوڑے
سے وقت کے لئے
ہمیں اپنے
ارشادات سے
نوازدیںتوحضور
پیر صاحب نے
تقریر فرمادی۔
اسی دوران
میں پنڈال
سے باہر گیا
ہواتھاکہ میری
قمیض کے دائیں
بازومیں بھڑ
گھس گئی۔ اُس
نے مجھے بیشمار
جگہ پر ڈنگ
ماراجس سے
مجھے شدید
درد ہوا۔ وہاں
ساتھ ہی ایک
ہوٹل والے
سے میں نے مٹی
کا تیل مانگا۔اُس
نے تیل سے بھرے
کنستر کی طرف
اشارا کیا
میں نے پورا
بازو قمیض
سمیت تیل میں
ڈال دیااور
دوسرے ہاتھ
سے اُس بازو
کو خوب رگڑا۔اسی
اثنا میں میرے
کانوں میں
حضور پیر صاحب
کی آواز پڑی
(آپ تقریر فرمارہے
تھے)میں سب
کچھ بھول گیا
اور پنڈال
کی طرف دوڑپڑا۔جب
پیر صاحب نے
واپسی کاارادہ
فرمایاتو میں
نے پیر صاحب
کو کمر سے دونوں
ہاتھوں سے
دائرہ بناکر
پکڑ رکھا تھا۔لوگوں
کاہجوم تھاجو
حضور پیرصاحب
کی دست بوسی
کررہے تھے۔اچانک
مجھے خیال
آیاکہ میںنے
تیل والے ہاتھ
تودھوئے ہی
نہیں ہیں مبادا
پیرصاحب ابھی
فرمائیں گے
کہ کس سے بدبو
آرہی ہے۔ بہرحال
میں اسی طرح
ڈرتا ڈرتا
آپ کو گاڑی
تک لے آیا۔جب
پیر صاحب سیٹ
پر بیٹھ گئے
توفرمانے لگے
’’ اوکھالدا
تو بھی آیا
ہوا
ہے‘‘۔حضور پیر
صاحب کی رونگی
کے بعد جب میں
نے اپنے ہاتھوں
کی طرف دیکھا
تو میرے ہاتھوں
اور بازو کی
بدبو(جو مٹی
کے تیل کی وجہ
سے آرہی تھی)ختم
ہوچکی تھی
بلکہ ایسامحسوس
ہورہا تھا
کہ جیسے مٹی
کا تیل لگایا
ہی نہیں اور
میرے ہاتھوں
سے ایک عجیب
سی مہک آنے
لگی۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>