ایک
حیران کُن
واقعہ
کھوکھر بالا
(چکوال) سے میرے
ایک بزرگ باباسلطان
صاحب حضورپیر
صاحب کا جنازہ
مبارک پڑھنے
کیلئے مخدوم
پور شریف آئے
جنازہ پڑھنے
کےبعد اُنہوں
نے حضور پیر
صاحب کا دیدار
کیا تومجھے
حیرانگی سے
بتانے لگے
کہ ان بزرگوں
کو میں نے آج
سے 75سال پہلے(
جب کہ میں انگریز
کی فوج میں
تھا) انڈیامیں
انبالہ چھاؤنی
میں دیکھا
تھا۔باباسلطان
صاحب کہنے
لگے کہ میںحیران
ہوں اُس وقت
بھی آپ اتنے
ہی بوڑھے تھے
اورعوام میں
یہ مشہور تھا
کہ آپ اللہ
کے ولی اور
مجذوب ہیں۔
پیر سائیں
غلام جہانیاں
کا اعترافِ
حقیقت
پیر سائیں
غلام جہانیاںسندھ
کے ایک بڑے
معروف پیر
تھے۔سندھ کے
بڑے بڑے سردار،
وڈیرے،علما،اور
پیرانِ کرام
اُن کے عقیدت
مندوں میں
شامل ہیں۔
اِن کا تھوڑا
ساتعارف چند
واقعات کے
ذریعے کرواناچاہتا
ہوں تاکہ اُن
کے مقامُ مرتبے
کا اندازہ
ہوسکے۔
۱) 21بار آپ کو
حج پر جانے
کی سعادت نصیب
ہوئی۔
۲) آپ ہر سال
مدینہ پاک
جاتے۔
۳) ان کی شادی
پیر پگاڑا
صاحب نے سندھ
کے پہلے وزیر
اعلیٰ پیر
الٰہی بخش
کی صاحبزادی
کے ساتھ کروائی۔شادی
پرسسرال والوں
نے ایک ہزار
ایکڑ زمین
دی۔اِن کے
دو بچے تھے
جنہیں آپ مدینہ
شریف ساتھ
لے کر گئے جہاں
آپ کی زوجہ
اور بچے حادثے
میں فوت ہوگئے
اُنہیں جنت
البقیع میں
دفنایا گیابعد
میں اُنہوں
نے زمین سسرال
والوں کو واپس
کردی۔
۴) اندرون سندھ
مختلف گوٹھوں
پرآپ نے 360مساجد
بنوائیں اور
لوگوں کو دین
سکھایا۔
۵) حرمِ پاک
کی توسیع کے
موقع پر جب
حضور کے والدِ
گرامی قدر
سیدنا عبداللہ
کی قبر کشائی
کا ارادہ کیا
گیا تو وہاں
کا گورنر (جو
کہ ان کا قریبی
دوست تھا)آپ
کو رات کے پچھلے
پہر سخت حفاظتی
انتظامات میں
اُس جگہ پر
لے گیا۔جب
حضرت سیدنا
عبداللہ کی
قبر کشائی
کی گئی تو آپ
وہاں موجود
تھے۔ جب آپ
کا جسدِ مبارک
قبر سے باہر
نکالا گیا
توآپ نے سیدنا
عبداللہ کے
چہرہ مبارک
پر بوسہ دیا۔
سائیں غلام
جہانیاں فرماتے
ہیںکہ حضرت
سیدنا عبداللہ
کی داڑھی مبارک
گھنی اور سیاہ
تھی، آنکھیں
بڑی بڑی تھیں
اور سفید بکریوں
کی اُون کا
کفن مبارک
تھا۔جسم اور
چہرے پر پانی
کے قطرے اسطرح
تھے جیسے ابھی
غسل فرمایا
ہو۔
۶) حضور کے
ایک صحابی
حضرت عکاشہ
کی قبر کشائی
کے موقع پربھی
آپنے اُن کی
زیارت کی۔
۷) حضور کی
ایک جن صحابیہ
(جو جنات کے
پہلے گرو ہ
میں آپ کے
ہاتھ پر مسلمان
ہوئی تھی) کی
آپ سے مدینہ
شریف میں ایک
ترکی النسل
بزرگ (جو حضور
خاکی شاہ صاحب
کے دوست تھے
اور آپ کی عمر
105سال تھی) کے
گھر ملاقات
ہوئی۔اُس صحابیہ
نے بتایا کہ
میں حضور کے
گھر میں بطورِ
خادمہ رہی
ہوں اور حضرت
امام حسن اورحضرت
امام حُسین
کاجھولا جھلایا
کرتی تھی۔
اُس نے کہا
کہ واقعہ کربلا
میری آنکھوں
کے سامنے ہواآج
کل میں کوفہ
کی جامع مسجد
میں رہتی ہوں
۔( ۵سال قبل
یہ جن صحا بیہ
مائی وصال
کرگئی ہیں)
۹) سائیں غلام
جہانیاں قرن
شریف بھی تشریف
لے گئے وہاں
سے وہ لاٹھی(
جس سے حضرت
اویس قرنی
مویشی چرایا
کرتے تھے ) لائے
جو اب زیارت
کے لئے رکھی
گئی ہے۔
۱۰) مسجد اقصیٰ
میں آپ نے تین
دفعہ امامت
فرمائی۔
اس سارے تعارف
کے بعد ایک
واقعہ بیان
کر نا چاہتا
ہوں کہ 1993میں
یہی بزرگ (سائیں
غلام جہانیاں)
چکوال تشریف
لائے میں ان
کی زیارت کو
گیا۔
دورانِ ملاقات
میں نے اُن
سے حضور پیر
سید رسول شاہ
خاکی کے بارے
میں بھی گفتگو
کی۔ آپ خاموشی
سے میری باتیں
سنتے رہے اور
بعد میں کہنے
لگے بھئی کل
ہم سب طارق
کے پیر صاحب
کو ملنے جائیں
گے۔ اگلے دن
جب روانگی
کاوقت آیا
تو سائیں غلام
جہانیاں نے
سب سے کہا کہ
تیاری کر کے
جانا’’ شبہن(شیر)
دے منہ تے چڑھنا
ایں‘‘یعنی( شیر
سے ملنے جانا
ہے ذرا سنبھل
کے جانا) ۔ ماہِ
رمضان تھا
کچھ دیر ملاقات
ہوئی جس میں
چند بزرگوں
کے بارے میں
گفتگو ہوئی۔
سائیںغلام
جہانیاں ہاتھ
جوڑ کر باادب
بیٹھے رہے
پھر پیر صاحب
نے واپسی کی
اجازت فرمادی۔چکوال
پہنچ کر مجھے
(طارق) عجیب
سی بے چینی
ہوئی میں واپس
پیر صاحب کے
پاس آگیا۔
افطاری کے
بعد پیر صاحب
نے مجھے بُلایا
اور فرمایا
بیٹا ابھی
واپس جاؤ اور
سندھ والے
پیر سے کہو
کہ واپس سندھ
چلے جاؤ چکوال
سے نکل جاؤ
تہاری ڈیوٹی
سندھ میں ہے
وہیں رہو،
وہیں مرو،
وہیں دفن ہوجاؤجب
تمہیں معلوم
ہے تو یہاں
کیوں آئے ہو۔
میں پیر صاحب
کاپیغام لے
کر واپس پہنچا
(میں گھبرایا
ہوا تھاکہ
شاید ملاقات
کروا کے مجھ
سے غلطی ہو
گئی ہے)۔سائیں
غلام جہانیاں
میرے ہی انتظار
میں بیٹھے
تھے میں نے
اُنہیں پیر
صاحب کا پیغام
من وعن سُنا
دیا۔ وہ میرے
سامنے ہاتھ
جوڑ کر بیٹھ
گئے اور کہنے
لگے ’’صدقنا
وآمنا‘‘ جب سب
لوگ چلے گئے
تو میں نے عرض
کی حضور مجھے
حقیقت بتائیں
انہوں نے فرمایا
ایسی باتیں
بتانے والی
تو نہیں ہوتیں
مگر تم خاکی
شاہ کے مُرید
ہو اس لئے بتا
دیتا ہوں۔انہوں
نے بتایا جب
میرے بیوی
بچے مدینہ
پاک میں فوت
ہو گئے تومیں
نے سرکارِ
دوعالم سے
عرض کی کہ یا
رسول اللہ
مجھے یہاں
مدینہ پاک
میں ہی رکھ
لیں میں کافی
دن عرض گزار
رہا۔ پھر میں
آپ کی زیارت
سے مشرف ہوا
توآپ نے خود
ہی فرمایا
کہ ’’تہاری ڈیوٹی
سندھ میں ہے،
تم نے وہیں
رہنا ہے، وہیں
مرناہے، وہیں
دفن ہونا ہے
لیکن جب تمہارا
جی چاہے گا
مدینہ شریف
کی حاضری کے
لئے تمہارا
بندوبست ہوجائیگا‘‘۔
سائیں غلام
جہانیاں بتانے
لگے خُدا کی
قسم میں ساری
دنیا پھر ،
بڑے بڑے فقراء
سے ملا لیکن
تیس سال پرانا
یہ حُکم جو
سرکارِ دو
جہاں کی زبانِ
اقدس سے جاری
ہوا تھا کسی
نے یاد نہ کرایااور
نہ ہی کسی کو
معلوم ہے۔
قربان جاؤں
خاکی شاہ کی
عظمت، مقام
اور مرتبے
پر کہ آپ نے
وہی الفاظ
دہرائے ہیں
جو سرکارِ
دوعالم نے
فرمائے تھے
گویا آپ وہاں
موجود ہوں
اِ سکے بعد
مجھے(طارق)
بہت مبارکبادیں
دیں اور کہا
کہ تمہارا
مرشد دنیا
میں ایک ہے،
غوثِ زماں
کی پگ یعنی
دستار آپ کے
سرِ اقدس پر
ہے مزید فرمایا
خاکی شاہ کا
ادنی سے ادنی
مُرید بڑے
بڑے پیروں
سے زیادہ مقام
والا ہے۔ سائیں
غلام جہانیاں
اگلے دن ہی
چکوال سے روانہ
ہوگئے۔
میری اُن سے
آخری ملاقات(2000)
میںجب ہوئی
تو انہوں نے
فرمایا بیٹا
مبارک ہو آج
رات میں نے
تمہارے مرشد
قلندر سید
محمود الحسن
شاہ خاکی صاحب
کی زیارت کی
ہے میں دیکھتا
ہوں کہ میں
مخدوم پور
شریف میں ہوں۔
مسجد کے قریب
ایک بڑا سا
سٹیج ہے جس
پر بڑے بڑے
اولیاکرام
جلوہ افروز
ہیں۔ قلندر
پاک مجھے سٹیج
پر بُلا لیتے
ہیں تاحدِنگاہ
مخلوق ہی مخلوق
ہے۔ فرمانے
لگے ہم نے تو
چلے جانا ہے
بہر حال تمہارے
قلندر نے لگتا
ہے ایک بار
دنیا پر حکمرانی
کرنی ہے ۔تمہیں
مبارک ہو جب
اِن کی عمر
چالیس سال
کی ہوگی اُس
وقت تماشاہی
کچھ اور ہوگا۔
میری خوش بختی
یہ میری بہت
بڑی خوش بختی
ہے کہ سیدی
ومرشدی سید
رسول شاہ خاکی
کے وصالِ مبارک
کے بعد جناب
پیر قلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی نے میری
ڈیوی لگائی
کہ میں حضور
پیر صاحب کی
چارپائی کے
ساتھ رہوںاور
لوگوں کو پیر
صاحب کے چہرے
کی زیارت کرواؤں۔
میں حضور پیر
صاحب کے جسمِ
اطہر کے ساتھ
۱۵ گھنٹے رہاآپ
کے جسم کاٹمریچربالکل
نارمل رہا۔غسل
کے وقت میری
ڈیوٹی پانی
بھر کر لانے
کی تھی ۔
٭٭٭٭٭٭٭
مطیع الرحمن
قادری قلندری
صاحب
مُرید کیسے
ہوا
شاہد رہ (لاہور)
سے مطیع الرحمن
صاحب فرماتے
ہیںکہ ایک
دفعہ میں کسی
پیر صاحب کے
پاس گیا میں
نے عرض کی پیر
صاحب میں کچھ
دنیاوی مسائل
کا شکار ہوں
مجھے تعویذ
دے دیں۔ پیر
صاحب نے کہا
تم ہمارے مُرید
ہو جا ؤ تمہارے
سارے کام ہو
جائیں گے۔
میں دنیاوی
مطلب کے لئے
مُرید ہوگیا
انہوں نے مجھے
اللہ اللہ
کرنے کو کہاجس
پر میںعمل
پیرا ہوگیا
میرے دل میں
خیال آیا کہ
میں دنیا کی
غرض کے لئے
اللہ اللہ
کرتا ہوں کیوں
نہ کسی اللہ
والے سے تعلق
قائم کر لیا
جائے۔
میں نے اسی
غر ض سے اللہ
والوں کی کتابیں
پڑھنی شروع
کر دیںیوںمجھے
معلوم ہوا
کہ جب تک کسی
اللہ والے
سے تعلق نہ
ہو اس وقت تک
اللہ تعالی
سے تعلق قائم
نہیں ہوسکتااُسی
شوق کی وجہ
سے حضور داتاگنج
بخش علی ہجویری
کے قدموں میںحاضری
دیتا رہا اور
یہی التجا
کرتا رہا کہ
داتا پیا مجھے
اپنے جیسا
کامل پیر عطا
فرمائیں کافی
ماہ ایسے ہی
کرتا رہا۔
ایک دن میں
اسی طرح مراقبہ
میں بیٹھا
ہوا تھا کہ
مجھے خیال
آیا کہ کیوںنہ
ڈاکٹرطاہر
القادری صاحب
سے ملوں میں
اسی وقت ادارہ
منھاج القرآن
چلاگیا۔ قادری
صاحب نے سید
اکرام شاہ
جیلانی سے
کہا کہ ان کو
پیر سید رسول
شاہ خاکی کے
پاس بھیج دیں
قبلہ سیداکرام
شاہ جیلانی
نے مجھے پیرصاحب
کا ایڈریس
دیا۔اس طرح
میں مخدوم
پور شریف پہنچ
گیا۔ میں نے
اپنامدعا بیان
کیا قبلہ پیر
صاحب نے بہت
پیار سے فرمایا
کہ اب تم آرام
کرو میں مہمان
خانے میں گیا
اور آرام کیااُسی
رات خواب میںپوری
دُنیا کی سیر
کی دنیا دار
پیروں کابھی
حال دیکھا۔صبح
کاوقت ہوا
تو آپ نے اپنے
خادم کو فرمایاکہ
اُس لڑکے کو
لے آؤمیں نے
قدم بوسی کی
اس وقت مجھ
گنہگار کوحضور
پیر صاحب نے
اپنی غلامی
عطا فرمائی۔
موت کا ٹلنا
ایک رات میں
نے خواب میں
دیکھا کہ میرا
چھوٹابھائی(
جس کا نام محمد
حُسین ہے )وہ
ایکسیڈنٹ سے
مرگیا ہے اور
اُس کا جنازہ
منھاج القرآن
کے صحن میں
رکھاہواہے۔سب
گھر والے اُس
کے اردگرد
اس انتظار
میں بیٹھے
رورہے ہیں
کہ اُس کے سسرال
والے آئیں
تو اُسے دفن
کریں جبکہ
میرایہ عالم
تھا کہ میں
پیر صاحب کے
انتظار میں
اُونچی اُونچی
آوازسے چیخیں
مارکر رورہا
تھاکہ پیر
صاحب تشریف
لائیں اور
نگاہ فرمائیں۔یہ
الفاط میری
زبان پر باربار
جاری تھے۔اتنے
میں دور سے
دیکھاکہ پیر
صاحب تشریف
لارہے ہیں۔
دوآدمیوں نے
انکو سہارادیا
ہوا تھاجن
کے چہرے واضح
نہیں تھے۔اتنے
مِیں مَیں
آگے بڑھااور
بے ساختہ عرض
گزار ہوا کہ
پیر صاحب یہ
میرے ساتھ
کیاہوالیکن
پیر صاحب نے
مجھ سے کوئی
بات نہ کی اور
ایک کمرے میں
جاکر کرسی
پر بیٹھ گئے۔
وہ دو شخض جو
پیر صاحب کے
ساتھ تھے انہوں
نے آپ کے آگے
ایک فائل رکھی
اور پیر صاحب
نے اس فائل
پر دستخط کر
دیے اور وہ
دونوں شخض
غائب ہوگئے۔قبلہ
پیر صاحب نے
اپنا سرِ انور
سجدہ میں ڈال
دیا اور مجھے
ایسے محسوس
ہوا کہ جیسے
پیرصاحب نے
میرے بھائی
کی عمر بڑھائی
ہواوراب اللہ
کی بارگاہ
میں سجدئہ
شکرانہ اداکیا
ہے۔میرے دل
میں خوشی کی
لہر دوڑ گئی
اور اتنے میں
میری آنکھ
کھل گئی۔
میں دیکھتاہوں
کہ ساری رات
رورو کر میراتکیہ
آنسوؤں سے
بھیگا ہوا
ہے اور میرا
بھائی محمد
حُسین میرے
سرہانے کی
طرف کھڑاہے۔میں
نے اُس سے پوچھا
تم کہیں گئے
تھے اُس نے
جواب دیا میں
تو ادھرہی
تھا۔ پھر میں
نے دوبارہ
غصے میں پوچھا
کہ تمہیں کچھ
ہوا تونہیں
پھر اس نے بتایا
کہ رات کو ایکسیڈنٹ
ہوا تھا اور
میں بچ گیاصرف
کمر پر چوٹ
آئی ہے میں
نے اللہ کا
شکر ادا کیا
۔جب میں زیارت
کی غرض سے پیر
صاحب کی خدمت
میں حاضر ہوا
تو یہ واقعہ
سنانے کی کوشش
کی۔آپ نے خاموشی
کا اشارہ کیا
میں خاموش
ہوگیا۔ اتنے
میں پیر صاحب
اپنے ہجرہ
مبارک میں
تشریف لے گئے
مجھے بھی آپکے
ساتھ جانے
کی سعادت نصیب
ہوئی۔میں نے
آپ کے پاؤں
مبارک دبانا
شروع کردیے۔
آپ حالتِ سُکر
میں چلے گئے۔تھوڑی
دیر بعدآپ
نے آنکھ کھولی
اور مجھے اپنے
پیارے اور
میٹھے انداز
میں فرمایاکہ’’بولو
کیابات تھی‘‘
میں نے بات
ابھی شروع
ہی کی تھی کہ
پیر صاحب جلال
میں آگئے اور
فرمایا’’کچھ
دیکھ کر اپنے
اندر بھی رکھ
لیا کرویہ
سب کچھ اللہ
کی مہربانی
سے ہوتا ہے۔درویش
تو اللہ تعالی
کی طرف ہی دیکھتا
ہے اوراپنی
بات نہیں کرتا‘‘
اس کے بعد سے
میں نے اپنی
زبان نہیںکھولی
اب پتہ چل چکا
ہے کہ شیخ کامل
دلوں کے ظاہروباطن
کے ہر معاملات
سے آشناہوتا
ہے۔
مُرید اولادکی
طرح ہوتا ہے
ایک بارہم
چار پیر بھائی
آپ کی زیارتِ
کی غرض سے آستانہ
عالیہ پر حاضری
کے لئے روانہ
ہوئے ۔شروع
سفر میں سرکار
کی خدمت میںہدیہ
پیش کرنے کیلئے
انار خریدے
اور روانہ
سفرہوئے۔راستے
میں ایک آدمی
نے اُن اناروں
میں سے ایک
انار نکالااور
کھا لیا اور
پھر دوسرے
نے بھی ایساہی
کیااور پھر
تیسرے اور
چوتھے نے بھی
یو ں ہی کیا
کرتے کرتے
ہم کافی انار
کھاگئے میرے
دل میں خیال
پیدا ہوا یہ
توہم نے اچھانہیں
کیا۔یہ تو
قبلہ پیر صاحب
کی خدمت میں
بطور ہدیہ
پیش کرنے کیلئے
خرید ے تھے۔
جب بارگاہ
اقدس میںقدم
بوسی کی تو
تب بھی یہ بات
میرے دلِ ودماغ
پر چھائی ہوئی
تھی قبلہ پیر
صاحب نے اپنے
کشف سے صورتِ
حال معلوم
کر لی۔ آپ نے
فرمایا کہ
’’مطیع ایک دفعہ
ہم داتاگنج
بخش کے مز ار
مبارک پر بیٹھے
ہوئے ہمیں
بہت سردی محسوس
ہوئی وہاں
ایک لڑکا تھا
جو ہماری خدمت
کیا کرنا تھا۔
ہم نے اُس سے
کہا کہ بیٹا
جاؤاور شاہ
ابوالمعالی
کے دربار سے
دوچار کبوتر
لے آؤ وہ بورا
بھر کر کبوتروںکا
لے آیا۔ ہم
پکاتے گئے
اور کھاتے
گئے جب ہم نے
سارے کبوتر
کھالئے توہمارے
دل میں خیال
آیا کہ یہ توشاہ
ابوالمعالی
کے کبوتر تھے۔ہم
نے یہ کیا کیا
ہم بہت پریشان
ہوئے۔ ہم جب
دربارشاہ ابوالمعالی
گئے توہم یہ
سوچ ہی رہے
تھے کہ باباجی
فرمانے لگے
کہ خاکی تم
ہماری اولاد
ہو۔ کیا ہواجوکبوتر
کھالئے یہ
تمہارے ہی
توتھے‘‘اس واقعہ
کے ساتھ ہی
پیر صاحب نے
مجھے مخاطب
کرتے ہوئے
فرمایا’’ تم
بھی تو ہماری
اولاد ہو‘‘یہ
سنتے ہی دل
خوشی سے جھوم
اُٹھا کہ ہماری
تقصیر معاف
ہوگئی ہے۔
نگاہ کرم سے
خراش تک نہ
آنا
ایک بارمجھے
قبلہ پیر صاحبکی
بارگاہ میں
حاضر ہونے
کا موقع ملا۔
آپ اپنے ہجرہ
مبارک میں
تشریف فرماتھے۔آپ
نے کرم فرمایا
مجھے اندر
بُلایا آپ
نے بڑے پیار
سے میرا اور
میرے گھر والوں
کا حال احوال
پوچھاپھر فرمایاکہ
’’مطیع میں بیمارہوں
رات کو دودھ
کے ساتھ دوائی
کھانی ہوتی
ہے لیکن گائے
دودھ نہیں
دیتی تم ایساکروکہ
کوئی اچھی
سی گائے دیکھنا
اور ہمیں بتانا۔
پیسے لے جانا
جتنے کی بھی
ملے لے آنا۔
میں نے ویسا
ہی کیا ایک
دو دن کے بعد
سید عارف حُسین
شاہ صاحب (ہمارے
دوست ہیں جوقبلہ
پیر صاحب کے
پاس بھی آتے
جاتے رہتے
تھے) کو میں
نے ساتھ لیا
اور موٹرسائیکل
پر سوار ہوکر
ایک گاؤں چلے
گئے۔واپسی
پر میں نے موٹر
سائیکل چلانا
شروع کر دی۔
تھوری دیر
کے بعد ایک
موڑپر موٹر
سائیکل میرے
بس میں نہ رہی
بے قابو ہوگئی
ہم دونوں بڑی
دور جاگرے۔
گرتے ہی میںنے
دیکھاکہ آسمان
وزمین روشن
ہیںمجھے ہر
طرف نورہی
نور محسوس
ہورہا تھا۔
میں اور عارف
شاہ صاحب زمین
پر گرئے تھے
مگر مجھے ایسا
لگا جیسے میں
بہت ہی قیمتی
گدے یا بسترے
پر گرا ہوں۔
مجھے اتنا
سکون مِلاکہ
میں بیان نہیں
کر سکتا۔وہ
سکون مجھے
آج تک کسی بھی
اور بستر پر
نہیں مِلا۔
ہمیں خراش
تک نہ آئی تھی
اور موٹر سائیکل
کا کافی نقصان
ہوا۔ جب میں
رات سویا توخواب
میں دیکھا
کہ میرا سر
قبلہ پیر صاحب
کی گود مبارک
میں ہے اور
پیر صاحب فرمارہے
ہیں مطیع توٹھیک
تو ہے۔ تجھے
چوٹ تونہیں
آئی۔ میں سمجھ
گیا کہ کیا
معاملہ ہے۔اس
واقعہ پر مجھے
جناب طاہر
القادری صاحب
سے سناہوا
قبلہ پیر سید
نا طاہر علاؤالدین
کا واقعہ یاد
آگیا کہ ایک
رات آپ اپنے
ہجرہ مبارک
سے باہر ساری
رات گھومتے
رہے چہرے پر
پریشا نی تھی۔
جب صبح کاوقت
ہوا تو ایک
مُرید آپ کی
بارگہ میں
حاضر ہوا آپ
نے اس کو فرمایا
دیکھو بھائی
آپ نے تمام
رات ہم کو پریشان
کر رکھا تھا
۔گاڑی چلاتے
وقت تم تو سوگئے
لیکن ہم کو
تو خیال رکھنا
پڑا یہ سُن
کر مُرید قدموں
میں گرپڑا
اور معافی
کا خواست گار
ہواکہ سرکار
آئندہ ایسانہ
ہوگا۔
روس کاٹوٹنا
ایک دفعہ جب
میں زیارت
کی غرض سے سرکار
کی خدمت میں
رات 10بجے حاضر
ہوا۔ آپ نے
قدم بوسی کا
موقع دیا سرکار
کے کہنے پر
لنگر آیاجومیںنے
کھالیا۔ اس
دوران پیرصاحب
نے فرمایا
کہ ہماری تسبیح
دومیں نے سرکار
کو آپکی تسبیح
مبارک پکڑادی۔
آپ تسبیح کرتے
وقت چند منٹ
کے لیے مراقبے
میں چلے گئے۔اُسی
وقت آپ کی تسبیح
ٹوٹ گئی۔آپ
نے بڑے میٹھے
انداز میں
فرمایا’’او
مطیع یہ کیا
ہوا کونساملک
ٹوٹ گیا دیکھو
کتنے ٹکڑے
ہوئے۔ میں
نے عرض کی قبلہ
آپ بہتر جانتے
ہیں۔ آپ نے
فرمایا چلو
صبح دیکھ لیں
گے علیٰ صبح۔
آپ نے مجھے
اجازت دی میں
قدم بوسی کے
بعد واپس آیا
تو اخبار میں
دیکھاتو سویت
یونین ٹوٹ
گیا اور اس
کے کئی ٹکڑے
ہوئے۔کئی ریاستیں
آزاد ہوئیںیہ
خبر پڑھتے
ہی مجھے رات
کاواقعہ یاد
آگیا۔
پچاس نہیں
تیس
میں جب بھی
سلام کرنے
کیلئے چکوال
جاتاتو دربارِعالیہ
کے دروازے
میں کھڑا ہوتا
تاکہ قبلہ
پیر صاحب خود
اجازت فرمائیں
پھر میں اندر
جاؤں۔ باوجود
اس کے کہ آپ
کی بینائی
کمزور تھی
آپ فرماتے
مطیع ہے آجاؤ
میں اندر چلا
جا تا اور قدم
بوسی کاشرف
حاصل کرتا۔
پیر صاحب نے
فرمایا کہ
مطیع دوکان
اپنی لے لوکرایہ
کی دوکان ٹھیک
نہیں ۔ ہمیں
فکر رہتی ہے
جلدی دوکا
ن لے لو اور
حسبِ عادت
میںنے دل میں
سوچا کہ پیر
صاحب خودہی
لے دیں گے۔
میں ایک دن
خدمت میں حاضر
ہوا۔پیر صاحب
نے ارشادفرمایا
مطیع دوکان
کاکیا کیا
میں نے عرض
کی پیر صاحبایک
جگہ ہے اُس
کی مالک عورت
ہے اور وہ اس
جگہ کا پچاس
لاکھ مانگتی
ہے۔ آپ یہ بات
سُن کر ہجرہ
مبارک میں
تشریف لے گئے
اور لیٹ گئے
اور میں حسبِ
عادت آپ کے
پاؤں دبانے
لگا کافی دیر
بعد آپ نے فرمایا’’
مطیع بتاؤ‘‘
میں نے پھر
و ہی بات عرض
کی کہ مائی
پچاس لاکھ
مانگتی ہے۔آپ
سن کر فرمانے
لگے ’’توبہ توبہ
پچاس لاکھ‘‘پھر
خاموش ہوگئے۔
تھوڑی دیر
بعد آپ پھر
فرمانے لگے’’
مطیع اُس مائی
کوکہنا پچاس
لاکھ نہیں
تیس لاکھ لے
لے یا پانچ
چھ اُوپر لے
لے۔آپ کے پردہ
فرمانے کے
تقریباً دو
سال بعد وہ
دکان لے لی
اور اسی طرح
تیس لاکھ پچاس
میں سوداہوا
تھا اور آخر
سودا تیس لاکھ
ساٹھ ہزار
میں ہوا جیسا
آپ کی زبان
مبارک سے فرمایا
تھا۔
زیارت بابا
فرید بر آستانہ
خاکی شاہ
یہ میری زندگی
کا بڑا ہی اہم
واقعہ جیساکہ
میں نے عرض
کیا تھاکہ
مجھے مختلف
اولیائے اکرام
کی کتابیں
پڑہنے کا بہت
شوق تھاجس
سے مجھے کسی
شہنشاہِ ولایت
کی ضرورت محسوس
ہوئی اوریوں
مجھے اللہ
پاک نے قبلہ
سرکار خاکی
شاہ کے دامن
سے وابستہ
کر دیا۔ میں
نے حضرت نظام
الدین اولیا
کاواقعہ پڑھاتھا
کہ جناب نظام
الدین اولیا
کاجب حج کو
جانے کا ارادہ
ہوا تو آپ نے
اپنے پیر ومرشد
حضرت بابافریدالدین
کے مزار مبارک
پر آکر مراقبہ
کیا۔ بابا
صاحب نے آپ
کو وہیں سے
کعبۃ اللہ
کانطارہ کروادیا۔
آپ اپنے آستانے
پر تشریف لے
گئے۔ اس طرح
آپ کے ساتھ
کئی بار ایسا
ہی وا قعہ پیش
آیا۔
میں نے یہ واقعہ
اس لیے بیان
کیا ہے کہ میری
قبلہ پیر صاحب
کی غلامی سے
پہلے میرازیادہ
تعلق روحانی
طور پر بابا
فرید الدین
کے کمالات
کی طرف تھااور
مجھے آپ سے
روحانی فیض
تھا۔ پھر یوں
ہوا پیر خاکی
شاہ صاحب کی
غلامی کے بعدمیں
نے ایک عرصہ
تک بابافریدالدین
کے مزار پر
حاضری نہ دی۔ایک
دن مجھے خیال
آیا کہ بابا
جی کے مزار
پر حاضری دی
جائے۔ یہ خیال
آتے ہی قبلہ
سرکار خاکی
شاہ صاحب کی
کشش غالب آگئی
اور غلام اپنے
آقا کی طرف
کھینچا چلا
آیا۔ جب میں
سرکار کی خدمت
میں حاضر ہواتو
آپ کے بہت سے
غلام دربارِ
عالیہ میں
موجود تھے۔میں
پیچھے ہٹ کر
بیٹھ گیا میں
نے جب قلندرِ
وقت، غوث زماں
کے چہرہ مبارک
کی طرف دیکھاتوقبلہ
پیر صاحب کی
جگہ بابافرید
گنج شکر بیٹھے
نظر آئے میں
بہت ہی خوش
ہوا۔ اتنے
میں چہرہ مبارک
پھر بدل گیا
اور پھر تھوڑی
دیر کے بعد
بابافریدالدین
کا چہرہ بن
گیا میں نے
ایک دوست کو
کہا پیر صاحب
کی طرف دیکھو
اُسی وقت پیر
صاحب نے جلال
سے فرمایا
’’کیا بکواس
پڑھتے ہو‘‘ میں
نے عرض کی کچھ
نہیں۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>