رنگ
ونور کی جلوہ
گری
ایک دفعہ میں
رات کے وقت
حضورپیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوا۔آپ
اپنے حجرہ
مبارک میں
لیٹے ہو ئے
تھے آپ نے مجھے
بھی اندر بُلالیا۔
میں جیسے ہی
حجرے کے اندر
داخل ہواتوایک
عجیب سامنظر
میری نگاہوں
نے دیکھا۔پیر
صاحب کاحجرہ
مبارک رنگ
ونور سے اس
قدر روشن تھاکہ
میری آنکھیں
چُندھیاگئی۔پیر
صاحب کا چہرہ
مبارک چاند
کیطرح روشن
تھا۔ اسطرح
کی روشنی میں
نے پہلے کبھی
نہیں دیکھی
تھی۔سرکار
نے فرمایا
مطیع یہ لائٹ
کس نے آن کی
ہے اسے بند
کرو میں نے
لائٹ بند کردی۔میرے
دل میں یہ خیال
آیاکہ دوبارہ
وہی نظارہ
کروں۔پیر صاحب
نے اُسی وقت
مجھے فرمایا
مطیع لائٹ
آن کرو میں
نے لائٹ آن
کر دی دوبارہ
پھر وہی منظر
میری آنکھوں
کے سامنے روشن
ہوگیا۔
نگاہِ کیمیا
ایک دن پیر
صاحب نے فرمایا
مطیع الرحمن
لوگوں کو کیا
ہوگیا ہے جو
بھی کوئی آتا
ہے دنیا داری
کی غرض سے آتا
ہے کوئی ایسا
نہیں جو اللہ
اور اُس کے
رسول کاطالب
ہو۔ مزید ارشاد
فرمایا جب
ہم اوائل دور
میں لاہور
گئے تو ہم شاہی
محلہ میں ایک
جگہ باَمرربی
بیٹھے تھے
کہ اُس محلے
کی دوعورتیں
میرے پاس آئیں
اور مجھے اُٹھانے
لگیں۔ میں
نے اُن کو کہا
او بھائی ہمارے
پاس تو کچھ
بھی نہیں ہمیں
کہاں لے جاتی
ہو۔وہ دونوں
مسکرانے لگیں
اور کہنے لگیں
باباجی آپ
اللہ کے نیک
بندے ہیں ہمیں
خدمت کاموقع
دیں۔وہ ہمیں
ساتھ لے گئیں
انہوں نے ہماری
خوب خدمت کی۔میں
نے اُن سے پوچھاکُڑیو
تم کیا چاہتی
ہو۔ وہ دونوں
بولیں کہ باباجی
ہماری ساری
عمر گناہوں
میں بسر ہوگئی
ہمارے حق میں
دعا فرمائیں
ہمیں صحیح
راستہ نصیب
ہواور ہم بھی
توبہ کرلیں۔پیر
صاحب فرمانے
لگے میں اُن
سے بہت خوش
ہوا اور ربِ
کریم کی بارگاہ
میں اُن کے
حق میں دعا
کی۔ اُنہوں
نے اپنی سابقہ
زندگی سے توبہ
کی اور دونوں
مرتے دم تک
پابندِ صوم
وصلوۃ رہیں
اللہ کریم
نے اُنہیں
حج کی بھی سعادت
نصیب فرمائی۔
نگاہِ ولی
میں وہ تاثیر
دیکھی
بدلتی ہزاروں
کی تقدیر دیکھی
وصال کی پیشگوئی
ایک بار میں
پیرصاحب کی
خدمت میں حاضر
ہوااُس وقت
آپ کی طبیعت
کافی ناساز
تھی اورملاقات
کی اجازت نہ
تھی۔بوقت کھانا
میں نے خادمِ
دربار سے عرض
کی مجھے وہاں
بیٹھانا جہاں
سے میں پیرصاحب
کا دیدار کر
سکوں۔میرے
کھانا کھاتے
ہوئے پیرصاحب
نے فرمایامطیع
الرحمن آیا
تھا وہ کدہر
ہے اندر کیوں
نہیں آیا۔خادم
الیاس نے مجھے
آواز دی میں
اندر حضور
کی خدمت میں
حاضر ہوگیااورقدم
بوسی کی۔ اُس
وقت سرکار
نے مجھے بات
فرمائی جو
میں نے سُنی
توضرور لیکن
مجھے سمجھ
نہ آسکی مزید
فرمایا مطیع
میں نے تمہارے
سب کام کر دئے
ہیں تمہیں
آہستہ آہستہ
سب معلوم ہو
جائے گا تم
کبھی بھی نہ
گھبرانا(آپ
نے یہ الفاظ
تین دفعہ دہرائے)۔
مزید فرمایا
مطیع جب پیر
مہر علی شاہ
صاحب مقامِ
غوثیت پر پہنچے
تو وہ اسی طرح
لیٹ گئے تھے
پھر وہ کسی
سے ملتے نہیں
تھے بس کسی
خاص خاص خلیفہ
کو ملنے کی
اجازت ہوتی
تھی۔ اس کے
بعد وہ اُٹھ
نہ سکے اور
اِدھر سے اُدھر
چلے گئے۔
گیارہ ماہ
قبل اولادِ
نرینہ کی بشارت
حضور سید رسول
شاہ خاکی کے
وصال کے کچھ
عرصہ بعد میرے
محلہ کی ایک
عورت نے میرے
متعلق کسی
آدمی کو کہا
کہ مطیع کے
گھر لڑکیاں
ہی پیدا ہونی
ہیں اور لڑکا
پیدا نہ ہوگا
مزیدبھی کچھ
نازیبا با
تیں اُس نے
میرے خلاف
کیں۔ پھر میں
نے اُس آدمی
سے پوچھا کہ
یہ عورت میرے
خلاف کیاکہتی
ہے۔اُس آدمی
نے پہلے تو
بتانے سے انکار
کر دیاکہ کہیںان
کی لڑائی ہی
نہ ہوجائے
البتہ میرے
اصرا پر اُس
آدمی نے مجھے
ساری بات بتادی۔
اُسکی باتیں
سُن کر مجھے
بہت ہنسی آئی
میں نے اُسی
وقت مخدوم
پور شریف کی
طرف اپنا مُنہ
کیااور عرض
کی کہ حضور
یہ عورت نا
سمجھ ہے میں
نے توکبھی
آپ سے بیٹا
یا بیٹی کا
تقاضہ ہی نہیں
کیا۔وگرنا
آپ کی بارگاہ
میں کس چیز
کی کمی ہے۔
دوسرے ہی دن
میری دوکان
پر میرا ایک
پیر بھائی
آگیااور کہنے
لگاکہ حضورپیرقلندر
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
کا آپ کے نام
ایک پیغام
ہے جو دن کو
ایک بجے دربار
باباجمیل شاہ
(جوکہ ہمارے
قریب ہی واقع
ہے)پر جاکر
دیناہے۔ ہم
ایک بجے دربار
بابا جمیل
شاہ پہنچے
تو اُ س پیر
بھائی نے کہا
کہ قلندر پاک
نے فرمایا
ہے کہ مطیع
کو کہنا تمہارے
گھر لڑکا پیدا
ہوگااور وہ
مقدر کا یاور
ہوگا۔کیونکہ
علی تو ایک
آنا تھا اس
لئے بو علی
آیااب بو علی
نہیں خوشبوعلی
ہوگا۔تم ایسا
کرو اُس بچے
کی مٹھا ئی
ابھی تقسیم
کردو اورساتھ
کہنا کہ میرے
ہاں لڑکا پیدا
ہوا ہے کسی
غریب دائی
کو زچگی کے
پیسے دے دینااور
کسی غریب نائی
کو ختنوں کے
پیسے بھی دے
دینا۔اس واقعہ
کے گیارہ ماہ
بعد18 جون 1996کو
مجھے اللہ
تعالی نے بیٹا
عطا فرمایا
جس کا نام قلندرِ
وقت شہزادئہ
غوث الورای
سید محمود
الحسن شاہ
خاکی صاحب
نے خود اپنی
زبانِ مبارک
سے رخسار حیدررکھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
حاجی منیر
حسین صاحب
نحمدہ ونصلی
علی رسولہ
الکریم
تمام تعریفیں
اللہ پاک کیلئے
جو خالقِ کائنات
ہے
کروڑوں درود
آقائے نامدار
کی ذاتِ اقدس
پرجو باعثِ
تخلیق کائنات
ہیں۔
حضرت میاں
محمد بخش صاحب
عارف کھڑی
شریف رحمۃ
اللہ علیہ
نے فرمایا
کہ " خاصاں
دی گل عاماں
اگے نہیں مناسب
کرنی"
جس ہستی کے
بارے میں چند
یاداشت قلمبند
کرنے کی جسارت
کر رہا ہوں
آج وہ بظاہر
اس دنیا ء فانی
سے دارِ بقا
کی جانب اپنے
معبود حقیقی
کے حکم کے مطابق
(کہ ہر ذی روح
نے مو ت کا ذائقہ
چکھنا ہے) سفر
کر چکے ہیں۔
بقول حضرت
سلطان العارفین
سخی سلطان
باہو رحمۃ
اللہ علیہ
فقراء کا تمام
اس وقت ہوتا
ہے جب وہ اپنے
مالک حقیقی
سے واصل ہو
جاتے ہیں ،اس
دنیا کی نظروں
سے اوجھل ہو
جاتے ہیںاور
اللہ سے واصل
ہو جاتے ہیں۔وہ
ہستی کو ن ہے؟اُن
کو اپنے خاندان
والے اور مریدین
دو ناموں سے
جانتے ہیں۔آپ
نے اپنی زندگی
میں اپنانام
مبارک سید
غلام رسول
شاہ خاکی لکھا
اور لکھوایا۔
اور آج اپنے
دوسرے نام
سید رسول شاہ
خاکی رحمۃ
اللہ علیہ
سے مشہور ہیں۔اپنے
مخدوم کے بارے
میں کچھ کہنے،
لکھنے کی قطعاً
ضرورت نہ تھی
کیونکہ جس
طرح فقراء
کا تعلق اپنے
مالکِ حقیقی
سے ہوتا ہے
اور وہ اپنے
تمام محسوسات
کو قلمبند
نہیں فرماتے
بلکہ اس راز
کو راز ہی رہنے
دیتے ہیں۔
اسی طرح خادم
اور مخدوم،
یعنی پیر اور
مرید میں بھی
کئی حقیقتیں
ایسی ہوتی
ہیںجو تحریر
یا بیان پرآنے
سے کما حقہ،
واضح نہیں
ہو پاتیں بلکہ
ان کا احساس
اور ادراک
اور ہی ہوتا
ہے۔
مگر پیر صاحب
رحمۃ اللہ
علیہ کے چند
کمالات جو
آئندہ سطور
میں لکھنے
کی جسارت کر
رہا ہوں وہ
صرف اور صرف
سجادہ نشین
دربار عالیہ
مخدومیہ جناب
پیرقلندر سید
محمود الحسن
شاہ خاکی مدظلہ
العالیٰ کا
حکم بجالانا
ہے تاکہ مریدین
کے اصرار پر
بڑے پیر صاحب
رحمۃ اللہ
علیہ کے کچھ
حالات و واقعات
ان تک پہنچ
سکیں۔ اور
ان کے اذہان
و قلوب ان واقعات
سے جِلاپائیں۔
نگاہِ مرشد
کامل سے عشق
مصطفٰی حاصل
خداکا قرب
دیتی ہے محبت
پیر خانے کی
یہ وہ وقت تھا
جب دربار شریف
کی تعمیر ہو
رہی تھی اور
قبلہ عالم
جناب پیر صاحب
دربار شریف
میں( متصل حجرہ
مبارک) تشریف
فرما ہوتے
اور آنے والوں
کو شرفِ ملاقات
بخشتے ۔ان
ہی دنوں میں
میرے ایک محسن
میرے ہاں مہمان
بنے جو کہ خود
دربارِ نقشبندیہ
علی پور شریف
سے وابستہ
تھے جناب پیرسید
رسول شاہ خاکی
صاحب کا ذکر
ہوا تو میرے
مہمان کہنے
لگے کہ ’’جی چاہتا
ہے کہ سرکار
کی زیارت کے
لیے آپ کے آستانہ
عالیہ مخدوم
پور شریف پر
حاضری ہو ‘‘۔
دن کا کچھ حصہ
بیت چکا تھا
ہم دونوں آپ
کی زیارت کے
لیے دربار
شریف پہنچے
اتفاق سے اس
وقت کوئی اور
زائر نہ تھا
۔ آپ میرے اس
مہمان پر کچھ
اس طریق سے
مہربان ہوئے
کہ بعد میں
بھی اکثر پوچھتے
رہتے کہ ُاس
سائیں کا کیا
حال ہے ؟ حالانکہ
وہ ایک عام
سے آدمی تھے
لیکن آپ کی
مردم شناس
نظروں نے ان
کے باطن کو
بغور دیکھا
اور نہایت
شفقت سے پیش
آئے ۔ اسی ملاقات
کے دوران دن
کے کھانے کا
وقت ہوگیا
اور آپ کا خادم
کھانا لے آیا
۔ان اللہ والوں
کے طریق بھی
عجیب ہوتے
ہیں کئی فقراء
کے بارے میں
تو مشہور ہے
کہ جب تک کوئی
مہمان نہ ہوتا
خود کھانا
تناول نہ فرماتے۔
میرے کریم
مخدوم کے خادم
نے ہم تینوں
کا کھانا ہمارے
سامنے رکھا
۔ میں نے عرض
کیا حضور! میری
طبیعت چندد
نوں سے ٹھیک
نہیں ہے میں
دوائی ستعمال
کر رہا ہوں
اور حکیم نے
کھانے سے منع
کیا ہوا ہے
اور خصوصاً
گوشت روٹی
سے منع کیا
ہے ۔ اتفاق
ایسا تھا کہ
اس دن آپ کے
ہاں مرغ اور
پالک پکا ہوا
تھا ۔ آپ نے
حکم دیا کہ
’’میاں کھانا
شروع کرو آج
دیکھتے ہیں
کہ کھانے سے
کیا فرق پڑتا
ہے۔ (جو اللہ
والے سمجھتے
ہیں وہ دنیا
والے کیا جانیں
؟) آپ اپنی رکابی
سے بوٹی اٹھاتے
اور آدھی کھانے
کے بعد میری
پلیٹ میں رکھ
کر حکم فرماتے
کہ آج کھاتے
جاؤ دیکھتے
ہیں کہ کیا
ہونا ہے ؟ ایسا
غالباً آپ
نے تین دفعہ
کہا۔ کھانا
خوب سیر ہو
کر کھایا لیکن
طبیعت میں
کچھ گرانی
محسوس نہ ہوئی
بلکہ اس دن
کے بعد جناب
سے نسبت قوی
سے قوی تر ہوتی
گئی ۔ حالانکہ
آپ کو علم تھا
کہ میں تاجدارِ
گولڑہ شریف
جناب قبلہ
عالم پیر بابوجی
صاحب سے بیعت
ہوں ۔
لیکن ان اللہ
والوں کے انداز
کچھ نرالے
ہی ہوتے ہیں
گاہے گاہے
دربار عالیہ
پر حاضری ہوتی
رہی ۔ اس دوران
ہی آپ فرمانے
لگے ’’بیٹا بڑے
پیر صاحب یعنی
غوثِ زماں
قطبِ دوراں
قبلہ عالم
جناب پیر سید
مہر علی شاہ
نے تمہیں میری
گود میں ڈالا
ہے ‘‘ ۔
یہ چند حروف
جو میں نے مندرجہ
بالا تحریر
کئے ہیں بعینہ
آپ نے اسی طرح
ادا فرمائے
اس طرح اس دربارِ
عالیہ مخدومیہ
سے نسبت و تعلق
قوی تر ہوتا
گیا ۔ دربارِ
عالیہ کے خاص
خاص لوگوں
کو بھی اس بات
کا علم نہیں
تقریباً سب
یہی سمجھتے
ہیں کہ میں
شروع ہی سے
اس دربارِ
عالیہ کے وابستگان
سے ہوں ۔ اتنا
کچھ فرمانے
کے باوجود
بھی آپ یہی
تلقین فرماتے
کہ میاں فیض
چاہے دینی
ہو یا دنیاوی
اپنے شیخ کریم
کی طرف سے سمجھنا
چاہیے اگر
اپنے شیح کی
مرضی نہ ہو
تو دوسرا کوئی
بھی دینے والا
فیض نہیں دے
سکتا ۔ جس کی
واضح مثال
میری یاد داشتوں
میں کچھ اس
طرح موجود
ہے کہ آپ کے
بچپن کے دوست
جناب قبلہ
قادری صاحب
کراچی سے کبھی
کبھی تشریف
لاتے تھے۔
ایک دفعہ قادری
صاحب کی آمد
پر جناب قبلہ
پیر صاحب اور
دیگر خادمانِ
خاص کی دعوت
کا اہتمام
اوراودھڑوال
میں کیا گیا
۔ اسی گاؤں
کے ایک حکیم
احمد شاہ صاحب
جو آپ جناب
کے راہِ سلوک
کے طالبِ خاص
تھے ۔ قادری
صاحب اس دعوت
کے موقع پر
جناب قبلہ
پیر صاحب کے
پہنچنے سے
کچھ پہلے میزبان
کے گھر رونق
افروز تھے
کہ وہاں حکیم
صاحب بھی پہنچ
گئے۔ قادری
صاحب نے دیکھ
کر کہا کہ احمد
شاہ میں تمھیں
سانپ کا منتر
بتاتا ہوں
تم مجھ سے سیکھ
لو۔ حکیم صاحب
نے عرض کیا
جناب مجھے
اس کی کچھ ضرورت
نہیں اور نہ
ہی آپ سے کچھ
ا ور طلب رکھتا
ہوں۔میرے لیے
میرے مرشد
پاک ہی کافی
ہیں ۔ قادری
صاحب نے پُر
جوش انداز
میں کہا کہ
یہ منتر تم
کو سیکھنا
پڑے گا۔ چلو
تھوڑی دیر
انتظار کر
لیتے ہیں تمھارے
پیر صاحب پہنچنے
والے ہیں جب
آجائیں گے
تو بات ہوگی
۔ آپ کے وہاں
تشریف لانے
پر قادری صاحب
نے شکایت کی
کہ احمد شاہ
کو میں نے یہ
حکم دیا ہے
اور وہ مانتا
نہیں۔ اس پر
قبلہ پیر صاحبنے
فرمایا کہ
حکیم احمد
شاہ میرا قلندرہے
اسے کسی منتر
وغیرہ کی ضرورت
نہیں ۔ اس پر
قادری صاحب
نے فرمایا
ہاں ابھی تودر
قلندرپر پہنچا
ہے آپ نے فوراً
برجستہ جواب
فرمایا انشاء
اللہ در پر
بھی پہنچ جائے
گا ۔ یعنی قلندر
بن جائے گا۔
غیور طبیعت
آپ طبیعت کے
اسقدر غیور
تھے کہ اپنے
مریدین کا
بغیر اجازت
کسی دوسری
جگہ جانا ہر
گز گوارہ نہ
تھا ۔ جس کی
مثال کجھ اس
طرح ہے کہ میرے
ایک حقیقی
رشتہ دار جو
کہ سرکار کے
دامن سے وابستہ
تھے آپ کی اجازت
کے بغیر دربارِ
عالیہ قادر
یہ سرور یہ
حضرت سخی سلطان
باہو گئے ۔
رات کو سوتے
میں کیا دیکھا
کہ جناب سخی
سلطان العارفین
صاحب تشریف
فرما ہیں اور
پیر صاحب ان
سے فرما رہے
ہیں کہ اس لڑکے
کی کوئی بات
نہ سننا یہ
میری اجازت
کے بغیر آیا
ہے ۔ ’’دو دن بعد
دربارِ عالیہ
پر حاضری کے
وقت قبلہ پیر
صاحب نے اس
سے فرمایا
کہ کیا اپنی
مراد پوری
کر آئے ہو ‘‘؟اس
وقت بجز ندامت
اور کیا تھا
پھر فرمانے
لگے جب بھی
جاؤ پہلے اجازت
لو تب جاؤ۔
بعض اوقات
اس طرح بھی
ہوتا کہ آپ
اگر کوئی بات
سمجھانا چاہتے
تو وہی بات
پاس بیٹھے
دوسرے آدمی
کو مخاطب کر
کے فرمادیتے
۔
۷۱کی جنگ اور
اس کے کچھ عرصہ
بعد میں کراچی
میں روزگار
کے سلسلے میں
مقیم تھا ۔
جب واپس آیا
تو دوسرے دن
آپ کی زیارت
کیلئے دربارِ
عالیہ حاضری
دی تھوڑی دیر
کے بعد ہلکی
بارش شروع
ہوگئی اس طرح
بارش کی وجہ
سے کوئی اور
زائر نہ تھا
۔ قبلہ صاحب
جہاں تشریف
فرما ہوئے
تھے وہیں پہلو
میں تین چار
لکڑی کے موٹے
موٹے ڈنڈے
بھی رکھے ہوتے
۔ ان میں ایک
کوڑا نما کپڑے
سے بنا ہوا
ڈنڈا تھا میرے
عرض کرنے پر
فرمایا کہ
جب میں مجذوب
تھا تو اس وقت
مجھے کسی نے
دیا تھا اب
یہ میں تمہیں
عطا کرتا ہوں
۔
ہلکی بارش
مسلسل برس
رہی تھی میں
نے اجازت طلب
کی تو آپ دربارِ
عالیہ سے اندر
گھر تشریف
لے گئے جب آپ
واپس تشریف
لائے تو ہاتھوں
میں ہلکے بادامی
رنگ کا کھیس
تھا مجھے دے
کر فرمایا
کہ اس کو میں
خود استعمال
کرتا ہوں لہذا
بارش سے بچاؤ
کی خاطر اوڑھ
کر گھر چلے
جاؤ۔ واپس
لے آنا کیونکہ
میرے پاس اور
نہیں ہے۔ ایسی
مثال کسی اور
دربار پر ملنا
ناممکن نہیں
تو مشکل ضرور
ہے۔ شفیق اس
قدرتھے کہ
۶۴ سے لے کر
۸۵ تک مختلف
شہروں میں
، اور بیرون
ملک بھی میں
روز گار کے
سلسلے میں
رہا جب بھی
واپس آتا تو
سرکار کی قد
مبوسی کے لیے
حاضر ہوتا
ہمیشہ آپ اٹھ
کر گلے لگا
تے ، اور احوال
دریافت کرتے۔
بعد میں آپ
کو بیمار ی
کی وجہ سے خود
اٹھنے میں
دشواری آنے
لگی تو بعد
میں اس طرح
نہ بھی ہو سکا
۔ میں اپنی
قسمت اور ان
کی عطا پر جتنا
بھی ناز کروں
کم ہے وہ اس
طرح کہ ہمیشہ
آپ اپنے قریب
بیٹھنے کا
حکم فرماتے
چاہے اس وقت
کتنے ہی زائر
اور خادم دربار
شریف میں موجود
ہوتے آپ کی
محبت اور شفقت
کا یہ عالم
تھا کہ اگر
کوئی کاروباری
مجبوری سے
حاضری نہ دے
سکتا تو دربارِ
عالیہ سے کسی
کو بھیج دیتے
کہ جاؤ اس کو
بلا کر لاؤ۔
ایک اور واقعہ
قلمبند کر
رہا ہوں ۔
اللہ والوں
کے انداز ہی
نرالے ہوتے
ہیں ۔ جو عام
آدمی کی سمجھ
سے بالا تر
ہوتے ہیں ۔
ان لوگوں کی
خاموشی اورعلیل
ہونا روحانی
درجات میں
تیزی سے اضافے
کا سبب ہوتے
ہیں ۔
خاصان سے ملاقات
اسی طرح ایک
دن میں دربار
عالیہ کی قدمبوسی
کے لیے حاضر
ہوا تو عجیب
حالات تھے
سب متوسلین
اور خدام سخت
پریشان اور
فکر مند تھے۔
صاحبزادہ صاحب
فرمانے لگے
کہ شکر ہے تم
آگئے ہو ۔ قبلہ
عالم پیر صاحبکی
طبیعت حددرجے
نا ساز ہے ۔
اور کوئی پہلے
والی دوا اثر
نہیں کر رہی
ان دنوں ڈاکٹر
لیاقت علی
خان نیازی
ڈی سی چکوال
تھے اور اکثر
معرفت کی باتیں
سننے قبلہ
عالم کے پاس
آیا کرتے ۔
فوراً اُن
کو مطلع کیا
کہ آپ اس قدر
علیل ہیں اور
کوئی ڈاکٹر
کمپلیکس سے
دربار شریف
بھجوائیں تاکہ
آپ کا علاج
شروع کیا جا
سکے ۔ ڈی سی
صاحب نے ڈاکٹر
صاحب کو فوراًدربارِ
عالیہ پہنچنے
کی ہدایت کی
۔ ڈاکٹر صاحب
نے آکر آپ کو
چیک کیا تو
شوگر کی بیماری
کی وجہ سے علاج
شروع نہ کیا
بلکہ فوراًلیبارٹری
ٹیسٹ کے لیے
چکوال لے جانے
کا بندوبست
کیا پھر آپ
کے علاج کے
لیے نیازی
صاحب نے میڈیکل
سپرانٹینڈنٹ
سول ہسپتال
چکوال کو خصوصی
ہدایات جاری
کیں ۔ آپ کے
لیے علیحدہ
کمرہ مخصوص
کیا گیا ۔ علاج
شروع ہوگیا
لیکن عالمِ
بے خودی بر
قرار رہا ۔
انتہائی نگہداشت
کے باوجود
آپ کے اکثر
خدام موجود
رہتے ۔ اسی
دوران آپ ایک
دن میرے سہارے
چار پائی پر
پاؤں پھیلائے
تشریف فرماتھے
(یعنی بیٹھے
ہوئے تھے) کہ
معاً آپ نے
اپنے سامنے
اور دروازے
کی سمت کھڑ
ے حاضرین کو
حکم دیا کہ
فوراً راستے
سے ہٹ جائیں
کہ بابا جی(غوث
زماں خواجہ
قاسم موہڑوی)
اور پیر صاحب
گولڑہ شریف
تشریف لا رہے
ہیں۔ آپ نے
فوراً ان کی
تعظیم کی حاظر
اپنی کمر مبارک
اور سر مبار
ک کو آگے یعنی
پائنتی کی
طرف جھکا لیا
اور فرمانے
لگے کہ میں
اس حالت میں
ہوں آپ لوگوں
کے بیٹھنے
کی جگہ بھی
پاک صاف نہیں
ہے ۔ تھوڑی
دیر اسی طرح
ان خاصان کی
آمد پر دلگیر
ہوئے کہ جب
اس عالم وارفتگی
سے واپس لوٹے
تو چہرہ اور
داڑھی مبارک
آنسوؤں سے
تر تھی ۔
کچھ دیر کے
بعد جب طبیعت
سنبھلی تو
چونکہ میں
بد ستور اسی
طرح آپ کی چار
پائی پر آپ
کو سہارا دینے
کے لیے پیچھے
بیٹھا تھا
۔ مجھے فرمانے
لگے کہ لگتا
ہے بیٹا کہ
وقت تھوڑا
رہ گیا ہے یہ
آپ کی رفاقت
اور نگا ہِ
کرم کااثر
تھاکہ میں
نے برجستہ
جواب دیا نہیں
حضور! یہ خاصان
تو آپ کی صحت
کی بشارت ہیں
۔ اس طرح آپ
ذرا مزید طبیعت
سنبھلنے پر
ایم ، ایس اور
دیگر ڈاکٹر
صاحبان کو
مطلع کئے بغیر
واپس دربارِ
عالیہ تشریف
لے آئے ۔ بعد
میں صحت بہتر
ہوگئی ۔ آپ
غوث زماں خواجہ
محمد قاسم
موہڑوی کو
بابا جی کے
لقب سے یاد
فرماتے تھے
اور تاجدارِ
گولڑہ شریف
غوثِ زماں
قطبِ دوراں
حضرت پیر خواجہ
مہر علی شاہ
گیلانی سے
خصوصی تعلق
تھا ۔ آپ فرماتے
کہ حالتِ جذب
کے دوران یعنی
مجذوبی کی
کیفیت میں
بھی گولڑہ
شریف آنا جانا
رہتا تھا۔
پیر مہر علی
شاہ کی نظر
عنائت
ایک دفعہ کا
ذکر کرتے ہوئے
فرمانے لگے
کہ میں گولڑہ
شریف میں قبلہ
عالم کے کتب
خانے میں چلا
گیا اور کچھ
کتب ادھر سے
اٹھا کر ادھر
اور کچھ ادھر
سے دوسری طرف
رکھ دیں ۔ کتب
خانے میں اس
وقت قبلہ عالم
کے فرزندِ
ارجمند حضرت
قبلہ بابو
جی موجود تھے
۔ انہوں نے
میرے بارے
میں شکایت
حضرت پیر قبلہ
عالم جناب
مہر علی شاہ
صاحب سے کر
دی کہ کتب خانے
میں ایک عجیب
مجذوب آیا
ہے جو کتب کو
اِدھر اُدھر
رکھ رہا ہے
۔ اس پر قبلہ
عالم نے فرمایا
’’اسے کچھ نہ
کہنا وہ اپنا
آدمی ہے ‘‘ اس
کے بعد کی ملاقاتوں
یعنی دورانِ
سالکی کا کچھ
علم نہیں ۔
لیکن آپ کو
قبلہ عالم
حضرت پیر مہر
علی شاہ سے
حد درجہ عقیدت
تھی فرماتے
کہ قبلہ پیر
صاحب
۳۸ ۱۹ء میں
اس دنیا سے
چلے گئے ہیں
اور ان کے بعد
اب کوئی ایسا
درویش بھی
نہیں سب ایسے
ہی ہیں ۔آپ
فرماتے کہ
قبلہ جناب
پیر مہر علی
شاہ صاحب مجھ
سے نہایت شفقت
فرماتے ۔
(پڑھنے والوں
کے لیے بس اتنا
لکھنا ہی کافی
سمجھتا ہوں
)۔
بیرون ملک
روانگی کے
اسباب
یہ واقعہ جو
میں قلمبند
کر رہا ہوں
غالباً ۷۳
کا ہے میں اس
وقت روزگار
کے سلسلے میں
راولپنڈی میں
مقیم تھا لیکن
کوئی خاص روز
گار نہ تھا
۔ دربارِ عالیہ
حاضری دی اورپیر
صاحب کو اپنے
حالات سے آگاہ
کیا آپ نے دُعا
کے بعد فرمایا
کہ میاں ہر
جمعررات کو
بّری سرکار
کے مزارِ اقداس
پر حاضری دیا
کرو ۔ کچھ عرصہ
یہی معمول
رہا لیکن حالات
بد ستور حسبِ
سابق تھے پھر
دربارِ عالیہ
حاضری دی تو
آپ نے فرمایا
کہ شاہ چن چراغ
کے مزارِ اقدس
پر بھی گئے
ہو کہ نہیں
؟ میں نے عرض
کی کبھی اتفاق
نہیں ہوا ۔
آپ فرمانے
لگے کہ ’’میاں
اس طرح تو روزی
تمہارے آگے
آگے بھاگے
گی اور تم اس
کے پیچھے دوڑتے
رہو گے یہ ٹھیک
نہیں ہے ۔
اس پر میں نے
عرض کیا کہ
حضور ! پھر دُعا
فرمائیں کہ
میں مجذوب
ہو جاؤں تاکہ
غمِ دنیا سے
تو نجات ملے
۔آپ فرمانے
لگے کہ میاں
! یہ طریقہ درست
نہیں کیونکہ
ہم سب کے سامنے
باعثِ تخلیق
کائنا ت فخرِ
موجودات حضرت
محمد کی زندگی
مبارک ایک
مثال ہے آپ
اس دنیا میں
دنیاوی کام
بھی کرتے رہے
اور مخلو ق
تک ربِ جلیل
کا پیغام بھی
اسی طرح پہنچا
یا کہ تمام
مخلوق کے لیے
اس پر عمل کرنا
ہی دونوں جہاں
کی بہتری ہے
آپ کا طریقہ
مبارک سب سے
بہترین طریقہ
ہے اس لیے دنیاوی
کاروبار بھی
کرو اور نماز
روزہ کی بھی
پابندی کرو
یہی سنت طریقہ
ہے ۔
کچھ دنوں کے
بعد پھر قدمبوسی
کا شرف حاصل
کیا تو آپ نے
حالات دریافت
کئے میں نے
عرض کیا بد
ستور اُسی
طرح ہیں آپ
فرمانے لگے
میاں ! بیرونِ
ملک کیوں نہیں
چلے جاتے ۔
میں نے عرض
کیا کہ آپ نے
خود ہی منع
فرمایا ہے
۔ آپ کہنے لگے
کہ میاں اب
بیرونِ ملک
چلے جاؤ۔ان
ہی دنوں میں
پنڈی سے واپس
گھر لوٹ آیا
۔
چند ہفتوں
کی بات تھی
کہ میرے پاس
میرے ہی گاؤں
کا ایک آدمی
آیا اور اس
نے کہا مسقط
( اومان) سے میری
طرف سے ایک
خط آیا ہے وہاں
جانے کا چانس
ہے اگر تم بھی
ہاں کرو تو
اس انجینئر
سے مزید خط
و کتابت کی
جائے ۔ اس آدمی
کے پاس وہ خط
بھی موجود
تھا میں نے
خود بھی پڑھا
اور اسے مشورہ
دیا کہ تیاری
کرو کہ صرف
کرایہ ادا
کرنا ہے دیگر
پاسپورٹ بنوانے
کے اخراجات
کے علاوہ کوئی
مزید خرچہ
بھی نہیں۔
اس طرح ۷۴میں
ہم مسقط پہنچ
گئے ۔ خط و کتابت
کے ذریعے دربارِ
عالیہ سے مسلسل
رابطہ رہا
۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>