سات
حجوں کی بشارت
مسقط سے دو
دفعہ چھٹی
آنے کے بعد
تیسری دفعہ
خود ہی استعفیٰ
دے کر واپس
چلا آیا ۔ آپ
نے دریافت
کیا تو عرض
کیا کہ حضور
!سعودی عرب
جانے کو جی
چاہتا ہے ۔
آپ نے دعا فرمائی
ان خاص دعاؤں
کا اثر تھا
کہ تقریباً
صرف تین ماہ
گزرے کہ میرا
سعودی عرب
کا بندوبست
ہو گیا آپ نے
حکم دیا کہ
ٹھیک ہے میاں
سعودیہ چلے
جاؤ اور سات
حج کرنا ۔
سعودی عرب
میں تقریباً
ایک سال گزرنے
کے بعد کمپنی
کا کام ختم
ہوگیا اور
میں واپس آگیا
اس دوران رب
کریم کے کرم
اور آپ کی دعاؤں
سے پہلے حج
کی سعادت نصیب
ہوئی ۔یہ آپ
کی خصوصی دعاؤں
کا اثر تھا
کہ گھر میں
تھوڑے ہی قیام
کے بعد دوبارہ
سعودیہ جانے
کا بندوبست
کچھ اس طرح
ہوا کہ رمضان
المبارک کے
مہینے میں
سحری کے وقت
ایک آدمی آیا
اور اس نے کہا
کہ کل تمہیں
پنڈی جانا
ہے اور جلد
از جلد کا غذات
مکمل کرو میںنے
کاغذات مکمل
کیے۔اس طرح
تقریباً تین
ماہ گھر رہنے
کے بعد دوبارہ
سعودیہ پہنچ
گیا ۔ سعودیہ
میں قیام کے
دوران مسلسل
6دفعہ حج بیت
اللہ کی سعادت
نصیب ہوئی
۔ حجِ اصغر
یعنی (عمرہ
) کی تعداد تو
اللہ کے فضل
سے بہت زیادہ
ہے۔ ایک دفعہ
جناب پیر صاحب
آقائے نامدار
مدنی سرکار
کے دیا ر میں
مقیم تھے وہاں
بھی قدمبوسی
کا شرف حاصل
ہوا ۔مزید
برآں ان لمحات
کا کیا لکھوں
جو وقت قبلہ
عالی جناب
پیر صاحب کی
معیت میں مدنی
تاجدار حضرت
محمد کے مزارِ
پرا نوار کے
سامنے سنہری
جالیوں کے
سامنے گزارا
اور جو وقت
حرمِ نبوی
اور دیارِ
حبیب میں آپ
کی معیت میں
گزرا ۔ہر آدمی
کے اپنے احساسات
اور محسوسات
ہوتے ہیں جن
کو بعینہ بیان
یا تحریر کرنا
نا ممکن ہوتا
ہے۔سعودیہ
سے واپسی پر
دربارِ عالیہ
قبلہ حضور
پیر صاحب کی
قدمبوسی کے
لیے حاضری
دی تو آپ نے
فرمایا میاں
آگئے ہو۔ عرض
کیا جناب آگیا
ہوں ۔ تو فرمانے
لگے کہ ابھی
تو 6حج ہوئے
ہیں اچھا انشاء
اللہ ساتواں
بھی ہو جائے
گا ۔ مجھے یقین
کا مل ہے کہ
میرے پیر صاحب
کی یہ بات ضرور
پوری ہوگی
اور میرے مولا
کریم مجھے
حرمینِ شریفین
کی زیارت سے
ضرور نوازیں
گے۔
سرکارِ مدینہ
کی عنایات
کی جھلک
حضور پیر صاحب
جب حرمینِ
شریفین سے
واپس تشریف
لائے تو جناب
کی زیارت و
قدمبوسی پر
حاضری کے وقت
آپ فرمانے
لگے کہ میاں
! آج بھی اس دنیا
میں بہت سے
اچھے اچھے
لوگ موجود
ہیں آپ نے فرمایا
کہ مدینہ طیبہ
میں آپ کی
جالیوں کے
سامنے ایک
ایسے آدمی
کو دیکھا جو
فی البدیہہ
سرکارِ دو
عالم سے محوِ
گفتگو تھا
جب وہ خوش نصیب
شخص فارغ ہوا
تو مجھ سے کسی
ضرورت کے متعلق
پوچھا میں
نے کہا کہ اللہ
تعالیٰ کا
کرم ہے اور
کوئی حاجت
نہیں رکھتا
۔ اس طرح وہ
عرب شیخ اپنی
گاڑی میں بیٹھ
کر قبا شریف
کی طرف چل دیئے
۔
(قارئینِ کرام
آپ خو د حضور
قبلہ پیر صاحب
کے عجزوانکسار
کا اندازہ
کریں کہ خود
اپنے احوال
تو بیان نہ
کئے کہ دوران
حاضری کیا
کچھ پیش آیا
اور اس عرب
کے بارے میں
سب کچھ بتا
دیا ۔)
حضور پیر صاحب
کی شفقت
میری سرکار
اسقدر شفیق
تھے کہ ہر ملنے
والا یہی سمجھتا
تھا کہ جس قدر
میرے ساتھ
شفقت فرمائی
ہے شائد کسی
دوسرے کے حصے
میں نہ آئی
ہو۔ تخلیے
میں بعض اوقات
میرے کریم
کا اندازِ
گفتگو اتنا
بے تکلفانہ
ہو جاتا کہ
جیسے بے تکلف
دوستوں کا
ہوتا ہے ایک
دفعہ آپ اسی
طرح جب کوئی
اور نہ تھا
تو فرمانے
لگے کہ میاں
تمہارے پیر
صاحب یعنی
گولڑہ شریف
والوں کے تو
سو 100یا کچھ زیادہ
خلفاء ہونگے
اور ہمارے
بابا جی خواجہ
قاسم موہڑوی
کا اتنا فیض
عام تھا کہ
جو بھی آپ کے
پاس گیا چاہے
اس کا تعلق
کسی جگہ بھی
ہو تو آپ نے
اسے نواز دیا
۔
یوں آپ کے خلفاء
اور فیض یافتہ
لوگوں کی تعداد
بہت زیادہ
ہے ۔ میں نے
عرض کیاحضور!
بالکل اسی
طرح ہی ہوگا
لیکن آپ کی
نسبت اور تعلق
بھی وہاں سے
ہی ہے(یعنی
خواجہ قاسم
موہڑویسے)
اور مجھے تو
ایسے لگتا
ہے کہ آپ کی
ڈیوٹی تو فقیری
دینے کے بجائے
لوگوں سے سلب
کرنے پر لگی
ہوئی ہے میری
اس بات پر آپ
خوب ہنسے اور
فرمایا میاں
تم نے یہ بات
کیوں کہی ۔میں
نے عرض کیا
کہ مرید میں
جو سائیںمہدی
نامی مجذوب
رہتا تھا وہ
یہی بات کہتا
کہتا اس دنیا
سے گیا کہ ’’لے
گئے او لے گئے
‘‘ اور اس کی یہ
کیفیت آ پ سے
ایک ملاقات
کے بعد ہوئی
۔
اس بات پر آپ
نے فرمایا
کہ میاںمیں
جس وقت مرید
گاؤں میں مقیم
تھا اس دوران
کبھی کبھار
نَّکے والے
قبرستان میں
جانا ہوتا
اور میں خود
برقعہ اوڑھ
کر ہر خاص و
عام سے پوشیدہ
رہنے کی خاطر
پردے میں آتا
جاتا۔ سائیں
بھی اسی قبرستان
میں گزرگاہ
کے قریب ہی
بیٹھا ہوتا
تھا۔ باوجود
پردے کے وہ
میرے ساتھ
اٹھ کر مصافحہ
کرتا اس پر
میں نے اسے
منع کر دیا
کہ تمہارے
پاس کوئی نہ
کوئی موجود
ہوتا ہے اس
لیے تمہیں
اٹھنے کی ضرورت
نہیں۔ میں
اپنے حال میں
رہنا چاہتا
ہوں میرے گزرنے
پر تعظیم کی
ضرورت نہیں
۔ وہ ہمارے
ہی خاندان
اوچ شریف کا
فیض یافتہ
تھا ۔ ایک دفعہ
پھر میں وہاں
سے گذرا تو
اس نے مصافحہ
کے دوران میر
ے ہاتھ کو کھجایا
اور میں نے
اس کا ہاتھ
اس طرح دبایا
کہ پھر روتا
ہی چلا گیا
ساتھ ہی فرمایا
کہ بیٹا اُسے
یہ فیض ہمارے
ہی خاندان
سے تھا اور
پھر ہمارے
ساتھ ہی ایک
انداز کیوں
اپنایا ؟پھر
میرے استفسار
پر بتایا کہ
اس کا درجہ
پہلے سے بہت
کم ہو گیا تھا
اس لیے وہ یہ
کہتا تھا کہ
’’لے گئے او بھئی
لے گئے‘‘۔میرے
ایک اور ملنے
والے راجہ
غضنفر صاحب
جو گاہے بگاہے
مرید آتے رہتے
تھے مجھ سے
جناب قبلہ
پیر صاحب کی
باتیں سن کر
آپ کی زیارت
کے مشتاق ہوئے۔
دو تین مرتبہ
زیارت کیلئے
حاضری دی۔
جناب نے خصوصی
شفقت فرمائی
۔ موصوف راجہ
صاحب کے مرشد
پاک راولپنڈی
میں مقیم تھے
اور قلندرانہ
وضع قطع رکھتے
تھے۔ راجہ
صاحب صرف مرید
ہی نہ تھے بلکہ
اپنے مرشد
سے خاص تعلق
تھا۔ راجہ
صاحب کے مرشد
صاحب جب وصال
فرماگئے تو
راجہ صاحب
بہت غمگین
رہنے لگے۔
ایک دفعہ میرے
ہاں تشریف
لائے تو میرے
پوچھنے پر
کہنے لگے کہ
تقریباً 6ماہ
سے زائد عرصہ
گذر چکا ہے
کہ مرشد پاک
وصال فرماگئے
ہیں اس دن سے
ان سے روحانی
رابطہ بھی
نہ ہو سکا ۔
حالانکہ کئی
ایک بزرگوں
نے رابطے کے
لیے پڑھنے
کے لیے بھی
کچھ نہ کچھ
بتایا لیکن
لاحاصل۔ بعد
از یں جناب
پیر صاحب کی
قدمبوسی کے
لیے دربار
شریف تشریف
لے گئے اور
وہاں آپ سے
حالِ د ل عرض
کیا ۔ تھوڑے
ہی دنوں بعد
دوبارہ تشریف
لائے تو راجہ
صاحب نے مجھے
بتایا کہ جناب
قبلہ پیر صاحب
نے تو پہلے
ہی دن میرا
کام کر دیا
اس طرح آپ جناب
کے وصال تک
راجہ صاحب
کبھی کبھی
قدمبوسی کے
لیے آتے رہتے
۔
یہ آپ کی کرامات
میں سے چند
ہیں جو میں
نے قلمبند
کی ہیں مجھے
امید ہے کہ
اور دوستوں
نے بھی کئی
واقعات قلمبند
کئے ہونگے
۔ میرے لیے
میرے کریم
کی شفقت اسی
طرح عام اور
خصوصی تھی
کہ وہ تنکا
جس پر آپ اسمِ
ذات کا وِرد
فرماتے تھے
مجھے عطا کیا
ہے ۔ خاندانی
اور ادِ خاص
کا قلمی مجموعہ
بعنوان کمالاتِ
حسنی والحسینی
، عطا فرماتے
ہوئے فرمایا
بچے ابھی چھوٹے
ہیں باقی لوگوں
میں کوئی ایسا
نظر نہیں آتا
اس لیے یہ تمہیں
عطا کرتا ہوں
اور جملہ اوراد
اور تعویذات
کی اجازت بھی
دیتا ہوں۔
ساتھ ہی کچھ
دائمی وِرد
کے لیے بھی
تلقین کی ۔
مندرجہ بالا
حروف آج سے
چند دن پہلے
تک میرے اور
میرے کریم
کے درمیان
راز تھا جو
آج افشا ہوگیا
۔
آپ کی تجہیز
و تکفین کے
موقع پر مزمل
خان پٹھان
اور حاجی محمد
اقبال صاحب
تو اپنی مرضی
سے قبرِ مبارک
میں اترے لیکن
مجھے آپ کے
متوسلین کے
حکم سے یہ سعادت
نصیب ہوئی
کہ آپ کے جسدِ
اطہر کو مع
تابو ت قبرِ
مبارک میں
اتارنے کے
بعد قبرِ مبارک
کی تکمیل کی
۔
حضور پیر صاحب
کی نظر عنایت
انسانی فطرت
بھی عجیب ہے
آپ جناب کے
وصال کے کچھ
عرصہ کے بعد
ذہن ہیں ایک
سوال ابھرا
کہ اتنا عرصہ
حضور پیر صاحب
کی معیت میں
گزرا ہے لیکن
آپ جناب سے
یہ تو کبھی
نہ پوچھ سکا
کہ مجھ خادم
پر آپ کی خاص
عنایت کس درجہ
تھی۔ اسی رات
خواب میں کیا
دیکھتا ہوں
کہ سرورِ کونین
باعثِ تخلیق
کائنات تاجدارِ
مدینہ ایک
بڑی سی سنہری
کرسی پر جلوہ
افروز ہیں
اورحضور پیر
صاحب نے مجھے
آپ کے حضور
پیش کیا ہے
۔ ان لمحوں
کا کیا کہنا
جن کے لیے ہزار
ہا مخلوق تڑپ
رہی ہے اور
اس عاصی کو
کس انداز میں
نصیب ہوئے
۔ بس اس سے آگے
بتانا مناسب
نہیں۔(یہ صرف
آپ جناب کے
کمالات کے
لیے تحریر
کیا ہے ورنہ
ایسی باتیں
کبھی ظاہر
نہیں کی جاتیں)۔اللہ
والوں کا وصال
کیا ہے ؟ کہ
اس جہانِ فانی
سے پردہ فرما
کر دوسرے جہان
میں آباد ہو
جاتے ہیں اور
ان کے فیوض
و کمالات اُن
کے وصال کے
بعد بھی جاری
و ساری رہتے
ہیں ۔ ان خاصان
کے مزارات
کے توسل سے
اللہ کریم
کے زائرین
کی مرادیں
بر لاتے ہیں۔جس
قدر ممکن ہوسکا
لکھنے میں
اتنی ہی احتیاط
کی ہے کہ ایک
حرف بھی اصل
واقعہ سے زائد
نہ ہو ۔ سب پڑھنے
والوں سے گزارش
ہے کہ اس عاصی
کو بھی اپنی
دُعاؤں میں
شامل رکھیں۔تمت
بالخیر
جس نے شعورِ
ذات کا عرفان
دیا منیر
کچھ تو کہو
کہ آج ہے وہ
چارہ گر کہاں
٭٭٭٭٭٭٭
جناب خادم
حُسین کے واقعات
حضور پیر صاحب
کی خلوت نشینی
:
پنڈ ی سید پور
سے یہ واقعہ
خادم حُسین
صاحب نے اس
انداز سے بیان
فرمایا کہ
ایک دفعہ ایک
محفل نعت میں
ایک نعت خوان
سے ملاقات
ہوئی اس نعت
خوان کی نسبت
بھنگالی شریف
(چکوال مندرہ
روڈ پر واقعہ
ہے ) تھی ۔ باتوں
ہی باتوں میں
ان سے نسبت
کے متعلق بات
ہوئی میں نے
اپنے پیر و
مرشد کا نام
نامی بتایا
اس نے ایک لمبی
آہ بھری اور
مجھے مبارک
باد دی کہ آپ
کتنے خوش قسمت
ہیں کہ اتنی
اونچی شان
والے فقیر
سے آپ کو شرف
بیعت حاصل
ہے ۔ پھر اس
نعت خواں نے
ایک واقعہ
جناب پیر صاحب
کے متعلق بتایا
اور قسم کھا
کر کہا کہ یہ
واقعہ مبنی
بر حقیقت ہے
۔ اور اس واقعہ
کی تصدیق سرکار
نے اپنی زبان
مبارک سے فرمائی
تھی سرکار
نے فرمایا
کہ ’’میاں ہم
ایک جگہ گیارہ
سال بند رہے
۔‘‘
واقعہ کچھ
یوں ہے کہ حضور
خاکی شاہ سرکار
کو حضرت بابا
جی قاسم موہڑ
وی نے حکم دیا
کہ مری میں
(ایک جگہ کی
طرف اشارہ
فرمایا ) وہ
سنسان جگہ
ہے وہاں چلے
جائیں اور
وہاں خلوت
نشینی کریں
اور اﷲ اﷲ کریں
آپ غوث زماں
بابا جی قاسم
کا حکم پا کر
اس مخصوص علاقے
میں تشریف
لے گئے وہاں
ایک غار میںپیر
صاحب نے اپنا
ڈیرہ جمایا
اور ذکر و اذکارمیں
مشغول ہو گئے۔
خدا کی قدرت
ایسی ہوئی
کہ ایسی زور
دار بارش ہوئی
کہ مٹی کے ایک
تودے سے غار
کا منہ بند
ہو گیا پیر
صاحب اندر
ہی تھے اور
اندر ہی رہے
گیارہ سال
گزر گئے ۔ پھر
ایک روز جناب
قاسم موہڑی
نے اپنے کچھ
مُریدین بھیجے
اور نشان دہی
فرمائی اور
کہا کہ فلاں
جگہ سے کھدائی
کرنا غا رکا
منہ بند ہے
اندرحضرت خاکی
شاہ نامی ایک
بزرگ ہیں انہیں
نکال کر لے
آو۔ انہوں
نے ایسا ہی
کیا ۔غار کا
منہ کھولا
تو دیکھا کہ
حضور خاکی
شاہ سرکار
کا صرف ہڈیوںکا
ڈھانچہ پڑا
ہوا تھا ۔اور
زبان تر تھی
اﷲ اﷲ کا ذکر
جاری تھا۔
وہ لوگ اٹھا
کر بابا جی
کی خدمت میں
لے گئے ۔ بابا
جی قاسم نے
کمال پیار
کیا اور حضور
خا کی شاہ صاحب
کو دیکھ کرکمال
شفقت سے فرمایا
کہ خاکی شاہ
پک گیا ہے ساتھ
ہی بابا جی
سرکار نے سلطان
العارفین باہو
کا شعر پڑھا۔
سن فریاد پیراں
دیا پیرا میری
عرض سنیں کن
دھر کے ہو
بیڑا میراوچ
کھپراں دے
جتھے مچھ نہ
بیندے ڈرکے
ہو
شاہ جیلانی
محبوب سبحانی
میری خبرلیو
جھٹ کر کے ہو
پیر جنہاں
دے کامل باہواوہ
کنڈے لگدے
ترکے ہو
٭٭٭٭٭٭٭
عبدالغفور
صاحب کے واقعات
حضور پیر صاحب
کا ہمارے گھر
موجود ہونا!
شیخو پورہ
سے عبدالغفور
صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ کا ذکرہے
کہ میں نے پیر
صاحب سے عرض
کی کہ ہمارے
گھر تشریف
لے چلئے آپ
نے فرمایا
کہ کیا بات
ہے میں نے عرض
کی کہ سرکار
ہم نے مکان
بنایا ہے آپ
چلئے اپنا
قدم مبارک
رکھیں گے تو
ہمارے لئے
بڑی سعادت
ہو گی اس کے
بعد ہم وہاں
رہائش رکھیں
گے۔حضور پیر
صاحب نے ارشاد
فرمایاکہ آپ
مکان مکمل
کرلیںپھر بتانا
ہم نے سرکار
کے حکم پر عمل
کیا مکان مکمل
ہو گیا میرے
بچے نے ایک
دن دیکھا کہ
پیر صاحب وہاں
نماز فجر پڑ
رہے تھے۔ اُس
نے آکر ہمیں
بتایا کہ سرکار
یہاں آئے ہوئے
ہیںپیر صاحب
کمرے میں نماز
پڑھ رہے ہیں
ہم جلدی سے
اس کمرے میں
گئے دیکھا
تو سرکار وہاں
موجود نہیں
تھے۔ کچھ دن
کے بعد ہم مخدوم
پور پیر صاحب
کی خدمت میں
حاضر ہوئے
تو جناب نے
فرمایا کہ
ایسی باتیں
عام بیان نہیں
کرنی چاہئیں
ایسا ہی ایک
واقعہ جناب
سیدنا غوث
الا عظم کا
ہے کہ آپ بیک
وقت ستر ستر
مریدوں کے
گھر تشریف
فرما ہوتے۔
درخت سے روپے
گرنے لگے!
عبدالغفور
صاحب بتاتے
ہیں کہ یہ واقعہ
ہمیں پیر صاحب
نے بتایا کہ
ہم غالباً
انڈیا کے ایک
جنگل میں رہا
کرتے تھے ایک
آدمی ہمارے
پاس آیا اور
ہماری خدمت
کرنے لگا اکثر
ہمارے پاس
آتا اور ہماری
خدمت کرتا۔
ایک دن ہم نے
پوچھا کہ آپ
کیا کام کرتے
ہیں اس آدمی
نے عرض کی کوئی
کام نہیں کرتا
بے روزگار
ہوں کبھی کبھی
کام مل جاتا
ہے۔ مشکل سے
گزرا اوقات
ہو رہی ہے۔
اس نے عرض کی
کہ سرکار میری
سات بیٹیاں
ہیں شادی کے
قابل ہیں مجبور
ہوں پیسے نہیں
ہیں۔پیسے نہ
ہونے کی وجہ
سے ان کی شادی
نہیں کر سکتا
کرم کریں اﷲ
پاک کوئی اچھا
سا روزگار
لگائے تاکہ
میں یہ فرض
ادا کر سکوں
۔سرکار فرماتے
ہیں ہم نے اس
کو کہا کل چادر
لے آنا۔دوسرے
دن جب وہ حسب
معمول خدمت
کے لئے آیا
تو اس کے پاس
چادر بھی تھی
۔ساتھ ہی ایک
چھوٹا سا درخت
تھا ہم نے اس
کو کہا یہ چادر
اس درخت کے
نیچے بچھا
دو اور درخت
کو زور زور
سے ہلاؤ۔ جب
اس نے درخت
کو ہلایا تو
درخت سے نوٹ
گرنے لگے جب
بہت سارے گر
چکے تو ہم نے
کہا کہ لے جاؤ
اور سارے کام
کر لو وہ بہت
ہی خوش ہوا
پھر وہ ہمارے
پیچھے پڑ گیا۔
ہم نے وہ علاقہ
چھوڑ دیا اور
رات کو وہاں
سے نکل گئے۔
اس طرح کا ایک
واقعہ جناب
داتا گنج بخش
علی ہجویری
اپنی مشہور
زمانہ کتاب
کشف المجوب
میں فرماتے
ہیں۔کہ ایک
بزرگ اپنی
مستی و جذب
کی حالت میں
کہیں جا رہے
تھے ان کے سر
کے بال اور
داڑھی بڑھی
ہوئی تھی سامنے
ایک درخت تھا
انھوں نے مستی
کے عالم میں
اﷲ تعالی سے
عرض کی کہ مولا
ہمارے پاس
اتنے پیسے
بھی نہیں کہ
ہم اپنے بال
ہی کٹوا کر
درست کر لیں
اتناکہنے کی
دیر تھی سامنے
درخت پر سکہ
رائج الوقت
لگنے لگے اوردرخت
سکوں سے بھر
گیا۔ جب اس
فقیر نے یہ
حالت دیکھی
تو پھر مسکرا
کر عرض کی کہ
اے مولا ہم
نے یونہی کہا
تھا تو جس حال
میں رکھے ہم
خوش ہیں ۔ان
واقعات سے
پتہ چلتا ہے
کہ اﷲ کے خزانوں
کا تصرف اس
کے فقیروں
کے پاس ہوتا
ہے جس کو جتنا
دے دیں۔ دنیا
کا قانون ہے
کہ دوست کبھی
دوست سے کچھ
چھپا کر نہیں
رکھتے ۔یہ
رب کائنات
کے دوست ہوتے
ہیں اور ہم
راز ہوتے ہیں
۔
٭٭٭٭٭٭٭
بھا گ دین صا
حب
غیبی طور پر
چکوال کاکرایہ
خود بھیجنا
بھاگ دین صاحب
کاتعلق لاہور
سے ہے چونگی
امر سدھو میں
رہائش پذیر
ہیں۔ پیر صاحب
کے پرانے اور
انتہائی مخلص
مُرید ہیں۔بھاگ
دین صاحب فرماتے
ہیں کہ ایک
دفعہ میرابڑا
دِل چاہ رہا
تھا کہ میں
چکوال سرکار
کی خدمت میں
حاضری کے لئے
جاؤں۔اُس وقت
ہفتہ اتور
کی چھٹی ہوتی
تھی ۔لاہور
سے اعوان والوں
کی بسیں جایا
کرتی تھیں۔موٹروے
کااُس وقت
تصور بھی نہیں
تھا۔لاہور
سے جہلم اورپھر
سوہاوہ سے
براستہ سہگل
آباد ،چکوال
جاناہوتاتھااورتقریباًآنے
جانے کا ۱۰۰روپے
کرایہ ہواکرتاتھا۔
صبح ڈیوٹی
پر جانے سے
پہلے میں نے
بیوی سے کہا
کہ کہیں سے
کرائے کا بندوبست
کردو میں نے
چکوال جانا
ہے۔ اس کے پاس
بھی پیسے نہیں
تھے بہر حال
اس نے کہا کہ
میں کہیں سے
پتہ کروں گی
میں نے بھی
ڈیوٹی پر جا
کر دوستوں
سے کرائے کا
پتہ کیا لیکن
پیسے نہ ملے
میں مایوس
واپس آرہا
تھاکہ مین
روڈ پر میرے
قریب سے ایک
کار انتہائی
تیز رفتاری
سے گزری میں
نے حیرانی
کے عالم میں
مڑ کر اس کی
طرف دیکھا
۔ میری نظر
جونہی اوپر
اٹھی اوپر
قریب ہی ایک
لفافہ زمین
کی طرف آرھاتھا۔
میں نے ایک
لمحہ انتظار
کیا جونہی
وہ زمیں پر
گرا میں نے
اُٹھا لیا۔
انتہائی خوبصورت
لفافہ تھا۔
ایک کونے سے
خوبصورت دھاگے
کے بنے پھول
باہر نکل رہے
تھے۔ جیسے
کہ تکیے کے
ساتھ لگے ہوتے
ہیں ۔ میں اس
لفافے کو دیکھ
رہا تھا۔ لفافہ
بھلا لگ رہا
تھا۔ میں مین
روڈ سے جونہی
اترا میں نے
اس لفافے کو
کھولا تو اس
میں سو روپے
کا ایک بالکل
نیا نوٹ تھا
۔ میری آنکھوں
میں خوشی کے
آنسو آگئے
کہ جناب نے
کرایہ بھیج
دیا ہے میں
خوشی خوشی
گھر گیا۔ کپڑے
بدلے بیوی
نے کہیں سے
پتہ کیا مگر
اس کو پیسے
نہ ملے وہ ہنسی
کہ مجھے تو
کرایہ نہیں
ملا۔یا د رہے
کہ اس وقت سو
روپے کی بڑی
قدر ہو تی تھی
۔ میں نے کہا
کہ کرائے کا
بندوبست جناب
نے کر دیا ہے
سرکار کی خدمت
میں حاضر ہوا
سلام عرض کیا
۔ وہ خالی لفافہ
جناب کی خدمت
میں پیش کیا
ساری صورت
حال بتائی
آپ نے مخصوص
اندازمیں فر
مایا کہ چپ
کر وایسی باتیںبتائی
نہیں جاتیں
۔
٭٭٭٭٭٭٭
جناب قاضی
عتیق صاحب
اولاد نرینہ
کی خوشخبری!
جناب قاضی
عتیق صاحب
کھوڑ کمپنی
سے ایک واقعہ
اس طرح سناتے
ہیں کہ حضرت
قبلہ و کعبہ
ہادی زمان
سید رسول شاہ
خاکی اکثر
جامع مسجد(
آئل کمپنی)میں
والد صاحب
مولانا مفتی
محمد نصیرالدین
صاحب کے پاس
تشریف لایا
کرتے تھے ۔ایک
دن میرے والد
محترم جناب
پیر صاحب کو
رخصت فرما
رہے تھے۔اس
وقت پیر صاحبجامع
مسجد میں شیشم
کے درخت کے
نیچے کھڑے
تھے۔
پیر صاحب کا
چہرہ مبارک
مین گیٹ کی
طرف تھا ۔اسی
اثنا میں سامنے
سے کمپنی کا
ایک ملازم
مستری محمد
رمضان (جو کہ
ہری پور کا
رہنے والا
تھا) مسجدکی
طرف آرہا تھا
۔قبلہ والد
صاحب نے عرض
کی کہ یا حضرت
مستری محمد
رمضان کی سات
بیٹیاں ہیںاور
اولیاء اکرام
کا منکر ہے
اوراس کا بیٹا
کوئی نہیں
ہے۔ اس اثنا
میں وہ جناب
کے قریب پہنچ
گیا ۔پیر صاحب
نے شیشم کے
درخت سے دو
پتے توڑے اورمحمد
رمضان سے کہا
کہ میاں یہ
دونوں پتے
کھا لو انشاء
اﷲ تمہارے
ہاں دو بیٹے
ہوں گے۔ اس
نے دونوں پتے
کھا لیے۔ اس
کے بعد یکے
بعد دیگر ے
اس کے ہاںدو
بیٹے ہوئے
۔جو بقید حیات
ہیں یہ واقعہ
والد صاحب
نے ہمیں سنایا
تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭
حاجی امداد
حسین مخدومی
صاحب
حضورپیر صاحب
مجسمہ کرامت
تھے ۔ہزاروں
واقعات سرکار
کی زندگی سے
رونما ہوئے۔
آپ کے دروازے
ہمیشہ ہر کسی
کے لیے کھلے
رہے ۔جو بھی
آیا آپ خندہ
پیشانی سے
ملے عشق محمد
آپ کے رگ و پے
میں سرایت
کیئے ہوئے
تھا ۔ کسی بڑے
سے بڑے دنیا
دار کو بھی
خاطر میں نہیں
لاتے تھے۔
ساری زندگی
سادگی میں
گزار دی ۔ توکل
میںپیر صاحب
درجہ کمال
پر فائز تھے
۔
سرکار کا توکل
مبارک !
ایک دفعہ میںجناب
کی بارگاہ
پناہ میں حاضر
تھا ۔ سرکار
مجھ ناچیز
سے فرمانے
لگے کہ صوفی
صاحب ایک دفعہ
عرس قریب تھااور
ہمارے پاس
کوئی رقم نہ
تھی کہ جسے
عرس پاک کے
انتظامی کا
موں میں خرچ
کر تا ۔ لیکن
اپنے اللہ
پر مجھے پورا
یقین تھا کہ
کوئی نہ کوئی
سبب ضرور بن
جائیگا اور
وہی ہوا جسکی
مجھے اُمید
تھی۔سعودی
عرب سے 20ہزار
کا چیک آگیا
اورا س طرح
سارا انتظام
ہو گیا ۔
<<
پیچھے ::
فہرست
:: آگے>>