بفیضانِ نگاہ حضور مستوار قلندر سید محمود الحسن شاہ خاکی : : دما دم قلندر خاکی شاہ
 
تذکرہ ء خاکی

غوث الامت کی دعا آپ کے حق میں
ایک خواجہ قاسم موڑوی کار دربار لگا ہو ا تھا ۔ با باجی سرکار نے آپ کو یاد فرمایا آپ حاضر خدمت غوث الامت ہو ئے ۔ با باجی سرکار نے آپ کو سینے سے لگایا اور شفقت کا ہا تھ سر پر پھیر نا شروع کیا ۔ با باجی سرکار اپنی میٹھی پیاری زبان سے فرمانے لگے
’’بیٹا مینڈھے کو ہوساں نہ ہوساں آؤ مینڈھے گلے لگ جاؤ ‘‘
آپ نے خوب پیار کیا اور دعا فرمائی اور آپ کی دستاربندی بھی فرمائی مزید با با جی سرکار نے فرمایا،بیٹا آ پ سید ہیں میرے حق میں بھی دعا کرنا
۔
پھر با با جی سرکا ر نے نہایت عجیب انداز میں اجازت فرمائی اور راولپنڈی کی طر ف جانے کا اشارہ فرمایا ۔
راولپنڈی کی جانب روانگی
سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سیدرسول شاہ خاکی نے بابا جی سرکار سے فیضیاب ہونے کے بعد راولپنڈی کا رخ کیا ۔ راولپنڈی میں کشمیر روڈ پر ایک عزیز خان کا لکڑیوں کا ٹال تھا ۔ آپ وہاںعارضی طور پر رہنے لگے ۔ ٹال والا آپ کی خوب خدمت تواضع کر تا تھا راولپنڈی میں آپ گھوما کرتے تھے اور خالق حقیقی کی کائنات کا مشاہدہ فرماتے تھے ۔ ایک دن آپ ٹال پر تشریف فرماتھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گفت و شنید کرتا رہا ۔ دورانِ گفتگو گولڑہ شریف اور بابا جی سرکار کا ذکر خیربھی ہو ا ۔ اس شخص نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ آپ میرے ساتھ گولڑہ شریف کی حاضری کا ارادہ فرمائیں ۔ آپ اس بات پر فورا رضا مند ہو گئے اور اس شخص کے ساتھ بخوشی جا نے کا ارادہ فرما لیا اور گولڑہ شریف کی حاضری کے لیے چل پڑے۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کے دربار گوہر پر حاضر ہوئے ۔ آپ کو بچپن کا وہ زمانہ یادآ گیا جب کہ حضرت قبلہ پیرمہر علی شاہ صاحب آپ کو جنگل میں ملے تھے اور جو جو باتیں آپ نے فرمائی تھیں وہ سارا منظر آپ کی آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔ کچھ دیر آپ مزارپر انوار پر ٹھہر
گئے اور فیضیابی کے بعد پھر اسی ٹال پر راولپنڈی تشریف لے آئے۔
امرتسر کی طرف روانگی
کچھ روز آپ لکڑی کے ٹال پر ہی رہے آپ دن رات اپنے اپنے مالک حقیقی کی یاد میں مستغرق رہا کرتے تھے ۔ ٹال والے شخص نے آپ کی اچھی خدمت تواضع کی ۔ کچھ روز وہاں قیام کرنے کے بعد آپ ریل پر سوار ہو کر سیدھے امرتسر جا پہنچے اور کٹڑہ کرم سنگھ میں رہنے لگے ۔ دن بھر آپ امر تسر کا چکر لگا یا کرتے تھے ۔ ان ایام میں آپ پر مجذوبیت کا دور دورہ تھا ۔ کسی کے ساتھ گفتگو بالکل نہیں کر تے تھے
بلکہ اشارات سے کام لیا کرتے تھے اور حضور غوث الاعظم کی برکت سے اپنی منازل طے کرتے جارہے تھے۔جہاں پر بھی آپ قیام فرماتے لوگوں کا ہجوم ہوجاتا ہے اورعوام آپ کی نظرِ کرم سے فیض یاب ہوتی رہی۔امرتسرکے کونے کونے کی گشت کیا کرتے تھے اور رات کو ذکر الٰہی میں مستغرق رہتے تھے۔آپ رات اکثر امرتسر کے مشہورومعروف بزرگ بخاری صاحب کے مزار پر گزارتے تھے۔ جب تک آپ امر تسر میں رہے بخاری صاحب کے مزار پر حاضری دیتے رہے اور فیض یاب ہوتے رہے۔ ایک روز آپ عالم مستی میں گوردوارہ جاپہنچے اور وہاں پر تلاب میں وضو کرناشرو ع کر دیا سِکھ لوگ حیرانی میں ڈوب گئے اور نہایت ہی ادب واحترام سے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ گوردوارہ ہے مسجد نہیں۔آپ مسکراتے مسکراتے وہاں سے نکل کر مسجد میں جا پہنچے اور نماز ادا کی۔
لاہور میں تشریف آوری
ایک پر کیف منظر
سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی 1940 میں لاہور تشریف لائے اور لاہور میں مختلف علاقوں میں آپ نے قیام فرمایا ۔ لیکن زیادہ عرصہ داتا علی ہجویر ی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے دربار گوہر بار پر گزارا ۔ یہ غالباً ان دنوں کی بات ہے جب 23 مارچ 1940 کو قراردار پاکستان لاہور میں پاس ہونا تھی اس وقت لاہور میں عام ہنگامے ہو رہے تھے ۔ پویس شدت سے آنسوگیس کا استعمال کر رہی تھی کسی کو کسی کی خبر نہ تھی کوئی ادھر بھاگ رہا تھا کوئی ادھربھاگ رہا تھا۔ جس کا منہ جس طرف ہوا اسی طرف ہی بھاگ گیا۔ ایسی حالت میں سیدی مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی شاہ عالم مارکیٹ کے قریب ایک مسجد کے کونے میں بیٹھے یاد الہی میں محو تھے ۔آپ کو کوئی پتہ نہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے حالانکہ باقی تمام نمازی آنسو گیس کی وجہ سے( جس کا اثر باہر کی نسبت مسجد میں زیادہ تھا) بھاگ گئے تھے جب یہ جلوس ختم ہوا تو پویس کے کچھ آدمی اسی مسجد میں نماز کی غرض سے آئے تو آپ کو مسجد میں دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ بندئہ خدا کون ہے جو اس وقت اتنی آنسو گیس کے باجود بھی مسجد میں بیٹھا رہا۔ اُن لوگوں میں جناب چوہدری غلام محمد صاحب مرید والے جو چوہدری نذیر احمد صاحب کے والد گرامی تھے وہ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے بڑی جرات سے آپ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو آپ نے فرمایا اللہ کابندہ ۔ آپ سے پوچھا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ اتنی اشک آور گیس پھینکی گئی ہے ۔ مسجد میں کتنے ہی لوگ تھے جو سب کے سب بھاگ گئے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں بھا گنے والوں سے نہیں ہوں ۔ البتہ مجھے نہ ہنگامہ اور جلوس کا علم ہے اور نہ ہی آنسو گیس کا مجھے کچھ اثر ہوا ہے کیونکہ جو صد ق دل سے اللہ تعالی سے لو لگا لیتا ہے اسے دنیا کی کوئی چیزمغلوب نہیں کر سکتی ۔اس گفتگو کے بعد پولیس والوں نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا ۔ آپ نے نماز پڑھائی اور مسجد کے کونے میں بیٹھ گئے۔
مسجد سے نکلتے وقت ایک پولیس والے نے پوچھا کہ حضرت آپکو کہیں جا نا ہو تو حکم فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا مجھے رنگ محل جا نا ہے انہوں نے ایک ٹانگے والے کو بلایا اور کہا کہ آپ کو رنگ محل میں اتار دینا ۔ اور پھر آپ اُدھر سے چل کر حضرت پیر سید شاہ محمدغوث لاہوری رحمتہ  اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر چلے گئے اور وہان کانی عرصہ گزارہ۔
حضور داتا غریب نواز حضرت سیدداتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار عالیہ پر بھی بہت وقت گزارا ۔
ڈھوڈہ میں تشریف آوری
ایک معجزانہ بشارت
سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی لاہور میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد ڈھوڈہ تشریف لائے اور یہاں گلاب نامی خاتون کے پاس قیام فرمایا ۔ ڈھوڈہ شریف کا ایک آدمی محمد حسین مرید میں بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دیتا تھا جو وقتاً فوقتاً ڈھوڈہ جاتا اور آپ سے ملاقات کرتا۔
ایک دفعہ اتفا قاً آپ اور محمد حسین دونوں اکٹھے روانہ ہوئے تو محمد حسین نے آپ سے پوچھا کہ آپ کدھر تشریف لے جارہے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ میں کلر کہار جارہا ہوں۔ اس بات پر محمد حسین نے کہا کہ مجھے بھی اس طرف ہی جانا ہے میں بھی آج آپ کے ساتھ ہی کلرکہار جاؤںگا اور آپ واپسی پر میرے ساتھ قیام کریں گے۔ آپ اس بات پر بخوشی رضامند ہو گے اور اس طرح ماسٹر محمد حسین کے ساتھ پہلی مرتبہ آپ قصبہ مرید میں تشریف لائے ۔
جب آپ یہاں پہنچے تو محمد حسین نے چائے کا اہتمام کیا۔ ابھی آپ چائے پی ہی رہے تھے کہ سید گوہر علی شاہ صاحب کے بزرگ سید اکبر شاہ صاحب کا وہاں سے گزر ہوا۔ شاہ صاحب آپ کو دیکھتے ہی اندر تشریف لے آئے اور سلام و دعا کے بعد کہنے لگے کہ میں صبح سے آپ کو تلاش کر رہاہوں آپ چائے چھوڑیں اور میرے ساتھ ہمارے گھر چلیں۔ آپ نے پوچھا کہ آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا جبکہ میں اس جگہ پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ تو اکبر شاہ صاحب نے کہا کہ میں آپ کے جدامجد کا ڈرائیور ہوں کافی عرصہ ڈرائیوری کی اور آج رات وہ میرے خواب میں آئے ہیں باکل اسی جگہ کیمپ لگا ہوا ہے اور مجھ سے وہ کہہ رہے ہیں کہ اکبر ہم تمھارے گاؤں میں آئے ہیں اور تم ہمیں پہچانتے ہی نہیں ہو تو اس وقت سے میں اس جگہ پر آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں پھر تھوری دیر بعد سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی ان کے گھر تشریف لے گئے اس مقام پرآپ نے تقریبا دوہفتہ قیام کیا۔ بعد میں ڈھوڈہ تشریف لے گئے اور پھر وقتاً فوقتاً آتے رہے تھے۔
سید اکبر شاہ صاحب کی وفات کےبارے الہامی اطلاع
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ تر جمہ :ہر ذی نفس نے موت کاذائقہ چکھنا ہے۔ یہ دنیا چند روزہ اور یہاں کی ہر چیز فانی ہے۔ ایک روز سیدی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی ڈھوڈہ میں استراحت فرمارہے تھے کہ جناب سید اکبرشاہ صاحب آپ کو خواب میں دکھائی دیئے اور کہہ رہے ہیں کہ حضور ہم جارہے ہیں کیا آپ میرے جنازہ میںشرکت فرمائیں گے آپ اسی وقت اٹھے اور وضو کرنے کے بعد نماز تہجد ادا فرمائی۔ اسی اثنا میںگلاب خاتون جس کے پاس آپ قیام فرماتھے اس نے کھانے کے لیے کچھ تیار کیا۔ آپ نوش فرما کر چکوال آنے والی گاڑی کا انتظار کرنے لگے کیونکہ اس وقت آمدورفت محدود تھی۔ جس گاڑی پر آپ تشریف لائے اس ہی گاڑی پر جناب سید گوہر علی شاہ صاحب اور ان کے ساتھ عباس آپ کو
اس بات کی اطلاع دینے کے لیے ڈھوڈہ شریف جارہے تھے ۔ آپ نے ان کو گاڑی سے اترتے ہی تمام قصہ سنادیا۔ یہ واقعہ سنتے ہی دونوں احباب حیران و پریشان رہ گئے کہ آپ کو کس طرح اس بات کا علم ہوا۔
ڈھوڈہ سے راولپنڈی روانگی
صحبت اولیا بہتر از صد سالہ اطاعت بے ریا
سیدی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی ڈھوڈہ میں حالات ٹھیک نہ رہنے کی وجہ سے روالپنڈی تشریف لے گئے جن لوگوں کی وجہ سے آپ کو ڈھوڈہ چھوڑنا پڑا۔ ان میں کوئی اندھا ہو کر مرا اور کوئی کسی اور عذاب میں مبتلاہوگیا۔ خداتعالی دشمن کو بھی عداوتِ اولیا سے محفوط رکھے اور اللہ تعالی ہم مسلمانوں کو اللہ کے ایسے بندوں کی صحبت و خدمت نصیب فرمائے لیکن دنیا میں ایسی نگاہیں کم ملتی ہیں جو جوہر شناس ہوں اللہ کریم ہر مسلمان کو اپنے عذاب سے بچائے اور اپنے محبوب بندوں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔
راولپنڈی میں آپ کا قیام مختصر رہا لیکن وہاں بھی مرید کے کچھ لوگوں نے آپ کا دامن نہیں چھوڑا جن میں جناب سید گوہر علی شاہ صاحب اور غلام عباس اور غلام قادر موچی اور مستری نیک محمد اور غلام علی صف اول پرہیں غلام علی جو اب وفات پا گئے ہیں سے پیر صاحب بہت محبت فرماتے تھے ۔
مرید میں تشریف آوری (جنگل میں منگل)
راولپنڈی کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی مرید تشریف لے آئے کیونکہ غلام علی نے آپ کو رہنے کے لیے دوحویلیوں میں سے ایک حویلی کی پیشکش کی تھی اور غلام علی کی پیش کش کو آپ نے نہ ٹھکرایا۔ دو تین دن کے بعد غلام علی نے آپ سے امامت کی درخواست کی حالانکہ غلام علی اس وقت تک فرقہ شیعہ سے تعلق رکھتا تھا ۔ آپ نے اس درخواست کو قبول کر لیا اور غلام علی نے بھی آپ کی امامت کی اقتدا میں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی اور اسی عقیدہ میں ان کی آخری زندگی بسر ہوئی اور سنیوں جیسی آخری رسوم ادا کی گئی ۔ یہاں اس بات کا بیان کرنا کسی پر کسی قسم کی بھی تنقید نہیں ہے۔
آپ کی مرید میں تشریف آوری کے کچھ دنوں بعد اطراف واکناف کے لوگ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور جو کوئی آتا منہ مانگی مراد لے کر واپس جاتا ایک دفعہ چوہدری غلام محمد صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپسے بیعت کی درخواست کی ۔ آپ نے چوہدری صاحب سے فرمایا کہ آپ تو اس وقت سے بیعت ہو گئے تھے جب لاہور میں آپ نے میری امامت میں نماز پڑھی تھی یہ سن کر چوہدری غلام محمد صاحب حیران و پریشان ہو گئے اور گزرے ہوئے وقت کی طرف نظر دوڑائی تویاد آیاکہ۱۹۴۰ میں شاہ عالم مارکیٹ کی مسجد میں آپکی اقتدامیں نماز پڑھی تھی۔
جب آپ نے جناب چوہدری غلام محمد صاحب سے یہ تذکرہ کیا تو آپ کے یقین میںاور بھی اضافہ ہو ا۔ آپ ابھی غلام علی کی حویلی ہی میں تھے کہ آپ کو خواب میں ایک اور جگہ کی بشارت دی اور اس جگہ کی تلاش میں اپنے خاص مریدوں کو بھیجا کہ وہاں پر کری کے بوٹے ہیں اور مغرب کی طرف نالہ صوج ہے اس جگہ کو تلاش کرو چنانچہ اس جگہ کو تلاش گیا تو واقعی وہی جگہ مل گئی جس کی بشارت آپ نے پہلے ہی فرمادی تھی اور آج وہ جگہ جنگل میں منگل بنی ہوئی ہے وہاں دریائے فیضان بہہ رہا ہے ۔ جہاں پر پیاسے بڑی بڑی دور سے آکر سیراب ہو کر ایمان سے جھولیاں بھر کر واپس جاتے ہیں
مخدوم پور شریف میں تشریف آوری
ان نشانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سیدی ومرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی کے خاص مرید چاروں طر ف اس جگہ کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ ایک دن جناب سید گوہر علی شاہ صاحب کوڈھونڈتے ڈھونڈتے یہ جگہ مل گئی اور آپ اس جگہ تشریف لائے۔آپ نے فرمایا کہ اس کے مالک کو کہو کہ معاوضہ لے کر یہ جگہ دیدے۔ اُس جگہ کے مالک سے بات چیت ہوئی مگر زمین کے مالک نے زمین کی اجرت لینے سے انکار کردیا اور اس طرح یہ چھ کنال زمین آپ کی خدمت میں پیش کر دی گئی۔ بارگاہ خداوند ی میں دعا ہے کہ خداوندکریم زمین کا یہ عطیہ قبول فرمائے اور ان کے مکینوں کو ہمیشہ سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔
اس کے بعد آپ یہاں تشریف لائے اور اس جگہ کا نام مخدوم پور شریف رکھا ۔اب اللہ کے فضل و کرم سے یہاں ایک عمدہ مسجد اورمہمانوں کے رہنے کے لیے مہمان خانہ بھی موجود ہے۔ آپ نے شروع میں جب مکان بنوانا چاہا تو دیواریں کھڑی کرنے کے بعد چھت پر لکڑی ڈالنے کامسئلہ درپیش تھا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ لکڑی کہاں سے ملے گئی تو مشورہ دیا گیا کہ میاں مطلب الدین اگررضامند ہو جائے تو لکڑی اس کے پاس ہے لیکن جب تک سید و مرشدی خود بات نہ کریں یہ مسئلہ ناممکن ہے۔ آپ اُسے خواب میں ملے اور لکڑی کے متعلق بیان کیا (وہ اس وقت اسی گاؤں کے امام تھے) انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے لکڑی دے دی۔
دعائے حزب البحراور دعائے سیفی کی اجازت ملنا
ایک دفعہ حضور پیر صاحب کو خواب میں سید چراغ شاہ صاحب چوہان شریف والے( جو کہ ڈھوڈہ سے تھوڑی دور واقع ہے) کی طرف جانے کا اشارہ ہوا۔ تو آپ ان کے مزار پرانور پر تشریف لے گئے وہاں سورہ یٰسین پڑھ کر دعا کی اور واپس آگئے۔دوبارہ پھر خواب میں حضرت چراغ شاہ نے حضور پیر صاحبکو حزب البحراور دعا سیفی کی اجازت فرمائی اللہ کا شکر ہے کہ آپ پر بہت مہربانی کی (یہ سیدی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی کا اپنا بیان کردہ قول ہے)۔
حافظ خواجہ عبدالکریم اور سید جماعت علی شاہ کی زیارت
سیدی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ڈھوڈہ شریف میں خواب دیکھا کہ حافظ خواجہ عبدالکریم صاحب اور پیر سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری( جوکہ خواجہ فقیر سائیں صاحب چورہ شریف کے خلفا میں سے ہیں اور امیر ملت کے لقب سے پکارے جاتے ہیں )سے میری ملاقات ہوئی۔
نماز ظہر کا وقت تھا آپ بھی ان صاحبان کے ساتھ تھے ان صاحبان نے آپ کو پکڑ کر مصلے پر کھڑا اور آپ ہی کے پیچھے نماز ظہر ادا فرمائی ۔
خزائن العرفان پڑھا کرو
سیدی و مرشدی اعجازہادی سید رسول شاہ خاکی جب لاہور تشریف لائے تو آپ دہلی دروازہ کے قریب مزار شاہ محمد غوث لاہوری کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ کو نیندآئی۔ آپ نے بحالت خواب دیکھا کہ قبر مبارک درمیان سے اوپر اٹھی صاحب قبر( شاہ محمد غوث لاہوری) اپنی قبر میں لیٹے ہوئے ہیں اوران کی سفید ریش مبارک پر مہندی لگی ہوئی ہے۔ ملاقات میں صاحب قبر نے آپ سے فرمایا کہ خزائن العرفان پڑھا کرو ۔ میں نے سوچا کہ یہ کیا ہے اس پرشاہ محمد غوث صاحب نے ہاتھ اُٹھا کہ خزائن لعرفان دی اور جب آپ نے دیکھا تو وہ قرآن مجید تھا جسکا ترجمہ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ اور تفسیر سید نعیم الدین مرادآبادی نے کی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ایک بارپھر آپ ان کے مزار پر گئے تو دیکھا کہ ایک صو فی قسم کا آدمی آپ کی قبر کے ارد گرد چکر لگارہا ہے اور زبان سے یہ بھی کہتا ہے کہ
خواجہ تیری گلی میں خواجہ تیر ی گلی میں
جب آپ اس صوفی کے سامنے ہوئے تو وہ آپ سے کہنے لگا اِدھر تشریف لائیے اور افطار کیجئے ۔ آپ اس کی طرف نہ گئے اس کے بعد ایک لڑکا شربت کا گلاس لے کر آیا آپ نے وہ تمام شربت پی لیا۔ اس کے بعد لنگر تقسیم ہوا اور آپ اوپر چلے گئے اور دیکھا کہ بہت سی چاولو ں کی دیگیں پکی پڑ ی ہیں ۔ اوپربیٹھے لوگوں نے آپ سے کہا کہ نیچے جاؤ وہاں ہی آپ کو لنگرملے گااس کے بعد آپ نیچے تشریف لے آئے۔ روٹی کا ایک ٹکڑا حاصل کیا اور پھر سٹرک پر آگئے ہوٹل سے ایک چائے کا کپ اور آدھے پیسے کی ڈبل روٹی لے کر کھائی ۔ اس کے بعد آپ صاحبزادے کے گھر تشریف لے گئے ۔ وہ چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور دو آدمی صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں مصروف تھے۔ آپ کو اس نے دیکھتے ہی پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں آپ نے فرمایا میں دربار سے آیاہو ں ۔ پھر اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ کیا پڑھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایانصیحت الفردوس وغیرہ پڑھتاہوں۔تمام حاضرین آپ کا یہ ارشاد سن کر حیران رہ گئے مگروہ آپ کی بات سمجھ گئے۔ پھر کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا پھر وہ سب کے سب چلے گئے اور صاحبزادہ صاحب آپ کے ساتھ کھڑے رہے ۔ جب تمام نماز ختم ہو گئی تو آپ اور صاحبزادہ صاحب باہر رہ گئے اور پھر وہ اپنے خادموں کے ساتھ گھر چلے گئے اور آپ تمام رات قبر مبارک پر بیٹھے رہے پھر آپ اس کے بعد راولپنڈی آگئے۔
کنویں کا انتخاب کس طرح ہوا
سید ی و مرشدی اعجاز ہادی سید رسول شاہ خاکی فرماتے ہیںکہ مجھے خواب میں وہ جگہ (جہاں اب دربار عالیہ ہے ) دکھادی گئی تھی۔ اس جگہ کو سید گوہر علی شاہ صاحب نے ڈھونڈا۔یہاں ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا۔ مستری نیک محمد اور گوہر علی شاہ ساحب اور کئی دوسرے لوگوں نے مل کر جگہ کو صاف کیا اور وہاں مکان بنایا گیا۔ اس جگہ پر پانی موجود نہ تھا۔ اسی رات کو خواب میں دیکھاکہ آپ کے ابا حضور(سید موسیٰ شاہ صاحب) اور سید نور شاہ صاحب ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آپ کے پاس آئے (اس وقت آپ دونوں کے درمیان تھے) وہ دونوں حضرات آپکو اُس جگہ لے گئے جہاں پر کنواں ہے ۔ سید نور شاہ نے پاؤں کی ایڑی سے ایک جگہ نشان لگایا اور فرمایا کہ یہاں پر بہت زیادہ پا نی ہے ۔ اس کے بعد آپ کے مکان کے ساتھ درختوں کے جھنڈ ہیں وہ لگائے اور ایک چیز آپ کو کھانے کے لیے دی آپ نے ابا حضور سے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ میرے بھائی ہیں اس کے بعدنالہ صوج کی طر ف واپس چلے گئے ۔ صبح جب اُٹھ کر دیکھا کہ اس جگہ جہاں ایڑی لگائی ٹھی وہاں ایڑی کا نشان موجود تھا آپ نے اس نشان پر ایک کیل گاڑ دی اور نشان کو اور مضبوط کر یا اس کے بعد کنواں کھودنے کے لیے سلطان نامی آدمی سے بات چیت کی۔ سلطان خاں نے حبان خاں سے بات کرادی جو کنویں کی کھدائی کا کام جانتا تھا ۔ کنواں کھودا گیا جس سے بہت پانی نکلا۔
آباؤ اجداد کے کمالات
جنات کابے ہوش ہونا
سید شاہ شرف رحمتہ اللہ تعالی علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے بزرگ تھے آپ جنگل کے دامن میں رہتے تھے ۔ آپ کے پاس ایک بہت خوب صورت گھوڑی تھی اس کے گلے اور پاؤں میں گھونگر و بندھے ہوئے تھے ۔ آپ اس گھوڑی پر بیٹھ کر رات کو پہاڑوں کی سیر کرتے تھے ۔ ایک دفعہ آپ کا گزر ایسی جگہ پر سے ہوا جہاں جنات نے شادی رچائی ہوئی تھی ۔ آپ نے ان تمام پر نگاہ ڈالی تو ان کے تمام بچے بے ہوش ہوگئے جب ان کے والدین آئے تو سمجھ گئے کہ یہ بچے انہی کی وجہ سے بے ہوش پڑے ہیں ۔ آپ جب واپس آئے تو جنات نے آپ کی خدمت میں سونے کے زیوات پیش کیے۔ آپ نے ان سے فرمایا یہ میرے کام کی چیز نہیں ہے ہاں ایک بچہ مجھے دے دو ۔ آپ نے ان بچوں پر پانی دم کر کے چھڑ کا تو تمام کے تمام بچے ہوش میں آگئے اور ایک جن کے بچے کو لے کر چلے آئے۔ اُس جن کے بچے کا نام صوفی اللہ دادا رکھا۔
پہاڑ کا اٹھا لانا
ایک دفعہ سید شاہ شرف رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے صوفی اللہ داد کو حکم دیا کہ جاؤ پہاڑ کی طرف سے گھوڑی کے لیے گھاس وغیرہ لے آؤ تو اس نے تمام پہاڑ اٹھا یا اور آپ کی خدمت میں پیش کردیا ۔ اس پہاڑ کے تمام جن آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ حضور آپ کا غلام ہمارا تمام پہاڑ اٹھاکر لے آیا ہے ۔ آپ نے حکم دیا کہ پہاڑ پھر اسی جگہ رکھ آؤ ۔ صوفی اللہ داد پہاڑ کو پھر اسی جگہ رکھ آیا ۔
دریا پار کیا مگر پاؤں تک خشک رہے
ایک دفعہ برسات کے موسم میں دریا میں پانی بہت زیادہ تھا ۔ اور آپ(سید شرف شاہ) کو دریاکے دوسرے طرف ایک گاؤں میں جانا تھا جو دریا کے کنارے پرہی واقع تھا لوگوں نے عرض کیا حضور پانی بہت زیادہ ہے کہیں گھوڑی بھی ڈوب نہ جائے اس لیے ابھی آپ نہ جائیں۔ آپ گھوڑی پر سوار ہوئے اور دریا کے کنارے پر قدم رکھا اور خشک پاؤںسے دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ آپ کو دریا کے پانی کی چھینٹ تک نہ لگی ۔ آپ نے اس دن سے گھوڑی پر سفر کرنا چھوڈ دیا ۔
صوفی اللہ داد کو وصیت
جب آپ کا آخری وقت آیا تو صوفی اللہ داد کو آپ نے حکم دیا کہ اب میرا آخری وقت ہے اس لیے میرے بعد تم کسی کو تکلیف مت دینا ۔ اس نے وعدہ کیا کہ حضرت میں اس علاقہ کی حدود میں کسی کو کسی قسم کی بھی تکلیف نہیں دوں گا ۔ صوفی اللہ داد نے اس پورے علاقے میںکبھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیا۔

<< پیچھے :: فہرست :: آگے>>

Copyright © 2007 Alkhaki. All Rights Reserved.